What keeps you awake at night?

“Am I honoring my purpose?”

“Am I in control of my life?”

“Is my career going in the right direction?”

“Do I have enough cash in the bank?”

“Am I doing enough for the people around me?”

Advertisements

Gates of Happiness are Open

“For you see, each day I love you moreToday more than yesterday and less than tomorrow.”~ Rosemonde Gerard

“You rose into my life like a promised sunrise, brightening my days with the light in your eyes. I’ve never been so strong. Now I’m where I belong.”~ Maya Angelou

“Love is the master key that opens the gates of happiness.”~ Oliver Wendell Holmes

“In the arithmetic of love, one plus one equals everything, and two minus one equals nothing.”~ Mignon McLaughlin

When you realize you want to spend the rest of your life with somebody, you want the rest of your life to start as soon as possible.  ~Nora Ephron, When Harry Met Sally

s

 

معاف کردینا ہی مکارمِ اخلاق میں سے ہے

سعدی کہتے ہیں کہ ہارون الرشید کا لڑکا ابا کے سامنے شکایات لایا اور کہا کہ مجھے فلاں سپاہی کے لڑکے نے ماں کی گالی دی ہے۔ ہارون  نے ارکان دولت سے پوچھا کہ کیوں بھئی کیا سزا ہونی چاہیئے! کسی نے کہا کہ اسکو قتل کردینا چاہیئے۔ خلیفہ کی بیوی کو اور سلطنت اسلام کی خاتون اول کو اس نے گالی دی ہے۔ کسی نے کہا زبان کاٹ دینی چاہیئے۔ کسی نے کہا اسکا مال وجائیداد ضبط کرلینا چاہیئے۔ کسی نے کہا اسکو جلا وطن کردینا چاہیے یا کم سے کم جیل کی سزا۔

نے بیٹے کو کہا بیٹا تم معاف کردو تو بڑا بہتر ہے۔ گالی دینے والے نے اپنا منہ گندا کیا اس میں تمہارا کیا نقصان؟ تمہاری ماں کو گالی لگی نہیں۔ اگر کسی کی ماں ایسی نہیں ہے جیسے اس نے کہا تو اسکا منہ گندا ہوا‘ اسکی ماں کا کیا بگڑا۔ تو بہتر یہی ہے‘ مکارمِ اخلاق یہی ہے کہ تم اسکو معاف کردو اور اگر تم سے برداشت نہیں ہوا تو وجزاء سیئة سیئة بمثلھا برائی کا بدلہ اتنی برائی ہے۔ تم بھی اکسی ماں کو گالی دے دو لیکن شرط یہ ہے کہ جتنی اس نے دی تھی اتنی دو اس سے زیادہ نہیں۔ کیونکہ اگر تم اس سے زیادہ دوگے تو تم ظالم بن جاؤ گے اور تمہارا مخالف مظلوم بن جائیگا۔

نفرت نہیں، محبت

نفرت نہیں، محبت

ہم اپنی زندگی میں نہ جانے کتنی نفرتیں پالتے ہیں۔ محبت بکھیرنے کی بجائے ، فاصلے بکھیڑتے ہیں۔ نفرت نے سوچ کو محدود کیا، رائے و تحقیق کو تعصب کی نگاہ بخشی۔ زندگی کی گوناگونی میں متناقص و متناقض بے چینی پیدا کی۔ ژرف نگاری کے نام پر ضرب کاری ہونے لگی۔ پیدائش کا نطفہ بخیلی سے جنم لینے لگا۔ اسلام کے نام پر کرخت مزاجی بھڑکنے لگی۔

ہم آئے روزمنفی و تخریبی موضوعات پر تحاریرلکھتے ہیں۔اِن منفی موضوعات کومثبت انداز میں تنقید کی نکتہ چینی کی بجائے ؛ اصلاحی رنگ دے سکتے ہیں۔ ہم نفرت پہ تو بات کرتے ہیں۔ اگر نفرت کی ضد محبت سے بات کرے تو ہمارے اذہان و قلوب میں خوب صورت کیفیات ہی مرتب ہو سکتی ہے۔

آج ہمارا ادیب بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اُس کو معاشرہ کی فحش گوئی بیان کرنے کے لیے اب طوائفہ سے معشوقہ کی تلاش ہونے لگی۔ سکینڈل بیان کرتے کرتے معاشرہ کو سکینڈل زدہ بنا دیا۔ کاش! کو ئی ادیب تعمیری سوچ کے ساتھ معاشرہ میں تعمیر بخشے۔ شاعر کی شاعری برہنہ گوئی رہ گئی۔ مقصد و خیال رخصت ہو چکے۔

ہمیں آج تعمیری سوچ کی ضرورت ہے۔ جاہلانہ اذہان دوسروں کی آپسی ملاقاتوں سے بھی بُرا تصور اخذکرتے ہیں۔ شاکی اذہان میں سازش ، بد نگاہوں سے برائی، متلون مزاجی سے وسواس قلوب میں جنم لیتے ہیں۔نہ جانے نفرتیں کہاں کہاں پنپ رہی ہیں۔

لاﺅتزے نے تاﺅ تے چنگ میں فرمایا تھا۔” جب دُنیا جانتی ہے؛ خوبصورتی جیسے خوبصورتی ہے، بدصورتی اُبھرتی ہے،جب جانتے ہیں، اچھائی اچھائی ہے، برائی بڑھتی ہے“

مینیشس نے کہا تھا،” برائی کی موجودگی اچھائی کی شان ہے۔ برائی کی ضد اچھائی ہے۔ یہ ایک دوسرے سے بندھی ہے۔برائی کی کایا اچھائی میں پلٹ سکتی ہے۔ برائی کیا ہے؟ ایک وقت میں تو وُہ ہے،مگر بعدکے کسی دور میں وُہ اچھائی ہوسکتی ہے کسی اور کے لیے۔“

مذاہب محبت کی بات کرتے ہیں۔ عبادت گاہیں محبت کی مرکز ہیں مگر آج فرقوں کے نام پر نفرتیں بٹ رہی ہیں۔ گیتا، جپ جی صاحب، سُکھ منی صاحب، ادی گرنتھ صاحب،تاﺅتے چنگ محبت ہی کی تعلیم دے رہی ہیں۔ یہ اخلاقی تعلیمات کے لازوال شاہکارہیں۔ہر مذہب میں جھوٹ، شراب، جوائ، زنا، جھوٹی گواہی کی پابندیاں عائد ہیں۔ ان سے انحراف معاشرہ میں نفرت کا جنم ہے۔

ناکام معاشرے اپنی خامیوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں، دوسروں کی خوبیوں کی عیب جوئی فرماتے ہیں,۔تنگ نظر اذہان تنگ نظری کی بات کرتے ہیں۔ کچھ لوگ خو د کو راجپوت، سید اور اعوان کہلانے پر فخر کرتے ہیں۔دوسروں کو اپنی احساس کمتری کے باعث کمی کمین کہتے ہیں۔ بھئی فخر کرنے کے لیے ویسے اعمال بھی ہونے چاہیے۔ راجپوت اپنی خودداری، وطن پرستی اور غیرت کی روایات کی پاسداری کرتے تھے ۔کٹھن حالات میں’ جوہر ‘ کی رسم ادا کرتے تھے۔ جب راجپوت اپنا دفاع ناکام ہوتا دیکھتے تو عورتیں بچوں سمیت آگ میں کود پڑتیں تاکہ بے حرمتی کی ذلت سے بچ سکیں۔یوںمرد اپنے گھر بار کی فکر سے آزاد ہوکرآخر دم تک لڑتے ہوئے ؛ وطن کے تحفظ پر جان قربان کر تے تھے۔ دشمن کی فتح تب ہوتی، جب کوئی راجپوت باقی نہ رہتا۔ رانااودے سنگھ، رانا پرتاب سنگھ نے مغل عہد میںراجپوت خودداری کو قائم رکھا۔سید اور اعوان خود کوحضرت علی رضی اللہ عنہ کی اُولاد ہونے پر ناز کرتے ہیں۔ شان تویہ ہیں؛جب اعمال و کردار حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نقش قدم کے مطابق ہو۔ ورنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام سن کر سر شرمندگی سے جھک جائے۔لوگ خود کو سردار، نواب ، راجگان ،ملک،بیگ، خان، رانا، چوہدری اور قاضی وغیرہ کے ناموں سے متعارف کرواتے ہیں۔ ایسے تاریخی سرکاری عہدوں اور القابات کا قبیلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ کیا ہم میں کوئی ایسی خصوصیت ہے کہ ہمیں آج کی سرکار کوئی رتبہ عنائیت فرمائے۔ جب ہم میں ایسی کوئی خاصیت نہیں تو ہم ترقی پانے والے لوگوں کے کم ذات ہونے پر تبصرہ کیوں کرتے ہیں ؟ دراصل ہم اپنی احساس کمتری کو احساس برتری سے چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ غالب کا مصرع ہے:

دِل کو خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

محبت بانٹنے سے بڑھتی ہے اور نفرت سمیٹنے سے پھیلتی ہے۔ نفرتیں مت سمیٹوں۔تعصب کی عینک اُتار کر دیکھو تو سوچ کی وسعت خوب پھیلے گی ۔ ورنہ بند گلی کے بند راہی بنو گے۔

زندگی کا حسن محبت، نعمتِ خداوندی مسکراہٹ ہے۔ بندوں سے تعصب، دِل میں خدا کی محبت کو بھی دور کرتا ہے۔ اللہ سے محبت اللہ کے بندوں سے محبت ہے۔

میرے ذہن میں ایک سوال بچپن سے اُمڈتا ہے۔ اسلام خوش اخلاقی کی عملی تربیت دیتا ہے۔ ہمارے بیشتر مذہبی نمائندگان یا وُہ افراد جو مذہبی جھکاﺅ زیادہ رکھتے ہیں۔ دِن بدن اُنکے مزاج میں کرختگی اور برداشت کی کمی کیوں واقع ہوتی جا رہی ہے؟ اپنے گروہ کے سواءکسی اور کو سلام کرنا گوارہ کیوں نہیں کرتے۔ غیر مذہبی افراد کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا تو سکتے ہیں۔ مگر مسلمان بھائی کے ساتھ بیٹھنا کیوں گوارہ نہیں؟ یہ وُہ عملی مناظر ہے، جس نے آج کے نوجوان کوپریشان کیاہے۔

برصغیر میں مسلمانوں کی آمد اور شاہجہانی دور کی عظمت ایک دِن یا عرصہ کی بات نہیں،یہ صدیوں کے تاریخی تسلسل میں نکلنے والی کونپل تھی، جسکی خوشبو میں نفرت کی بدبو گھٹتی گئی اور محبت پھیلی۔ اردو میل ملاپوں میں آسودہ ہوئی۔ علاقائی تعصبات سے آلودہ ہوئی۔پاکستان میں معاشرتی زندگی کا جو تصور تحریک آزادی میں پیش کیا گیا تھا۔ مذہبی آزادی و رواداری تھا۔ آج مسلکی بنیادوں پر نفرتیں سرائیت کر چکی۔ اے اللہ! ہمیں ایسی تحقیق سے محروم فرما، جس میں ہم تاریخ ِ اسلام کی عالیٰ مرتبت بزرگان کے مسلک کی تلاش کریں۔ ہمیںمسلک کی بنیاد پر نفرت سے بچا۔

مجھے کبھی کبھی افسوس ہوتا ہے۔ غیر جانبدارانہ رویہ بھی موت کا سبب بنتا ہے۔ابن رشد نے یونانی تراجم یونانی رو سے کیے تو ملحد ہوکر خارج الاسلام قرار دیا گیا۔ شہزادہ دارالشّکوہ نے سکینة الاولیاءاور سفینة الاولیاءایام جوانی میں تحریر فرما کر بڑا نام پایا۔ مگر ہندی تراجم ہندوﺅانہ روح سے کرکے مرتد قرار دیکر واجب القتل ٹھہرا اور سولی پر چڑھایا گیا۔ شائید ہر دور کا ارسطو زہر کا پیالہ پینے کو ترجیح دیتا ہے۔ اُس زمانے میں افلاطون نے شہر چھوڑا تھا۔ آج لوگ خاموش ہوگئے ہیں۔

یہ نفرتیں ہی ہیں۔ جنھوں نے ہماری زندگی میں تنہائیاں ہی جنم دی ہیں۔ خوشی اور غمی کے جذبات سے عاری معاشرہ پنپ رہا ہے۔ ہمیں سوچنا ہے ہم اپنی نسل کو کیا منتقل کر رہے ہیں!

ہماری عیدین گزرتی ہیں۔ذرا سوچئے! آپ کتنی خوشیاں بکھیرتے ہیں؟ کتنے چہروں پر مسکراہٹ لاتے ہیں؟کسقدر رخنہ زدہ بندھنوں کو اِک لڑی میں پروتے ہیں؟ کیا عید کے روز ماتھا پہ شکن، گفتگو میں گالم گلوچ، دِل میں بغض، حسد، کینہ اور رویوں میں نفرت ہونی چاہیے؟ عید کے روز خلاف مزاج بات پر سخت الفاظ منہ سے نکالنا بھی میرے خیال میں عید کی توہین ہے۔

کیا ہم سال میں صرف عیدین کے دو ایاّم کو اپنے رویہ سے خوبصورت نہیں بنا سکتے ،جہاں صرف محبت ہی محبت آپ سے مِل رہی ہو؟ معاشرہ کا ردّعمل جو بھی ہو، عید کے روز خود کو محبت کو عملی نمونہ بنائے۔

عید کے روز میرے ایس -ایم-ایس پہ پریشان مت ہوا کریں۔ میں آپ سب سے بھی خوشی بانٹ رہا ہوتا ہوں۔ میں عیدین پر اپنے ہزاروں چاہنے اور جاننے والوں کو نیک تمناﺅں کا پیغام بھیجتا ہوں اور رہونگا۔ لہذا! آپ نہ تو تذبذب کا شکار ہو اور نہ شک میں پڑیں۔ کیونکہ محبت کو شک کھا جاتا ہے۔

(فرخ نور)

مشکل الفاظ کے معنی

گوناگونی : ورائٹی، مختلف اقسام

متناقص: نقص رکھنے والا، ناقص، نامکمل

متناقض: مخالف، برعکس، اُلٹا، خلاف

گمنام رنگ

ثقافت میں سب سے اہم نمائندہ عنصر تہذیبی رویہ ہوتا ہے۔ لوگ تہذیبوں کاٹکراﺅ پڑھ کراپنی تہذیب برباد ہوتا دیکھتے ہیں۔ تہذیبیں ایک طویل تسلسل اور تنوع کی وسعت کو اپنے اندر سموتے ہوئے نمو پاتی ہیں۔ جس میں افعال اورکارکردگی کے نقوش روایات کا سلسلہ تھامے رکھتے ہیں۔ یہ روایات نسل در نسل منتقل ہو کر انسان کو اُسکی اصل بنیاد سے جوڑے رکھتی ہیں ۔ وقت کے تناسب سے نظام بہتر سے بہترین ہوتا ہے مگر بنیاد قائم رہتی ہے۔نگاہ میں خیال تو ہے، مگر منظر کے احساس سے محروم

آمد میں کمال تو ہے، مگر جمال پرواز کے تجسس سے مقدوم

گمنام رنگ دُنیا میں ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔ بیشمار نامور رنگ بھی ماضی کے دھندلکوں سے جھلکتے ہوئے؛ انسان کی بے اعتنائی کا شکار! حسن کے شاہکار، ایثار کے پیکر، شجاعت کے کردار، عزم کے مینار رفتہ رفتہ منہدم ہو کر معدوم ہو چلے۔ انسان اپنی وراثت اور ثقافت کو محفوظ رکھنے سے معذور۔ اپنی ہی مٹی سے رشتہ ٹوٹ رہا ہے۔

آج مجھے حقیقی رنگوں کی تلاش ہے،ایاز اور ایبک تو لاہور میں مدفون ہیں۔ غزنوی اور غوری کی آرام گاہوں سے ہم ہی واقف نہیں! شاندارتواریخ رکھنے والے نام آج گمنام اور ادنیٰ غلام وجود کی پہچان میں!پُرانے تاریخی و ثقافتی شہروں کی دیواروں کو ازسر نو تعمیر و مرمت کرنے کا خیال تو اذہان میں آتا ہے، کیادیوارکے اندر کی اصل ثقافت ہی ان دیواروںکا اصل رنگ ہے؟ دیواریں اصل زبان سے محروم، تکیوں(دانش گاہوں) کے دَور سے دُور،پکوان اور اُس کے ذائقہ شناسوں کی محتاجی،علاقائی موسمی مشروب اب ہتک جانے لگے۔پرانے شہر کی صرف دیواریں تعمیر ہونگی، ثقافت لوٹ کر نہ آئے گی۔ ثقافت گمنام لوگوں کے گمنام رنگ ہی پیدا کرتے ہیں۔ تاریخ میں ثقافت ہی گمنام کوٹھڑی کی قیدی رہی

ثقافت میں سب سے اہم نمائندہ عنصر تہذیبی رویہ ہوتا ہے۔ لوگ تہذیبوں کاٹکراﺅ پڑھ کراپنی تہذیب برباد ہوتا دیکھتے ہیں۔ تہذیبیں ایک طویل تسلسل اور تنوع کی وسعت کو اپنے اندر سموتے ہوئے نمو پاتی ہیں۔ جس میں افعال اورکارکردگی کے نقوش روایات کا سلسلہ تھامے رکھتے ہیں۔ یہ روایات نسل در نسل منتقل ہو کر انسان کو اُسکی اصل بنیاد سے جوڑے رکھتی ہیں ۔ وقت کے تناسب سے نظام بہتر سے بہترین ہوتا ہے مگر بنیاد قائم رہتی ہے۔

تہذیب کامطالعہ دو پہلوﺅں سے ہوتا ہے۔ تعمیرات کا علم تمدن کاجائزہ لیتا ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ ایک فرد سے دوسرے فرد کا مطالعہ وَ موازنہ کر کے تہذیب کی جانب منتقل ہوا جاتا ہے ۔تعمیرات کا انحصار تین عملی احوال: (۱)وجود کی بقا،(۲) موسم اور(۳) مواد پرہوتا ہیں۔کسی بھی عمارت کی تعمیر ہمیشہ دو اُصولوں پرمنحصر رہی؛ منصوبہ بندی اور خاکہ بندی۔اس کے بھی تین درجے رکھے گئے۔اوّل؛ زیر استعمال زمین کا جغرافیائی حالا ت کے تحت جائزہ لینا، دوم؛ عمارتی تعمیر کی منصوبہ سازی کرنا، سوم؛ ڈھانچہ تیار کرنا۔

تمدن میںعمارات تین اقسام کی ہوسکتی ہیں۔رہائشی تعمیرات، طرز معاشرت کی بنیاد ہیں جو رہن سہن کے انداز واضح کرتی ہیں۔ مذہبی عمارات، عقائدپر روشنی ڈالتی ہیں۔ تیسرا اندازیادگاری عمارات،جو جاہ و جلال کا نمائندہ ہوتا ہے۔اس میںیادگاریں اُن مذہبی، تہذیبی، تمدنی، معاشرتی اور جغرافیائی جڑاﺅکی عکاسی کرتی ہیں۔ جوعلاقائی سلطنتوں اور بیرونی حملہ آوروں کے مابین ٹکراﺅ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اُس دور کی عمارات پر نقش و نگارہی اہم اثرات کے ترجمان ہوتے ہیں۔جن سے تعمیراتی نظریات اور معاشرتی تعلقات کی غمازی ہوتی ہے۔


تہذیب کے مطالعہ میں دوسرا اہم پہلو زبان ہے۔جو ثقافت کی غماز اور طرز بودوباش کی عکاس ہوتی ہے۔ انسانی احساسات کی نمائندگی الفاظ ہی پیش کرتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر سلیم اختر”ادب خلا میں جنم نہیں لیتا اور نہ ہی ادیب ہوا بند ڈبوں میں زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کا عصری تقاضوں سے مثبت یا منفی اثرات قبول کرنا لازم ہے کہ یہ اثرات سانس کی مانند اس کے تخلیقی وجود کے لیے ضروری ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کے عہد میں ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی کے مباحث تھے یا نہیں، یا یہ کہ وہ شعوری طور پر کس تصور ادب کا حامی رہا، اس لیے کہ ادب برائے زندگی کے تصور کو مسترد کرنا بھی تو کسی تصور ہی کا مرہون منت ہوتا ہے“۔

