بد نظری : زہر آلود تیر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مذہبِ اسلام نے کسی غیر محرم کو دیکھنے سے روکا ہے اور نگاہیں نیچی رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
’’ قل للمؤمنین یغضوا من ابصارهم و یحفظوا فروجهم‘‘
( سورۃ نور۔30)
مسلمان مردوں سے کہدیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔

آیت مبارکہ میں حفاظت فروج سے پہلے نظروں کی حفاظت کا حکم فرما یا ہے، کیونکہ نظروں کی بے احتیاطی ہی شرمگاہوں کی حفاظت میں غفلت کا سبب بنتی ہے۔

بد نظری کے معاملے میں جو حال مردوں کا ہے کم و بیش وہی حال عورتوں کا بھی ہے ،چونکہ مرد وعورت کا خمیرایک ہی ہے اور عورتیں عموماً جذباتی و نرم طبیعت ہوتی ہیں ،جلد متاثر ہوجاتی ہیں ان کی آنکھیں میلی ہو جائیں ،تو زیادہ فتنے جگاتی ہیں ۔اس لیے ان کو بھی واضح اور صاف الفاظ میں نگاہیں نیچی رکھنے کی نصیحت کی گئی ہے۔

’’وقل للمؤمنات یغضضن من ابصارهنّ و یحفظن فروجهن ‘‘
۔ (نور۔31)
مسلمان عورتوں سے کہدیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔

اوّل الذکر آیت میں مرد وعورت دونوں نگاہیں نیچی رکھنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کے حکم میں شامل تھے ،جس میں عام مومنین کو خطاب ہے،اور مومنین میں بالعموم عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔نگاہیں نیچی رکھنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کے حکم کی اہمیت کے پیش نظر ان کو بطور خاص دوبارہ نگاہیں نیچی رکھنے کو کہا گیا ہے، اسی سے مستدل یہ مسئلہ بھی ہے کہ جس طرح

مردوں کے لیے عورتوں کا دیکھنا منع ہے، اسی طرح عورتوں کے لیے مردوں کا دیکھنا مطلقاً ممنوع ہے۔

نگاہیں نیچی رکھنے کے فوائد بے شمار ہیں ،نگاہیں نیچی رکھنے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی اطاعت ہے ،جس سے اس زہر آلود تیر کا اثر دل تک نہیں پہونچتا ۔اللہ تعالیٰ سے انسیت و محبت بڑھتی ہے، دل کو قوت و فرحت حاصل ہو تی ہے ،دل کو نور حاصل ہو تا ہے مومن کی عقل و فراست بڑھتی ہے۔ دل کو ثبات و شجاعت حاصل ہو تی ہے ۔دل تک شیطان کے پہونچنے کا راستہ بند ہو جا تا ہے۔ دل مطمئن ہو کربہتر اور کا رآمد باتیں سوچتاہے۔

نظر اور دل کا بڑا قریبی تعلق ہے ،اور دونوں کے درمیان کا راستہ بہت مختصر ہے ۔دل کی اچھائی یا برائی کا دارو مدار نظر کی اچھائی و برائی پر ہے ۔جب نظر خراب ہو جاتی ہے، تو دل خراب
ہو جاتا ہے اس میں نجاستیں اور گندگیاں جمع ہو جاتی ہیں،اور اللہ کی معرفت اور محبت کے لیے اس میں گنجائش باقی نہیں رہتی ۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنی نگاہیں نیچی رکھتے ہیں اور وہ بڑی بڑی مصیبتو ں اور آفتوں سے بچے رہتے ہیں۔مومنوں کو بد نظری سے بچنا چاہئے اور نگاہیں نیچی رکھنی چاہئے تاکہ مرد و عورت عزت کے ساتھ زندگی گزاریں اور کوئی مصیبت ان پر نہ آئے، جس سے زندگی داؤ پر لگ جائے، اور ان کی اشرفیت جاتی رہے۔

بد نظری کرنے سے بہت سی برائیاں سر اٹھا تی ہیں، ابتدا میں آدمی اس کو ہلکی چیز سمجھ کر لطف اندوز ہو تا ہے، اور آگے چل کر عظیم گناہ کا مرتکب و ذلیل و رسواہو جاتا ہے ۔جس طرح چنگاری سے آگ کے شعلے بھڑکتے ہیں، اسی طرح بد نظری سے بڑی بڑی برائیاں جنم لیتی ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ العینان تزنیان و زناهما النظر‘‘ آنکھوں کا دیکھنا زنا ہے۔
اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے، زنا کے لیے راہ ہموار ہو تی ہے، اس سے گھر کی برکت ختم ہو تی ہے۔ بد نظری کرنے والے کو حسن عمل کی توفیق نہیں ہو تی۔ قوت حافظہ کمزور ہو جاتی ہے ۔یہ ذلت و رسوائی کا سبب بنتی ہے ،اس سے بے حیائی پھیلتی ہے ۔بد نظری سے انسان کے اندر خیالی محبوب کا تصور پیدا ہو جاتا ہے ،وہ خام آرزؤں اور تمناؤں میں الجھا رہتا ہے، اس کا دماغ متفرق چیزوں میں بٹ جاتا ہے، جس سے وہ حق اور ناحق کی تمیز نہیں کر پاتا۔اس سے دو دلوں میں شہوتوں کی آگ بھڑکتی ہے اور خوابیدہ جنسی جذبات میں جنبش ہوتی ہے۔

دور سے ہر چیز بھلی لگتی ہے، اس لیے انسان کا دل دیکھنے کو چاہتا ہے، اس کو پیاس لگی رہتی ہے جو کبھی نہیں بجھتی۔یہ گناہ اصل جوانی میں غلبۂ شہوت کی وجہ سے کیا جاتا ہے، پھر ایسا روگ لگ جاتا ہے کہ لب گور تک نہیں جاتا۔اللہ تعالیٰ نے ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت بنایا ہے کسے کسے دیکھنے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ایک کو دیکھا دوسرے کو دیکھنے کی ہوس ہے، اسی دریا میں ساری عمر بہتا رہے گا، تب بھی کنارے پر نہیں پہونچے گا ،کیونکہ یہ دریا نا پید کنار ہے۔
بد نظری زنا کی سیڑھی ہے۔مثل مشہور ہے کہ دنیا کا سب سے لمبا سفر ایک قدم اٹھا نے سے شروع ہو جاتا ہے، اسی طرح بد نظری کر نے سے زنا کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ مومن کو چاہئے کہ پہلی سیڑھی ہی چڑھنے سے پرہیز کرے۔

بد نظری ایک تیر ہے، جو دلوں میں زہر ڈالتا ہے یہ تیر جب پیوست ہو جاتا ہے تو سوزش قلب بڑھنی شروع ہو جاتی ہے ۔جتنی بد نظری زیادہ کی جائے ،اتنا ہی زخم گہرا ہو تا ہے ۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نگاہ ڈالنے والا پہلے قتل ہو تا ہے، وجہ یہ ہے کہ نگاہ ڈالنے والا دوسری نگاہ کو اپنے زخم کا مداوا سمجھتا ہے، حالانکہ زخم اور گہرا ہو تا ہے۔ (بحوالہ:لکافی۔477)

لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں ہم نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
جب انکھیاں لڑتی ہیں اور نین سے نین ملتے ہیں تو چھپی آشنائی شروع ہو جاتی ہے اور سلام و پیام ،کلام و ملاقات کے دروازے وا ہو جاتے ہیں، اس کا سلسلہ جتنا دراز ہوتا جاتا ہے، اتنی ہی بیقراری بڑھتی جاتی ہے، اور اشاروں اشاروں میں زندگی بھر ایک ساتھ رہنے کے عہد و پیمان ہو جاتے ہیں، اور ایک طرح کا ہو کر ساتھ رہنے کی قسمیں کھائی جاتی ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ساری سوسائٹی سو گوار ہو جاتی ہے۔

بدنظری کر نے والے لوگ چو راہوں ،دوکانون میں بیٹھ کر آنے جانے والی عورتوں کو گھور گھور کردیکھتے ہیں اور چیتے کی طرح پھاڑ کھانے والی نظریں ان پر ڈالتے ہیں، اوربھوکے بھیڑیے کے مثل حلق میں اتار نے کی کوشش کر تے ہیں، اور نکلنے والی عورتیں ان فریب خوردہ لوگوں کی کٹیلی و نشیلی اور ھوس ناک نگاہوں کا شکار بنتی ہیں ۔

مغربی تہذیب کی لپیٹ میں آ کر بن ٹھن کر بے پردہ ہو کر نکلنے والی خواتین بھی بد نظری کے مواقع فراہم کر تی ہیں اور پازیب کے گھنگھر و بجاتے ہوئے اپنے گزرنے کا احساس دلاتی ہیں، اور بازار میں اپنے حسن کے جلوے بکھیرتی ہیں ۔خواتین جو گھروں کی زینت ہیں مارکیٹ کی زینت بنتی جارہی ہیں اور شیطان اپنی تمام تر فتنہ سامانیوں کے ساتھ عورت کے ناز و نکھرے اور چلنے کے انداز و ادا کوسنوار کرپیش کرتا ہے، اور عاشقانِ حسن کو گناہ بے لذت میں مبتلا کر دیتا ہے، اور منچلے لونڈے لفنگے لڑکے رال ٹیکائے اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور اس کو اپنے مطابق دیکھ کر اپنی ابھرتی خواہشات نفسانی اوردہکتی جذبات کی بھٹی کو سرد کر تے ہیں۔

