What keeps you awake at night?

“Am I honoring my purpose?”

“Am I in control of my life?”

“Is my career going in the right direction?”

“Do I have enough cash in the bank?”

“Am I doing enough for the people around me?”


A Wedding in the Month of Muharram / Misconceptions and Baseless Traditions

By Mufti Taqi Usmani

However, there are some legends and misconceptions with regard to ‘Aashooraa’ that have managed to find their way into the minds of the unlearned, but have no support of authentic Islamic sources, some very common of them are these:
·        This is the day on which Aadam  may  Allaah  exalt  his  mention was created.
·        This is the day when Ibraaheem  may  Allaah  exalt  his  mention was born.
·        This is the day when Allaah accepted the repentance of Aadam  may  Allaah  exalt  his  mention.
This is the day when Doomsday will take place. Whoever takes a bath on the day of ‘Aashooraa’ will never get ill
All these and other similar whims and fancies are totally baseless and the traditions referred to in this respect are not worthy of any credit. Some people take it as Sunnah (established recommended practice) to prepare a particular type of meal on the day of ‘Aashooraa’. This practice, too, has no basis in the authentic Islamic sources.
Some other people attribute the sanctity of ‘Aashooraa’ to the martyrdom of Al-Hussayn  may  Allaah  be  pleased  with  him. No doubt, the martyrdom of Al-Hussayn  may  Allaah  be  pleased  with  him is one of the most tragic episodes of our history. Yet, the sanctity of ‘Aashooraa’ cannot be ascribed to this event for the simple reason that the sanctity of ‘Aashooraa’ was established during the days of the Prophet  sallallaahu  `alayhi  wa  sallam ( may  Allaah exalt his mention ) much earlier than the birth of Al-Hussayn  may  Allaah  be  pleased  with  him. On the contrary, it is one of the merits of Al-Hussayn  may  Allaah  be  pleased  with  him that his martyrdom took place on this blessed day.
Another misconception about the month of Muharram is that it is an evil or unlucky month, for Sayyidna Husain, Radi-Allahu anhu, was killed in it. It is for this misconception that people avoid holding marriage ceremonies in the month of Muharram. This is again a baseless concept, which is contrary to the express teachings of the Holy Quran and the Sunnah. If the death of an eminent person on a particular day renders that day unlucky for all times to come, one can hardly find a day of the year free from this bad luck because every day is associated with the demise of some eminent person. The Holy Quran and the Sunnah of the Holy Prophet, Sall-Allahu alayhi wa sallam, have liberated us from such superstitious beliefs.


Lamentations and mourning:
Another wrong practice related to this month is to hold the lamentation and mourning ceremonies in the memory of martyrdom of Al-Hussayn  may  Allaah  be  pleased  with  him. As mentioned earlier, the event of Karbalaa’ is one of the most tragic events of our history, but the Prophet  sallallaahu  `alayhi  wa  sallam ( may  Allaah exalt his mention ) has forbidden us from holding the mourning ceremonies on the death of any person. The people of Pre-Islamic ignorance era used to mourn over their deceased through loud lamentations, by tearing their clothes and by beating their cheeks and chests. The Prophet  sallallaahu  `alayhi  wa  sallam ( may  Allaah exalt his mention ) prevented the Muslims from doing all this and directed them to observe patience by saying “Inna lillaahi wa inna ilayhi raaji’oon” (To Allaah We belong, and to Him is our return). A number of authentic narrations are available on the subject. To quote only one of them: “He is not from us who slaps his checks, tears his clothes and cries in the manner of the people of jahiliyyah (Pre-Islamic ignorance)”. [Al-Bukhaari]
All the prominent jurists are unanimous on the point that the mourning of this type is impermissible. Even Al-Hussayn  may  Allaah  be  pleased  with  him shortly before his demise, had advised his beloved sister Zaynab  may  Allaah  be  pleased  with  her not to mourn over his death in this manner. He  may  Allaah  be  pleased  with  him said, “My dear sister! I swear upon you that in case I die you shall not tear your clothes, nor scratch your face, nor curse anyone for me or pray for your death.” (Al-Kaamil, Ibn Katheer vol. 4 pg. 24)
It is evident from this advice, that this type of mourning is condemned even by the blessed person for the memory of whom these mourning ceremonies are held. Every Muslim should avoid this practice and abide by the teachings of the Prophet  sallallaahu  `alayhi  wa  sallam ( may  Allaah exalt his mention ).

Q. Could you please explain whether any function, particularly weddings, could be held in the month of Muharram, particularly its first 8 or 9 days?

A. Some people hold a notion that it is not permissible to arrange a marriage or make a marriage contract in the month of Muharram, particularly its first ten days. Some extend this to even arranging the waleemah, or the dinner after marriage, in this period. There is nothing in the Qur’an or the Sunnah to confirm this. The Muharram month is the same as the rest of the year. Muslims do not allow any aspect of omen to interfere with their arrangements or plans. They rely on God in all matters, and reliance on God is sufficient to remove any thoughts of bad omen. The Prophet (peace be upon him) in fact spoke against notions of bad omen. They have no substance. Hence, it is perfectly permissible to arrange a marriage in the month of Muharram and also to arrange the waleemah or any other function. In fact marriage can be contracted and organized at any time, except when a person is in the state of consecration, or ihraam, during his pilgrimage or his Umrah. Other than this, there is no restriction. Aljazeerah

ماں باپ

سورة لقمَان
اور (اُس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا۔ شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے (۱۳) اور ہم نے انسان کو جسے اُس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اُٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور( آخرکار) دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے (۱۴) اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے رستے پر چلنا پھر تم کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کام تم کرتے رہے میںسب سے تم کو آگاہ کروں گا (۱۵)
ماں باپ کے حقوق

ماں باپ کے حقوق

ماں باپ کے حقوق

ماں باپ کے حقوق

ماں باپ کے حقوق

ماں باپ کے حقوق

source : minhajbooks

اس کا نام قیامت ہے

ارشاد باری تعالی ہے
ہر جان کو موت کا مزا چکھنا ہے ، اور ہم تمہاری آزمائش کرتے ہیں برائی اور بھلائی سے ، جانچنے کو ، اور ہماری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے 
(الانبیاء : ۳۵، کنزالایمان )

روح کے جسم سے جدا ہوجانے کا نام موت ہے اور یہ ایسی حقیقت ہے کہ جس کا دنیا میں کوئی منکر نہیں ، ہر شخص کی زندگی مقرر ہے نہ اس میں کمی ہو سکتی ہے اور نہ زیادتی 
(یونس : ۴۹)

، موت کے وقت کا ایمان معتبر نہیں ، مسلمان کے انتقال کے وقت وہاں رحمت کے فرشتے آتے ہیں جبکہ کافر کی موت کے وقت عذاب کے فرشتے اترتے ہیں۔

مسلمانوں کی روحیں اپنے مرتبہ کے مطابق مختلف مقامات میں رہتی ہیں بعض کی قبر پر ، بعض کی چاہ زمزم میں ، بعض کی زمین و آسمان کے درمیان ، بعض کی پہلے سے ساتویں آسمان تک ، بعض کی آسمانوں سے بھی بلند ، بعض کی زیر عرش قندیلوں میں اور بعض کی اعلی علیین میں ، مگر روحیں کہیں بھی ہوں ان کا اپنے جسم سے تعلق بدستور قائم رہتا ہے جو ان کی قبر پر آئے وہ اسے دیکھتے پہچانتے اور اس کا کلام سنتے ہیں بلکہ روح کا دیکھنا قبر قبر ہی سے مخصوص نہیں ، اس کی مثال حدیث میں یوں بیان ہوئی ہے کہ ایک پرندہ پہلے قفس میں بند تھا اور اب آزاد کر دیا گیا ۔ ائمہ کرام فرماتے ہیں ، بیشک جب پاک جانیں بدن کے علاقوں سے جدا ہوتی ہیں تو عالم بالا سے مل جاتی ہیں اور سب کچھ ایسا دیکھتی سنتی ہیں جیسے یہاں حاضر ہیں ۔ حدیث پاک میں ارشادہوا ، جب مسلمان مرتا ہے تو اس کی راہ کھول دی جاتی ہے وہ جہاں چاہے جائے۔

کافروں کی بعض روحیں مرگھٹ یا قبر پر رہتی ہیں ، بعض چاہ برہوت میں ، بعض زمین کے نچلے طبقوں میں ، بعض اس سے بھی نیچے سجین میں ، مگر وہ کہیں بھی ہوں اپنے مرگھٹ یا قبر پر گزرنے والوں کو دیکھتے پہچانتے اور ان کی بات سنتے ہیں ، انہیں کہیں جان آنے کا اختیار نہیں ہوتا بلکہ یہ قید رہتی ہیں ، یہ خیال کہ روح مرنے کے بعد کسی اور بدن میں چلی جاتی ہے ، اس کا ماننا کفر ہے ۔

دفن کے بعد قبر مردے کو دباتی ہے اگر وہ مسلمان ہو تو یہ دبانا ایسا ہوتا ہے جیسے ماں بچے کوآغوش میں لیکر پیار سے دبائے اور اگر وہ کافر ہو تو زمین اس زور سے دباتی ہے کہ اس کی ایک طرف کی پسلیاں دوسری طرف ہوجاتی ہیں۔ مردہ کلام بھی کرتا ہے مگر س کے کلام کو جنوں اور انسانوں کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے۔

جب لوگ مردے کو دفن کر کے وہاں سے واپس ہوتے ہیں تو وہ مردہ انکے جوتوں کی آواز سنتا ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے زمین چیرتے آتے ہیں انکی صورتیں نہایت ڈراؤنی ، آنکھیں بہت بڑی اور کالی و نیلی ، اور سر سے پاؤں تک ہیبت ناک بال ہوتے ہیں ایک کا نام منکر اور دوسرے کا نکیر ہے وہ مردے کو جھڑک کر اٹھاتے اور کرخت آوازمیں سوال کرتے ہیں

پہلا سوال : ( من ربک ) تیرا رب کون ہے ؟

دوسرا سوال : ( ما دینک ) تیرا دین کیا ہے ؟

تیسرا سوال : حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کر کے پوچھتے ہیں ( ما کنت تقول فی ھذا الرجل ) انکے بارے میں تو کیا کہتا تھا؟

مسلمان جو اب دیتا ہے ، میرا رب اللہ ہے ، میرا دین اسلام ہے ، میں گواہی دیتاہوں کہ یہ اللہ تعالی کے رسول ہیں فرشتے کہتے ہیں ، ہم جانتے تھے کہ تو یہی جواب دے گا پھر آسمان سے ندا ہوگی ، میرے بندے نے سچ کہا ، اس کے لیے جنتی بچھونا بچھاؤ ، اسے جنتی لباس پہناؤ اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو ، پھر دروازہ کھول دیا جاتا ہے جس سے جنت کی ہوا اور خوشبو اس کے پاس آتی رہتی ہے اور تاحد نظر اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے اور اس سے کہا جاتا ہے ، تو سو جا جیسے دولہا سوتا ہے یہ مقام عموما خواص کے لئے اور عوام میں ان کے لئے ہے جنہیں رب تعالی دینا چاہے ، اسی طرح وسعت قبر بھی حسب مراتب مختلف ہوتی ہے ۔

اگر مردہ کافر و منافق ہے تو وہ ان سوالوں کے جواب میں کہتا ہے ، افسوس مجھے کچھ معلوم نہیں ، میں جو لوگوں کو کہتے سنتا تھا وہی کہتا تھا، اس پر آسمان سے منادی ہوتی ہے یہ جھوٹا ہے اس کے لئے آگ کا بچھونا بچھاؤ ، اسے آگ کالباس پہناؤ اور جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دیا ، پھر اس دروازے سے جہنم کی گرمی اورلپٹ آتی رہتے ہے اور اس پر عذاب کے لئے دو فرشتے مقرر کر دیے جاتے ہیں۔ جو اسے لوہے کے بہت بڑے گرزوں سے مارتے ہیں نیز عذاب کے لئے اس پر سانپ اور بچھو بھی مسلط کر دیے جاتے ہیں۔

قبر میں عذاب یا نعمتیں ملنا حق ہے اور یہ روح و جسم دونوں کے لئے ہے ، اگر جسم جل جائے یا گل جائے یا خاک ہوجائے تب بھی اس کے اجزائے اصلیہ قیامت تک باقی رہتے ہیں ان اجزاء اور رو ح کا باہمی تعلق ہمیشہ قائم رہتا ہے اور دونوں عذاب و ثواب سے آگا ہ و متاثر ہوتے ہیں۔ اجزائے اصلیہ ریڑھ کی ہڈی میں ایسے باریک اجزاء ہوتے ہیں جو نہ کسی خوردبین سے دیکھے جاسکتے ہیں نہ آگ انہیں جلا سکتی ہے اور نہ ہی زمین انہیں گلاسکتی ہے ۔ اگر مردہ دفن نہ کیا گیا یا اسے درندہ کھا گیا ایسی صورتوں میں بھی اس سے وہیں سوال و جواب اور ثواب و عذاب ہوگا۔

بیشک ایک دن زمین و آسمان ، جن و انسان اور فرشتے اور دیگرتمام مخلوق فنا ہو جائے گی۔ اس کا نام قیامت ہے ۔ اس کا واقع ہونا حق ہے اور اس کا منکر کافر ہے ۔ قیامت آنے سے قبل چند نشانیان ظاہر ہونگی: دنیا سے علم اٹھ جائے گا یعنی علماء باقی نہ رہیں گے، جہالت پھیل جائے گی ، بے حیائی اور بدکاری عام ہوجائے گی ، عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہوجائے گی ، بڑے دجال کے سوا تیس دجال اور ہونگے جو نبوت کا دعوی کریں گے حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ، مال کی کثرت ہوگی ، عرب میں کھیتی ، باغ اور نہریں جاری ہوجائیں گی ، دین پر قائم رہنا بہت دشوار ہوگا ، وقت بہت جلد گزرے گا ، زکوہ دینا لوگوں پر گراں ہوگا ، لوگ دنیا کے لئے دین پڑھیں گے ، مرد عورتوں کی اطاعت کریں گے ، والدین کی نافرمانی زیادہ ہوگی ، دوست کو قریب اور والد کو دور کریں گے ، مسجدوں میں آوازیں بلند ہونگی ، بدکار عورتوں اور گانے بجانے کے آلات کی کثرت ہوگی ، شراب نوشی عام ہوجائے گی ، فاسق اور بدکار سردار حاکم ہونگے، پہلے بزرگوں پر لوگ لعن طعن کریں گے ، دروندے ، کوڑے کی نوک اور جوتے کے تسمے باتیں کریں گے ۔ 
(ماخوذ از بخاری ، ترمذی )

کانا دجال ظاہر ہوگا جس کی پیشانی پر کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا، وہ حرمین طیبین کے سوا تمام زمین میں پھرے گا ، اس کے ساتھ ایک باغ اور ایک آگ ہوگی جس کا نام وہ جنت و دوزخ رکھے گا ، جو اس پر ایما ن لائے گا اسے اپنی جنت میں ڈالے گا جو کہ درحقیقت آگ ہوگی اور اپنے منکر کو دوزخ میں ڈالے گا جو کہ در اصل آرام و آسائش کی جگہ ہوگی ۔ دجال کئی شعبدے دکھائے گا ، وہ مردے زندہ کرے گا ، سبزہ ا گائے گا ، بارش برسائے گا ، یہ سب جادوں کے کرشمے ہونگے۔

جب ساری دنیا میں کفر کا تسلط ہوگا توتمام ا بدال و اولیاء حرمین شریفین کو ہجرت کر جائیں گے اسوقت صرف وہیں اسلام ہوگا ۔ ابدال طواف کعبہ کے دواران امام مہدی رضی اللہ عنہ کو پہچان لیں گے اور ان سے بیعت کی درخواست کریں گے وہ انکار کر دیں گے ، پھر غیب سے ندا آئے گی ، (یہ اللہ تعالی کے خلیفہ مہدی ہیں ان کا حکم سنو اور اطاعت کرو) ۔ سب لوگ آپ کے دست مبارک پر بیعت کریں گے ، آپ مسلمانوں کو لیکر ملک شام تشریف لے جائیں گے۔

