na jany kiun dil bhar gaya

Advertisements

زبان کی حفاظت

أما بعد! قال اللہ تعالی:

(وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا۔ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّـهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا) [الطلاق :2-3]

“اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔ اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرکے ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازه مقرر کر رکھا ہے۔”

وقال فی موضع آخر: (وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۗ ) [الأنعام:80]

” میرا پروردگار ہر چیز کو اپنے علم میں گھیرے ہوئے ہے۔”

وقال: (وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ) [یونس:61]

“اور آپ کے رب سے کوئی چیز ذره برابر بھی غائب نہیں، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اورنہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ کوئی چیز بڑی مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے۔”

 بندہ ہر وقت اللہ کی  نگرا نی میں  رہتا ہے اس کی کوئی بھی حرکت اس سے پوشیدہ نہیں۔ یہی نہیں بلکہ آسمان وزمین کی کوئی بھی چیز   اس سے چھپی  ہوئی نہیں ہے۔ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے چھوٹی بڑی ہر چیز سے وہ باخبر ہے۔اسی وجہ سے اس نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اس سے ڈریں اور ان تمام چیزوں سے اپنے آپ کو بچائیں جو اس کی ناراضگی کا باعث ہیں۔

اللہ کے بندو!زبان اللہ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ انسان کو اس لیے ملی ہے تاکہ وہ اس سے چیزوں کاذائقہ  معلوم کر سکے اور اپنے دل کی باتیں لوگوں  کوبتا سکے۔ زبان نہ ہوتی تو ہم اپنے مافی الضمیر  کا اظہار نہیں کرسکتے  تھے۔  اس لیے احسان  جتا تے ہوئے  اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے:

(أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ۔ وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ) [البلد:8-9]

“کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہیں بنائیں۔ اور زبان اور ہونٹ (نہیں بنائے)۔”

زبان ہی سے آدمی کےعقل وشعور  اور اس کی صلاحتیوں  کاپتہ چلتا ہے لیکن اس نعمت کا  استعمال اگر غلط طریقے سے ہو تو یہ نعمت اللہ کی ناراضگی  کا باعث بن جاتی ہے اور لوگوں کے دل بھی اس سے زخمی ہوتے ہیں۔ یاد رکھیے، زبان کا زخم  تیروسنان کے زخم سےزیادہ  کاری ہوتا ہے۔اسی لیے زبان  کےخوف سے بڑے بڑے بہادر لرزتے ہیں۔  ایک عربی شاعر کہتا ہے  ؎

جراحات السنان لھا التیام

ولا یلتام ما جرح  اللسان

“تیرکے زخم بھر جاتے ہیں  لیکن زبان  کے زخم کبھی نہیں بھر تے۔”

 اسی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جہنم میں لوگ اپنی زبانوں کے حصائد  یعنی  زبان کی کاٹی ہوئی کھیتیوں  سے ہی اور ندھے منہ گرائے جائیں گے۔ زبان  کی کا ٹی ہوئی  کھیتیوں  سے مراد  زبان  سے سرزد  ہونے والے  گناہ کی  باتیں ہیں۔اسی لیے مؤمن جو اس بات کایقین رکھتا  ہے کہ اللہ  اس کی ہر بات اور ہرحرکت کوسنتا   اور دیکھتا  ہے، کھبی بھی اپنی  زبان کو آزاد اور بےلگام نہیں چھوڑ  تا۔ ہمیشہ  اسے اپنے کنٹرول  میں رکھتا  ہے۔ زبان  کے حصائد  یعنی  اس سے سرزد ہونے والے گنا ہوں کی بہت ساری قسمیں ہیں۔  ان میں سے چند کا ذکر ہم آج  کے اس خطبے میں کریں گے۔ ان میں سے سب  سے اہم غیبت اور بہتان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ الحجرات میں اس سے بچنے  کی سخت  تاکید فر مائی ہے۔ ارشاد باری ہے:

(وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ) [الحجرات:12]

“اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی۔”

ابو بزرہ  اسلمی رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے وہ کہتے ہیں  کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(یا معشر من آمن بلسانہ ولم یدخل الإیمان فی قلبہ لا تغتابوا المسلمین ولا تتبعوا عوراتھم فإنہ من اتبع عوراتھم یتبع اللہ عز وجل عورتہ، ومن یتبع اللہ عورتہ یفضحہ فی بیتہ) [أبو داؤد]

“اے وہ لوگو!جو ایمان لاۓ ہو،،  اپنی زبان سے (اور  حال یہ ہے کہ ایمان  اس کے دل میں داخل  نہیں ہواہے)  مسلمانوں  کی غیبت  نہ کرو۔ اور ان کے عیوب کے پیچھے نہ پڑو۔ اس لیے کہ  جو ان کے عیوب کے پیچھے  پڑےگا،  اللہ اس کے  عیب کےپیچھے  پڑےگا۔ اور اللہ جس  کے عیب کے پیچھے  پڑےگا،  اسے اس کے گھر میں ذلیل  ورسوا کر دےگا۔

ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

(أ تدرون ما الغیبۃ؟ قالوا اللہ ورسولہ أعلم، قال: ذکرک أخاک بما یکرہ، قیل أ فرأیت إن کان فی أخی ما أقول؟ قال؛ إن کان فیہ ما تقول فقد اغتبتہ وإن لم یکن فیہ ما تقول فقد بھتَّہ)

“کیا تم جانتے ہوکہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا  اللہ اور اس کے رسول  بہتر جانتے  ہیں۔ آپ نے فرمایا:  اپنے بھائی کا اس انداز  میں ذکر  کرنا، جسے وہ نہ پسند  کرے۔ آپ سے پوچھا گيا: اگر میرے بھائی میں وہ چیز  موجود ہو جس کا میں ذکر کروں؟ آپ نے فرمایا: اگر اس میں وہ چیز موجود ہو جس کا تونے ذکر کیا، تو یہ اس کی غیبت ہے اور اگر اس میں وہ بات  نہیں ہے جو تو اس کی بابت  بیان کر رہا ہے تو  پھر تونے اس پر بہتان باندھا۔

اسی طرح  زبان کے حصائد میں سے چغل خوری  بھی ہے۔  اس سے بھی اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ڈرایا ہے۔ جیسا کہ عبد اللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا دو قبروں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ  نے فرمایا:

(إنھما لیعذبان وما یعذبان فی کبیر، أما أحدھما فکان لا یستنزی من بولہ، وأما الآخر فکان یمشی بالنمیمۃ)

“یہ دونوں قبر  والے عذاب دیے جار ہے ہیں اور وہ بھی کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں، بلکہ  ان میں سے ایک شخص تو پیشاب سے پاکی حاصل نہیں کرتا تھا  اور دوسرا چغل خوری  میں لگا رہتا تھا۔”

زبان ہی کے حصائد میں سے عورتوں  کا کثرت  سے لعن طعن کرنا بھی ہے۔ جہنم میں عور توں کے زیادہ جانے کا سبب آپ  نے ان کی لعن طعن کی کثرت  کو بتا یا۔  جیسا کہ ابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ  کی ایک  روایت  میں ہے۔

(یا معشر النساء تصدقن فإنی رأیتکن أکثر أھل النار، فقلن لم ذلک یا رسول اللہ؟ قال تکثرن اللعن وتکفرن العشیر) [بخاری]

“اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، کیونکہ  میں نے تم عورتوں کو جہنم میں زیادہ دیکھا ہے۔ تو ان سب نے پوچھا:   اس کی کیا وجہ ہے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: تم لعن طعن  زیادہ کرتی ہو اور شوہروں  کی ناشکر ی کرتی ہے۔”

بخاری میں ابو ہریرہ  رضی اللہ  عنہ  سے مرفوعا  روایت ہے:

(و أن العبد لیتکلم بالکلمۃ من سخط اللہ یلقی لھا بالا یھوی بھا فی جھنم)

“بندہ اپنی زبان  سے اللہ کی ناراضگی  کی بات بولتا ہے  اور اسے  اس کی  کوئی  پرواہ نہیں  ہوتی۔ حالانکہ وہ اس کی وجہ سے جہنم میں ڈال دیا جاتا ہے۔”

اس کے برعکس  اچھی اور بھلی بات سے اللہ خوش ہوتا ہے اور اس  سے بندے کا درجہ اور  وقار بلند  ہوتا ہے۔ اسی لیے زبان  کی حفاظت  کی طرف اللہ  کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے خاص توجہ دی ہے ۔ مسند احمد  وغیرہ میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے نماز روزہ،زکوۃ جہاد  وغیرہ اچھی  باتوں کا ذکر کیا اور فرمایا:

(ألا أخبرک بملاک ذلک کلہ؟ قلت بلی یا رسول اللہ! فأخذ بلسانہ وقال: کف علیک ھذا، قلت: یا رسول اللہ! وأنا لمؤخذون بما نتکلم بہ؟ فقال ثکلتک أمک وھل یکب الناس فی النار علی وجوھھم إلا حصائد ألسنتھم)

“کیا میں تمہیں  ایسی بات  نہ بتاؤ ں  جس پر ان سب کا دار ومدار ہے؟ میں نے کہا: کیوں  نہیں اے اللہ کے  رسول! آپ نے اپنی زبان  پکڑی  اور فرمایا:اس کو روک کے رکھ۔میں نے عرض کیا:  ہم زبان  کے ذریعہ  سے جو گفتگو کرتے ہیں، اس پر بھی  ہماری گرفت ہوگی؟  آپ نے فرمایا: تیری ماں تجھے گم پائے، (یہ بددعا  نہیں عربی محاور ہ ہے )جہنم میں لوگوں  کو ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی کھیتیاں  ہی اوندھے منہ گرائيں گی۔

اس سلسلے میں اللہ کے رسول اپنے اہل وعیال  کی  خاص طور سے نگرانی  کرتے تھے۔ حضر ت عائشہ  رضی اللہ عنھا سے روایت  ہے وہ کہتی ہیں  کہ ایک بار میں نے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے کہا: (حسبک من صفیہ کذا وکذا) “آپ کے لیے  کافی  ہے کہ صفیہ  ایسی اور ایسی ہیں۔”

بعض رواۃ  نے کہا ہے کہ ان کی مراد  اس سے یہ تھی کہ وہ پستہ قد ہیں،  تو آپ نے فرمایا:

(لقد قلت کلمۃ لو مزجت بماء البحر لمزجتہ قالت وحکیتُ لہ إنسانا، فقال: ما أحب إنی حکیت إنسانا وأن لی کذا وکذا)

“تو نے ایسی  کڑوی بات کہی ہے کہ اگر یہ دریا کے پانی میں ملا دی جائےتو اسے بھی کڑوا کر دے، حضرت عائشہ  فرماتی ہیں  کہ میں نے آپ  کے سامنے ایک آدمی  کی نقل اتاری  تو آپ نے فرمایا  میں  پسند نہیں کرتاکہ میں کسی انسان کی نقل اتاروں، چاہے    اس کے بدلے  مجھے اتنا اور مال ملے۔