بد نظری کر نے والے گھروں میں جھانک کر اور کھڑکیوں کے اندر رہنے والی عورتوں پر نظر کا جادو چلاتے ہیں اور وہ کسی ضرورت کے تحت کسی گھر میں چلے جاتے ہیں، تو ان کی نظر گھومتی رہتی ہے ،جب تک رہیں اپنے سامان کی تلاش جاری رکھتے ہیں اور کنکھیوں سے بار بار مخالف جنس کو دیکھتے ہیں، وہاں بھی غیرت نہیں آتی۔ کیونکہ یہ دھندا ہی ایسا ہے ،جس کا سابقہ پڑ گیا، پیچھا نہیں چھوڑتا۔ جوانی تو جوانی پیرانہ سالی میں بھی اسی سے منسلک رہتے ہیں اور آخر میں گھاٹا بھی گھاٹا ہاتھ آتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’یعلم خائنة الاعین ووماتخفی الصدور ‘‘
(المومن ۔ 17)
اللہ تعالیٰ جانتا ہے آنکھوں کی خیانت کو اور وہ کچھ جو سینوں میں پوشیدہ ہے ۔

خیانت نظر کی تشریح ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ کیا کہ :آدمی کسی کے گھر میں جائے وہاں کسی خوبصورت عورت ہو جسے نظر بچاکر دیکھنے کی کوشش کرے،اور جب لوگوں کو اپنی طرف
متوجہ پائے تو نظر نیچی کرلے،لیکن اللہ نے اس کے دل کا حال جان لیا ۔ ( الجواب الکافی)

پہلی اچانک نظر معاف ہے ۔نبی ﷺ سے عبد اللہ بن جریر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اگر اچانک نظر پڑ جائے تو ؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’صرف نظرک‘‘ (مسلم)۔ تو اپنی نظر پھیرلے۔ اگر پہلی نظر ارادۃ ڈالی جائے، تو وہ بھی حرام ہے اور پہلی نظر معاف ہو نے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ پہلی نظر ہی اتنی بھر پور ڈالی جائے کہ دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہی نہ رہے ۔صرف اتنی بات ہے کہ اگر اچانک نظر پڑجائے تو فوراً ہٹا لینا چاہئے ۔

انسانی آنکھیں جب بے لگام ہو تی ہیں، تو اکثر برائی و لڑائی کی بنیادبن جاتی ہیں اور انسان کے اندر گناہ کا تخم پڑجاتا ہے ۔ جو موقع ملنے پر بہار دکھاتا ہے ۔قابیل نے ہابیل کی بیوی کے جمال پر نظر ڈالی تو دل و دماغ پر ایسا بھوت سوار ہوا کہ اپنے بھائی کا قتل کر ڈالا۔اور دنیا میں پہلے قتل کا مرتکب ہوا۔عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن کو دیکھا تو جذبات کے ہاتھوں ایسی بے قابو ہوئی کہ گناہ کی دعوت دے ڈالی۔

بد نظری کی ایک قسم وہ برہنہ تصاویر ہیں جو اخباروں اور کتابوں کی زینت بنتی ہیں ۔حتی کہ مضامین پر مشتمل رسالوں کے سر ورق پر چھپتی ہیں اورفلموں، ڈراموں اور ماڈلنگ کر نے والی عورتوں کی تصاویر ہیں جو اکثر جگہ دیواروں پر چسپاں رہتی ہیں۔ اور آج کل آسانی یہ ہو گئی ہے کہ ملٹی میڈیا موبائل سیٹ کے فنکشن میں یہ تصویریں قید رہتی ہیں اور انہی سیکڑوں برہنہ و نیم برہنہ تصاویر کو بدل بدل کر موبائل اسکرین میں سیٹ کیا جاتا ہے اور خلوت میں تلذد کی نگاہ مکمل توجہ کے ساتھ انکے انگ انگ کا معائنہ کرتی ہے ۔ ٹی،وی اناء و نسر کو خبروں کے بہانے دیکھنا ،گرل فرینڈوبوائے فرینڈ کی تصویر تنہائی میں للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا ، انٹر نیٹ پر پیشہ ور لڑکیوں کی تصاویر دیکھنا یا فحش ویڈیو سی ڈیز دیکھنا، ان سب کا دیکھنا زندہ عورت کو دیکھنے سے زیادہ نقصان دہ ہے ۔راہ چلتے غیر محرم کے خدو خال کو اتنی باریک بینی سے نہیں دیکھا جا سکتا ہے، جتنا کہ تصاویر کے ذریعہ دیکھنا ممکن ہے ،ان سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نگاہیں نیچی رکھنے کی توفیق فرمائے ۔آمین۔

Advertisements

جب بھی میں شراب پیتا۔۔۔۔۔

حضرت مالک بن دینار رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ان سے ان کی توبہ کا سبب پو چھا گیا تو انہوں نے بتا یا کہ ” میں پو لیس میں تھا اور بہت شراب پیتا تھا ۔ میںنے ایک خوبصورت باندی خریدی جو میرے لئے بہت اچھی ثابت ہوئی۔ اس سے میرے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ مجھے اس سے بہت محبت ہو گئی جب وہ پیروں پر چلنے لگی تو اس کی محبت میرے دل میں اور بڑھ گئی وہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتی تھی ۔ جب میں شراب پینے لگتا تو وہ آکر شراب گرا دیتی تھی جب اس کی عمر دو سال ہوئی تو اس کا انتقال ہو گیا مجھے اس کی مو ت نے دل کا مریض بنا دیا جب پندرھویں شعبان کی رات تھی اور جمعہ کی رات بھی تھی میں نشے میں چور ہو کر سو گیا اور میںنے عشاء کی نما ز بھی اس دن نہیں پڑھی تھی ۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہو گئی ہے اور صور پھونکا جا چکا ہے، قبریں پھٹ رہی ہیں اور حشر قائم ہے اور میں لو گوں کے ساتھ ہوں. اچانک میں نے اپنے پیچھے سرسراہٹ محسوس کی میں نے پیچھے کی طر ف مڑ کر دیکھا تو ایک بہت بڑا کالا اور زرد رنگ کا اژدھا میرے پیچھے منہ کھو لے میری طر ف بڑھ رہا ہے تو میں اس سے ڈر کر بھاگتے ہوئے،ایک صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے ایک بزرگ کے پاس سے گذرا جن کے پا س خوشبو پھیلی ہوئی تھی میں نے انہیں سلا م کیا انہوں نے جوا ب دیا تو میں نے کہا کہ شیخ “ شیخ مجھے اس اژدھے سے بچائیے اللہ آپ کو اپنے ہاں پنا ہ دے گا وہ بزرگ روتے ہوئے کہنے لگے کہ میں کمزور ہوں اور یہ مجھ سے بہت طاقتور ہے میں اس پر قادر نہیں ہو سکتا لیکن تم جلد ی سے بھاگ جاﺅ شاید اللہ تعالیٰ کسی کو تم سے ملا دے جو تمہیں اس سے بچا لے تو میں سیدھا بھاگنے لگا۔ میں وہاں قیا مت کے مناظر دیکھنے لگاایک اونچائی پر چڑھا تو وہاں زبردست آگ تھی میں نے اس کی ہولناکی کو دیکھا اور میں نے چاہا کہ اژدھے سے بچنے کے لیے اس آگ میں کو د جاﺅں ۔ مگر کسی نے چیخ کر کہا کہ لوٹ آ، تو اس آ گ کا اہل نہیں ہے تو میں مطمئن ہو کر واپس آگیا اور اژدھا میری تلاش میں تھا میں اسی بزرگ کے پا س آیا اور انہیں کہا کہ شیخ میں نے آپ سے پناہ مانگی تھی لیکن آپ نے نہیں دی۔ وہ بزرگ پھر معذرت کر کے کہنے لگے کہ میں کمزور آدمی ہوں لیکن اس پہا ڑ پر چڑھ جاﺅ وہاں پر مسلمانوں کی امانتیں ہیں۔ ہو سکتا کہ تیری بھی کوئی امانت وہاں موجود ہو جو تیری مدد کر سکے تو میں اس پہا ڑ پر چڑھا جو چاندی سے بنا تھا اس میں جگہ جگہ سوراخ تھے اور غاروں پر پردے پڑے ہوئے تھے اور یہ غار سر خ سونے سے بنے تھے اور جگہ جگہ سوراخ تھے اور غاروں پر پردے پڑے ہو ئے تھے اور جگہ جگہ ان میں یا قوت اور جواہرات جڑے ہوئے تھے اور سب طاقچوں پر ریشم کے پردے پڑے ہوئے تھے جب میں اژدھے سے ڈر کر پہاڑ کی طر ف بھا گا تو کسی فرشتے نے چیخ کر کہا پردے ہٹا دو طاقچے کھول دو، تو پردے اٹھ گئے اور طاق کھول دئیے گئے پھر ان طاقچوں سے چاندی کی رنگت جیسے چہروں والے بچے نکل آئے اور اژدھا بھی میرے قریب ہو گیا ۔اب میں بڑاہی پریشان ہوا تو کسی بچے نے چیخ کر کہا تمہار ا ستیاناس! دیکھ نہیں رہے ہو کہ دشمن اس سے کتنا قریب آچکا ہے چلو سب باہر آﺅ پھر بچے فوج در فوج نکلنا شروع ہوگئے پھر میں نے دیکھا کہ میری وہ بچی جو مر چکی تھی وہ بھی نکلی اورمجھے دیکھتے ہی رو کرکہنے لگی واللہ! میرے والد ! پھر وہ تیر کی طر ح کود کر ایک نور کے ہالے میں گئی اور میرے سامنے نمودار ہو گئی اور اپنا بایاں ہا تھ میرے دائیں ہاتھ کی طرف بڑھا کر اسے پکڑ کر کھڑی ہوئی اور دایاں ہا تھ اژدھے کی طر ف بڑھایا تو وہ الٹے پا ﺅں بھا گ گیا ۔ پھر اس نے بٹھایا اور میری گو د میں آبیٹھی اور اپنا سیدھا ہا تھ میری داڑھی میں پھیرتے ہوئے کہنے لگی ابا جان ” کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ لو گوں کے دل اللہ کے ذکر کے لیے جھک جا ئیں “ (الحدید آیت نمبر 16) اور رونے لگی، تو میں نے کہا کہ میری بچی ۔ کیا تمہیں قرآن معلوم ہے ۔ اس نے کہا کہ ہاں ہم لوگ تم سے زیادہ جانتے ہیں۔ تو میں نے پو چھا کہ پھر اس اژدھے کے بارے میں بتا ﺅ جومجھے ہلا ک کر نا چا ہتا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ آپ کے برے اعمال تھے جنہیں خود آپ نے طاقتور بنایا تھا ۔ میں نے پو چھا کہ وہ بزرگ کون تھے ۔ اس نے بتایا کہ وہ آپ کے اچھے اعمال تھے جنہیں آپ نے اتنا کمزور کر دیا تھا کہ وہ آپ کے برے اعمال کو دفع نہ کر سکے۔ میں نے پو چھا کہ میری بچی ! تم لو گ اس پہاڑ میں کیا کر تے ہو! اس نے کہا ہم مسلمانوں کے معصو م بچے اسی میں رہتے ہیں اور قیامت ہو نے تک رہیں گے ہم منتظر ہیں کہ تم کب ہمارے پا س آﺅ اور ہم تمہاری شفاعت کریں ۔
مالک بن دینار کہتے ہیں کہ میں خوفزدہ حالت میں بیدار ہوا اور میں نے شراب پھینک کر اس کے برتن توڑ دئیے اور اللہ سے تو بہ کر لی یہ میری توبہ کا سبب بنا ۔