جب دجال ساری دنیا گھوم کر ملک شام پہنچے گا اس وقت حضرت عیسٰی علیہ السلام جامع مسجد دمشق کے شرقی مینارہ پر نزول فرمائیں گے ، اس وقت نماز فجر کے لئے اقامت ہوچکی ہوگی ، آپ امام مہدی رضی اللہ عنہ کو امامت کا حکم دیں گے اور وہ نماز پڑھائیں گے ۔ دجال ملعون حضرت عیسٰی علیہ السلام کے سانس کی خوشبو سے پگھلنا شروع ہوگا جیسے پانی میں نمک گھلتا ہے ، جہاں تک آپکی نظر جائےگی وہاں تک آپ کی خوشبو پہنچے گی ، دجال بھاگے گا آپ اس کا تعاقب فرمائیں گے اور اسے بیت المقدس کے قریب مقام (لد) میں قتل کردیں گے۔

حضرت عیسی علیہ السلام کا زمانہ بڑی خیر و برکت کا ہوگا ، زمین اپنے خزانے ظاہر کر دے گی ، مال کی کثرت کے باعث لوگوں کو مال سے رغبت نہ رہے گے ، آپ صلیب توڑیں گے اور خنزیر قتل کریں گے یہودیت ، نصرانیت اور تمام باطل مذاہب مٹادیں گے ، ساری دنیا میں دین صرف اسلام ہوگا اورمذہب صرف اہلسنت ۔ آپ کے عہد میں شیر اور بکری ایک ساتھ کھائیں گے ، بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور بغض و حسد اور عداوت کا نام و نشان نہ رہے گا، آپ چالیس سال قیام فرمائیں گے ، نکاح کریں گے ، اولاد بھی ہوگی اور بعد وصال آپ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں مدفون ہونگے ۔

دجال کے قتل کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کو رب تعالی کا حکم ہوگا کہ مسلمانوں کو کوہ طور پر لے جاؤ۔ مسلمانوں کے کوہ طور پرجانے کے بعد یاجوج ماجوج ظاہر ہونگے ، یہ فسادی لوگ ہیں جو حضرت سکندر ذوالقرنین کی بنائی ہوئی آہنی دیوار کے پیچھے محصور ہیں اس وقت یہ دیوار توڑ کر نکلیں گے اور زمیں میں قتل و غارت اور فساد پھیلائیں گے ۔ پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی دعا سے اللہ تعالی ان کی گردنوں میں ایک خاص قسم کے کیڑے پیدا فرمائے گا جس سے یہ سب ہلاک ہوجائیں گے۔

قیامت سے قبل ایک عجیب شکل کا جانور ظاہر ہوگا جس کا نام دائتہ الارض ہے ، یہ کوہ صفا سے ظاہر ہوکر تمام دنیا میں پھرے گا ، فصاحت کے ساتھ کلام کرے گا ، اس کے پاس حضرت موسی علیہ السلام کا عصا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہوگی ، یہ عصا سے ہر مسلمان کی پیشانی پر ایک نورانی نشان بنائے گا اور انگوٹھی سے ہر کافر کے ماتھے پر سیاہ دھبہ لگائے گا ، اس وقت تمام مسلم و کافر علانیہ ظاہر ہوجائیں گے۔ پھر جو کافر ہے ہر گز ایمان نہ لائے گا اور مسلمان ہمیشہ ایمان پر قائم رہے گا ۔

جب دابتہ الارض نکلے گا تو حسب معمول آفتاب بارگاہ الہی میں سجد ہ کر کے طلوع کی اجازت چاہے گا اجازت نہ ملے گی بلکہ حکم ہوگا واپس جا ۔ تو آفتاب مغرب سے طلوع ہو گا اور نصف آسمان تک آ کر واپس لوٹ جائے گا ۔ اور پھر مغرب کی جانب غروب ہوگا۔ اس نشانی کے ظاہر ہوتے ہی توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ 
( از مسلم ، بخاری ، مشکوہ )

جب قیامت آنے میں چالیس برس رہ جائیں گے ۔ تو ایک خوشبودار ٹھنڈی ہوا چلے گی جو لوگوں کی بغلوں کے نیچے سے گزرے گی جس کے اثر سے ہر مسلمان کی روح قبض ہوجائے گی ، صرف کافر ہی باقی رہ جائیں گے اور انہیں کافروں پر قیامت قائم ہو گی۔ جب یہ سب علامات پوری ہوجائیں گی اور زمین پر کوئی اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو حکم الہی سے حضرت اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے ، شروع میں اس کی آواز بہت باریک ہوگی پھر رفتہ رفتہ بہت بلند ہوجائے گی ، لوگ اسے سنیں گے اور بے ہوش ہو کر گرپڑیں گے ۔ اور مرجائیں گے ، زمین و آسمان ، فرشتے اور ساری کائنات فنا ہوجائے گی ، ا س وقت اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہ ہوگا ، وہ فرمائے
گا ، ( آج کس کی بادشاہت ہے ؟ کہاں ہیں جبار اور متکبر لوگ ؟ کوئی جواب دینے والا نہ ہوگا پھر خود ہی فرمائے گا
( للہ الواحد القھار ) ترجمہ ۔ ( صرف اللہ واحد قھار کی بادشاہت ہے )

پھر جب اللہ تعالی چاہے گا حضرت اسرافیل علیہ السلام کو زندہ فرمائے گا اور صور کو پیدا کر کے دوبارہ پھونکنے کا حکم دے گا ، صور پھونکتے ہی پھر سب کچھ موجود ہوجائے گا، سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے روضہء اطہر سے یوں باہر تشریف لائیں گے کہ دائیں ہاتھ میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور بائیں ہاتھ میں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھامے ہونگے پھر مکہ مکرمہ و مدینہ طیبہ میں مدفون مسلمانوں کے ہمراہ میدان حشر میں تشریف لے جائیں گے ۔

دنیا میں جو روح جس جسم کے ساتھ تھی اس روح کا حشر اسی جسم میں ہوگا ، جسم کے اجزاء اگرچہ خاک یا راکھ ہوگئے ہوں یا مختلف جانوروں کی غذا بن چکے ہوں پھر بھی اللہ تعالی ان سب اجزاء کو جمع فرما کر قیامت میں زندہ کرے گا

ارشاد باری تعالی ہے 
بولو، ایسا کون ہے کہ ہڈیوں کو زندہ کرے جب وہ بالکل گل گئیں ؟ تم فرماؤ ، انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے پہلی بار انہیں بنایا اور اسے ہر پیدائش کا علم ہے 
(یس : ۷۸ ، ۷۹، کنز الایمان )

میدان حشر ملک شام کی زمین پر قائم ہوگا اور زمین بالکل ہموار ہوگی۔ ان دن زمین تانبے کی ہوگی اور آفتاب ایک میل کے فاصلے پر ہوگا، گرمی کی شدت سے دماغ کھولتے ہونگے ، پسینہ کثرت سے آئے گا ، کسی کے ٹخنوں تک ، کسی کے گھٹنوں تک، کسی کے گلے تک اور کسی کے منہ تک لگام کی مثل ہوگا یعنی ہر شخص کے اعمال کے مطابق ہوگا ۔ یہ پسینہ نہایت بدبو دار ہوگا ، گرمی کی کی شدت سے زبانیں سوکھ کر کانٹا ہو جائیں گی ، بعض کی زبانیں منہ سے باہر نکل آئیں گی اور بعض کے دل گلے تک آجائیں گے ، خوف کی شدت سے دل پھٹے جاتے ہونگے ہر کوئی بقدر گناہ تکلیف میں ہوگا ، جس نے زکوہ نہ دی ہوگی اس کے مال کو خوب گرم کر کے اس کی کروٹ ، پیشانی اور پیٹھ پر داغ لگائے جائیں گے۔ وہ طویل دن خداکے فضل سے اس کے خاض بندوں کے لئے ایک فرض نماز سے زیادہ ہلکا اور آسان ہوگا۔

قیامت کے دن کے متعلق قرآن حکیم میں ارشاد ہوا 
جس دن آسمان ایسے ہوگا جیسے گلی ہوئی چاندی ، اور پہاڑ ایسے ہلکے ہوجائیں گے جیسے اون، اور کوئی دوست کسی دوست کو دیکھنے کے باوجود اس کا حال نہ پوچھے گا، مجرم آرزو کرے گا کہ کاش ! اس د ن کے عذاب سے چھٹنے کے بدلے میں دیدے اپنے بیٹے ، اور اپنی بیوی ، اور اپنا بھائی ، اور اپنا کنبہ جس میں اس کی جگہ ہے ، اور جتنے زمین میں ہیں سب ، پھر یہ بدلہ دینا اسے بچالے؟ ہرگز نہیں ۔ 
(المعارج : ۸ تا ۱۵)

قیامت کا دن پچاس ہزار برس کے برابر ہوگا۔ اور آدھا دن تو انہی مصائب و تکالیف میں گزرے گا ۔ پھر اہل ایمان مشورہ کر کے کوئی سفارشی تلاش کریں گے ۔ جو ان مصائب سے نجات دلائے ۔ پہلے لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس حاضر ہو کر شفاعت کی درخواست کریں گے ، میں اس کام کے لائق نہیں تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ کے خلیل ہیں ، پس لوگ ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوجائیں گے آپ فرمائیں گے ، میں اس کام کے لائق نہیں تم موسی علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ وہاں جائیں گے ۔ تو وہ بھی یہی جواب دیں گے اور عیسی علیہ السلام کے پاس بھیج دیں گے۔ وہ فرمائیں گے ، تم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ وہ ایسے خاص بندے ہیں کہ ان کے لئے اللہ تعالی نے ان کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرمادیے۔ پھر سب لوگ حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہونگے اور شفاعت کی درخواست کریں گے۔ آقا علیہ السلام فرمائیں گے ، میں ا س کام کے لئے ہوں ، پھر آپ بارگاہ الہی میں سجدہ کر-یں گے ۔ ارشاد باری تعالی ہوگا

اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! سجدہ سے سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی ، اور مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا ، اور شفاعت کرو تمہاری قبول کی جائے گی 
(از بخاری ، مسلم ، مشکوہ) 

آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم مقام محمود پر فائز کیے جائیں گے

قرآن کریم میں ہے 
قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے ۔ جہاں سب تمہاری حمد کریں 
(بنی اسرائیل : ۷۹)

مقام محمود مقام شفاعت ہے آپ کو ایک جھنڈا عطا ہوگا جسے ( لواء الحمد ) کہتے ہیں ، تمام اہل ایمان اسی جھنڈے کے نیچے جمع ہونگے اور حضور علیہ السلام کی حمد و ستائش کریں گے ۔

شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک شفاعت تو تمام اہل محشر کے لئے ہے جو میدان حشرمیں زیادہ دیر ٹہرنے سے نجات اور حساب و کتاب شروع کرنے کے لئے ہو گی ۔ آپ کی ایک شفاعت ایسی ہوگی جس سے بہت سے لوگ بلا حساب جنت میں داخل ہونگے جبکہ آپ کی ایک شفاعت سے جہنم کے مستحق بہت سے لوگ جہنم میں جانے سے بچ جائیں گے ۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بہت سے گنا ہ گار جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دیے جائیں گے۔ نیز آپ کی شفاعت سے اہل جنت بھی فیض پائیں گے اور انکے درجات بلند کیے جائیں گے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دیگر انبیا ء کرام اپنی اپنی امتوں کی شفاعت فرمائیں گے ۔ پھر اولیائے کرام ، شہداء علماء حفاظ حجاج فوت شدہ نا بالغ بچے اپنے ماں باپ کی شفاعت کریں گے ۔ ا گر کسی نے علماء حق میں سے کسی کو دنیا میں وضو کے لیے پانی دیا ہوگا تو وہ بھی یاد دلاکر شفاعت کی درخواست کرے گا اور وہ اس کی شفاعت کریں گے۔

حساب حق ہے اس کا منکر کافر ہے ۔

پھر بیشک ضرور اس دن تم سے نعمتوں کی پرسش ہوگی 
(التکاثر : ۸، کنز الایمان )

حضور علیہ السلام کے طفیل بعض اہل ایمان بلا حساب جنت میں داخل ہونگے ، کسی سے خفیہ حساب کیا جائے گا ، کسی سے علانیہ ، کسی سے سختی سے اور بعض کے منہ پر مہر کردی جائے گی اور ان کے ہاتھ پاؤں و دیگر اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے ۔ قیامت کے دن نیکوں کو دائیں ہاتھ میں اور بروں کو بائیں ہاتھ میں ان کا نامہ اعمال دیا جائے گا، کافر کا بایاں ہاتھ ان کی پیٹھ کے پیچھے کر کے اس میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔

اور البتہ وہ شخص جس کا نامۂ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا
(الانشقاق : ۱۰)

ارشاد باری تعالی ہے

بیشک تم پر کچھ نگہبان ہیں ، معزز لکھنے والے ، جانتے ہیں جو کچھ تم کرو
(الانفطار : ۱۰ تا ۱۲ )

انسان کے دائیں کندھے کی طرف نیکیاں لکھنے والے فرشتے ہوتے ہیں اور بائیں طرف برائیاں لکھنے والے ۔ انسان کے نامہ اعمال میں سب کچھ لکھا جاتا ہے

قرآن کریم میں ہے
قیامت کے دن مجرم ) کہیں گے ، ہائے خرابی ! ہمارے اس نامہ اعمال کو کیا ہو ا، نہ ا س نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر نہ لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے پایا ، اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا
(الکہف : ۴۹ ، کنز الایمان )

میزان حق ہے یہ ایک ترازو ہے جس پر لوگوں کے نیک و بد اعمال تو لے جائیں گے

ارشاد باری تعالی ہے
اور اس دن تو ل ضرور ہونی ہے توجن کے پلے بھاری ہوئے وہی مراد کو پہنچے ، اور جن کے پلے ہلکے ہوئے تو وہی ہیں جنہوں نے اپنی جان گھاٹے میں ڈالی
(الاعراف : ۸، ۹ ، کنز الایمان )

نیکی کا پلہ بھاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ پلہ اوپر کو اٹھے جبکہ دنیا میں بھاری پلہ نیچے کو جھکتا ہے

حوض کوثر حق ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا گیا ، ایک حوض میدان حشر میں اور دوسرا جنت میں ہے اور دونوں کا نام کوثر ہے کیونکہ دونوں کا منبع ایک ہی ہے ۔ حوض کوثر کی مسافر ایک ماہ کی راہ ہے ، اس کے چاروں کناروں پر موتیوں کے خیمے ہیں ، اس کی مٹی نہایت خوشبودار مشک کی ہے ، اسکا پانی دودھ سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا اور مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے ، جو اس کا پانی پیے گا وہ کبھی بھی پیاسا نہ ہوگا ۔
(مسلم ، بخاری ) 

صراط حق ہے یہ ایک پل ہے جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا اور جہنم پر نصب کیا جائے گا ۔ جنت میں جانے کا یہی راستہ ہوگا ، سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسے عبور فرمائیں گے پھر دیگر انبیاء و مرسلین علیہم السلام پھر یہ امت اور پھر دوسری امتیں پل پر سے گزریں گی ۔ پل صراط پر سے لوگ اپنے اعمال کے مطابق مختلف احوال میں گزریں گے بعض ایسی تیزی سے گزریں گے جیسے بجلی چمکتی ہے ، بعض تیز ہوا کی مانند ، بعض پرندہ اڑنے کی طرح ، بعض گھوڑا دوڑنےکی مثل اور بعض ایسے گزریں گے جیسے آدمی دوڑتا ہے جبکہ بعض پیٹھ کے بل گھسٹتے ہوئے اور بعض چیونٹی کی چال چلتے ہوئے گزریں گے ۔ پل صراط دونوں جانب بڑے بڑے آنکڑے لٹکتے ہونگے جو حکم الہی سے بعض کو زخمی کردیں گے اور بعض کو جہنم میں گرا دیں گے۔ 
(بخاری ، مسلم ، مشکوہ ) 

سب اہل محشر تو پل صراط پر سے گزرنے کی فکر میں ہونگے اور ہمارے معصوم آقا شفیع محشر صلی اللہ علیہ وسلم پل کے کنارے کھڑے ہو کر اپنی عاصی امت کی نجات کے لئے رب تعالی سے دعا فرما رہے ہونگے ۔ رب سلم رب سلم ) الہی ! ان گناہگاروں کو بجا لے بچالے ، آپ صرف اسی جگہ گرتوں کا سہارا نہ بنیں گے بلکہ کبھی میزان پر گناہ گاروں کا پلہ بھاری بناتے ہونگے اور کبھی حوض کوثر پر پیاسوں کو سیراب فرمائیں گے ، ہر شخص انہی کو پکارے گا اور انہی سے فریاد کر ے گا کیوں کہ باقی سب تو اپنی فکر میں ہونگے اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسروں کی فکر ہوگی۔

