مجھے افغانستان اور وہاں کے لوگون سے نفرت ہے .

It is a failed state. Rampant corruption, almost no electricity, no government control, warlords, and Taliban extremism. If the kids are girls, they have almost no chance of an education without bombings, teacher killings, and acid attacks. Taliban Law is in effect in many parts of the country and there are shadow governors in most of the provinces. Taliban justice prevails, which is as severe as can be and involves stoning a woman for adultery or rape (to avoid being stoned the woman needs male witnesses otherwise rape is classified as adultery).

مصنوعی آفات

قرب قیامت کی نشانیاں چونکہ ہورہی ہیں تو ہمیں اب یہ نہی دیکھنا چاہیے کہ کون کررہا ہے بلکہ دیکھنا پڑے گا کہ نشانیاں وقوع پذیر ہوگئ ہیں اور ہورہی ہیں

کہ جب بھی امریکی خلائی جہاز

 جب بھی امریکی خلائی جہاز X37B کو خلا میں بھیجا جاتا ہے دُنیا میں کہیں نہ کہیں قدرتی آفات آجاتی ہیں۔ پچھلے سال 22 اپریل 2010ء کو یہ جہاز 9 ماہ کے لئے خلیج فارس، افغانستان، پاکستان اور آبنائے کوریا کی جاسوسی اور ضرورت پڑنے پر کسی جگہ حملہ کرنے کے لئے خلاء میں لانچ کیا گیا، پھر بھی اس خلائی جہاز سے ہارپ کی تکنالوجی کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے قدرتی آفات مصنوعی طور پر لائی جاسکتی ہیں۔ خلاء میں بھیجا گیا تھا تو 26 جولائی 2010ء کو پاکستان غیرمعمولی مون سون مغرب اور مشرق سے اور اپنے ساتھ بے پناہ تباہی لے کر آئیں۔ پاکستان کا 43 بلین سے نقصان ہوا، اموات دو ہزار سے اوپر تھیں اور تقریباً پاکستان کا پانچ واں حصہ پانی میں ڈوب گیا تھا مگر خیر یہ ہوئی کہ پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام اس وقت بھی محفوظ رہا اور 2005ء کے زلزلہ بھی اللہ کی مہربانی سے محفوظ رہا۔ اگرچہ یہ زلزلہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں پیش آیا۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ مصنوعی تھا اور ہارپ کی تکنالوجی استعمال کرکے کیا گیا تھا، کچھ کا یہ خیال بھی ہے کہ وہ شاید کسی طاقت کو یہ خیال تھا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات ان پہاڑوں میں چھپے ہوئے ہیں پھر خوشاب کےایٹمی ری ایکٹرز ممکن ہے کہ سیلاب کا ہدف ہوں کیونکہ اب جاپان کے زلزلہ اور سونامی پر جو کہ 11 مارچ 2011ء کو درپیش ہوا کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ بھی مصنوعی ہے اور امریکہ خلائی جہاز X37B پانچ مارچ 2011ء کو خلاء میں چھوڑا گیا، اُس کے ٹھیک 6 روز بعد یہ حادثہ رونما ہوا، اس سے جاپان کے تین ایٹمی ری ایکٹرز متاثر ہوگئے ہیں اور اُن سے تابکاری اثرات خارج ہونا شروع ہوگیا ہے۔ اس پر انگلیاں امریکہ کی طرف ہی اٹھتی نظر آئی ہے کیونکہ یہ خبر ہے کہ جاپانی کئی دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر یہ کوشش کررہا تھا کہ ”ڈالرز“ کو لین دین کی کرنسی کے طور پر ختم کرکے ایک نئی کرنسی کو جنم دیا جائے اور جاپان کا شہنشاہ چین کے صدر سے تین مرتبہ مل چکا ہے۔ NibiraTV کی خبر کے مطابق جاپان کے سابق وزیر خزانہ ہیزل ٹاکاناکا کو یہ دھمکی دی گئی تھی کہ وہ اپنا مالی نظام امریکہ کے حوالے کردے ورنہ اس پر زلزلہ سے حملہ کردیا جائے گا۔ یہ خبر ”یو ٹیوب“ پر بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ اگر یہ خبر صحیح ہے تو پھر امریکہ کے عزائم تو یہی ہیں کہ دُنیا میں وہ اپنی بالادستی قائم رکھے گا اور کسی اور طاقت یا طاقتوں کے گروپ کو اُس کی بالادستی کو چیلنج کرنے نہیں دے گا۔ اس نے اس کے لئے دنیا بھر کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں مار دھاڑ کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ابھی اس کا ہدف صرف مسلمان ممالک رہے ہیں کیونکہ بہت کمزور ہیں اور دولت مند بھی اور جرم ضعیفی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ پھر اسلامی ممالک میں حکومت کی تبدیلی کی لہر کو جنم دیا ہے۔ صرف لیبیا نے اس کی مزاحمت کی ورنہ مصر میں حسنی مبارک تو چلے گئے مگر فوج اقتدار پر قابض ہوگئی جو امریکہ کے لئے زیادہ سودمند ہے۔ اس پر دنیا کے اکثر دانشور یہ کہتے ہیں کہ امریکہ کا یہ رویہ سیاسی عزائم کی وجہ سے ہے نہ کہ مذہبی رجحانات کی وجہ سے۔ دنیا کو بہرحال یہ طے کرنا پڑے گا کہ پاکستان کا 2005ء کا زلزلہ اور 2010ء کا سیلاب اور انڈونیشیا کا سونامی اور اب گیارہ مارچ 2011ء کا زلزلہ اور سونامی مصنوعی تھا یا قدرتی۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ قدرتی حادثات تھے تو امریکی یہ کیوں کہتے ہیں کہ موسم میں ایسے تغیرات لا ئے جا سکتے ہیں جو بارش برسا سکتے ہیں اور زلزلہ لاسکتے ہیں یا کسی جہاز کے انجن کو کسی خاص جگہ سے 250 کلومیٹر پہلے ہی ایک چھوٹی سی شعاع سے پگلا یا جاسکتاہے، کسی خاص ملک خطہ یا علاقے کے گرد شعاعوں کا دیوار چین جیسا حصار قائم کرسکتا ہے مگر معروف امریکی سائنسدانوں نے اس نظریہ کو یہ کہ کر مشہور نہیں ہونے دیا کہ اُن کے نظریہ کو قبول کرلیا جائے تو کرئہ ارض کو توڑ دے گامگر امریکی حکومت نے اُن کے نظریہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پینٹاگون کو ذمہ داری سونپی۔

پینٹاگون نے الاسکا سے 200 میل دور ایک انتہائی طاقتور ٹرانسمیٹر نصب کیا۔ 23 ایکڑ پلاٹ پر 180 ٹاورز پر 72 میٹر لمبے انٹینا نصب کئے جس کے ذریعہ تین بلین واٹ کی طاقت کی (Electromagnetic Wave) 2.5-10 میگا ہرٹز کی فریکوئنسی سے چھوڑی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکن اسٹار وارز اور موسمی تغیرات پیدا کرنے کیلئے ایک کم مگر طے شدہ کرئہ ارض کے فضائی تہوں میں کہیں بھی جہاں موسمی تغیر لانا ہو سے وہ الاسکا کے اس اسٹیشن سے ڈالی جاسکتی ہے جو کئی سو میلوں کی قطر میں موسمی اصلاح کرسکتی ہے۔ امریکہ میں کسی بھی ایجاد کو رجسٹر کرانا ضروری ہے اور اس میں اُس کا مقصد اور اُس کی تشریح کرنا ضروری ہے چنانچہ HARRP کا پنٹنٹ نمبر 4,686,605 ہے۔ اس کے تنقید نگار نے اس کا نام جلتی ہوئی شعاعی بندوق رکھا ہے۔ اِس پنٹنٹ کے مطابق یہ ایسا طریقہ اور آلہ ہے جو کرئہ ارض کے کسی خطہ میں موسمیاتی تغیر پیدا کردے اور ایسے جدید میزائل اور جہازوں کو روک دے یا اُن کا راستہ بدل دے، کسی پارٹی کے مواصلاتی نظام میں مداخلت کرے یا اپنا نظام مسلط کردے۔ دوسروں کے انٹیلی جنس سگنل کو قابو میں کرے اور میزائل یا ایئر کرافٹ کو تباہ کردے۔ راستہ موڑ دے یا اس کو غیر موثر کردے یا کسی جہاز کو اونچائی پر لے جائے یہ نیچے لے آئے۔ اس کا طریقہ یہ پنٹنٹ میں یہ لکھا ہے کہ ایک یا زیادہ ذرات کا مرغولہ بنا کر بالائی کرہ ارض کے قرینہ یا سانچے (Pattern) میں ڈال دے تو اس میں موسم میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ اس کو موسمی اصلاح کا نام دیا گیا۔ پنٹنٹ کے مطابق موسم میں شدت لانا یا تیزی یا گھٹنا، مصنوعی حدت پیدا کرنا، اس طرح بالائی کرئہ ارض میں تبدیلی لا کر طوفانی سانچہ یا سورج کی شعاعوں کو جذب کرنے کے قرینے کو تبدیل کیا جاسکتا ہے اور اس طرح وہ زمین کے کسی خطہ پر انتہائی سورج کی روشنی، حدت کو ڈالا جاسکتا ہے۔
ایسا بھی کیوں ہے کہ 1970ء میں بززنسکی نے جہاں یہ کہا تھا کہ وہ دنیا کے طاقت کے محور کو امریکہ لے گئے ہیں اور اب کبھی یورو ایشیا میں نہیں آنے دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ زیادہ قابومیں رہنے والی اور ہدایت کے مطابق چلنے والی سوسائٹی ، امریکی ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے ابھرے گی اور معاشرہ یا اس کرہ ارض کے لوگ اُن لوگوں کے حکم پر چلیں گے جو زیادہ سائنسی علم رکھتے ہوں گے۔ آج ”امراء“ سامنے آرہے ہیں اور سائنس کو بروئے کار لا کر زلزلے، سونامی، موسم میں تغیر، جہازوں کے راستے، جہازوں کو گرایا جارہا ہے اور سیلاب لائے جارہے ہیں۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ نے جاپان پر دوسرا ایٹمی حملہ کردیا ہے nibiruTV کے اینکر نے کہا کہ الاسکا میں موجود زلزلہ اور سونامی لانے والے اسٹیشن کو امریکی فضائیہ تباہ کردے جس سے اب تک پانچ لاکھ سے اوپر افراد مارے جاچکے ہیں۔

قُربِ قیامت کی علامات میں سے میں نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام ، یأجوج ومأجوج کی آمد اور دجّال کی آمد ہے۔ پہلے دجّال کو بھیجا جائے گا اس کے بعدعیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر اسے قتل کریں گے پھر یأجوج ومأجوج کی آمد ہوگی۔ یہ تووہ طے شُدہ ہیں یعنی قیامت کب آئے گی معلوم نہیں لیکن اللہ سوہنے نے واضح نشانیاں بتا دی ہیں ہیں قتل وغارت وبے حیائی عام ہو گی، بیٹیاں خودسے برمانگین گی، مسجدیں ہوں گی لیکن نمازی نہیں و دیگراور سب سے بڑھ کر اب کہ اِن مصنوعی آفات کوقُدرتی آفات کے قریب تر لیجانا یعنی انسانی کاوش کو اللہ کا کام کہنا بھیدُرست فعل نہیں ہے۔ لیکن کہیں ایسا نہیں لکھا کہ مصنوعی آفات کے پیشِ نظرقیامت آئے گی۔

ye mahaloN ye taKhtoN ye taajoN ki duniya

Going over the list of posted songs and nazms, I was surprised to see I hadn’t posted this song yet on this site.  This happens to be one of my favourite songs from one of my favourite movies ever, Pyaasa (Guru Dutt).  The song is simply amazing!  I think it fits in nicely with my recent posts regarding patriotic/nationalist songs by Sahir.

Enjoy the song, a video, courtesy the amazing posters at youtube, is posted below as well.

ye mahloN, ye taKhtoN, ye taajoN ki duniya
ye insaaN ke dushman, samaajoN ki duniya
ye daulat ke bhuukhe, rivaajoN ki duniyaa
ye duniyaa agar mil bhi jaaye to kyaa hai
ye duniyaa agar mil bhi jaaye to kyaa hai

har ik jism ghaayal, har ik ruuh pyaasii
nigaahoN me uljhan, diloN meiN udaasi
ye duniyaa hai yaa aalam-e-badhavaasii
ye duniyaa agar mil bhi jaaye to kyaa hai

jahaaN ik khilona hai insaaN ki hastii
ye bastii hai murda-parastoN ki bastii
yahaaN par to jeevan se hai maut sastii
ye duniyaa agar mil bhi jaaye to kyaa hai

javaani bhaTaktii hai bezaar bankar
javaaN jism sajate haiN baazaar bankar
jahaaN pyaar hota hai vyopaar bankar
ye duniyaa agar mil bhi jaaye to kyaa hai

ye duniyaa jahaaN aadmi kuchh nahiiN hai
vafaa kuchh nahiiN, dostii kuchh nahiiN hai
jahaaN pyaar ki qadr hi kuchh nahiiN hai
ye duniyaa agar mil bhi jaaye to kyaa hai

jalaa do ise  phuuNk DaaloN ye duniyaa
jalaa do jalaa do
jalaa do ise phuuNk DaaloN ye duniyaa
mere saamne se haTaa lo ye duniyaa
tumhaari hai tum hi sambhaalo ye duniyaa
ye duniyaa agar mil bhi jaaye to kyaa hai

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا ، عام دیدار یار ہو گا
سکوت تھا پردہ دار جس کا ، وہ راز اب آشکار ہوگا

گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہان مے خانہ ، ہر کوئی بادہ خوار ہو گا

کبھی جو آوارۂ جنوں تھے ، وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہو گا

سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا ، پھر استوار ہو گا

نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے ، وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا

کیا مرا تذکرہ جوساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میں
تو پیر میخانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے ، خوار ہو گا

دیار مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو ، وہ اب زر کم عیار ہو گا

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جوشاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپائدار ہو گا

سفینۂ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا

چمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو
یہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہو گا

جو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایا
یہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہو گا

کہا جوقمری سے میں نے اک دن ، یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
توغنچے کہنے لگے ، ہمارے چمن کا یہ رازدار ہو گا