گمنام رنگ

ثقافت میں سب سے اہم نمائندہ عنصر تہذیبی رویہ ہوتا ہے۔ لوگ تہذیبوں کاٹکراﺅ پڑھ کراپنی تہذیب برباد ہوتا دیکھتے ہیں۔ تہذیبیں ایک طویل تسلسل اور تنوع کی وسعت کو اپنے اندر سموتے ہوئے نمو پاتی ہیں۔ جس میں افعال اورکارکردگی کے نقوش روایات کا سلسلہ تھامے رکھتے ہیں۔ یہ روایات نسل در نسل منتقل ہو کر انسان کو اُسکی اصل بنیاد سے جوڑے رکھتی ہیں ۔ وقت کے تناسب سے نظام بہتر سے بہترین ہوتا ہے مگر بنیاد قائم رہتی ہے۔نگاہ میں خیال تو ہے، مگر منظر کے احساس سے محروم

آمد میں کمال تو ہے، مگر جمال پرواز کے تجسس سے مقدوم

گمنام رنگ دُنیا میں ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔ بیشمار نامور رنگ بھی ماضی کے دھندلکوں سے جھلکتے ہوئے؛ انسان کی بے اعتنائی کا شکار! حسن کے شاہکار، ایثار کے پیکر، شجاعت کے کردار، عزم کے مینار رفتہ رفتہ منہدم ہو کر معدوم ہو چلے۔ انسان اپنی وراثت اور ثقافت کو محفوظ رکھنے سے معذور۔ اپنی ہی مٹی سے رشتہ ٹوٹ رہا ہے۔

آج مجھے حقیقی رنگوں کی تلاش ہے،ایاز اور ایبک تو لاہور میں مدفون ہیں۔ غزنوی اور غوری کی آرام گاہوں سے ہم ہی واقف نہیں! شاندارتواریخ رکھنے والے نام آج گمنام اور ادنیٰ غلام وجود کی پہچان میں!پُرانے تاریخی و ثقافتی شہروں کی دیواروں کو ازسر نو تعمیر و مرمت کرنے کا خیال تو اذہان میں آتا ہے، کیادیوارکے اندر کی اصل ثقافت ہی ان دیواروںکا اصل رنگ ہے؟ دیواریں اصل زبان سے محروم، تکیوں(دانش گاہوں) کے دَور سے دُور،پکوان اور اُس کے ذائقہ شناسوں کی محتاجی،علاقائی موسمی مشروب اب ہتک جانے لگے۔پرانے شہر کی صرف دیواریں تعمیر ہونگی، ثقافت لوٹ کر نہ آئے گی۔ ثقافت گمنام لوگوں کے گمنام رنگ ہی پیدا کرتے ہیں۔ تاریخ میں ثقافت ہی گمنام کوٹھڑی کی قیدی رہی

ثقافت میں سب سے اہم نمائندہ عنصر تہذیبی رویہ ہوتا ہے۔ لوگ تہذیبوں کاٹکراﺅ پڑھ کراپنی تہذیب برباد ہوتا دیکھتے ہیں۔ تہذیبیں ایک طویل تسلسل اور تنوع کی وسعت کو اپنے اندر سموتے ہوئے نمو پاتی ہیں۔ جس میں افعال اورکارکردگی کے نقوش روایات کا سلسلہ تھامے رکھتے ہیں۔ یہ روایات نسل در نسل منتقل ہو کر انسان کو اُسکی اصل بنیاد سے جوڑے رکھتی ہیں ۔ وقت کے تناسب سے نظام بہتر سے بہترین ہوتا ہے مگر بنیاد قائم رہتی ہے۔

تہذیب کامطالعہ دو پہلوﺅں سے ہوتا ہے۔ تعمیرات کا علم تمدن کاجائزہ لیتا ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ ایک فرد سے دوسرے فرد کا مطالعہ وَ موازنہ کر کے تہذیب کی جانب منتقل ہوا جاتا ہے ۔تعمیرات کا انحصار تین عملی احوال: (۱)وجود کی بقا،(۲) موسم اور(۳) مواد پرہوتا ہیں۔کسی بھی عمارت کی تعمیر ہمیشہ دو اُصولوں پرمنحصر رہی؛ منصوبہ بندی اور خاکہ بندی۔اس کے بھی تین درجے رکھے گئے۔اوّل؛ زیر استعمال زمین کا جغرافیائی حالا ت کے تحت جائزہ لینا، دوم؛ عمارتی تعمیر کی منصوبہ سازی کرنا، سوم؛ ڈھانچہ تیار کرنا۔

تمدن میںعمارات تین اقسام کی ہوسکتی ہیں۔رہائشی تعمیرات، طرز معاشرت کی بنیاد ہیں جو رہن سہن کے انداز واضح کرتی ہیں۔ مذہبی عمارات، عقائدپر روشنی ڈالتی ہیں۔ تیسرا اندازیادگاری عمارات،جو جاہ و جلال کا نمائندہ ہوتا ہے۔اس میںیادگاریں اُن مذہبی، تہذیبی، تمدنی، معاشرتی اور جغرافیائی جڑاﺅکی عکاسی کرتی ہیں۔ جوعلاقائی سلطنتوں اور بیرونی حملہ آوروں کے مابین ٹکراﺅ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اُس دور کی عمارات پر نقش و نگارہی اہم اثرات کے ترجمان ہوتے ہیں۔جن سے تعمیراتی نظریات اور معاشرتی تعلقات کی غمازی ہوتی ہے۔


تہذیب کے مطالعہ میں دوسرا اہم پہلو زبان ہے۔جو ثقافت کی غماز اور طرز بودوباش کی عکاس ہوتی ہے۔ انسانی احساسات کی نمائندگی الفاظ ہی پیش کرتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر سلیم اختر”ادب خلا میں جنم نہیں لیتا اور نہ ہی ادیب ہوا بند ڈبوں میں زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کا عصری تقاضوں سے مثبت یا منفی اثرات قبول کرنا لازم ہے کہ یہ اثرات سانس کی مانند اس کے تخلیقی وجود کے لیے ضروری ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کے عہد میں ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی کے مباحث تھے یا نہیں، یا یہ کہ وہ شعوری طور پر کس تصور ادب کا حامی رہا، اس لیے کہ ادب برائے زندگی کے تصور کو مسترد کرنا بھی تو کسی تصور ہی کا مرہون منت ہوتا ہے“۔