موسم جغرافیہ کا ایک جزو ہے،ہر ملک یا خطے کا اپنا جغرافیائی حسن ہے جو اس کے باسیوں کے اعصاب کو بعض مخصوص حسیات سے مشروط کر دیتا ہے۔ایسے ہی برصغیر میں موسم کی مناسبت سے مشروبات اپنے اندر حکمت رکھے ہوئے ہیں۔ مہینوں کی ترتیب بھی موسم سے تھی۔ بہار کے دو مہینوں (چیت اور بیساکھ)کا مشروب کانجی ٹھہرا۔ شدت گرمی کے اگلے دو ماہ (جیٹھ اورھاڑ)کے مشروب سَتو رہا ۔برسات (ساون اور بھادوں)کے نازک حبس زدہ موسم میں نمکین سکنج بین تھی۔ لسی کو برسات کے علاوہ تمام سال مناسب خیال کیا جاتا تھا۔ خزاں (اسو اور کتے)کے موسم میں کسی بھی مشروب سے متعلق احتیاط برتی جاتی تھی۔سردی(مگھر، پوھ ،ماگھ اور پھاگن) میں مشروب کی بجائے خشک میوہ جات کا استعمال رہا ۔

تہواروں کا تعلق بھی موسموں سے منسلک تھا۔ حتی کہ ملکی انتظام کے معاملات بھی موسموں اور تہواروں سے جڑے تھے۔ ربیع اور خریف کی فصل کا ایک موسم تھا۔اگر فصل کے لہلہانے پر بسنت کا تہوار خوشی میں رکھا گیاتو ایسے ہی مالیہ کی وصولی (زرعی ٹیکس)کا آغاز ’ہولی‘ اور’ دَسَہرا‘ کے تہوارسے ہوتا تھا۔

پانی کے استعمال میں ایک حکمت ہے۔ موسم کا جیسا درجہ حرارت ہو ، ویسا پانی پیا جائے۔ بہت ٹھنڈا پانی انسانی اعصاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ خاصیت گھڑے میں ہیں کہ وُہ پانی کو موسم کے مطابق رکھتا ہے۔

علاقائی نباتات اور درختوں کے جنگل علاقائی ماحول و آب و ہوا کی نسبت سے ہیں۔انسانی، حیوانی، نباتاتی اور آبی زندگی مٹی کی مناسبت سے تھی۔پرانی سڑکوں کے کنارے لگے درختوں کے جھنڈ دیکھے تو اُس علاقہ کے جنگلات اور ماحولیاتی کیفیت کے اثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ شناخت انسانی زندگی کی اصل ثقافت سے جڑی ہوئی ہے۔

آج نباتات کے حالات یہ ہیں کہ چوآسیدن شاہ دُنیا کے بہترین گلاب کے لیے مشہور تھا ، آج وہاں گلاب کے باغات ملنا دشوار ہے۔ کیا وجوہا ت ہے؟ہم قدیم ثقافت کو کیا تلاش کرےںگے؟ ہماری تو بہت سی اقدار آج عدیم ہورہی ہے۔

برصغیر میںبارہ اشیاءکے زیورات مستعمل تھے۔ سونا، چاندی،پیتل (دھات)،نگینہ، موتی، دانت، پنکھ، پھول، پتے ،اناج، لکڑی، مٹی۔

ایک پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان اپنے آبائی علاقہ میں آکر ہمیشہ سادہ دیسی لباس پہنتا تھا۔ اُسکا سادہ سا موقف تھا۔ پاکستان میں یہاںکی ثقافت کے تحت رہنا چاہیے۔ اپنے دیس میں پردیسی کیا بننا ۔لباس اور گفتگوسے اپنا ولائیتی پن ظاہر کرنا مناسب نہیں ۔

انگریزی ہماری تخلیقی سوچ سے کنارہ کشی پر تو مہربان ہوئی۔ مگر علاقائی زبانوں کے الفاظ پر قہرمان ٹھہری۔ لوک موسیقی، لوک گیت، لوک کہاوتیں، لوک کہانیاں، میلوں میں علاقائی کھیلوں کا دھیرے دھیرے معاشرہ سے ربط ٹوٹ رہا ہے۔

خیال کو خیال ہی جدا کرے، بات کو بات ہی کاٹے۔

زمانہ کو رشتہ ہی جوڑے، رشتہ کو رشتہ ہی توڑے۔

لفظوں کے رشتوں سے محروم ہوئے،رشتہ کے نام امپورٹ کیے، رشتہ کا مادہ بھرم سے اُٹھا کرشک کے دھرم میں ڈبو دیا۔ آج ہم رشتوں کے ذخیرہ الفاظ سے واقف نہیں۔ مٹی کی پہچان سے کیا واقف ہونگے۔ جو اپنی مٹی کا نہیں، وُہ کہیں کا نہیںرہا۔انسان مٹی کا بنا ہے، اُسکی خوراک مٹی ہے، اُسکا خون مٹی سے ہی دوڑتا ہے۔سکون اور زبان مٹی کے تعلق سے وجود میں آتے ہیں۔ہم نے مر کر مٹی میں مٹی ہونا ہیں۔عجب بات ہے، ہم اپنی مٹی سے ہی وفا نہیں کرتے۔تاریخ میں غداروں کی فہرست تو جاری کرتے ہیں۔ ٹیپو سلطان رحمتہ اللہ علیہ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ مگر کبھی ہم نے اپنی ذات کا احتساب کیا۔ ہم کس مقام کو کھڑے ہیں؟ہم دوسروں کے لیے نہیں، صرف اپنے لیے جی رہے ہیں، صرف اور صرف اپنی ذات کے لیے۔ افسوس! جن کا ذکر ہم اپنی گفتگوﺅں میں کرتے ہیں، وُہ دوسروں کے لیے زندگی گزارنا اپنا ایمان سمجھتے ہیں۔ شائید انفرادی سوچ رکھنے والی اکثریت کو مستقبل کا مﺅرخ مٹی کا قاتل ٹھہرائے۔مٹی سے تعلق کوئی مشکل شےءنہیں، حقیقت کا سچائی سے سامنا ؛انسان کا مٹی سے تعلق بنائے رکھتا ہے

صرف اپنے لیے جی کر، زمانہ بھر کو پریشان کیا۔

دوسروں کے لیے جی کر، عمر بھر خود کوبے چین کیا۔

مناسب ہے کہ ہم اپنی تہذیب کو اپنائےں اور مٹی کی خوشبو کو پہچان سکیں۔ مغربی طرز زندگی ہمارے موسم، حالات اور مزاج کے مطابق نہیں۔ ہمارا موسم ہمیں بلند چھتوں کی ترغیب دیتا ہے۔مغرب کی قابل قبول اشیاءکو ضرور اپنائےں مگر اس چاہت میں اپنی مٹی سے رشتہ مت توڑےں۔مسجد وزیر خان ہندوستانی، وسط ایشیائی، ایرانی اور عرب اثرات کا امتزاجی شاہکار ہے۔

پاکستان کی تاریخ 712ء سے شروع نہیں ہوتی۔ دُنیا کے اب تک سب سے قدیم ترین دریافت شدہ فاسلز” بن امیر خاتون“ سے ملے ہیں۔جن میں ڈائینو سار کی موجودگی ثابت ہوچکی ہے۔ بلکہ شواہد تولاکھوں برس قبل تہذیبی ارتقاءکا تعلق بھی یہاں سے بتلاتے ہیں۔ایک قدیم انسانی تہذیب دریائے سواں کے کنارے آباد تھی۔یہاںبرف پگھلنے کے دور میں دُنیا کی قدیم ترین ”چونترہ صنعت(پتھر کے ہتھیار)“نے جنم لیا۔ہڑپہ اورموہنجوداڑو کے آثار دریافت ہوئے مگر ہزاروں برسوں سے آباد کچھ ایسے دیہات بھی چلے آرہے ہیں۔ جن کے کنوﺅں کی طرز تعمیر(بیضوی دہانہ) ہڑپہ اور موہنجو داڑو سے ملتی ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ، تہذیب اور ثقافت پر تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ نشان باقی نہ رہے۔

(فرخ نور)

نفس کی حقیقت

نفس سے مراد کسی چیز کا وجود یا حقیقت یا ذات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نفس امارہ کی مخالفت کا حکم دیا ہے اور ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو اپنے نفس کے خلاف چلتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَویٰ۝ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاْویٰ۝ (اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا، اس کا ٹھکانہ جنت ہے)۔

وَمَا اُبَرِّیُٔ نَفْسِیْ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بِاالسُّوٓئِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ۝ (اور میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتا۔ بے شک نفس تو برائی کا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے)۔

حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے نیکی کا ارادہ رکھتا ہے تو اس کو اس کے نفس کے عیوب سے خبردار کرتا ہے“۔

اور آثار میں ہے کہ اللہ عزوجل نے حضرت داؤد علیہ السلام کو وحی کی ”اے داؤد نفس کی مخالفت کرو کیونکہ میری محبت نفس کی مخالفت میں ہے۔“
حدیث مبارکہ ہے کہ رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایک سوال فرمایا کہ ایسے رفیق کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جس کا یہ ہو کہ اگر اس کا اعزاز و اکرام کرو، کھانا کھلاؤ، کپڑے پہناؤ تو وہ تمہیں بلا اور مصیبت میں ڈال دے اور تم اگر اس کی توہین کرو، بھوکا ننگا رکھو تو وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ برا تو دنیا میں ساتھی ہوہی نہیں سکتا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ نفس جو تمہارے پہلو میں ہے، وہ ایسا ہی ساتھی ہے“۔

ایک اور حدیث ہے کہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”تمہارا سب سے بڑا دشمن خود تمہارا نفس ہے جو تمہیں برے کاموں میں مبتلا کرکے ذلیل و خوار کرتا ہے اور طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا کردیتا ہے۔“

حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”سب حجابوں سے بڑھ کر حجاب اپنے نفس کی پیروی کرنا ہے“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”کہ نفس ایسی چیز ہے جو باطل سے سکون حاصل کرتا ہے۔“ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”کفر کی بنیاد نفس کی اطاعت ہے۔“ حضرت ابو سلمان دارانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”نفس امانت میں خیانت کرنے والا اور قرب حق سے منع کرنے والا ہے اس لیے بہترین عمل مخالفت نفس ہے۔“

حضرت شیخ الشرف الدین احمد یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”نفس بھونکنے اور کاٹنے والا کتا ہے جب وہ ریاضت سے مطیع ہوجائے تو اس کا رکھنا مباح ہے۔“ اسی طرح کشف المحجوب میں ہے کہ ”نفس باغی کتا ہے جس کا چمڑا دباغ یعنی چمڑے رنگنے والا ہی پاک کرسکتا ہے۔ یعنی نفس کو مجاہدہ یا شیخ کامل ہی پاک اور صاف کرسکتا ہے۔

نفس کی تین بڑی اقسام بیان کی گئی ہیں۔

1۔ نفس امارہ۔ 2۔ نفس لوامہ۔ 3۔ نفس مطمئنہ

نفس امارہ: وہ نفس جو برائی پر ابھارتا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو حیوانیت کا نام دیا ہے کیونکہ یہ نفس انسان کو جانوروں والی حیوانیت اور سفاکیت پر ابھارتا ہے۔ یعنی جب نفس حیوانی کا قوت روحانی پر غلبہ ہوجائے تو اس کو نفس امارہ کہتے ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول پاک صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک اپنی خواہشات کو میرے لائے ہوئے احکام کے تابع نہ کردے“۔

یہ نفس کی سب سے خراب قسم ہے، اس طرح کے نفس کے حامل افراد گناہوں سے بھرپور زندگی گزارتے ہیں اور ایسے افراد کے نفس نہایت طاقتور ہوتے ہیں اور بعض اوقات نفس کی یہ شیطانی طاقتیں یہ لوگ استعمال بھی کرتے ہیں، زیادہ تر ایسے لوگ کافر و منافق، عامل، جوگی یا سادھو وغیرہ ہوتے ہیں۔ جن کا مقصد محض خلقِ خدا کو آزار پہنچانا ہوتا ہے۔ ان کو گناہ میں لذت ملتی ہے۔

نفسِ لوامہ

یہ نفس امارہ کی نسبت کچھ بہتر ہوتا ہے، ایسے نفس کے حامل افراد سے بھی گناہ سرزد ہوتے ہیں، لیکن ان میں خدا کا خوف بھی ہوتا ہے اور یہ جان بوجھ کر گناہ کرنے سے باز رہتے ہیں۔ ایسے نفوس کے حامل افراد زیادہ تر عبادت گزار ہوتے ہیں۔

نفسِ الہامہ

نفس یہ کی قسم مذکورہ بالا اقسام سے بہتر ہے، یہ نفس دنیا کثافتوں اور آلودگیوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے نفوس کے حامل افراد عموماً سچے خواب یا رویائے صادقہ دیکھتے ہیں۔ ان پر عموماً آگہی بھی ہوتی ہے اور یہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے نفوس اُن لوگوں کے ہوتے ہیں جوکہ ظاہری عبادت کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کو پاک کرنے کے لئے مجاہدات و ریاضتیں بھی کرتے ہیں۔ خواب کی صورت میں بھی یہ اِدھر اُدھر بھٹکنے کے بجائے پاک محفلوں میں جاتے ہیں۔

نفسِ مطمئنہ

یہ نفس کی سب سے اچھی قسم ہے جوکہ ہر قسم کے گناہوں سے پاک ہوجاتی ہے اور اللہ کی نافرمانی پر مشتمل ہرقسم کے فعل سے بیزار ہوتی ہے۔ یہ عبادت میں لذت محسوس کرتے ہیں۔ ایسے نفوس کے حامل پیغمبر یا ولی ہوتے ہیں۔

نفس اور خواہشات کو قابو کرنے سے متعلق حضرت شیخ شرف الدین رحمۃ اللہ علیہ نے جو کچھ لکھا ہے خلاصۃً پیش ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”نفس ہر وقت خواہشات کی طلب میں رہتا ہے اور اگر اس کی خواہشات کو پورا کردیا جائے تو ایک بہت لمبی فہرست تیار کرلیتا ہے۔“ اسلام نے انسان کی خواہشات کو دبانے کے بجائے اعتدال پر رکھنے کو پسند کیا ہے۔ عقلمند کے لیے ضروری ہے کہ نفس کو دبانے کی جدوجہد کرتا رہے لیکن یکبارگی اس پر دھاوا بول دینا اور اس کو زیرکردینا دشوار ہے بلکہ اس میں نقصان وغیرہ کا اندیشہ ہے۔ راہ اعتدال یہ ہے کہ قوت دیتے ہوئے اس پر کاموں کا بوجھ ڈالا جائے تاکہ وہ متحمل ہوسکے اور نفس کو اس حد تک کمزور کیا جائے اور سختی سے کام لیا جائے کہ وہ تمہارے حکم سے گریز نہ کرسکے۔ اس کے علاوہ جو طریقے ہیں وہ غلط ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ نبی پاک صلّی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ سخت ریاضت و مجاہدہ کی وجہ سے نہایت کمزور ہوگئے ہیں اور ہاتھ پاؤں ہلانے سے بھی عاجز ہیں، انکی آنکھیں اندر دھنسی گئی ہیں، تو نبی پاک صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبداللہ تم پر تمہارے نفس کا بھی حق ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ نفس کو ہلاک کرنا گناہ ہے۔ اس لیے ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ نہ وہ انسان پر غالب ہوسکے اور نہ اسکی نافرمانی کرسکے۔ میانہ روی کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اسے تھوڑا نرم کیا جائے تاکہ لگام دینے کے قابل ہوجائے۔ اس کے راستے کے عاملوں نےکہا کہ نفس کو نرم کرنے کی تین چیزیں ہیں۔

1۔ نفس کو خواہشات اور لذتوں سے روک دیا جائے کیونکہ جب چوپائے دانہ گھاس نہیں پاتے تو نرم ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا دانہ پانی روک دیا جائے تاکہ ساری شرارتیں غائب ہوجائیں۔

2۔ عبادت کا بھاری بوجھ اس پر لادا جائے۔

3۔ اللہ رب العزت سے مدد مانگی جائے اور اس کی بارگاہ میں پناہ تلاش کی جائے۔ وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا۔ ترجمہ: جنہوں نے ہماری راہ میں مجاہدہ کیا ہم ان کو اپنا راستہ دکھا دیتے ہیں۔ (العنکبوت 96/29)

زندگی سے موت بہتر ہے

: دنیا کے مصائب و آلام سے بیزار ہو کر موت کی تمنا کرنا اوراپنے لئے موت کی دعا کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبتوں کے سبب موت کی آرزو کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے :
عن أنس بن مالك رضى الله عنه قال النبى صلى الله عليه وسلم « لا يتمنين أحدكم الموت من ضر أصابه ، فإن كان لا بد فاعلا فليقل اللهم أحينى ما كانت الحياة خيرا لى ، وتوفنى إذا كانت الوفاة خيرا لى »
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: تم میں کوئی کسی مصیبت کی وجہ سے ہرگز موت کی آرزو نہ کرے اگر وہ موت کی خواہش ہی رکھتا ہے تو یہ دعا کرے
’’ اللَّهُمَّ أَحْيِنِى مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِى ، وَتَوَفَّنِى إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِى
ترجمہ :‘‘ اے اللہ تو مجھ کو حیات عطا فرما جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو اور مجھکو موت عطاء فرما جب وفات میرے لئے بہتر ہو۔
﴿ صحیح بخاری شریف ،باب تمنی المریض الموت ،حدیث نمبر:5671﴾
اگر گناہوں کی کثرت ہو جائے ،فتنے امنڈنے لگیں اور مصیبت میں پڑنے کا خوف ہو تو اپنے دین کو بچانے اور فتنوں سے خلاصی پانے کیلئے موت کی تمنا کرسکتا ہے جیساکہ سنن ترمذی شریف میں حدیث شریف ہے :
عن أبى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ……فبطن الأرض خير لكم من ظهرها ۔
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ……( ایسے زمانہ میں ) زمین کا اندرونی حصہ تمہارے لئے زمین کے بیرونی حصہ سے بہتر ہے۔ ﴿ جامع ترمذی شریف ،حدیث نمبر:2435﴾
الغرض دنیا کے خوف سے موت کی تمنا نہیں کرنا چاہئے ۔

در مختار ج 5 ص 297 میں ہے:
( یکرہ تمنی الموت ) لغضب او ضیق عیش ( الا لخوف الوقوع فی معصیۃ ) ای فیکرہ لخوف الدنیا لا الدین لحدیث فبطن الارض خیرلکم من ظھرھا
اور رد المحتار ‘‘ میں ہے
’’ فی صحیح مسلم « لا يتمنين أحدكم الموت لضر نزل به فإن كان لا بد متمنيا فليقل اللهم أحينى ما كانت الحياة خيرا لى وتوفنى إذا كانت الوفاة خيرا لى ». ﴿ مسلم شریف ،باب كراهة تمنى الموت لضر نزل به،حدیث نمبر:6990﴾
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

مسلمان ہونا کوئی مشکل امر نہیں مگر مسلمان بن کر حدود شرع کی پاسداری کرتے ہوئے زندگی گزارنا دشوار ہے اور صحیح معنوں میں مسلمان وہی ہے جو شرعی احکام و مسائل پر سختی سے کاربند ہو کر کتاب زندگی کی اوراق گردانی کرے۔

محراب و منبر – قرآن پاک کی نظر میں بےوقوف کون ہیں؟

اَلحَمدْ لِلہِ وَکَفٰی وَسَلاَ م عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِینَ اصطَفٰی اَمَّا بَعدْ

فَاَعْوذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیمِ

بِسمِ اللہ ِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ

وَ ذَرْوا ظَاھِرَ الاِثمِ وَ بَاطِنَہ وَ قَالَ تَعَالٰی اِن اَولِیَاء ْ ہ اِلَّا المْتَّقْونَ وَقَالَ رَسْولْ اللہِ صَلَّی اللہْ تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّمَ لَا بَاسَ بِالغِنَاء ِ لِمَنِ اتَّقَ اللہَ عَزَّوَجَلَّ وَقَالَ رَسْولُ اللہِ صَلَّی اللہْ تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّمَ

مَنِ اتَّقَ اللہَ صَارَ اٰمِنًا فِی بِلَادِہ

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان اور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ابھی آپ کو سنائے جائیں گے لیکن اس سے پہلے ایک سنت کی تعلیم دیتا ہوں۔ جب چراغ بجھ جاتا تھا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اِنَّا لِلہِ پڑھتے تھے، کانٹا چبھ جائے، جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے یا چراغ بجھ جائے ان سب مواقع پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اِنَّا لِلہِ پڑھنا ثابت ہے۔ علامہ آلوسی السید محمود بغدادی نے اپنی کتاب تفسیر روح المعانی میں اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعْونَ کی تفسیر میں یہ حدیث بیان فرمائی ہے:

کْلّْ مَا یُؤذِی المْومِنَ فَھْوَ مْصِیبَۃٌ لَہ وَ اَجر

ہروہ چیز جس سے مومن کو تکلیف پہنچے مصیبت ہے اور اس پر مومن کے لیے اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مومن کو جب کوئی مصیبت پہنچے تو وہ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعْونَ پڑھ لے۔ آج کل تو لوگ موت ہی پر اِنَّا لِلہِ پڑھتے ہیں، اگر کسی اور موقع پر کسی نے اِنَّا لِلہِ پڑھ لیا تو سب گھبرا جاتے ہیں کہ بھئی کس کا انتقال ہوگیا حالانکہ یہ بات نہیں ہے بلکہ جو بات مومن کو تکلیف دے وہ مصیبت ہے اور اس پر اِنَّا لِلہِ پڑھنا سنت ہے۔

سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ان مواقع پر اِنَّا لِلہِ پڑھا کرتے تھے، عِندَ انطِفَاء ِ السِّرَاجِ، انطفاء بجھنے کو کہتے ہیں یعنی چراغ کے بجھنے پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اِنَّا لِلہِ پڑھا کرتے تھے، وَ عِنْدَ لَسعِ البَعْوضَۃِ جب مچھر کاٹتا تھا تو اس وقت بھی اِنَّا لِلہِ پڑھتے تھے، عِندَ انقِطَاعِ الشَّسَعِ جوتے کا تسمہ ٹوٹنے پر اِنَّالِلہِ پڑھتے تھے، اسی طریقے سے عِندَ لَدغِ الشَّوکَۃِ کانٹا چبھ جانے پر بھی آپ اِنَّا لِلہِ پڑھتے تھے۔ غرض آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے چھوٹی چھوٹی تکلیف پر اِنَّا لِلہِ پڑھا ہے۔

چونکہ میں نے یہ حدیث سنی ہوئی تھی لہٰذا جب ہمارے یہاں بجلی فیل ہوتی ہے تو میں اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعْونَ کی سنت ادا کرتا ہوں، بجلی فیل ہونے سے گھر میں جو اندھیرا ہوتا ہے اس اندھیرے میں یہ سنت ادا کرنے سے اس سنت کا نور ہمارے دل میں غالب ہوجاتا ہے اور دل میں ایک ٹھنڈک سی محسوس ہوتی ہے اور جو اس سنت پر عمل نہیں کرتے جیسا میں نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ جب بجلی فیل ہوئی تو کے ای ایس سی والوں کو گندی گندی گالیاں دیتے ہیں۔ اب فرق دیکھئے! کچھ لوگ کے ای ایس سی والوں کو گالیاں دے رہے ہیں اور کوئی سنت ادا کررہا ہے۔ تو تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ انسان میں کتنا فرق ہوجاتا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازتے ہیں اس کا غم بھی اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بن جاتا ہے، بجلی فیل ہونے سے غم ہوتا ہے، تکلیف ہوتی ہے مگر سنت کی اتباع کی برکت سے وہ تکلیف بھی لذیذہوجاتی ہے

آلامِ روزگار کو آساں بنا دیا
جو غم ملا اْسے غمِ جاناں بنا دیا

آلام جمع ہے الم کی، اللہ تعالیٰ سے جب تعلق نصیب ہوتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اپنے بندے کے ہر غم کو لذیذ کردیتے ہیں۔ جیسے کڑوے خربوزے کو سکرین لگی چھری سے کاٹو تو سارا خربوزہ میٹھا ہوجاتا ہے، اور یہ سکرین کس نے پیدا کی؟ اللہ تعالیٰ نے۔ جب شکر میں یہ خاصیت ہے کہ وہ کڑوے خربوزے کو میٹھا کردیتی ہے تو اللہ تعالیٰ جو شکر کا خالق ہے ان کا نام لینے میںیہ خاصیت نہ ہوگی کہ ہمارے غم کو میٹھا کردے؟ افسوس کہ آج ہم اپنی مٹھاس کو اللہ کی نافرمانیوں میں تلاش کررہے ہیں، کم از کم یہ احساس تو ہو نا چاہیے کہ خدائے تعالیٰ کی نافرمانیوں میں سوائے عذاب کے، اللہ کے غضب اور بے چینی کے کچھ نہ ملے گا۔

اگر گناہوں کا مرض شدید ہو تو مجاہدہ کرو، جس کو کوڑھ ہوجاتا ہے تو کیا وہ خود کشی کرلیتا ہے؟ اگر مرض جلد اچھا نہیں ہوتا تو بھی صبر سے علاج کرتا ہے۔ اسی طرح اگر نظر بچانے میں شدید تکلیف ہو تو مجاہدہ کرو۔ مولانا اسعد اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ شیخ الحدیث مظاہر العلوم سہارنپور حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اور میرے شیخ ابرار الحق صاحب دامت برکاتہم کے استاذ جو شاعر بھی تھے اور بڑے ہی اللہ والے تھے، وہ فرماتے ہیں کہ لوگ مجبوریوں کا بہانہ کردیتے ہیں کہ صاحب آج کل بہت مشغولی ہے اس لیے ذکر چھوٹا ہوا ہے، ان سے کہہ دو کہ آج مشغولی کی وجہ سے روٹی بھی چھوڑ دو، اس نے مشغولی میں ناشتہ کیوں نہیں چھوڑا؟ جسمانی غذا کو تو نہیں چھوڑا مگر جس روح کے صدقے میں آج چائے انڈا کھا رہے ہیں اس روح کو ناشتہ نہ کرانا، اس کو اللہ کے ذکر کی غذا نہ دینا روح کو مردہ کرنا ہے۔ اسی کو مولانا اسعد اللہ صاحب فرماتے ہیں

گوہزاروں شغل ہیں دن رات میں
لیکن اسعد آپ سے غافل نہیں

یہی تو اﷲ والوں کا کمال ہے کہ دنیا کے ہزاروں شغل میں بھی اﷲ کو یاد رکھتے ہیں۔ دیکھو! ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ ایک لاکھ حدیث کے حافظ، چودہ جلدوں میں بخاری شریف کی شرح فتح الباری لکھی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کا ذکر فرشتوں کے ذکر سے افضل ہے، یہ بخاری شریف کی شرح فتح الباری کی عبارت نقل کررہا ہوں۔ وہ پیری مریدی یا وہ تصوف جو قرآن و حدیث کی تفسیروں سے اور شرحوں سے ثابت نہ ہو، اللہ کے کلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں جو تصوف نہ ہو وہ تصوف مقبول نہیں ہے۔ تصوف تو نام ہے اللہ کی عبادت میں محبت کی چاشنی ملادینے کا۔

جو عبادت خشک ہو جس میں محبت کی چاشنی نہ ہو اس کی مثال ایسی ہے جیسے چاول بغیر سالن کے۔ میرے شیخ شاہ عبد الغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ پورب کا ایک مجذوب اللہ تعالیٰ کے قرب اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی لذت سے کچھ دن کے لیے محروم کردیا گیا، اس حالت کا نام حالتِ قبض ہے۔ تو وہ مجذوب روتا تھا اور اپنی پوربی زبان میں کہتا تھا کہ’’ دلیا بنا بھتوا اداس موری سجنی‘‘ یعنی دال کے بغیرمیرا چاول بے مزہ ہے۔

سالک پر دو حالتیںپیش آتی ہیں حالتِ قبض اور حالتِ بسط۔ حالتِ بسط میں عبادت میں مزہ آتا ہے جبکہ حالتِ قبض میں دل گھبرایا گھبرایا سا رہتا ہے، عبادت میں مزہ نہیں آتا مگر حالتِ قبض کا درجہ حالتِ بسط سے زیادہ ہے کیونکہ حالتِ قبض میں ناز ٹوٹ جاتا ہے، عجب و تکبر ٹوٹ جاتا ہے، آدمی کہتا ہے کہ ہائے ہم تو کچھ بھی نہیں، اپنی عبادت کو بالکل ہی حقیر نظروں سے دیکھتا ہے کہ ہائے یہ میں کیا کرتا ہوں۔ تو مزہ نہ آنے سے ناز و عجب ٹوٹ جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ استقامت کے ساتھ رہتا ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان ہوتا ہے کہ یہ بندہ عبد اللطف ہے یا عبداللطیف ہے یعنی مزے کا غلام ہے یا ہمارا غلام ہے، جب اس کو مزہ ملتا ہے تب ہمارا نام لیتا ہے جب مزہ نہیں ملتا تو ہماری غلامی کو چھوڑ دیتا ہے، یہ امتحان ہوتا ہے۔ اسی لیے علامہ ابوالقاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کی دعا فوراً قبول ہوگئی ابھی مانگا اور شام تک قبول ہوگئی، اب وہ مارے شکریہ کے خوب عبادت کررہا ہے لیکن لَقَد قَامَ بِحَظِّ نَفسٍ یہ اللہ کے سامنے اپنے نفس کی خوشی کی وجہ سے کھڑا ہے اور جس کی دعا قبول نہیں ہوئی، غمزدہ آدمی ہے، شکستہ دل ہے، ٹوٹا ہوا دل ہے وہ اگرچہ نامراد اور ناشگفتہ ہے مگر

وہ نامراد کلی گرچہ ناشگفتہ ہے

ولے وہ محرمِ رازِ دل شکستہ ہے

یہ میرا شعر ہے۔ اب آپ کو ٹوٹے ہوئے دل کی قیمت معلوم ہوئی۔ حدیثِ قدسی ہے:

اَ نَا عِندَ المْنکَسِرَۃِ قْلْوبُھُم

(مرقاۃْ المفاتیح، کتابْ الجنائز، باب عیادۃ المریض)

اس حدیث کی تطبیق اور سند کی تائید محدثِ عظیم ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں کی ہے اور لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں ٹوٹے ہوئے دل میں رہتا ہوں۔ یہ جو لوگ پوچھتے ہیں کہ اللہ میاں نے خواہشات کیوں پیدا کیں جب ان کو توڑنا تھا؟ اس کا جواب اسی حدیث میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے دل میں تقاضے اور خواہشات اس لیے پیدا کیں کہ ان میں جو تقاضے اور خواہشات اللہ کی مرضی کے خلاف ہیں بندہ ان کو توڑ دے یعنی اپنے دل کو توڑدے اور اس ٹوٹے ہوئے دل میں اللہ کو حاصل کرتا رہے۔ خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

نہ گھبرا کوئی دل میں گھر کر رہا ہے

مبارک کسی کی دل آزاریاں ہیں

اور فرمایا کہ اﷲ کی یاد کے صدقے میں غموں کا کیا حال ہوتا ہے؟ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں ان کے غم بھی میٹھے کردئیے جاتے ہیں۔ فرماتے ہیں ؎

سوگ میں یہ کس کی شرکت ہوگئی

بزمِ ماتم بزمِ عشرت ہوگئی

اللہ کے نام کے صدقے میں اللہ کے راستے کے غم بھی لذیذ ہوجاتے ہیں لیکن اگر غم میں کسی اﷲ والے کے آنسو نکل آئیں تو یہ نہ سمجھو کہ یہ باباکے دعویٰ کے خلاف ہے کیونکہ یہ تو رو رہے ہیں۔ حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے مصیبت میں رونا بھی ثابت ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تو سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے تھے اور فرمارہے تھے اِنَّا بِفِرَاقِکَ یَااِبرَاھِیمُ لَمَحزْونْونَ اے ابراہیم! میں تمہاری جدائی سے غمزدہ ہوں اور آپ کے آنسو بہہ رہے تھے لیکن دل میں اللہ کی تسلیم سے چین ہوتا ہے، لطف ہوتا ہے، لذت ہوتی ہے۔

اس لیے میرے دوستو! تسلیم کی برکت سے جب اللہ کی مرضی پر بندہ راضی رہتا ہے تو جیسے کوئی مرچ والا کباب کھائے اور مرچوں کی وجہ سے سی سی کرے اور آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہوں اور جو پاس بیٹھا ہو وہ یہ کہے کہ آپ تو مصیبت زدہ معلوم ہورہے ہیں، آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں، یہ کباب آپ کیوں نوش کررہے ہیں؟ اس بلا کو چھوڑ دیجئے۔ تو وہ کہے گا کہ بیوقوف یہ بلا نہیں ہے، یہ آنسو مزے کے ہیں، لذت کے ہیں، یہ مصیبت کے آنسو نہیں ہیں ،اللہ والے اگر کبھی رو بھی پڑیں تو ان کی آنکھیں روتی ہیں دل تسلیم ورضا کی لذت سے مست ہوتا ہے ؎

حسرت سے میری آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں

دل ہے کہ ان کی خاطر تسلیمِ سر کیے ہوئے

آرزو کے شکست ہونے سے آنسو بہہ سکتے ہیں کہ مراد پوری نہیں ہوئی لیکن علامہ ابو القاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ جو بہت بڑے اولیاء اللہ میں سے ہیں اور حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ جو لاہورمیں مدفون ہیں ان کا اور علامہ ابو القاسم قشیری کا زمانہ ایک تھا۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ جس کی دعا قبول نہیں ہوئی، آرزو کی تھی مگر اللہ نے بظاہر وہ آرزو پوری نہیں کی یعنی جو دعا مانگی تھی اس کا ظہور نہیں ہوا، لیکن پھر بھی اللہ کی عبادت کیے جارہا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا بہت محبوب بندہ ہے، اللہ کے نزدیک اس کا بہت بڑا درجہ ہے۔

مومن کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی، محدثین لکھتے ہیں کہ دعاکی قبولیت کی چار قسمیں ہیں، چاہے تو جو مانگا اﷲ وہی دے دیں، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس سے بہتر چیز عطا کر دیتے ہیں، کبھی دنیا میں نہیں دیتے آخرت میں اس کا بدل دے دیتے ہیں اور کبھی اس کے بدلے میں کوئی بلا و مصیبت ٹال دیتے ہیں۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی قبولیت کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ دعا فوراً قبول ہوجاتی ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں اْدعْونِی اَستَجِب لَکْم ہم سے مانگو، ہم قبول کریںگے۔

لیکن قبولیت کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں جو ابھی بیان ہوئیں جو زبانِ نبوت سے اس آیت کی تفسیر ہے اس کی وضاحت کے لیے ایک مثال بھی سن لیجیے کہ جیسے بچہ ابا سے اسکوٹر مانگتا ہے اور ابا کار خرید دیتا ہے تو کیا اس کی درخواست قبول نہیں ہوئی؟ بیٹے نے سو روپیہ مانگا ابا نے پانچ سو روپیہ دے دیا تو کیا اس کی یہ بات قبول نہیں ہوئی؟ تو کبھی اللہ تعالیٰ وہ چیز نہیں دیتے جو بندہ مانگتا ہے بلکہ اس سے بہتر چیز دے دیتے ہیں اور کبھی اللہ تعالیٰ دیر سے دیتے ہیں تاکہ بہت دن تک ہم سے دعائیں مانگتا رہے، ہماری چوکھٹ پر گڑگڑاتا رہے، روتا رہے ورنہ جہاں دعا قبول ہوئی فوراً یہ جا، وہ جا۔ اور کبھی اللہ تعالیٰ اس دعا کا بدلہ قیامت کے دن دیںگے اور اتنا دیں گے کہ حکومتِ سعودیہ بھی اتنا بدلہ نہیں دے سکتی۔ جب حرم کی توسیع ہوتی ہے (اس میں دونوں حرم شامل ہیں خواہ مدینے کا حرم ہویا مکہ شریف کا ہو) تو اس توسیع میں اگر کسی کا مکان آجاتا ہے تو حکومتِ سعودیہ ایک لاکھ ریال کے مکان کے بدلے پچاس لاکھ ریال دیتی ہے، اتنا دیتی ہے کہ لوگ تمنائیں کرتے ہیں کہ کاش میرا مکان حکومت کی توسیع میں آجائے۔

شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ اے میرے بندے تیری کون کون سی دعائیں قبول نہیں ہوئیں جو تو نے دنیا میں مانگی تھیں پھر اللہ تعالیٰ اس کا اتنا بدلہ دیں گے کہ یہ شخص کہے گا کہ کاش دنیا میں میری کوئی دعا قبول ہی نہ ہوئی ہوتی۔ اس لیے اگر دعا کا ظہور نہیں ہورہا تو دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے، اﷲ سے مانگنا ہی کیا کم لطف ہے جو آپ دعا کے ظہور ہونے کا بھی انتظار کررہے ہیں۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎

از دعا نبود مرادِ عاشقاں

جز سخن گفتن بآں شیریں دہاں

دعا مانگنے سے بہت سے عاشقوں کی مراد سوائے اس کے کچھ نہیں ہوتی کہ اسی بہانے اس محبوبِ حقیقی سے لذت مناجات اور گفتگوکا موقع مل جاتا ہے، اللہ کے عاشق انتظار نہیں کرتے کہ دعا کب قبول ہوگی، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دعا مانگنے ہی میں مست ہوتے ہیں، اﷲ کے ساتھ مناجات کی لذت میں ان کو اتنا مزہ آتا ہے کہ خواجہ صاحب فرماتے ہیں ؎

امید نہ بر آنا امید بر آنا ہے

ایک عرضِ مسلسل کا کیا خوب بہانہ ہے

اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعاوں کے لیے ان کے حضور ہمارے ہاتھ اْٹھتے رہیں یہ کیا کم اعزاز ہے۔ ڈاکٹر عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جب مومن دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے، تو یہ ہاتھ خدا کے سامنے ہوتے ہیں اور ساری کائنات ان کے نیچے ہوتی ہے، کیا بات فرمائی سبحان اللہ! دعا مانگنے والے کا یہ مقام میں نے حضرت ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے خود سنا فرمایا کہ جب بندہ دعا کے لیے اﷲ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے تو ساری کائنات اس کے ہاتھوں کے نیچے ہوتی ہے اور وہ خداکے سامنے ہوتا ہے، کیا یہ کم نعمت ہے؟ ہاں! اللہ سے امید رکھے کہ شاید اب قبول ہوجائے، شاید اب قبول ہوجائے۔

تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اُدعْونِی اَستَجِب لَکْممجھ سے مانگو، میں قبول کروں گا۔ سرورِعالم صلی اللہ علیہ وسلم جن پر قرآن نازل ہوا، جن کی ذاتِ پاک اور ذاتِ گرامی پر یہ آیت نازل ہوئی اْن ہی نے اس کی تفسیر بیان فرمائی۔ اگر کوئی کہے کہ صاحب ہم نے تو بہت دعا مانگی لیکن ہماری دعا تو قبول نہیں ہوئی تو نعوذباللہ کیا قرآن غلط ہو جائے گالہٰذا یہ سب قبولیت کی قسمیں ہیں، ہوسکتا ہے جو مانگا ہے اﷲ تعالیٰ اس سے بہتر دے دیں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص کہتا ہے کہ اللہ میاں ہماری شادی بہت حسین عورت سے ہوجائے

نازْکی اْس کے لب کی کیا کہیے

پنکھڑی ایک گلاب کی سی ہے

وہ اللہ میاں کو دیوانِ غالب پیش کررہا ہے،کہ مجھے ایسی بیوی چاہیے، چہرہ کتابی چاہیے جیسے اخباروں میں رشتے کے طالبین لکھتے ہیں کہ چہر ہ کتابی ہونا چاہیے لیکن اللہ نے اس معیار کی حسین بیوی نہیں دی بلکہ اس کے بدلے دیندار بیوی دے دی۔ اسی لیے حدیث میں ہے کہ دین کو زیادہ اہمیت دو حسن کو زیادہ اہمیت مت دو کیونکہ حسن عارضی ہے جبکہ سیرت سے ساری زندگی سابقہ پڑے گا۔ اگر بیوی سیر ت کی کٹکھنی ہے، تو تو کرنے والی ہے تو بھی صبر سے کام لو، صورت کب تک رہے گی، چند بچے ہوجانے کے بعد صورت میں تبدیلی ہوجاتی ہے پھر آخر میں سیرت ہی سے پالا پڑے گا لہٰذا جس میں دین زیادہ ہو اس کو تر جیح دو اور اگر دونوں چیزیں ہیں تو پھر سبحان اللہ۔