اللہ تعالی نے ایمان والوں کے لیے جنت بنائی ہے ۔ اور اس میں وہ نعمتیں رکھی ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں انکا خیال آیا۔ 
(بخاری ، مسلم)

جنت کے آٹھ طبقے ہیں : جنت الفردوس ، جنت عدن ، جنت ماویٰ، دارالخلد ، دارالسلام ، دار المقامہ ، علیین ، جنت نعیم ۔ (تفسیر عزیزی ) جنت میں ہر مومن اپنے اعمال کے لحاظ سے مرتبہ پائے گا۔ 

جنت میں سو درجے ہیں اور ہر درجے میں ا تنی وسعت ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان فاصلہ ہے، جنت کا سب سے اعلی درجہ فردوس ہے ۔ اس میں جنت کی چار نہریں جاری ہیں ، تمام جنتوں سے اوپر عرش ہے ۔ 
( ترمذی ) 

جنت میں چار طرح کی نہریں ہیں پانی کی ، دودھ کی ، شہد کی اور پاکیزہ شراب کی ۔
(محمد : ۱۵)

اہل جنت کو پاکیزہ شراب سے لبریز جام دیے جائیں گے جس کا رنگ سفید ہوگا۔ اور جس کے پینے سے لذت حاصل ہوگی ، نہ اس میں نشہ ہوگا اور نہ اسے پینے سے سر چکرائے گا۔
(الصفت : ۴۵ تا ۴۷)

پہلا گروہ جو جنت میں جائے گا ان کے چہرے چودہویں کے چاند کی طرح روشن ہونگے اور دوسرے گروہ کے چہرے نہایت چمکدار ستارے کی طرح ہونگے ، ان میں کوئی اختلاف و بعض نہ ہوگا۔ جنت میں کوڑا یا چھڑی رکھنے کی جگہ دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے ۔ جنت میں ایک درخت ہے (جس کا نام طوبی ہے ) اس کے سائے میں کوئی سوار تیز رفتار گھوڑے پر سو برس تک سفر کرتا ہے پھر بھی وہ ا س کے سائے کو عبور نہ کر سکے گا۔ 
(بخاری ، مسلم )

جنت کی دیواریں سونے اور چاندی کی اینٹوں اور مشک کے گارے سے بنی ہیں ، اس کی زمین میں مٹی کی بجائے زعفران ہے اور اس نہروں میں کنکریوں کی جگہ موتی اور یاقوت ہیں ، جنت میں رہنے کے لیے موتیوں کے خیمے ہونگے ، اہل جنت خوبصورت بے ریش مرد ہونگے ان کی آنکھیں سرمگیں ہونگی وہ ہمیشہ تیس برس کے دکھائی دیں گے ۔ ان کی جوانی کبھی ختم نہ ہوگی اور نہ ہی ان کے لباس پرانے ہونگے۔ وہ ایک دوسرے کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم افق پر چمکنے والے ستارے کو دیکھتے ہو۔ جنتی ہمیشہ زندہ رہیں گے انہیں نہ بیند آئے گی نہ موت ۔ (مشکوہ )

جنت میں خوبصورت آنکھوں اور سفید رنگ والی حوریں ہونگی جو نہایت اچھی آواز میں حمد و ثنا کا نغمہ (بغیر ساز کے ) گائیں گی ایسی حسین آواز کبھی کسی نے نہ سنی ہوگی وہ کہیں گی ، ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں ہم کبھی نہیں مریں گی ہمیں نعمتیں دی گئی ہیں ہم کبھی محتاج نہ ہونگی ہم راضی رہنے والی ہیں کبھی ناراض نہ ہونگی ، مبارکباد اس کے لیے جو ہمارا ہے اور ہم اس کی ہیں ۔ (ترمذی )

ایک ادنی جنتی کو بھی (۸۰) ہزار خادم اور (۷۲) حوریں ملیں گی ، حوریں ایسی حسین ہونگی کہ ان کے لباس اور گوشت کے باہر ان کی پنڈلویں کا مغز دکھائی دے گا۔ 
(مشکوہ ) 

ارشاد باری تعالی ہوا 
ان (باغوں میں ) عورتیں ہیں عادت کی نیک اور صورت کی اچھی ، تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے ، حوریں ہیں خیموں میں پردہ نشین ، تو اپنے رب کی کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ، ان سے پہلے انہیں ہاتھ نہ لگایا کسی آدمی اور نہ جن نے ، تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
(رحمن : ۷۰ تا ۷۵ ، کنز الایمان )

جنت کی حور اگر زمین کی طرف جھانکے تو زمین سے آسمان تک روشنی ہوجائے اور سب جگہ خوشبو سے بھر جائے 
(بخاری ) 

نیز چاند و سورج کی روشنی ماند پڑجائے، اور اگر وہ سمندر میں تھوک دے تو اس کے تھو ک کی شیرنی کی وجہ سے سمندر کا پانی میٹھا ہوجائے ۔ خیال رہے کہ جو مثالیں جنت کی تعریف میں بیان ہوئی ہیں وہ محض سمجھانے کے لئے ہیں ورنہ دنیا کی اعلی ترین نعمتوں کو جنت کی کسی چیز کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں ہے۔

اللہ عزوجل نے اہل جنت کے متعلق ارشاد فرمایا

اور ان کے خدمت گار لڑکے ان کے گرد پھریں گے گویا وہ موتی ہیں چھپا کر رکھے گئے
نیز فرمایا 
اور ہم نے ان کی مدد فرمائی میوے اور گوشت سے جو چاہیں
(الطور : ۲۴ ، ۲۲)

جنتی جو چاہیں گے فورا ان کے سامنے موجود ہوگا اگر کسی پرندے کا بھنا گوشت کھانے کی خواہش ہوگی تو گلاس وغیرہ خود ہاتھ میں آجائیں گے اور ان میں عین ان کی خواہش کے مطابق مشروب موجود ہوگا۔ جنتیوں کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہوگی ۔
(فاطر : ۳۳ )

اہل جنت کی نیک بیویوں کو کنواری ، ہم عمر اور حسین و جمیل بنا کر جنت میں انکا ساتھ عطا ہوگا ۔
(الواقعہ : ۳۶)

جنتیوں کے مومن والدین اور اولاد کو بھی جنت میں ان سے ملا دیا جائے گا بلکہ ان کے طفیل اعلی مقام دیا جائے گا۔

ارشاد ہوا 
(اور جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ، ہم نے ان کی اولاد ان سے ملادی )
(الطور : ۲۱، کنز الایمان )

جنت میں غم ، بیماری نیز پیشاب ، پاخانہ ، تھوک ، ناک بہنا ، کان کا میل ، بدن کا میل وغیرہ بالکل نہ ہونگے ، جنتیوں کا کھانا ایک فرحت بخش خوشبودار ڈکار اور کستوری کی طرح کوشبودار پسینے سے ہضم ہوجائے گا۔ 
(مسلم ، بخاری )

جنت میں ا یک اعلی ترین نعمت یہ ہے کہ رب تعالی اہل جنت سے فرمائے گا ، میں تمہیں اپنی رضا عطا کرتا ہوں ۔ اور اب ہمیشہ تمہیں میری رضا حاصل رہے گی ۔ جنت میں سب سے عظیم نعمت دیدار باری تعالی ہے فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ بیشک تم اپنے رب کو ان آنکھوں سے دیکھو گے جیسے آفتاب اور چودھویں کے چاند کو ہر ایک اپنی جگہ سے دیکھتا ہے۔ 
( بخاری ، مسلم )

ارشاد باری تعالی ہوا
کچھ مونہہ اس دن تر و تازہ ہوں گے اپنے رب کو دیکھتے (ہوں گے
(القیامتہ : ۲۲ ، ۲۳، کنز الایمان )

جہنم اللہ عزوجل کے قہر و جلال کا مظہر ہے

ارشاد باری تعالی ہے 
(ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ، تیار رکھی ہے کافروں کے لیے)
(البقرہ : ۲۴)

Gates of Happiness are Open

“For you see, each day I love you moreToday more than yesterday and less than tomorrow.”~ Rosemonde Gerard

“You rose into my life like a promised sunrise, brightening my days with the light in your eyes. I’ve never been so strong. Now I’m where I belong.”~ Maya Angelou

“Love is the master key that opens the gates of happiness.”~ Oliver Wendell Holmes

“In the arithmetic of love, one plus one equals everything, and two minus one equals nothing.”~ Mignon McLaughlin

When you realize you want to spend the rest of your life with somebody, you want the rest of your life to start as soon as possible.  ~Nora Ephron, When Harry Met Sally



2010 ka akhri din

This is my annual post, the last post of 2010. and here i will sum up, what happened in my life in that year and look ahead to what’s going to happen in 2011. I do this so I can have a handy record that I can get to in seconds.
First month of 2010 was not good, after the month of march that year starts bringing me alot of happiness, in my personal life as well as in my career. Thanks to ALLAH for each and everything.

Many days was very good, few days was bad. this year i got sick 4 times.
This Year, I read almost 52 great Informative books on Islam, Life, and Science.I learn alot from those books. and i have change my life too much, beacuse i have implemented 80% in my life, that i read from books. Books are the best friends of a person. I spend my free time with books.
This year i didnt watch Television. as compared to past years. Only 2% of my time of 2010 i sit infront of tv to watch it.
I spend alot of my time on internet, for reading articles and news all around the world.

This year was nice. and I pray ALLAH, the coming year 2011 bring alot of happiness for my loved one,family, and friends.and take away all our sorrows and problems from our life. Make us powerfull,happy and healthy,wealthy. and A good MUSLIMS as ALLAH says in QURAN. Ameen

کِھلتے دِل،کُھلتے خیال

محبت اِک حسین شے ہے مگر ہم اُسے نہیں جانتےحسن کی تلاش فہم سے ہے مگر ہم اُسے نہیں مانتے

            ہم اِس دُنیا میں آتے ہیں۔ زندگی میں سیکھتے ہیں اور پھر حاصل علم دوسروں کو سِکھا کر حقیقی راہ پر دُنیا سے کنار ہ کشی فرماتے ہیں۔ایسے ہی ہم ہر برس کچھ نیا جاننے کی کوشش میں بہت کچھ اپناتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ہم اپنا علم نئی نسل کو منتقل کرتے ہیں۔ زندگی میں ہم جو کچھ پاتے ہیں۔اُس کو بالآخر بانٹ کر جانا ہے، ورنہ ہمارے بعد ورثہ بٹ جاتا ہے۔ ہر وُہ شےءجس کی فطرت بانٹنا ہے، وُہ ہمیں زندگی کی حقیقت کی طرف لیجاتی ہے۔ علم بانٹو، محبت بانٹو، خوشی بانٹو، یہی حقیقی دولت ہے، بانٹو اور بڑھاﺅ۔

            انسان عمر بھر حسن کی تلاش میں رہتا ہے۔ حسن کیا ہے؟ ہر انسان کا اپنا اِک معیار ہے۔ اطمینانِ قلب اگر حسن ہے تو تسکینِ ذہن لطفِ افکار ہے۔ نگاہئِ حسن جس کو ملی، اُسکی دُنیا ہی بدلی۔ حسن ذات سے باہر ہے، کسی شےءکی مرکوزیت میں حسن تو ہو سکتا ہے، ممکن ہے وُہ آپ کا قلبی لگاﺅ ہو۔ قلبی واردات تو آپ کو ذات سے باہر لاتی ہے اور کسی اور ذات کی طرف لیجاتی ہے اور مخلوق خدا سے محبت کرنا سکھاتی ہے۔ خلقِ خداکی محبت آپ کو اللہ کی محبت کا رستہ دکھلاتی ہے۔ اللہ سے محبت کا رشتہ جب جڑ جائے تو خوف خوف نہیں رہتے بلکہ محبت بنتے ہیں۔

            حسن کا تصور ملنا خدا کی بہت بڑی دَین ہے۔ زندگی کی حقیقت میں خوبصورت رنگ انسان کے دِلکش رویے اور خیالات ہیں جو اَمن اور سکون قائم رکھتے ہیں۔

            انسان اپنی زندگی آئیڈئیل تھیوری یا ماڈل کے تحت گزارنا چاہتا ہے۔ ہمارے فلسفہ زندگی کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ ہم خامی کا خانہ اپنی تھیوری میں نہیں رکھتے۔ اپنے پیش کردہ ماڈل میں اگر حقیقی رنگ بھر دیں تو زندگی کو زندگی کے سبق سے سیکھا جاسکتا ہے۔

            ہم تنقیدی نگاہیں رکھتے ہیں، حالات کی بہتری حوصلہ اور رہنمائی سے ہوتی ہے۔ ہم زندگی کو بڑے ہی محدود کینوس سے دیکھتے ہیں۔ انسانی چہرہ پر موجود تاثرات کو نہیں سمجھتے۔ شک کی نگاہ سے دوسروں کو دیکھتے ہیں۔ مگر غیر جانبدار ہو کر شک دور نہیں کرتے ۔

            اکثر لوگ خود کو سیکولر کہتے ہیں۔ افسوس! میرا معاشرہ دو متضاد انتہاپرست گرہوں کی ضد کی شدت کے باعث بَٹ رہا ہے۔ کون جانے! سیکولر بننے کے لیے خود کو پہلے صوفی بنناہوتا ہے۔ لفظ صوف سے مراد کسی کے متعلق بغض ، حسد، کینہ اور نفرت دِل میں نہ رکھنا۔ اپنی مرضی مار دینا، اپنوں کی مرضی چھوڑ دینا اور حق بات کا بلا تعصب فیصلہ کرنا۔ اصل میں صوف ہے۔

            ہمارے رویے اس لیے بھی بگڑتے ہیں ہم چھوٹے دِل رکھتے ہیں اور بند نگاہوں کی طرح تنگ ذہنوں میں اُلجھے رہتے ہیں۔

            انسانی فطرت ہے کہ وُہ خواہشات رکھتا ہے، ایسے ہی خواہشات کی تکمیل غلطیوں کا مرتکب بناتی ہے۔ فطری خواہشات انسان کی معصوم خواہشات ہوتی ہے۔ ایسے ہی فطرتی غلطیاں معصوم انسانی غلطیاں ہوتی ہے۔ معصوم غلطیوں کو درگزر کریں بوقت ضرورت مصنوعی سرزنش سے غلطی کا احساس ضرور دلائیںمگر دِل کی میل صاف رکھیں۔ دِل بڑھنے لگے گا۔ برداشت آجائے گی۔

            زندگی کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھے مگر حالات کو دوسروں کی نگاہ سے دیکھے۔ ہم اختلافی مسائل کے بارے میں ایک رائے رکھتے ہیں۔ جن کے بارے میں آپ مخصوص سوچ (نفرت)رکھتے ہیں۔ اُن سے اُنکے خیالات بھی تو جانئے۔ تعصب سے پاک غیر جانبدارانہ سوچ ذہن کھولتی ہے۔ بڑھتے دِل، کُھلتے ذہن؛ بصیرت پاتے ہیں۔

گزشتہ برس میرے لفظوں نے اشعار کا روپ دھارانہیں جانتا ، کس کی دُعا سے میرا خیال خوب بڑھا

            قیادت کو بصیرت کو چاہیے۔ خیالات ذاتیات میں محو ہو جائیں تو خیالات کا محور بصیرت سے محروم ہوتا ہے۔ قیادت حالات کے بھنور میں دھنستی رہتی ہے۔

            حسن زندگی کو توازن دیتا ہے۔ زندگی گزارنا کوئی آئیڈئیل تھیوری نہیں۔ دوسروں کو سمجھ کر ردعمل یوں دینا کہ معاملات سلجھ جائیں۔ خوبی کو خامی کے ساتھ قبول کرنا، حسنِ سلوک ہے۔ دوست ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوتے۔ ہم اُن کو خامیوں سمیت قبول کرتے ہیں۔ اُنکی خامی ہمارے لیے خامی نہیں رہتی۔

            حسن الجبرا کی ایک ایسی مساوات ہے، جس کو ہم مساوی رکھتے ہیں۔ مصور تصویر میں متوازن رنگ بھرتا ہے، شاعر شعر کا وزن مدنظر رکھتاہے، مصنف جملوں میں تواز ن لاتا ہے، گلوگار آواز کے اُتار چڑھاﺅ میں توازن رکھتا ہے، متواز ن غذا صحت لاتی ہے، متوازن گفتگو سوچ کو نکھارتی ہے، متوازن عمل شخصیت بناتے ہیں۔ انسان کا حسن عمل اور سوچ کا توازن ہے تو انسانی شخصیت خوبیوں اور خامیوں کا مرقع ہے۔ ایسے ہی معاشرتی مساوات معاشرے کا حسن ہے۔