موسم جغرافیہ کا ایک جزو ہے،ہر ملک یا خطے کا اپنا جغرافیائی حسن ہے جو اس کے باسیوں کے اعصاب کو بعض مخصوص حسیات سے مشروط کر دیتا ہے۔ایسے ہی برصغیر میں موسم کی مناسبت سے مشروبات اپنے اندر حکمت رکھے ہوئے ہیں۔ مہینوں کی ترتیب بھی موسم سے تھی۔ بہار کے دو مہینوں (چیت اور بیساکھ)کا مشروب کانجی ٹھہرا۔ شدت گرمی کے اگلے دو ماہ (جیٹھ اورھاڑ)کے مشروب سَتو رہا ۔برسات (ساون اور بھادوں)کے نازک حبس زدہ موسم میں نمکین سکنج بین تھی۔ لسی کو برسات کے علاوہ تمام سال مناسب خیال کیا جاتا تھا۔ خزاں (اسو اور کتے)کے موسم میں کسی بھی مشروب سے متعلق احتیاط برتی جاتی تھی۔سردی(مگھر، پوھ ،ماگھ اور پھاگن) میں مشروب کی بجائے خشک میوہ جات کا استعمال رہا ۔

تہواروں کا تعلق بھی موسموں سے منسلک تھا۔ حتی کہ ملکی انتظام کے معاملات بھی موسموں اور تہواروں سے جڑے تھے۔ ربیع اور خریف کی فصل کا ایک موسم تھا۔اگر فصل کے لہلہانے پر بسنت کا تہوار خوشی میں رکھا گیاتو ایسے ہی مالیہ کی وصولی (زرعی ٹیکس)کا آغاز ’ہولی‘ اور’ دَسَہرا‘ کے تہوارسے ہوتا تھا۔

پانی کے استعمال میں ایک حکمت ہے۔ موسم کا جیسا درجہ حرارت ہو ، ویسا پانی پیا جائے۔ بہت ٹھنڈا پانی انسانی اعصاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ خاصیت گھڑے میں ہیں کہ وُہ پانی کو موسم کے مطابق رکھتا ہے۔

علاقائی نباتات اور درختوں کے جنگل علاقائی ماحول و آب و ہوا کی نسبت سے ہیں۔انسانی، حیوانی، نباتاتی اور آبی زندگی مٹی کی مناسبت سے تھی۔پرانی سڑکوں کے کنارے لگے درختوں کے جھنڈ دیکھے تو اُس علاقہ کے جنگلات اور ماحولیاتی کیفیت کے اثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ شناخت انسانی زندگی کی اصل ثقافت سے جڑی ہوئی ہے۔

آج نباتات کے حالات یہ ہیں کہ چوآسیدن شاہ دُنیا کے بہترین گلاب کے لیے مشہور تھا ، آج وہاں گلاب کے باغات ملنا دشوار ہے۔ کیا وجوہا ت ہے؟ہم قدیم ثقافت کو کیا تلاش کرےںگے؟ ہماری تو بہت سی اقدار آج عدیم ہورہی ہے۔

برصغیر میںبارہ اشیاءکے زیورات مستعمل تھے۔ سونا، چاندی،پیتل (دھات)،نگینہ، موتی، دانت، پنکھ، پھول، پتے ،اناج، لکڑی، مٹی۔

ایک پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان اپنے آبائی علاقہ میں آکر ہمیشہ سادہ دیسی لباس پہنتا تھا۔ اُسکا سادہ سا موقف تھا۔ پاکستان میں یہاںکی ثقافت کے تحت رہنا چاہیے۔ اپنے دیس میں پردیسی کیا بننا ۔لباس اور گفتگوسے اپنا ولائیتی پن ظاہر کرنا مناسب نہیں ۔

انگریزی ہماری تخلیقی سوچ سے کنارہ کشی پر تو مہربان ہوئی۔ مگر علاقائی زبانوں کے الفاظ پر قہرمان ٹھہری۔ لوک موسیقی، لوک گیت، لوک کہاوتیں، لوک کہانیاں، میلوں میں علاقائی کھیلوں کا دھیرے دھیرے معاشرہ سے ربط ٹوٹ رہا ہے۔

خیال کو خیال ہی جدا کرے، بات کو بات ہی کاٹے۔

زمانہ کو رشتہ ہی جوڑے، رشتہ کو رشتہ ہی توڑے۔

لفظوں کے رشتوں سے محروم ہوئے،رشتہ کے نام امپورٹ کیے، رشتہ کا مادہ بھرم سے اُٹھا کرشک کے دھرم میں ڈبو دیا۔ آج ہم رشتوں کے ذخیرہ الفاظ سے واقف نہیں۔ مٹی کی پہچان سے کیا واقف ہونگے۔ جو اپنی مٹی کا نہیں، وُہ کہیں کا نہیںرہا۔انسان مٹی کا بنا ہے، اُسکی خوراک مٹی ہے، اُسکا خون مٹی سے ہی دوڑتا ہے۔سکون اور زبان مٹی کے تعلق سے وجود میں آتے ہیں۔ہم نے مر کر مٹی میں مٹی ہونا ہیں۔عجب بات ہے، ہم اپنی مٹی سے ہی وفا نہیں کرتے۔تاریخ میں غداروں کی فہرست تو جاری کرتے ہیں۔ ٹیپو سلطان رحمتہ اللہ علیہ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ مگر کبھی ہم نے اپنی ذات کا احتساب کیا۔ ہم کس مقام کو کھڑے ہیں؟ہم دوسروں کے لیے نہیں، صرف اپنے لیے جی رہے ہیں، صرف اور صرف اپنی ذات کے لیے۔ افسوس! جن کا ذکر ہم اپنی گفتگوﺅں میں کرتے ہیں، وُہ دوسروں کے لیے زندگی گزارنا اپنا ایمان سمجھتے ہیں۔ شائید انفرادی سوچ رکھنے والی اکثریت کو مستقبل کا مﺅرخ مٹی کا قاتل ٹھہرائے۔مٹی سے تعلق کوئی مشکل شےءنہیں، حقیقت کا سچائی سے سامنا ؛انسان کا مٹی سے تعلق بنائے رکھتا ہے

صرف اپنے لیے جی کر، زمانہ بھر کو پریشان کیا۔

دوسروں کے لیے جی کر، عمر بھر خود کوبے چین کیا۔

مناسب ہے کہ ہم اپنی تہذیب کو اپنائےں اور مٹی کی خوشبو کو پہچان سکیں۔ مغربی طرز زندگی ہمارے موسم، حالات اور مزاج کے مطابق نہیں۔ ہمارا موسم ہمیں بلند چھتوں کی ترغیب دیتا ہے۔مغرب کی قابل قبول اشیاءکو ضرور اپنائےں مگر اس چاہت میں اپنی مٹی سے رشتہ مت توڑےں۔مسجد وزیر خان ہندوستانی، وسط ایشیائی، ایرانی اور عرب اثرات کا امتزاجی شاہکار ہے۔

پاکستان کی تاریخ 712ء سے شروع نہیں ہوتی۔ دُنیا کے اب تک سب سے قدیم ترین دریافت شدہ فاسلز” بن امیر خاتون“ سے ملے ہیں۔جن میں ڈائینو سار کی موجودگی ثابت ہوچکی ہے۔ بلکہ شواہد تولاکھوں برس قبل تہذیبی ارتقاءکا تعلق بھی یہاں سے بتلاتے ہیں۔ایک قدیم انسانی تہذیب دریائے سواں کے کنارے آباد تھی۔یہاںبرف پگھلنے کے دور میں دُنیا کی قدیم ترین ”چونترہ صنعت(پتھر کے ہتھیار)“نے جنم لیا۔ہڑپہ اورموہنجوداڑو کے آثار دریافت ہوئے مگر ہزاروں برسوں سے آباد کچھ ایسے دیہات بھی چلے آرہے ہیں۔ جن کے کنوﺅں کی طرز تعمیر(بیضوی دہانہ) ہڑپہ اور موہنجو داڑو سے ملتی ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ، تہذیب اور ثقافت پر تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ نشان باقی نہ رہے۔

(فرخ نور)

زندگی سے موت بہتر ہے

: دنیا کے مصائب و آلام سے بیزار ہو کر موت کی تمنا کرنا اوراپنے لئے موت کی دعا کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبتوں کے سبب موت کی آرزو کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے :
عن أنس بن مالك رضى الله عنه قال النبى صلى الله عليه وسلم « لا يتمنين أحدكم الموت من ضر أصابه ، فإن كان لا بد فاعلا فليقل اللهم أحينى ما كانت الحياة خيرا لى ، وتوفنى إذا كانت الوفاة خيرا لى »
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: تم میں کوئی کسی مصیبت کی وجہ سے ہرگز موت کی آرزو نہ کرے اگر وہ موت کی خواہش ہی رکھتا ہے تو یہ دعا کرے
’’ اللَّهُمَّ أَحْيِنِى مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِى ، وَتَوَفَّنِى إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِى
ترجمہ :‘‘ اے اللہ تو مجھ کو حیات عطا فرما جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو اور مجھکو موت عطاء فرما جب وفات میرے لئے بہتر ہو۔
﴿ صحیح بخاری شریف ،باب تمنی المریض الموت ،حدیث نمبر:5671﴾
اگر گناہوں کی کثرت ہو جائے ،فتنے امنڈنے لگیں اور مصیبت میں پڑنے کا خوف ہو تو اپنے دین کو بچانے اور فتنوں سے خلاصی پانے کیلئے موت کی تمنا کرسکتا ہے جیساکہ سنن ترمذی شریف میں حدیث شریف ہے :
عن أبى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ……فبطن الأرض خير لكم من ظهرها ۔
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ……( ایسے زمانہ میں ) زمین کا اندرونی حصہ تمہارے لئے زمین کے بیرونی حصہ سے بہتر ہے۔ ﴿ جامع ترمذی شریف ،حدیث نمبر:2435﴾
الغرض دنیا کے خوف سے موت کی تمنا نہیں کرنا چاہئے ۔