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں ، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

یہ رسم بزم فنا ہے اے دل! گناہ ہے جنبش نظر بھی
رہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہو گا

میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شررفشاں ہوگی آہ میری ، نفس مرا شعلہ بار ہو گا

نہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدعا تیری زندگی کا
تو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہو گا

نہ پوچھ اقبال کا ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہو گا

بنگال کی نوابی سے پاکستان کی گورنر جنرلی

برصغیر کی گزشتہ ہزار سالہ تاریخ میں ہمیشہ ایک دہائی اہم رہی، وُہ ہرصدی کی ساٹھویں دہائی تھی۔

 

الپتگین کو سامانی حکمرانوں نے 950ءمیں اقتدار عطاءکیا۔ جس نے ہندوستان کے نئے دور کی بنیاد رکھی۔ سبکتگین اور محمود غزنوی اسی سلسلہ کی کڑی بنے۔غزنوی خاندان نے نوشتگن کو1052ءمیںہندوستان کا باضابطہ سرکاری حاکم مقرر کیا۔1151ءمیں غزنی کی بربادی غوری اقتدار کا اعلان تھا۔ خاندانِ غلاماں کے دور میں بلبن نے 1257ءمیںہلاکو خان کو بدترین شکست دی۔جس نے دِلی میں مسلمان اقتدار کو ایک نیا دوام بخشا۔1351 ءمیں محمد بن تغلق کی وفات کے بعد ہندوستان کی تاریخ میں فیروز شاہ تغلق کا ایک طویل رفاہی دور شروع ہوا۔1451ءمیں لودھی خاندان برسر اقتدار آیا تو پہلی مرتبہ ہندوستان میں پٹھان اقتدار کو دوام نصیب ہوا۔ 1557ءمیں مغلوں کوہندوستان میں مستقل اقتدار حاصل ہوا۔1657ءمیں ہندوستان کی مشہور زمانہ تخت نشینی کی ایسی جنگ چھڑی ۔ جس میں شہزادے بھائی قتل ہوئے،بادشاہ باپ قید ہوا۔دو بہنوں(جہاں آراءاور روشن آراء) کی جنگ نے مغل استحکام کی بنیادیں کمزور کر ڈالی۔1757 ءہماری تاریخ میں وُہ فیصلہ کن موڑ تھا۔ جس نے انگریزوں کو معاشی اور انتظامی استحکام بخشا اور دو صدیوں کے اقتدا ر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ 1857ءہماری نااہلی اور کوتاہیوں کی کوتاہ اندیشی کاانجام تھا۔ 1947ءاس ترتیب سے شائید کچھ ہٹ کر اہم واقعہ ہو گیا۔ مگر-ء1955-58 کا عرصہ ہماری تاریخ کو 1757ءکی کڑی سے ایک بار پھر ملاتا ہے۔

جنگ پلاسی1757ء کوئی بڑا معرکہ نہ تھا۔ مگر اس کی اہمیت ایسی ہے۔ جیسے ہماری تاریخ، تہذیب اور ثقافت پر کوئی بڑا ہی زہر آلود گھاﺅ لگا ہو۔ جس نے رفتہ رفتہ سرطان(کینسر) کے مرض کی صورت اختیار کر لی اور ہمارے تاریخی تسلسل کو موت کی گہری نیند سلایا۔

 

اس جنگ سے قبل فرانسیسی اور برطانوی تجارتی کمپنیوں کے مابین ہندوستان کی سیاست میں کشمکش جاری تھی۔ جن میںفرانسیسی ”ڈوپلے“ کے باعث طاقتور حریف تھے۔ مگر جنگ پلاسی نے فرانسیسی اقتدار کے خواب کا ہمیشہ کے لیے نہ صرف خاتمہ کیا۔ بلکہ بنگال کی معیشت برطانوی اقتدار کا سرچشمہ بنی۔ یہ دولت ہندوستان میں کمپنی ملازمین کوچند برسوں میںمالدار کرتی، غدار خریدتی، زیادہ تنخواہ پر ہندوستانی فوج میں بھرتی کرتی، دولت فرنگستان بھی بھیجی جاتی تھی۔

 

آج ہم پیسے کے پُتر ہونے کو لعن طعن کرتے ہیں۔ زیادہ تنخواہ کے لالچ میں صدیوں پہلے لاکھوں ہندوستانی برطانوی فوج کا حصّہ بنے اور ہندوستان کا قبضہ انگریز کے لیے ممکن ہوا۔ سینکڑوں ہندوستانی ریاستیںچڑھتے سور ج کی پجاری رہی۔ اِن میں سے کچھ وہی کمپنی مہاراج کے مِتر تھے، جنھوں نے 1857ءکی جنگ آزادی میں حصّہ اپنی اپنی محرومیوں اور خودداریوں کے لیے لیا۔ اِس تحریک کو دفن کرنے والوں میں ہندوستانی بھی شامل تھے۔

 

2000ءمیں ایک کتاب”From Plassy to Pakistan”امریکی ریاست میری لینڈ سے چھپی۔ جس کا مصنف میرہمایوں مرزا تھا۔ جو تیس برس تک ورلڈ بینک میں وائس پریذیڈینٹ کے سنیئر ایڈوائیزر رہے اور1988ءمیں ریٹائرڈ ہوئے۔ ان کا بڑا اہم تعارف یہ تھا کہ یہ پاکستان کے پہلے صدر میجر جنرل میرسید سکندر علی مرزا کے برخوردار ہے۔جو پاکستان کے58-1955ءمیںحکمران تھے۔اس کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصہ میں خاندانی پس منظر ہے۔ جو کہ 1757ءسے لیکربیسویں صدی کے آغاز تک ہے۔ جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ سکندر مرزاکا سلسلہ ء نسب1757ءکی جنگ پلاسی کے اہم کردار اوربنگال کے نواب میر جعفر سے ملتا ہے۔دوسرے حصہ میں سکندر مرزا اور ہمایوں مرزا کی یاداشتوں کا تذکرہ ہے۔

 

آج سے دس برس قبل جب میں نے یہ سنا تھا تو میرے لیے یہ بات من و عن قبول کرنے کے لیے کافی نہ تھی۔ میں نے خود اس صحت کو جانچنے کے لیے تلاش جاری رکھی۔ کئی مقامات پر تاریخ میں گھناﺅنے کھیل دیکھے۔ یہ بات درست ثابت ہوئی کہ ہم سات نسلوں سے غلام چلے آرہے ہیں۔ سکندر مرزا کی آٹھویں پشت میر جعفر سے ملتی ہے۔ اس کے لیے نجفی خاندان (میر جعفر کا خاندان) کا مستند شجرہ درکار تھا۔

 

کچھ سوال بھی ذہن میں اُبھرے۔ میر جعفر کا خاندان کہاں سے آیا؟ پس منظر کیا تھا؟ مرزا ، میر اور سید خطابات یکساں کیوں استعمال ہوئے؟ 1757 ءکے بعد یہ خاندان کہاں رہا؟ یہ خاندان نجفی کیوں کہلاتا ہے؟

 

جب کچھ خاندان اقتدار میں آتے ہیں تو اُنکا کچھ پس منظر بھی تاریخ میں شامل ہو جاتا ہے۔ میر جعفر کے دادا کا نام سید حسین نجفی تھا۔ جو نجف سے آبائی تعلق رکھتے تھے اور روضہ حضرت علی ؓ کے خادم ِ نگران تھے۔ کہتے ہیں کہ اورنگ زیب عالمگیر شہنشاہ ہندوستان 1677ءمیں جب حج پر مکہ گیا تو سید حسین نجفی کو ہندوستان لایا۔ اور اِس کے علم سے متاثر ہوا۔ مجھے ابھی تک ایسا کوئی تاریخی حوالہ نہیں مل سکا۔مگرایسا ضرو ر ہے کہ یہ خاندان عہد عالمگیری میں دلی آیا اور شاہی ملازمت اختیار کی۔ پھر مزید یہ لکھا گیا کہ شاہی خاندان کے امور کا منتظم بنایا تھا۔مگر اس خاندان کے حوالے سے کچھ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ بعد میں یہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ عالمگیری دور میں ہوئے۔ اس دعوٰی میںکمزوری محسوس ہوتی ہے۔ سید حسین نجفی مسلکی اعتبار سے شیعہ تھے۔اور رنگ زیب شیعہ مسلک کے لیے سخت ردّعمل رکھتا تھا۔ جب بنگال میں اُسکے بھائی شجاع نے شیعہ مسلک اختیار کیا تو اور نگ زیب کا رویہ شجاع کے اقتدار کے لیے نرم نہ تھا۔

 

مغل دور میں اکبر بادشاہ کے اتالیق بیرم خان نے ایک شیعہ شیخ گدائی کمبوہ کوصدر الصدور (چیف جسٹس آف سپریم کورٹ، یہ عہدہ قاضی القضاة سے اُوپر ہوتا تھا، یہ عہدہ 1247ءمیں التمش کے بیٹے سلطان ناصر الدین نے متعارف کروایا تھا۔)مقرر کیا تو اُسکو شدید مزاحمت کا سامنا ہوامزید اقتدار بھی اُسکے ہاتھ سے رخصت ہوا تھا۔مغلیہ خاندانی پس منظراورمزاج ِ عالمگیری کے مطابق یہ دعوٰ ی باطل دکھائی دیتا ہے۔ (نوٹ: عالمگیر کی وفات کے بعد اُسکے بیٹے معظم نے شیعہ علماءکی حمایت کی تھی۔)

 

میر جعفر کا خاندان اپنا مزید قریبی تعلق مغلوں سے منسلک کرنے کے لیے ایک دعوی مزید رکھتے ہیں۔ سید حسین نجفی کے بیٹے سید احمد نجفی سے شہزادہ دارا الشّکوہ کی ایک بیٹی بیاہی گئی۔ جس سے سید محمد نجفی سرکاری نام میر جعفر علی خان کی پیدائش1691ءمیں ہوئی۔ ایک بے بنیاد دعوی ہے۔اس دعوی کا مقصد خود کو شاہجہاں کا وارث ثابت کرنے کے سواءکچھ نہیں ہوسکتا۔

 

بیشک مغلوں میں کچھ شادیاں شیعہ مسلک میں سیاسی مصلحت کے تحت ہوتی رہی مگر وُہ ایران کے شاہی خاندان سے منسلک تھی۔ اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں شہزادیوں کا بیاہ جانا بھی ایک اور انداز اختیار کر گیا تھا۔ اسکے لیے پہلے میںاورنگزیب کے تمام بھائیوں کی اُولادوں کا ذکر کروں گا۔ پھر اس نکتہ پر بات باآسانی واضح ہوجائے گی۔

 

شاہجہاں کے ولی عہد بیٹے دارالشکوہ کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔ سلیمان شکوہ،سپہرشکوہ،مہر شکوہ اور ممتاز شکوہ ۔تاریخ میں دارا کی ایک ہی بیٹی کا ذکر ملتا ہے۔ جو حیات بھی رہی۔جہانزیب بیگم عرف جانی بیگم، یہ شہزادی شاہجہاں کی چہیتی پوتی بھی تھی۔دارا کی بڑی بیٹی1634ءمیں نادرہ بیگم(شاہجہاں کے سب سے بڑے بھائی کی بیٹی) کےاورشہزادہ ممتاز شکوہ نے بھی کم عمری میں دُنیا سے کو چھوڑا۔ دارا لشکوہ کے تین بچے زندہ رہے۔سلیمان شکوہ،سپہرشکوہ، جہانزیب بیگم

 

شاہ شجاع حاکم بنگا ل تھا اور دارا لشکوہ سے چھوٹا تھا۔اس کے تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں۔اس کے تینوںبیٹے زین الدین محمد،زین العابدین،بلند اختر اور ”پیاری بیگم(بیوی شاہ شجاع)“ سے دو بیٹیوں کو راجا اراکان کے حکم سے جولائی1663ءمیں بمقام مروہاﺅنگ میں قتل کر دیا گیا۔دلپذیربانو بیگم کا بچپن میں انتقال ہوا۔گل رُخ بانو بیگم1659ءمیںشہزادی آمنہ بیگم بھی شجاع کی چہیتی بیوی ”پیاری بیگم“ سے تھی اور1660ءمیں اراکان کے بادشاہ نے شجاع کے خاندان میں سب سے پہلے اس کو اپنے حرم میں داخل کیا اور 1666ءمیں بادشاہ اراکان سنداتھواما نے قتل کروا ڈالی۔ لہذا شجاع کی تمام اولاد، بیگمات مروہاﺅنگ میں قتل ہوگئیں۔

 

اورنگ زیب کی تین بڑی بیٹیاں زیب االنساء، زینت النساءاوربدر النساءغیر شادی شدہ فوت ہوئیں۔( زیب النساءنے 1702میں وفات پائی، دلی میں اس کا مقبرہ تھا،شہر لاہوربمقام سمن آباد میں جو مقبرہ اس کے نام سے منسوب ہے ، وُہ مناسب ثبوت نہیں رکھتا۔) باقی بیٹیوں میں مہر النساء، زبدةالنساءاورحجةالنساءتھیں اور محمد مرزا، محمد سلطان مرزا،محمد معظم،محمداعظم شاہ، محمد اکبر اور کام بخش بیٹے تھے۔محمد مرزا نے1665ءمیں وفات پائی تھی۔اورنگزیب کے سات بچوں کی نسل باقی رہی۔ مہر النساء، زبدةالنساء،سلطان مرزا،محمد معظم،محمداعظم شاہ، محمد اکبر اور کام بخش

 

مراد گجرات کا حاکم تھا اور سب سے چھوٹا بھائی تھا۔ سلطان یارمحمد اور ایزد بخش دو بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔بڑی بیٹی بلخ کے پیرزادہ سے بیاہی گئی۔ اس کے علاوہ دوستدار بانو بیگم، شہزادی عائشہ بانو بیگم اور شہزادی ہمراز بانو بیگم تھیں۔

 

دارالشکوہ کومرتد قرار دیکر60-1659 ءمیں قتل کر دیا گیا، مراد کے ذمہ دیوانِ گجرات  کا قتل ٹھہرا جس میںاُس کو 1660ءمیں سزائے موت ہوئی۔شجاع کو1661ءمیں اراکان کے بادشاہ نے قتل کروایا۔

 