            اپنی زندگی کی نئی بہار کے موقع پر گزشتہ برس کی وُہ نئی نگاہ پیش کی۔ جو مجھ کو سلطان شہاب الدین غوریؒ سے عقیدت مندانہ ملاقات کے دوران ملی۔

لوگ اُنکے مرقد کو صرف ایک مقبرہ سمجھتے ہیں۔راہ ِ عقیدت میں جو نگاہ ملی، ہم اُس کومزار مانتے ہیں۔

            یا اللہ آج میری زندگی کا نیا برس شروع ہوچکا ہے، ہم سب پر اپنا کرم فرمانا۔ نئی راہوں کے نئے دروازے کھولنا۔ ہمارے خیالات میں حسن کی نگاہ اور محبت کا جذبہ برقرار رکھنا۔ ہماری راہ منزل میںاپنی رہنمائی جاری رکھنا۔ ہم سب کو اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بنانا۔ آپ سب کو کل سے شروع ہونے والا نیاعیسوی سال نیک تمناﺅں اور دُعا کے ساتھ مبارک ہو۔



معاف کردینا ہی مکارمِ اخلاق میں سے ہے

سعدی کہتے ہیں کہ ہارون الرشید کا لڑکا ابا کے سامنے شکایات لایا اور کہا کہ مجھے فلاں سپاہی کے لڑکے نے ماں کی گالی دی ہے۔ ہارون  نے ارکان دولت سے پوچھا کہ کیوں بھئی کیا سزا ہونی چاہیئے! کسی نے کہا کہ اسکو قتل کردینا چاہیئے۔ خلیفہ کی بیوی کو اور سلطنت اسلام کی خاتون اول کو اس نے گالی دی ہے۔ کسی نے کہا زبان کاٹ دینی چاہیئے۔ کسی نے کہا اسکا مال وجائیداد ضبط کرلینا چاہیئے۔ کسی نے کہا اسکو جلا وطن کردینا چاہیے یا کم سے کم جیل کی سزا۔

نے بیٹے کو کہا بیٹا تم معاف کردو تو بڑا بہتر ہے۔ گالی دینے والے نے اپنا منہ گندا کیا اس میں تمہارا کیا نقصان؟ تمہاری ماں کو گالی لگی نہیں۔ اگر کسی کی ماں ایسی نہیں ہے جیسے اس نے کہا تو اسکا منہ گندا ہوا‘ اسکی ماں کا کیا بگڑا۔ تو بہتر یہی ہے‘ مکارمِ اخلاق یہی ہے کہ تم اسکو معاف کردو اور اگر تم سے برداشت نہیں ہوا تو وجزاء سیئة سیئة بمثلھا برائی کا بدلہ اتنی برائی ہے۔ تم بھی اکسی ماں کو گالی دے دو لیکن شرط یہ ہے کہ جتنی اس نے دی تھی اتنی دو اس سے زیادہ نہیں۔ کیونکہ اگر تم اس سے زیادہ دوگے تو تم ظالم بن جاؤ گے اور تمہارا مخالف مظلوم بن جائیگا۔

“کامیاب عورت” کا مغربی اور اسلامی نقطہ نظر

گزشتہ صدی سے یہ موضوع مسلسل زیرِ بحث ہے کہ معاشرے میں ” کامیاب عورت“ کون ہوتی ہے؟ مغربی معاشرے میں اُس خاتون کو ”کامیاب عورت“ قرار دیا جاتا ہے جو کامیاب معاش رکھتی ہو، جو مالی طور پر خود مختار ہو اور جو گھر اور کارکی مالک ہو۔ لہٰذا ایسی خواتین اس معاشرے میں رول ماڈل (Role model) کے طور پر جانی جاتی ہیں جو مذکورہ بالا معیار پر پوری اترتی ہوں۔ چنانچہ سابقہ  برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی بیوی اور بظاہر چار بچوں کی ماں چیری بلیئر جو ایک کامیاب وکالت کا کیرئیر(Career) رکھتی ہے، اس کا ذکر اکثر رول ماڈل کے طور پر کیا جاتا رہا ہے۔

اسی طرح اُس معاشرے میں یہ رائے بھی عام ہے کہ باپ یا شوہر پر انحصار کرنا عورت کو معاشرے میں کم تر درجے کا مالک بنا دیتا ہے۔


ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ عورت جو ماں یا بیوی ہونے کے ساتھ کوئی بھی ذریعہ معاش نہیں رکھتی اس کی کوئی اہمیت نہیں یا یہ کہ وہ ایک ناکام عورت ہوتی ہے۔ اسی لیے اُس معاشرے میں جب کسی عورت سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ”آپ کا پیشہ کیا ہے؟“ یا ”آپ کیا کرتی ہیں؟“ تو وہ یہ جواب دیتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتیں ہیں کہ” میں صرف ماں ہوں“ یا ”میں ایک گھریلو خاتون ہوں“۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی معاشرے میں ایک پیشہ ور خاتون کو مالِ جنس (Commodity) کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس کی اہمیت کا دارومدار اِس چیز پر ہے کہ وہ معیشت میں کتنا حصہ ڈال رہی ہے۔


اسی طرح مغربی معاشرے میں تذکیر و تانیث کا معاشرے میں کردار کے حوالے سے بہت بڑی تبدیلی آئی ہے کہ ایک خاندان میں عورت کو بھی کمانے کا اتنا ہی حق ہونا چاہیے جتنا کہ مرد کو ۔

چنانچہ 1996 میں کیمبرج یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق لوگوں کی اس بارے میں رائے کہ یہ صرف مرد کا کام ہے کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کرے، 1984میں 65فیصد تھی جو کہ 1994میں کم ہوکر 43 فیصد رہ گئی۔ اس وقت برطانیہ میں 45فیصد خواتین کام کرتی ہیں اور امریکہ میں 78.7فیصد خواتین کام کرتی ہیں۔


جبکہ مغربی حکومتیں کامیاب عورت کے اس معیار کی حوصلہ افزائی کرتی نظر آتی ہیں۔ لہٰذا ایسی عورتوں کی تعریف کی جاتی ہے جو کہ اپنی اس زندگی میں ایک کامیاب کیرئیر حاصل کرچکی ہوں۔ مزید برآں ایسی ماﺅں کے لیے معاشی فوائد کا اعلان بھی کرتیں ہیں جو کام کرنے والوں میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔ چنانچہ برطانوی حکومت نے ایک پالیسی بعنوان ”قومی سٹریٹیجی برائے بچوں کی دیکھ بھال“ متعارف کرائی ہے کہ جس کے مطابق بچوں کی دیکھ بھال کے لیے بہت سی جگہیں فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ عورتیں جو کام کرتی ہیں اپنے بچوں کو دیکھ بھال کے لیے ان جگہوں پر چھوڑ سکیں۔ اسی طرح انہیں مالی فوائد اور ٹیکس میں چھوٹ بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال پر اٹھنے والوں اخراجات کو برداشت کرسکیں۔ چنانچہ ”Full Time Mothers“ نامی تنظیم کا سربراہ جِل کِربی کہتا ہے کہ ” ایسی عورتوں کے لیے مالی فوائد ہیں جو کام کرتی ہیں لیکن گھر بیٹھی عورتوں کے لیے کوئی مالی فائدہ نہیں“

بدقسمتی سے وہ مسلم خواتین جو مغرب میں رہ رہی ہیں وہ اس سوچ سے بہت متاثر ہوئی ہیں کہ اپنی اس زندگی میں ایک کامیاب کیرئیر حاصل کرنا باقی تمام مقاصد سے بڑھ کر ہے۔


وہ بھی اب یہ یقین رکھتی ہیں کہ یہ کیرئیر ہی ہے جو کہ عورت کو معاشرے میں مقام اور عزت بخشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شادی دیر سے کرتی ہیں یا وہ شادی کرتی ہی نہیں کیونکہ وہ شادی کو اپنے کیرئیر کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہیں۔ وہ بچوں کی پیدائش بھی دیر سے کرتی ہیں اور تھوڑے بچے پیدا کرتی ہیں یا بچے پیدا ہی نہیں کرتیں۔ اور وہ خواتین جو کوئی کام نہیں کرتیں وہ اپنے معاشرے کی طرف سے مستقل دباﺅ کا شکار رہتی ہیں کہ انہیں بھی کوئی کام کرنا چاہیے۔ چنانچہ وہاں پر موجود مسلمانوں کی بڑی تعداد اس سوچ سے متاثر ہوچکی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سے والدین اپنی بیٹیوں کو کامیاب کیرئیر اختیار کرنے کی ترغیب دیتے ہیں، جبکہ ممکن ہے کہ وہ لڑکی جلدی شادی کرنے کے حق میں ہو اور ماں کا کردار نبھانے کو ترجیح دیتی ہو۔


بد نظری : زہر آلود تیر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مذہبِ اسلام نے کسی غیر محرم کو دیکھنے سے روکا ہے اور نگاہیں نیچی رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
’’ قل للمؤمنین یغضوا من ابصارهم و یحفظوا فروجهم‘‘
( سورۃ نور۔30)
مسلمان مردوں سے کہدیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔

آیت مبارکہ میں حفاظت فروج سے پہلے نظروں کی حفاظت کا حکم فرما یا ہے، کیونکہ نظروں کی بے احتیاطی ہی شرمگاہوں کی حفاظت میں غفلت کا سبب بنتی ہے۔

بد نظری کے معاملے میں جو حال مردوں کا ہے کم و بیش وہی حال عورتوں کا بھی ہے ،چونکہ مرد وعورت کا خمیرایک ہی ہے اور عورتیں عموماً جذباتی و نرم طبیعت ہوتی ہیں ،جلد متاثر ہوجاتی ہیں ان کی آنکھیں میلی ہو جائیں ،تو زیادہ فتنے جگاتی ہیں ۔اس لیے ان کو بھی واضح اور صاف الفاظ میں نگاہیں نیچی رکھنے کی نصیحت کی گئی ہے۔

’’وقل للمؤمنات یغضضن من ابصارهنّ و یحفظن فروجهن ‘‘
۔ (نور۔31)
مسلمان عورتوں سے کہدیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔

اوّل الذکر آیت میں مرد وعورت دونوں نگاہیں نیچی رکھنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کے حکم میں شامل تھے ،جس میں عام مومنین کو خطاب ہے،اور مومنین میں بالعموم عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔نگاہیں نیچی رکھنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کے حکم کی اہمیت کے پیش نظر ان کو بطور خاص دوبارہ نگاہیں نیچی رکھنے کو کہا گیا ہے، اسی سے مستدل یہ مسئلہ بھی ہے کہ جس طرح

مردوں کے لیے عورتوں کا دیکھنا منع ہے، اسی طرح عورتوں کے لیے مردوں کا دیکھنا مطلقاً ممنوع ہے۔

نگاہیں نیچی رکھنے کے فوائد بے شمار ہیں ،نگاہیں نیچی رکھنے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی اطاعت ہے ،جس سے اس زہر آلود تیر کا اثر دل تک نہیں پہونچتا ۔اللہ تعالیٰ سے انسیت و محبت بڑھتی ہے، دل کو قوت و فرحت حاصل ہو تی ہے ،دل کو نور حاصل ہو تا ہے مومن کی عقل و فراست بڑھتی ہے۔ دل کو ثبات و شجاعت حاصل ہو تی ہے ۔دل تک شیطان کے پہونچنے کا راستہ بند ہو جا تا ہے۔ دل مطمئن ہو کربہتر اور کا رآمد باتیں سوچتاہے۔

نظر اور دل کا بڑا قریبی تعلق ہے ،اور دونوں کے درمیان کا راستہ بہت مختصر ہے ۔دل کی اچھائی یا برائی کا دارو مدار نظر کی اچھائی و برائی پر ہے ۔جب نظر خراب ہو جاتی ہے، تو دل خراب
ہو جاتا ہے اس میں نجاستیں اور گندگیاں جمع ہو جاتی ہیں،اور اللہ کی معرفت اور محبت کے لیے اس میں گنجائش باقی نہیں رہتی ۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنی نگاہیں نیچی رکھتے ہیں اور وہ بڑی بڑی مصیبتو ں اور آفتوں سے بچے رہتے ہیں۔مومنوں کو بد نظری سے بچنا چاہئے اور نگاہیں نیچی رکھنی چاہئے تاکہ مرد و عورت عزت کے ساتھ زندگی گزاریں اور کوئی مصیبت ان پر نہ آئے، جس سے زندگی داؤ پر لگ جائے، اور ان کی اشرفیت جاتی رہے۔

بد نظری کرنے سے بہت سی برائیاں سر اٹھا تی ہیں، ابتدا میں آدمی اس کو ہلکی چیز سمجھ کر لطف اندوز ہو تا ہے، اور آگے چل کر عظیم گناہ کا مرتکب و ذلیل و رسواہو جاتا ہے ۔جس طرح چنگاری سے آگ کے شعلے بھڑکتے ہیں، اسی طرح بد نظری سے بڑی بڑی برائیاں جنم لیتی ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ العینان تزنیان و زناهما النظر‘‘ آنکھوں کا دیکھنا زنا ہے۔
اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے، زنا کے لیے راہ ہموار ہو تی ہے، اس سے گھر کی برکت ختم ہو تی ہے۔ بد نظری کرنے والے کو حسن عمل کی توفیق نہیں ہو تی۔ قوت حافظہ کمزور ہو جاتی ہے ۔یہ ذلت و رسوائی کا سبب بنتی ہے ،اس سے بے حیائی پھیلتی ہے ۔بد نظری سے انسان کے اندر خیالی محبوب کا تصور پیدا ہو جاتا ہے ،وہ خام آرزؤں اور تمناؤں میں الجھا رہتا ہے، اس کا دماغ متفرق چیزوں میں بٹ جاتا ہے، جس سے وہ حق اور ناحق کی تمیز نہیں کر پاتا۔اس سے دو دلوں میں شہوتوں کی آگ بھڑکتی ہے اور خوابیدہ جنسی جذبات میں جنبش ہوتی ہے۔

دور سے ہر چیز بھلی لگتی ہے، اس لیے انسان کا دل دیکھنے کو چاہتا ہے، اس کو پیاس لگی رہتی ہے جو کبھی نہیں بجھتی۔یہ گناہ اصل جوانی میں غلبۂ شہوت کی وجہ سے کیا جاتا ہے، پھر ایسا روگ لگ جاتا ہے کہ لب گور تک نہیں جاتا۔اللہ تعالیٰ نے ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت بنایا ہے کسے کسے دیکھنے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ایک کو دیکھا دوسرے کو دیکھنے کی ہوس ہے، اسی دریا میں ساری عمر بہتا رہے گا، تب بھی کنارے پر نہیں پہونچے گا ،کیونکہ یہ دریا نا پید کنار ہے۔
بد نظری زنا کی سیڑھی ہے۔مثل مشہور ہے کہ دنیا کا سب سے لمبا سفر ایک قدم اٹھا نے سے شروع ہو جاتا ہے، اسی طرح بد نظری کر نے سے زنا کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ مومن کو چاہئے کہ پہلی سیڑھی ہی چڑھنے سے پرہیز کرے۔

بد نظری ایک تیر ہے، جو دلوں میں زہر ڈالتا ہے یہ تیر جب پیوست ہو جاتا ہے تو سوزش قلب بڑھنی شروع ہو جاتی ہے ۔جتنی بد نظری زیادہ کی جائے ،اتنا ہی زخم گہرا ہو تا ہے ۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نگاہ ڈالنے والا پہلے قتل ہو تا ہے، وجہ یہ ہے کہ نگاہ ڈالنے والا دوسری نگاہ کو اپنے زخم کا مداوا سمجھتا ہے، حالانکہ زخم اور گہرا ہو تا ہے۔ (بحوالہ:لکافی۔477)

لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں ہم نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
جب انکھیاں لڑتی ہیں اور نین سے نین ملتے ہیں تو چھپی آشنائی شروع ہو جاتی ہے اور سلام و پیام ،کلام و ملاقات کے دروازے وا ہو جاتے ہیں، اس کا سلسلہ جتنا دراز ہوتا جاتا ہے، اتنی ہی بیقراری بڑھتی جاتی ہے، اور اشاروں اشاروں میں زندگی بھر ایک ساتھ رہنے کے عہد و پیمان ہو جاتے ہیں، اور ایک طرح کا ہو کر ساتھ رہنے کی قسمیں کھائی جاتی ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ساری سوسائٹی سو گوار ہو جاتی ہے۔