در مختار ج 5 ص 297 میں ہے:
( یکرہ تمنی الموت ) لغضب او ضیق عیش ( الا لخوف الوقوع فی معصیۃ ) ای فیکرہ لخوف الدنیا لا الدین لحدیث فبطن الارض خیرلکم من ظھرھا
اور رد المحتار ‘‘ میں ہے
’’ فی صحیح مسلم « لا يتمنين أحدكم الموت لضر نزل به فإن كان لا بد متمنيا فليقل اللهم أحينى ما كانت الحياة خيرا لى وتوفنى إذا كانت الوفاة خيرا لى ». ﴿ مسلم شریف ،باب كراهة تمنى الموت لضر نزل به،حدیث نمبر:6990﴾
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

مسلمان ہونا کوئی مشکل امر نہیں مگر مسلمان بن کر حدود شرع کی پاسداری کرتے ہوئے زندگی گزارنا دشوار ہے اور صحیح معنوں میں مسلمان وہی ہے جو شرعی احکام و مسائل پر سختی سے کاربند ہو کر کتاب زندگی کی اوراق گردانی کرے۔

فلسفیات کی تاریخ

انسان مشینوں کا بنانے والا تو ہے مگر اسکی جبلت اسے قدرتی ماحول میں رکھتی ہے ، جہاں اسے دوسرے انسان سے ملنا پڑتا ہے اس سے میل جول رکھنا پڑتا ہے اور اسی میل جول کی وجہ سے اسنے ادب و شاعری کو سنبھالے رکھا ہے ، شاید انسان کی پہلی سریلی آواز ہی شاعری ہو گی ، اور پہلا جذبہ ہی ادب کا پہلا فن پارہ ہو گا ، یا اسنے جب پہلی لکیر بنائی ہو گی وہیں سے مصوری کی ابتداء ہوئی ہو گی  ،  عام طور پر دنیا کی سب سے پہلی ادبی تحریر “گلگاش کی داستان“ کو مانا جاتا ہے جو ہزاروں برس پرانی ہے مگر دنیا کے پراننے دیش بھارت کی ویدوں کو بھی قدیم ادب میں شمار کیا جاتا ہے ، کیونکہ پرانے زمانے میں آٹو گراف کا رواج نہیں تھا اسلئے قدیم ادب کے خالق گمنام ہی رہے ہیں ، مگر کچھ لوگوں کو دنیا جانتی ہے جو مفکر بھی تھی اور فلاسفر بھی ، شاعر بھی اور ادیب بھی، چند مشہور لوگوں کا تعارف درج ذیل ہے
ارسطو ؛ یونان کی زمین دیوتاؤں کی زمین تھی ، جس پر زیادہ تر فلسفیوں نے جنم لیا ، ارسطو بھی ان میں سے ایک تھا ، اسے سکندر اعظم کا استاد بھی کہا جاتا ہے ، اور ارسطو خود پلاٹو کا شاگرد تھا اور پلاٹو سقراط  کا شاگرد تھا اور سقراط کے بارے میں آگے بتایا جائے گا ، ارسطو نے ہر طرح کے مضامین پر طبع آزمائی کی ، اسکے چند مشہور اقوال یہ ہیں
– نوکری میں مزے کرنے سے ہی کام اچھا ہوتا ہے  o
–  بے شک قانون لکھ دیا جائے مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ اس پر عمل بھی کیا جائے o
گھڑیوں کے بجائے وقت کو دل کی دھڑکن سے ناپنا چاہیے o
سقراط ؛ سقراط بھی بہت مشہور فلسفی گذرا ہے اسکی مشہوری کی بنیادی وجہ فلسفے سے زیادہ زہر کا وہ پیالہ ہے جسے اسنے پی کر اپنی زندگی ختم کر دی ، سقراط کو ہی جدید فلسفی کا بانی کا جاتا ہے قدیم فلسفیوں کا ریکارڈ میسر نہیں اسلئے سقراط سے ہی فلسفے کا آغاز سمجھا گیا ہے ۔ سقراط اور پلاٹو کی بات چیت سے ہی اسکی فلاسفی کا اندازہ ہو سکتا ہے  ۔ ۔ اسکے چند مشہور ڈائلاگ یہ ہیں
–  موت ہی ساری انسانیت کی نجات ہے o
– علم ہی اچھائی ہے اور لاپرواہی جہالت ہے o
– جتنا کم چاہو گے اتنے ہی خدا کے قریب ہو گے o
بقراط !  فلسفے کے علم کے پیمانے کو بقراطیت سے ناپا جاتا ہے ، جس میں جتنا فلسفہ ہو گا اتنی ہی بقراطیت اس میں پائی جائے گی ، عمومی علم کے لئے یہ معلوم رکھنا ضروری ہے کہ بقراط بھی ایک یونانی فلسفی تھا
یونان کے علاوہ ، ہندوستانی فلسفی بھی مشہور ہیں ، جن میں نمایاں نام ، چندر گپت موریہ کا ہے ، اورچانکیہ کے فلسفے سے دنیا آج تک مستفید ہو رہی ہے ، چین کے فلسفی کنفیوشش کو بھی بہت زیادہ چاہا جاتا ہے جبکہ مسلمان فلسفیوں میں ابن سینا سے لے کر ڈاکٹر محمد اقبال المعروف علامہ اقبالتک بہت سارے نام ہیں  ۔ ۔ جبکہ جدید دنیا میں فرائڈ ، لینن ، مارکس وغیرہ بھی قابل ذکر فلاسفر ہیں
فلسفے کے علاوہ ، لکھنے والوں میں ، تلسی داس اور شکسپیر کو تو ہر کوئی جانتا ہے ، دانتے ، موپاساں ، دستوفیسکی ، برنارڈشا جیسے لکھاری بھی اس دنیا میں رہے ہیں اور کیٹس اور خلیل جبراناور رومی جیسے شاعر اور نغمہ نگار بھی ابھی تک دلوں کو مسخر کئے ہی

اولیا اور انبیاٴ علیہ السلام کی نصیحتیں.

  • کم بولنا حکمت ہے ، کم کھانا صحت ، کم سونا عبادت ، اور عوام سے کم ملنا عافیت ہے ۔.حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہُ. ،
  • بےکاربولنے سے منہ بند رکھنا بھتر ہے۔شيخ سعدي شيرازي
  • جہاں تک ہو سکے لوگوں سے دور رہ، تاکہ تیرا دل سلامت اور نفس پاکیزا رہے.  حضرت لقمان علیہ السلام.
  • زیادہ سنو اور کم بولو۔ .  حضرت لقمان علیہ السلام.

  • کثیرا فہم اور کم سخن بنا رہ، اور حالت خاموشی میں بے  فکر مت رہ۔ .  حضرت لقمان علیہ السلام.
  • دوسروں کے عیب پوشیدہ رکھ  تاکہ خدا تیرے عیب بھی پوشیدہرکھے. حضرت خواجہ سراالدین۔
  • جو شخص خاموش رہتا ہے، وہ بہت دانا ہے، کیوں کہ کثرت کلام سے کچھ نہ کچھ گناہ سر ذد ہو جاتے ہیں۔ حضرت سلیمان
  • زبان سے بری بات نہ کرو، کان سے برے الفاظ نہ سنو،  آنکھوں سے بری چیزیں نہیں دیکھو,  ہاتھ سے بری چیزیں نہیں چھوٴو, پیر سے بری جگہ نہیں جاو, ور دل سے اللہ کو یاد کرو۔ حضرت ابو بکر
  • خاموشی نعمت ہے، درگزر جہاد ہے،غریب پروری زاراہ ہے۔ . حضرت خواجہ محمد اسد ہاشمی۔
  • جب راستہ چلو ،تو دائیں بائیں نہیں جھانکا کرو۔  نظر ہمیشہ نیچےاور  سامنے رکھو۔۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ
  • بازاوں میں زیادہ نہ پھرو، نہ چلتےچلتے راستے میں کوئی چیز کھاو۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ۔
  • زبان کی حفاضت کرو،کیوں کہ یہ ایک بہرین خصلت ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہُ
  • اچھے لوگوں کی صحبت اخیار کرو، اس سے تمھارے اعمال اچھے ہو جاہیں گے۔ ابن جوزی رحمت اللہ علیہ
  • برے لوگوں کی صحبت نیک لوگوں سے بدگمانی پیدا کرتی ہے، جب کہ  نیک لوگوں کی صحبت برے لوگوں کیلیئے بھی نیک گمان پیدا کرتی ہے. حضرت  بشر حائی.

logo sa na milny ki fazeelat

Logo sa na milny ki fazeelat

source: http://www.minhajbooks.com/urdu/control/btext/cid/9/bid/130/btid/1512/read/img/خلوت%20اور%20کم%20آمیزی-حسن%20اعمال.html

chehry parha karo…

baaz auqat rukna bohot mushkil ho jata ha. aur baaz auqaat aagay chalna mushkil nahi na mumkin hota ha.

ye jo chehry hoty han inhen parha karo. dunia ki sab sa behatren kitab hoty han. kahi kitab ka getup umda hota ha, magar andar ki tehrer ghatiya hoti ha. kahi mamooli kaghzaat par aala darjy ki tehreer hoti ha.
kabi chehry ki tehrer bot waza ho kar b parny ko dil nai karta.
wo jany anjany me boohot andhery rasty par nikal ae ha. usay ye bhi nahi maloom k ye rasta band ha. kahi nahi jaata. aur me jab sa soch rahi hu k us ka kia ho ga.

kuch loog andhery me bhatakty huay bhi roshni ki tammanna zarur karty han. aur in ko in andhero se pyar hota ha. wo zindagi k in andhery ka ik hisssa ban chuky hoty han.

me waqt ko zaya nahi karti, waqt ne mujhy zaya kia ha.

me janti hu insan k hosly ko utna hi azmana chahiye jitna us me hosla ho, insan ko kisi unchi kursi par bitha dyna us ki izzat afzae nahi. us k sath zulm ha.