لیکن میرے دوستو! بعض نالائق اور بددین لوگ حسن کو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ چاہے فلم ایکٹر ہو، چاہے بے پردہ اور مخلوط تعلیم سے اس کے بالکل ہی اخلاق نہ ہوں مگر ایک نظر دیکھا اور پاگل ہوگئے، یہ شخص واقعی پاگل ہے جو صورت کو دیکھتا ہے اللہ کے تعلق کو نہیں دیکھتا۔ اس کو یہ دیکھنا چاہیے کہ بیوی کو اللہ تعالیٰ سے کتنا تعلق ہے، وہ تلاوت کرتی ہو، نماز پڑھتی ہو، دیندار ہو ورنہ اگر شوہر بیمار پڑ گیا تو بھاگ گئی، شوہر پر فالج گر گیا تو ایک دو تین ہوگئیں، جب دیکھا کہ شوہر بے کار ہوگیا ہے تو طلاق لے کر دوسرے سے شادی کرلی۔ اس لیے اگر وفاداری چاہیے تو دین دیکھو۔

امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں آپ کو معلوم ہے کہ کتنے حسین تھے۔ علامہ شامی ابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ کتاب الحظر و الاباحۃ جلد نمبر پانچ میں لکھتے ہیں کہ امام محمد اتنے خوبصورت تھے کہ ان کی طالبِ علمی کے زمانے میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ان کو اپنے پیچھے بٹھاتے تھے تاکہ ان پر نظر نہ پڑے، نظر کی حفاظت کرتے تھے، اَنَّ اَبَاحَنِیفََۃَ رَحِمَہْ اللہُ تَعَالٰی کَانَ یُجلِسُ اِمَامَ مْحَمَّدٍ فِی دَرسِہ خَلفَ ظَہرِہ مَخَافۃ عَینِہ مَعَ کَمَالِ تَقوَاہ یعنی امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کمالِ تقویٰ کے با وجود امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ کو اپنے درس میں پیچھے بٹھاتے تھے، آ نکھوںکی چوریوں کے خوف سے کہ کہیں آنکھیں خیانت نہ کر جائیں۔ علامہ شامی امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے کمالِ تقویٰ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جس نے چالیس برس عشاء کے وضوء سے فجر کی نماز پڑھی ہو اس کے بارے میں کیا سو چ سکتے ہو؟ لیکن دیکھ لیں کہ یہ ان حضرات کا تقویٰ تھا، یہ چاہتے تھے کہ آنکھوں سے کسی قسم کی خیانت کا شائبہ بھی نہ ہو، یہ اْمت کوسبق دے گئے۔

آج کل لوگ کہتے ہیں کہ ہم اتنی نظر بچائیں گے تو لوگ کہیں گے کہ کوئی بیمار طبیعت کاآدمی معلوم ہوتا ہے، اس میں قوتِ ضبط نہیں ہے حالانکہ یہ سب حماقت کی باتیں ہیں۔ بتائیے! آج اس تقویٰ کی بدولت امام صاحب کی تعریف ہورہی ہے یابدنامی ہورہی ہے؟ تعریف ہورہی ہے کہ نہیں۔ اس لیے سمجھ لو کہ جو اساتذہ اپنے شاگردوں سے احتیاط کرتے ہیں وہی شاگرد بڑے ہوکر استاد کی تعریف کرتے ہیںکہ ہمارے استاذ نے بچپن میں ہم کو آنکھ اْٹھا کر نہیں دیکھا، احتیاط کی۔

امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ نے شادی کے بعد چھ کتابیں لکھیں سیر کبیر، سیر صغیر، جامع کبیر، جامع صغیر، مبسوط، زیادات۔ یہ چھ کتابیں حیدر آباد دکن کی لائبریری میں موجود ہیں، ممکن ہے یہاں بھی بڑے بڑے کتب خانوں میں ہوں۔ تو ایک دن امام محمد کے ایک شاگرد ان کا کھانا لینے ان کے گھر گئے تو کسی طرح ان کی نظر امام صاحب کی زوجہ پر پڑ گئی تو دیکھا کہ اپنے استاذکے چہرے کی بہ نسبت بیوی کا بالکل ہی عجیب حلیہ کا جغرافیہ ہے۔ بس روتا ہوا آیا اور کہا کہ استاذ اگر اجازت ہوتو ایک بات عرض کروں، آج استانی صاحبہ پر اچانک نظر پڑگئی، میں نے قصداً نہیں دیکھا، اچانک نظر پڑگئی لیکن اب میں رو رہا ہوں کہ آپ کی قسمت کیسی ہے ؟ آپ کیسے دن گذار رہے ہیں، کس طریقے سے آ پ کے دن کٹتے ہیں، آپ نے اس کا خیال کیوں نہیں کیا کہ جیسا اللہ نے آ پ کو حسن دیا ہے آپ نے ویسی شادی کیوں نہیں کی؟ تو امام صاحب ہنسے اور فرمایا کہ بھئی جوڑے تقدیر سے بنتے ہیں، قضاء اور قدر سے ہوتے ہیں لیکن یہ سوچوکہ میں جو یہ چھ کتابیں لکھ رہاہوں جن کا تم لوگ مجھ سے سبق پڑھ رہے ہو تو اگر میری بیوی بہت زیادہ حسین ہوتی تو اس وقت میں اپنی بیوی سے بات چیت کررہا ہوتا، تم دروازہ کھٹکھٹاتے تو میں کہتا کہ میں بہت بزی (busy)ہوں، بہت ضروری مشغلے میں مشغول ہوں اور جب اس کے سر میں درد ہوتا تب صبر نہ کرسکتا کیونکہ میں بھی مرنے لگتا۔ آج جو میں یہ بڑی بڑی کتابیں تصنیف کررہا ہوں تو ان کتابوں کو لکھنے کے لیے وقت اور فراغِ دل چاہیے۔ اس کے بعد امام صاحب نے ایک جملہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کو اپنے لیے قبول کرتے ہیں اس کو مٹی کے کھلونوں میں مشغول نہیں ہونے دیتے۔ یہ اس عظیم الشان فقیہ کے عظیم الشان الفاظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا دین اتنا قیمتی ہے کہ اس پر نبیوں کے سر کٹے ہیں، سید الانبیاء کا خون بہا ہے اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دندانِ مبارک دامنِ اْحد میں شہید ہوئے ہیں۔

میرے منتخب اقوال،پختون کی بیٹی – باب دوئم سے۔ . سید تفسیر احمد

پختون کی بیٹی
, سید تفسیر احمد, باب دوئم۔ اجتماع

1۔ خواب
2۔ تشخیص
3۔ تعمیل کا منصوبہ
4۔ سوچ ایک طریقہ ہے
5۔ خواہش
6۔ یقین و ایمان
7۔ آٹوسجیشن
8۔ تعلیمِ خصوصی
9۔ تصور
10۔ منظم منصوبہ بندی
11۔ ارادۂِ مصمم اور فیصلہ
12۔ ثابت قدم
13۔ ماسٹرمائنڈ
14۔ کامیابی کے اصول۔ ایک نظرِ ثانی

میرے منتخب اقوال،پختون کی بیٹی – باب دوئم سے۔

جوکھوں اور عزیمت کے ارادوں میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنی کشتی کوجلادیتے ہیں۔اس کشتی کو جلانے کے عمل سے دماغ کو روحانی کیفیت ملتی ہے یہ کیفیت جیتنے کی چاہت پیدا کرتی ہے جوکہ کامیابی کے لیے بہت ضروری ہے۔

یقین و ایمان

“ایمان تم کو جنت میں لے جاۓگا اور ایمانِ کامل جنت کو تمہارے پاس لاۓ گا”۔

یقینِ کامل دماغ کا کیمیاگر ہے۔ جب یقینِ کامل اورسوچ کی آمیزش ہوتی ہے۔ تو تحت الشعور ان کے مضطرب ہونے کو محسوس کر لیتا ہے اور اس کو روحانی برابری میں تبدیل کر دیتا ہے۔اور اس کو لا محدود حکمت میں منتقل کردیتا ہے۔ جس طرح کہ عملِ دعا ہے۔
تمام جذبات جو انسان کو فائدہ پہنچاتے ہیں ان میں یقین، لگن اور ہم آغوشئ جذبات سب سے ذیادہ طاقتور ہیں۔ جب یہ تین ملتے ہیں تو خیالات کو اس طرح رنگ دیتے ہیں کہ خیالات ایک دم سے تحت الشعور میں پہنچ کر لامحدود حکمت سے جواب لاتے ہیں۔ ایمان ایک ایسی دماغی کیفیت ہے جو کہ لامحدود حکمت کو جواب دینے کی ترغیب دیتی ہے”۔

ایمان ایک ایسا جذبہ ہے جس کو ایک ایسی دماغ اغرق ہو نے کی کیفیت کہہ سکتے ہیں جو ہم اظہار حلقی کے دہرانے سے پیدا کرسکتے ہیں”۔

سوچ کا جذباتی حصہ (ایمان و یقین) ، سوچ کو زندگی بخشتا ہے اور اس پرعمل کرنے پر اکساتا ہے۔یقین اور لگن کے جذبات یکجا ہوکرسوچ کو بہت بڑی قوت بنا دیتے ہیں۔

آٹوسجیشن
کسی چیز کو حاصل کرنے میں کامیابی کا پہلااصول اس چیز کی زبردست خواہش اور دوسرا اصول اپنی کامیابی کا یقین ہونا ہے۔

ک۔ اللہ تعالٰی نے ہر انسان کوایک دماغ دیا ہے“۔

۔ ” لیکن دماغ کو علمِ نفسیات میں کاموں کے لحاظ سے تین حصوں میں بانٹاگیا ہے۔

شعور، تحت الشعور اور لا شعور“۔

” تو ہم ان دماغ کے مختلف حصوں کو کس طرح اپنی کامیابی لیے استعمال کرتے ہیں؟“

اراد ہِ مصمم اور فیصلہ

کامیاب لوگوں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جب کسی کام کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو بلا تؤقف فیصلہ کرتے ہیں۔اور جب فیصلہ کرلیں تو اس فیصلہ کو تبدیل کرنے میں وقت لیتے ہیں۔

جب تم نے اپنی قابلیت کے مطابق فیصلہ کرلیا تو دوسروں کی راۓ سے متاثر ہو کر فیصلہ تبدیل مت کرو۔

دنیا کو پہلے دکھاؤ کہ تم کیا کرنا چاہتے ہو اور پھر بتاؤ۔

فیصلہ کی قیمت کا انحصار جرات پر ہے۔ دنیا کے وہ فیصلے جن سے تہذیب کی بنیادیں رکھی گئیں، ان فیصلوں کے نتائج کو حاصل کرنے میں جانیں تک خطرے میں تھیں۔

سقراط پر جب یہ دباؤ ڈالا گیا کہ اگر اس نے اپنے خیالات نہ بدلے اور جمہوریت کی باتیں کرتا رہا تو اس کو زہر پی کر مرنا پڑے گا۔ سقراط نے اپنے خیالات نہیں بدلے اور اس کو زہر کا پیالہ دیا گیا۔

ظلم سے آزادی کی خواہش آزادی لاۓ گی۔

” سوچ + مقرر مقصد + قائم مزاجی + شدیدخواہش = کامیابئ مکمل”سعدیہ نے جواب دیا۔

آٹوسجیشن کا استعمال ان خیالوں جن کو آپ شدت سے چاہتے ہیں، شعور سے تحت الشعور میں رضاکارانہ طور پر پہہنچا دیتا ہے“

خواہش ِ < — شدت < — شدیدخواہش
(شعور) < — (آٹوسجیشن) < — (تحت الشعور)

تعلیمِ خصوصی

” ایک تعلیم کا حصول ، دوسرے تعلیم کا سمجھنا ، اور تیسرے تعلیم کا استعمال۔ جب تک آپ تعلیم کو استعمال نہ کریں تعلیم پوری نہیں ہوتی

” تعلیم صرف ایک صورتِ امکانی ہے۔ یہ اُس وقت ایک قوت بنتی ہے جب اس کو مقصد کے حصول کے لیے منظم کیا جاتا ہے ا ور اس کا رُخ مقرر خاتمہ کی طرف کیا جاۓ۔سینکڑوں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئ شخص اسکول نہ جاۓ تو وہ تعلیم یا فتہ نہیں ہے۔ ایجوکیشن ایک اٹالین لفظ ’ ایڈوکو‘ سے بنی ہے۔ جس کے معنی ’ اندر سےابھرنا ، انکشاف کرنا ‘۔ ضروری نہیں کہ تعلیم یافتہ شخص وہ ہو جس کے پاس تعلیم عامہ یا تعلیم مخصوصہ کی بہتاب ہے، تعلیم یافتہ شخص وہ ہے جس نے اپنے ذہن کو تربیت دی ہے۔ تعلیم یافتہ شخص کسی کا حق مارے بغیر ہر اس چیز کو حاصل کرلیتا ہے جو اس کو پسند ہے“۔

تصور

” انسان ہر وہ چیز کرسکتا ہے جس کو وہ سوچ سکتا ہے“۔

منظم منصوبہ بندی

ہر چیز جو انسان بناتا ہے یا حاصل کرتا ہے وہ خواہش سے شروع ہوتی ہے“۔

خواہش کا پہلا قدم عدمِ وجود سے وجود میں تبدیل ہونا ، قوت متصورہ کے کارخانہ میں ہوتا ہے۔جہاں پر اس کی تبدلی کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔قائداورمعتقد۔ کچھ لوگ قائد بنتے ہیں کیوں کہ ان میں دلیری ، ضبط ، انصاف پسندی ، ا ستقلال، منصوبہ ، محنت پسندی ، خوش گوار شخصیت ، ہمدردی اور پکی سمجھ ، تفصیل کا مہارت ، ذمہ داری اور مل کر کام کرنے کی صفات ہو تی ہیں۔ معتقد لوگ ، قائد کا کہا مانتے ہیں۔ معتقد ہونا کوئ بری بات نہیں۔ بہت دفعہ ایک قائد، معتقد میں سے ہی بنتا ہے۔

وہ قائد ، اپنے مقصد میں کا میاب نہیں ہوتے ہیں جوکام کی تفصیل سے بھاگتے ہیں اور صرف وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو ان کی حیثیت کے برابر ہو، چھوٹا کام کرنا نہیں پسند کرتے۔ وہ اپنی تمام قابلیت، یعنی اپنی تعلیم کے مطابق صلہ مانگتے ہیں اپنے کام کے مطابق نہیں۔جومتقدوں سے مقابلہ کرتے ہوۓ گھبراتے ہیں۔ جن میں صورت متخیلہ نہیں ہوتی اور خود غرضی کا شکار ہوتے ہیں۔

منظم منصوبہ بندی کے اصول

1۔ جتنے ساتھیوں کی اپنے منصوبہ پر عمل کرنے کے لیے ضرورت ہے ان کو اپنے مہتممِ دماغ علم یا ماسٹر مائنڈ کا پارٹنر بنالیں۔

2۔ تمام شرکاء اور شریکِ کار کو پتہ ہو نا چاہیے کہ اس شرکت میں ان کی کیا ذمہ داری ہے۔

3۔ جب تک کہ منصوبہ مکمل نہ ہوجاۓ، تمام شرکاء اور شریکِ کارکو کم از کم ہفتہ میں دو دفعہ ملنا چاہیے۔

4۔ جب تک کہ منصوبہ مکمل نہ ہوجاۓ تمام شرکاء اور شریکِ کار کو میل اور اتفاق سے رہنا چاہیے۔

.ماسٹرمائنڈ

” علم ایک طاقت ہے“۔اباجان نے کہا۔ کامیابی کے لیے طاقتِ علم کا ہونا ضروری ہے“

” منصوبے بغیر معقول طاقتِ علم کے غیرمؤثراور بے کار ہیں اور ان کو عمل میں تبدیل نہیں کیاجاسکتا“۔

” دما غی قوت ، یہاں ایک منظم اوردانش مند علم کو مسئلۂ مرکوز پر توجہ کرنے کے معنی میں استمعال کی گئ ہے“۔

علم کے حاصل کرنے کے تین ذرائع ہیں۔

ایک ۔ لا محدود قابلیت۔

دو ۔ جمع کیا ہوا علم، پبلک لائبریری، پبلک سکول اور کالج۔

تین ۔ تجربات اور تحقیقات، سائنس اور تمام دنیاوی چیزوں میں انسان ہر وقت جمع کرتا ہے، باترتیب رکھتا ہے اور ہرروز مرتب کرتا ہے“۔

علم کوان ذرائع سے حاصل کر کے منصوبۂ مقرر میں مننظم کرنا اور پھر منصوبوں کو عمل میں تبدیل کرنا، دماغ کی طاقتِ علم ہے۔
اگر منصوبہ وسیع ہے تو آپ کو دوسرے لوگوں کے دماغ کی طاقتِ علم کی مدد کی ضرورت گی“۔

” جب دو یا دو سے ذیادہ لوگ ایک مقرر اور مخصوص مقصد کو حاصل کر نے کے لیے علم کی ہم آہنگی کرتے ہیں تو وہ ماسٹرمائنڈ کہلاتے ہیں“۔

شہاب نامہ

از

قدرت اللہ شہاب

جموں میں پلیگ

گرمیوں کا موسم تھا اور جموں شہر میں طاؤن کی وبا بڑی شدت سے پُھوٹی ہوئی تھی۔ اکبر اسلامیہ ہائی سکول میں چوتھی جماعت کے کلاس روم کی صفائی کا کام میرے ذمہ تھا۔ ایک روز چُھٹی کے وقت جب میں اکیلا کمرے کی صفائی کر رہا تھا ، تو ایک ڈیسک کے نیچے ایک مرا ہوا چُوہا پڑا ملا۔ میں نے اُسے دُم سے پکڑ کر اُٹھایا ، باہر لا کر اُسے زور سے ہوا میں گُھمایا اور سڑک کے کنارے جھاڑیوں میں پھینک دیا۔ یہ دیکھ کر لال دین زور سے پُھنکارا ، اور اپنی لنگڑی ٹانگ گھسیٹتا ہوا دُور کھڑا ہو کر زور زور سے چلانے لگا۔ لال دین ہمارے سکول کا واحد چپڑاسی تھا۔ وہ گھنٹہ بھی بجاتا تھا ، لڑکوں کو پانی بھی پلاتا تھا اور چھابڑی لگا کر بسکٹ اور باسی پکوڑیاں بھی بیچا کرتا تھا۔

ارے بد بخت ! لال دین چلا رہا تھا ، “ یہ تو پلیگ کا چُوہا تھا۔ اِسے کیوں ہاتھ لگایا؟ اب خود بھی مرو گے ، ہمیں بھی مارو گے۔“

اپنی لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہی کھڑے لال دین نے پلیگ کے مرض پر ایک مفصل تقریر کر ڈالی۔ پہلے تیز بُخار چڑھے گا۔ پھر طاؤن کی گلٹی نمودار ہوگی ، رفتہ رفتہ وہ مکئی کے بُھٹے جتنی بڑی ہو جائے گی ۔ جسم سُوج کر کُپا ہو جائے گا۔ ناک ، کان اور مُنہ سے خُون ٹپکے گا ۔ گلٹی سے پیپ بہے گی اور چار پانچ دن مین اللہ اللہ خیر سلا ہو جائے گی۔

چند روز بعد میں ریذیڈنسی روڈ پر گھوم رہا تھا کہ اچانک ایک چُوہا تیز تیز بھاگتا ہوا سڑک پر آیا ۔ کچھ دیر رُک کر وہ شرابیوں کی طرح لڑکھڑایا۔ دو چار بار زمین پر لوٹ لگائی اور پھر دھپ سے اوندھے مُنہ لیٹ گیا۔ میں نے پاس جا کر اُسے پاؤں سے ہلایا تو وہ مر چُکا تھا۔ بے خیالی میں مَیں نے اُسے دُم سے پکڑا اور اُٹھا کر سڑک کے کنارے ڈال دیا۔ چند راہگیر جو دُور کھڑے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے، پُکار پُکار کر کہنے لگے، “پلیگ کا چُوہا ، پلیگ کا چُوہا۔ گھر جا کر جلدی نہاؤ ، ورنہ گلٹی نکل آئے گی۔“

ان لوگوں نے بھی پلیگ کی جملہ علامات پر حسبِ توفیق روشنی ڈالی اور میرے عِلم میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔

ان دِنوں جموں شہر میں ہر روز دس دس پندرہ پندرہ لوگ طاؤن سے مرتے تھے ۔ گلی کُوچوں میں چاروں طرف خوف ہی خوف چھایا ہوا نظر آتا تھا۔ گاہک دکانوں کا کن انکھیوں سے جائزہ لیتے تھے کہ کہیں بوریوں اور ڈبوں اور کنستروں کے آس پاس چُوہے تو نہیں گُھوم رہے۔ دُکاندار گاہکوں کو شک و شبہ سے گُھورتے تھے کہ ان کے ہاں پلیگ کا کیس تو نہیں ہوا۔ لوگوں نے ایک دُوسرے کے کے گھر آنا جانا اور ملنا جُلنا ترک کر دیا تھا۔ سڑک پر راہگیر ایک دُوسرے سے دامن بچا بچا کر چلتے تھے۔ شہر کا ہر مکان دُوسروں سے کٹ کٹا کر الگ تھلگ ایک قلعہ سا بنا ہوا تھا ، جس میں پھٹی پھٹی سہمی آنکھوں والے محصُور لوگ چُپ چاپ اپنی اپنی گِلٹی کا انتظار کر رہے تھے۔ میونسپل کمیٹی والے درو دیوار سُونگھ سُونگھ کر پلیگ کے مریضوں کا سُراغ لگاتے تھے۔ جہاں اُن کا چھاپہ کامیاب رہتا تھا ، وہاں وہ علی بابا چالیس چور کی مرجینا کی طرح دروازے پر سفید چُونے کا نشان بنا دیتے تھے۔ تھوڑی بہت رشوت دے کر یہ نشان اپنے مکان سے مٹوایا اور اغیار کے دروازوں پر بھی لگوایا جا سکتا تھا۔ پلیگ کے عذاب میں مبتلا ہو کر مریض تو اکثر موت کی سزا پاتا تھا۔ باقی گھر والے مفرور مجرموں کی طرح مُنہ چُھپائے پھرتے تھے۔ ایک دُوسرے سے ہاتھ ملانے کا رواج بھی بہت کم ہو گیا تھا۔ لوگ دُور ہی دُور سے سلام دُعا کر کے رسمِ مروت پُوری کر لیتے تھے۔

یکے بعد دیگرے دو طاؤن زدہ چُوہوں کو ہاتھ لگانے کے باوجود جب میرے تن بدن میں کوئی گِلٹی نمودار نہ ہوئی تو میرا دل شیر ہوگیا۔ اپنے اِردگرد سہمے ہوئے ہراساں چہرے دیکھ کر ہنسی آنے لگی۔ اور اُن کی بے بسی سے شہ پا کر رفتہ رفتہ میرے دل میں خوف کی جگہ نئے نئے منصوبے سر اُٹھانے لگے۔ رگھوناتھ بازار میں حکیم گورندتہ مل کی دکان تھی۔ ایک روز حکیم صاحب اپنی کُرسی پر اکیلے بیٹھے اپنی ناک پر بار بار بیٹھنے والی مکھیاں اُڑا رہے تھے۔ مَیں اُن کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا اور گھبراہٹ کے لہجے میں بولا، “حکیم صاحب! پلیگ کی دوا چاہئے، بہت جلد۔“

پلیگ کا نام سُن کر حکم صاحب چونکے اور ڈانٹ کر کہنے لگے، “چھاتی پر کیوں چڑھے آتے ہو؟ دُور کھڑے ہو کر بات کرو۔ کس کو پلیگ ہے؟“

مَیں نے رُوئی کا گولہ ٹنکچر آیوڈین میں تَر کر کے ایک میلی سی پٹی کے ساتھ اپنی بغل میں باندھا ہوا تھا۔ مَیں کھسک کر حکیم صاحب کے اور بھی قریب ہوگیا اور آستین میں سے بازُو نکال کر اپنی بغل معائنہ کے لئے ان کے مُنہ کے قریب لانے لگا تو اُن کی آنکھیں خوف سے اُبل کر باہر کی طرف لڑھک آئیں۔

حکیم صاحب بوکھلا کر اتنے زور سے اُٹھے کہ کُرسی کھٹاک سے اُلٹ کر پیچھے کی طرف گرگئی۔ دُکان کے اندر دُور کھڑے ہو کر وہ چیخنے لگے، “یہ دُکان ہے دُکان۔ چُھوت کی بیماریوں کا ہسپتال نہیں۔ فورا باہر نکلو اور ہسپتال جا کر حاضر ہو جاؤ ورنہ بُلاتا ہوں ابھی پولیس والوں کو۔“

حکیم صاحب کی میز پر گُلقند کا مرتبان پڑا تھا۔ مَیں نے جلدی جلدی ڈھکنا اُٹھایا اور شیرے میں لت پت گُلقند کی ایک مُٹھی بھر کر دکان سے باہر چلا آیا۔

استاد مرحوم, ابنِ انشا

استاد مرحوم

ابنِ انشا

استاد مرحوم نے اہلِ زبان ہونے کی وجہ سے طبیعت بھی موزون پائی تھی اور ہر طرح کا شعر کہنے پر قادر تھے۔ اردو، فارسی میں ان کے کلام کا بڑا ذخیرہ موجود ہے جو غیر مطبوعہ ہونے کی وجہ سے اگلی نسلوں کے کام آۓ گا۔ اس علم و فضل کے باوجود انکسار کا یہ عالم تھا کہ ایک بار سکول میگزین میں جس کے یہ نگران تھے، ایڈیٹر نے استاد مرحوم کے متعلق یہ لکھا کہ وہ سعدی کے ہم پلہ ہیں، انہوں نے فوراً اس کی تردید کی۔ سکول میگزین کا یہ پرچہ ہمیشہ ساتھ رکھتے اور ایک ایک کو دکھاتے کہ دیکھو لوگوں کی میرے متعلق یہ راۓ ہے حالانکہ من آنم کہ من دانم۔ ایڈیٹر کو بھی جو دسویں جماعت کا طالب علم تھا، بلا کر فہمائش کی کہ عزیزی یہ زمانہ اور طرح کا ہے۔ ایسی باتیں نہیں لکھا کرتے۔ لوگ مردہ پرست واقع ہوۓ ہیں۔ حسد کے مارے جانے کیا کیا کہتے پھریں گے۔ اہل علم خصوصاً شعرا کے متعلق اکثر یہ سنا ہے کہ ہم عصروں اور پیش روؤں کے کمال کا اعتراف کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں، استاد مرحوم میں یہ بات نہ تھی، بہت فراخ دل تھے۔ فرماتے، غالب اپنے زمانے کے لحاظ سے اچھا لکھتا تھا۔ میر کے بعض اشعار کی بھی تعریف کرتے۔ امیر خسرو کی ایک غزل استاد مرحوم کی زمین میں ہے۔ فرماتے، انصاف یہ ہے کہ پہلی نظر میں فیصلہ کرنا دشوار ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کون سی (غزل) بہتر ہے ۔ پھر بتاتے کہ امیر خسرو سے کہاں کہاں محاورے کی لغزش ہوئی ہے۔ اقبال کے متعلق کہتے تھے کہ سیالکوٹ میں ایسا شاعر اب تک پیدا نہ ہوا تھا۔ اس شہر کو ان کی ذات پر فخر کرنا چاہیے۔ ایک بار بتایا کہ اقبال سے میری خط و کتابت بھی رہی ہے۔ دو تین خط علامہ مرحوم کو انہوں نے لکھے تھے کہ کسی کو ثالث بنا کر مجھ سے شاعری کا مقابلہ کر لیجیۓ۔ راقم نے پوچھا نہیں کہ ان کا جواب آیا کہ نہیں۔ استاد مرحوم کو عموماً مشاعروں میں نہیں بلایا جاتا تھا کیوں کہ سب پر چھا جاتے تھے اور اچھے اچھے شاعروں کو خفیف ہونا پڑتا ۔ خود بھی نہ جاتے تھے کہ مجھ فقیر کو ان ہنگاموں سے کیا مطلب۔ البتہ جوبلی کا مشاعرہ ہوا تو ہمارے اصرار پر اس میں شریک ہوۓ اور ہر چند کہ مدعو نہ تھے منتظمین نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ دیوانہ کسمنڈوی، خیال گڑگانوی اور حسرت بانس بریلوی جیسے اساتذہ سٹیج پر موجود تھے ، اس کے باوجود استاد مرحوم کو سب سے پہلے پڑھنے کی دعوت دی گئی۔ وہ منظر اب تک راقم کے آنکھوں میں ہے کہ استاد نہایت تمکنت سے ہولے ہولے قدم اٹھاتے مائک پر پہنچے اور ترنم سے اپنی مشہور غزل پڑھنی شروع کی ہے۔ ہے رشتۂ غم اور دلِ مجبور کی گردن ہے اپنے لۓ اب یہ بڑی دور کی گردن ہال میں ایک ساناٹا سا چھا گیا۔ لوگوں نے سانس روک لۓ۔ استاد مرحوم نے داد کے لۓ صاحب صدر کی طرف دیکھا لیکن وہ ابھی تشریف نہ لاۓ تھے، کرسئِ صدارت ابھی خالی پڑی تھی۔ دوسرا شعر اس سے بھی زور دار تھا۔ صد حیف کہ مجنوں کا قدم اٹھ نہیں سکتا اور دار پہ ہے حضرتِ منصور کی گردن دوسرا مصرع تمام نہ ہوا تھا کہ داد کا طوفان پھٹ پڑا۔ مشاعرے کی چھت اڑنا سنا ضرور تھا، دیکھنے کا اتفاق آج ہوا۔ اب تک شعرا ایک شعر میں ایک مضمون باندھتے رہے ہیں اور وہ بھی بمشکل ۔ اس شعر میں استاد مرحوم نے ہر مصرع میں ایک مکمل مضمون باندھا ہے اور خوب باندھا ہے۔ لوگ سٹیج کی طرف دوڑے۔ غالباً استاد مرحوم کی پابوسی کے لۓ۔ لیکن رضا کاروں نے انہیں باز رکھا۔ سٹیج پر بیٹھے استادوں نے جو یہ رنگ دیکھا تو اپنی غزلیں پھاڑ دیں اور اٹھ گۓ۔ جان گۓ تھے کہ اب ہمارا رنگ کیا جمے گا۔ ادھر لوگوں کے اشتیاق کا یہ عالم تھا کہ تیسرے شعر پر ہی فرمائش ہونے لگی مقطع پڑھیے مقطع پڑھیے ۔۔۔۔ چوتھے شعر پر مجمع بے قابو ہو رہا تھا کہ صدرِ جلسہ کی سواری آگئی اور منتظمین نے بہت بہت شکریہ ادا کر کے استاد مرحوم کو بغلی دروازے کے باہر چھوڑ کر اجازت چاہی۔ اب ضمناً ایک لطیفہ سن لیجیۓ جس سے اخبار والوں کی ذہنیت عیاں ہوتی ہے۔ دوسری صبح روزنامہ “پتنگ” کے رپورٹر نے لکھا کہ جن استادوں نے غزلیں پھاڑ دی تھیں، وہ یہ کہتے بھی سنے گۓ کہ عجب نامعقول مشاعرے میں آ گۓ ہیں۔ لوگوں کی بے محابا داد کو اس بد باطن نے ہوٹنگ کا نام دیا اور استاد مرحوم کے اس مصرع کو ” صد حیف کہ مجنوں کا قدم اٹھ نہیں سکتا” بوجۂ لا علمی یا شرارت بجاۓ توارد کے سرقہ قرار دیا۔ بات فقط اتنی تھی کہ منتظمین نے ایڈیٹر پتنگ کے اہل خانہ کو مشاعرے کے پاس معقول تعداد میں نہ بھیجے تھے۔ اگر یہ بات تھی تو اسے منتظمین کے خلاف لکھنا چاہیے تھا نہ کہ استاد مرحوم کے خلاف اور پھر اس قسم کے فقروں کا کیا جواز ہے کہ “استاد چراغ شعر نہیں پڑھ رہے تھے روئی دھن رہے تھے۔” صحیح محاورہ روئی دھننا نہیں روئی دھنکنا ہے۔ اس دن کے بعد سے مشاعرے والے استاد مرحوم کا ایسا ادب کرنے لگے کہ اگر استاد اپنی کریم النفسی سے مجبور ہو کر پیغام بھجوا دیتے کہ میں شریک ہونے کے لۓ آ رہا ہوں تو وہ خود معذرت کرنے کے لۓ دوڑے آتے کہ آپ کی صحت اور مصروفیات اس کی اجازت نہیں دیتیں۔ ہمیں (ان کے نا چیز شاگردوں کو) بھی رقعہ آ جاتا کہ معمولی مشاعرہ ہے، آپ کے لائق نہیں۔ زحمت نہ فرمائیں۔

