What keeps you awake at night?

“Am I honoring my purpose?”

“Am I in control of my life?”

“Is my career going in the right direction?”

“Do I have enough cash in the bank?”

“Am I doing enough for the people around me?”

مرد گھر کا نگران و کفيل ہے اور عورت پھول

مرد گھر کا نگران و کفيل ہے

اسلام نے مرد کو ’’قَوَّام‘‘(گھر کا نگران اور کفيل) اور عورت کو ’’ريحان‘‘(پھول) قرار ديا ہے۔ نہ يہ مرد کي شان ميں گستاخي ہے اور نہ عورت سے بے ادبي، نہ يہ مرد کے حقوق کو کم کرنا ہے اور نہ عورت کے حقوق کي پائمالي ہے بلکہ يہ ان کي فطرت و طبيعت کو صحيح زاويے سے ديکھنا ہے۔

 امور زندگي کے ترازو ميں يہ دونوں پلڑے برابر ہيں۔ يعني جب ايک پلڑے ميں (عورت کي شکل ميں) صنف نازک، لطيف و زيبا احساس اور زندگي کے ماحول ميں آرام و سکون اور معنوي زينت و آرائش کے عامل کو رکھتے ہيں اور دوسرے پلڑے ميں گھر کے مدير، محنت و مشقت کرنے والے بازوں اور بيوي کي تکيہ گاہ اور قابل اعتماد ہستي کو (شوہر کي شکل ميں) رکھتے ہيں تو يہ دونوں پلڑے برابر ہو جاتے ہيں۔ نہ يہ اُس سے اونچا ہوتا ہے اور نہ وہ اس سے نيچے۔

کتاب کا نام : طلوع عشق

مصنف :  حضرت آيۃ اللہ العظميٰ خامنہ اي

ماضی کا البم

انسانی زندگی میں بعض اوقات ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ آدمی کو کسی چیز سے ایسی چڑ ہو جاتی ہےکہ اس کا کوئی خاص جواز نہیں ہوتا مگر یہ ہوتی ہے- اور میں اُن خاص لوگوں میں سے تھا جس کو اس بات سے چڑ تھی کہ “دروازہ بند کر دو-“ بہت دیر کی بات ہے کئی سال پہلے کی، جب ہم سکول میں پڑھتے تھے، تو ایک انگریز ہیڈ ماسٹر سکول میں آیا- وہ ٹیچرز اور طلباء کی خاص تربیت کے لئے متعین کیا گیا تھا – جب بھی اُس کے کمرے میں جاؤ وہ ایک بات ہمیشہ کہتا تھا- “Shut The Door Behind You ”
پھر پلٹنا پڑتا تھا اور دروازہ بند کرنا پڑتا تھا-

ہم دیسی آدمی تو ایسے ہیں کہ اگر دروازہ کُھلا چھوڑ دیا تو بس کُھلا چھوڑ دیا، بند کر دیا تو بند کر دیا، قمیص اُتار کے چارپائی پر پھینک دی، غسل خانہ بھی ایسے ہی کپڑوں سے بھرا پڑا ہے، کوئی قاعدہ طریقہ یا رواج ہمارے ہاں نہیں ہوتا کہ ہر کام میں اہتمام کرتے پھریں-

یہ کہنا کہ دروازہ بند کر دیں، ہمیں کچھ اچھا نہیں لگتا تھا اور ہم نے اپنے طورپر کافی ٹریننگ کی اور اُنہوں نے بھی اس بارے میں کافی سکھایا لیکن دماغ میں یہ بات نہیں آئی کہ بھئی دروازہ کیوں بند کیا جائے؟ رہنے دو ،کُھلا کیا کہتا ہے، آپ نے بھی اپنے بچّوں، پوتوں، بھتیجوں کو دیکھا ہو گا وہ ایسا کرنے سے گھبراتے ہیں- بہت سال پہلےجب میں باہر چلا گیا تھا اور مجھے روم میں رہتے ہوئے کافی عرصہ گُزر گیا وہاں میری لینڈ لیڈی ایک “درزن“ تھی جو سلائی کا کام کرتی تھی- ہم تو سمجھتے تھے کہ درزی کا کام بہت معمولی سا ہے لیکن وہاں جا کر پتہ چلا کہ یہ عزّت والا کام ہے- اُس درزن کی وہاں ایک بوتیک تھی اور وہ بہت با عزّت لوگ تھے-