Luck / Qismat / Taqdeer / Naseeb نصیب

Luck / Qismat / Taqdeer / Naseeb

کنفیوشش نے کہا تھا ”اگر ہم زندگی کو نہیں جانتے تو ہم موت کو کیسے جان سکتے ہیں۔ زندگی بہت سادہ ہے مگر ہم مسلسل اُسکو مشکل ترین بنانے پر زور دیتے ہیں۔“

اپنی محرومی کو بدنصیبی سمجھ لینے والوں،محرومی تو عطاءکاجوڑ اہے۔رات دن، اندھیرااُجالا، مایوسی امید، سزا جزا کی طرح محرومی اور عطاءکا یہ جوڑ نصیب ہے۔

شہرت ہر کسی کا نصیب نہیں ہوا کرتی۔ نصیب توسب کا ہوتا ہے مگر کامل نصیب کوئی کوئی ہوتا ہے۔لوگ تقدیر کے بہانوں کی تلاش میں ہیں۔ مقدر کے حسن کو مقدر کے لکھے پہ ٹھوکر مارتے ہیں۔ نصیب والا نصیب سے ناراض ہے، مقدر والا مقدر سے خوش نہیں۔خداکی قدرت دیکھیئے،وُہ ذات قدیر بھی ہے اور باعث توقیر بھی، مگر انسان جانتے یا نہ جانتے ہوئے اُس ذات قدیم سے اختلاف کی جسارت کر ڈالتا ہے۔

حسن دیکھیئے! انسان اپنے آپ سے خوش نہیں دراصل وُہ اللہ سے خوش نہیں۔ درویش اللہ کی راہ میں اپنی مرضی چھوڑ کر درویشی اختیار کرتا ہے۔ بس یہی نکتہ اللہ والوں کو ہر حال مطمئن رکھتا ہے۔ یہی نقطہ ہمیں (مادی خواہشات والوں کو)ہر حال بے چین بھی رکھتا ہے۔

انسان آسودہ حال زندگی کے لیئے نہ جانے کتنے جتن کرتا ہے مگر ناکام و نامراد رہا۔ ایک لمحہ میں کسی کی رفاقت زندگی گزارنے کا نظریہ بدل دیتی ہے۔ یہ نگاہ کرم ہے جو مقدر میں لکھا، نصیب بن گیا۔ قسمت کو الزام دینے والا ، دوشی سے دھنی بن گیا۔

تقدیر پہ بحث کرنے والا، قدیر کی ذات سے باخبر نہیں۔ خبر کی بات میں ایسی بے خبری محسوس ہوتی ہے ، جیسے کسی کی خیر نہیں۔ مخیر تو اس بات کا قادر ہے کہ ہر عمل میں خیر ہی خیر ہے۔

تمام زمانوں کی خبر رکھنے والا ہی آنے والے دور کی پیش گوئی کے انداز میں خبر کی مخبری بھی دیتا ہے۔ انسان اللہ کی مرضی کے آگے بند باندھتا ہے مگر باوجود اِس کے مقدر پھر بھی نہ بدلا۔ مشیت الٰہی ہو کہ رہتی ہے۔ بدل نہیں جایا کرتی۔ اسی طرح فرعون نے ایک خواب دیکھا، تعبیر معلوم کی اور تدبیر بھی بنائی مگر تقدیر جو لکھی تھی ، وُہ ہو کہ رہی۔ یہاں نصیب دیکھیئے ، ایک گروہ اللہ پر یقین رکھنے والا ، حالت ظلم میں بھی مطمئن، صابر اور شاکر رہا، دوسرا گروہ ظلم ڈھا کر بھی خوف میں مبتلارہا۔اللہ پر یقین رکھنے والے اللہ کی مرضی کے آگے جھک جایا کرتے ہیں ، تراکیب سوچا نہیں کرتے۔ منصور حسین بن حلاج ؒکا نصیب خود ایک منصب ٹھہرا۔

ہر بندے کا اپنا اپنا نصیب ہے، کسی کا نصیب زمانے میں عزت کا مقام حاصل کرنا ہے، کوئی دولت کا نمائندہ بنتا ہے، کسی کو علم کی میراث ملتی ہے، کوئی اُولاد کی نعمت سے مالا مال ہے، کسی کو زبان کا ملکہ حاصل ہوا تو کسی کو قلم کی طاقت نصیب ہوئی۔کبھی اللہ کی جانب سے دی ہوئی صلاحیت کا ہنر نصیب بنا تو کہیں اللہ کی عطاءکی ہوئی رحمت نصیب بنی، اللہ کے توسل سے لوگوں کا عطاءکیا گیا رویہ، مرتبہ، مقام بھی نصیب ہی ٹھہرا۔ کیسے کہہ سکتا ہے کوئی انسان کہ اُسکا نصیب نہیں؟ نصیب پہچان ہے۔ جیسے ہر فرد کا نام ہے، اُس کا کردار ہے، ایک نام والدین رکھتے ہیں آپکا اسم ِمبارک، ایک نام معاشرہ دیتاہے ،آپکا کردار، ایک پہچان اللہ آپکو عطاءکرتا ہے، نصیب۔ آج انسان اپنے نام سے بھاگتا ہے، معاشرہ جو پہچان دیتا ہے اُس سے فرار ہو کرکسی اور لیبل کے لگوانے کی تگ و دو میں ہے، اور جو نام اللہ عطاءکرتا ہے اُسکے باوجود دوسرے نام ”ارتھا“ کے پیچھے بھاگتے ہیں۔نصیب ہمارا اپنے پاس ہے ہم تلاش کہیں اور کرتے ہیں۔

زندگی میں سوال ہی سوال، جواب کی تلاش میں سوال ہے۔ سوال آپکا اپنا ہو تو جواب خود بخود دورانِ تلاش ہی مل جاتا ہے۔ جواب دِل میں رکھ کر سوال کی تلاش کرنا سوال کی بے حرمتی ہے۔ بہر کیف ایسے سوال سائل کو بھٹکا دیا کرتے ہیں۔

ہم تقدیر کے نام پہ تقدیر سے اُلجھ پڑتے ہیں، یونہی کچھ سوال اپنے آغاز سے ہی بے بنیاد ہوتے ہیں۔ تقدیر، قسمت، نصیب اور مقدر جیسے الفاظ کا استعمال کر کے شکوہ کرنا مناسب نہیں۔ شکوہ اگر حق ہے تو جواب ِشکوہ برحق۔ ضرور سوچ لیجیئے شکوہ کے جواب کی تاب لاسکیں گے۔ مشیت الہٰی پہ اعتراض ، اللہ کے فیصلہ سے انکار ہو سکتا ہے۔ اللہ سے ناراضگی کی بات تو کرتے ہیں مگر اللہ کی ناراضگی کا تاپ برداشت کر سکیں گے۔ اُس نے آپکو بھیجا ہے، اس دُنیا میں تو اُسکے پروگرام کو تسلیم کر لیں۔ اُلجھیئے مت، ورنہ اُلجھتے رہے گے۔ ہونا تو وہی ہے ، جو منظور خدا ہے۔

لوگ عہدوں کو اپنا نصیب سمجھتے ہیں، اختیار زمانہ کو اپنا مقدر جانتے ہیں۔ تقدیر کے نام پہ خود کو مالک تقدیر سمجھتے ہیں۔ قسمت کے دھنی کہلانے والوں، نصیب ایسے نہیں ہوا کرتے ہیں۔ چہرہ کی طرح ہر بندے کا نصیب طے ہیں، یہی چہرہ کی تاثیر ہے۔ جدا جدا تاثیر میں چہرہ پُر تاثیر۔ یونہی نصیب بھی پُر اثر انگیز ہے۔ اللہ والوں کا نصیب اور ہے، اختلاف رکھنے والوں کا نصیب اور، آسودہ حال چہرہ اور پریشان حال چہرہ نصیب ہی ہیں۔ رضائے الٰہی کی کوشش ہر نصیب والے کو بانصیب فرماتی ہے، بے نصیب کوئی نہیں ہوا کرتا۔