 لایعنی  اور فضول  باتوں سے بھی زبان  کو بچا نا چاہئے  جس سے نہ کوئی نقصان پہنچتا ہو، نہ فائدہ۔ امام بخاری  نے  “الأدب المفرد” میں  حضرت انس سے صحیح  سند سے روایت  نقل کی ہے،  وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نےحضرت عمر  کی موجود گی میں خطبہ دیا  اور اس نے بہت سی بے فائدہ باتیں کہیں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے کہا :

(إن کثرۃ الکلام فی الخطب من شقاشق الشیطان)

” خطبوں  میں زیادہ  بولنا ایسا ہی  ہے جیسے شیطان  منہ  سے جھاگ  نکالے  ۔ “

 لایعنی  چیزوں میں نہ پڑ نا آدمی کے حسن اسلام کی دلیل  ہے۔ ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے، کہتے ہیں  کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

(من حسن إسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ)

” آدمی کے حسن اسلام میں سے اس کا لایعنی  چیزوں  کا چھوڑ دینا ہے  ۔ ” [ امام  ترمذی  نے اس حدیث کی  تخریج  بسند حسن کی ہے]

زبان کے حصائد  میں سے مسلمان کی عزت وآبرو کے درپے ہونا  بھی ہے۔  واثلہ  بن اسقع  رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے وہ کہتے  ہیں  کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے‍‍:

(المسلم علی المسلم حرام دمہ وعرضہ ومالہ المسلم أخو المسلم لا یظلمہ ولا یخذلہ، التقوی ھاھنا وأومأ بیدہ إلی القلب)

” مسلمان کا خون، اس کی عزت  آبرو اور اس کا مال،  مسلمان پر حرام  ہے۔مسلمان   مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ وہ اس پر زیادتی  کرے اور نہ اسے بےیار ومددگار چھوڑے کہ اسے دشمن کے سپرد کر دے۔ تقوی ٰ یہاں  ہے اور آپ  نے اپنے ہاتھ  سے دل کی طرف  اشارہ کیا  ۔”

 بےحیائی کی باتیں اور فحش کلامی  بھی زبان  کے حصائد  میں سے ہے۔  آج کل مسلمان  سوسائٹیوں  میں یہ وبا بڑ ی تیزی  کے ساتھ پھیل  رہی ہے۔ یہ نتیجہ ہے یہودیوں کی  ابلا غی  یورش، ریڈیو، ٹیلی ویژن  اور بےحیائی  اور فحاشی  پھیلانے   والے چینلوں کا۔  ان فحش چینلوں کے ذریعہ مسلما  نوں کے گھروں میں  یہ برائی بڑی  تیزی  سے پھیل رہی ہے اور انہیں  اس کا شعور واحساس  تک نہیں ۔ ابوداؤد کی روایت ہے  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(ما من شئ أثقل فی میزان العبد المؤمن یوم القیامۃ من حسن الخلق و إن اللہ یبغض الفاحش البذی)

” قیا مت  کے دن مؤمن بندے کی  میزان  میں حسن خلق سے زیادہ بھاری  کوئی چیز نہیں  ہوگی۔ اور یقینا ً اللہ تعالیٰ بدزبان  اور فحش گوئی  کرنے والے  کونہ پسند کرتا ہے۔”

جھوٹ بولنا  بھی زبان کے حصائد میں سے ہے۔ آج کل یہ وبا بھی  مسلمانوں میں عام  ہے۔ حالانکہ جھوٹ  بولنا کبیرہ گناہوں  میں سے ہے ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے نفاق کی علامت قرار دیا ہے۔ ابن  مسعود رضی اللہ  عنہ   سے  روایت  ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ  علیہ وسلم   کا ارشاد ہے :

(و إیاکم الکذب فإن الکذب یھدی إلی الفجور والفجور یھدی إلی النار و إن الرجل لیکذب حتی یکتب عند اللہ کذابا) [بخاری ومسلم]

“جھوٹ سے بچو، بلاشبہ جھوٹ  نافرمانی کی طرف رہنما ئی کرتا ہے۔ اور نافرمانی  جہنم کی طرف  رہنمائی کرتی ہے۔ اور آدمی جھوٹ  بولتا  رہتا  ہے، یہاں تک  کہ وہ اللہ کے یہاں کذاب لکھ دیا جاتا  ہے۔”

انہیں سے روایت ہے آپ نے فرمایا:

(لا یصلح الکذب فی جدو لا ھزل ولا أن یعد أحدکم ولدہ لا ینجز)

“جھوٹ  سنجیدگی  اور مذاق کسی حال میں درست نہیں، اور نہ یہ کہ تم میں سے کوئی اپنے بیٹے سےجھوٹا وعدہ کرے، پھر  اسے پورا نہ کرے۔”

 ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت  ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

(من تحلم بحلم لم یرہ کلف أن یعقد بین شعیرتین ولن یفعل)

” جو شخص  جھوٹا  خواب بیان کرے جسے اس نے نہیں دیکھا ہے تو اسے قیامت کے دن مجبور کیا جائےگا کہ وہ جَو کے دودانوں  کے درمیان گرہ لگائے اور وہ یہ گرہ نہیں لگاسکےگا۔”

 اسی طرح جھو ٹی گواہی دینا بھی زبان کے حصا ئد میں سے ہے۔ ابوبکر  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے، وہ کہتے  ہیں   اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

(ألا أنبئکم بأکبر الکبائر؟ قلنا: بلی یا رسول اللہ قال! الإشراک باللہ وعقوق الوالدین وکان متکئا فجلس فقال: ألا وقول الزور، فما زال یکررھا حتی قلنا: لیتہ سکت)

”  کیا  میں تمہیں سب سے بڑے گنا ہ کی  خبر نہ دوں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ  نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ اور آپ ٹیک  لگائے ہوئے تھے اُٹھ کر بیٹھ گئےاور فرمایا: سنو اور جھوٹی بات، جھوٹی بات، آپ  برابر یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا: کاش آپ خاموش ہوجاتے۔”

  اللہ تعالیٰ نے مؤمن کی صفات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّور) [الفرقان: 72]

“اور جو لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔”

اللہ تعالیٰ  نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ کسی، فاسق  سے کوئی بات سنے تو پہلے  اس کی پوری تحقیق کرلے، پھر اسے لوگوں  سے بیان کرے۔ ارشاد  باری ہے :

(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ) [الحجرات:6]

“اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ۔”

علامہ سعدی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں  کہ یہ ان آداب میں سے ہے جس سے ہر صاحب عقل وشعور بہرہ ور ہوتا ہے۔ جب اسے کوئی فاسق  کسی چیز کی خبر  دیتا ہے تو وہ اس کی اچھی طرح چھان بین  کرتاہے۔  اسے سنتے ہی مان  نہیں لیتا کیونکہ  اندیشہ ہے کہ اسے صحیح سمجھ کر آدمی کوئی ایسا اقدام کر بیٹھے جس میں جان واموال ناحق  تلف ہوں  اور بعد میں  اسے شرمندگی وندامت  اٹھانی  پڑ جائے۔  اس لیے فاسق کی خبر کی  چھان  بین ضروری  ہے۔ اگر دلائل وقرائن  سے اس کا جھوٹا ہونا  ثابت ہو جائے قوم  اس کی بات  پرعمل  نہ کرے اس میں اس بات  کی دلیل  بھی ہے کہ سچے آدمی  کی خبر مقبول ہوگی اور جھوٹے شخص  کی خبر  مردود اور فاسق  کی خبر  پہ توقف کیا جائےگا۔ اسی وجہ سے سلف نے ان خوارج کی بہت سی روایات قبول کی ہیں  جو اپنی سچائی اور صدق  بیا نی میں   معروف ومشہور تھے   اگر چہ  وہ فاسق تھے ۔

دوسرا خطبہ

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

قرآن وسنت میں ایسے بہت سے نصوص  وارد ہیں  جن سے معلوم  ہوتا ہے  کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسے فرشتے مقرر  کر رکھے  ہیں جو لوگوں  کی نگرانی  کرتےہیں ۔   ارشاد باری ہے :

(وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَة) [الأنعام:61]

“اور تم پر نگہداشت رکھنے والے بھیجتا ہے۔”

یہ فرشتے اس  کے اچھے  اور برے تمام اقوال  واعمال  کو نوٹ  کرتے رہتے ہیں ۔

 ارشاد باری ہے:

(وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ۔ كِرَامًا كَاتِبِينَ۔ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُون) [الانفطار :10-12]

” یقیناً تم پر نگہبان عزت والے۔ لکھنے والے مقرر ہیں۔ جوکچھ تم کرتے ہو وه جانتے ہیں۔”

 ایک جگہ ارشاد ہے: (إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ۔ مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ) [قٓ:16-17]

“جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے۔ (انسان) منھ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے۔”

 ایک جگہ  ارشادہے:

(أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُم ۚ بَلَىٰ وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ)  [الزخرف: 80)

“کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیده باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے، (یقیناً ہم برابر سن رہے ہیں) بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں۔”

صحیحین  میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

(یتعاقبون فیکم ملائکۃ باللیل وملائکۃ بالنھار یجتمعون فی صلاۃ الفجر وصلاۃ العصر ثم یعرج الذین باتوا  فیکم قال لھم ربھم وھو أعلم بھم کیف ترکتم عبادی؟ فیقولون ترکناھم وھم یصلون واتیناھم وھم یصلون) [بخاری ومسلم]

“تمہارے درمیان رات کو اور دن کو فرشتے  باری باری سے آتے اور جاتے ہیں اور صبح کی نماز  میں اور عصر کی نماز میں وہ اکٹھے ہوتے ہیں۔  پھر  وہ فرشتے  جو تمہارے درمیان رات  گزارتے  ہیں اوپر چڑ ھ جاتے ہیں۔تو اللہ تعا لیٰ ان سے پو چھتا  ہے:  تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ  ا؟ وہ کہتے ہیں: ہم انہیں نماز  پڑ ھتے ہوئے چھوڑ کر  آئے   ہیں۔  اور جب ہم  ان کے پاس  گئے تھے۔  تب  بھی وہ نماز  ہی  میں مصروف  تھے۔

 اگر آپ یہ اعتراض کریں کہ اللہ تعالیٰ تو سب کچھ جانتا ہے۔ اسے فرشتوں  کے لکھنے  کی کیا ضرورت پڑ گئی؟ توہم کہیں  گے  کہ یہ بندوں پر  اس کا لطف وکرم ہے۔ اس نے  ایسا اس لیے   کر رکھا ہے تا کہ بندے  اس بات کو یاد رکھیں کہ اللہ   ان کی نگرانی کر رہا ہے۔ اور اس نے ان کی ہرہر حرکت  کو نوٹ  کر نے کے لیے  فرشتوں  کو لگا رکھا  ہے جو اس  کی مخلوق  میں اشرف  ہیں۔ یہ فرشتے  اس کے تمام اعمال  رجسٹر میں نوٹ کر رہے  ہیں اور قیامت  کے دن میدان  محشر میں  اسے پیش  کریں گے۔ یہ چیز اسے غلط  کاریوں  سے زیادہ روکنے والی ہوگی۔

 جب ایسی بات ہے کہ  اللہ ہماری  ہر بات اور ہر حرکت فرشتوں  کے ذریعے نوٹ کروا رہا  ہے تو   ہمیں  درست اور سچی  بات  ہی زبان سے نکالنی چاہئے  اور زبان  کو غلط  اور دل آزار  باتو ں سے آلودہ نہیں  ہونے دینا چاہئے۔  اللہ تعالیٰ  کا ارشاد ہے:

(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا۔ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا) [الأحزاب:70-71]

“اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔”

 قول منہ  سے نکلی  ہوئی بات کو کہتے ہیں۔  اور سدید کے معنی  درست  اور حق ہونے کےہیں۔ اسی سے “تسد السھم” آتا ہے ، یعنی  تیر کو شکار کی طرف  درست  کرنا تاکہ  نشانہ   نہ چوکے۔

لہذا “قول سدید”  ان تمام  باتوں کو شامل ہوگاجو درست، صحیح اور مفید  ہوں۔ اس میں سلام  کرنا، اپنے  مسلمان بھائی سےیہ  کہنا  کہ میں تم  سے محبت  کرتا ہوں ، قرآن  مجید  کی تلاوت  کرنی  اچھی  باتوں کی طرف رہنمائی کرنا، اللہ کی تسبیح وتحمید کرنی، اذان  واقامت کہنی ، وغیرہ تمام  امور  “قول سدید” میں داخل  ہیں۔

 محترم بھائیو!یہ بات  یاد رکھئے کہ  زبان  نیکی اور بدی کے  دروازوں  میں سے ایک  اہم  دروازہ  ہے۔ لوگ  جہنم  میں اوندھے  منہ اپنی زبان  ہی سے کہی ہوئی باتوں کی وجہ سے ڈالے جائیں گے۔ اسی  وجہ  سے حدیث  میں آتا ہے:

(من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیقل خیرا أو لیصمت)

” جو اللہ اور یوم آخرت  پر  ایمان  رکھتا  ہو، اسے چا ہئے کہ وہ اچھی  اور بھلی  بات  کہے  یا خاموش  رہے ۔

” قول سدید ” ہی سے معاشرے میں اچھی  باتوں  کا فروغ  ہوتا ہے۔ لوگوں  میں حقیقت  پسندی عام ہوتي ہے۔  اس کے  برخلاف “قول شر” سے گمرا ہیاں پھیلتی  ہیں۔  “قول سدید ” کے نتیجے  میں لوگوں  کے اعمال  میں درستگی آتی ہے؛  کیونکہ  ایسے  شخص  کی لوگ  اقتدا کرتے ہیں اور اس کی باتوں  کوغور  سے سنتے ہیں  اور اپنی اصلاح کرتے ہیں۔

 اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے  کہ ہمیں  اپنی زبان  کو قابو  میں رکھنے  اور اس سے سچی  اور درست بات  کہنے کی توفیق  دے۔ اور ہمیں  ایسی  باتیں  زبان  پر لانے  سے محفوظ  رکھے  جو اللہ  کی ناراضگی کا باعث ہیں اور جن سے اللہ کے بندوں  کی بھی دل  آزاری  ہو رہی ہو۔

أقول قولی ھذا واستغفر اللہ لی ولکم ولسائر المسلمین فاستغفروہ إنہ ھو الغفور الرحیم۔

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا ، عام دیدار یار ہو گا
سکوت تھا پردہ دار جس کا ، وہ راز اب آشکار ہوگا

گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہان مے خانہ ، ہر کوئی بادہ خوار ہو گا

کبھی جو آوارۂ جنوں تھے ، وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہو گا

سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا ، پھر استوار ہو گا

نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے ، وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا

کیا مرا تذکرہ جوساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میں
تو پیر میخانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے ، خوار ہو گا

دیار مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو ، وہ اب زر کم عیار ہو گا

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جوشاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپائدار ہو گا

سفینۂ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا

چمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو
یہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہو گا

جو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایا
یہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہو گا

کہا جوقمری سے میں نے اک دن ، یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
توغنچے کہنے لگے ، ہمارے چمن کا یہ رازدار ہو گا

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں ، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

یہ رسم بزم فنا ہے اے دل! گناہ ہے جنبش نظر بھی
رہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہو گا

میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شررفشاں ہوگی آہ میری ، نفس مرا شعلہ بار ہو گا

نہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدعا تیری زندگی کا
تو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہو گا

نہ پوچھ اقبال کا ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہو گا

جھگڑا

 

تخلیق انسان پر فرشتوں نے رب سے کہا یہ تو زمین پر فساد برپا کرے گا۔ اللہ نے کہا جو میرے بندے ہو گے وُہ میرے ہی فرمانبردار ہو گے۔

جہاں دیکھتا ہو ں جھگڑا ہی جھگڑا سننے کو ملتے ہیں، اختلاف ہونا اور بات ہے اور بغیر اختلاف کے جھگڑ پڑنا بلاوجہ عمل ہے۔انسان مسلسل جھگڑوں سے نبٹ رہا ہے۔

دُنیا میں اصلاح کارجھگڑوں کے نتائج میں پیدا ہوتے ہیں۔ کوئی بھی مصلح بغیر کسی مسئلہ کے پیدا نہیں ہوا۔ آج دُنیا کا ہر عقیدہ کسی نہ کسی مسیحا کے انتظا ر میں ہے۔ مسیحا خدا کا کوئی اُوتا ر نہیں ہوتا۔ وُہ عام انسانوں میں سے ہی منتخب ہوتا ہے۔ انسان جب اپنے مسائل کی زندگی سے بیزار ہو جاتا ہے تو وُہ پھر اُنکے حل کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے یو نہی ریفارمراُس عوامی بے چینی کو امن اور سکون میں لانے کا ایک راستہ بتا تا ہے۔ بدھا ذات پات سے بیزار ہوا، لاﺅتزے سرکار سے متنفر ہوا، ہٹلر یہود کی بالا دستی سے نالاں تھا، کارل مارکس معاشی بدحالی کا ستایا ہوا، بابا گرو نانک ہندو مسلم اختلاف،قائد اعظم برصغیر کے مسلمانوں کے مسائل کے حل کی تلاش میں محو سفر تھے۔دُنیا کے سب سے بڑے مصلح رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم تھے۔ جنھوں نے تمام دُنیا کے نظام کو ایک درست سمت عطاءفرمائی۔ اصلاح کار نظام تبدیل نہیں کیا کرتے، وُہ اُسی نظام کے مسائل کو ایک اور انداز سے بہتری عطاءکرتے ہیں۔ مذہب تمام نظام کو ایک وحدت، عقیدہ کی صورت عطاءکرتا ہے۔

نیکی اور بدی کی طرح صلح جو اور منتقم ریفارمر ہوتے ہیں۔ مصلح امن اور سکون کا پیغام دُنیا میں پھیلاتے ہیں،مگر دُنیا میں بسنے والے انسان اپنے اقتدار کے کھو جانے کے خوف کی بناءپر امن پسند تحریک کو ایک تشدد کا رنگ اپنا لینے پر مجبور کر ڈالتے ہیں۔ اور ایک متشدد گروہ اپنی بالادستی کے بعد اپنے اختیار سے شانتی کا ایک طویل پروگرام رکھتا ہے۔ حیران کن بات ہے اصلاح کار مسائل کے حل کی تلاش میں آتا ہے مگر وُہ خود جھگڑا جیسے مسئلہ میں اُلجھ پڑتا ہے۔ اور یہ ٹکراﺅ ایسی خوبصورت سوچ کو برباد کر ڈالتا ہے۔ کہیں اُسکے پیروکار اُس کی تحریک کا رنگ بدلتے ہیں تو کہیں اُسکو خود ایک تبدیل رنگ سے آگے آنا پڑتا ہے۔

کہتے ہیں جس گھر میں جھگڑا ہو اُس گھر کا گھڑا بھی سوکھ جاتا ہے۔ دیکھئے جھگڑا، سنیے جھگڑا، آج وطن عزیز میں ہر کوئی ہر کسی سے جھگڑے میں مصروف ہے۔ اِن جھگڑوں میں دشمن کے بہانے ہمارے گھر کے کنویں( دریا) بھی خشک ہو چلے۔ آپسی جھگڑوں نے بربادی کے سواءکبھی کچھ دیا؟بس جھگڑے محنت اور اثاثہ سے چل پڑے ۔ میں محنت زیادہ کرتاہو، وُہ موج کرتا ہے۔میں کماتا زیادہ ہو، وُہ کھاتا زیادہ ہے۔ہاں! بے شک گدھا بہت محنت کرتا ہے مگر گدھا گدھا ہی ہوتا ہے۔

محنت، محبت، دولت،رفاقت، عبادت کا خیال رکھنا چاہیے مگر کبھی شمارنہیں کرنی چاہیے۔ ان کی گنتی ہمیشہ پریشان اور بے چین رکھتی ہے۔ آہستہ آہستہ یہاں سے ہی بے دلی اور اُکتاہٹ کا آغاز ہوتے ہوئے جھگڑے کی حد چھو دیتا ہے۔ برسوں کی ریاضت کے پتے یکدم پیڑ سے جھڑ جاتے ہیں۔آخر انسان حقیقت میں سب کچھ گنوا بیٹھتا ہے۔عرفان کی راہ پہ چلتے چلتے ، فرعون کی راہ پا جاتا ہے۔

جگ میں جو تماشے ہوئے۔ ٹھگ کی راہ میں وُہ جھگڑے نکلے۔ سنگ کسی اور کے رہے سنگت کہیں اور نبھائی۔ رنگ میں رنگ کچھ یوں رنگے کہ تاثیر ہی گنوائی۔ نگاہوں کے فرق سے اختلاف بڑھے۔ نطق و منطق کی کج فہمی سے نظریات اُکھڑے۔ دُنیا میں کوئی جھگڑا باقی نہ رہا۔ اگر فہم یکساں ہوا تو سنسار بے رنگا ہوا۔حسنِ کائنات تفاوت میں ہے۔ دانشمند کی نگاہ حکمت میں ہے۔ دُنیا جھگڑوں سے بھری پڑی ہے۔ خالی نہیں، مثالی لوگوں سے بھری پڑی ہے۔

ہمارا ہر جھگڑا پیٹ سے شروع ہوتا ہے اوربربادی کے بھنور کی لپیٹ پر ختم ہوتا ہے۔پینسٹھ برس قبل لاہور کے ایک نامور ادیب خواجہ دل محمد دِل نے ایک ایسا شعر لکھا ، جس کی اپنی ہی تاثیر تھی۔

ہیرے موتی چاب کر نہ بھرے تیرا پیٹ
دو روٹی کی خاطر کیوں اتنی اَلسیٹ

 

(فرخ نور)

نفرت نہیں، محبت

نفرت نہیں، محبت

ہم اپنی زندگی میں نہ جانے کتنی نفرتیں پالتے ہیں۔ محبت بکھیرنے کی بجائے ، فاصلے بکھیڑتے ہیں۔ نفرت نے سوچ کو محدود کیا، رائے و تحقیق کو تعصب کی نگاہ بخشی۔ زندگی کی گوناگونی میں متناقص و متناقض بے چینی پیدا کی۔ ژرف نگاری کے نام پر ضرب کاری ہونے لگی۔ پیدائش کا نطفہ بخیلی سے جنم لینے لگا۔ اسلام کے نام پر کرخت مزاجی بھڑکنے لگی۔