مغل تاریخ میں واحد مثال ہے کہ اورنگزیب نے اپنے مقتول بھائیوں کے زخموں کو بھرا۔ اپنی نگرانی میں اپنے بچوں کی طرح شاہی محل میں پرورش اور تربیت کی۔مزید اپنے بھائیوں کے بچوں میں ہی شادیاں کیں۔

 

سلیمان شکوہ جانشینی کی جنگ میں اپنے باپ دارا کا دستِ راز تھا۔ لہذا گوالیار کے قلعہ میں بحالت قید مرا۔ سلیمان شکوہ کی دو بیٹیاں تھیں۔چھوٹی بیٹی نواب فاطمہ بانو بیگم کا بیاہ خواجہ بہاﺅ ولد خواجہ پارسا سے 1678ءمیںہوا،1706ءمیں وفات پائی۔ بڑی بیٹی سلیمہ بیگم اور نگ زیب کے بیٹے محمد اکبر سے 1672ءمیںبیاہی گئی۔ جس نے اپنے باپ کے خلاف بغاوت کی اور ناکام ہوکر ایران بھاگا جہاں 1702ءمیں اُس نے وفات پائی۔ جس کے متعلق اورنگ زیب نے کہا تھا۔”میں انتظار کروں گا کہ ہم دونوں میںسے پہلے کون مرے گا۔“ ان دونوں سے پیدا ہونے والا لڑکا نیکو سئیر تھا۔ جو 1681-1721 تک قید میں رہا اور بحالت قید مرا۔1719ءمیں اس شہزادہ کو چند ماہ کی بادشاہت نصیب ہوئی مگر پھر قید میں ڈال دیا گیا۔

 

سلطان سپہر شکوہ کی شادی اورنگزیب کی بیٹی زبدةالنساءسے1673ءمیں ہوئی۔ جس سے شہزادہ عالی تبار 1676ءمیں پیدا ہوا۔سپہر شکوہ نے 1707ءمیں ترپن برس کی عمر میں وفات پائی۔ مزید زبدة النساءنے بھی اسی برس عالمگیر کی وفات سے قبل داعی اجل کو لبیک کہا۔

 

دارالشکوہ کی اکلوتی بیٹی جہانزیب(جانی) بیگم کی شادی اورنگ زیب کے بڑ ے بیٹے محمد اعظم شاہ سے1669ءمیں ہوئی۔ یہ شہزادی عالمگیر کی وفات کے تین ماہ بعد تک ملکہ ہندوستان بھی رہی۔

 

مراد کا بیٹاسلطان یار محمد 1646ءمیں وفات پا گیا تھا۔ ایزاد بخش عالمگیر بادشاہ کی بیٹی مہرالنساءسے 1672ءمیںبیاہا گیا اور 1709ءکو دُنیا سے رخصت ہوا۔ ان سے شہزادہ دیدار بخش اور داور بخش پیدا ہوئے۔دیدار بخش کی پوتی شہزادی عفت النساءتھی۔جو پہلے نصر اللہ مرزا سے بیاہی گئی اور اُنکی وفات کے بعد بادشاہ کابل احمد شاہ ابدالی کے عقد میں آئی۔

 

شہزادی عائشہ بانو بیگم کی 1672ءمیں خواجہ صالح اورشہزادی ہمراز بانو بیگم کی 1678ءمیں خواجہ صالح کے چھوٹے بھائی خواجہ یعقوب سے میںشادی ہوئی۔شہزادی دوستدار بانو بیگم 1672ء میںعالمگیر بادشاہ کے بیٹے سلطان محمد کی تیسری بیوی بنی۔ جبکہ اسی شہزادہ کی دوسری بیوی شجاع کی بیٹی گل رُخ تھی ۔

 

موضوع سے ہٹ کر اتنی طویل خشک بحث کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ مغلوں کا میر جعفر کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں۔اس خاندان کا تعلق ایرانی شاہی خاندان سے تو دور ایران سے بھی کسی طرح نہیں تھا۔ نہ میر جعفر کا خاندان ایرانی نژاد تھا۔ یہ اپنے نام کے ساتھ نجفی لکھتے تھے جو نجف سے عراق اور وہاں سے ہندوستان آئے تھے۔

 

مزید یہ دعوی اس اعتبار سے بھی اپنی اہمیت کھوتا ہے کہ بمطابق خاندانِ نجفی کے اُنکی ہندوستان آمد 1677ءکے بعد ہوئی اور جس شادی کا دعوٰی یہ خاندان 1690ءکے عشرہ میں کرتا ہے۔اُس کو تاریخی تسلسل میں منطق کے ساتھ دیکھ لیا جائے۔اورنگ زیب کے بھائی1660ءتک اس دُنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ جس سے اُسکے تمام بھائیوں کے بچوں کی پیدائش1660-61ءکے بعد نہیں رہی۔ مزید ماسوائے تین شہزادیوں کے تمام شہزادیاں 1678ءتک بیاہی جا چکی تھی۔ مزید میر جعفر کی پیدائش بھی 1691ءہے۔ جو بیشتر شہزادیوں کی زندگی کی آخری دہائی تھی۔

 

ان نکات پر یہ واضح ہوتا ہے کہ میر جعفر عالمگیر کی کسی بھتیجی کی اُولاد نہیں تھا۔ یہ صرف ایک من گھڑت قصّہ ہے(جیسے شہزادہ سلیم اور انارکلی کا فرضی قصہ سر ٹامس کا پیداکردہ ہے۔) ورنہ شہزادی کا نام واضح ہونا چاہیے۔ یہ تحریر میں نہ آئے ، ایک شہزادی یا دارالشکوہ کی ایک بیٹی۔ اس بات کا صرف ایک ہی مقصد ہے خود کو دارالشکوہ کے وارث ٹھہرانا۔اور بنگال کی نوابی کو اپنا حق ثابت کرنا۔

 

میر جعفر نے علی وردی خان (نواب بنگال، نانا نواب سراج الدولہ) کی سوتیلی بہن سے شادی کی اور سپہ سالار افواج مقرر ہوا۔1757ءمیں غداری کے عوض میر جعفر کو بنگال، بہار، اوڑیسہ کی نوابی حاصل ہوئی۔اس طرح یہ خاندانِ نجفی کے نام سے بنگال میں دوصدیوں سے زائدنواب رہے۔

 

میر کا عہدہ عموماً مغل امیروں ہی کے لیے تھا۔مغل دور میں مرزا خطاب بھی رہا۔ اس بناءپر ان کے ناموں میں مرزا، میر، سلطان جیسے القابات کی شمولیت ہوئی۔خاندانی اعتبار سے سادات سے اپنا تعلق بتاتے ہیں۔انگریزوں کی جانب سے خان بہادر کا خطاب بھی اِنکے ناموں کی زینت بنا۔

 

میر جعفر علی خان1757-60ءتک بنگال کا نواب رہا مگر انگریزوں کے معیار پر مکمل نہ اُتر سکنے کے باعث معزول ہوا۔ اب تین برس کے لیے میر قاسم 1760-63ءتک نواب مقرر ہوا۔ میر قاسم مغل صوبیدار گجرات”سید امتیاز“کا پوتا تھا۔آخر یہ اقتدار سے محروم ہوا ۔میرجعفر دوبارہ انگریزوں کے نظر کرم میں آیا اور وفات تک نواب بنگال، بہار، اوڑیسہ رہا۔میر قاسم نے مغلوں سے مل کر بکسر کے مقام پر آخری مزاحمت کی مگر شکست کھائی اور کسمپرسی کی حالت میں باقی ماندہ زندگی بسرکرتے ہوئے دلی میں انتقال کیا۔1765ءمیں بنگال کے آخری خود مختار نواب میر جعفر کا انتقال ہوا۔

 

بڑے بیٹے کی وفات کے باعث میر جعفر کے دوسرا درجہ کا بیٹا نجیم الدین علی خان اٹھارہ برس کی عمر میں نواب بنا مگرایک سال بعد 1766ءمیں وفات پائی۔ پھر تیسرا درجہ کا بیٹا نجابت علی خان1766-70ءچار سال نواب رہ کر فوت ہوگیا۔سید اشرف علی خان چوتھا بیٹا تھا، جو نواب بننے کے تین روز بعد خسرہ سے مر گیا۔اب میر جعفر کا پانچواں بیٹاسید مبارک علی خان1770-93ءتک صاحب اقتدار رہا۔ اس کے بارہ بیٹے اور تیرہ بیٹیاں تھیں۔

 

سید مبارک علی خان کی وفات کے بعد اقتدار اگلی نسل میں متنقل ہوا۔ اُسکا بڑا بیٹا نواب بابر علی خان (بابر جنگ) نواب بنگال، بہار، اوڑیسہ ہوا۔جس نے 28اپریل 1810ءکو وفات پائی۔

 

اب نواب سید محمد زین العابدین خان عالی جاہ21-1810نواب مقرر ہوا۔16اگست1821ءکو وفات پائی مگر نرینہ اُولا د نہ پائی۔ تین بیٹیا ں تھی۔ جس میں رئیس النساءبیگم کی شادی چچازاد بھائی مبارک علی خان دوم، ہمایوں جاہ ولی عہد بنگال سے ہوئی۔نواب زین العابدین خان عالی جاہ کی وفات کے بعد اُنکے چھوٹے بھائی نواب سید احمد علی خان والا جاہ نئے نواب مقرر ہوئے۔1824ءمیں اِنکی وفات کے بعد رئیس النساءبیگم کے شوہر اور والا جاہ کے اکلوتے صاحبزادے نواب سید مبارک علی خان ، ہمایوں جاہ1838ءتک نواب رہے۔3اکتوبر1838ءکو وفات پائی۔

 

ہمایوں جاہ کے بعد بنگال ، بہار، اوڑیسہ کے آخری نواب سید منصور علی خان، فیردون جاہ تھے۔ جو 1880ءتک نواب کی حیثیت سے رہے اور 1884ءمیں وفات پائی۔ اِنکے ایک سو ایک بچے بیس بیگمات سے تھے۔ جن میں اُنیس بیٹوں اور بیس بیٹیوں کی اولاد ابھی بھی موجود ہے۔

جولیا لیوس اور سارہ وینیل میں کو بھی انگریز حکومت نے اِنکی عیش پرستانہ زندگی بیگمات کا درجہ دیا۔

 

1880انگریز حکومت نے نواب بنگال، بہار، اوڑیسہ کا عہدہ ختم کر کے اس خاندان کو ءمیں نسبتاً کم درجہ کی نوابی سے نوازا۔ تب یہ خاندان نواب آف مرشدآبادکہلایا جانے لگا۔ مرشد آباد کے پہلے نواب سید حسن علی مرزا خان بہادر تھے۔جومیجر جنرل سکندر مرزا کے دادا نواب سید سکندر علی مرزا کے سب سے بڑے بھائی تھے۔ انکی وفات 1906ءمیں ہوئی۔ پھریہ نوابی اُنکے بیٹے نواب سید واصف علی مرزاخان بہادر1906-59ءکے حصہ میں آئی۔ اور مزید دس سال1969ءتک کے لیے اس خاندان کا آخری نواب وارث علی مرزا خان بہادر مقرر ہوتا ہے۔ بالآخر حکومت ہندوستان مرشد آباد کے نوابی سلسلہ کو ختم کرتی ہے۔قیام پاکستان کے عرصہ میں مرشد آباد پاکستان میں شامل تھا۔ مگر چند دِن بعد (غالباً دو یوم بعد) کھلنا پاکستان میں شامل ہوا اور مرشد آباد ہندوستان میں ہی رکھا گیا۔

 

اب سوال ذہن میں یہ اُمڈتا ہے کہ یہ شجرہ کتنا مستند ہے۔ 1757ءتا1880ءتک جو صاحب اقتدار نواب رہے۔ وُہ نام تو تاریخ میں مستند حوالوں سے درج ہے۔ نواب آف مرشد آباد کیا واقعی سکندر مرزا کے دادا جان کے بھائی تھے؟

 

سید حسن علی مرزا کا خطاب مرشد زادہ علی قادرتھا اورعموماً بڑا صاحب بھی پکارا جاتا تھا۔ اُنکی ماں کا نام مہر لیکھا بیگم تھا۔یہ فیردون جاہ کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ جبکہ سید سکندر علی مرزا کا خطاب خورشید قادر تھا اور سلطان صاحب کے نام سے بھی مشہور تھے۔14جنوری1857ءکو ہزاردواری محل مرشد آباد میں پیدا ہوئے۔ جو شمس جہاں بیگم المعروف گدی نشین بیگم کے بطن سے تیرھواں بچہ تھا۔ اور بھائیوں میں چودھواں درجہ تھا۔ان کی وفات 1902ءسے قبل ہوئی۔ سید سکندر علی مرزا کے بیٹے محمد فتح علی مرزا(1948ء -1875ء) کی شادی دلشاد بیگم(1879 ء- 1925ء )سے ہوئی۔ جن کے بطن سے سکندر مرزا15نومبر1899ءکو مرشد آباد میں پیدا ہوا۔ تعلیم وتربیت بمبئی میں حاصل کی۔ابتدائی تعلیم ایلفنسٹن کالج اور پھرسندھرسٹ اکیڈمی  انگلستان سے فوجی تربیت حاصل کی اور ہندوستانی فوج میں بھرتی ہوا۔ 1926ءمیں پولیٹیکل سروس میں شمولیت ہوئی۔ بطور اسسٹنٹ کمشنر اوربعد میں ڈپٹی کمشنر کے عہدہ پر 1931ءمیں رسائی ہوئی۔وزارت دفاع میں جوائنٹ سیکریٹری کی حیثیت سے کام کیا۔آزاد ی کے بعدپاکستان کے پہلے سیکریٹری دفاع بنے اور سات سال اس عہدہ پر کام جاری رکھا۔ مئی 1954ءکو گورنر بنایا گیا۔اکتوبر1954ءتااگست1955ءمیں وزیر داخلہ، وزیر خارجہ اور پھر وزیر اعظم محمد علی بوگرا کی کابینہ کے ممبر رہے۔ اور بعد ازاں ملک کے اقتدار پر قابض ہوئے۔ملک کا پہلا آئین بنایا اور خود ہی تسلیم نہ کیا۔ملک میں سیاسی بساط کو ذاتی مفادات کے تحت لپیٹا۔ ایوب خان نے جلا وطن کیا اور جلاوطنی میں 12نومبر1969ءکو لندن میں انتقال کیا۔ یحییٰ خان نے میت کو پاکستان میں دفن ہونے کی اجازت نہ دی اور سکندر مرزا کی معیت کو تہران میںدفنایا گیا۔ان کی پہلی بیوی رفعت شیرازی سے ہمایوں مرزا9دسمبر1928ءکو پونا ہندوستان میں پیدا ہوا۔ جس کی پہلی شادی پاکستان میں امریکی سفیر1953ء57ء