بدنظری کر نے والے لوگ چو راہوں ،دوکانون میں بیٹھ کر آنے جانے والی عورتوں کو گھور گھور کردیکھتے ہیں اور چیتے کی طرح پھاڑ کھانے والی نظریں ان پر ڈالتے ہیں، اوربھوکے بھیڑیے کے مثل حلق میں اتار نے کی کوشش کر تے ہیں، اور نکلنے والی عورتیں ان فریب خوردہ لوگوں کی کٹیلی و نشیلی اور ھوس ناک نگاہوں کا شکار بنتی ہیں ۔

مغربی تہذیب کی لپیٹ میں آ کر بن ٹھن کر بے پردہ ہو کر نکلنے والی خواتین بھی بد نظری کے مواقع فراہم کر تی ہیں اور پازیب کے گھنگھر و بجاتے ہوئے اپنے گزرنے کا احساس دلاتی ہیں، اور بازار میں اپنے حسن کے جلوے بکھیرتی ہیں ۔خواتین جو گھروں کی زینت ہیں مارکیٹ کی زینت بنتی جارہی ہیں اور شیطان اپنی تمام تر فتنہ سامانیوں کے ساتھ عورت کے ناز و نکھرے اور چلنے کے انداز و ادا کوسنوار کرپیش کرتا ہے، اور عاشقانِ حسن کو گناہ بے لذت میں مبتلا کر دیتا ہے، اور منچلے لونڈے لفنگے لڑکے رال ٹیکائے اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور اس کو اپنے مطابق دیکھ کر اپنی ابھرتی خواہشات نفسانی اوردہکتی جذبات کی بھٹی کو سرد کر تے ہیں۔

بد نظری کر نے والے گھروں میں جھانک کر اور کھڑکیوں کے اندر رہنے والی عورتوں پر نظر کا جادو چلاتے ہیں اور وہ کسی ضرورت کے تحت کسی گھر میں چلے جاتے ہیں، تو ان کی نظر گھومتی رہتی ہے ،جب تک رہیں اپنے سامان کی تلاش جاری رکھتے ہیں اور کنکھیوں سے بار بار مخالف جنس کو دیکھتے ہیں، وہاں بھی غیرت نہیں آتی۔ کیونکہ یہ دھندا ہی ایسا ہے ،جس کا سابقہ پڑ گیا، پیچھا نہیں چھوڑتا۔ جوانی تو جوانی پیرانہ سالی میں بھی اسی سے منسلک رہتے ہیں اور آخر میں گھاٹا بھی گھاٹا ہاتھ آتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’یعلم خائنة الاعین ووماتخفی الصدور ‘‘
(المومن ۔ 17)
اللہ تعالیٰ جانتا ہے آنکھوں کی خیانت کو اور وہ کچھ جو سینوں میں پوشیدہ ہے ۔

خیانت نظر کی تشریح ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ کیا کہ :آدمی کسی کے گھر میں جائے وہاں کسی خوبصورت عورت ہو جسے نظر بچاکر دیکھنے کی کوشش کرے،اور جب لوگوں کو اپنی طرف
متوجہ پائے تو نظر نیچی کرلے،لیکن اللہ نے اس کے دل کا حال جان لیا ۔ ( الجواب الکافی)

پہلی اچانک نظر معاف ہے ۔نبی ﷺ سے عبد اللہ بن جریر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اگر اچانک نظر پڑ جائے تو ؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’صرف نظرک‘‘ (مسلم)۔ تو اپنی نظر پھیرلے۔ اگر پہلی نظر ارادۃ ڈالی جائے، تو وہ بھی حرام ہے اور پہلی نظر معاف ہو نے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ پہلی نظر ہی اتنی بھر پور ڈالی جائے کہ دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہی نہ رہے ۔صرف اتنی بات ہے کہ اگر اچانک نظر پڑجائے تو فوراً ہٹا لینا چاہئے ۔

انسانی آنکھیں جب بے لگام ہو تی ہیں، تو اکثر برائی و لڑائی کی بنیادبن جاتی ہیں اور انسان کے اندر گناہ کا تخم پڑجاتا ہے ۔ جو موقع ملنے پر بہار دکھاتا ہے ۔قابیل نے ہابیل کی بیوی کے جمال پر نظر ڈالی تو دل و دماغ پر ایسا بھوت سوار ہوا کہ اپنے بھائی کا قتل کر ڈالا۔اور دنیا میں پہلے قتل کا مرتکب ہوا۔عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن کو دیکھا تو جذبات کے ہاتھوں ایسی بے قابو ہوئی کہ گناہ کی دعوت دے ڈالی۔

بد نظری کی ایک قسم وہ برہنہ تصاویر ہیں جو اخباروں اور کتابوں کی زینت بنتی ہیں ۔حتی کہ مضامین پر مشتمل رسالوں کے سر ورق پر چھپتی ہیں اورفلموں، ڈراموں اور ماڈلنگ کر نے والی عورتوں کی تصاویر ہیں جو اکثر جگہ دیواروں پر چسپاں رہتی ہیں۔ اور آج کل آسانی یہ ہو گئی ہے کہ ملٹی میڈیا موبائل سیٹ کے فنکشن میں یہ تصویریں قید رہتی ہیں اور انہی سیکڑوں برہنہ و نیم برہنہ تصاویر کو بدل بدل کر موبائل اسکرین میں سیٹ کیا جاتا ہے اور خلوت میں تلذد کی نگاہ مکمل توجہ کے ساتھ انکے انگ انگ کا معائنہ کرتی ہے ۔ ٹی،وی اناء و نسر کو خبروں کے بہانے دیکھنا ،گرل فرینڈوبوائے فرینڈ کی تصویر تنہائی میں للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا ، انٹر نیٹ پر پیشہ ور لڑکیوں کی تصاویر دیکھنا یا فحش ویڈیو سی ڈیز دیکھنا، ان سب کا دیکھنا زندہ عورت کو دیکھنے سے زیادہ نقصان دہ ہے ۔راہ چلتے غیر محرم کے خدو خال کو اتنی باریک بینی سے نہیں دیکھا جا سکتا ہے، جتنا کہ تصاویر کے ذریعہ دیکھنا ممکن ہے ،ان سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نگاہیں نیچی رکھنے کی توفیق فرمائے ۔آمین۔

مجھے تم یاد آتے ہو ۔ ۔

مجھے تم یاد آتے ہو ۔ ۔
کسی سنسان سپنے میں چھپی خوائش کی حدت میں
کسی مصروفیت کے موڑ پر
تنہائی کے صحراؤں میں یا پھر
کسی انجان بیماری کی شدت میں
“مجھے تم یاد آتے ہو“
کسی بچھڑے ہوئے کی چشم نم کے نظارے پر
کسی بیتے ہوئے دن کی تھکن کی اوٹ سے
یا پھر تمہارے ذکر میں گزری ہوئی شب کے اشارے پر
کسی بستی کی بارونق سڑک پر
اور کسی دریاَ ، کسی ویران جنگل کے کنارے پر
مجھے تم یاد آتے ہو ۔ ۔ ۔
مری چپ کے کنویں میں
آرزوؤں کے بدن جب تیرتے ہیں
اور کنارے سے کوئی بولے
تو لگتا ہے اجل آواز دیتی ہے
مری بے چینیوں میں جب تمہاری تندخور رنجش کھٹکتی ہے
تمہاری بے دردی سلگتی ہے
یا پھر جب مری آنکھوں کے صحرا میں
تمہاری یاد کی تصویر جلتی ہے ، جدائی آنکھ ملتی ہے
مجھے تم یاد آتے ہو ۔ ۔ ۔
مجھے تم یاد آتے ہو۔ ۔ ۔ ۔
مقدر کے ستا روں پر
زمانوں کے اشاروں پر
ادا سی کے کناروں پر
کبھی ویران شہروں میں
کبھی سنسان رستوں پر
کبھی حیران آنکھوں میں
کبھی بے جان لمحوں پر
مجھے تم یاد آتے ہو ۔ ۔ ۔ ۔
سہانی شام ہو کوئی ۔ ۔۔ ۔
کہیں بدنام ہو کوئی بھلے گلفام کوئی ۔ ۔ ۔۔
کسی کے نام ہو کوئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مجھے تم یاد آتے ہو ۔ ۔ ۔ ۔
کہیں بارش برس جائے ۔ ۔ ۔۔
کہیں صحرا ترس جائے ۔ ۔۔ ۔
کہیں کالی گھٹا اتر جائے ۔ ۔۔ ۔۔
کہیں باد صبا ٹھہرے ۔۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔
مجھے تم یاد آتے ہو ۔ ۔ ۔
مجھے تم یاد آتے ہو ۔

گھر میں کتے پالنا جدید سائنسی معلومات کی روشنی میں

نبی رحمت  صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا ضرورت گھر میں کتے پالنے کی ممانعت فرمائی ہے۔مگر کس قدردکھ کی بات ہے کہ یورپ کی تقلید میں ہمارے ہاں بھی امیر گھرانوں میں کتوں سے کھیلنا اور شوقیہ طور پر گھروں پر پالنا ایک فیشن اور سٹیٹس سمبل بنتا جارہاہے ۔پچھلے دنوں پاکستانی چینلز پر ایک موبائل کمپنی کی جانب سے ایک ایڈ دی جارہی تھی، جس میں ایک معصوم بچی ایم ایس ایم کے ذریعے اپنے والد سے کتے کے ایک بچے کو گھر میں لانے کی فرمائش کرتی ہے۔اسلام میں کتے رکھنابالکل ہی منع نہیں کیاگیا ہے بلکہ اس کی محدود اجازت بھی دی گئی ہے چناچہ جو کتے کسی ضرورت سے پالے جائیں مثلاً شکاری کتے یا کھیت اور مویشیوں وغیرہ کی حفاظت کرنے والے کتے تو وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں ۔
مشاہدے کی بات ہے کہ لوگ کتوں پر تو خوب خرچ کرتے ہیں لیکن انسان کی اولادپر خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں اورمغرب میں توایسے بھی لوگ ہیں جو مرتے وقت اپنی جائیداد کتوں کے نام وقف کردیتے ہیں جبکہ وہ اپنے اقرباسے بے رخی برتتے ہیں اور اپنے پڑوسی اوربھائی کو بھول جاتے ہیں ۔مسلمان کے گھر میں اگر کتا ہوتو اس بات کا احتمال رہتاہے کہ وہ برتنوں وغیرہ کوچاٹ کر نجس بنا کر رکھ دے۔
نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اسے چاہیے کہ برتن کو سات مرتبہ دھوئے ۔ان میں سے ایک مرتبہ مٹی لگا کر دھولے۔” (صحیح بخاری)
ایک اور حدیث میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” میرے پاس جبریل  تشریف لائے اور کہا : گزشتہ شب میں آیا تھا لیکن گھر میں داخل نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ دروازہ پر مجسمہ تھا اور گھر میں تصویروں والا پردہ تھا اور گھر میں کتا بھی تھا۔لہذا جو مجسمہ گھر میں ہے اس کا سر آپ اس طرح کٹوادیجئے کہ وہ درخت کی شکل میں رہ جائے اور پردہ پھاڑ کر تکیے بنالیجئے جن کو پامال کیا جائے اور کتے کو گھر سے باہر نکلوادیجئے۔(سنن ابی داؤد)
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ایک اور حدیث میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی درج ذیل الفاظ میں مذکور ہے۔
” جو شخص کتا پالتا ہے اس کا اجر روزانہ ایک قیراط کم ہوجاتاہے الا یہ کہ شکار یا کھیتی یا مویشیوں کے لیے پالا جائے ۔” ان احادیث کی رو سے گھر میں کتا پالنے کی ممانعت واضح الفا ظ میں موجود ہے مگر اس ممانعت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم کتوں کے ساتھ سنگدلانہ برتاؤ کریں اور ان کو ختم کردیاجائے۔کیونکہ سنن ابی داؤدکی ایک حدیث میں نبی مہرباں  صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا د گرامی موجود ہے کہ
” اگر کتے بھی ایک امت نہ ہوتے تو میں انہیں قتل کرنے کا حکم دیتا ”۔
چناچہ کتوں کے متعلق اسلامی احکامات بیان کرنے کے بعد یہ مناسب معلوم ہوتاہے کہ کتوں کے گھر میں پالنے کے بارے میں جدید سائنسی معلومات سے بھی عوام الناس کو آگاہ کردیاجائے جس سے جہاں ایک عام مسلمان کااپنے دین پر ایمان مضبو ط ہوگا وہیں ایک غیر مسلم کے دل میں بھی دین اسلام کے بر حق ہونے کے بارے میں ایک مثبت فکر پیدا ہوگی۔انشاء اللہ
علامہ یوسف القرضاوی نے ان سائنسی معلومات کو اپنی کتا ب ”اسلام میں حلال وحرام ”میں ایک جرمن اسکالر سے قلمبند کیا ہے ، اس کا یہ مضمون ایک جرمن رسالے میں شائع ہوا تھا۔اس مضمون میں ان اہم خطرات کو بیان کیا گیا ہے جو کتے کو پالنے یا ا س کے قریب رہنے کی صورت میں لاحق ہوتے ہیں۔چناچہ وہ لکھتا ہے :
گزشتہ چند برسوںمیں لوگوں کے اندر کتا پالنے کا شوق کافی بڑھ گیا ہے،جس کے پیش نظر ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ لوگوں کی توجہ ان خطرات کی طرف مبذول کرائی جائے جو اس سے پیدا ہوتے ہیں خصوصاً جبکہ لوگ کتا پالنے ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ خوش طبعی بھی کرنے لگتے ہیں اور اس کو چومتے بھی ہیں،نیز اس کو اس طرح چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ چھوٹوں اوربڑوں کے ہاتھ چاٹ لے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچا ہوا کھانا کتوں کے آگے اپنے کھانے کی پلیٹوں میں رکھ دیاجاتاہے ۔علاوہ ازیں یہ عادتیں ایسی معیوب ہیں کہ ذوق سلیم ان کو قبول نہیں کرتا اور یہ شائستگی کے خلاف ہیں ۔مزید برآں یہ صحت ونظافت کے اصول کے بھی منافی ہے۔
طبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو کتے کو پالنے اوراس کے ساتھ خوش طبعی کرنے سے جو خطرات انسان کی صحت اور اس کی زندگی کو لاحق ہوتے ہیں ان کو معمولی خیال کرنا صحیح نہیں ہے ۔بہت سے لوگوں کو اپنی نادانی کی بھاری قیمت اد اکرنی پڑی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کتوں کے جسم پر ایسے جراثیم ہوتے ہیں جو دائمی اور لاعلاج امراض کا سبب بنتے ہیں بلکہ کتنے ہی لوگ اس مرض میں مبتلا ہوکر اپنی جان سے ہاتھ دو چکے ہیں۔اس جرثومہ کی شکل فیتہ کی ہوتی ہے اوریہ انسان کے جسم پر پھنسی کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔گو اس قسم کے جراثیم مویشیوں اور خاص طورسے سؤروں کے جسم پر بھی پائے جاتے ہیں لیکن نشوونما کی پوری صلاحیت رکھنے والے جراثیم صرف کتوں پر ہوتے ہیں۔
یہ جراثیم گیدڑ اور بھیڑئیے کے جسم پر بھی ہوتے ہیں لیکن بلیوں کے جسم پر شاذ ہی ہوتے ہیں ۔یہ جراثیم دوسرے فیتہ والے جراثیم سے مختلف ہوتے ہیں اور اتنے باریک ہوتے ہیں کہ دکھائی دینا مشکل ہے ،ان کے بارے میں گزشتہ چند سالوں ہی میں کچھ معلومات ہوسکی ہیں۔”
مقالہ نگا ر آگے لکھتاہے :
” یہ جراثیم انسان کے جسم میں داخل ہوتے ہیں اور وہاںمختلف شکلوںمیں ظاہر ہوتے ہیں ۔یہ اکثر پھیپھڑے ، عضلات ،تلی ،گردہ اور سر کے اندرونی حصہ میں داخل ہوتے ہیں ۔ان کی شکل بہت کچھ بدل جاتی ہے،یہاں تک کہ خصوصی ماہرین کے لیے بھی ان کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔بہرحال اس سے جو زخم پیدا ہوتاہے خواہ جسم کے کسی حصہ میں پیداہو ،صحت کے لیے سخت مضر ہے ۔ان جراثیم کا علاج اب تک دریافت نہیں کیاجاسکا ہے ۔ان وجوہ سے ضروری ہے کہ ہم تمام ممکنہ وسائل کے ساتھ اس لا علاج بیماری کا مقابلہ کریں اور انسان کو اس کے خطرات سے بچائیں۔
جرمن ڈاکٹر نوللر کا بیان ہے کہ کتے کے جراثیم سے انسان پر جو زخم ابھر آتے ہیں ان کی تعداد ایک فی صد سے کسی طرح کم نہیں ہے اور بعض ممالک میں تو بارہ فیصد تک اس میں مبتلا پائے جاتے ہیں…….اس مرض کا مقابلہ کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ ان جراثیم کو کتوں تک ہی رہنے دیاجائے اورانہیں پھیلنے نہ دیاجائے……..
اگر انسان اپنی صحت کو محفوظ اور اپنی زندگی کو باقی رکھنا چاہتا ہے تو اسے کتوں کے ساتھ خوش طبعی نہیں کرناچاہیے ، انہیں قریب آنے سے روکناچاہیے ،بچوں کو ان کے ساتھ گھل مل جانے سے بازرکھناچاہیے۔کتوں کوہاتھ چاٹنے کے لیے نہیں چھوڑ دیناچاہیے اورنہ ان کو بچوں کے کھیل کود اورتفریح کے مقامات میں رہنے اور وہاں گندگی پھیلانے کا موقع دیناچاہیے ۔لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ کتوں کی بڑی تعداد بچوں کی ورزش گاہوں میں پائی جاتی ہے……
اسی طرح ان کے کھانے کے برتن الگ ہونے چاہئیں۔انسان اپنے کھانے کے لیے جو پلیٹیں وغیرہ استعمال کرتاہے ان کو کتوں کے آگے چاٹنے کے لیے نہ ڈال دیاجائے۔غرضیکہ پوری احتیاط سے کام لے کر ان کو کھانے پینے کی تمام چیزوں سے دور رکھا جائے”۔
قارئین کرام سے گزار ش ہے کہ وہ ان معلومات کو بغور پڑھیں اور پھر ان کا موازنہ نبی مہرباں ،آقائے دوجہاں  صلی اللہ علیہ وسلمکے ان فرمودات کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں کہ جن میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں کتے پالنے سے منع فرمایا ہے۔مقام غور ہے کہ کیا اس زمانے میں کوئی جدید لیبارٹری موجود تھی کہ جہاں سے حاصل ہونے والی معلومات کی بناء پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے صحابہ کرام  کو ان باتوں کی تلقین فرمائی ؟۔یقیناایسی بات نہیں تھی ،تو پھر ان نصیحتوں کا مأخذکیاتھا؟ہمارا ایمان ہے کہ وہ مأخذ !رب ذوالجلال کی ذات بابرکات ہے ۔اس کاثبوت قرآن مجید کی سورة النجم کی اس آیتِ مبارکہ میں ملتاہے :کہ ” وہ (رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم)اپنی خواہش ِ نفس سے نہیں بولتا ۔یہ تو ایک وحی ہے جو اس کی طرف کی جاتی ہے ۔”اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن و حدیث کو سمجھنے ،ان پر ایمان رکھنے اور ان کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین
موٴلف ۔ طارق اقبال سوہدروی ۔  جدہ ۔ سعودی عرب