ہم آئے روزمنفی و تخریبی موضوعات پر تحاریرلکھتے ہیں۔اِن منفی موضوعات کومثبت انداز میں تنقید کی نکتہ چینی کی بجائے ؛ اصلاحی رنگ دے سکتے ہیں۔ ہم نفرت پہ تو بات کرتے ہیں۔ اگر نفرت کی ضد محبت سے بات کرے تو ہمارے اذہان و قلوب میں خوب صورت کیفیات ہی مرتب ہو سکتی ہے۔

آج ہمارا ادیب بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اُس کو معاشرہ کی فحش گوئی بیان کرنے کے لیے اب طوائفہ سے معشوقہ کی تلاش ہونے لگی۔ سکینڈل بیان کرتے کرتے معاشرہ کو سکینڈل زدہ بنا دیا۔ کاش! کو ئی ادیب تعمیری سوچ کے ساتھ معاشرہ میں تعمیر بخشے۔ شاعر کی شاعری برہنہ گوئی رہ گئی۔ مقصد و خیال رخصت ہو چکے۔

ہمیں آج تعمیری سوچ کی ضرورت ہے۔ جاہلانہ اذہان دوسروں کی آپسی ملاقاتوں سے بھی بُرا تصور اخذکرتے ہیں۔ شاکی اذہان میں سازش ، بد نگاہوں سے برائی، متلون مزاجی سے وسواس قلوب میں جنم لیتے ہیں۔نہ جانے نفرتیں کہاں کہاں پنپ رہی ہیں۔

لاﺅتزے نے تاﺅ تے چنگ میں فرمایا تھا۔” جب دُنیا جانتی ہے؛ خوبصورتی جیسے خوبصورتی ہے، بدصورتی اُبھرتی ہے،جب جانتے ہیں، اچھائی اچھائی ہے، برائی بڑھتی ہے“

مینیشس نے کہا تھا،” برائی کی موجودگی اچھائی کی شان ہے۔ برائی کی ضد اچھائی ہے۔ یہ ایک دوسرے سے بندھی ہے۔برائی کی کایا اچھائی میں پلٹ سکتی ہے۔ برائی کیا ہے؟ ایک وقت میں تو وُہ ہے،مگر بعدکے کسی دور میں وُہ اچھائی ہوسکتی ہے کسی اور کے لیے۔“

مذاہب محبت کی بات کرتے ہیں۔ عبادت گاہیں محبت کی مرکز ہیں مگر آج فرقوں کے نام پر نفرتیں بٹ رہی ہیں۔ گیتا، جپ جی صاحب، سُکھ منی صاحب، ادی گرنتھ صاحب،تاﺅتے چنگ محبت ہی کی تعلیم دے رہی ہیں۔ یہ اخلاقی تعلیمات کے لازوال شاہکارہیں۔ہر مذہب میں جھوٹ، شراب، جوائ، زنا، جھوٹی گواہی کی پابندیاں عائد ہیں۔ ان سے انحراف معاشرہ میں نفرت کا جنم ہے۔

ناکام معاشرے اپنی خامیوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں، دوسروں کی خوبیوں کی عیب جوئی فرماتے ہیں,۔تنگ نظر اذہان تنگ نظری کی بات کرتے ہیں۔ کچھ لوگ خو د کو راجپوت، سید اور اعوان کہلانے پر فخر کرتے ہیں۔دوسروں کو اپنی احساس کمتری کے باعث کمی کمین کہتے ہیں۔ بھئی فخر کرنے کے لیے ویسے اعمال بھی ہونے چاہیے۔ راجپوت اپنی خودداری، وطن پرستی اور غیرت کی روایات کی پاسداری کرتے تھے ۔کٹھن حالات میں’ جوہر ‘ کی رسم ادا کرتے تھے۔ جب راجپوت اپنا دفاع ناکام ہوتا دیکھتے تو عورتیں بچوں سمیت آگ میں کود پڑتیں تاکہ بے حرمتی کی ذلت سے بچ سکیں۔یوںمرد اپنے گھر بار کی فکر سے آزاد ہوکرآخر دم تک لڑتے ہوئے ؛ وطن کے تحفظ پر جان قربان کر تے تھے۔ دشمن کی فتح تب ہوتی، جب کوئی راجپوت باقی نہ رہتا۔ رانااودے سنگھ، رانا پرتاب سنگھ نے مغل عہد میںراجپوت خودداری کو قائم رکھا۔سید اور اعوان خود کوحضرت علی رضی اللہ عنہ کی اُولاد ہونے پر ناز کرتے ہیں۔ شان تویہ ہیں؛جب اعمال و کردار حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نقش قدم کے مطابق ہو۔ ورنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام سن کر سر شرمندگی سے جھک جائے۔لوگ خود کو سردار، نواب ، راجگان ،ملک،بیگ، خان، رانا، چوہدری اور قاضی وغیرہ کے ناموں سے متعارف کرواتے ہیں۔ ایسے تاریخی سرکاری عہدوں اور القابات کا قبیلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ کیا ہم میں کوئی ایسی خصوصیت ہے کہ ہمیں آج کی سرکار کوئی رتبہ عنائیت فرمائے۔ جب ہم میں ایسی کوئی خاصیت نہیں تو ہم ترقی پانے والے لوگوں کے کم ذات ہونے پر تبصرہ کیوں کرتے ہیں ؟ دراصل ہم اپنی احساس کمتری کو احساس برتری سے چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ غالب کا مصرع ہے:

دِل کو خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

محبت بانٹنے سے بڑھتی ہے اور نفرت سمیٹنے سے پھیلتی ہے۔ نفرتیں مت سمیٹوں۔تعصب کی عینک اُتار کر دیکھو تو سوچ کی وسعت خوب پھیلے گی ۔ ورنہ بند گلی کے بند راہی بنو گے۔

زندگی کا حسن محبت، نعمتِ خداوندی مسکراہٹ ہے۔ بندوں سے تعصب، دِل میں خدا کی محبت کو بھی دور کرتا ہے۔ اللہ سے محبت اللہ کے بندوں سے محبت ہے۔

میرے ذہن میں ایک سوال بچپن سے اُمڈتا ہے۔ اسلام خوش اخلاقی کی عملی تربیت دیتا ہے۔ ہمارے بیشتر مذہبی نمائندگان یا وُہ افراد جو مذہبی جھکاﺅ زیادہ رکھتے ہیں۔ دِن بدن اُنکے مزاج میں کرختگی اور برداشت کی کمی کیوں واقع ہوتی جا رہی ہے؟ اپنے گروہ کے سواءکسی اور کو سلام کرنا گوارہ کیوں نہیں کرتے۔ غیر مذہبی افراد کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا تو سکتے ہیں۔ مگر مسلمان بھائی کے ساتھ بیٹھنا کیوں گوارہ نہیں؟ یہ وُہ عملی مناظر ہے، جس نے آج کے نوجوان کوپریشان کیاہے۔

برصغیر میں مسلمانوں کی آمد اور شاہجہانی دور کی عظمت ایک دِن یا عرصہ کی بات نہیں،یہ صدیوں کے تاریخی تسلسل میں نکلنے والی کونپل تھی، جسکی خوشبو میں نفرت کی بدبو گھٹتی گئی اور محبت پھیلی۔ اردو میل ملاپوں میں آسودہ ہوئی۔ علاقائی تعصبات سے آلودہ ہوئی۔پاکستان میں معاشرتی زندگی کا جو تصور تحریک آزادی میں پیش کیا گیا تھا۔ مذہبی آزادی و رواداری تھا۔ آج مسلکی بنیادوں پر نفرتیں سرائیت کر چکی۔ اے اللہ! ہمیں ایسی تحقیق سے محروم فرما، جس میں ہم تاریخ ِ اسلام کی عالیٰ مرتبت بزرگان کے مسلک کی تلاش کریں۔ ہمیںمسلک کی بنیاد پر نفرت سے بچا۔

مجھے کبھی کبھی افسوس ہوتا ہے۔ غیر جانبدارانہ رویہ بھی موت کا سبب بنتا ہے۔ابن رشد نے یونانی تراجم یونانی رو سے کیے تو ملحد ہوکر خارج الاسلام قرار دیا گیا۔ شہزادہ دارالشّکوہ نے سکینة الاولیاءاور سفینة الاولیاءایام جوانی میں تحریر فرما کر بڑا نام پایا۔ مگر ہندی تراجم ہندوﺅانہ روح سے کرکے مرتد قرار دیکر واجب القتل ٹھہرا اور سولی پر چڑھایا گیا۔ شائید ہر دور کا ارسطو زہر کا پیالہ پینے کو ترجیح دیتا ہے۔ اُس زمانے میں افلاطون نے شہر چھوڑا تھا۔ آج لوگ خاموش ہوگئے ہیں۔

یہ نفرتیں ہی ہیں۔ جنھوں نے ہماری زندگی میں تنہائیاں ہی جنم دی ہیں۔ خوشی اور غمی کے جذبات سے عاری معاشرہ پنپ رہا ہے۔ ہمیں سوچنا ہے ہم اپنی نسل کو کیا منتقل کر رہے ہیں!

ہماری عیدین گزرتی ہیں۔ذرا سوچئے! آپ کتنی خوشیاں بکھیرتے ہیں؟ کتنے چہروں پر مسکراہٹ لاتے ہیں؟کسقدر رخنہ زدہ بندھنوں کو اِک لڑی میں پروتے ہیں؟ کیا عید کے روز ماتھا پہ شکن، گفتگو میں گالم گلوچ، دِل میں بغض، حسد، کینہ اور رویوں میں نفرت ہونی چاہیے؟ عید کے روز خلاف مزاج بات پر سخت الفاظ منہ سے نکالنا بھی میرے خیال میں عید کی توہین ہے۔

کیا ہم سال میں صرف عیدین کے دو ایاّم کو اپنے رویہ سے خوبصورت نہیں بنا سکتے ،جہاں صرف محبت ہی محبت آپ سے مِل رہی ہو؟ معاشرہ کا ردّعمل جو بھی ہو، عید کے روز خود کو محبت کو عملی نمونہ بنائے۔

عید کے روز میرے ایس -ایم-ایس پہ پریشان مت ہوا کریں۔ میں آپ سب سے بھی خوشی بانٹ رہا ہوتا ہوں۔ میں عیدین پر اپنے ہزاروں چاہنے اور جاننے والوں کو نیک تمناﺅں کا پیغام بھیجتا ہوں اور رہونگا۔ لہذا! آپ نہ تو تذبذب کا شکار ہو اور نہ شک میں پڑیں۔ کیونکہ محبت کو شک کھا جاتا ہے۔

(فرخ نور)

مشکل الفاظ کے معنی

گوناگونی : ورائٹی، مختلف اقسام

متناقص: نقص رکھنے والا، ناقص، نامکمل

متناقض: مخالف، برعکس، اُلٹا، خلاف

گمنام رنگ

ثقافت میں سب سے اہم نمائندہ عنصر تہذیبی رویہ ہوتا ہے۔ لوگ تہذیبوں کاٹکراﺅ پڑھ کراپنی تہذیب برباد ہوتا دیکھتے ہیں۔ تہذیبیں ایک طویل تسلسل اور تنوع کی وسعت کو اپنے اندر سموتے ہوئے نمو پاتی ہیں۔ جس میں افعال اورکارکردگی کے نقوش روایات کا سلسلہ تھامے رکھتے ہیں۔ یہ روایات نسل در نسل منتقل ہو کر انسان کو اُسکی اصل بنیاد سے جوڑے رکھتی ہیں ۔ وقت کے تناسب سے نظام بہتر سے بہترین ہوتا ہے مگر بنیاد قائم رہتی ہے۔نگاہ میں خیال تو ہے، مگر منظر کے احساس سے محروم