نصیب امارت نہیں، مطمئن حال رہنا ہے۔ ایسا نہیں تو نصیب آپکا تو ہے مگر آپ خود نصیب کے نہیں۔ جس میں حال صرف بے حال ہونا ہی ہے۔ حل اتنا ہی ہے کہ ذات باری تعالیٰ پر یقین بحال کرو۔

تجھے کام کرنا ہے او مردِ کار
نہیں اُس کے پھل پر تجھے اختیار
کئے باعمل اور نہ ڈھونڈ اُس کا پھل
عمل کر عمل کر نہ ہو بے عمل(۱)
(فرخ نور)
حوالہ جات:
(۱)۔ دِل کی گیتا اُردو نظم میں(شریمد بھگوت گیتا، (دوسرا ادھیائے،شلوک۷۴)) از خواجہ دِل محمد ایم اے
کنفیوشش:(چھٹی صدی قبل مسیح ) چین میں جنم لینے والے مذاہب میں سے ایک مذہب کنفیوشش مت کا بانی۔ جس نے اخلاقی فلسفہ اور ریاست کے بہترین نظم و نسق کے ساتھ ساتھ عقائد کے اعتبار سے چینی عوام کو ایک نظریہ فکر عطاءکیا۔ شمالی ایشیائی ممالک میںجنم لینے والے تمام مذاہب اخلاقی فلسفہ سے بڑھ کر بات نہیں کرتے۔

جگ درشن کا میلا

‘اڑ جآئے گا ہنس اکیلا
جگ درشن کا میلا’

is jag me jo is jag k darshan karny k liye jita ha wo apni aany wali haqeeqi zindagi par zulm karta ha.

jo musalman sari dunia k logo ko acha kehta ha, aur har mazhab k logo sa hamdardi rakhta ha, aur har mazhab k har jaga k logo ko kehta ha ALLAH ki makhlooq ha to acha kaho. wo musalman nihayat hi ghalat karty han. kafiro ki tablegh karo, wo na many to acha na kaho unhe. aur har us insaan sa jo shirq karta ha. aur har us aurat sa jo wahiyat kapry pehnti ha. aur har us mard sa jo aysi aurat ko daikhta ha. jo insan aj ki zindagi ye soch kar mazy se guzarta ha k kal ka kuch pata nahi.
jo apna past bhol jaey aur apni har kahi hue bat bhol kar apna aj guzary. wo bewaqoof ha.
kiu k wo aj kal ko sochy bagher guzar raha ha. wo kal jo guzar gaya wo kal jo any wala ha.
guzar jany waly kal me jo ghalti ki, agar wahi ghalti bar bar dohrai jaey aj me bhi , to is ka matlab ye ho ga k insaan na

kuch sekha hi nahi apni ghalti sa. us na khud ko nahi har us shakhs ko nuqsan phchaya jis ko us na apni ghalti me

shamil kia. aur wo ghalti kar k gunahgar hua.
sansee jab tak chal rahi han wo hamara kal nahi ha. sanseen jab nahi rahyn ge wo hamara kal ha.
insan ko apni sirf experience sa nahi sekhna chaheyey usay har us shakhs k experience se sekhna chahiye jis ki zindagi ko wo janta ha.

heart attack

I want to write few words from one of my prev. post: “…….Is kaainat main kub saare sawalon ke jawab milte hain. Koi formula nahi chalta. Kisi mantiq ki chul theek nahi bethti. Hum saari zindagi jaanne ki tag-o-do main lage rehte hain magar saara kuch is dil ke maanne se hai. Agar dil ko qarar aa jaaye to koi maujiza naqabile yaqeen nahi rehta. Kuch bhi namumkin nahi rehta. Falsafa chale na chale magar jo baat, jo cheez is dil ki dharkan ki ley(tune) se murtaish (vibrate) ho jaaye – wahi haq, wahi sach ! Sala ye kambakht dil !!..”

Pain was so severe that night, savage heart
wanted to confront each vein
diaphoresed from each sweat gland

(my heart was)
Like far at your patio
each petal washed in my despondent blood
appear morose with grace of moonlite glow

Like in my deserted body
tents of all aching threads openly
start giving signs serially (of)
farewell of (my) passions’ flock

And when appeared somewhere under smoldering lites of remembrance
one last moment of your affection
pain was so intense that (heart) wanted to pass it on

We did want to stay though, heart did not desire so

Greatest Act

[2. Surah Al-Baqarah : Ayah 195]

And spend in the way of Allah and cast not yourselves to perdition with your own hands, and do good (to others); surely Allah loves the doers of good.

Greatest Act

[4.Surah An-Nisaa : Ayah 103]

“Then when you have finished the prayer, remember Allah standing and sitting and reclining; but when you are secure (from danger) keep up prayer.”

[7.Surah Al-Araf : Ayah 205]

“And remember your Lord within yourself humbly and fearing and in a voice not loud in the morning and the evening and be not of the heedless ones.”

[ 8.Surah Al-Anfal : Ayah 45]

“O you who believe! when you meet a party, then be firm, and remember Allah much, that you may be successful.”

[13.Surah Ar-Ra’d : Ayah 27-28]

“Surely Allah makes him who will go astray, and guides to Himself those who turn (to Him). Those who believe and whose hearts are set at rest by the remembrance of Allah; now surely by Allah’s remembrance are the hearts set at rest.”

[20. Surah Taha : Ayah 14]

“Surely I am Allah, there is no god but 1, therefore serve Me and keep up prayer for My remembrance.”

[29. Surah Al-Ankabut : Ayah 45]

“Certainly the remembrance of Allah is the greatest, and Allah knows what you do.”

[33. Surah Al-Ahzab : Ayah 35,41-42]

“And the men who remember Allah much and the women who remember– Allah has prepared for them forgiveness and a mighty reward.”

“O you who believe! remember Allah, remembering frequently, And glorify Him morning and evening.”

[62. Surah Al-Juma : Ayah 10]

“Remember Allah much, that you may be successful.”

[63. Surah Al-Munafiqun : Ayah 9]

“O you who believe! let not your wealth, or your children, divert you from the remembrance of Allah; and whoever does that, these are the losers.”

[73. Surah Al-Muzzammil : Ayah 8]

“And remember the name of your Lord and devote yourself to Him with (exclusive) devotion.”

[74. Surah Al-Muddathhir : Ayah 3]

“And your Lord do magnify.”

[76. Surah Al-Insan : Ayah 25-26]

“And glorify the name of your Lord morning and evening. And during part of the night adore Him, and give glory to Him (a) long (part of the) night.”

[94. Surah Al-Sharh : Ayah 7-8]

“So when you are free, nominate. And make your Lord your exclusive object.”

[110. Surah Al-Nasr : Ayah 3]

“Then celebrate the praise of your Lord, and ask His forgiveness; surely He is oft-returning (to mercy).”

[Sahih Hadith: Volume 8, Book 75, Number 416]

Narrated ‘Abu Musa (Radi Allah Anhu) : The Prophet Muhammad (sal-allahu-alleihi-wasallam) said, “The example of the one who remembers (glorifies the Praises of his Lord) Allah in comparison to the one who does not remember (glorifies the Praises of his Lord) Allah, is that of a Living creature to a Dead one.”

Sadqa

Agar bachpun main hame koi chot lug jaati to dadi kehtiN: “Chalo achha huwa, bari musibat ka saqda huwa”.

Kiya ye sach hoga ke zindagi main darasl koi chota nuqsan is baat ka istaa’ra hota hai ke hamara koi bara nuqsan hone wala tha magar qudrat ne hamari bachat ker di!

Everything created solves a problem.

“Everything created solves a problem.” – Mike Murdock

Your eyes see, your ears hear, your nose smells. Doctors solve medical problems, lawyers solve legal problems. Your shirt keeps you warm; your watch tells you the time. Everything created solves a problem.

I believe you were created to solve a problem and your success is dependent on your ability to discover that problem and solve it. Finding this problem is discovering your purpose, solving this problem is accomplishing your purpose.

Today I want to discuss 7 questions that will help you discover your purpose.

7 Questions to Help You Discover Your Purpose:

1.What do you love to do?
Your purpose is directly related to what you love. The most purposeful people in the world spend their time doing what they love. Bill Gates loves computers, Oprah loves helping, and Edison loved to invent. What do you love? Is it reading, writing, playing sports, singing, painting, business, selling, talking, listening, cooking, fixing broken things. Whatever you love, it’s directly related to your purpose.

2.What do you do in your free time?
Whatever you do in your free time is a sign of your purpose. If you like to paint in your free time, then that’s a “sign.” If you like to cook, then that’s a sign, if you like to talk, then that’s a sign. Follow the signs.

I love to learn in my free time, I have an obsession with learning. Of course, this is a sign of my purpose …which is to teach.

What do you do in your free time? What would you like to do if you had more free time? Would you teach dance a class or a business course?

3.What do you notice?
A salesman notices an uninspiring sales pitch, a hairdresser notices someone’s hair is out of place, a designer notices a awkward outfit, a mechanic hears something wrong with your car, a singer notices when someone’s voice is out of pitch, a speaker notices an uninspiring speech.