کی بیٹی Hoarace A. Hilderathe

سے ہوئی۔ Josephine Hildreth (Dodie Begum)

 

میرجعفر<—سید مبارک علی خان<—نواب بابر علی خان<—نواب احمد علی خان،والا جاہ<— نواب مبارک علی خان دوم،ہمایوں جاہ<—نواب منصور علی خان، فیردون جاہ<—نواب سید اسکندر علی مرزا<— سیدمحمد فتح علی مرزا<—سید سکندر علی مرزا

 

یہ آٹھ نسلوں کا دو سو سالہ دور اقتدار تھا۔ وُہ دور جس میں مسلمانان ہند غلام بنے اور ظلم کا شکار رہے۔ بڑی ہی المناک داستان۔ آخر کیا وجہ تھی کہ ہمایوں مرزا نے امریکہ و یورپ میں کتاب چھپوا کر اپنا تعلق میر جعفر سے علی الاعلان سنایا۔ کہیں پرانے آقاﺅں کو یہ یقین دلانا تو نہیں کہ وُہ پرانے خادم اور وفادار رہے۔ اُ ن پر بھروسہ کیا جائے۔ وُہ نسل آج بھی پرانے آقاﺅں کے لیے سو دمند ہے۔ ایک ایسی شخصیت جو ہماری تقریروں اور تحریروں میں عموماً غدارِ ملت کی حیثیت سے استعمال ہوتی ہے۔اقبال نے کہا تھا:

 

میر جعفر بنگال و میر صادق دَکن

ننگ آدم، ننگ دین، ننگ وطن

 

اُس کی نسل آزادی کے بعد میں بھی پر مسلط رہی اور ہم لاعلم رہے۔ اس ملک کی کشتی آغاز سے ہی جن طوفانوں کی لپیٹ سے متاثر ہوئی۔ اُن میں ایک نام سکندر مرزا بھی تھا۔

 

ہم مستقبل میں اپنے بچوں کو کیا جواب دے گے کہ غدارکی اُولاد ہی اس ملک پر حکمرانی کر گئی اور اس ملک کو نئے طوفانوں کی زد میں ڈال گئی۔ میں جانتا ہوں کہ ایسے سوال ہمارے ذہنوں میں آئے گے۔ مگر آج شائید ہم اپنی تاریخ سے جتنی نفرت کرتے ہیں، اُس پر کیچڑ اُچھالتے ہیں، اس کا حلیہ بگاڑتے ہیں، تاریخ کے مضمون کو فضول سمجھتے ہیں۔ ایسی اقوام کو تاریخ بھی بھُلا دیتی ہے۔ تاریخ کا مضمون ہمیں ایک تسلسل سے جوڑے رکھتا ہے۔ چونکہ آج ہم تاریخ سے بہت دور ہے۔ اس لیے ہمارے پاس کوئی جواب نہیں۔ مستقبل کا مورخ دو سوسال بعد اس کا جواب تحریر کرے گا۔ تلخ حقائق میں سے تلخ ترین سچ کی دریافت!

 

اس تاریخی تسلسل کے تحت ہمیں کم از کم یہ سوچنا ہوگا کہ ہمارے صاحب اقتدار افراد کے خاندان کہیں غداری کا پس منظر تو نہیں رکھتے۔ مگر اِنکی نسلوں سے نفرت نہیں کرنی چاہیے۔ وفادار کا بیٹا غدار ہوسکتا ہے۔ تو غدار کی نسل وفادار اور محب وطن بھی ہوسکتی ہے۔

 

میں اپنی تحریر کا اختتام ایک مصنف ”سلطنت خدداد از محمود بنگلوری“کی تحریر پر ختم کرتا ہو ں۔

 

”جن لوگوں نے غدار ی کی ۔ وُہ آج اِس دُنیا میں نہیں رہے۔ بے شک خاندان ملک میں باقی ہیں۔ لیکن ان پر کیا الزام دھرا جاسکتا ہے۔ باپ کا الزام بیٹے پر یا بیٹے کا الزام باپ پر اور بھائی کا الزام بھائی پر آنہیں سکتا۔ ہر انسان جو کچھ کرتا ہے ۔ اُ س کے لیے وُہ خود کے آگے جوابدہ ہوتا ہے۔ دوسرے جوابدہ نہیں ہوسکتے۔ مذہب بھی یہی سکھلاتا ہے اور ضمیر بھی یہی کہتا ہے۔“

(فرخ نور)

نوٹ:ہر لفظ، جملہ اور نام میں نے خاصی احتیاط اور غورو فکر سے لکھا۔ مگر انسان خطاءکا پُتلا ہے۔ انجانے میں کوتاہی اور جانبداری واقع ہوسکتی ہے۔ اُس کے لیے معذرت۔ کہیں معلومات میں خامی ےا غلطی محسوس ہو تو ضرور آگاہ فرمائیے گا۔اس تحریر کو اپنے نام سے کوئی ظاہر نہ کرے ورنہ اگر کوئی کوتاہی واقع ہوئی تو وُہ فرد ذمہ دار ہوگا۔ کیونکہ یہاں ایک ایک لفظ معنی رکھتا ہے۔

 

Smoking ban to be enforced inside Saudi airports

A ban on smoking inside Saudi airports will be enforced from Sunday, starting with King Abdul Aziz International Airport in Jeddah.

    Riyadh: A ban on smoking inside Saudi airports will be enforced from Sunday, starting with King Abdul Aziz International Airport in Jeddah.

    The ban will be enforced at other airports in the kingdom gradually, where offenders will pay a 200-Saudi riyal fine (around $53).

    Special rooms for smoking will be set up at airports.

    Earlier this year, an advertisement campaign was launched on local TV about the harms of smoking targeting Saudi youth.

    Saudi smokers spend eight billion riyals on cigarettes every year, according to local statistics.

     

    By sumerasblog Posted in Country

    روشن خیالی یا جہالت…..کس سے منصفی چاہیں … انصار عباسی

    کوّا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا۔ نام نہاد روشن خیالی اور مغرب پسندی نے ہماری حالت کچھ ایسی ہی کر دی ہے۔ کہنے کو ہم مسلمان ہیں لیکن ہم روز بروز دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم ہمیشہ کہتے رہے اور اپنے بچوں کو پڑھاتے رہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا لیکن اب یہ کہتے ہوئے ہمیں ایک عجیب ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ ہمارا متفقہ آئین تو واضح انداز میں حکومت اور حکومتی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں بنائیں جس سے معاشرے میں ایک ایسا ماحول قائم ہو سکے جہاں مسلمانوں کو اسلامی طرزِ زندگی گزارنے کابہتر موقع مل سکے۔ مگر حقیقت میں اس طرف کوئی توجہ نہیں بلکہ الٹا ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جو اس منزل کے بالکل برعکس ہے جس کا تعین آئین پاکستان کرتا ہے۔ نتیجتاً ہم ایک Confused قوم کے طور پر ابھر رہے ہیں جس کی اپنی کوئی سمت نہیں۔ ہم قرآن سے دور ہو رہے ہیں اور سنت رسول کا کوئی علم نہیں رکھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث پڑھنے سے خدانخواستہ انتہاپسندی کو فروغ ملتا ہے اور عربی کی تعلیم کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ دراصل مغرب سے مرعوب ہم مسلمان جاہلیت کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں اور اس روشنی کو حاصل نہیں کرنا چاہئے جو کتاب اللہ اور سنت رسول سے ہمیں حاصل ہو سکتی ہے اور جس کے ذریعے ہی ہم دین اسلام کی اصل فلاسفی کو سمجھ سکتے ہیں۔ عالم آن لائن کے معروف میزبان اور جنگ کے کالم کار جناب ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اپنے گزشتہ کالم ”ہاں ہم رحمن کے ڈکیت ہیں!“ میں کس خوبصورتی سے میڈیا سے تعلق رکھنے والے ”پڑھے لکھے“ مسلمانوں کی ایسی جاہلیت کو اجاگر کیا جو یقینا ہم سب کے لیے باعثِ فکر ہے۔ حالیہ مبینہ پولیس مقابلہ میں مارے جانے والے عبدالرحمن ڈکیت کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے لکھا ”میرا سوال تو صرف یہ ہے کہ کیا اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کو سرخیاں چھاپتے اور بریکنگ نیوز کی سرخ پٹیوں پر اس دہشت گرد کا نام (معاذ اللہ) ”رحمن ڈکیت“ لکھتے ہوئے یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ وہ عمداً‘ دانستہ اور جان بوجھ کر ایک ایسی سنگین گستاخی کا ارتکاب کر رہے ہیں جو اعمال کو تباہ کر دینے کے لئے کافی ہے… ’رحمن‘… جسے سن کر اور پڑھ کر قلوب اطمینان پاتے ہیں اور یہی پکار اگر تسبیح بن جائے تو بگڑے مقدر تک سنور جاتے ہیں‘ ہم نے اس ”رحمن“ کو ایک عبدالرحمن نامی غنڈے کی شناخت کی خاطر بڑی بے رحمی سے لفظ ”ڈکیت“ کے ساتھ جوڑ دیا”۔
    آگے چل کر ڈاکٹر صاحب نے لکھا کہ کیا یہ ” لکھے پڑھوں کا فرض نہ تھا کہ وہ اصلاح کے لیے آگے بڑھتے اور چھپنے سے پہلے اس توہین کو چھپا دیتے۔ لیکن یہاں میں ڈاکٹر صاحب کی گزارش میں عرض کروں گا کہ جن ”لکھے پڑھوں“ کا وہ حوالہ دے رہے ہیں ان میں سے بہت سوں کو تو اس بات کا علم ہی نہیں کہ ”رحمن“ صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے اور یہ نام صرف خالقِ حقیقی کے لیے ہی استعمال ہو سکتا ہے۔ ہم اپنانام تو عبدالرحمن یعنی رحمن (اللہ) کا بندہ رکھ لیتے ہیں مگر اپنے اردگرد دیکھیں تو کتنے عبدالرحمانوں کو ہم ان کے اصل نام سے پکارتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو ہم جاہل ہیں اور اس جاہلیت سے نکلنا ہی نہیں چاہتے۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ہمارے بچوں کو ان کے اسکولوں اور کالجوں میں دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآنی اور اسلامی تعلیم بھی اس انداز میں دی جائے کہ ہم پڑھے لکھے باشعور مسلمان پیدا کر سکیں جن کو اپنے دین پر فخر ہو اور اسلام کے فلسفہٴ حیات کو سمجھتے ہوں۔ مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ چل رہا ہے۔ 1999ء کی قومی تعلیمی پالیسی جو ظاہری طور پر آج بھی نافذ العمل ہے اس کے مطابق اسکولوں میں بچوں کو دنیاوی علوم کے علاوہ نہ صرف قرآنی تعلیم دی جائے گی بلکہ ان کو اسلامی تاریخ اس انداز میں پڑھائی جائے گی تاکہ ہم ایک ایسی نسل پیدا کر سکیں جس کو اپنے دین کی بھی سمجھ ہو، اپنی نظریاتی اساس کا بھی پتہ ہو اور دنیاوی علوم میں بھی سب سے آگے ہوں۔ پرویز مشرف نے اپنے دور میں بیرونی دباؤ کے نتیجے میں اور اپنی نام نہاد روشن خیالی کی وجہ سے نہ صرف اس پالیسی پر عملدرآمد نہ کیا بلکہ نصاب میں ایسی تبدیلیاں کیں جو ہمارے بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے لئے مقصود تھیں۔ موجودہ حکومت بھی پرویز مشرف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک ایسی قومی تعلیمی پالیسی کو مرتب کر رہی ہے جس میں 1999ء کی پالیسی میں دیئے گئے اسلامی نکات کو سرے سے ہی نکالا جا رہا ہے۔ 2009ء کی ڈرافٹ قومی تعلیمی پالیسی جو اگلے دس سال کے لیے مرتب کی جا رہی ہے، میں 1999ء کی پالیسی میں دیا گیا باب 3 ”اسلامی تعلیم“ کو مکمل طور پر حذف کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 1999ء کی پالیسی کے باب 2 ”نصب العین اور مقاصد“ میں دیئے گئے بیشتر اسلامی نکات کو نئی ڈرافٹ پالیسی میں سے نکال دیا گیا ہے۔ 1999ء کی پالیسی میں یہ صاف طور پر دیا گیا ہے کہ قرآنی اور اسلامی تعلیمات لازمی ہوں گی اور عربی زبان کو فروغ دیا جائے گا۔ زیرغور 2009ء ڈرافٹ پالیسی میں ایسی کوئی شق شامل نہیں۔ اب تو ویسے بھی عربی زبان کو Optional Subject کے طور پر پڑھانے کی بھی مخالفت کی جا رہی ہے جو آئین پاکستان کے سراسرمتصادم ہے۔ آئین کے آرٹیکل 31 جس کو ہم مکمل طور پر بھول چکے ہیں کے مطابق نہ صرف ایسے اقدامات اٹھائے جائیں گے جس سے پاکستان کے مسلمان اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق گزار سکیں اور قرآن اور سنت رسول کی روشنی میں نظریہ حیات مطلب سمجھ سکیں بلکہ اسی آئینی شق میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ قرآن کی تعلیم اور اسلامیات لازمی طور پر پڑھائی جائے گی اور عربی زبان کی بھی ترویج کی جائے گی۔ اس کے علاوہ اسلامی اقدار کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ آئین میں دی گئی دوسری اسلامی شقوں کی طرف شق 31 کا شمار بھی آئین کے اس بنیادی ڈھانچے میں ہوتا ہے جس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ مگر افسوس کہ ان شقوں پر عملدرآمد کرانے میں ہماری حکومتیں کوئی دلچسپی نہیں لیتیں۔ اگر ہم اپنے لوگوں کو اسلامی تعلیمات اور دین کا درس دینگے اور ان کے لیے ایسا ماحول پیدا کریں گے کہ وہ اسلامی اقدار کے مطابق زندگیاں گزاریں تو نہ تو یہاں گلے کاٹنے والے طالبان پیدا ہوں گے اور نہ ہی خودکش بمبار۔ نہ تو اقلیتوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا سکے گا اور نہ ہی گوجرہ جیسے شرمناک واقعات رونما ہوں گے۔ گوجرہ واقعہ کے حوالے سے یہاں میں کہتا چلوں کہ جس جاہلیت کا مظاہرہ ان درندوں نے کیا جنہوں نے بغیر سوچے سمجھے اقلیت سے تعلق رکھنے والے کئی پاکستانیوں کو زندہ آگ لگا کرزندہ جلا دیاکچھ اسی قسم کی جاہلیت کا مظاہرہ سول سوسائٹی اور نام نہاد انسانی حقوق کے وہ علمبردار کر رہے ہیں جو اس واقعہ کے تناظر میں توہین رسالت کے قانون کے خاتمہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کوئی ان انسانی حقوق کے علمبرداروں سے پوچھے کیا توہین رسالت کاقانون گوجرہ جیسے واقعات کی اجازت دیتا ہے۔ بیرونی قوتوں کے اشارے پر پاکستان میں موجود ایک طبقہ کافی عرصہ سے سرگرم عمل ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کے نام پر اس قانون کو ختم کرایا جا سکے۔ توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کی ہر گنجائش کو روکا جانا چاہئے مگر اس قانون کا خاتمہ ایک ایسے فتنے کی بنیاد ہو گی جو پورے معاشرے کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔

    اٹلی and UAE (تہذیب کا دائرہ)

    اٹلی:منی سکرٹ پر پابندی کی تجویز

    ٹلی کے ساحلی شہر کیسٹلامارے ڈی سٹیبیا کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر منی سکرٹ اور اس جیسے دیگر نیم عریاں ملبوسات پہننے پر پابندی عائد کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

    اگر یہ پابندی عائد ہو جاتی ہے تو یہ شہر ان شہروں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جنہوں نے عوامی مقامات کو تہذیب کے دائرے میں رکھنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

    کیسٹلامارے ڈی سٹیبیا کے میئر کا کہنا ہے کہ منی سکرٹ اور چھوٹے چھوٹے کپڑے پہننے کی ممانعت کی خلاف ورزی کرنے والے پر پینتیس ڈالر سے لے کر چھ سو چھیانوے ڈالر تک کا جرمانہ عائد ہوگا۔

    شہر کے میئر کی نئی پالیسی ہے ’غیر مناسب کپڑوں کی اجازت نہیں‘۔ میئر کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون سے ان لوگوں کو ہدف بنانا چاہتے ہیں جو ’ہنگامہ پرور ہوں یا جن کو معاشی طور طریقے میں رہنا نہیں آتا‘۔

    پیر کے روز اس پابندی پر ووٹنگ ہوگی۔ نئے قانون کے تحت غسلِ آفتابی، عوامی مقامات پر فٹ بال کھیلنے اور مذہب کی توہین کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔

    مقامی پادری کا کہنا ہے ’میرے خیال میں یہ اچھا فیصلہ ہے۔ اس فیصلے سے بڑھتی ہوئی جنسی زیادتیوں پر بھی قابو پایا جا سکے گا‘۔

    اس شہر سے قبل کئی شہروں میں ریت سے بنائے جانے والے گھروندوں اور گاڑی میں بوس و کنار جیسے عمل کو ممنوع قرار دیا ہے

     

    italy Gov is 1000 times better then UAE regarding this…atleast they think to implement this law in there country……..

    Shame on UAE Gov (muslims k naam par kaala dhabba)

    Germany!

    German Muslims must obey law, not Sharia – Merkel

    German Christian Democrats often cite shared Judeo-Christian values rooted in the early history of Christianity because of sensitivities about the Holocaust, when the Nazis murdered six million Jews during World War Two.

    Berlin: Chancellor Angela Merkel said on Wednesday Muslims must obey the constitution and not Sharia if they want to live in Germany, which is debating the integration of its 4 million-strong Muslim population.

    In the furore following a German central banker’s blunt comments about Muslims failing to integrate, moderate leaders including President Christian Wulff have urged Germans to accept that “Islam also belongs in Germany”.

    The debate comes against a backdrop of US and British concerns over the threat of terrorist attacks by militant Islamists living in Germany, with Berlin toning down such fears.

    Merkel faces corresponding discussions inside her Christian Democratic Union (CDU) about whether she is conservative enough, and the centre-right leader’s latest comments seemed directed at those who think Wulff went too far in appeasing the Muslims.

    Wulff, who has a largely ceremonial role, used a speech on Sunday celebrating two decades of German reunification to urge harmonious integration of immigrants who until a decade ago were considered “guest workers” who would eventually return home.

    But whereas the media stressed Wulff’s comments about Islam, Merkel – the daughter of a Protestant pastor brought up in East Germany, who leads a predominantly Catholic party – said Wulff had emphasised Germany’s “Christian roots and its Jewish roots”.

    German Christian Democrats often cite shared Judeo-Christian values rooted in the early history of Christianity because of sensitivities about the Holocaust, when the Nazis murdered six million Jews during World War Two.

    “Now we obviously also have Muslims in Germany. But it’s important in regard to Islam that the values represented by Islam must correspond with our constitution,” said Merkel.

    “What applies here is the constitution, not Sharia.”

    Merkel said Germany needed imams “educated in Germany and who have their social roots here” and concluded: “Our culture is based on Christian and Jewish values and has been for hundreds of years, not to say thousands.”

    Opinion polls suggest many Germans sympathise with the views of an outspoken member of Germany’s Bundesbank who, in speeches and a book, accused Muslims of sponging off welfare, refusing to integrate and achieving poor levels of education.

    Thilo Sarrazin, who also offended Jews with comments about genetics, was forced to quit the central bank. Merkel has tried to accommodate both sides of the debate, saying police should not be afraid of entering immigrant neighbourhoods but also that Germans must accept mosques becoming part of their landscape.

    if they still prefer to live there, they should change there religion.

    خدا حافظ!!!

    عظیم ہیں وہ افراد جو انسانیت پر زندگی کو آشکار کرکے اپنا احسان مند بنا دیتے ہیں؛ جو خود پسندی کے فریب سے کہیں دور صدیوں کو سمیٹ کر عظمت کی بلندیوں پر پہنچ چکے ہوتے ہیں جبکہ دوسرے اسکی گرد بھی نہیں پا سکتے اور مدتوں بعد جب انکا قید کیا ہوا وقت آشکار ہونا شروع ہوتا ہے تو انکے قدموں کے نشان بھی مٹ رہے ہوتے ہیں ۔

    صدیاں اپنے ساتھ وہ سب کچھ سمیٹ کر لے جاتی ہیں جنکا اکثر تصور بھی کرنا محال ہوتا ہے ؛ وقت بہت ظالم ہے جوکسی کا بھی انتظار نہیں کرتا ؛جبکہ انسان زندگی کے ماہ و سال اسکے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے گزارتا ہے اور اگر ذرا سی بھی چوک ہو جائے تو یہ انسان کو پچھاڑ دیتا ہے اور ا پنی چال چلتا ہو ا قدموں کے نشان چھوڑتا چلا جاتا ہے ۔افراد جب شعوری بالیدگی کے عمل سے گزر کر حالات سے پنجہ آزمائی پر اتر آئے تو پہلی بار انہیں وقت کی لاثانی قوت کا اندازہ ہوا۔احمق ہے وہ فرد جو وقت کی لامحدود طاقت کو نہیں سمجھتا اور اسکے ضیاع کا تدارک نہیں کرتا ؛ جو لمحہ گزر گیا اسکی واپسی نہیں مگر ان لمحات میں وقت کو اسی طرح محفوظ کیا جا سکتا ہے کہ اپنی ذہنی اور جسمانی قوتوں کا مصرف کسی مقصد کی نہج پر ڈالا جائے۔ زندگی کے اعلی مقاصد اور انکی تکمیل میں محویت ایسے محرکات ہیں جو نہ صرف صدیوں کے سفر ایام میں تبدیل کر دیتے ہیں بلکہ بعض اوقات وقت کو بھی پچھاڑ دیتے ہیں ۔
    عظیم ہیں وہ افراد جو انسانیت پر زندگی کو آشکار کرکے اپنا احسان مند بنا دیتے ہیں؛ جو خود پسندی کے فریب سے کہیں دور صدیوں کو سمیٹ کر عظمت کی بلندیوں پر پہنچ چکے ہوتے ہیں جبکہ دوسرے اسکی گرد بھی نہیں پا سکتے اور مدتوں بعد جب انکا قید کیا ہوا وقت آشکار ہونا شروع ہوتا ہے تو انکے قدموں کے نشان بھی مٹ رہے ہوتے ہیں ۔
    خیرو شر کے جنگ و جدل ؛ فنا اور بقا کی آنچ ؛کبھی علم و دانش کے ڈھیر اور کبھی آلات جدید کا انبار یہ سب انسانی ذہن کا کمال ہے کہ تسخیر انفس و آفاق پر گامزن ہے۔دنیا کو کبھی جسمانی قوت نے زیر کیا اور کبھی دولت کی ؛ اور کبھی انڈسٹری کی اور کبھی معلومات کی مگر آج علم دنیا کا مقدر بن گیا ہے۔ یہ بات تو واضع ہو چکی کہ اب انڈسٹری اور صنعت کسی نئی راہ پر گامزن نہیں کہ جسکا ایندھن زر تھا بلکہ آج کا دور معلومات کی بہتی رو کا ایک سیلاب ہے جسے آپ اطلاعاتی معاشرہ کہ سکتے ہیں جبکہ اسکا ایندھن علم ہے۔ آج کا دور تہذیبوں کے ادغام کا دور ہے معلومات کا ایک سیلاب امڈ آیا ہے جبکہ اس عہد کی طاقت صرف علم کے مرہون منت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہماری زندگیوں کو کنٹرول کرنے والی طاقت نے کئی روپ بدلے ، ابتدائی زمانے میں طاقت صرف جسمانی قو ت کا نام تھا ،اور زیادہ طاقت ور اور تیز رفتار شخص نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اردگرد موجود دوسرے لوگوں کی زندگیوں پہ بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اسی طرح تہذیبی ارتقا کے ساتھ ساتھ طاقت وراثت کے نتیجے میں حاصل ہونے لگی۔ اپنے جا ہ و جلال کے باعث بادشاہ واضح اختیارات کے ساتھ حکمرانی کرنے لگا جبکہ شاہی قرابت دار اپنی قربت کے باعث طاقت حاصل کر سکتے تھے۔ پھر اچانک زمانے نے جست بھری ، عہد نے پلٹا کھایا اور صنعتی دور کی ابتداء ہوئی اور سرمایہ طاقت بن گیا جبکہ سرمایہ جن کی پہنچ میں تھا وہ صنعتی عمل کے باعث دوسروں پر قابض ہونے لگے مگر کب تک؟
    البتہ آج بھی ان عوامل سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ سرمائے کا ہونا نہ ہونے سے بہتر ہے ، جسمانی توانائی کا ہونا بہرحال یقیناً بہتر ہے ، تا ہم ، آج طاقت کا عظیم سرچشمہ صرف اور صرف علم ہے۔ ارتقاء کا دھارا اب کسی اور طرف گامزن ہے۔اس اطلاعاتی معاشرے کی ترجیحات اب کسی بھی طرح سے دقیانوسی نہیں رہیں۔آج اگر طاقت کا بہاو ملاحظہ کرنا ہو تو ذرہ آنکھوں سے تفریحات کی پٹی اتار کر دیکھئے کہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والی دنیا میں اب طاقت کا توازن کیا ہے اور اسکا تعین کیسے کریں؟ ان حقائق سے کنارہ کشی کسی بھی طرح سے مزید دیر کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ جہاں اقوام عالم کے نوجوان دنیا کی طاقت کے مرا کز ہیں وہاں ہم اپنی قوم کے نوجوان کو کیا دے رہے ہیں؛ اور ہمارے نوجوان کہاں کھڑے ہیں ؟
    قابل ذکر بات یہ ہے کہ آج طاقت کی کنجی تک رسائی ہم سب کے بس میں ہے۔ اگر آپ وسطی زمانہ میں بادشاہ نہ ہوتے تو آپکو بادشاہ بننے کیلئے بے پناہ تگ و دو کرنا پڑتی ، صنعتی انقلاب کے آغاز میں ، اگر آپ کے پاس زبردست سرمایہ نہ ہوتا تو آپ کے راستے کی رکاوٹیں آپ کی کامیابی کا راستہ مسد ور کر دیتیں۔ لیکن چند نوجوان آج ایک ایسی کارپوریشن کو جنم دے سکتے ہیں جو پوری دینا کو ہی بدل ڈالے۔ جدید دنیا میں اطلاعات، انفارمیشن بادشاہوں کی چیز ہے۔ مختلف علوم تک رسائی کے باعث آج کا نوجوان نہ صرف اپنا آپ بلکہ پوری دنیا تک بدل کر رکھ سکتا ہے مگر یہ سب کچھ اسکی تربیت پہ منحصر ہے۔ زر صنعتی سماج کا ایندھن تھا مگر اب اطلاتی معاشرے میں یہ ایندھن یا طاقت صرف اور صرف علم ہے ؛اکیسویں صدی میں انفارمیشن کا طوفان امڈ آیا ہے ؛ اسکا ناقابل تصور بہاو دنیا کو علم کے گہوارے کیطرف دھکیل رہا ہے۔

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    علم سے بڑھ کر کوئی چیز ہے تو وہ عمل ہے ؛ کیونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ ایک حرکت و ارتعاش کے رو پر چل رہا ہے ؛ کائنات کی ہر شے کی زندگی سے آشنائی فقط متحرک رہنے میں ورنہ موت؛ دیدہ دل وا کیجیے اور جس طرف بھی نظر دوڑائیں زمین پر یا آفاق میں قدرت کی ہر شے ایک دعوت عمل دیتی نظر آئے گی ؛ عمل سے ہی نتائج پیدا ہوتے ہیں ۔ موثر عمل کی اہمیت پہچاننے والے فرد کے ہاتھ میں آنے سے پہلے ؛ علم محض ایک امکانی قوت رہتا ہے ؛ جبکہ قوت کی اصل تعریف عمل کرنے کی صلاحیت ہے۔