آمد میں کمال تو ہے، مگر جمال پرواز کے تجسس سے مقدوم

گمنام رنگ دُنیا میں ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔ بیشمار نامور رنگ بھی ماضی کے دھندلکوں سے جھلکتے ہوئے؛ انسان کی بے اعتنائی کا شکار! حسن کے شاہکار، ایثار کے پیکر، شجاعت کے کردار، عزم کے مینار رفتہ رفتہ منہدم ہو کر معدوم ہو چلے۔ انسان اپنی وراثت اور ثقافت کو محفوظ رکھنے سے معذور۔ اپنی ہی مٹی سے رشتہ ٹوٹ رہا ہے۔

آج مجھے حقیقی رنگوں کی تلاش ہے،ایاز اور ایبک تو لاہور میں مدفون ہیں۔ غزنوی اور غوری کی آرام گاہوں سے ہم ہی واقف نہیں! شاندارتواریخ رکھنے والے نام آج گمنام اور ادنیٰ غلام وجود کی پہچان میں!پُرانے تاریخی و ثقافتی شہروں کی دیواروں کو ازسر نو تعمیر و مرمت کرنے کا خیال تو اذہان میں آتا ہے، کیادیوارکے اندر کی اصل ثقافت ہی ان دیواروںکا اصل رنگ ہے؟ دیواریں اصل زبان سے محروم، تکیوں(دانش گاہوں) کے دَور سے دُور،پکوان اور اُس کے ذائقہ شناسوں کی محتاجی،علاقائی موسمی مشروب اب ہتک جانے لگے۔پرانے شہر کی صرف دیواریں تعمیر ہونگی، ثقافت لوٹ کر نہ آئے گی۔ ثقافت گمنام لوگوں کے گمنام رنگ ہی پیدا کرتے ہیں۔ تاریخ میں ثقافت ہی گمنام کوٹھڑی کی قیدی رہی

ثقافت میں سب سے اہم نمائندہ عنصر تہذیبی رویہ ہوتا ہے۔ لوگ تہذیبوں کاٹکراﺅ پڑھ کراپنی تہذیب برباد ہوتا دیکھتے ہیں۔ تہذیبیں ایک طویل تسلسل اور تنوع کی وسعت کو اپنے اندر سموتے ہوئے نمو پاتی ہیں۔ جس میں افعال اورکارکردگی کے نقوش روایات کا سلسلہ تھامے رکھتے ہیں۔ یہ روایات نسل در نسل منتقل ہو کر انسان کو اُسکی اصل بنیاد سے جوڑے رکھتی ہیں ۔ وقت کے تناسب سے نظام بہتر سے بہترین ہوتا ہے مگر بنیاد قائم رہتی ہے۔

تہذیب کامطالعہ دو پہلوﺅں سے ہوتا ہے۔ تعمیرات کا علم تمدن کاجائزہ لیتا ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ ایک فرد سے دوسرے فرد کا مطالعہ وَ موازنہ کر کے تہذیب کی جانب منتقل ہوا جاتا ہے ۔تعمیرات کا انحصار تین عملی احوال: (۱)وجود کی بقا،(۲) موسم اور(۳) مواد پرہوتا ہیں۔کسی بھی عمارت کی تعمیر ہمیشہ دو اُصولوں پرمنحصر رہی؛ منصوبہ بندی اور خاکہ بندی۔اس کے بھی تین درجے رکھے گئے۔اوّل؛ زیر استعمال زمین کا جغرافیائی حالا ت کے تحت جائزہ لینا، دوم؛ عمارتی تعمیر کی منصوبہ سازی کرنا، سوم؛ ڈھانچہ تیار کرنا۔

تمدن میںعمارات تین اقسام کی ہوسکتی ہیں۔رہائشی تعمیرات، طرز معاشرت کی بنیاد ہیں جو رہن سہن کے انداز واضح کرتی ہیں۔ مذہبی عمارات، عقائدپر روشنی ڈالتی ہیں۔ تیسرا اندازیادگاری عمارات،جو جاہ و جلال کا نمائندہ ہوتا ہے۔اس میںیادگاریں اُن مذہبی، تہذیبی، تمدنی، معاشرتی اور جغرافیائی جڑاﺅکی عکاسی کرتی ہیں۔ جوعلاقائی سلطنتوں اور بیرونی حملہ آوروں کے مابین ٹکراﺅ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اُس دور کی عمارات پر نقش و نگارہی اہم اثرات کے ترجمان ہوتے ہیں۔جن سے تعمیراتی نظریات اور معاشرتی تعلقات کی غمازی ہوتی ہے۔


تہذیب کے مطالعہ میں دوسرا اہم پہلو زبان ہے۔جو ثقافت کی غماز اور طرز بودوباش کی عکاس ہوتی ہے۔ انسانی احساسات کی نمائندگی الفاظ ہی پیش کرتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر سلیم اختر”ادب خلا میں جنم نہیں لیتا اور نہ ہی ادیب ہوا بند ڈبوں میں زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کا عصری تقاضوں سے مثبت یا منفی اثرات قبول کرنا لازم ہے کہ یہ اثرات سانس کی مانند اس کے تخلیقی وجود کے لیے ضروری ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کے عہد میں ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی کے مباحث تھے یا نہیں، یا یہ کہ وہ شعوری طور پر کس تصور ادب کا حامی رہا، اس لیے کہ ادب برائے زندگی کے تصور کو مسترد کرنا بھی تو کسی تصور ہی کا مرہون منت ہوتا ہے“۔

موسم جغرافیہ کا ایک جزو ہے،ہر ملک یا خطے کا اپنا جغرافیائی حسن ہے جو اس کے باسیوں کے اعصاب کو بعض مخصوص حسیات سے مشروط کر دیتا ہے۔ایسے ہی برصغیر میں موسم کی مناسبت سے مشروبات اپنے اندر حکمت رکھے ہوئے ہیں۔ مہینوں کی ترتیب بھی موسم سے تھی۔ بہار کے دو مہینوں (چیت اور بیساکھ)کا مشروب کانجی ٹھہرا۔ شدت گرمی کے اگلے دو ماہ (جیٹھ اورھاڑ)کے مشروب سَتو رہا ۔برسات (ساون اور بھادوں)کے نازک حبس زدہ موسم میں نمکین سکنج بین تھی۔ لسی کو برسات کے علاوہ تمام سال مناسب خیال کیا جاتا تھا۔ خزاں (اسو اور کتے)کے موسم میں کسی بھی مشروب سے متعلق احتیاط برتی جاتی تھی۔سردی(مگھر، پوھ ،ماگھ اور پھاگن) میں مشروب کی بجائے خشک میوہ جات کا استعمال رہا ۔

تہواروں کا تعلق بھی موسموں سے منسلک تھا۔ حتی کہ ملکی انتظام کے معاملات بھی موسموں اور تہواروں سے جڑے تھے۔ ربیع اور خریف کی فصل کا ایک موسم تھا۔اگر فصل کے لہلہانے پر بسنت کا تہوار خوشی میں رکھا گیاتو ایسے ہی مالیہ کی وصولی (زرعی ٹیکس)کا آغاز ’ہولی‘ اور’ دَسَہرا‘ کے تہوارسے ہوتا تھا۔

پانی کے استعمال میں ایک حکمت ہے۔ موسم کا جیسا درجہ حرارت ہو ، ویسا پانی پیا جائے۔ بہت ٹھنڈا پانی انسانی اعصاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ خاصیت گھڑے میں ہیں کہ وُہ پانی کو موسم کے مطابق رکھتا ہے۔

علاقائی نباتات اور درختوں کے جنگل علاقائی ماحول و آب و ہوا کی نسبت سے ہیں۔انسانی، حیوانی، نباتاتی اور آبی زندگی مٹی کی مناسبت سے تھی۔پرانی سڑکوں کے کنارے لگے درختوں کے جھنڈ دیکھے تو اُس علاقہ کے جنگلات اور ماحولیاتی کیفیت کے اثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ شناخت انسانی زندگی کی اصل ثقافت سے جڑی ہوئی ہے۔

آج نباتات کے حالات یہ ہیں کہ چوآسیدن شاہ دُنیا کے بہترین گلاب کے لیے مشہور تھا ، آج وہاں گلاب کے باغات ملنا دشوار ہے۔ کیا وجوہا ت ہے؟ہم قدیم ثقافت کو کیا تلاش کرےںگے؟ ہماری تو بہت سی اقدار آج عدیم ہورہی ہے۔

برصغیر میںبارہ اشیاءکے زیورات مستعمل تھے۔ سونا، چاندی،پیتل (دھات)،نگینہ، موتی، دانت، پنکھ، پھول، پتے ،اناج، لکڑی، مٹی۔

ایک پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان اپنے آبائی علاقہ میں آکر ہمیشہ سادہ دیسی لباس پہنتا تھا۔ اُسکا سادہ سا موقف تھا۔ پاکستان میں یہاںکی ثقافت کے تحت رہنا چاہیے۔ اپنے دیس میں پردیسی کیا بننا ۔لباس اور گفتگوسے اپنا ولائیتی پن ظاہر کرنا مناسب نہیں ۔

انگریزی ہماری تخلیقی سوچ سے کنارہ کشی پر تو مہربان ہوئی۔ مگر علاقائی زبانوں کے الفاظ پر قہرمان ٹھہری۔ لوک موسیقی، لوک گیت، لوک کہاوتیں، لوک کہانیاں، میلوں میں علاقائی کھیلوں کا دھیرے دھیرے معاشرہ سے ربط ٹوٹ رہا ہے۔

خیال کو خیال ہی جدا کرے، بات کو بات ہی کاٹے۔

زمانہ کو رشتہ ہی جوڑے، رشتہ کو رشتہ ہی توڑے۔

لفظوں کے رشتوں سے محروم ہوئے،رشتہ کے نام امپورٹ کیے، رشتہ کا مادہ بھرم سے اُٹھا کرشک کے دھرم میں ڈبو دیا۔ آج ہم رشتوں کے ذخیرہ الفاظ سے واقف نہیں۔ مٹی کی پہچان سے کیا واقف ہونگے۔ جو اپنی مٹی کا نہیں، وُہ کہیں کا نہیںرہا۔انسان مٹی کا بنا ہے، اُسکی خوراک مٹی ہے، اُسکا خون مٹی سے ہی دوڑتا ہے۔سکون اور زبان مٹی کے تعلق سے وجود میں آتے ہیں۔ہم نے مر کر مٹی میں مٹی ہونا ہیں۔عجب بات ہے، ہم اپنی مٹی سے ہی وفا نہیں کرتے۔تاریخ میں غداروں کی فہرست تو جاری کرتے ہیں۔ ٹیپو سلطان رحمتہ اللہ علیہ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ مگر کبھی ہم نے اپنی ذات کا احتساب کیا۔ ہم کس مقام کو کھڑے ہیں؟ہم دوسروں کے لیے نہیں، صرف اپنے لیے جی رہے ہیں، صرف اور صرف اپنی ذات کے لیے۔ افسوس! جن کا ذکر ہم اپنی گفتگوﺅں میں کرتے ہیں، وُہ دوسروں کے لیے زندگی گزارنا اپنا ایمان سمجھتے ہیں۔ شائید انفرادی سوچ رکھنے والی اکثریت کو مستقبل کا مﺅرخ مٹی کا قاتل ٹھہرائے۔مٹی سے تعلق کوئی مشکل شےءنہیں، حقیقت کا سچائی سے سامنا ؛انسان کا مٹی سے تعلق بنائے رکھتا ہے