غصہ دور کرنے کا طریقہ

دورِحاضر کا ذکر ہے کہ ایک بچہ بہت بدتمیز اور غصے کا تیز تھا۔اسے بات بے بات فوراً غصہ آجاتا ، والدین نے اسے کنٹرول کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ایک روز اسکے والد کو ایک ترکیب سوجھی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو کیلوں کا ایک ڈبا لا کے دیا اور گھر کے پچھلے حصے کی دیوار کے پاس لے جا کر کہنے لگے، “ بیٹا جب بھی تمہیں غصہ آئے ۔اس میں سے ایک کیل نکال کر یہاں دیوار میں ٹھونک دینا۔پہلے دن لڑکے نے دیوار میں 37  کیلیں ٹھونکیں۔ایک دو ہفتے گزرنے کے بعد بچہ سمجھ گیا کہ غصہ کنٹرول کرنا آسان ہے لیکن دیوار میں کیل ٹھونکنا خاصا مشکل کام ہے۔اس نے یہ بات اپنے والد کو بتائی۔والد نے مشورہ دیا کہ اب جب تمھیں غصہ آئے اور تم اسے کنٹرول کر لو تو ایک کیل دیوار میں سے نکال دینا۔لڑکے نے ایسا ہی کیا اور بہت جلد دیوار سے ساری کیلیں نکال لیں۔
باپ نے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اس دیوار کے پاس لے جا کر کہنے لگے،بیٹا تم نے اپنے غصے کو کنٹرول کرکے بہت اچھا کیا لیکن ذرا اس دیوار کو غور سے دیکھو ! یہ پہلے جیسی نہیں‌رہی۔ اس میں یہ سوراخ کتنے برے لگ رہے ہیں۔جب تم غصے سے چیختے چلاتے ہو اور الٹی سیدھی باتیں‌کرتے ہو تو اس دیوار کی مانند تمھاری شخصیت پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے۔تم انسان کے دل میں‌چاقو گھونپ کر اسے باہر نکال سکتے ہو لیکن چاقو باہر نکالنے کے بعد تم ہزار بار بھی معذرت کرو ، معافی مانگو ، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔وہ زخم اپنی جگہ باقی رہے گا۔

یاد رکھو زبان کا زخم ،چاقو سے کہیں‌بد تر اور دردناک ہے !


اس کے بعد بھی گوگل پر تلاش جاری رکھی اور مسرت اللہ جان کا آرٹیکل  کیا آپ کو غصہ آتا ہے اچھا لگا جس میں سے ایک اقتباس یہ ہے


مجھے بھی آتا ہے اور البرٹ پینٹو کو بھی آتا ہے۔ لیکن کب اور کیوں آتا ہے اور یہ کہ کن لوگوں کو کم اور کن کو زیادہ آتا ہے۔ مجھے غصہ کیوں آتا ہے اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اپنی زندگی تلخیوں سے عبارت ہے بلکہ ایسی بات پر بھی آتا ہے جنہیں لوگ نظرانداز کردیتے ہیں۔ بات بات پر غصہ آتا ہے اور چونکہ ایک عدد ملازم رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہوں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اپنا یہ غصہ ہمیشہ قہر درویش بر جان درویش ثابت ہوا اسی غصہ اور بے بسی کے باعث ایک سے زائد مرتبہ ذہنی دباؤ میں بھی مبتلا ہوا اور اس طرح جسم اور ذہن کے ساتھ ساتھ پیسے کا بھی نقصان برداشت کرنا پڑا۔


روح کا ناسور نامی عنوان سے یہ مفید باتیں پتہ چلیں

حضرت امام جعفر صادق(علیہ السلام) سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے پدر بزرگوار حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سنا۔کہ ایک بدّو رسول خدا کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں ریگستان میں رہتا ہوں۔ مجھے عقل اور دانش کی باتیں بتائیں۔ جواب میں جناب رسول اللہ نے فرمایا۔ ”میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ غصّہ نہ کیا کرنا۔“
اسی سوال کو ۳ دفعہ دہرانے اور رسول خدا سے ایک ہی جواب پانے پر بدّو نے اپنے دل میں کہا کہ اس کے بعد میں پیغمبر خدا سے اور کوئی سوال نہیں کروں گا اس لئے کہ وہ نیکی کے علاوہ اور کسی چیز کا حکم نہیں دیں گے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کہتے تھے کہ میرے والد ماجد فرمایا کرتے تھے :
”کیا غضب سے بڑھ کر اور کوئی شدید شئے ہوسکتی ہے؟ ایک شخص کو غصّہ آجاتا ہے اور وہ کسی ایسے آدمی کا قتل کردیتا ہے۔ جس کا خون اللہ کی طرف سے حرام کردیا گیا ہے یا ایک شادی شدہ عورت پر تہمت اور الزام لگا بیٹھتا ہے۔“
(الکلینی الکافی، جلد ۲، صفحہ ۳۰۳، حدیث ۴)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السّلام نے فرمایا:
’اپنے آپ کو غصّہ سے بچاؤ اس لئے کہ اس کی ابتداء دیوانگی ہے اور انتہا اس کی ندامت اور پشیمانی۔‘


فیض رضا سے یہ کام کی چیزیں ملی۔

حدیث شریف میں ہے جو شخص اپنے غصے کو روک لے گا، اللہ عزوجل بروز قیامت اس سے اپنا عذاب روک لے گا۔ ( مشکٰوۃ شریف )
ابوداؤد کی حدیث میں ہے جس نے غصے کو ضبط کر لیا حالانکہ ہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو اللہ تعالٰی بروز قیامت اس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا اور اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے لے لے ( اس کے بعد مرد حضرات پر تو غصہ حرام ہونا حقیقی معنوں میں سمجھ آ جاتا ہے کیونکہ غصہ کرکے حور گنوانا گویا لاٹری جیت کر ٹکٹ گنوانے کے مترادف ہے )۔

غصہ معاشرے کی ان بڑی برائیوں میں سے ہے جس سے انسان کی شخصی اور تعمیری بلندی کو زوال آتا ہے انسان ہمیشہ ان حالات سے دوچار رہتا ہے جس کی وجہ سے اعصاب اور حواس کھینچے رہتے ہیں اس کی یادداشت بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی غصہ زہر کا اثر رکھتا ہے اور خون میں ایک زہریلا مادہ پیدا کرتا ہے جس سے چہرے پر رونق ختم ہو جاتی ہے آنکھوں اور ہونٹوں میں تازگی ختم ہو جاتی ہے غصہ معدے اور اعصابی نظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور کردار میں منفی اور تخریبی اثرات پیدا کرتا ہے ماہرین عمرانیات ( سوشیالوجی ) کا کہنا ہے کہ خاوند غصیلا ہو یا بیوی ان کے گھر میں سکون اور اطمینان نہیں رہتا ا سکے اثرات بچوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں بچے آپس میں پیار و محبت میں رہنے کے بجائے لڑتے جھگڑتے ہیں پھر غصہ پورے معاشرے میں بد امنی کرتا ہے۔  ( سنتیں اور انکی برکتیں )

غصہ پر قابو پانے کے لیے مندرجہ ذیل علاج بتائے جاتے ہیں ، آپ بھی آزما کر دیکھیں

اعوذ  باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنا
لاحول ولا قوتہ الا باللہ پڑھنا
وضو کر لینا
کھڑے ہو تو بیٹھ جانا اور بیٹھے ہوں تو لیٹ جانا
جس پر غصہ آ رہا ہو اس کے سامنے سے ہٹ جانا
پانی پینا
خاموش ہو جانا

ڈیوک یونیورسٹی امریکہ کے ایک سائنسدان ڈاکٹر ریڈ فورڈ بی ولیمز کے مطابق غصے اور بغض رکھنے والے افراد جلد مر جاتے ہیں ان کے مطابق اس سے انسانی قلب کو وہی نقصان پہنچتا ہے جو تمباکونوشی اور ہائی بلڈ پریشر سے پہنچتا ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے سائنسی ادیبوں کے سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بہت سے لوگ وقت سے پہلے محض بغض اور کینے کے جذبات کی شدت کی وجہ سے چل بستے ہیں غصہ اور بغض قلبی دردوں کے اہم اسباب میں سے ایک ہیں اس طرح حرص و طمع میں مبتلا بے چین و بے صبر افراد بھی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی تمناؤں اور آرزؤں کے ہاتھوں اپنی شمع زندگی کو گل کر لیتے ہیں۔
ماہرین نے غصیلے اعصاب زدہ، بے چین اور ضرورت سے زیادہ آرزو مند افراد کو زمرہ “ الف “ اور بردبار، حلیم اور صابر و شاکر لوگوں کو زمرہ “ ب “ میں تقسیم کیا ہے وہ اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زمرہ الف سے تعلق رکھنے والے افراد بالعموم امراض قلب کی زد میں رہتے ہیں اور انہیں کولیسٹرول کی زیادتی، سگریٹ نوشی اور ہائی بلڈ پریشر ہی کی طرح دورہ قلب کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ ( سنت نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور جدید سائنس )


موت اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے پہلے ہے,

مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 80 مکررات 0
حضرت عبادہ بن صامت راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند نہیں کرتا ہے” (یہ سن کر) ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی اور زوجہ مطہرہ نے عرض کیا کہ ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (یہ مراد) نہیں بلکہ (مراد یہ ہے کہ) جب مؤمن کی موت آتی ہے تو اس بات کی خوشخبری دی جاتی ہے کہ خدا اس سے راضی ہے اور اسے بزرگ رکھتا ہے چنانچہ وہ اس چیز سے جو اس کے آگے آنے والی ہے (یعنی اللہ کے ہاں اپنے اس فضیلت و مرتبہ سے) زیادہ کسی چیز(یعنی دنیا اور دنیا کی چمک دمک) کو محبوب نہیں رکھتا، اس لیے بندہ مؤمن اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جب کافر کو موت آتی ہے تو اسے (قبر میں) خدا کے عذاب اور (دوزخ کی سخت ترین) سزا کی خبر دی جاتی ہے۔ چنانچہ وہ اس چیز سے جو اس کے آگے آنے والی ہے (یعنی عذاب و سزا ) سے زیادہ کسی اور چیز کو ناپسند نہیں کرتا اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے (یعنی اسے اپنی رحمت اور مزید نعمت سے دور رکھتا ہے) اس روایت کو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں منقول ہے کہ ” موت اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے پہلے ہے” ۔

مشہور تو یہی ہے کہ لقاء مولیٰ (یعنی خدا کی ملاقات) سے مراد موت ہے، لیکن اس بارہ میں تحقیقی بات یہ ہے کہ لقاء مولیٰ سے ” موت” مراد نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ آخرت کی طرف متوجہ ہونا، حق تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اور اس کی رضا و خوشنودی کا طالب ہونا، دنیا کی طرف مائل نہ ہونا اور دنیا و آخرت کی محبت میں گرفتار نہ ہونا۔ لہٰذا جس شخص نے دنیا ترک کی اور دنیا اور اس کی چیزوں کو ناپسند کیا اس نے گویا لقاء مولیٰ کو پسند کیا! اور جس شخص نے دنیا کو اختیار کیا، دنیا کی چیزوں کی محبت میں گرفتار ہوا اور دنیا کی طرف اپنا میلان رکھا اس نے گویا لقاء مولیٰ کو ناپسند رکھا! یہی وجہ ہے کہ لقاء مولیٰ کا اشتیاق موت کی محبت اور اس کے اشتیاق کو لازم ہے یعنی جو شخص لقاء مولیٰ کو پسند کرے گا وہ موت کو بھی پسند کرے گا کیونکہ لقاء مولیٰ کے لیے موت وسیلہ ہے۔
ام المؤمنین چونکہ یہی سمجھیں تھیں کہ لقاء مولیٰ سے مراد موت ہے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ارشاد ” لیس الامر کذالک” کے ذریعہ وضاحت فرمائی کہ لقاء مولیٰ سے مراد موت نہیں ہے اور نہ یہ مراد ہے کہ بتقاضائے جبلت طبعی موت سے محبت ہو اور بالفعل موت کی آرزو کرنی چاہئے بلکہ مراد یہ ہے کہ جو شخص رضاء حق کا طالب ہو اور لقاء مولیٰ کا شائق ہوتا ہے وہ لقاء مولیٰ کے لیے وسیلہ ہونے کی وجہ سے موت کو ہمیشہ عقلی طور پر محبوب رکھتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جب زندگی کا وقت پورا ہونے لگتا ہے اور موت کا وقت قریب آتا ہے اور اسے حق تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی خوشخبری دیدی جاتی ہے تو پھر اس وقت وہ موت کو طبعی طور پر پسند کرتا ہے اور لقاء مولیٰ کا اشتیاق اس کی طبعی خواہش کی آواز بن جاتا ہے چنانچہ حدیث کے الفاظ ولکن المؤمن الخ (یعنی جب مؤمن کو موت آتی ہے تو اس بات کی خوشخبری دی جاتی ہے کہ خدا اس سے راضی ہے الخ) اس بات کی وضاحت کر رہے ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے الفاظ ” موت اللہ کی ملاقات سے پہلے ہے” کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار موت سے پہلے ممکن نہیں ہے بلکہ موت کے بعد ہی یہ شرف حاصل ہوتا ہے یا پھر یہ مراد ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے وہ موت کو بھی پسند کرتا ہے کیونکہ اس عظیم شرف و سعادت کا حصول موت کے ذریعہ سے ممکن ہے اور یہ کہ لقاء الٰہی کا وجود موت کے وجود سے پہلے متصور نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ لقاء الٰہی اور موت دنوں ایک چیز نہیں ہیں بلکہ دونوں الگ الگ مفہوم کے حامل ہیں۔