    قیدی اذہان

    انسان علم کی وسعت نظری سے محروم ہوا۔ خیالات کی کوٹھری سے نکل کر نظریات کے قید خانہ میں بند ہوا۔جب میںدُنیا کی نگاہوں سے ہٹ کر مشاہدہ کرتا ہوں۔ مجھے ہر ذہن قیدی سا دکھائی دیتا ہے۔ ایسا خود ساختہ قیدی؛ جو خود کو قید کے تصور سے آزاد سمجھتا ہے۔ہم سزا دوسروں کو دیتے ہیں۔ یہ نہیں جانتے، مشقت کے پتھر خود بھی ڈھانے ہیں۔
    معاشرے میں نظر دوڑائیے، گنتی کے چند افراد کے سواءہر فرد پیدائشی ہائی جیک ہوتا ہے۔قید کے خیالات میں سوچ کے تصورات تنگ ہوئے۔ آزادی کے نام پہ قید تنہائی وصول پائی۔
    دُنیا میں سب سے زیادہ ظلم مذہب پر ڈھایا گیا۔ نعرہ مذہب کا ٹھہرا، مفاد ذاتی پایا۔ ایک دورتھا، مذہب کے نام پہ اقتدار و وسائل پہ قابض ہوتے۔ آج وسائل و اقتدار کے نام پر مذہب پہ قابض۔
    ہمیشہ اِک نعرہ سنتے ہیں۔ کفار اسلام کو مٹا دینے کے در پہ ہیں۔ ہم ہر شےءکو اسلام دشمنی سے منسوب کرتے ہیں۔ کبھی ا س نگاہ سے اپنے اعمال پر غور کیا؟ مسلماں خود کتنااسلام کُشی پہ ہیں! دُنیا کو دلچسپی خزانے کے صندوق سے نہیں۔ صندوق کا تالا توڑنے اور خزانہ چرا لیجانے سے ہوتی ہے۔ لٹیروں کی مذہب میں دلچسپی نہیں ہوتی۔ اُنکی توجہ لوٹ لینا ہے۔ ”اسلام کو خطرہ“ اور ”اسلام سے خطرہ“ کا فلسفہ یہی تو ہے۔ خزانے تک رسائی محفوظ ذرائع سے ہو۔پہلوان خود کو طاقتور دِکھانا چاہتا ہے۔ جب وُہ بوڑھا ہو جاتا ہے تو دماغ کے شر سے طاقتور کو کمزور سے لڑوا کر کمزور کرتا ہے اور خود کی دھاک علاقہ بھر میں بٹھواتا ہے۔
    جب سے دُنیا کی تجارت ڈالر سے منسلک ہوئی تو سوچ بھی محبت سے پیسہ بن گئی۔رشتوں میں سوچ پیسہ ہتھیا لینا تک محدود ہے۔ خود کمانے تک نہیں۔آج کا انسان ہیمنگ برڈ[۱]ہے۔ اُسکے سواءکچھ نہیں۔ اُسکی پرواز اور رس چوسنے پر غور کرنا۔اُڑتے اُڑتے وُہ پرندہ پھول پر آتا ہے۔ پر پھڑپھڑاتے ہوئے ہی پھول کا رس چوستا ہے اور فوراً کہیں اور محو پرواز ہو جاتا ہے۔ تب انسان کو اپنی سماعت پر احساس ہوتا ہے کہ اُسکے کان باقی پرندوں کی آواز سن نہ سکتے تھے۔ اس قدر تیز آواز کے ساتھ آمد و رخصت ہوئی کہ انسان کچھ سوچ ہی نہیں پاتا۔وُہ پرندہ اطمینان سے کسی شاخ پر بیٹھنا تو درکنار ٹھہرتا بھی نہیں۔ دُنیا کا یہ سب سے چھوٹا پرندہ شمار ہوا ہے۔
    آج کا انسان قلعہ کی زندگی میں بستا ہے۔ قلعوں میں بند انسان کی مشاہدہ گاہ قلعہ کی فصیل رہ گئی۔ حقیقت میں دُنیا کیا ہے؟ یا تو ہم جاننا ہی نہیں چاہتے یا ہم مکمل ناواقف ہو چلے۔ دفاتر کے اوقات نے ہمیں جسمانی قیدی بنادیا۔ انسان صرف گنتی میں مصروف مگر اُسکے تصرف میں کچھ نہیں۔ بیچارہ انسان اب آدمی بھی نہ رہا تو کیا رہا۔ اُساتذہ کس علم کے تحت طلبا کی سوچ بنا رہے ہیں۔ خون دے نہیں ، نچوڑ رہے ہیں۔ہمارا نوجوان اپنی آبائی مٹی میں زرخیزی پیدا کرنے کی بجائے اُسکو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ رہا ہے۔ اسلام جس قدر سادگی رکھتا تھا۔برہمنی سوچ نے اُس قدر اِسکو مشکل ترین بنا دیا۔ میں نہیں سمجھ پایا، انسان ننگے بدن کی پوجا کیوں کرتا ہے؟ ڈرائینگ روم کے فیصلے، ہجوم میں تصاویر بنوا کر مدد کرنا؛ لوگوں کے مسائل حل نہیں کرتے ۔

    آج ہم ڈولہ شاہ کے چوہوں کی طرح ذہنی طور پر اپنے سر ایک خول میں رکھ کر ڈھال رہے ہیں۔ فوج میں حکم کی تعمیل ورنہ پٹھو لگوا کر اس کا عادی بنانا ہے۔ ملازمین کا افسر کو انکار انکوائری بھگتنا یا ملازمت سے ہاتھ صاف کروانا ہے۔دیہی علاقوں میں دوسروں کو سیکنڈلز میں ملوث کرنا اور خود کو پاک صاف سمجھنا۔مدارس کی تعلیم میں فرقہ واریت ،ا سکولوں میںگنتیوں کے چکر،خبروں کی بلا تصدیق بھرمار، کتابوں کی بلاتحقیق اشاعت کا فروغ، مجاورانہ نظام کا کاروباری انداز، مذہبی تنطیمات کی اشاعت دین مگر اُنکے معاملاتِ دُنیا کا بد تر ہونا، سیاسی جماعتیں او رسربراہان کا ایسا پاک شفاف ہونا، جیسے اُن کو کل ہی جنم دیا گیا ہو، اللہ سے بھڑ کر تعویذ و گنڈوں پر اعتبار،ایسے روپ اختیار کرنا کہ تسبیح ہزار دانوں والی داہنے ہاتھ میں، نمازیں لمبی سجدے طویل مگر دوسروں کے متعلق دل میں بغض رکھنا اور اپنے اندر حسد اور کینہ کوٹ کوٹ کر بھرنا۔ ایک سوچ ہے کہ مرد عورت کو ہراساں کرتا ہے مگر کیا عورت اپنے بیہودہ لباس سے مرد کو ہراساں نہیں کرتی؟ اس کی بھی تو کوئی سزا ہونی چاہیے۔آزادی عورت محدود نعرہ ہے۔ توہین عورت پر ہم آزادی ئِ عورت کے خلاف ہیں۔توہین رسالت پر ہم آزادی ئِ رائے کے خلاف ہے۔ کیا توہین کا نام آزادی ہے یا آزاری؟

    میں کس کس زاویہ سے بیان کروں۔ آج انسان کی سوچ اُلجھی اور پریشان اس لیے ہیں کہ اُسکی ڈوری کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ لوگ اپنے دماغ، فہم، فراست اور مشاہدہ سے نہیں سمجھتے۔ کٹھ پتلیاں عمر بھر پتلی تماشا دکھاتی ہیں۔ چند ذہین مگر تخریبی ذہنوں نے پتلی تماشا خوب چلا رکھا ہے۔


    مذہب کے قیدی، معاشرہ کے قیدی، خاندان کے قیدی،خیالات کے قیدی، نظام کے قیدی۔ بس! ہر سلسلہ میں قید در قید کو مقد ر سمجھتے ہیں۔جس کو ہم قید گردانتے ہیں۔ دراصل وُہی ہماری آزادی ہے۔ جس آزادی کی ہم تمنا رکھتے ہیں ہمارے ذہن اُس آزادی کے بد ترین قیدی ہیں۔


    کُھلے دِل سے سوچوں تو ذہن کھلتا ہے۔ یوں دُنیا کی حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ انسان بند ذہنوں میں جھگڑے مول لیتا ہے۔ نئی دُنیا میں انسان مسکراتے ہوئے جھگڑے ٹال دیتا ہے۔ اختلاف سے بچو، احترام کو اپناﺅ۔ آپ کے اندر کی دُنیا سنور اُٹھے گی۔ آہستہ آہستہ نئے نئے خیالات کا سمندر اُمڈ پڑے گا۔ مگر زبان خود بخود خاموش رہنے لگے گی۔ جس نے حسن دیکھا ہے۔ وُہ حسن کے نظارے میں محو رہتا ہے۔ مگر بیان نہیں کرپاتا۔
    (فرخ نور)


    :حوالہ جات
    [۱] ہیمنگ برڈ: یہ پرندہ سیاہ و گہرے نیلے رنگ کا ہے۔ جو پھولوں والے مقامات پر نظرآتا ہے ۔جوڑا بنائے بغیر ملتا ہے۔ صوبہ پنجاب میں یہ اکثر نظر آتا ہے۔اس کی شوخ و تیز آواز آمد کا پتہ دیتی ہے۔پہچان یہ ہے کہ اُڑتے اُڑتے کسی پھول کا رس چوس رہا ہوگا۔ شاخ پر بیٹھتا نہیں۔شاخ پر حد چند سیکنڈز کے لیے ٹھہرتا ہے۔

    Responding to the floods in Pakistan

    Pakistan has been struck by the worst flooding in its recorded history. The latest estimate of the number of people affected by the flood exceeds 14 million—more than the combined total of the 2004 Indian Ocean tsunami, the 2005 Kashmir earthquake and the 2010 Haiti earthquake. Critical infrastructure has been damaged over the last two weeks and clean water is in short supply. As monsoons approach, flooding is expected to worsen.

    Our Crisis Response team has been working to use existing tools and build new ones to help the relief efforts. We just launched a page in Urdu and English where you can find information, resources and donation opportunities to help the victims of the floods. We’re also donating $250,000 to international and local NGOs to immediately aid in relief efforts. Although we’ve been able to provide satellite imagery for disasters in the past, cloud cover in Pakistan has prevented us from compiling useful imagery so far. We hope to share imagery as soon as possible.

    We’ve already learned a lot about building useful tools from our previous efforts to help with disaster relief. Following the earthquake in Haiti, a small team of Googlers visited relief aid workers in Haiti to understand how we could further help. In observing and speaking with the relief aid workers, we learned that they needed up-to-date information about available resources (such as which field hospitals have X-ray machines or orthopedic surgeons), their location and contact information. Coordination between various health and relief facilities that spring up in a disaster zone can be challenging.

    Based on what we learned in Haiti, we’ve been working to develop Resource Finder, a new tool to help disseminate updated information about which services various health facilities offer. It provides a map with editable records to help relief workers maintain up-to-date information on the services, doctors, equipment and beds available at neighboring health facilities so that they can efficiently arrange patient transfers. We normally wouldn’t release the tool so quickly, but decided to make an early release version of Resource Finder available for supporting relief efforts in Pakistan. This is the first time the tool is being launched during a disaster situation so we’ll be working closely with NGOs to understand its usefulness and will iterate accordingly.


    We’ve also launched Person Finder in both Urdu and English for this disaster. This application allows individuals to check and post on the status of relatives or friends affected by a disaster. Fortunately, we’ve heard that missing persons has not been as concerning an issue as it was during the earthquakes in Haiti and Chile, but we’ll leave the application up regardless.

    Responding to a disaster of this scale is a daunting task, but we can all do something to help. We will try to do our part and continue working with the many incredible NGOs to develop tools that help them work more effectively.

    YA ALLAH PAKISTAN PAR REHEM KAR> AMEEN

    پختون کی بیٹی – باب سوئم

    پختون والی’

    اماجان نے گفتگو شروع کی۔ آج ہم پختون والی کاجائزہ لیں گے۔

    پختون یا پٹھان کا اجتماعی رہن سہن ایک رسم و رواج کے مجمو عہ پر منحصر ہے جو ‘پختون والی’ کہلایا ہے۔

    پختون والی ، پختون کو ‘ عزت’ کے اصول بتاتے ہیں۔ پختون کے لے ‘ عزت’ بہت اہم ہے۔

    ماں بولی ۔ ” پٹھان کے لے ‘ عزت’ زبردست ذمہ دا ری ہے اور وہ عزت یا بے عزتی کو دنیا کی دوسرے معاشروں کی طرح نہیں دیکھتا۔ یہ قوانین پختون کے عمل واعمال پر بہت اثر کرتے ہیں اور ایک پشت سے دوسری پشت پختونوالی کے رسم و رواج پاک سمجھے گے ہیں”۔

    پختون کا ایک بہت مشہور شاعر خوش حال خان خٹک کہتا ہے۔”میں اس شخص کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہوں جو اپنی زندگی عزت سے نہ گزارے ۔لفظ عزت مجھکو غصہ دلاتا ہے”۔

    “ماں وہ عزت کیا ذمہ داریاں ہیں؟”

    ” پختون والی کے رسم و رواج پختون پر چار ذمہ داریاں واجب کرتے ہیں “۔

    “پہلی، پرانی دشمنیوں اور خون خرابہ کوختم کرنا ہے۔ اور دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنا ہے اور مجرم کو پناہ دینا۔ یہ ‘ ناناواتے ‘کہلاتاہے۔

    دوسری، دو فرقوں کے درمیان خون خرابی کو روکنے کیلے جرگہ کا التواے جنگ فیصلہ۔ یہ ‘ تیگا ‘ کہلاتاہے۔

    تیسری، انتقام لینے کا فرض ۔ یہ ‘ بدل ‘کہلاتاہے۔

    چوتھی، مہمان داری ، عالی ظرفی، دلاوری، سچایئ، سیدھا پن، وطن پرستی، ملک سے محبت اوراسکی خدمت۔ یہ ‘ مل مستیا ‘ کہلاتاہے”۔

    ناناواتے

    ” سعدیہ بیٹا، نانا واتے کے کیا چار مقاصد ہیں؟”