صرف اپنے لیے جی کر، زمانہ بھر کو پریشان کیا۔

دوسروں کے لیے جی کر، عمر بھر خود کوبے چین کیا۔

مناسب ہے کہ ہم اپنی تہذیب کو اپنائےں اور مٹی کی خوشبو کو پہچان سکیں۔ مغربی طرز زندگی ہمارے موسم، حالات اور مزاج کے مطابق نہیں۔ ہمارا موسم ہمیں بلند چھتوں کی ترغیب دیتا ہے۔مغرب کی قابل قبول اشیاءکو ضرور اپنائےں مگر اس چاہت میں اپنی مٹی سے رشتہ مت توڑےں۔مسجد وزیر خان ہندوستانی، وسط ایشیائی، ایرانی اور عرب اثرات کا امتزاجی شاہکار ہے۔

پاکستان کی تاریخ 712ء سے شروع نہیں ہوتی۔ دُنیا کے اب تک سب سے قدیم ترین دریافت شدہ فاسلز” بن امیر خاتون“ سے ملے ہیں۔جن میں ڈائینو سار کی موجودگی ثابت ہوچکی ہے۔ بلکہ شواہد تولاکھوں برس قبل تہذیبی ارتقاءکا تعلق بھی یہاں سے بتلاتے ہیں۔ایک قدیم انسانی تہذیب دریائے سواں کے کنارے آباد تھی۔یہاںبرف پگھلنے کے دور میں دُنیا کی قدیم ترین ”چونترہ صنعت(پتھر کے ہتھیار)“نے جنم لیا۔ہڑپہ اورموہنجوداڑو کے آثار دریافت ہوئے مگر ہزاروں برسوں سے آباد کچھ ایسے دیہات بھی چلے آرہے ہیں۔ جن کے کنوﺅں کی طرز تعمیر(بیضوی دہانہ) ہڑپہ اور موہنجو داڑو سے ملتی ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ، تہذیب اور ثقافت پر تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ نشان باقی نہ رہے۔

(فرخ نور)

زندگی سے موت بہتر ہے

: دنیا کے مصائب و آلام سے بیزار ہو کر موت کی تمنا کرنا اوراپنے لئے موت کی دعا کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبتوں کے سبب موت کی آرزو کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے :
عن أنس بن مالك رضى الله عنه قال النبى صلى الله عليه وسلم « لا يتمنين أحدكم الموت من ضر أصابه ، فإن كان لا بد فاعلا فليقل اللهم أحينى ما كانت الحياة خيرا لى ، وتوفنى إذا كانت الوفاة خيرا لى »
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: تم میں کوئی کسی مصیبت کی وجہ سے ہرگز موت کی آرزو نہ کرے اگر وہ موت کی خواہش ہی رکھتا ہے تو یہ دعا کرے
’’ اللَّهُمَّ أَحْيِنِى مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِى ، وَتَوَفَّنِى إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِى
ترجمہ :‘‘ اے اللہ تو مجھ کو حیات عطا فرما جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو اور مجھکو موت عطاء فرما جب وفات میرے لئے بہتر ہو۔
﴿ صحیح بخاری شریف ،باب تمنی المریض الموت ،حدیث نمبر:5671﴾
اگر گناہوں کی کثرت ہو جائے ،فتنے امنڈنے لگیں اور مصیبت میں پڑنے کا خوف ہو تو اپنے دین کو بچانے اور فتنوں سے خلاصی پانے کیلئے موت کی تمنا کرسکتا ہے جیساکہ سنن ترمذی شریف میں حدیث شریف ہے :
عن أبى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ……فبطن الأرض خير لكم من ظهرها ۔
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ……( ایسے زمانہ میں ) زمین کا اندرونی حصہ تمہارے لئے زمین کے بیرونی حصہ سے بہتر ہے۔ ﴿ جامع ترمذی شریف ،حدیث نمبر:2435﴾
الغرض دنیا کے خوف سے موت کی تمنا نہیں کرنا چاہئے ۔

در مختار ج 5 ص 297 میں ہے:
( یکرہ تمنی الموت ) لغضب او ضیق عیش ( الا لخوف الوقوع فی معصیۃ ) ای فیکرہ لخوف الدنیا لا الدین لحدیث فبطن الارض خیرلکم من ظھرھا
اور رد المحتار ‘‘ میں ہے
’’ فی صحیح مسلم « لا يتمنين أحدكم الموت لضر نزل به فإن كان لا بد متمنيا فليقل اللهم أحينى ما كانت الحياة خيرا لى وتوفنى إذا كانت الوفاة خيرا لى ». ﴿ مسلم شریف ،باب كراهة تمنى الموت لضر نزل به،حدیث نمبر:6990﴾
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

مسلمان ہونا کوئی مشکل امر نہیں مگر مسلمان بن کر حدود شرع کی پاسداری کرتے ہوئے زندگی گزارنا دشوار ہے اور صحیح معنوں میں مسلمان وہی ہے جو شرعی احکام و مسائل پر سختی سے کاربند ہو کر کتاب زندگی کی اوراق گردانی کرے۔

ظالم دنیا

کیا ذندگی میں مجھے کبھی  سچی خوشی ملے گی بھی ؟کبھی نہ ختم ہونے والی۔ یہ دنیا بڑی ظالم ہے۔ اور مذید ظالم ہوتی جاے گی۔ مجھے اور ظلم نہیں سہنے۔

اختر شیرانی کی ایک شاہکار نظم – اے عشق کہیں لے چل

اے عشق کہیں لے چل

اے عشق کہیں لے چل، اس پاپ کی بستی سے
نفرت گہِ عالم سے، لعنت گہِ ہستی سے
ان نفس پرستوں سے، اِس نفس پرستی سے
دُور اور کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

ہم پریم پُجاری ہیں، تُو پریم کنہیّا ہے
تُو پریم کنہیّا ہے، یہ پریم کی نیّا ہے
یہ پریم کی نیّا ہے، تُو اِس کا کھویّا ہے
کچھ فکر نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

بے رحم زمانے کو، اب چھوڑ رہے ہیں ہم
بے درد عزیزوں سے، منہ موڑ رہے ہیں ہم
جو آس کہ تھی وہ بھی، اب توڑ رہے ہیں ہم
بس تاب نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

یہ جبر کدہ آزاد افکار کا دشمن ہے
ارمانوں کا قاتل ہے، امّیدوں کا رہزن ہے
جذبات کا مقتل ہے، جذبات کا مدفن ہے
چل یاں سے کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

آپس میں چھل اور دھوکے، سنسار کی ریتیں ہیں
اس پاپ کی نگری میں، اجڑی ہوئی پریتیں ہیں
یاں نیائے کی ہاریں ہیں، انیائے کی جیتیں ہیں
سکھ چین نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اک مذبحِ جذبات و افکار ہے یہ دنیا
اک مسکنِ اشرار و آزار ہے یہ دنیا
اک مقتلِ احرار و ابرار ہے یہ دنیا
دور اس سے کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

یہ درد بھری دنیا، بستی ہے گناہوں کی
دل چاک اُمیدوں کی، سفّاک نگاہوں کی
ظلموں کی جفاؤں کی، آہوں کی کراہوں کی
ہیں غم سے حزیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

آنکھوں میں سمائی ہے، اک خواب نما دنیا
تاروں کی طرح روشن، مہتاب نما دنیا
جنّت کی طرح رنگیں، شاداب نما دنیا
للہ وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

وہ تیر ہو ساگر کی، رُت چھائی ہو پھاگن کی
پھولوں سے مہکتی ہوِ پُروائی گھنے بَن کی
یا آٹھ پہر جس میں، جھڑ بدلی ہو ساون کی
جی بس میں نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

قدرت ہو حمایت پر، ہمدرد ہو قسمت بھی
سلمٰی بھی ہو پہلو میں، سلمٰی کی محبّت بھی
ہر شے سے فراغت ہو، اور تیری عنایت بھی
اے طفلِ حسیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اے عشق ہمیں لے چل، اک نور کی وادی میں
اک خواب کی دنیا میں، اک طُور کی وادی میں
حوروں کے خیالاتِ مسرور کی وادی میں
تا خلدِ بریں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

سنسار کے اس پار اک اس طرح کی بستی ہو
جو صدیوں سے انساں کی صورت کو ترستی ہو
اور جس کے نظاروں پر تنہائی برستی ہو
یوں ہو تو وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

مغرب کی ہواؤں سے، آواز سی آتی ہے
اور ہم کو سمندر کے، اُس پار بلاتی ہے
شاید کوئی تنہائی کا دیس بتاتی ہے
چل اس کے قریں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اک ایسی فضا جس تک، غم کی نہ رسائی ہو
دنیا کی ہوا جس میں، صدیوں سے نہ آئی ہو
اے عشق جہاں تُو ہو، اور تیری خدائی ہو
اے عشق وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اک ایسی جگہ جس میں، انسان نہ بستے ہوں
یہ مکر و جفا پیشہ، حیوان نہ بستے ہوں
انساں کی قبا میں یہ شیطان نہ بستے ہوں
تو خوف نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

برسات کی متوالی، گھنگھور گھٹاؤں میں
کہسار کے دامن کی، مستانہ ہواؤں میں
یا چاندنی راتوں کی شفّاف فضاؤں میں
اے زہرہ جبیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

ان چاند ستاروں کے، بکھرے ہوئے شہروں میں
ان نور کی کرنوں کی ٹھہری ہوئی نہروں میں
ٹھہری ہوئی نہروں میں، سوئی ہوئی لہروں میں
اے خضرِ حسیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اک ایسی بہشت آگیں وادی میں پہنچ جائیں
جس میں کبھی دنیا کے، غم دل کو نہ تڑپائیں
اور جس کی بہاروں میں جینے کے مزے آئیں
لے چل تُو وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

chehry parha karo…

baaz auqat rukna bohot mushkil ho jata ha. aur baaz auqaat aagay chalna mushkil nahi na mumkin hota ha.

ye jo chehry hoty han inhen parha karo. dunia ki sab sa behatren kitab hoty han. kahi kitab ka getup umda hota ha, magar andar ki tehrer ghatiya hoti ha. kahi mamooli kaghzaat par aala darjy ki tehreer hoti ha.
kabi chehry ki tehrer bot waza ho kar b parny ko dil nai karta.
wo jany anjany me boohot andhery rasty par nikal ae ha. usay ye bhi nahi maloom k ye rasta band ha. kahi nahi jaata. aur me jab sa soch rahi hu k us ka kia ho ga.

kuch loog andhery me bhatakty huay bhi roshni ki tammanna zarur karty han. aur in ko in andhero se pyar hota ha. wo zindagi k in andhery ka ik hisssa ban chuky hoty han.

me waqt ko zaya nahi karti, waqt ne mujhy zaya kia ha.

me janti hu insan k hosly ko utna hi azmana chahiye jitna us me hosla ho, insan ko kisi unchi kursi par bitha dyna us ki izzat afzae nahi. us k sath zulm ha.