برزخ اور اس کا عذاب

بزرخ کے معنی: دو چیزوں کے درمیان حائل چیز کو برزخ کہتے ھیں [1]یہ موت اور قیامت کے درمیان کا واسطہ ھے ، او راسی عالم برزخ میں روز قیامت کے لئے انسان نعمتوں سے نوازا جائے گا یا اس پر عذاب ھوگا[2]خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
< مِنْ وَرَائِہِمْ بَرْزَخٌ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ >[3]
”اور ان کے مرنے کے بعد (عالم) برزخ ھے (جہاں )سے اس دن تک کہ دوبارہ قبروں سے اٹھائے جائےں گے “۔
یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ یہ عالم برزخ دنیاوی زندگی اور روز قیامت کے درمیان ایک زندگی کا نام ھے۔
عالم برزخ کے بارے میں حضرت امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ھیں:
”البرزخ:القبر ،وفیہ الثواب والعقاب بین الدنیا وآلاخرة“۔[4]
وحشت برزخ: جیسا کہ ھم بیان کر چکے ھیںکہ عالم آخرت کی زندگی موت سے شروع ھوتی ھے، انسان موت کے ذریعہ عالم آخرت میں پہنچ جاتا ھے، اور موت کے بعد درج ذیل قبر کے خوف و وحشت سے روبرو ھوتا ھے:
۱۔ وحشت قبر اور قبر کی تاریکی: قبر، معادکی وحشتناک منزلوں میں سے ایک منزل ھے، جب انسان کو ایک تاریک و تنگ کوٹھری میں رکھ دیا جاتا ھے جہاں پر اس کے مددگار صرف اس کے اعمال اور عذاب یا ثواب کے فرشتے ھوں گے۔
حضرت علی علیہ السلام اہل مصر کے نام ایک خط میں تحریر فرماتے ھیں:
”یا عباد الله،ما بعد الموت لمن لا یغفر لہ اشد من الموت؛القبر فاحذروا ضیقہ و ضنکہ وظلمتہ و غربتہ،ان القبریقول کل یوم :انابیت الغربة،انا بیت التراب،انا بیت الوحشة ،انا بیت الدود و الھوام۔۔۔ “۔[5]
”اے بندگان خدا! اگر انسان کی بخشش نہ ھو تو پھر موت کے سے سخت کوئی چیز نھیں ھے، (لہٰذا قبر کی تاریکی، تنگی اور تنہائی سے ڈرو!! بے شک قبر ہر روز یہ آواز دیتی ھے: میں تنہائی کا گھر ھوں، میں مٹی کا گھر ھوں، میں خوف و حشت کا گھر ھوں، میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ھوں۔۔۔“۔(اے کاش ھم اس آواز کو سن لیں)
قارئین کرام! یھی وہ جگہ ھے کہ جب انسان زمین کے اوپر سے اس کے اندر چلا جاتا ھے، اہل و عیال اور دوستوں کو چھوڑ کر تنھاھوجاتا ھے، روشنی کو چھوڑ کر تاریکی میں چلا جاتا ھے، دنیا کے عیش و آرام کو چھوڑ کر تنگی اور وحشت قبر میں گرفتار ھوجاتا ھے، اور اس کا سب نام و نشان ختم ھوجاتا ھے اور اس کا ذکر مٹ جائے گا اس کی صورت متغیر ھوجائے گی اور اس کا جسم ابدان بوسیدہ اور جوڑ جوڑ جدا ھوجائیں گے۔
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
”فکم اکلت الارض من عزیز جسد ،وانیق لون ،کان فی الدنیا غذی ترف ،وربیب شرف، یتعلل بالسرور فی ساعة حزنہ و یفزع الی السلوة ان مصیبة نزلت بہ ،ضنا بغضارة عیشہ وشحاحة بلھوہ و لعبہ۔۔۔“۔[6]
”اُف! یہ زمین کتنے عزیزترین بدن اور حسین ترین رنگ کھاگئی ھے جن کو دولت و راحت کی غذامل رھی تھی اور جنھیں شرف کی آغوش میں پالا گیا تھا جو حزن کے اوقات میں بھی مسرت کا سامان کیا کرتے تھے اور اگر کوئی مصیبت آن پڑتی تھی تو اپنے عیش کی تازگیوں پر للچائے رہنے واور اپنے لھو و لعب پر فریفتہ ھونے کی بنا پر تسلی کا سامان فراھم کرلیا کرتے تھے“۔
(زمیں کھاگئی آسماں کیسے کیسے؟!! )
۲۔ فشار قبر: احادیث میں وارد ھوا ھے کہ میت کو اس قدر فشار قبر ھوگا کہ اس کاگوشت پارہ پارہ ھوجائے گا، اس کا دماغ باہر نکل آئے گااس کی چربی پگھل جائے گی، اس کی پسلیاں آپس میں مل جائیں گی، اس کی وجہ دنیا میں چغل خوری اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ بداخلاقی، بہت زیادہ (بے ھودہ) باتیں کرنا، طہارت ونجاست میں لاپرواھی کرنا ھے، اور کوئی انسان اس(فشار قبر) سے نھیں بچ سکتا مگر یہ کہ ایمان کے ساتھ دنیا سے جائے اور کمال کے درجات پر فائز ھو۔
ابو بصیر کہتے ھیں کہ میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا کوئی شخص فشار قبر سے نجات پاسکتا ھے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
”نعوذ باللہ منھا ۔ما اقل من یفلت من ضغطة القبر۔۔۔“۔[7]
”ھم اللہ کی پناہ مانگتے ھیں فشار قبر سے، بہت ھی کم لوگ فشار قبر سے محفوظ رھیں گے“۔
صحابی رسول سعد بن معاذ /کو بھی فشار قبر کے بارے میں روایت میں ملتا ھے کہ جب ان کا جنازہ اٹھایا گیا تو ملائکہ تشییع جنازہ کے لئے آئے اور خود رسول اکرم (ص)آپ کی تشییع جنازہ میں پابرہنہ اور بغیر عبا کے شریک ھوئے، یہاں تک کہ قبر تک لے آئے اور قبر میں رکھ دیا گیا تو امّ سعد نے کہا: اے سعد تمھیں جنت مبارک ھو ، تو اس وقت رسول اکرم نے فرمایا:
”یا ام سعد! مَہ لاتجزمي علی ربک ،فان سعدا قد اصابتہ ضمة“۔وحینما سُئل عن ذلک، قال(ص) ”انہ کان فی خلقہ مع اھلہ سوء“۔ [8]
”اے مادر سعد یہ نہ کھو ، تم اپنے رب کے بارے میں یہ یقینی نھیں کہہ سکتی، سعد پر اب فشار قبر ھورھاھے“۔
اور جب رسول اکرم (ص)سے اس کی وجہ معلوم کی گئی تو آنحضرت (ص)نے فرمایا کہ سعد اپنے اہل و عیال کے ساتھ بداخلاقی سے پیش آتے تھے“۔
رسول اکرم (ص)نے یہ بھی فرمایا:
”ضغطة القبر للموٴمن کفارة لما کان منہ من تضییع النعم“۔[9]
”فشار قبر مومن کے لئے کفارہ ھے تاکہ اس کی نعمتوں میں کمی نہ ھو۔“
۳۔ سوال منکر و نکیر: خداوندعالم، انسان کی قبر میں دو فرشتوں کو بھیجتا ھے جن کا نام منکر و نکیر ھے، یہ دوفرشتے اس کو بٹھاتے ھیں اور سوال کرتے ھیں کہ تیرا رب کون ھے ؟ تیرا دین کیا ھے؟ تیرا نبی کون ھے؟ تیری کتاب کیا ھے؟ تیرا امام کون ھے جس سے تو محبت کرتا تھا، تو نے اپنی عمر کو کس چیز میں صرف کیا، تونے مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیاھے؟ اگر اس نے صحیح اور حق جواب دیا تو ملائکہ اس کوراحت و سکون اور جنت الفردوس کی بشارت دیتے ھیں اور اس کی قبر کو تا حد نظر وسیع کردیتے ھیں، لیکن اگر اس نے جواب نہ دیا یا ناحق جواب دیا، یا اس کا جواب نامفھوم ھوا تو ملائکہ اس کی کھولتے ھوئے پانی سے میزبانی کرتے ھیں اور اس کو عذاب کی بشارت دیتے ھیں۔
بے شک اس سلسلے میں نبی اکرم (ص)اور اہل بیت علیھم السلام سے صحیح روایت منقول ھےں جن پر سبھی مسلمین اتفاق رکھتے ھیں [10]اور اس مسئلہ کو ضرورت دین میں سے مانتے ھیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”من انکر ثلاثة اشیاء ،فلیس من شیعتنا المعراج ،والمساء لة فی القبر ، والشفاعة “۔[11]
”جو شخص تین چیزوں کا انکار کرے وہ ھمارا شیعہ نھیں ھے، معراج، سوال منکر و نکیر، اور شفاعت“۔
۴۔ قبر میں عذاب و ثواب:یہ عذاب و ثواب عالم برزخ میں ایک مسلم حقیقت ھے ، اور لامحالہ واقع ھوگا، کیونکہ اس کا امکان پایا جاتا ھے، آیات ِقرآن مجید اور نبی اکرم اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے احادیث میں متواتر بیان ھوا ھے ، نیز اس سلسلے میں علماء کرام کا گزشتہ سے آج تک اجماع بھی ھے[12]
قرآنی دلائل: وہ آیات جن میں قبر میں ثواب و عذاب کے بارے میں بیان ھوا یا بعض آیات کی تفسیر عذاب و ثواب کی گئی ھے، جن میں سے بعض کو ھم نے ”روح کے مجرد ھونے“ کی بحث میں بیان کیا ھے، ھم یہاں پر دو آیتوں کو پیش کرتے ھیں:
< وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ اٴَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اٴَشَدَّ الْعَذَابِ> [13]
”اور فرعونیوں کو برے عذاب نے(ہر طرف سے )گھیر لیا (اور اب تو قبر میں دوزخ کی) آگ ھے کہ وہ لوگ (ہر)صبح و شام اس کے سامنے لا کرکھڑے کئے جاتے ھیں اور جس دن قیامت برپا ھوگی (حکم ھوگا کہ )فرعون کو لوگوں کے سخت سے سخت عذاب میں جھونک دو“۔
یہ آیہ شریفہ وضاحت کرتی ھے کہ قبر میں ثواب و عذاب ھوگا کیونکہ اس آیت میں ”واو“کے ذریعہ عطف کیا گیا ھے <وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ۔۔۔> جو اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ اس سے پہلے بیان شدہ ایک الگ چیز ھے اور اس کے بعد بیان ھونے والا مطلب الگ ھے، کیونکہ پہلے صبح و شام آگ نے گھیر رکھا ھے، اور اس کے بعد روز قیامت کے عذاب کے بارے میں بیان کیا گیا ھے، اسی وجہ سے پہلے جملے میں <عَرَضَ> (گھیرنے کے معنی) ھیں اور دوسرے جملہ میں <اٴَدْخِلُوا> (داخل ھوجاؤ)کا لفظ استعمال ھوا ھے۔[14]
اس آیت کی تفسیر میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے مروی ھے کہ آپ نے فرمایا:
”ان کانوا یعذبون فی النار غدوا و عشیا ففیما بین ذلک ھم من السعداء ۔لا ولکن ھذا فی البرزخ قبل یوم القیامة ،الم تسمع قولہ عزوجل:<وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ اٴَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اٴَشَدَّ الْعَذَابِ>؟“۔[15]
” اگر وہ صبح و شام عذاب میںھوں گے اگرچہ ان کے درمیان کچھ نیک افراد بھی ھوں لیکن یہ سب برزخ میں ھوگا قبل از قیامت، کیا تو نے خداوندعالم کے اس فرمان کو نھیں سنا: ”اور جب قیامت برپا ھوگی تو فرشتوں کو حکم ھوگا کہ فرعون والوں کو بدترین عذاب کی منزل میں داخل کردو“۔
۲۔ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
< وَمَنْ اٴَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِی فَإِنَّ لَہُ مَعِیشَةً ضَنکًا وَنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ اٴَعْمَی>[16]
”اور جس نے میری یاد سے منھ پھیرا تو اس کی زندگی بہت تنگی میں بسر ھوگی اور ھم اس کو قیامت کے دن اندھا( بنا کے) اٹھائیں گے“۔
بہت سے مفسرین کہتے ھیں کہ ”سخت اور تنگ زندگی“ سے مراد عذاب قبر اور عالم برزخ میں سختیاں اور بدبختی ھے، قرینہ یہ ھے کہ حرف عطف ”واو“ کے ذریعہ حشر کا ذکر کیا جو اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ یہ دونوں چیزیں الگ الگ ھوں۔ سخت زندگی سے دنیا کی پریشانیاں مراد نھیں لی جاسکتیں کیونکہ دنیا میں بہت سے کفار کی زندگی مومنین سے بہتر ھوتی ھے، اور ایسے چین و سکون کی زندگی بسر کرتے ھیں کہ اس میں کسی طرح کی کوئی پریشانی نھیں ھوتی ھے۔[17]
حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ھیں:
”واعلموا ان المعیشة الضنک التی قالھا تعالیٰ :<فَإِنَّ لَہُ مَعِیشَةً ضَنکًا >ھی عذاب القبر“۔[18]
جان لو کہ (مذکورہ بالا) آیت میں سخت اور تنگ زندگی سے مراد عذاب قبر ھے“۔
احادیث سے دلائل: قبر کے عذاب و ثواب پر دلالت کرنے والی متعدد احادیث شیعہ سنی دونوں طریقوں سے نقل ھوئی ھیں،[19] اور بڑی تفصیل کے ساتھ بیان ھوئی ھیں، بعض کو ھم نے ”روح کے مجرد ھونے“ کی بحث میں بیان کیا ھے، یہاں پر ان میں سے صرف تین احادیث کو بیان کرتے ھیں:
۱۔ حضرت رسول اکرم (ص)ارشاد فرماتے ھیں:
”القبر اما حفرة من حفرالنیران او روضة من ریاض الجنة“۔[20]
”قبر یا دوزخ کے گڈھوں میں سے ایک گڈھا ھے یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ھے“۔
۲۔ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ھیں:
”یسلط علی الکافر فی قبرہ تسعة و تسعین تنینا،فینھشن لحمہ ، و یکسرن عظمہ ،و یترددن علیہ کذلک الی یوم یبعث ،لوان تنینا منھا نفخ فی الارض لم تنبت زرعا ابدا۔۔۔“۔[21]
”خداوندعالم کافر کی قبر میں ۹۹ اژدھے مسلط کرتا ھے، جو اس کے گوشت کو ڈستے ھوں گے اور اس کی ہڈیوں کو کاٹ کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کردےں گے،اور روز قیامت تک وہ اژدھے اس پر عمل کرتے رھیں گے کہ اگر وہ ایک پھونک زمین پر ماردیں تو کبھی بھی کوئی درخت اور سبزہ نہ اُگے“۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے درج ذیل آیت کے بارے میں سوال کیا گیا:
< مِنْ وَرَائِہِمْ بَرْزَخٌ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ >[22]
”اور ان کے مرنے کے بعد (عالم) برزخ ھے (جہاں )سے اس دن تک کہ دوبارہ قبروں سے اٹھایے جائےں گے “۔
تو آپ نے فرمایا:
”ھوالقبر،وان لھم فیہ لمعیشة ضنکا ، واللہ ان القبر لروضة من ریاض الجنة،اوحفرة من حفر النیران“۔[23]
”اس آیت سے مراد قبر ھے،اور کفار کے لئے سخت اور تنگ زندگی ھے، قسم بخدا، یھی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ھے یا جہنم کے گڈھوں میں سے ایک گڈھا ھے ‘ ‘ ۔
اعتراضات: قبر کے ثواب و عذاب کے بارے میں بعض اشکالات و اعتراضات کئے گئے ھیں جن میں سے اکثر عذاب و ثواب کی کیفیت کے بارے میں ھیں، کہ اس میں ثواب و عذاب کی کیفیت کیا ھوگی، لیکن اس سلسلے میں تفصیل معلوم کرنا ھمارے اوپر واجب نھیں ھے، بلکہ اجمالی طور پر قبر کے ثواب و عذاب پر عقیدہ رکھنا واجب ھے، کیونکہ یہ ممکن امر ھے، اور معصومین علیھم السلام نے اس سلسلے میں بیان کیا ھے، اور تمام غیبی امور اسی طرح ھیں کیونکہ غیبی امور عالم ملکوت سے تعلق رکھتے ھیں جس کو ھماری عقل اور ھمارے حواس نھیں سمجھ سکتے۔
ھم یہاں پر عالم برزخ پر ھونے والے بعض اھم اعتراضات بیان کرکے قرآن و حدیث کے ذریعہ جوابات پیش کرتے ھیں:
۱۔ جب انسان کا بدن ھی روح تک عذاب پہنچنے کا وسیلہ ھے تو بدن سے روح نکلنے کے بعد انسان پر کس طرح عذاب یا ثواب ھوگا، جب کہ بدن بوسیدہ ھوچکا ھوگا۔
جواب: احادیث اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ خداوندعالم انسان کو منکر نکیر کے سوالات کے لئے دوبارہ زندہ کرے گا، اور اگر وہ مستحق نعمت ھے تو اس کو ھمیشہ کے لئے حیات دےدی جائے گی، اور اگر عذاب کا مستحق ھے تو بھی ھمیشہ کے لئے اس کو عذاب میں باقی رکھا جائے گا، عذاب ھونے والا بدن ،یھی دنیاوی بدن ھوگا یا اس بدن کے مثل ایک بدن ھوگا۔ احادیث میں ان دونوں کے سلسلے میں بیان کیا گیا ھے:
اول: یھی دنیاوی بدن زندہ کیا جائے گا: یعنی خداوندعالم انسان کی قبر میں اس کے بدن میں روح لوٹادے گا، اور متعدداحادیث اس بات پر دلالت کرتی ھیں، جیسا کہ حضرت رسول اکرم (ص)سے (ایک حدیث کے ضمن) مروی ھے کہ آنحضرت (ص)نے فرمایا:
”تعاد روحہ فی جسدہ ،ویاتیہ ملکان فیجلسانہ“۔[24]
”(انسان کی)روح اس کے بدن میں لوٹا دی جائے گی اور دو فرشتے اس کو بٹھاکر سوال و جواب کریں گے“۔
حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:
”فاذادخل حفرتہ ،ردت الروح فی جسدہ ،وجاء ہ ملکا القبر فامتحناہ“۔[25]
”جب انسان کو اس کی قبر میں اتاردیا جائے گا تو اس کی روح اس کے بدن میں واپس لوٹا دی جائے گی اور دو فرشتے اس کے امتحان کے لئے آئیں گے“۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”ثم یدخل ملکا القبر ،وھما قعیدا القبر منکر و نکیر ،فیقعد انہ و یلقیان فیہ الروح الی حقویہ“۔[26]
”۔۔۔ اس کے بعد قبر میںدومنکر و نکیر آئیں گے، اور قبر کے دونوں کناروں پر بیٹھیں گے اس کو بٹھائیں گے اور اس کے جسم میں ہنسلیوں تک روح داخل کردےں گے“۔
اسی وجہ سے کھاگیا ھے کہ قبر کی حیات ،حیات ِبرزخی اور ناقص ھے، اس میں زندگی کے تمام آثار نھیں ھوتے سوائے احساس درد و الم اور لذت کے، یعنی عالم برزخ میں روح کا بدن سے کمزور سا رابطہ ھوتا ھے، کیونکہ خداوندعالم قبر میں صرف اتنی زندگی عطا کرتا ھے جس سے درد و الم اور لذت کا احساس ھوسکے۔[27]
دوم: مثالی بدن کو عذاب یا ثواب دیا جائے گا: احادیث میں وارد ھوا ھے کہ
خداوندعالم انسان کے لئے عالم برزخ میں ایک لطیف جسم مثالی میں روح کو قرار دے گا، ایسا مثالی بدن جو دنیا کے بدن سے مشابہ ھوگا، تاکہ قبر میں اس سے سوالات کئے جاسکیں اور اس کو ثواب یا عذاب دیا جاسکے، پس اسی عالم میں روز قیامت تک کے لئے اس کو ثواب یا عذاب دیا جائے گا، اور روز قیامت اسی بدن میں انسان کی روح لوٹائی جائے گی۔[28]
ابو بصیر سے روایت ھے کہ میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے مومنین کی ارواح کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
”فی الجنة علی صورا بدانھم ،لورایتہ لقلت فلان“۔[29]
”جنت میں ان کی روح ان کے جسم میں لوٹائی جائے گی کہ اگر تم روح کو دیکھو گے تو کھوگے کہ یہ فلاں شخص ھے“۔
یونس بن ظبیان سے مروی ھے کہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا، تو آپ نے فرمایا: مومنین کی ارواح کے سلسلے میں لوگ کیا کہتے ھیں؟ تو میں نے کہا: کہتے ھیں : عرش کے نیچے پرندوں کے پوٹوں میں رہتی ھےں، اس وقت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”سبحان الله ! الموٴمن اکرم علی اللہ من ان یجعل روحہ فی حوصلة طیر۔یا یونس ،الموٴمن اذاقبضہ اللہ تعالیٰ صیر روحہ فی قالب کقالبہ فی الدنیا ،فیا کلون و یشربون ،فاذاقدم علیھم القادم عرفوہ بتلک الصورة التی کانت فی الدنیا“۔[30]
”سبحان اللہ! مومن خدا کے نزدیک اس سے کھیں زیادہ باعظمت ھے کہ اس کی روح کو پرندہ کے پوٹے میں رکھاجائے، اے یونس! جب خداوندعالم مومن کی روح قبض کرتا ھے تو اس کو دنیا کی طرح ایک قالب میں ڈال دیتا ھے، جس سے وہ کھاتا اور پیتا ھے، جب کوئی (دنیا سے جاتا ھے تو)اس کو پہچانتا ھے اور وہ اسی صورت میں رہتا ھے جس میں دنیا میں رہتا تھا“۔
اسی طرح امام صادق علیہ السلام سے ایک دوسری حدیث میں وارد ھوا ھے کہ آپ نے فرمایا:
”الموٴمن اکرم علی اللہ من ان یجعل روحہ فی حوصلة طیر،ولکن فی ابدان کابدانھم“۔۔[31]
”مومن خدا کے نزدیک اس سے کھیں زیادہ باعظمت ھے کہ اس کی روح کو پرندہ کے پوٹے میںرکھے، بلکہ انسان کی روح دنیا کی طرح ایک بدن میں ھوتی ھے“۔
اس کے علاوہ بھی بہت سی احادیث ھیں جو ھماری عرض کی ھوئی بات پر دلالت کرتی ھیں ۔[32]
قارئین کرام! مذکورہ باتوں کے پیش نظر احادیث میں بیان شدہ قبر کے ثواب و عذاب سے مراد عالم برزخ میں دوسری زندگی ھے جس میں انسان کی روح بدنِ مثالی میں قرار دی جائے گی ، لہٰذا آیات قرآن اور احادیث میں بیان شدہ روح کے مجرد ھونے اور عذاب و ثواب والا مسئلہ حل ھوجاتا ھے، کہ انسان کی روح مجرد بھی ھے لیکن اس پر عذاب و ثواب بھی ھوتا ھے اور اس کی روح پرواز بھی کرتی ھے اور اپنے اہل و عیال اور دوسروں کو دیکھتی بھی ھے۔
سائنس جسم مثالی کی تائید کرتا ھے :احضار روح کے ماہرین کے تجربوں سے اجسام مثالی کی حقیقت کا پتہ چلتا ھے جیسا کہ اس سلسلہ میں مشھور ماہرین کہتے ھیں: در حقیقت موت کچھ نھیں ھے مگر یہ کہ ایک مادی جسم سے دوسرے مادی جسم میں منتقل ھوجانا، لیکن وہ دوسرا (مادی جسم) اس دنیاوی جسم سے زیادہ واضح اور لطیف ھوتا ھے۔ ان کا یہ بھی عقیدہ ھے کہ روح کے لئے ایک بہت زیادہ شفاف اور لطیف مادہ ھوتا ھے ، لہٰذا اس پر مادہ کے قوانین جاری نھیں ھوسکتے۔[33]
کیا یہ باطل تناسخ نھیں ھے؟
بعض لوگوں نے گمان کیا ھے کہ انسان کی روح کا اس دنیاوی بدن سے جدا ھونے کے بعد اسی جیسے بدن میں چلاجانا یہ وھی باطل تناسخ ھے ، جو صحیح نھیں ھے، کیونکہ ضرورت دین اور اجماع مسلمین تناسخ کی نفی کرتے ھیں حالانکہ بہت سے متکلمین اور محدثین جسم مثالی کے قائل ھوئے ھیں، اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی احادیث میں بیان ھوا ھے، لیکن تناسخ کے قائل لوگوں نے اس کا انکار کیا ھے اور اسی وجہ سے معاد اور ثواب و عذاب کا انکار کرتے ھیں، کہتے ھیں کہ یہ روح دوبارہ اسی دنیا میں دوسرے بدن میں آجاتی ھے، لہٰذا قیامت کا کوئی وجود نھیں ھے، نیز یہ لوگ تناسخ کے ذریعہ خالق اور انبیاء علیھم السلام کا بھی انکار کرتے ھیں، نیز لازمہ تناسخ وظائف اور تکالیف کا بھی انکار کرتے ھیں، اور اسی طرح کی دوسری بے ھودہ باتیں ھیں[34]
۲۔ اس سلسلے میں دوسرا اعتراض یہ ھے کہ قبر میں کس طرح ثواب و عذاب ھوگا حالانکہ جنت یا دوزخ موجود نھیں ھے۔
جواب: وہ قرآنی آیات اور احادیث جن کو ھم نے قبر کے ثواب و عذاب کے دلائل کے عنوان سے بیان کیا ھے وہ اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ جنت اور دوزخ مخلوق (اور موجود)ھیں،اسی طرح امام صادق علیہ السلام سے مروی روایت بھی اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ جب آپ سے مومنین کی روحوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
”فی حجرات فی الجنة ،یاکلون من طعامھا ،و یشربون من شرابھا“۔[35]
”(مومنین کی روحیں) جنت کے بالا خانوں میں رہتی ھیں جنت کا کھانا کھاتی ھیں اور جنت کا شربت پیتی ھیں“۔
اسی طرح امام صادق علیہ السلام کی دوسری حدیث:
”ان ارواح الکفار فی نارجھنم یعرضون علیھا“۔[36]
”کفار کی ارواح کوجہنم کی آگ کی سیر کرائی جاتی ھے“۔
شیخ صدوق علیہ الرحمہ فرماتے ھیں: جنت و جہنم کے سلسلے میں ھمارا یہ عقیدہ ھے کہ یہ دونوں مخلوق ھیں اور ھمارے نبی اکرم ﷺمعراج کی شب جنت کی سیر فرماچکے ھیں، اور جہنم کو بھی دیکھ چکے ھیں، اور اس وقت تک انسان اس دنیا سے نھیں جاتا جب تک جنت یا دوزخ میں اپناٹھکانا،نہ دیکھ لے“۔[37]
علامہ خواجہ نصیر الدین طوسی علیہ الرحمہ فرماتے ھیں:آیات و روایات جنت و دوزخ کے مخلوق ھونے پر دلالت کرتی ھیں، (یعنی جنت و نار اس وقت بھی موجود ھیں) لہٰذا جو روایات اس مفھوم کے مخالف اور متعارض ھیں ان کی تاویل کی جائے گی، علامہ حلی علیہ الرحمہ نے اپنی شرح میں اختلاف کو بیان کرتے ھوئے فرمایاھے:لوگوں کے درمیان یہ اختلاف ھے کہ جنت و نار اس وقت موجود اور مخلوق ھیں یا نھیں؟ بعض لوگوں کا عقیدہ ھے کہ جنت و نار مخلوق شدہ ھیں اور اس وقت موجود ھیں، اس قول کو ابوعلی اختیار کرتے ھیں، لیکن ابو ہاشم اور قاضی قائل ھیں کہ غیر مخلوق ھے (یعنی اس وقت موجود نھیں ھے۔
پہلانظریہ رکھنے والوں نے درج ذیل آیات سے استدلال کیا ھے:
< اٴُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِینَ>[38]
”اور ان پرھیزگاروں کے لئے مھیا کی گئی ھے“۔
< اٴُعِدَّتْ لِلْکَافِرِینَ>[39]
”اور کافروں کے لئے تیار کی گئی ھے“۔
< یَاآدَمُ اسْکُنْ اٴَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ>[40]
”اے آدم تم اپنی بیوی سمیت بہشت میں رھاسھاکرو اور جہاں تمہارا جی چاھے“۔
<عِنْدَہَا جَنَّةُ الْمَاٴْوَی >[41]
”اسی کے پاس تو رہنے کی بہشت ھے“۔
جنة الماوی یھی دار ثواب ھے جو اس بات پر دلالت کرتا ھے کہ یہ اس وقت آسمان میں موجود ھے۔
ابو ہاشم نے اپنے نظریہ کے اثبات کے لئے درج ذیل آیت سے استناد کیا ھے:
<کُلُّ شَیْءٍ ہَالِکٌ إِلاَّ وَجْہَہ>[42]
”اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ھونے والی ھے “۔
چنانچہ ابوہاشم نے کھاھے کہ اگر اس وقت جنت موجود ھوتی تو اس (روز قیامت) کا ہلاک اور نابود ھونا ضروری ھوتا، لیکن یہ نتیجہ باطل ھے، چونکہ خداوندعالم فرماتا ھے:
< اٴُکُلُہَا دَائِمٌ>[43]
”اور اس کے پھل دائمی ھوںگے“۔
چنانچہ علامہ حلّی علیہ الرحمہ نے جواب دیتے ھوئے فرمایا: اس کے پھل دائمی ھونے کا مطلب یہ ھے کہ اس قسم کے پھل ھمیشہ رھیں گے، کیونکہ اس طرح کے پھل ھمیشہ پیدا ھوتے رھیں گے، اور جنت کے پھل کھانے سے ختم ھوجاتے ھیں لیکن خداوندعالم دوبارہ ان جیسے پھل پیدا کردیتا ھے، یہاں پر ہلاک ھونے کے معنی ”فائدہ پہنچانے سے رک جانا“ ھیں، بے شک مکلفین کے ہلاک ھونے سے جنت بھی غیر قابل انتفاع ھوجائے گی، پس اس معنی کے لحاظ سے جنت بھی ہلاک ھوجائے گی۔[44]