مسجدوں سے عشق

ایک شخص نے یوں قصہ سنایا کہ

میں اور میرے ماموں نے حسب معمول مکہ حرم شریف میں نماز جمعہ ادا کی اورگھر کو واپسی کیلئے روانہ  ہوئے۔ شہر سے باہر نکل کر سڑک کے کنارے کچھ  فاصلے پر ایک بے آباد سنسان مسجد آتی ہے، مکہ شریف کو آتے جاتے سپر ہائی وے سے بارہا گزرتے ہوئے اس جگہ اور اس مسجد پر ہماری نظر پڑتی  رہتی ہے اور ہم  ہمیشہ ادھر سے ہی گزر کر جاتے  ہیں مگر  آج جس  چیز نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی وہ تھی ایک نیلے رنگ کی فورڈ کار جو مسجد کی خستہ حال دیوار کے ساتھ کھڑی تھی، چند لمحے تو میں سوچتا رہا کہ اس کار کا اس سنسان مسجد کے پاس کیا کام! مگر اگلے لمحے میں نے کچھ جاننے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی کار کو  رفتار کم کرتے ہوئے مسجد کی طرف جاتی  کچی سائڈ روڈ پر ڈال دیا، میرا ماموں جو عام طور پر  واپسی کا سفر غنودگی میں گزارتا ہے اس نے بھی اپنی اپنی آنکھوں کو وا کرتے ہوئے میری طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھتا، کیا بات ہے، ادھر کیوں جا رہے ہو؟

ہم نے اپنی کار کو مسجد سے دور کچھ فاصلے پر روکا اور پیدل مسجد کی طرف چلے، مسجد کے نزدیک جانے پر اندر سے کسی کی پرسوز آواز میں سورۃ الرحمٰن تلاوت کرنے کی آواز آ رہی تھی، پہلے تو یہی اردہ کیا کہ باہر رہ کر ہی اس خوبصورت تلاوت کو سنیں ، مگر پھر یہ سوچ کر کہ اس بوسیدہ مسجد میں جہاں اب پرندے بھی شاید نہ آتے ہوں، اند جا کر دیکھنا تو چاہیئے کہ کیا ہو رہا ہے؟

ہم نے اند جا کر دیکھا ایک نوجوان مسجد میں جاء نماز بچھائے ہاتھ میں چھوٹا سا قرآن شریف لئے بیٹھا  تلاوت میں مصروف ہے اور مسجد میں اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔  بلکہ ہم نے تو احتیاطا ادھر ادھر دیکھ کر اچھی طرح تسلی کر لی کہ واقعی کوئی اور موجود  تو نہیں ہے۔

میں نے اُسے السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا،  اس نے نطر اُٹھا کر ہمیں دیکھا، صاف لگ رہا تھا کہ کسی کی غیر متوقع آمد اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی، حیرت اس کے چہرے سے عیاں تھی۔

اُس نے ہمیں جوابا وعلیکم السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا۔

میں نے اس سے پوچھا، عصر کی نماز پڑھ لی ہے کیا تم نے، نماز کا وقت ہو گیا ہے اور ہم نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔

اُس کے جواب کا  انتظار کئے بغیر میں نے اذان دینا شروع کی تو  وہ نوجوان قبلہ کی طرف رخ کئے مسکرا رہا تھا، کس بات پر یا کس لئے یہ مسکراہٹ، مجھے پتہ نہیں تھا۔ عجیب معمہ سا  تھا۔

پھر اچانک ہی اس نوجوان نے ایک ایسا جملہ بولا کہ مجھے اپنے اعصاب جواب دیتے نظر آئے،

نوجوان کسی کو کہہ رہا تھا؛ مبارک ہو، آج تو  باجماعت نماز ہوگی۔

میرے ماموں نے بھی مجھے تعجب بھری نظروں سے دیکھا جسے میں نظر انداز کر تے ہوئے اقامت کہنا شروع کردی۔

جبکہ میرا دماغ اس نوجوان کے اس فقرے پر اٹکا ہوا تھا کہ  مبارک ہو، آج تو  باجماعت نماز ہوگی۔

دماغ میں بار بار یہی سوال آ رہا تھا کہ یہ نوجوان آخر کس سے باتیں کرتا ہے، مسجد میں ہمارے سوا کوئی بندہ و بشر نہیں ہے، مسجد فارغ اور ویران پڑی ہے۔ کیا یہ پاگل تو نہیں ہے؟

میں نے نماز پڑھا کر نوجوان کو دیکھا جو ابھی تک تسبیح میں مشغول تھا۔

میں نے اس سے پوچھا، بھائی کیا حال ہے تمہارا؟ جسکا جواب اس نے ــ’بخیر و للہ الحمد‘ کہہ کر دیا۔

میں نے اس سے پھر کہا، اللہ تیری مغفرت کرے، تو نے میری نماز سے توجہ کھینچ لی ہے۔ ’وہ کیسے‘ نوجوان نے حیرت سے پوچھا۔

میں نے جواب دیا کہ جب میں اقامت کہہ رہا تھا تو نے ایک بات کہیمبارک ہو، آج تو  باجماعت نماز ہوگی۔

نوجوان نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ اس میں ایسی حیرت والی کونسی بات ہے؟

میں نے کہا، ٹھیک ہے کہ اس میں حیرت والی کوئی بات نہیں ہے مگر تم بات کس سے کر رہے تھے آخر؟

نوجوان میری بات سن کر مسکرا تو ضرور دیا مگر جواب دینے کی بجائے  اس نے اپنی نظریں جھکا کر زمین میں گاڑ لیں، گویا سوچ رہا ہو کہ میری بات کا جواب دے یا نہ دے۔

میں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ تم پاگل ہو، تمہاری شکل بہت مطمئن اور پر سکون ہے، اور ماشاءاللہ تم نے ہمارے ساتھ نماز بھی ادا کی ہے۔

اس بار اُس نے نظریں اُٹھا کر  مجھے دیکھا اور کہا؛ میں مسجد سے بات کر رہا تھا۔

اس کی بات میرے ذہن پر بم کی  کی طرح لگی، اب تو میں سنجیدگی سے سوچنے لگا کہ یہ شخص ضرور پاگل ہے۔

میں نے ایک بار پھر اس سے پوچھا، کیا کہا ہے تم نے؟  تم اس مسجد سے گفتگو کر رہے تھے؟ تو پھر کیا اس مسجد نے تمہیں کوئی جواب دیا ہے؟

اُس نے  پھرمسکراتے ہوئے ہی  جواب دیا کہ مجھے ڈر ہے تم کہیں مجھے پاگل نہ سمجھنا شروع کر دو۔

میں نے کہا، مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے، یہ فقط پتھر ہیں، اور پتھر نہیں بولا کرتے۔

اُس نے مسکراتے ہوئے  کہا کہ آپکی بات ٹھیک ہے یہ صرف پتھر ہیں۔

اگر تم یہ جانتے ہو کہ یہ صرف پتھر ہیں جو  نہ سنتے ہیں اور نہ بولتے ہیں  تو  باتیں  کس سے کیں؟

نوجوان نے نظریں پھر زمیں کی طرف کر لیں، جیسے  سوچ رہا ہو  کہ جواب دے یا نہ دے۔

اور اب کی بار اُس نے نظریں اُٹھائے بغیر ہی کہا کہ ؛

میں  مسجدوں سے عشق کرنے والا انسان ہوں،  جب بھی کوئی پرانی، ٹوٹی پھوٹی یا ویران مسجد دیکھتا ہوں  تو اس کے بارے میں سوچتا ہوں

مجھے اُنایام  خیال آجاتا ہے جب لوگ اس مسجد میں نمازیں پڑھا کرتے ہونگے۔

پھر میں اپنے آپ سے ہی سوال کرتا ہوں کہ اب یہ مسجد کتنا شوق رکھتی ہوگی کہ  کوئی تو ہو جو اس میں آکر نماز پڑھے، کوئی تو ہو جو اس میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرے۔  میں مسجد کی اس تنہائی کے درد کو محسوس کرتا ہوں کہ  کوئی تو ہو جو ادھر آ کر تسبیح و تحلیل کرے، کوئی تو ہو جو آ کر چند آیات پڑھ کر ہی اس کی دیواروں کو ہلا دے۔

میں تصور کر سکتا ہوں کہ  یہ مسجد کس قدر اپنے آپ کو باقی مساجد میں تنہا پاتی ہوگی۔

کس قدر تمنا رکھتی ہوگی کہ کوئی آکر چند رکعتیں  اور چند  سجدے   ہی اداکر جائے اس میں۔

کوئی بھولا بھٹکا مسافر، یا راہ چلتا انسان آ کر ایک اذان ہی بلند کرد ے۔

پھر میں خود ہی ایسی مسجد کو جواب دیا کرتا ہوں کہ اللہ کی قسم، میں ہوں جو تیرا شوق پورا کرونگا۔

اللہ کی قسم میں ہوں جو تیرے آباد دنوں جیسے ماحول کو زندہ کرونگا۔

پھر میں ایسی مسجدمیں داخل ہو کر دو رکعت پڑھتا ہوں اور قرآن شریف کے  ایک سیپارہ کی تلاوت کرتا ہوں۔

میرے بھائی، تجھے میری باتیں عجیب لگیں گی، مگر اللہ کی قسم میں مسجدوں سے  پیار کرتا ہوں، میں مسجدوں کا عاشق ہوں۔

میری آنکھوں  آنسوؤں سے بھر گئیں،  اس بار میں نے اپنی نظریں زمیں میں ٹکا دیں کہ کہیں نوجوان مجھے روتا ہوا نہ دیکھ لے،

اُس کی باتیں۔۔۔۔۔ اُس کا احساس۔۔۔۔۔اُسکا عجیب کام۔۔۔۔۔اور اسکا عجیب اسلوب۔۔۔۔۔کیا عجیب شخص  ہے جسکا دل مسجدوں میں اٹکا رہتا ہے۔۔۔۔۔

میرے پاس کہنے کیلئے اب کچھ بھی تو نہیں تھا۔

صرف اتنا کہتے ہوئے کہ، اللہ تجھے جزائے خیر دے، میں نے اسے سلام کیا، مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا کہتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا۔

مگر ایک حیرت ابھی  بھی باقی تھی۔

نوجوان نے پیچھے سے مجھے آواز دیتے ہوئے کہا تو میں دروازے سے باہر جاتے جاتے رُک گیا،

نوجوان کی نگاہیں ابھی بھی جُھکی  تھیں اور وہ مجھے  کہہ رہا تھا کہ جانتے ہو جب میں ایسی ویران مساجد میں نماز پڑھ لیتا ہوں تو کیا دعا مانگا کرتا ہوں؟

میں نے صرف اسے دیکھا تاکہ بات مکمل کرے۔

اس نے اپنی بات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا  میں دعا مانگا کرتا ہوں کہ

’ اے میرے  پروردگار، اے میرے  رب! اگر تو سمجھتا ہے کہ میں نے تیرے ذکر ، تیرے قرآن کی تلاوت اور تیری بندگی سے اس مسجد کی وحشت و ویرانگی کو دور کیا ہے تو اس کے بدلے میں تو میرے باپ کی قبر کی وحشت و ویرانگی کو دور فرما دے، کیونکہ تو ہی رحم و کرم کرنے والا ہے‘

مجھے اپنے جسم میں ایک سنسناہٹ سی محسوس ہوئی، اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔


German Muslims must obey law, not Sharia – Merkel

German Christian Democrats often cite shared Judeo-Christian values rooted in the early history of Christianity because of sensitivities about the Holocaust, when the Nazis murdered six million Jews during World War Two.

Berlin: Chancellor Angela Merkel said on Wednesday Muslims must obey the constitution and not Sharia if they want to live in Germany, which is debating the integration of its 4 million-strong Muslim population.

In the furore following a German central banker’s blunt comments about Muslims failing to integrate, moderate leaders including President Christian Wulff have urged Germans to accept that “Islam also belongs in Germany”.

The debate comes against a backdrop of US and British concerns over the threat of terrorist attacks by militant Islamists living in Germany, with Berlin toning down such fears.

Merkel faces corresponding discussions inside her Christian Democratic Union (CDU) about whether she is conservative enough, and the centre-right leader’s latest comments seemed directed at those who think Wulff went too far in appeasing the Muslims.

Wulff, who has a largely ceremonial role, used a speech on Sunday celebrating two decades of German reunification to urge harmonious integration of immigrants who until a decade ago were considered “guest workers” who would eventually return home.

But whereas the media stressed Wulff’s comments about Islam, Merkel – the daughter of a Protestant pastor brought up in East Germany, who leads a predominantly Catholic party – said Wulff had emphasised Germany’s “Christian roots and its Jewish roots”.

German Christian Democrats often cite shared Judeo-Christian values rooted in the early history of Christianity because of sensitivities about the Holocaust, when the Nazis murdered six million Jews during World War Two.

“Now we obviously also have Muslims in Germany. But it’s important in regard to Islam that the values represented by Islam must correspond with our constitution,” said Merkel.

“What applies here is the constitution, not Sharia.”

Merkel said Germany needed imams “educated in Germany and who have their social roots here” and concluded: “Our culture is based on Christian and Jewish values and has been for hundreds of years, not to say thousands.”

Opinion polls suggest many Germans sympathise with the views of an outspoken member of Germany’s Bundesbank who, in speeches and a book, accused Muslims of sponging off welfare, refusing to integrate and achieving poor levels of education.

Thilo Sarrazin, who also offended Jews with comments about genetics, was forced to quit the central bank. Merkel has tried to accommodate both sides of the debate, saying police should not be afraid of entering immigrant neighbourhoods but also that Germans must accept mosques becoming part of their landscape.

if they still prefer to live there, they should change there religion.