Luck / Qismat / Taqdeer / Naseeb نصیب

Luck / Qismat / Taqdeer / Naseeb

کنفیوشش نے کہا تھا ”اگر ہم زندگی کو نہیں جانتے تو ہم موت کو کیسے جان سکتے ہیں۔ زندگی بہت سادہ ہے مگر ہم مسلسل اُسکو مشکل ترین بنانے پر زور دیتے ہیں۔“

اپنی محرومی کو بدنصیبی سمجھ لینے والوں،محرومی تو عطاءکاجوڑ اہے۔رات دن، اندھیرااُجالا، مایوسی امید، سزا جزا کی طرح محرومی اور عطاءکا یہ جوڑ نصیب ہے۔

شہرت ہر کسی کا نصیب نہیں ہوا کرتی۔ نصیب توسب کا ہوتا ہے مگر کامل نصیب کوئی کوئی ہوتا ہے۔لوگ تقدیر کے بہانوں کی تلاش میں ہیں۔ مقدر کے حسن کو مقدر کے لکھے پہ ٹھوکر مارتے ہیں۔ نصیب والا نصیب سے ناراض ہے، مقدر والا مقدر سے خوش نہیں۔خداکی قدرت دیکھیئے،وُہ ذات قدیر بھی ہے اور باعث توقیر بھی، مگر انسان جانتے یا نہ جانتے ہوئے اُس ذات قدیم سے اختلاف کی جسارت کر ڈالتا ہے۔

حسن دیکھیئے! انسان اپنے آپ سے خوش نہیں دراصل وُہ اللہ سے خوش نہیں۔ درویش اللہ کی راہ میں اپنی مرضی چھوڑ کر درویشی اختیار کرتا ہے۔ بس یہی نکتہ اللہ والوں کو ہر حال مطمئن رکھتا ہے۔ یہی نقطہ ہمیں (مادی خواہشات والوں کو)ہر حال بے چین بھی رکھتا ہے۔

انسان آسودہ حال زندگی کے لیئے نہ جانے کتنے جتن کرتا ہے مگر ناکام و نامراد رہا۔ ایک لمحہ میں کسی کی رفاقت زندگی گزارنے کا نظریہ بدل دیتی ہے۔ یہ نگاہ کرم ہے جو مقدر میں لکھا، نصیب بن گیا۔ قسمت کو الزام دینے والا ، دوشی سے دھنی بن گیا۔

تقدیر پہ بحث کرنے والا، قدیر کی ذات سے باخبر نہیں۔ خبر کی بات میں ایسی بے خبری محسوس ہوتی ہے ، جیسے کسی کی خیر نہیں۔ مخیر تو اس بات کا قادر ہے کہ ہر عمل میں خیر ہی خیر ہے۔

تمام زمانوں کی خبر رکھنے والا ہی آنے والے دور کی پیش گوئی کے انداز میں خبر کی مخبری بھی دیتا ہے۔ انسان اللہ کی مرضی کے آگے بند باندھتا ہے مگر باوجود اِس کے مقدر پھر بھی نہ بدلا۔ مشیت الٰہی ہو کہ رہتی ہے۔ بدل نہیں جایا کرتی۔ اسی طرح فرعون نے ایک خواب دیکھا، تعبیر معلوم کی اور تدبیر بھی بنائی مگر تقدیر جو لکھی تھی ، وُہ ہو کہ رہی۔ یہاں نصیب دیکھیئے ، ایک گروہ اللہ پر یقین رکھنے والا ، حالت ظلم میں بھی مطمئن، صابر اور شاکر رہا، دوسرا گروہ ظلم ڈھا کر بھی خوف میں مبتلارہا۔اللہ پر یقین رکھنے والے اللہ کی مرضی کے آگے جھک جایا کرتے ہیں ، تراکیب سوچا نہیں کرتے۔ منصور حسین بن حلاج ؒکا نصیب خود ایک منصب ٹھہرا۔

ہر بندے کا اپنا اپنا نصیب ہے، کسی کا نصیب زمانے میں عزت کا مقام حاصل کرنا ہے، کوئی دولت کا نمائندہ بنتا ہے، کسی کو علم کی میراث ملتی ہے، کوئی اُولاد کی نعمت سے مالا مال ہے، کسی کو زبان کا ملکہ حاصل ہوا تو کسی کو قلم کی طاقت نصیب ہوئی۔کبھی اللہ کی جانب سے دی ہوئی صلاحیت کا ہنر نصیب بنا تو کہیں اللہ کی عطاءکی ہوئی رحمت نصیب بنی، اللہ کے توسل سے لوگوں کا عطاءکیا گیا رویہ، مرتبہ، مقام بھی نصیب ہی ٹھہرا۔ کیسے کہہ سکتا ہے کوئی انسان کہ اُسکا نصیب نہیں؟ نصیب پہچان ہے۔ جیسے ہر فرد کا نام ہے، اُس کا کردار ہے، ایک نام والدین رکھتے ہیں آپکا اسم ِمبارک، ایک نام معاشرہ دیتاہے ،آپکا کردار، ایک پہچان اللہ آپکو عطاءکرتا ہے، نصیب۔ آج انسان اپنے نام سے بھاگتا ہے، معاشرہ جو پہچان دیتا ہے اُس سے فرار ہو کرکسی اور لیبل کے لگوانے کی تگ و دو میں ہے، اور جو نام اللہ عطاءکرتا ہے اُسکے باوجود دوسرے نام ”ارتھا“ کے پیچھے بھاگتے ہیں۔نصیب ہمارا اپنے پاس ہے ہم تلاش کہیں اور کرتے ہیں۔

زندگی میں سوال ہی سوال، جواب کی تلاش میں سوال ہے۔ سوال آپکا اپنا ہو تو جواب خود بخود دورانِ تلاش ہی مل جاتا ہے۔ جواب دِل میں رکھ کر سوال کی تلاش کرنا سوال کی بے حرمتی ہے۔ بہر کیف ایسے سوال سائل کو بھٹکا دیا کرتے ہیں۔

ہم تقدیر کے نام پہ تقدیر سے اُلجھ پڑتے ہیں، یونہی کچھ سوال اپنے آغاز سے ہی بے بنیاد ہوتے ہیں۔ تقدیر، قسمت، نصیب اور مقدر جیسے الفاظ کا استعمال کر کے شکوہ کرنا مناسب نہیں۔ شکوہ اگر حق ہے تو جواب ِشکوہ برحق۔ ضرور سوچ لیجیئے شکوہ کے جواب کی تاب لاسکیں گے۔ مشیت الہٰی پہ اعتراض ، اللہ کے فیصلہ سے انکار ہو سکتا ہے۔ اللہ سے ناراضگی کی بات تو کرتے ہیں مگر اللہ کی ناراضگی کا تاپ برداشت کر سکیں گے۔ اُس نے آپکو بھیجا ہے، اس دُنیا میں تو اُسکے پروگرام کو تسلیم کر لیں۔ اُلجھیئے مت، ورنہ اُلجھتے رہے گے۔ ہونا تو وہی ہے ، جو منظور خدا ہے۔

لوگ عہدوں کو اپنا نصیب سمجھتے ہیں، اختیار زمانہ کو اپنا مقدر جانتے ہیں۔ تقدیر کے نام پہ خود کو مالک تقدیر سمجھتے ہیں۔ قسمت کے دھنی کہلانے والوں، نصیب ایسے نہیں ہوا کرتے ہیں۔ چہرہ کی طرح ہر بندے کا نصیب طے ہیں، یہی چہرہ کی تاثیر ہے۔ جدا جدا تاثیر میں چہرہ پُر تاثیر۔ یونہی نصیب بھی پُر اثر انگیز ہے۔ اللہ والوں کا نصیب اور ہے، اختلاف رکھنے والوں کا نصیب اور، آسودہ حال چہرہ اور پریشان حال چہرہ نصیب ہی ہیں۔ رضائے الٰہی کی کوشش ہر نصیب والے کو بانصیب فرماتی ہے، بے نصیب کوئی نہیں ہوا کرتا۔

نصیب امارت نہیں، مطمئن حال رہنا ہے۔ ایسا نہیں تو نصیب آپکا تو ہے مگر آپ خود نصیب کے نہیں۔ جس میں حال صرف بے حال ہونا ہی ہے۔ حل اتنا ہی ہے کہ ذات باری تعالیٰ پر یقین بحال کرو۔

تجھے کام کرنا ہے او مردِ کار
نہیں اُس کے پھل پر تجھے اختیار
کئے باعمل اور نہ ڈھونڈ اُس کا پھل
عمل کر عمل کر نہ ہو بے عمل(۱)
(فرخ نور)
حوالہ جات:
(۱)۔ دِل کی گیتا اُردو نظم میں(شریمد بھگوت گیتا، (دوسرا ادھیائے،شلوک۷۴)) از خواجہ دِل محمد ایم اے
کنفیوشش:(چھٹی صدی قبل مسیح ) چین میں جنم لینے والے مذاہب میں سے ایک مذہب کنفیوشش مت کا بانی۔ جس نے اخلاقی فلسفہ اور ریاست کے بہترین نظم و نسق کے ساتھ ساتھ عقائد کے اعتبار سے چینی عوام کو ایک نظریہ فکر عطاءکیا۔ شمالی ایشیائی ممالک میںجنم لینے والے تمام مذاہب اخلاقی فلسفہ سے بڑھ کر بات نہیں کرتے۔

جگ درشن کا میلا

‘اڑ جآئے گا ہنس اکیلا
جگ درشن کا میلا’

is jag me jo is jag k darshan karny k liye jita ha wo apni aany wali haqeeqi zindagi par zulm karta ha.

jo musalman sari dunia k logo ko acha kehta ha, aur har mazhab k logo sa hamdardi rakhta ha, aur har mazhab k har jaga k logo ko kehta ha ALLAH ki makhlooq ha to acha kaho. wo musalman nihayat hi ghalat karty han. kafiro ki tablegh karo, wo na many to acha na kaho unhe. aur har us insaan sa jo shirq karta ha. aur har us aurat sa jo wahiyat kapry pehnti ha. aur har us mard sa jo aysi aurat ko daikhta ha. jo insan aj ki zindagi ye soch kar mazy se guzarta ha k kal ka kuch pata nahi.
jo apna past bhol jaey aur apni har kahi hue bat bhol kar apna aj guzary. wo bewaqoof ha.
kiu k wo aj kal ko sochy bagher guzar raha ha. wo kal jo guzar gaya wo kal jo any wala ha.
guzar jany waly kal me jo ghalti ki, agar wahi ghalti bar bar dohrai jaey aj me bhi , to is ka matlab ye ho ga k insaan na

kuch sekha hi nahi apni ghalti sa. us na khud ko nahi har us shakhs ko nuqsan phchaya jis ko us na apni ghalti me

shamil kia. aur wo ghalti kar k gunahgar hua.
sansee jab tak chal rahi han wo hamara kal nahi ha. sanseen jab nahi rahyn ge wo hamara kal ha.
insan ko apni sirf experience sa nahi sekhna chaheyey usay har us shakhs k experience se sekhna chahiye jis ki zindagi ko wo janta ha.