What do you notice? What annoys you?

I notice when information is not presented in a clear, practical, and simplistic form. This is a sign of my purpose. I’m obsessed with practicality and simplicity. When I teach, I try to teach in a very practical and simple way.

4.What do you love to learn about?
What kinds of books or magazines do you like to read? Do you read about cooking, business, or fishing, whatever it is, it’s a sign. I’m always reading about self development, particularly as it relates to successful living. Of course this is also related to my purpose, which is to teach people how to succeed.

What do you love to learn about? If you have a library, what books do you have in that library?

5.What sparks your creativity?
Is it painting, designing, building, speaking, or selling?

Writing sparks my creativity. I often feel like a sculptor or painter when I write. I carefully sculpt ideas on paper, ideas that impacts people’s lives; it’s a very creative process. Each word must be crafted for maximum impact.

What sparks your creativity, do you have ideas for new food recipes, or a new creative automotive Web site?

6.What do people compliment you on?
What “fans” do you have? If no one likes your cooking, then you probably won’t make a good chef.

Do people compliment your writing, or your singing, or your amazing ability to sell? Once again, this is a sign of your purpose.

People always compliment me on my speaking ability, something I was too frightened to do for most of my life. I find it intriguing that my purpose was hidden in something that I was frightened to do.

7.What would you do if you knew you couldn’t fail?
Would you start a salon, go on American Idol, start your own business? What would you do if success was guaranteed? It’s a sign to your purpose.

I’d do what I’m doing right now, which is teaching. Nothing is more important to me, what about you?
In Closing
These questions are signs to your purpose. They’re pointing you in the direction of a specific purpose. One question alone doesn’t tell the whole story; you must look at all of your answers collectively. Each answer is a piece of the “purpose” puzzle.

src = http://www.dumblittleman.com

One’s Heart

A person’s world is only as big as their heart.

 ————————————————————-

 We must accept finite disappointment, but we must never lose infinite hope. .

forgiving and forgetting.

I would like to hear your opinion on forgiving and forgetting. When people hurt you: do you forgive and forget? Or do you just forgive but don’t forget?

People who tend to be seen as good – usually forgive and forget. But I don’t think that this is a question of being good or evil – I think the point is about being just. So maybe the tendency to forgive and forget those that have hurt us is not necessarily a good thing. Because if we don’t do anything to people that hurt us – they will probably continue on hurting others.

This is the way I see it and I would like to hear you about this subject and also your own experiences.

mujhe sochne de

merii naakaam muhabbat kii kahaani mat chheR
apnii mayoos umaNgoN ka fasaanaa na sunaa
zindagii talKh sahii, zahar sahii, sam* hi sahii
dard-o-aazaar sahii, jabr sahii, Gham hi sahii
lekin is dard-o-Gham-o-jabr kii vus’at ko to dekh
zulm kii chhaaNv meiN dam toRtii Khalqat ko to dekh
apnii mayoos umaNgoN ka fasaanaa na sunaa
merii naakaam muhabbat ki kahaanii mat chheR

jalsa-gaahoN meiN ye vahshat-zadah sahme aNboh
rahguzaaroN pe falaakat zadah logoN ke giroh
bhook aur pyaas se paz-murdah siyaah-faam zamiiN
teerah-o-taar makaaN, muflis-o-beemaar makeeN
nau’e-insaaN meiN ye sarmaayaa-o-mehnat ka tazaadd
aman-o-tahzeeb ke parcham tale qaumoN ka fasaad
har taraf aatish-o-aahan ka ye sailaab-e-azeem
nit naye tarz pe hoti huii duniyaa taqseem

lahlahaate hue khetoN pe javaani ka samaaN
aur dahqaan ke chhappaR meiN na battii na dhuaaN
ye falak-bos mileiN, dilkash-o-seemeeN baazaar
ye Ghalaazat ye jhapaT_te hue bhooke baazaar
door saahil pe vo shaffaaf makaanoN ki qataar
sarsaraate hue pardoN meiN simaT_te gulzaar
dar-o-deevaar pe anvaar ka sailaab ravaaN
jaise ik shaayar-e-madhosh ke KhwaaboN ka jahaaN

ye sabhii kyoN hai ye kyaa hai, mujhe kuchh sochne de
kaun insaaN ka Khudaa hai, mujhe kuchh sochne de
apni maayuus umangoN ka fasaanaa na sunaa
merii naakaam muhabbat ki kahaanii mat chheR

Glossary:

talKh = bitter
sam = poison
dard-o-aazaar = pain and troubles
jabr = opression
dard-o-Gham-o-jabr = pain, sorrows and opression
vus’at = open space, big open space
Khalqat = the world
jalsa-gaahoN = the places of celebrations
vahshat-zadah = inflicted with fear
aNboh (or amboh) = crowd, mob
rahguzaaroN = roads
falaakat-zadah = mistry struck, evil struck
giroh = crowd, mob
paz-murdah = withered, decayed
siyaah-faam = blackened
teerah-o-taar = dark
makaaN = houses
muflis-o-beemaar = poor and sick
makiiN = residents
nau’e-insaaN = mankind
sarmaayaah = reward
mehnat = work
tazaadd = contradiction, inconsistency
aman-o-tehzeeb = peace and civilization
parcham = flag? (and from the dictionary: the fringed bunch or tassel of a spear or lance, or of a pair of colours)
qaumoN = sects
fasaad = fights, arguments
aatish-o-aahan = fire and iron
sailaab-e-azeem = great flood
tarz = fashion, style of conduct, manner of way
taqseem = division
dahqaan = villager
falak-bos = kissing the skies
mileiN = mills
dilkash-o-seemeeN = beautiful and delicate (seemeeN means made of silver)
Ghalaazat = roughness, rudeness
shaffaaf = clear… (white / clean?)
qataar = line
anvaar = light

Muhabbat ki haqeeqat – II

muhabat aik afaqi jazba ha. is k beshumar roop hoty han. ik insan ki dosray insan se muhabat,dosto ki muhabat,behan bhai ki muhabat, ma baap ki muhabat, aulad ki muhabat, aur SAB SE BARH KAR MAKHLOOQ KI APNY KHALIQ SE MUHBBAT. ye sab muhabbaten han jo insan karta ha, karta rahy ga. Ghor karo to in me koi be-gharz nahi ha. insan kitna hi be-gharz ho, magar kisi dosray insan se muhabat karty huay mukamal tor par be-gharz nahi ho sakta.koi gharz na ho to tanhae door karny ki gharz to ha. Akyla to koi nahi reh sakta. insaan mashrati janwar ha. to taluq rakhny ki gharz to aik bari sachae ha. DOSTI KA BHI YAHI HAAL HA. koi HAM KHAYAL, jo acha b lagta ho. is se mil kar bat kar ky dil khush hota ha. Gharz to Hue na. aur ikhtilaf ho jaiey ,,,, sangeen nouyat ka ikhtilaf ho jiaiye to ADMI is dost ko chor dyta ha. koi aur dost talash kar lyta ha. Bhai dost se bari zarurat hota ha. Ak bohot apna, jo har kary waqt me sath rahy…. hamara dukh bantay… tasaali dy. Lakin aj kal bohot kamm bhai bhai hony ka farz pora karty han. aur muhabbat , ye to bohot mushkil se milti ha. ya milti hi nahi.
Maa baap se aulaad ki gharz hoti ha, bulkay is ki had nahi hoti. aadmi ko itna kuch milta ha maa baap se. wo in se muhabbat na kary to kia kary aur KHUDA ki MUHABBAT! wo to ha hi MOHTAAJ ki muhabbat jo wo is se karta ha, jo is ki har zarurat pori karta ha. wo maa baap se BARH KAR KHAYAL RAKHNY WALA HA. ZARURATEN PORI KARNY WALA HA. Bss MAA BAAP KI AULAD SE MUHABBAT SE SE MUKHTALIF HA. Magar nihayet be-gharz hony ka bawajood gharz se bilkul paak wo bhi nahi ha. BAAP ko aulad se aik masoom c gharz hoti ha k wo is ki nasal ko agay barhaiye ga, marnay k bad is k nam ko zinda rakhy . Haan maa ki muhabbat bilkul be-gharz ha, is ka bss chaly to aulaad ka har dukh khud ly ly aur usay dukh se mehfooz kar dy.

KHALIQ KI ALLAH KI MUHABBAT hi sab se khalis , sab se be-gharz aur baak muhabbat ha, kiun k isay kisi sy kuch nahi chahiyey. wo sab kuch banany wala ha har chez ka malik ha. koi usay kuch dy nai sakta, isay na hi zarurat ha. lakin humen us ki rehmat aur barkat ki zaruat ha.

Muhabbat admi ALLAH se kary ya is ki makhlooq se, wo ibadat hoti ha. shart ye ha k wo Paak mohabbat ho aur muhabbat karny wala har pal ye yaad rakhy k isay aur is k mehboob ko ALLAH ne banaya ha… Ehsaan kia. Aur yahi nahi, in k dilo me muhabbat b isi na daali, warna wo yek-ja nahi ho sakty thy. Ye to ALLAH ka ehsaan ha. Is KHAYAL K SATH MUHBBAT IBADAT HO GE. AUR IS K BAGHER HAWIS.

Ishq ka sheen by aleemul haq haqi