____________

[1] لسان العرب / ابن منظور ۔برزخ ،۳:۸۔
[2] تفسیر المیزان ۳ طباطبائی ۱:۳۴۹۔
[3] سورہٴ مومنون آیت۱۰۰۔
[4] تفسیرقمی ،ج۱،ص۱۹،بحارالانوار ۳ علامہ مجلسیۺ،ج۶،ص۲۱۸/۱۲۔
”برزخ سے مراد قبر ھے جس میں انسان کو قیامت تک کے لئے ثواب یا عذاب دیا جائے گا“۔
[5] امالی شیخ طوسی ۺ :۲۸/۳۱،بحارالانوار ۶:۲۱۸/۱۳۔
[6] نہج البلاغہ / صبحی الصالح :۳۴۰ /خطبہ نمبر (۲۲۱)۔
[7] اصول کافی /اکلینی۳:۲۳۶/۶۔
[8] علل الشرائع :۳۰۹/۴امالی الصدوق :۴۶۸/۶۲۳،امالی شیخ طوسی ۺ :۴۲۷/۹۵۵۔
[9] ثواب الاعمال ،شیخ صدوق:۱۹۷۔منشورات الرضی ۔قم ،علل الشرائع ،شیخ صدوق:۳۰۹/۳،امالی الصدوق :۶۳۲/۸۴۵۔
[10] اصول کافی /الکلینی۳:۲۳۲/۱و۲۳۶/۷و ۲۳۸/۱۰و ۲۳۹/۱۲،الاعتقاد ات ،شیخ صدوق:۵۸ ،تصحیح الاعتقاد / المفید :۹۹۔۱۰۰،شرح الموقف / الجرجانی ۸:۳۱۷۔۳۲۰۔
[11] امالی شیخ صدوق:۳۷۰/۴۶۴۔
[12] کشف المراد / العلامہ الحلی :۴۵۲،المسائل السرویہ /المفید :۶۲۔مسالة (۵)،الاربعین ۳ ،البہائی: ۲۸۳ و۳۸۷،حق الیقین ۳ عبد اللہ شبر ۲:۶۸۔
[13] سورہٴ غافر آیت ۴۵۔۴۶۔
[14] تفسیر المیزان / علامہ طباطبائی ۱۷:۳۳۵۔
[15] مجمع البیان ۳ الطبرسی ۸:۸۱۸۔
[16] سورہٴ طہ آیت۱۲۴۔
[17] ا ربعین ، شیخ بہائی :۴۸۸۔
[18] شرح ابن ابی الحدید ۶:۶۹۔داراحیاء الکتب العربیہ ۔مصر ،امالی شیخ طوسی ۺ :۲۸/۳۱۔
[19] اصول کافی /الکلینی ۳:۲۳۱۔۲۳۹،۲۴۴۔۲۴۵و۲۵۳/۱۰،المحاسن / البرقی :۱۷۴۔۱۷۸۔ دارالکتب الاسلامیہ ۔قم ،بحارالانوار / مجلسی ۶:۲۰۲باب(۸)،سنن النسائی ۴:۹۷۔۱۰۸۔کتاب الجنائز ۔ دارالکتاب العربی ۔بیروت ،کنزل العمال/ المتقی الہندی ۱۵:۶۳۸و غیرھا۔
[20] سنن الترمذی ۴:۶۴۰/۴۶۰۔کتاب صفة القیامة ۔داراحیاء التراث العربی ۔بیروت ،حیاء علوم الدین/ الغزالی ۵:۳۱۶۔
[21] امالی شیخ طوسی ۺ :۲۸/۳۱۔
[22] سورہٴ مومنون آیت۱۰۰۔
[23] الخصال ،شیخ صدوق:۱۲۰/۱۰۸۔
[24] درالمنثور ۳ ا،سیوطی ،ج۵،ص۲۸۔
[25] ا صول کافی ،شیخ کلینی،ج ۳ص۲۳۴/۳۔
[26] ا صول کافی /الکلینی ۳:۲۳۹/۱۲۔
[27] اربعین ،شیخ بہائی :۴۹۲۔
[28] اوائل المقالات ،شیخ مفید :۷۷،تصحیح الاعتقاد ،شیخ مفید۸۸۔۸۹،المسائل السرویہ،شیخ مفید: ۶۳۔ ۶۴۔ المسالة (۵)،الاربعین ، شیخ بہائی :۵۰۴۔
[29] تہذیب ، شیخ طوسی ۺ،ج ۱،ص۴۶۶/۱۷۲۔
[30] تہذیب ، شیخ طوسی ۺ ۱:۴۶۶/۱۷۱،الکافی /الکلینی ۳:۳۴۵/۶۔
[31] اصول کافی /الکلینی ۳:۲۵۵/۱
[32] اصول کافی /الکلینی ۳:۲۴۴/۳و۳۴۵/۷۔
[33] دائرة معارف القرن العشرین /وجدی ۴:۳۷۵۔
[34] حق الیقین /عبد اللہ شبر ۲:۵۰،الاربعین / البہائی :۵۰۵،بحارالانوار ۶:۲۷۱و۲۷۸۔
[35] اصول کافی /الکلینی ۳:۲۴۴/۴۔
[36] ا صول کافی /الکلینی ۳:۲۴۵/۲۔
[37] الاعتقادات ،شیخ صدوق:۷۹۔
[38] سورہٴ آل عمران آیت۱۳۳۔
[39] سورہٴ بقرة آیت۲۴۔
[40] سورہٴ بقرة آیت۳۵۔
[41] سورہٴ نجم آیت۱۵۔
[42] سورہٴ قصص آیت۸۸۔
[43] سورہٴ رعد آیت۳۵۔
[44] کشف المراد / العلامہ الحلی :۴۵۳،رجوع کریں: شرح المواقف / الجرجانی ۸:۳۰۱۔۳۰۳۔

موت زندگی کا آغاض ہے۔

جو موت ہو زندگی کی خاطر
وہ زندگی کا کمالِ فن ہے

از احمد ندیم قاسمی

کل نفس ذائقہ الموت
ہر شخص نے موت کا زائقہ چھکناہے
موت زندگی کی شام کا نام ہے ۔موت اس عارضی زندگی سے اخروی زندگی میں‌ داخل ہونے کا نام ہے ۔اس بارے میں شاعر نے کیا ہے
موت کو سمجھے ہیں‌غافل اختتام زندگی
ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موت آئی اور زندگی ختم ہو گئی ایسا نہیں‌ہے موت سے زندگی ختم نہیں‌ہوتی بلکہ زندگی کو دوام ملتاہے ۔
میں نے بار ہا اس موضوع پر غور کیا کہ
“موت“ کیا ہے؟
اس سے زندگی کا کیا رشتہ ہے؟
ایک دفعہ میں‌نے ایک سمندری جہاز دیکھا، جب وہ ساحل سے دور ہوا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا تو لوگوں نے کہا کہ “چلا گیا“۔ میں نے سوچا دور ایک بندر گاہ ہو گی، وہاں یہی جہاز دیکھ کر لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ “آ گیا“
شاید اسی کا نام موت ہے، ایک پرانی زندگی کا خاتمہ اور نئی زندگی کی ابتداء۔۔۔(خلیل جبران)


زندگی اور موت کے فلسفے میں یہ دو اشعار لاجواب ہیں:-
زندگی کیا ہے، عناصر کا ظہورِ ترکیب
موت کیا ہے، انہی اجزاء کا پریشاں ہونا
(خلیل جبران)

انسان کی زندگی کی تین اقسام ہیں :

1- دنیاوی زندگی جو کہ موت سے ختم ہو جاتی ہے ۔

2- برزخی زندگی جو کہ موت کے بعد قیامت تک ہے ۔

3- آخروی زندگی جو کہ لوگوں کے قبروں سے نکلنے کے بعد جنت کی طرف جانا اللہ تعالی سے ہم اس کا فضل مانگتے ہیں اور پا پھر آگ کی طرف جانا اس سے اللہ تعالی اپنی پناہ میں رکھے ۔

برزخی زندگی جو کہ انسان کی موت کے بعد سے لے کر دوبارہ اٹھنے تک ہے اگرچہ وہ قبر میں جائے یا اسے وحشی جانور کھا جائیں یا پھر وہ جل جائے اس زندگی کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو اپنے گھر والوں کے پاؤں کی آہٹ سنتی ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ۔

تو یہ زندگی یا تو نعمتوں والی ہو گی اور یا پھر آگ سے بھر پور اور قبر بھی یا تو جنت کے باغات میں سے ایک باغ اور یا پھر آگ کے گڑہوں میں سے ایک گڑھا ہو گی ۔

اور اس زندگی میں عذاب اور نعمتوں کی دلیل فرعون کے متعلق اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے :

( آگ کے سامنے یہ ہر صبح اور شام لآئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گی ( فرمان ہو گا ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو ) غافر / 46

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : آل فرعون اور کفار میں سے جو بھی اس جیسا ہو ان کی روحیں صبح اور شام آگ کی طرف لے جائی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ تمہارا گھر ہے ۔

ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اہل سنت کے استدلال کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ برزخی زندگی میں قبر کے اندر عذاب ہوتا ہے ۔ تفسیر ابن کثیر ( 4/ 82)

امام قرطبی کا فرمان ہے کہ : بعض اہل علم نے اس آیت سے عذاب قبر پر استلال کیا ہے :

( آگ کے سامنے یہ ہر صبح اور شام لآئے جاتے ہیں )

اور اسی طرح مجاہد اور عکرمہ اور مقاتل اور محمد بن کعب رحمہم اللہ سب نے یہی کہا کہ یہ آیت عذاب قبر پر دلالت کرتی ہے کیا آپ یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالی نے آخرت کے عذاب کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ:

( اور جس دن قیامت قائم ہو گی (فرمان ہو گا ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو ) تفسیر قرطبی (15/ 319)

اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

( تم میں جب کوئی فوت ہوتا ہے تو اس پر صبح اور شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے تو جو شخص جنتی ہو اسے جنت کا اور جو جہنمی ہو اسے جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے )

صحیح بخاری (بدء الخلق حدیث نمبر 3001) صحیح مسلم (الجنۃ وصفۃ نعیمہا حدیث نمبر 2866)

عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے پاس ایک یہودی عورت آئی تو اس نے عذاب قبر کا ذکر کیا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہنے لگی کہ اللہ تعالی آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عذاب قبر کے متعلق سوال کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں عذاب قبر ہے عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے دیکھا ۔

صحیح البخاری ( الجنائز حدیث نمبر 1283) صحیح مسلم ( الکسوف حدیث نمبر 903)

مندرجہ بالا آیات اور احادیث سے عذاب قبر کا ثبوت ملتا ہے اور ان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کو عذاب مسلسل مل رہا ہے ۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی عذاب قبر کے متعلق فرماتے ہیں کہ :

اگر انسان کافر ہے اللہ تعالی اس سے بچا کے رکھے تو وہ کبھی بھی نعمتوں کو نہیں پا سکتا اور اسے مسلسل عذاب ہو گا لیکن اگر وہ مومن اور گنہگار ہے تو اسے قبر میں عذاب اس کے گناہ کے حساب سے ہو گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسے اس برزخ سے جو کہ اس کی موت اور قیامت تک ہے گناہوں کا عذاب کم ہو تو اس وقت منقطع ہو گا ۔


شراب ,جوا, زن و شوہر ,نکاح,اور مشرک

سورة البَقَرَة

(اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (۲۱۹) (یعنی) دنیا اور آخرت (کی باتوں) میں (غور کرو)۔ اور تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے۔ اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکھٹا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون۔ اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا۔بےشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے (۲۲۰)اور (مومنو) مشرک عورتوں سے جب تک کہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا۔ کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے اس سے مومن لونڈی بہتر ہے۔ اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو ان کو زوجیت میں نہ دینا کیونکہ مشرک (مرد) سے خواہ وہ تم کو کیسا ہی بھلا لگے مومن غلام بہتر ہے۔ یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں (۲۲۱) اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ تو نجاست ہے۔ سو ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو۔ اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو۔ ہاں جب پاک ہوجائیں تو جس طریق سے خدا نے ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ۔ کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے (۲۲۲) تمہاری عورتیں تمہارای کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ۔ اور اپنے لئے (نیک عمل) آگے بھیجو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (ایک دن) تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے اور (اے پیغمبر) ایمان والوں کو بشارت سنا دو (۲۲۳) اور خدا (کے نام کو) اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اس کی) قسمیں کھا کھا کر سلوک کرنے اورپرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے (۲۲۴) خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہ کرے گا۔ لیکن جو قسمیں تم قصد دلی سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا۔ اور خدا بخشنے والا بردبار ہے (۲۲۵) جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے سے قسم کھالیں ان کو چار مہینے تک انتظار کرنا چاہیئے۔ اگر (اس عرصے میں قسم سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے (۲۲۶) اور اگر طلاق کا ارادہ کرلیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے (۲۲۷) اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے رہیں۔ اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کا جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے (۲۲۸) طلاق (صرف) دوبار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دے دی جائے تو) پھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائستہ (نکاح میں) رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا۔ اور یہ جائز نہیں کہ جو مہر تم ان کو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ خدا کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا۔ اور جو لوگ خدا کی حدوں سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے (۲۲۹) پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی۔ ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے اورعورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں (۲۳۰) اور جب تم عورتوں کو (دو دفعہ) طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھوکہ خدا ہر چیز سے واقف ہے (۲۳۱) اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (۲۳۲) اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔ اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا۔ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی (تو یاد رکھو کہ) نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور اسی طرح (نان نفقہ) بچے کے وارث کے ذمے ہے۔ اور اگر دونوں (یعنی ماں باپ) آپس کی رضامندی اور صلاح سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا کیا تھا دے دو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے (۲۳۳) اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے (۲۳۴) اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے۔ مگر (ایام عدت میں) اس کے سوا کہ دستور کے مطابق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پر ان سے قول واقرار نہ کرنا۔ اور جب تک عدت پوری نہ ہولے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا۔ اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا بخشنے والا اور حلم والا ہے (۲۳۵)اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگدست اپنی حیثیت کے مطابق۔ نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے (۲۳۶) اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا۔ ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں۔ (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ ہ اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے۔ اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے (۲۳۷) (مسلمانو) سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز (یعنی نماز عصر) پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اور خدا کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو (۲۳۸) اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو پیادے یا سوار (جس حال میں ہو نماز پڑھ لو) پھر جب امن (واطمینان) ہوجائے تو جس طریق سے خدا نے تم کو سکھایا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے خدا کو یاد کرو (۲۳۹) اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کرجائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں۔ ہاں اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا زبردست حکمت والا ہے (۲۴۰) اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان و نفقہ دینا چاہیئے پرہیزگاروں پر (یہ بھی) حق ہے (۲۴۱) اسی طرح خدا اپنے احکام تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو (۲۴۲) بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے۔ تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ۔ پھر ان کو زندہ بھی کردیا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے (۲۴۳) اور (مسلمانو) خدا کی راہ میں جہاد کرو اور جان رکھو کہ خدا (سب کچھ) جانتا ہے (۲۴۴) کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کے بدلے اس کو کئی حصے زیادہ دے گا۔ اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے (۲۴۵) بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو۔ وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے (خارج) اور بال بچوں سے جدا کردیئے گئے۔ لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھر گئے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے (۲۴۶) اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہےبادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نےاس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے (۲۴۷) اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے (۲۴۸) غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ) وہ میرا نہیں۔ اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے (تو خیر۔ جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے۔ تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے (۲۴۹) اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتحیاب کر (۲۵۰) تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا۔ اور خدا نے اس کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا۔ اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے ہٹاتا نہ رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے (۲۵۱) یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمدﷺ) تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو (۲۵۲) یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتاً بھیجتے رہیں ہیں) ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ بعض ایسے ہیں جن سے خدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے امور میں) مرتبے بلند کئے۔ اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس سے ان کو مدد دی۔ اور اگر خداچاہتا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاس کھلی نشانیاں آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض تو ایمان لے آئے اور بعض کافر ہی رہے۔ اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے۔ لیکن خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے (۲۵۳) اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہو سکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں (۲۵۴) خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہیں سب اسی کا ہے کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اس کی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے (۲۵۵) دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے (۲۵۶) جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (۲۵۷) بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا نے اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجیئے (یہ سن کر) کافر حیران رہ گیا اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا (۲۵۸)یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے)رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے (۲۵۹) اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔ خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ لیکن (میں دیکھنا) اس لئے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان کامل حاصل کرلے۔ خدا نے فرمایا کہ چار جانور پکڑوا کر اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھوا دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے۔ اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے۔ (۲۶۰) جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے (۲۶۱) جو لوگ اپنا مال خدا کے رستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس (تیار) ہے۔ اور (قیامت کے روز) نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے (۲۶۲) جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بے ادبی سے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپروا اور بردبار ہے (۲۶۳)مومنو! اپنے صدقات (وخیرات)احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا (۲۶۴) اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو(جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے۔ اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے (۲۶۵) بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو) (۲۶۶) مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہوں اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سےنکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو۔ اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت) آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو۔ اور جان رکھو کہ خدا بےپروا (اور) قابل ستائش ہے (۲۶۷) (اور دیکھنا) شیطان (کا کہنا نہ ماننا وہ) تمہیں تنگ دستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کر نے کو کہتا ہے۔ اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے۔ اور خدا بڑی کشائش والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے (۲۶۸) وہ جس کو چاہتا ہے دانائی بخشتا ہے۔ اور جس کو دانائی ملی بےشک اس کو بڑی نعمت ملی۔ اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں (۲۶۹) اور تم (خدا کی راہ میں) جس طرح کا خرچ کرو یا کوئی نذر مانو خدا اس کو جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں (۲۷۰) اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اس طرح کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا۔ اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے (۲۷۱) (اے محمدﷺ) تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور (مومنو) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لئے کرو گے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا، (۲۷۲) (اور ہاں تم جو خرچ کرو گے تو) ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے (۲۷۳) جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم (۲۷۴) جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سودا بیچنا بھی تو (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ تو جس شخص کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا۔ اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں (جلتے) رہیں گے (۲۷۵) خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا (۲۷۶) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہے ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کچھ خوف ہوا اور نہ وہ غمناک ہوں گے (۲۷۷) مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو (۲۷۸) اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور تمہارا نقصان (۲۷۹) اور اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو توتمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو (۲۸۰) اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا۔ اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا (۲۸۱)مومنو! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لئے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے۔ اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے۔ اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی۔ اور جب گواہ (گواہی کے لئے طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں۔ اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں کاہلی نہ کرنا۔ یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لئے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے۔ اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وہ شبہ بھی نہیں پڑے گا۔ ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھوتو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور جب خرید وفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو۔ اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں کا) کسی طرح نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے (۲۸۲) اور اگر تم سفر پر ہواور (دستاویز) لکھنے والا مل نہ سکے تو (کوئی چیز) رہن یا قبضہ رکھ کر (قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہیئے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کردے اور خدا سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے۔اور (دیکھنا) شہادت کو مت چھپانا۔ جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے (۲۸۳) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے (۲۸۴) رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی۔ سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اورکہتے ہیں کہ) ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔ اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے (۲۸۵) خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے ان کا نقصان پہنچے گا۔ اے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مؤاخذہ نہ کیجیو۔ اے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو۔ اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما (۲۸۶)

اولیا اور انبیاٴ علیہ السلام کی نصیحتیں.