    ” ایک ، پرانی دشمنیوں اور خون خرابہ کوختم کرنا ہے۔ دو ، دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنا ہے تین، پناہ دینااورچار مہمان نوازی” ۔

    ا ماں نے کہا۔”جب ایک لڑنے والا شخص نادم اور شرم گزار ہو کر قبیلہ کے بڑوں کے پاس آتا ہے اور وہ اس بات پر مکمل تیار ہو تا ہے کہ وہ اپنے دشمن کے ساتھ امن سے رہے گا۔ مہمان جو کے بدلہ لیناچاہتا تھا بزرگوں کو صلع و صفایئ کا موقع دےتا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کے مسلہ حل نہ ہو سکے۔ مسلہ حل ہونے کے بعد رحم طلب کرنے والا اپنی اوقات کے مطابق ایک بھینس ، گائے ، کچھ دُنبہ یا بکریاں ذبع کرے سب کی دعوت کرتا ہے”۔

    ماں یہ تو ایک شریف النفسی ہے۔ ا س میں کیا خرابی ہے؟ میں نے پوچھا۔

    ماں نے کہا۔ ” مجرم کو پناہ دنیا۔ دوسرے معاشرے جو وقت کے ساتھ انسانیت کے اصول میں اصلاح کی طرف کرتے ۔ انہوں نے جرم کرنے دالوں سے پناہ کا حق چھین لیا آپ اگر مجرم ہیں تو آپ کو قانون کے حوالے کیا جائے گا “۔

    ” کسی بھی پختون کے گھر میںکویئ بھی شخص ، اپنا پیچھا کرنے والے دُشمنوںسے پناہ لے سکتا ہے ۔پناہ لینے والاکسی بھی ذات، عقیدہ، رُتبہ کا ہو، دوست ہو اور یا دُشمن ہو۔”
    ” میں تم کو اس کی دو مثالیں دونگی”۔ ماں نے کہا۔

    پہلی مثال یہ ہے:

    ” ایک دفعہ پختونستان میں قرضہ دہنے والے او ر قرضہ دارمیں جھگڑا ہوااور قرضہ دینے والا مارا گیا۔

    قرضہ دار نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن لوگوں نے تمام راستے بند کردے۔
    جب نکل نے کی کو یئ صورت نظر نہیں آیئ تو قاتل نے گاوں کے ٹاور کا رخ کیا اور ٹاور پر پہنچ کر چلایا۔

    اللہ کے نام پر مجھ کو پناہ دو۔ ٹاور میں رہنے والے سردار نے قاتل سے معلومات کیں اور اس کو پتہ چلا کے جو شخص قتل ہوا وہ اسکا بھایئ تھا۔

    سردار نے کہا ـ” تم نے میرے بھایئ کو قتل کیا ہے، مگر کیوں کے اللہ کے نام پر تم نے پناہ مانگی ہے اس لے اللہ کے نام پر میں تم کو پناہ دیتا ہوں ” ۔ سردار نے قاتل کو اندر آنے دیا۔

    جب تعاقب کرنے والے وہاں پہنچے تو سردار نے ان کو سختی سے چلے جانے کو کہا۔جب تعاقب کرنے والے چلے گے اس نے قاتل سے کہا کہ میں تم کو ایک گھنٹہ کا وقفہ دیتا ہوں تم یہاں سے سلا متی سے چلے جاؤ ۔

    قاتل اُس وقت تو بچ گیا ۔

    کانررے ٹیگا

    مقابلہ کرنے ولالے دو قبیلوں کے درمیان خون خرابہ کوختم کرنے کی ایک دوسری رسم ٹیگا کہلاتی ہے۔ ٹیگا کے لغوی معنی ‘پتھر گاڑدینا ‘ہے۔دوسرے الفاظ میں جرگہ ایک دفعہ جب وقعتی صلایئ کرتا ہے تو دونوں طرف لوگ اس کو توڑ نے سے اس لئے ڈرتے ہیں کہ سزا ملے گی۔
    اگر ایک طرف کے لوگ ٹیگا کو توڑ تے ہیں تو جرگہ پھر قوت کے زور پر جرمانہ وصول کرتا ہے۔ وہ ٹیگا توڑ نے والے کا گھر جلا دےا جاتا ہے۔ان کو اپنے علاقہ سے نکال دے جاتا ہے۔ یہ کام لشکر کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ لشکر گاوں کی فوج ہوتی ہے۔

    میل مستیا

    میل مستیا ایک مہمان داری کی رسم ہے۔ یہ مہمان داری دشمن اور دوست اور اجنبی سب سے برابر کی ہوتی ہے۔

    ہرگاوں میں ایک سب کے ملنے کی جگہ ہوتی ہے جسے ‘ہجرہ ‘ کہتے ہیں۔مہمان عموماً ہجرہ میں ٹہرتے ہیں۔ میزبان ، مہمان کے لے دنبہ یا بکرا کا گوشت تیار کرتا ہے اور حلوہ تیار کرتا ہے۔ اگر میزبان اس قابل نہیں کے دنبہ یا بکرا کرے تو وہ مرغی بنا تا ہے۔
    ہار کالا راشا، پا خیر راغلے ، ایستارے ماشے ، اور تاکررا یے ۔ انکا مطلب ہے کہ ہمشہ آو، خوش آمدید، امید ہے کہ تم تھکے نہ ہو۔ کیا تم اچھے ہو؟ مہمان خوشی سے کہتا ہے۔ پا خیر اوسے، خدایا دے مال شا، خوش حا اوسے، ما خوارے گے۔ جن کا مطلب ہے۔ خدا تم کو حفاظت سے رکھے، خدا تمہارے ساتھ ہو، تم خوش حال اور خوش رہو، تم بے حس نہ ہو۔ پہلے چائے پیش کی جاتی ہے اور پھر حلوہ، پلاؤ اور دوسرے لوازمات۔ جب مہمان رخصت ہوتاہے تو پا مخا دے خا۔تمہارا سفر بغیر خطرہ اور اچھا رہے۔
    ہر مہمان سارے گاؤں کا مہمان سمجھا جاتاہے۔ اور ہجرہ میں سب اس کی دیکھ بال کرتے ہیں۔اور مہمان دسترخوان پر گاوں کے بڑوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتا ہے۔ پختون کا اصول ہے کہ مہمان اگرچے کے اسکا پیٹ بھرا ہو پھر بھی گاوں کے لوگوں کے ساتھ کم از کم کچھ لقمے کھائے۔ کھانے کے بعد نماز اور مہمان کی خوش حالی اور مہمان نوازی کیلے دعا ما نگی جاتی ہے۔

    ڈاکٹر پینل بنوں اور اس کے اردگرد کرے علاقے میں ایک میشنری ڈاکٹر تھا۔ وہ لکھتا ہے۔ ـ” ایک موقع پر وہ اور اسکا ایک ساتھی ایک گاؤں میں رات کو دیر سے پہنچے۔ سردار گھر پر موجود نہیں تھا اسکا لڑکا بڑے خلوص سے ملا اور فوراً مرغ اور پلاؤ بنواکر پیش کیا۔ سردار رات کو گھر دیر سے پہنچا۔ جب اس کو پتہ چلا کہ بنوں کے پادر صاحب اسکے مہمان ہیںاور اس کے لڑکے نے صرف مرغ اور پلاؤ کھانے میں پیش کیےئ اس نے فوراً باورچی سے دنبہ ذبع کروا کر پکوایا۔

    ماں نے مجھ سے پوچھا ۔پختون کی مہمان نوازی کی کیا خصوصیات ہیں؟

    میں نے جواب دیا۔ ” ایک ۔ دوست ، دشمن یا اجنبی ہر شخص کے ساتھ مہمان نوازی ۔ دو۔ ہجرہ میں مہمان کو ٹھرانا۔ تین ۔ حیثیت کے بڑھ کر کھانابنانا۔ چار ۔ مہمان، پورے گاوں کا ہویا ہے۔ پانچ۔ مہمان گاوں کے بڑوں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ کم از کم کچھ لقمے کھائے۔ چھ۔ کھانے کے بعد نماز اور مہمان کی خوش حالی اور مہمان نوازی کیلے دعا ما نگی جاتی ہے۔

    ٭٭٭

    ” پاکستان کے شمال مغرب میں کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔ اس سرحدی علاقے میں ٧ مشہور درہ ہیں۔ درہ خیبر، درہ مالاکند ، درہ گنداب، درہ کوہاٹ، در ہ نیگاش، در ہ گومل ، در ہ ٹوچی اور درہ بولان۔ پانچ دریا ہیں۔ پختونیستان میں دریا سوات، دریاخرم ، دریاٹوچی اوردریا گومل بہتے ہیں۔ پختونیستان میں رہنے والے پشتون، پختون اور پھٹان کہلاتے ہیں۔

    پختون کون ہیں اور کہاں سے اس علا قہ میں آے کسی کو اس کا صحیح پتہ نہیں۔ لیکن ان کے مطلق چار قیاس آرایئ ہیں۔

    مشہور عالم البیرونی نے جو دسویں صدی میں غزنی میںرہا ‘ اس نے تاریخ الہند ‘ میں پختون کے مطلق لکھا ہے۔ ” ایک باغی اور جنگلی قوم ہندوستان کے مشرق میں بستی ہے۔”

    میجر ارٹی ای ریج وے نے اٹھارویں صدی میںاپنی کتاب ‘پھٹان’ میں لکھا۔ پھٹان حضرت سلیمان کے سپہ سالارجےر ے مایہ کے بیٹے افغانہ کی اولاد ہیں” ۔

    بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ جوزف کی اولاد ہیں۔ جوزف کا قبیلہ اُن دس یہودی قبیلوں میںشمار ہوتا ہے جو کھوئے ہوے لوگ کہلاتے ہیں۔

    بعض تاریخ دان کہتے ہیں کے پختون کے نقش و نگا ر اُن قومیں سے جو دریا سندھ کی دوسری طرف رہتی ہیں ملتے ہیں۔ان میں ترکی اور ایران بھی شامل ہیں۔

    اور دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ پٹھان قوم عرب سے قریب ہیں۔جب ہم عرب اور پھٹان قوم کی قبیلہ بندی اور سماجی استعمال کا مطالحہ کتے ہیں تو دونوں میں حیرت انگیز مشاہبت ہے۔

    اسلام سے پہلے عرب میں بھی آذادی سے عشق، شجاعت، برداشت، مہمان نوازی، اور انتقام لینا کے فرض موجود تھے۔

    پختون مرد عموماً ڈھیلی قمیض اور شلوار پہنتا ہے اور ایک بڑی پھگڑی بانتا ہے۔اپنے کندھے پر ایک چادر اور ایک رائفل رکھتا ہے۔ پختون عورتیں عموماً چھاپے ہوے کپڑے پہنتی ہیں۔

    تمام حملہ آور ایرانی، یونانی، ترکی، مغل، افغانی، سکھ اور انگریز جنہوں نے شمالی ایشا کو فتع کیا پختون کو نہ ہرا سکے۔

    پہاڑی پختونً یوسف زایئ، محمند، آفریدی، شنواریز، آرکزایئ، توریس، بانگاش، خٹک، وزیر، اورمسحود ، مرد وں کی سوسائٹی ہے اور نئے قوانین کو بلکل نہیں مانتے پختون بڑے مغرور لوگ ہیں۔ پختون لیڈر خان ولی خان نے ایک دفعہ کہا۔ ” میںپانچ ہزار سال سے پختون ہوں اور مسلمان چودہ سو سال سے اور پاکستانی صرف چالیس سال سے” ۔

    دو خیال ۔

    ‘مہمان نوازی’ اور مجرموں کو پناہ دینا دونوں مختلف ہیں وہ ایک چیز نہیں ہیں۔ پختون کے علا قہ اورپختون کی فلاح و بہبود کے لے ـ ان کو علیحدہ کرنا چائیے۔

    اسلام

    علم فقہ کی بنیاد تین چیزوں پر ہے۔

    اقران کا قانون بنانے والا حصہ،
    سنّت۔جس طرح رسول نے اپنی زندگی گزاری ،
    حدیث ، روایت پر
    ایک حدیث میں رسول نے کہا۔ “مذہب وہ نہیں ہے جو آپ رسموں کی طرح باقاعدہ مشق کرتے ہیں بلکہ وہ ہے جو آپ اپنا تے ہیںاورایک دوسرے سے حصہ کرتے ہیں۔

    سماجی طریقہ اور اسلامی اخلاقیات

    ایک دفعہ حضور صلم مسجد میں داخل ہوے اور دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص تسبیح پڑھ رہا ہے۔ حضور صلم کو بتایا گیا کہ یہ شخص سارا دن مسجد میں گزار تا ہے اور دوسروں کو بھی تبلیغ کرتا ہے۔تو حضور صلم نے پوچھا۔کہ یہ اپنی روزی کیسے کماتا ہے۔ حضور صلم کو بتایا گیا کہ ا یک خدا پرس تاجر اسکے اخراجات ادا کرتا ہے۔ حضور صلم نے کہا ان دونوں میں تاجر کا درجہ بڑا ہے۔

    ایک حدیث میں یہ کہا گیا ہے۔ حضور صلم نے فرمایا۔ “اگرکویئ تمہارے درمیان کسی کو غلطی کرتا دیکھے تواسکا فرض ہے کہ ہاتھوں یعنی عمل، خوش اطوار، اصرار سے اسکو صحیح کرے۔ اگر نہیں تو پھر زبان سے یعنی اس کے خلاف بولے۔اگر تب بھی غلطی موجود رہے تو خاموشی سے ناپسندید گی کا اظہار کرے اور اگرسامنے نہیں تو دل میں کرے ۔ دل میں ناپسندید گی کا اظہار کا درجہ واثق کی نشانی ہے۔

    ]اسلام ، بالغیت، عورت اور شادی۔

    ١۔ اسلا م میںچار عورتوں تک شادی جایئز ہے۔ ” اگر یہ خوف ہے کہ تم یتیموں(جن کو تم نے رکھا) کے ساتھ انصاف نہ کرو گے تو جو تم کو اچھی لگیں ان دو یا تین یا چارعورتوں سے شادی کرلو۔اگر تم ان کو حق نا دے سکو تو ایک سے شادی کرو۔ “(سورۃ ا لنساء )

    ٢۔ اسلام میں عورت کو ڈاوری یا مہر یا والور دینا جایئز ہے۔ ” اور عورتوں کو ڈاوری کا تحفہ دو۔لیکن اگر اپنی مرضی سے اسکے کچھ حصہ تم کو دیںتو تم اس کو خوشی سے لے لو۔” (سورۃ ا لنسا ء )

    ٣۔اسلام میں لڑکی اپنی پہلی ماہواری کے بعد بالغ کہلاتی ہے۔ بعض علاقوں میں لڑکیوں کی ماہواری ٩ سال سے ١٢ سال کی عمر میں ہوتی ہے۔ ” کچھ اور تمہاری عورتیں جو کے ماہواری سے گزر چکی ہیں۔اگر تم کو شک ہو تو تین مہینہ کا انتظارکروـ” (سورۃ ا لنسا ئ)

    ٤۔” یتیموں کو جانچوں اگر وہ شادی کی عمر کے ہیں اور تم ان کو سمجھ دار سمجھتے ہو توان کو ان کی ملکیت واپس دے دو۔” (سورۃ ا لنسا ء )

    ٥ـ ” اور مرد بالغ جب ہوجاتا ہے جب وہ چالیس سال کا ہوجاتاہے۔”(سورۃ الاحقاف)

    sailab

    bara dukh hua jo sailab sa itna tabahi hue. pakistan k kae shehro me. ab recovery to najany kitny mah me ho ge. ALLAH kary un logo ki zindagi mamol par jald he a jaeye.