50 Ways To Make Yourself Miserable

What Not To Do/be

So here goes the 50 ways to make yourself miserable.
50 Ways To Make Yourself Miserable
1.Compare yourself frequently with others.
2.Belittle yourself.
3.Don’t believe in dreams. You believe dreams will only happen when you are sleeping.
4.Say yes to everybody and everything.
5.Work in a job you hate.
6.Complain about everything.
7.Complain about everything to your friends.
8.Suspicious of everything.
9.Counting your troubles.
10.Harbor negative thoughts.
11.Trying to please everyone and let everyone walk all over you.
12.Constantly thinking about the past.
13.Constantly thinking about the future.
14.Focusing on what you lack.
15.Focusing on what you don’t want.
16.Need others to validate you constantly.
17.Think of everything that can possibly go wrong in your life.

18.Get jealous easily.
19.Envious of others and is never grateful of what you have instead.
20.Imitating others due to lack of self confidence.
21.Lacking self esteem and cause others to dislike you.
22.Think the world revolves around you.
23.Judging others.
24.Absorbing all the bad news in the papers daily.
25.Eating junk food.
26.Exercising is your worst nightmare.
27.Believe that things can only go your way.
28.Do not accept others opinion.
29.Lack of sleep.
30.Lack of goals.
31.Worry consistently about the sky is falling.
32.Plan but never take action.
33.Fail to plan.
34.Feel that people around you are all jerks.
35.Thinking there is no purpose in living.
36.Being the “If Man”. If my father is the president, then I will be successful. If ____ then I will be _____. (fill in the blanks)
37.Lottery is the only way to success.
38.Trying to control everything that you can’t control.
39.Expect to be appreciated.
40.Expect others to be grateful to you.
41.Never forget about criticism.
42.Hate people around you to be successful.
43.Shirk responsibilities.
44.Receive and never give.
45.Do things that are easy.
46.Overworking.
47.Never forgive.
48.Never give your best effort in things you do.
49.Perfectionism.
50.Choosing to be miserable.

ھم لوگ نہ تھے ایسے

ھم لوگ نہ تھے ایسے
ہیں جیسے نظر آتے
اے وقت گواہی دے
ھم لوگ نہ تھے ایسے
یہ شہر نہ تھا ایسا
یہ روگ نہ تھے ایسے
دیوار نہ تھے رستے
زندان نہ تھی بستی
آزار نہ تھے رشتے
خلجان نہ تھی ہستی
یوں موت نہ تھی سستی
یہ آج جو صورت ہے
حالات نہ تھے ایسے
یوں غیر نہ تھے موسم
دن رات نہ تھے ایسے
تفریق نہ تھی ایسی
سنجوگ نہ تھے ایسے
اے وقت گواہی دے
ھم لوگ نہ تھے ایسے

امجد اسلام امجد کی یہ نظم کافی عرصہ پہلے پڑھی تھی، اور مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔
AUR WAQT K SATH SATH HAQEQAT KA PATA CHALTA HA.k YE WAQT HI HA JO INSAN KO KESA BADAL KAR RAKH DYTA HA. YE WAQT HI HA JO HALAT BADAL DYTA HA. YE WAQT HI HA JIS KI GARDISH ME A KAR RISHTY BANTY AUR KHATAM HOTY HA. SAALA YE WAQT BARA HI BE REHAM HA. AGAR YE NA HO MARI ZINDAGI ME SUKOON HI SUKOON HO.WASY ZINDAGI HA TO WAQT TO HO GA HI, YE BHI BAT HA SACHCHI. AGAR ZINDAGI NAHI HO GE TO YE WAQT BHI NAHI HO GA. TO YE ZINDAGI HI NA HO, YE KEHNA BEHTAR RAHY GA. YAHI NA HO TO KOI MUSHKIL NA BANY, NA RAHY.

فلسفی اسپنزا نے مثال دی تھی کی اگر کسی اینٹ کو ہوا میں پھینک دیا جائے اور متحرک اینٹ سے پوچھا جائے کہ کیا کر رہی ہو تو وہ یہی کہے گی کہ میں اپنی مرضی سے نہیں جا رہی ہوں۔ یہی حال انسانوں کا ہے۔ ہم جو کچھ بھی کر رہیں اور جس حال میں ہیں، اسکا سبب وہ واقعات اور حالات ہیں جن پر ہمارا قابو نہیں، جن کی رو ہمیں بہا لے جارہی ہے۔ ہم پر طرح طرح کے دباؤ ہیں، ہم مجبور ہین اور پھر زندگی کا کوئی خاص فارمولا تو ہوتا نہیں۔ کسی خوشبو کا ہلکا سا جھونکا، کسی رنگ کی جھلک، کوئی نغمہ ۔۔۔ یہ بڑے ظالم ہوسکتے ہیں، بھولی بسری یادیں دفعتاً تازہ ہو جاتی ہیں۔ کبھی یہ خعشگوار ہوتی ہیں، کبھی از حد کربناک۔
والسلام!

کتنی مشکل زندگی ہے! کس قدر آساں ہے موت

آہ١ یہ دنیا، یہ ماتم خانہِ برنا و پیر

آدمی ہے کس طلسمِ دوش و فردا میں اسیر

کتنی مشکل زندگی ہے! کس قدر آساں ہے موت

گلشنِ ہستی میں مانند نسیمِ ارزاں ہے موت

زلزلے ہیں، بجلیاں ہیں، قحط ہیں، آلام ہیں

کیسی کیسی دخترانِ مادرِ ایام ہیں

کلبہِ افلاس میں، دولت کے کاشانے میں موت

دشت ودرمیں،شہر میں،گلشن میں،ویرانےمیں موت

موت ہے ہنگامہ آرا قلزمِ خاموش میں

ڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میں

ختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھی

ہیں پسِ نہ پردہِ گردوں ابھی دور اور بھی ہیں

-۔۔ علامہ اقبال ۔ بانگِ درا ۔۔

heart attack

I want to write few words from one of my prev. post: “…….Is kaainat main kub saare sawalon ke jawab milte hain. Koi formula nahi chalta. Kisi mantiq ki chul theek nahi bethti. Hum saari zindagi jaanne ki tag-o-do main lage rehte hain magar saara kuch is dil ke maanne se hai. Agar dil ko qarar aa jaaye to koi maujiza naqabile yaqeen nahi rehta. Kuch bhi namumkin nahi rehta. Falsafa chale na chale magar jo baat, jo cheez is dil ki dharkan ki ley(tune) se murtaish (vibrate) ho jaaye – wahi haq, wahi sach ! Sala ye kambakht dil !!..”

Pain was so severe that night, savage heart
wanted to confront each vein
diaphoresed from each sweat gland

(my heart was)
Like far at your patio
each petal washed in my despondent blood
appear morose with grace of moonlite glow

Like in my deserted body
tents of all aching threads openly
start giving signs serially (of)
farewell of (my) passions’ flock

And when appeared somewhere under smoldering lites of remembrance
one last moment of your affection
pain was so intense that (heart) wanted to pass it on

We did want to stay though, heart did not desire so

zindagi har roz class lyti ha

bara dushwar hota ha, zara sa Faisla karna, K Zindagi ki kahani ko, Biyan-o-bazabnko, kaha sa yad rakhna ha, kaha se bhol jana ha, kisy kitna batana ha, ki say kitna chupana ha, kaha hans hans k rona ha, kaha ro ro k hansna ha, kaha awaz daini ha, kaha khamosh rehna ha, kaha rasta badalna ha, kaha sy lot ana ha. bara dushwar hota ha, zara sa faisla karna.

بڑا دشوار ہوتا ہے

ذرا سا فیصلہ کرنا

کہ جیون کی کہانی کو

بیانِ بے زبانی کو

کہاں سے یاد رکھنا ہے

کہاں سے بھول جانا ہے

اِسے کتنا بتانا ہے

اِسے کتنا چھپانا ہے

کہاں رو رو کے ہنسنا ہے

کہاں ہنس ہنس کے رونا ہے

کہاں آواز دینی ہے

کہاں خاموش رہنا ہے

کہاں رَستہ بدلنا ہے

کہاں سے لوَٹ آنا ہے

(سلیم کوثر)

Habib Jalib’s Mainay Uss Say Yeh Kaha

میں نے اس سے یہ کہا

یہ جو دس کروڑ ہیں

جہل کا نچوڑ ہیں

ان کی فکر سو گئی

ہر امید کی کرن

ظلمتوں میں کھو گئی

یہ خبر درست ہے

ان کی موت ہوگئی

بے شعور لوگ ہیں

زندگی کا روگ ہیں

اور تیرے پاس ہے

ان کے درد کی دوا

حبیب جالب کی یہ نظم کچھ حسبِ موقع لگی ہے۔

پہاڑ

ان پہاڑوں کو ديکھوں ،بعضوں کي چوٹياں آسمان سے باتيں کرتي ہيں۔ کيا باتيں کرتي ہيں؟ يہ کسي نے نہيں سنا۔پہاڑوں کے اندر کيا ہوتا ہے؟ معلوم نہيں ۔بعض اوقات پہاڑ کو کھودو تو اندر سے چوہا نکلتا ہے۔بعض اوقات چوہا بھي نہيں نکلتا ۔جس پہاڑ ميں سے چوہا نکلے اسے غنيمت جاننا چاہئيے۔

جو لوگ پہاڑوں پر رہتے ہيں ان کو گرم کپڑے تو ضرور بنوائے پڑتے ہيں ليکن ويسے کئي فائدے بھي ہيں ۔پہاڑوں پر برف جمي ہے جو ان لوگوں کو مفت مل جاتي ہے۔جتنا جي چاہے پاني ميں ڈال کر پيئيں ۔برف ميں رہنے والوں کو ريفريجريٹر بھي نہيں خريدنے پڑتے پيسے بچتے ہيں۔

پہاڑ پتھروں کےبنے ہوتے ہيں۔ پتھر بہت سخت ہوتے ہيں ۔جس طرح محبوبوں کے دل سخت ہوتے ہيں ۔فرق يہ ہے کہ کبھي کبھي پتھر موم بھي ہو جاتے ہيں۔جو پہاڑ بہت بلندي دکھاتے ہيں ان کو کاٹتے ہيں اور کاٹ کر ان کے پتھر سڑکوں پر بچھاتے ہيں لوگ انہيں جوتوں سے پامال کرتے گزرتے ہيں ۔ جو پتھر زيادہ سختي دکھائيں وھ چکي ميں پستے ہيں ۔ سرمہ بن جاتے ہيں ۔سارا پتھر پن بھول جاتے ہيں۔

۔۔۔کون ہو سکتا ہے ۔۔۔ابن انشاء ۔۔۔ کے علاوہ ۔۔۔

anger result

secanger
When we consciously choose a core heart feeling over a negative feeling, we effectively intercept the physiological stress response that drains and damages our systems and allow the body’s natural regenerative capacities to work for us. Instead of being taxed and depleted, our mental and emotional systems are renewed. As a consequence, they are better able to ward off future “energy eaters” like stress, anxiety and anger before they take hold.