  • کم بولنا حکمت ہے ، کم کھانا صحت ، کم سونا عبادت ، اور عوام سے کم ملنا عافیت ہے ۔.حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہُ. ،
  • بےکاربولنے سے منہ بند رکھنا بھتر ہے۔شيخ سعدي شيرازي
  • جہاں تک ہو سکے لوگوں سے دور رہ، تاکہ تیرا دل سلامت اور نفس پاکیزا رہے.  حضرت لقمان علیہ السلام.
  • زیادہ سنو اور کم بولو۔ .  حضرت لقمان علیہ السلام.

  • کثیرا فہم اور کم سخن بنا رہ، اور حالت خاموشی میں بے  فکر مت رہ۔ .  حضرت لقمان علیہ السلام.
  • دوسروں کے عیب پوشیدہ رکھ  تاکہ خدا تیرے عیب بھی پوشیدہرکھے. حضرت خواجہ سراالدین۔
  • جو شخص خاموش رہتا ہے، وہ بہت دانا ہے، کیوں کہ کثرت کلام سے کچھ نہ کچھ گناہ سر ذد ہو جاتے ہیں۔ حضرت سلیمان
  • زبان سے بری بات نہ کرو، کان سے برے الفاظ نہ سنو،  آنکھوں سے بری چیزیں نہیں دیکھو,  ہاتھ سے بری چیزیں نہیں چھوٴو, پیر سے بری جگہ نہیں جاو, ور دل سے اللہ کو یاد کرو۔ حضرت ابو بکر
  • خاموشی نعمت ہے، درگزر جہاد ہے،غریب پروری زاراہ ہے۔ . حضرت خواجہ محمد اسد ہاشمی۔
  • جب راستہ چلو ،تو دائیں بائیں نہیں جھانکا کرو۔  نظر ہمیشہ نیچےاور  سامنے رکھو۔۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ
  • بازاوں میں زیادہ نہ پھرو، نہ چلتےچلتے راستے میں کوئی چیز کھاو۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ۔
  • زبان کی حفاضت کرو،کیوں کہ یہ ایک بہرین خصلت ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہُ
  • اچھے لوگوں کی صحبت اخیار کرو، اس سے تمھارے اعمال اچھے ہو جاہیں گے۔ ابن جوزی رحمت اللہ علیہ
  • برے لوگوں کی صحبت نیک لوگوں سے بدگمانی پیدا کرتی ہے، جب کہ  نیک لوگوں کی صحبت برے لوگوں کیلیئے بھی نیک گمان پیدا کرتی ہے. حضرت  بشر حائی.

where you want to see yourself in next five years?

yes this question was asked by interviewer yesterday.

and i couldn’t give him the right answer that was in my mind.

I wanna see myself with my kids and husband in next five years, and i see myself as a great house wife. not a working women.

for few sec i got silent, what to reply him. then suddenly project manager came in my mind, because i did PMP training, and after doing that it was one of my goal…. to become pm, only in case i ddnt get married.

……………….

……………………………………….

مومنو! ان لوگوں سے جن پر خدا غصے ہوا ہے دوستی نہ کرو

سورة المُمتَحنَة

شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

مومنو! اگر تم میری راہ میں لڑنے اور میری خوشنودی طلب کرنے کے لئے (مکے سے) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم تو ان کو دوستی کے پیغام بھیجتے ہو اور وہ (دین) حق سے جو تمہارے پاس آیا ہے منکر ہیں۔ اور اس باعث سے کہ تم اپنے پروردگار خدا تعالیٰ پر ایمان لائے ہو پیغمبر کو اور تم کو جلاوطن کرتے ہیں۔ تم ان کی طرف پوشیدہ پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔ اور جو کچھ تم مخفی طور پر اور جو علیٰ الاعلان کرتے ہو وہ مجھے معلوم ہے۔ اور جو کوئی تم میں سے ایسا کرے گا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا (۱) اگر یہ کافر تم پر قدرت پالیں تو تمہارے دشمن ہوجائیں اور ایذا کے لئے تم پر ہاتھ (بھی) چلائیں اور زبانیں (بھی) اور چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہوجاؤ (۲) قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناتے کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ اس روز وہی تم میں فیصلہ کرے گا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھتا ہے (۳) تمہیں ابراہیم اور ان کے رفقاء کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ ہم تم سے اور ان (بتوں) سے جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو بےتعلق ہیں (اور) تمہارے (معبودوں کے کبھی) قائل نہیں (ہوسکتے) اور جب تک تم خدائے واحد اور ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کھلم کھلا عداوت اور دشمنی رہے گی۔ ہاں ابراہیمؑ نے اپنے باپ سے یہ (ضرور) کہا کہ میں آپ کے لئے مغفرت مانگوں گا اور خدا کے سامنے آپ کے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے پروردگار تجھ ہی پر ہمارا بھروسہ ہے اور تیری ہی طرف ہم رجوع کرتے ہیں اور تیرے ہی حضور میں (ہمیں) لوٹ کر آنا ہے (۴) اے ہمارے پروردگار ہم کو کافروں کے ہاتھ سے عذاب نہ دلانا اور اے پروردگار ہمارے ہمیں معاف فرما۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے (۵) تم (مسلمانوں) کو یعنی جو کوئی خدا (کے سامنے جانے) اور روز آخرت (کے آنے) کی امید رکھتا ہو اسے ان لوگوں کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے۔ اور روگردانی کرے تو خدا بھی بےپرواہ اور سزاوار حمد (وثنا) ہے (۶) عجب نہیں کہ خدا تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم دشمنی رکھتے ہو دوستی پیدا کردے۔ اور خدا قادر ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے (۷) جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا۔ خدا تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے (۸) خدا ان ہی لوگوں کے ساتھ تم کو دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی۔ تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں (۹) مومنو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرلو۔ (اور) خدا تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ سو اگر تم کو معلوم ہو کہ مومن ہیں تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو۔ کہ نہ یہ ان کو حلال ہیں اور نہ وہ ان کو جائز۔ اور جو کچھ انہوں نے (ان پر) خرچ کیا ہو وہ ان کو دے دو۔ اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو مہر دے کر ان سے نکاح کرلو اور کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو (یعنی کفار کو واپس دے دو) اور جو کچھ تم نے ان پر خرچ کیا ہو تم ان سے طلب کرلو اور جو کچھ انہوں نے (اپنی عورتوں پر) خرچ کیا ہو وہ تم سے طلب کرلیں۔ یہ خدا کا حکم ہے جو تم میں فیصلہ کئے دیتا ہے اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے (۱۰) اور اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمہارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے (اور اس کا مہر وصول نہ ہوا ہو) پھر تم ان سے جنگ کرو (اور ان سے تم کو غنیمت ہاتھ لگے) تو جن کی عورتیں چلی گئی ہیں ان کو (اس مال میں سے) اتنا دے دو جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا اور خدا سے جس پر تم ایمان لائے ہو ڈرو (۱۱) اے پیغمبر! جب تمہارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کو آئیں کہ خدا کے ساتھ نہ شرک کریں گی نہ چوری کریں گی نہ بدکاری کریں گی نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی نہ اپنے ہاتھ پاؤں میں کوئی بہتان باندھ لائیں گی اور نہ نیک کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لئے خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے (۱۲) مومنو! ان لوگوں سے جن پر خدا غصے ہوا ہے دوستی نہ کرو (کیونکہ) جس طرح کافروں کو مردوں (کے جی اُٹھنے) کی امید نہیں اسی طرح ان لوگوں کو بھی آخرت (کے آنے) کی امید نہیں (۱۳)

dayar-e-nur mein tera shabon ka sathi ho

dayar-e-nur mein tera shabon ka sathi ho
koi to ho jo meri wahshaton ka sathi ho

main us se jhuth bhi bolun to mujh se sach bole
mere mizaj k sab mosamon ka sathi ho

wo mere nam ki nisbat se motabar thehre
gali gali meri ruswaiyon ka sathi ho

main us k hath na aon wo mera ho k rahe
main gir parun to meri pastiyon ka sathi ho
wo khwab dekhe to dekhe mere hawale se
mere khayalon k sab manzaron ka sathi ho

Luck / Qismat / Taqdeer / Naseeb نصیب

Luck / Qismat / Taqdeer / Naseeb

کنفیوشش نے کہا تھا ”اگر ہم زندگی کو نہیں جانتے تو ہم موت کو کیسے جان سکتے ہیں۔ زندگی بہت سادہ ہے مگر ہم مسلسل اُسکو مشکل ترین بنانے پر زور دیتے ہیں۔“

اپنی محرومی کو بدنصیبی سمجھ لینے والوں،محرومی تو عطاءکاجوڑ اہے۔رات دن، اندھیرااُجالا، مایوسی امید، سزا جزا کی طرح محرومی اور عطاءکا یہ جوڑ نصیب ہے۔

شہرت ہر کسی کا نصیب نہیں ہوا کرتی۔ نصیب توسب کا ہوتا ہے مگر کامل نصیب کوئی کوئی ہوتا ہے۔لوگ تقدیر کے بہانوں کی تلاش میں ہیں۔ مقدر کے حسن کو مقدر کے لکھے پہ ٹھوکر مارتے ہیں۔ نصیب والا نصیب سے ناراض ہے، مقدر والا مقدر سے خوش نہیں۔خداکی قدرت دیکھیئے،وُہ ذات قدیر بھی ہے اور باعث توقیر بھی، مگر انسان جانتے یا نہ جانتے ہوئے اُس ذات قدیم سے اختلاف کی جسارت کر ڈالتا ہے۔

حسن دیکھیئے! انسان اپنے آپ سے خوش نہیں دراصل وُہ اللہ سے خوش نہیں۔ درویش اللہ کی راہ میں اپنی مرضی چھوڑ کر درویشی اختیار کرتا ہے۔ بس یہی نکتہ اللہ والوں کو ہر حال مطمئن رکھتا ہے۔ یہی نقطہ ہمیں (مادی خواہشات والوں کو)ہر حال بے چین بھی رکھتا ہے۔

انسان آسودہ حال زندگی کے لیئے نہ جانے کتنے جتن کرتا ہے مگر ناکام و نامراد رہا۔ ایک لمحہ میں کسی کی رفاقت زندگی گزارنے کا نظریہ بدل دیتی ہے۔ یہ نگاہ کرم ہے جو مقدر میں لکھا، نصیب بن گیا۔ قسمت کو الزام دینے والا ، دوشی سے دھنی بن گیا۔

تقدیر پہ بحث کرنے والا، قدیر کی ذات سے باخبر نہیں۔ خبر کی بات میں ایسی بے خبری محسوس ہوتی ہے ، جیسے کسی کی خیر نہیں۔ مخیر تو اس بات کا قادر ہے کہ ہر عمل میں خیر ہی خیر ہے۔

تمام زمانوں کی خبر رکھنے والا ہی آنے والے دور کی پیش گوئی کے انداز میں خبر کی مخبری بھی دیتا ہے۔ انسان اللہ کی مرضی کے آگے بند باندھتا ہے مگر باوجود اِس کے مقدر پھر بھی نہ بدلا۔ مشیت الٰہی ہو کہ رہتی ہے۔ بدل نہیں جایا کرتی۔ اسی طرح فرعون نے ایک خواب دیکھا، تعبیر معلوم کی اور تدبیر بھی بنائی مگر تقدیر جو لکھی تھی ، وُہ ہو کہ رہی۔ یہاں نصیب دیکھیئے ، ایک گروہ اللہ پر یقین رکھنے والا ، حالت ظلم میں بھی مطمئن، صابر اور شاکر رہا، دوسرا گروہ ظلم ڈھا کر بھی خوف میں مبتلارہا۔اللہ پر یقین رکھنے والے اللہ کی مرضی کے آگے جھک جایا کرتے ہیں ، تراکیب سوچا نہیں کرتے۔ منصور حسین بن حلاج ؒکا نصیب خود ایک منصب ٹھہرا۔

ہر بندے کا اپنا اپنا نصیب ہے، کسی کا نصیب زمانے میں عزت کا مقام حاصل کرنا ہے، کوئی دولت کا نمائندہ بنتا ہے، کسی کو علم کی میراث ملتی ہے، کوئی اُولاد کی نعمت سے مالا مال ہے، کسی کو زبان کا ملکہ حاصل ہوا تو کسی کو قلم کی طاقت نصیب ہوئی۔کبھی اللہ کی جانب سے دی ہوئی صلاحیت کا ہنر نصیب بنا تو کہیں اللہ کی عطاءکی ہوئی رحمت نصیب بنی، اللہ کے توسل سے لوگوں کا عطاءکیا گیا رویہ، مرتبہ، مقام بھی نصیب ہی ٹھہرا۔ کیسے کہہ سکتا ہے کوئی انسان کہ اُسکا نصیب نہیں؟ نصیب پہچان ہے۔ جیسے ہر فرد کا نام ہے، اُس کا کردار ہے، ایک نام والدین رکھتے ہیں آپکا اسم ِمبارک، ایک نام معاشرہ دیتاہے ،آپکا کردار، ایک پہچان اللہ آپکو عطاءکرتا ہے، نصیب۔ آج انسان اپنے نام سے بھاگتا ہے، معاشرہ جو پہچان دیتا ہے اُس سے فرار ہو کرکسی اور لیبل کے لگوانے کی تگ و دو میں ہے، اور جو نام اللہ عطاءکرتا ہے اُسکے باوجود دوسرے نام ”ارتھا“ کے پیچھے بھاگتے ہیں۔نصیب ہمارا اپنے پاس ہے ہم تلاش کہیں اور کرتے ہیں۔

زندگی میں سوال ہی سوال، جواب کی تلاش میں سوال ہے۔ سوال آپکا اپنا ہو تو جواب خود بخود دورانِ تلاش ہی مل جاتا ہے۔ جواب دِل میں رکھ کر سوال کی تلاش کرنا سوال کی بے حرمتی ہے۔ بہر کیف ایسے سوال سائل کو بھٹکا دیا کرتے ہیں۔

ہم تقدیر کے نام پہ تقدیر سے اُلجھ پڑتے ہیں، یونہی کچھ سوال اپنے آغاز سے ہی بے بنیاد ہوتے ہیں۔ تقدیر، قسمت، نصیب اور مقدر جیسے الفاظ کا استعمال کر کے شکوہ کرنا مناسب نہیں۔ شکوہ اگر حق ہے تو جواب ِشکوہ برحق۔ ضرور سوچ لیجیئے شکوہ کے جواب کی تاب لاسکیں گے۔ مشیت الہٰی پہ اعتراض ، اللہ کے فیصلہ سے انکار ہو سکتا ہے۔ اللہ سے ناراضگی کی بات تو کرتے ہیں مگر اللہ کی ناراضگی کا تاپ برداشت کر سکیں گے۔ اُس نے آپکو بھیجا ہے، اس دُنیا میں تو اُسکے پروگرام کو تسلیم کر لیں۔ اُلجھیئے مت، ورنہ اُلجھتے رہے گے۔ ہونا تو وہی ہے ، جو منظور خدا ہے۔

لوگ عہدوں کو اپنا نصیب سمجھتے ہیں، اختیار زمانہ کو اپنا مقدر جانتے ہیں۔ تقدیر کے نام پہ خود کو مالک تقدیر سمجھتے ہیں۔ قسمت کے دھنی کہلانے والوں، نصیب ایسے نہیں ہوا کرتے ہیں۔ چہرہ کی طرح ہر بندے کا نصیب طے ہیں، یہی چہرہ کی تاثیر ہے۔ جدا جدا تاثیر میں چہرہ پُر تاثیر۔ یونہی نصیب بھی پُر اثر انگیز ہے۔ اللہ والوں کا نصیب اور ہے، اختلاف رکھنے والوں کا نصیب اور، آسودہ حال چہرہ اور پریشان حال چہرہ نصیب ہی ہیں۔ رضائے الٰہی کی کوشش ہر نصیب والے کو بانصیب فرماتی ہے، بے نصیب کوئی نہیں ہوا کرتا۔

نصیب امارت نہیں، مطمئن حال رہنا ہے۔ ایسا نہیں تو نصیب آپکا تو ہے مگر آپ خود نصیب کے نہیں۔ جس میں حال صرف بے حال ہونا ہی ہے۔ حل اتنا ہی ہے کہ ذات باری تعالیٰ پر یقین بحال کرو۔

تجھے کام کرنا ہے او مردِ کار
نہیں اُس کے پھل پر تجھے اختیار
کئے باعمل اور نہ ڈھونڈ اُس کا پھل
عمل کر عمل کر نہ ہو بے عمل(۱)
(فرخ نور)
حوالہ جات:
(۱)۔ دِل کی گیتا اُردو نظم میں(شریمد بھگوت گیتا، (دوسرا ادھیائے،شلوک۷۴)) از خواجہ دِل محمد ایم اے
کنفیوشش:(چھٹی صدی قبل مسیح ) چین میں جنم لینے والے مذاہب میں سے ایک مذہب کنفیوشش مت کا بانی۔ جس نے اخلاقی فلسفہ اور ریاست کے بہترین نظم و نسق کے ساتھ ساتھ عقائد کے اعتبار سے چینی عوام کو ایک نظریہ فکر عطاءکیا۔ شمالی ایشیائی ممالک میںجنم لینے والے تمام مذاہب اخلاقی فلسفہ سے بڑھ کر بات نہیں کرتے۔

جگ درشن کا میلا

‘اڑ جآئے گا ہنس اکیلا
جگ درشن کا میلا’

is jag me jo is jag k darshan karny k liye jita ha wo apni aany wali haqeeqi zindagi par zulm karta ha.

jo musalman sari dunia k logo ko acha kehta ha, aur har mazhab k logo sa hamdardi rakhta ha, aur har mazhab k har jaga k logo ko kehta ha ALLAH ki makhlooq ha to acha kaho. wo musalman nihayat hi ghalat karty han. kafiro ki tablegh karo, wo na many to acha na kaho unhe. aur har us insaan sa jo shirq karta ha. aur har us aurat sa jo wahiyat kapry pehnti ha. aur har us mard sa jo aysi aurat ko daikhta ha. jo insan aj ki zindagi ye soch kar mazy se guzarta ha k kal ka kuch pata nahi.
jo apna past bhol jaey aur apni har kahi hue bat bhol kar apna aj guzary. wo bewaqoof ha.
kiu k wo aj kal ko sochy bagher guzar raha ha. wo kal jo guzar gaya wo kal jo any wala ha.
guzar jany waly kal me jo ghalti ki, agar wahi ghalti bar bar dohrai jaey aj me bhi , to is ka matlab ye ho ga k insaan na

kuch sekha hi nahi apni ghalti sa. us na khud ko nahi har us shakhs ko nuqsan phchaya jis ko us na apni ghalti me

shamil kia. aur wo ghalti kar k gunahgar hua.
sansee jab tak chal rahi han wo hamara kal nahi ha. sanseen jab nahi rahyn ge wo hamara kal ha.
insan ko apni sirf experience sa nahi sekhna chaheyey usay har us shakhs k experience se sekhna chahiye jis ki zindagi ko wo janta ha.