    ALLAH ALLAH kar k to taliban sa jan chuti thi k ye qudarati afat a gae. ALLAH KHER KARY.

    By sumerasblog Posted in Country

    سوات

    وہ جو دربدر ہوۓ
    خاک بسر ہوۓ
    وہ جو لٹ گئےبے گھر ہوۓ
    وہ نہ مانگیں تم سے تمہارا گھر
    نہ تمہارا سکھ نہ تمہارا در
    وہ تو چاہتے ہیں گزر بسر

    انہی وادیوں میں عمر بھر

    یہ کَڑَا وقت

    یہ تلخیاں

    یہ گردشیں

    یہ بجلیاں

    ہے ہمارے رب کا یہ امتحان

    چلو قافلوں کو کرو رواں

    آؤ مل کر ان کا ساتھ دو

    جو مدد کرے وہ ہاتھ دو

    کہ یہ اپنی دھرتی کےلوگ ہیں

    انہیں زندگی کی سوغات دو

    انہیں پھر وہی سوات دو

    آئی ایس آئی کے طالبان سے رابطے اب تک کے اندازوں سے زیادہ گہرے ہیں۔

    طالبان سے رابطوں کا الزام بدنیتی پر مبنی: فوج

    پاکستان نے ایک برطانوی تعلیمی ادارے کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے طالبان سے رابطے اب تک کے اندازوں سے زیادہ گہرے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی طالبان کو اندازوں سے زیادہ بڑے پیمانے پر وسائل، تربیت اور پناگاہیں فراہم کرتی ہے۔

    پاکستان نے اس رپورٹ کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔ لندن کے مشہور ادارے لندن سکول آف اکنامکس میں تیار ہونے والی یہ رپورٹ نو طالبان کمانڈروں سے بات چیت پر مبنی ہے۔

    پاکستانی فوج کے ایک ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ یہ پاکستان کے خلاف بدنیتی پر مبنی ایک مہم کا حصہ ہیں۔انہوں نے ان الزامات کو ’بکواس‘ قرار دیا۔

    رپورٹ کے مصنف نے اس سال کے آغاز میں طالبان کے نو فیلڈ کمانڈروں سے بات کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان کے تعلقات مزاحمت کاروں سے رابطے اندازوں سے زیادہ گہرے ہیں۔

    کچھ طالبان کمانڈروں کی باتوں سے معلوم ہوتا تھا کہ آئی ایس آئی کے لوگ طالبان کی سپریم کونسل کے اجلاس میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ ان طالبان کمانڈروں کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی مزاحمت کاروں کی مدد کر کے افغانستان میں انڈیا کے اثر رسوخ کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔

    پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا یہ الزامات ملک کی سکیورٹی ایجنسیوں اور فوج کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ رپورٹ کے اختتام میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے اپنی پالیسی میں قابل ذکر تبدیلی کے بغیر افغانستان کی حکومت اور عالمی برادری دونوں کے لیے افغانستان میں مزاحمت کو ختم کرنا ناممکن ہو گا۔

    By sumerasblog Posted in Country

    Creativity at it’s best

    A music video from the premiere mini album “Water Flavor EP”, from the Japanese band “Sour”, for the song “Hibi no Neiro” (Tone of everyday). The video was shot with webcams only, and the main protagonists are Sour fans from around the world.

    ویلنٹائن ڈے: جب تم حیا نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ویلنٹائن ڈے اس آزاد تعلق کو منانے کا دن ہے۔اس کی ابتدا کے متعلق یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ بت پرست رومی تہذیب سے شروع ہوا یا تثلیث کے فرزندوں کی پیداوار ہے مگر اس کا فروغ ایک ایسے معاشرے میں ہوا جہاں حیا کی موت نے ہر (Love Affair) کو (Lust Affair) میں بدل دیا ہے۔ مغرب کا یہ تحفہ اب کرسمس کے بعددنیا کا سب سے زیادہ مقبول تہوار بن چکا ہے۔ہر گزرتے سال ، میڈیا کے زیر اثر، ہمارے ملک میں بھی اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

    ہم مغرب سے آنے والی ہر چیز کے مخالف نہیں۔مگر کسی دوسری قوم کے وہ تہوار ،جن کا تعلق کسی تہذیبی روایت سے ہو، انہیں قبول کرتے وقت بڑا محتاط رہنا چاہیے۔یہ تہوار اس لیے منائے جاتے ہیں تاکہ کچھ عقائد وتصورات انسانی معاشروں کے اندر پیوست ہوجائیں۔ مسلمان عیدالاضحیٰ کے تہوار پر حضرت ابراہیم ؑ کی خدا سے آخری درجہ کی وفاداری کی یاد مناتے ہیں۔آج ہم ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں تو گویا ہم اس نقطۂ نظر کو تسلیم کررہے ہیں کہ مردو عورت کے درمیان آزادانہ تعلق پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔اہل مغرب کی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں سے عصمت مطلوب نہیں۔اپنے نوجوانوں سے ہم پاکدامنی کا مطالبہ نہیں کریں گے۔

    کوئی ہندو عید الاضحی کے موقع پر گائے کو ذبح کرکے مسلمانوں کے ساتھ شامل ہونے کا تصور نہیں کرسکتا۔ لیکن ہندوؤں کی موجودہ نسل گائے کے تقدس سے بے نیاز ہوکر عید کی خوشیوں میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوجائے تو عین ممکن ہے کہ ان کی اگلی نسلیں صبح سویرے مسلمانوں کے ساتھ گائیں ذبح کرنے لگیں۔ٹھیک اسی طرح آج ہم ویلنٹائن ڈے پر خوشیاں منارہے ہیں اور ہماری اگلی نسلیں حیا و عصمت کے ہر تصور کو ذبح کرکے ویلنٹائن ڈے منائیں گی۔

    اسے دور کی کوڑی مت خیال کیجیے ۔ ہماری موجودہ نسلیں صبح و شام اپنے گھروں میں مغربی فلمیں دیکھتی ہیں۔ عریاں اور فحش مناظر ان فلموں کی جان ہوتے ہیں۔ان میں ہیرو اور ہیروئن شادی کے بندھن میں جڑے بغیر ان تمام مراحل سے گزر جاتے ہیں جن کا بیان میاں بیوی کے حوالے سے بھی ہمارے ہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ایسی فلمیں دیکھ دیکھ کر جو نسلیں جوان ہوں گی وہ ویلنٹائن ڈے کو ایسے نہیں منائیں گی جیسا کہ آج اسے منایا جارہا ہے۔جب وہ نسلیں اس دن کو منائیں گی تو خاندان کا ادارہ درہم برہم ہوجائے گا۔اپنے باپ کا نام نہ جاننے والے بچوں سے معاشرہ بھر جائے گا۔مائیں حیا کا درس دینے کے بجائے اپنی بچیوں کو مانع حمل طریقوں کی تربیت دیا کریں گی۔سنگل پیرنٹ (Single Parent) کی نامانوس اصطلاح کی مصداق خواتین ہر دوسرے گھر میں نظر آئیں گی۔

    آج سے چودہ سو برس قبل مدینہ کے تاجدار نے جو معاشرہ قائم کیا تھا اس کی بنیاد حیا پر رکھی گئی تھی۔جس میں زنا کرنا ہی نہیں اس کے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم تھا۔ جس میں زنا ایک ایسی گالی تھا جو اگر کسی پاکدامن پر لگادی جائے تو لگانے والے کو کوڑے مارے جاتے تھے۔جس میں عفت کے بغیر مرد و عورت کا معاشرے میں جینا ممکن نہ تھا۔ اس معاشرے کے بانی نے فیصلہ کردیا تھا:

    ’’جب تم حیا نہ کرو تو جو تمھارا جی چاہے کرو‘‘

    تاجدار مدینہ کے امتیوں نے کبھی حیا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔مگر اب لگتا ہے کہ امتی حیا کے اس بھاری بوجھ کو زیادہ دیر تک اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔اب وہ حیا نہیں کریں گے بلکہ جو ان کا دل چاہے گاوہی کریں گے۔ ویلنٹائن ڈے کسی دوسرے تہوار کا نام نہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ وہ تہوار ہے جب امتی اپنے آقا کو بتاتے ہیں کہ ہم وہ کریں گے جو ہمارا دل چاہے گا۔

    ریحان احمد یوسفی

    World’s tallest tower closed a month after opening

    DUBAI, United Arab Emirates – The world’s tallest skyscraper has unexpectedly closed to the public a month after its lavish opening, disappointing tourists headed for the observation deck and casting doubt over plans to welcome its first permanent occupants in the coming weeks.

    Electrical problems are at least partly to blame for the closure of the Burj Khalifa’s viewing platform — the only part of the half-mile high tower open yet. But a lack of information from the spire’s owner left it unclear whether the rest of the largely empty building — including dozens of elevators meant to whisk visitors to the tower’s more than 160 floors — was affected by the shutdown.

    The indefinite closure, which began Sunday, comes as Dubai struggles to revive its international image as a cutting-edge Arab metropolis amid nagging questions about its financial health.

    The Persian Gulf city-state had hoped the 2,717-foot (828-meter) Burj Khalifa would be a major tourist draw. Dubai has promoted itself by wowing visitors with over-the-top attractions such as the Burj, which juts like a silvery needle out of the desert and can be seen from miles around.

    In recent weeks, thousands of tourists have lined up for the chance to buy tickets for viewing times often days in advance that cost more than $27 apiece. Now many of those would-be visitors, such as Wayne Boyes, a tourist from near Manchester, England, must get back in line for refunds.

    “It’s just very disappointing,” said Boyes, 40, who showed up at the Burj’s entrance Monday with a ticket for an afternoon time slot only to be told the viewing platform was closed. “The tower was one of my main reasons for coming here,” he said.

    The precise cause of the $1.5 billion Dubai skyscraper’s temporary shutdown remained unclear.

    In a brief statement responding to questions, building owner Emaar Properties blamed the closure on “unexpected high traffic,” but then suggested that electrical problems were also at fault.

    “Technical issues with the power supply are being worked on by the main and subcontractors and the public will be informed upon completion,” the company said, adding that it is “committed to the highest quality standards at Burj Khalifa.”

    Despite repeated requests, a spokeswoman for Emaar was unable to provide further details or rule out the possibility of foul play. Greg Sang, Emaar’s director of projects and the man charged with coordinating the tower’s construction, could not be reached. Construction workers at the base of the tower said they were unaware of any problems.

    Power was reaching some parts of the building. Strobe lights warning aircraft flashed and a handful of floors were illuminated after nightfall.

    Emaar did not say when the observation deck would reopen. Ticket sales agents were accepting bookings starting on Valentine’s Day this Sunday, though one reached by The Associated Press could not confirm the building would reopen then.

    Tourists affected by the closure are being offered the chance to rebook or receive refunds.

    The shutdown comes at a sensitive time for Dubai. The city-state is facing a slump in tourism — which accounts for nearly a fifth of the local economy — while fending off negative publicity caused by more than $80 billion in debt it is struggling to repay.

    Ervin Hladnik-Milharcic, 55, a Slovenian writer planning to visit the city for the first time this month, said he hoped the Burj would reopen soon.

    “It was the one thing I really wanted to see,” he said. “The tower was projected as a metaphor for Dubai. So the metaphor should work. There are no excuses.”

    Dubai opened the skyscraper on Jan. 4 in a blaze of fireworks televised around the world. The building had been known as the Burj Dubai during more than half a decade of construction, but the name was suddenly changed on opening night to honor the ruler of neighboring Abu Dhabi.

    Dubai and Abu Dhabi are two of seven small sheikdoms that comprise the United Arab Emirates. Abu Dhabi hosts the federation’s capital and holds most of the country’s vast oil reserves. It has provided Dubai with $20 billion in emergency cash to help cover its debts.

    Questions were raised about the building’s readiness in the months leading up to the January opening.

    The opening date had originally been expected in September, but was then pushed back until sometime before the end of 2009. The eventual opening date just after New Year’s was meant to coincide with the anniversary of the Dubai ruler’s ascent to power.

    There were signs even that target was ambitious. The final metal and glass panels cladding the building’s exterior were installed only in late September. Early visitors to the observation deck had to peer through floor-to-ceiling windows caked with dust — a sign that cleaning crews had not yet had a chance to scrub them clean.

    Work is still ongoing on many of the building’s other floors, including those that will house the first hotel designed by Giorgio Armani that is due to open in March. The building’s base remains largely a construction zone, with entrance restricted to the viewing platform lobby in an adjacent shopping mall.

    The first of some 12,000 residential tenants and office workers are supposed to move in to the building this month.

    The Burj Khalifa boasts more than 160 stories. The exact number is not known.

    The observation deck, which is mostly enclosed but includes an outdoor terrace bordered by guard rails, is located about two-thirds of the way up on the 124th floor. Adult tickets bought in advance cost 100 dirhams, or about $27. Visitors wanting to enter immediately can jump to the front of the line by paying 400 dirhams — about $110 apiece.

    http://news.yahoo.com/s/ap/ml_dubai_tallest_building