تخلیق انسان پر فرشتوں نے رب سے کہا یہ تو زمین پر فساد برپا کرے گا۔ اللہ نے کہا جو میرے بندے ہو گے وُہ میرے ہی فرمانبردار ہو گے۔

جہاں دیکھتا ہو ں جھگڑا ہی جھگڑا سننے کو ملتے ہیں، اختلاف ہونا اور بات ہے اور بغیر اختلاف کے جھگڑ پڑنا بلاوجہ عمل ہے۔انسان مسلسل جھگڑوں سے نبٹ رہا ہے۔

دُنیا میں اصلاح کارجھگڑوں کے نتائج میں پیدا ہوتے ہیں۔ کوئی بھی مصلح بغیر کسی مسئلہ کے پیدا نہیں ہوا۔ آج دُنیا کا ہر عقیدہ کسی نہ کسی مسیحا کے انتظا ر میں ہے۔ مسیحا خدا کا کوئی اُوتا ر نہیں ہوتا۔ وُہ عام انسانوں میں سے ہی منتخب ہوتا ہے۔ انسان جب اپنے مسائل کی زندگی سے بیزار ہو جاتا ہے تو وُہ پھر اُنکے حل کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے یو نہی ریفارمراُس عوامی بے چینی کو امن اور سکون میں لانے کا ایک راستہ بتا تا ہے۔ بدھا ذات پات سے بیزار ہوا، لاﺅتزے سرکار سے متنفر ہوا، ہٹلر یہود کی بالا دستی سے نالاں تھا، کارل مارکس معاشی بدحالی کا ستایا ہوا، بابا گرو نانک ہندو مسلم اختلاف،قائد اعظم برصغیر کے مسلمانوں کے مسائل کے حل کی تلاش میں محو سفر تھے۔دُنیا کے سب سے بڑے مصلح رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم تھے۔ جنھوں نے تمام دُنیا کے نظام کو ایک درست سمت عطاءفرمائی۔ اصلاح کار نظام تبدیل نہیں کیا کرتے، وُہ اُسی نظام کے مسائل کو ایک اور انداز سے بہتری عطاءکرتے ہیں۔ مذہب تمام نظام کو ایک وحدت، عقیدہ کی صورت عطاءکرتا ہے۔

نیکی اور بدی کی طرح صلح جو اور منتقم ریفارمر ہوتے ہیں۔ مصلح امن اور سکون کا پیغام دُنیا میں پھیلاتے ہیں،مگر دُنیا میں بسنے والے انسان اپنے اقتدار کے کھو جانے کے خوف کی بناءپر امن پسند تحریک کو ایک تشدد کا رنگ اپنا لینے پر مجبور کر ڈالتے ہیں۔ اور ایک متشدد گروہ اپنی بالادستی کے بعد اپنے اختیار سے شانتی کا ایک طویل پروگرام رکھتا ہے۔ حیران کن بات ہے اصلاح کار مسائل کے حل کی تلاش میں آتا ہے مگر وُہ خود جھگڑا جیسے مسئلہ میں اُلجھ پڑتا ہے۔ اور یہ ٹکراﺅ ایسی خوبصورت سوچ کو برباد کر ڈالتا ہے۔ کہیں اُسکے پیروکار اُس کی تحریک کا رنگ بدلتے ہیں تو کہیں اُسکو خود ایک تبدیل رنگ سے آگے آنا پڑتا ہے۔

کہتے ہیں جس گھر میں جھگڑا ہو اُس گھر کا گھڑا بھی سوکھ جاتا ہے۔ دیکھئے جھگڑا، سنیے جھگڑا، آج وطن عزیز میں ہر کوئی ہر کسی سے جھگڑے میں مصروف ہے۔ اِن جھگڑوں میں دشمن کے بہانے ہمارے گھر کے کنویں( دریا) بھی خشک ہو چلے۔ آپسی جھگڑوں نے بربادی کے سواءکبھی کچھ دیا؟بس جھگڑے محنت اور اثاثہ سے چل پڑے ۔ میں محنت زیادہ کرتاہو، وُہ موج کرتا ہے۔میں کماتا زیادہ ہو، وُہ کھاتا زیادہ ہے۔ہاں! بے شک گدھا بہت محنت کرتا ہے مگر گدھا گدھا ہی ہوتا ہے۔

محنت، محبت، دولت،رفاقت، عبادت کا خیال رکھنا چاہیے مگر کبھی شمارنہیں کرنی چاہیے۔ ان کی گنتی ہمیشہ پریشان اور بے چین رکھتی ہے۔ آہستہ آہستہ یہاں سے ہی بے دلی اور اُکتاہٹ کا آغاز ہوتے ہوئے جھگڑے کی حد چھو دیتا ہے۔ برسوں کی ریاضت کے پتے یکدم پیڑ سے جھڑ جاتے ہیں۔آخر انسان حقیقت میں سب کچھ گنوا بیٹھتا ہے۔عرفان کی راہ پہ چلتے چلتے ، فرعون کی راہ پا جاتا ہے۔

جگ میں جو تماشے ہوئے۔ ٹھگ کی راہ میں وُہ جھگڑے نکلے۔ سنگ کسی اور کے رہے سنگت کہیں اور نبھائی۔ رنگ میں رنگ کچھ یوں رنگے کہ تاثیر ہی گنوائی۔ نگاہوں کے فرق سے اختلاف بڑھے۔ نطق و منطق کی کج فہمی سے نظریات اُکھڑے۔ دُنیا میں کوئی جھگڑا باقی نہ رہا۔ اگر فہم یکساں ہوا تو سنسار بے رنگا ہوا۔حسنِ کائنات تفاوت میں ہے۔ دانشمند کی نگاہ حکمت میں ہے۔ دُنیا جھگڑوں سے بھری پڑی ہے۔ خالی نہیں، مثالی لوگوں سے بھری پڑی ہے۔

ہمارا ہر جھگڑا پیٹ سے شروع ہوتا ہے اوربربادی کے بھنور کی لپیٹ پر ختم ہوتا ہے۔پینسٹھ برس قبل لاہور کے ایک نامور ادیب خواجہ دل محمد دِل نے ایک ایسا شعر لکھا ، جس کی اپنی ہی تاثیر تھی۔

ہیرے موتی چاب کر نہ بھرے تیرا پیٹ
دو روٹی کی خاطر کیوں اتنی اَلسیٹ


(فرخ نور)


سورة البَقَرَة

اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا۔ اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا (۲۸۱) مومنو! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لئے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے۔ اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے۔ اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی۔ اور جب گواہ (گواہی کے لئے طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں۔ اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں کاہلی نہ کرنا۔ یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لئے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے۔ اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وہ شبہ بھی نہیں پڑے گا۔ ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھوتو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور جب خرید وفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو۔ اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں کا) کسی طرح نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے (۲۸۲) اور اگر تم سفر پر ہواور (دستاویز) لکھنے والا مل نہ سکے تو (کوئی چیز) رہن یا قبضہ رکھ کر (قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہیئے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کردے اور خدا سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے۔اور (دیکھنا) شہادت کو مت چھپانا۔ جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے (۲۸۳) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے (۲۸۴)

نفرت نہیں، محبت

نفرت نہیں، محبت

ہم اپنی زندگی میں نہ جانے کتنی نفرتیں پالتے ہیں۔ محبت بکھیرنے کی بجائے ، فاصلے بکھیڑتے ہیں۔ نفرت نے سوچ کو محدود کیا، رائے و تحقیق کو تعصب کی نگاہ بخشی۔ زندگی کی گوناگونی میں متناقص و متناقض بے چینی پیدا کی۔ ژرف نگاری کے نام پر ضرب کاری ہونے لگی۔ پیدائش کا نطفہ بخیلی سے جنم لینے لگا۔ اسلام کے نام پر کرخت مزاجی بھڑکنے لگی۔

ہم آئے روزمنفی و تخریبی موضوعات پر تحاریرلکھتے ہیں۔اِن منفی موضوعات کومثبت انداز میں تنقید کی نکتہ چینی کی بجائے ؛ اصلاحی رنگ دے سکتے ہیں۔ ہم نفرت پہ تو بات کرتے ہیں۔ اگر نفرت کی ضد محبت سے بات کرے تو ہمارے اذہان و قلوب میں خوب صورت کیفیات ہی مرتب ہو سکتی ہے۔

آج ہمارا ادیب بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اُس کو معاشرہ کی فحش گوئی بیان کرنے کے لیے اب طوائفہ سے معشوقہ کی تلاش ہونے لگی۔ سکینڈل بیان کرتے کرتے معاشرہ کو سکینڈل زدہ بنا دیا۔ کاش! کو ئی ادیب تعمیری سوچ کے ساتھ معاشرہ میں تعمیر بخشے۔ شاعر کی شاعری برہنہ گوئی رہ گئی۔ مقصد و خیال رخصت ہو چکے۔

ہمیں آج تعمیری سوچ کی ضرورت ہے۔ جاہلانہ اذہان دوسروں کی آپسی ملاقاتوں سے بھی بُرا تصور اخذکرتے ہیں۔ شاکی اذہان میں سازش ، بد نگاہوں سے برائی، متلون مزاجی سے وسواس قلوب میں جنم لیتے ہیں۔نہ جانے نفرتیں کہاں کہاں پنپ رہی ہیں۔

لاﺅتزے نے تاﺅ تے چنگ میں فرمایا تھا۔” جب دُنیا جانتی ہے؛ خوبصورتی جیسے خوبصورتی ہے، بدصورتی اُبھرتی ہے،جب جانتے ہیں، اچھائی اچھائی ہے، برائی بڑھتی ہے“

مینیشس نے کہا تھا،” برائی کی موجودگی اچھائی کی شان ہے۔ برائی کی ضد اچھائی ہے۔ یہ ایک دوسرے سے بندھی ہے۔برائی کی کایا اچھائی میں پلٹ سکتی ہے۔ برائی کیا ہے؟ ایک وقت میں تو وُہ ہے،مگر بعدکے کسی دور میں وُہ اچھائی ہوسکتی ہے کسی اور کے لیے۔“

مذاہب محبت کی بات کرتے ہیں۔ عبادت گاہیں محبت کی مرکز ہیں مگر آج فرقوں کے نام پر نفرتیں بٹ رہی ہیں۔ گیتا، جپ جی صاحب، سُکھ منی صاحب، ادی گرنتھ صاحب،تاﺅتے چنگ محبت ہی کی تعلیم دے رہی ہیں۔ یہ اخلاقی تعلیمات کے لازوال شاہکارہیں۔ہر مذہب میں جھوٹ، شراب، جوائ، زنا، جھوٹی گواہی کی پابندیاں عائد ہیں۔ ان سے انحراف معاشرہ میں نفرت کا جنم ہے۔

ناکام معاشرے اپنی خامیوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں، دوسروں کی خوبیوں کی عیب جوئی فرماتے ہیں,۔تنگ نظر اذہان تنگ نظری کی بات کرتے ہیں۔ کچھ لوگ خو د کو راجپوت، سید اور اعوان کہلانے پر فخر کرتے ہیں۔دوسروں کو اپنی احساس کمتری کے باعث کمی کمین کہتے ہیں۔ بھئی فخر کرنے کے لیے ویسے اعمال بھی ہونے چاہیے۔ راجپوت اپنی خودداری، وطن پرستی اور غیرت کی روایات کی پاسداری کرتے تھے ۔کٹھن حالات میں’ جوہر ‘ کی رسم ادا کرتے تھے۔ جب راجپوت اپنا دفاع ناکام ہوتا دیکھتے تو عورتیں بچوں سمیت آگ میں کود پڑتیں تاکہ بے حرمتی کی ذلت سے بچ سکیں۔یوںمرد اپنے گھر بار کی فکر سے آزاد ہوکرآخر دم تک لڑتے ہوئے ؛ وطن کے تحفظ پر جان قربان کر تے تھے۔ دشمن کی فتح تب ہوتی، جب کوئی راجپوت باقی نہ رہتا۔ رانااودے سنگھ، رانا پرتاب سنگھ نے مغل عہد میںراجپوت خودداری کو قائم رکھا۔سید اور اعوان خود کوحضرت علی رضی اللہ عنہ کی اُولاد ہونے پر ناز کرتے ہیں۔ شان تویہ ہیں؛جب اعمال و کردار حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نقش قدم کے مطابق ہو۔ ورنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام سن کر سر شرمندگی سے جھک جائے۔لوگ خود کو سردار، نواب ، راجگان ،ملک،بیگ، خان، رانا، چوہدری اور قاضی وغیرہ کے ناموں سے متعارف کرواتے ہیں۔ ایسے تاریخی سرکاری عہدوں اور القابات کا قبیلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ کیا ہم میں کوئی ایسی خصوصیت ہے کہ ہمیں آج کی سرکار کوئی رتبہ عنائیت فرمائے۔ جب ہم میں ایسی کوئی خاصیت نہیں تو ہم ترقی پانے والے لوگوں کے کم ذات ہونے پر تبصرہ کیوں کرتے ہیں ؟ دراصل ہم اپنی احساس کمتری کو احساس برتری سے چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ غالب کا مصرع ہے:

دِل کو خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

محبت بانٹنے سے بڑھتی ہے اور نفرت سمیٹنے سے پھیلتی ہے۔ نفرتیں مت سمیٹوں۔تعصب کی عینک اُتار کر دیکھو تو سوچ کی وسعت خوب پھیلے گی ۔ ورنہ بند گلی کے بند راہی بنو گے۔

زندگی کا حسن محبت، نعمتِ خداوندی مسکراہٹ ہے۔ بندوں سے تعصب، دِل میں خدا کی محبت کو بھی دور کرتا ہے۔ اللہ سے محبت اللہ کے بندوں سے محبت ہے۔

میرے ذہن میں ایک سوال بچپن سے اُمڈتا ہے۔ اسلام خوش اخلاقی کی عملی تربیت دیتا ہے۔ ہمارے بیشتر مذہبی نمائندگان یا وُہ افراد جو مذہبی جھکاﺅ زیادہ رکھتے ہیں۔ دِن بدن اُنکے مزاج میں کرختگی اور برداشت کی کمی کیوں واقع ہوتی جا رہی ہے؟ اپنے گروہ کے سواءکسی اور کو سلام کرنا گوارہ کیوں نہیں کرتے۔ غیر مذہبی افراد کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا تو سکتے ہیں۔ مگر مسلمان بھائی کے ساتھ بیٹھنا کیوں گوارہ نہیں؟ یہ وُہ عملی مناظر ہے، جس نے آج کے نوجوان کوپریشان کیاہے۔

برصغیر میں مسلمانوں کی آمد اور شاہجہانی دور کی عظمت ایک دِن یا عرصہ کی بات نہیں،یہ صدیوں کے تاریخی تسلسل میں نکلنے والی کونپل تھی، جسکی خوشبو میں نفرت کی بدبو گھٹتی گئی اور محبت پھیلی۔ اردو میل ملاپوں میں آسودہ ہوئی۔ علاقائی تعصبات سے آلودہ ہوئی۔پاکستان میں معاشرتی زندگی کا جو تصور تحریک آزادی میں پیش کیا گیا تھا۔ مذہبی آزادی و رواداری تھا۔ آج مسلکی بنیادوں پر نفرتیں سرائیت کر چکی۔ اے اللہ! ہمیں ایسی تحقیق سے محروم فرما، جس میں ہم تاریخ ِ اسلام کی عالیٰ مرتبت بزرگان کے مسلک کی تلاش کریں۔ ہمیںمسلک کی بنیاد پر نفرت سے بچا۔

مجھے کبھی کبھی افسوس ہوتا ہے۔ غیر جانبدارانہ رویہ بھی موت کا سبب بنتا ہے۔ابن رشد نے یونانی تراجم یونانی رو سے کیے تو ملحد ہوکر خارج الاسلام قرار دیا گیا۔ شہزادہ دارالشّکوہ نے سکینة الاولیاءاور سفینة الاولیاءایام جوانی میں تحریر فرما کر بڑا نام پایا۔ مگر ہندی تراجم ہندوﺅانہ روح سے کرکے مرتد قرار دیکر واجب القتل ٹھہرا اور سولی پر چڑھایا گیا۔ شائید ہر دور کا ارسطو زہر کا پیالہ پینے کو ترجیح دیتا ہے۔ اُس زمانے میں افلاطون نے شہر چھوڑا تھا۔ آج لوگ خاموش ہوگئے ہیں۔

یہ نفرتیں ہی ہیں۔ جنھوں نے ہماری زندگی میں تنہائیاں ہی جنم دی ہیں۔ خوشی اور غمی کے جذبات سے عاری معاشرہ پنپ رہا ہے۔ ہمیں سوچنا ہے ہم اپنی نسل کو کیا منتقل کر رہے ہیں!

ہماری عیدین گزرتی ہیں۔ذرا سوچئے! آپ کتنی خوشیاں بکھیرتے ہیں؟ کتنے چہروں پر مسکراہٹ لاتے ہیں؟کسقدر رخنہ زدہ بندھنوں کو اِک لڑی میں پروتے ہیں؟ کیا عید کے روز ماتھا پہ شکن، گفتگو میں گالم گلوچ، دِل میں بغض، حسد، کینہ اور رویوں میں نفرت ہونی چاہیے؟ عید کے روز خلاف مزاج بات پر سخت الفاظ منہ سے نکالنا بھی میرے خیال میں عید کی توہین ہے۔

کیا ہم سال میں صرف عیدین کے دو ایاّم کو اپنے رویہ سے خوبصورت نہیں بنا سکتے ،جہاں صرف محبت ہی محبت آپ سے مِل رہی ہو؟ معاشرہ کا ردّعمل جو بھی ہو، عید کے روز خود کو محبت کو عملی نمونہ بنائے۔

عید کے روز میرے ایس -ایم-ایس پہ پریشان مت ہوا کریں۔ میں آپ سب سے بھی خوشی بانٹ رہا ہوتا ہوں۔ میں عیدین پر اپنے ہزاروں چاہنے اور جاننے والوں کو نیک تمناﺅں کا پیغام بھیجتا ہوں اور رہونگا۔ لہذا! آپ نہ تو تذبذب کا شکار ہو اور نہ شک میں پڑیں۔ کیونکہ محبت کو شک کھا جاتا ہے۔

(فرخ نور)

مشکل الفاظ کے معنی

گوناگونی : ورائٹی، مختلف اقسام

متناقص: نقص رکھنے والا، ناقص، نامکمل

متناقض: مخالف، برعکس، اُلٹا، خلاف