میں اُن کے گھر میں رہتا تھا- اُن کی زبان میں درزن کو “سارتہ” کہتے ہیں میں جب اُس کے کمرے میں داخل ہوتا اُس نے ہمیشہ اپنی زبان میں کہا”دروازہ بند کرنا ہے“ وہ چڑ جو بچپن سے میرے ساتھ چلی تھی وہ ایم اے پاس کرنے کے بعد، یونیورسٹی کا پروفیسر لگنے کے بعد بھی میرے ساتھ ہی رہی- یہ بات بار بار سُننی پڑتی تھی تو بڑی تکلیف ہوتی، اور پھر لوٹ کے دروازہ بند کرنا، ہمیں تو عادت ہی نہیں تھی-کبھی ہم آرام سے دھیمے انداز میں گروبا پائی سے کمرے میں داخل ہی نہیں ہوئے، کبھی ہم نے کمرے میں داخل ہوتے وقت دستک نہیں دی، جیسا کہ قران پاک میں بڑی سختی سے حُکم ہے کہ جب کسی کے ہاں جاؤ تو پہلے اُس سے اجازت لو، اور اگر وہ اجازت دے تو اندر آؤ، ورنہ واپس چلے جاؤ- پتہ نہیں یہ حُکم اٹھارویں پارے میں ہے کہ اُنتیسویں میں کہ”اگر اتّفاق سے تم نے اجازت نہ لی ہو اور پھر کسی ملنے والے کے گھر چلے جاؤ اور وہ کہ دے کہ میں آپ سے نہیں مل سکتا تو ماتھے پر بل ڈالے بغیر واپس آ جاؤ-“

کیا پیارا حُکم ہے لیکن ہم میں سے کوئی بھی اس کو تسلیم نہیں کرتا- ہم کہتے ہیں کہ اندر گُھسا ہوا ہے اور کہ رہا ہے کہ میں نہیں مل سکتا، ذرا باہر نکلے تو اس کو دیکھیں گے وغیرہ وغیرہ، ہماری انا اس طرح کی ہے اور یہ کہنا کہ”دروازہ بند کر دیں“ بھی عجیب سی بات لگتی ہے- ایک روز میں نے بار بار یہ سُننے کے بعد روم میں زچ ہو کر اپنی اُس لینڈ لیڈی سے پوچھا کہ آپ اس بات پر اتنا زور کیوں دیتی ہیں- میں ایک بات تو سمجھتا ہوں کہ یہاں (روم میں) سردی بہت ہے، برف باری بھی ہوتی ہے کبھی کبھی اور تیز”وینتو“ (رومی زبان کا لفظ مطلب ٹھنڈی ہوائیں چلنا) بھی ہوتی ہیں اور ظاہر ہے کہ کُھلے ہوئے دروازے سے میں بالکل شمشیر زنی کرتی ہوئی کمروں میں داخل ہوتی ہیں- یہاں تک تو آپ کی دروازہ بند کرنے والی فرمائش بجا ہے لیکن آپ اس بات پر بہت زیادہ زور دیتی ہیں- چلو اگرکبھی دروازہ کُھلا رہ گیا اور اُس میں سے اندر ذرا سی ہوا آگئی یا برف کی بوچھاڑ ہوگئی تو اس میں ایسی کون سی بڑی بات ہے-

اس نے کہا کہ تم ایک سٹول لو اور یہاں میرے سامنے بیٹھ جاؤ (وہ مشین پر کپڑے سی رہی تھی ) میں بیٹھ گیا وہ بولی دروازہ اس لئے بند نہیں کرایا جاتا اور ہم بچپن سے بچّوں کو ایسا کرنے کی ترغیب اس لئے نہیں دیتے کہ ٹھنڈی ہوا نہ آجائے یا دروازہ کُھلا رہ گیا تو کوئی جانور اندر آ جائے گا بلکہ اس کا فلسفہ بہت مختلف ہے اور یہ کہ اپنا دروازہ، اپنا وجود ماضی کے اوپر بند کر دو، آپ ماضی میں سے نکل آئے ہیں اور اس جگہ پر اب حال میں داخل ہو گئے ہیں- ماضی سے ہر قسم کا تعلق کاٹ دو اور بھول جاؤ کہ تم نے کیسا ماضی گُزارا ہے اور اب تم ایک نئے مُستقبل میں داخل ہو گئے ہو- ایک نیا دروازہ تمہارے آگے کُھلنے والا ہے، اگر وہی کُھلا رہے گا تو تم پلٹ کر پیچھے کی طرف ہی دیکھتے رہو گے- اُس نے کہا کہ ہمارا سارے مغرب کا فلسفہ یہ ہے اور دروازہ بند کر دو کا مطلب لکڑی، لوہے یا پلاسٹک کا دروازہ نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب تمہارے وجود کے اوپر ہر وقت کُھلا رہنے والا دروازہ ہے- اُس وقت میں ان کی یہ بات نہیں سمجھ سکا جب تک میں لوٹ کے یہاں (پاکستان) نہیں آگیااور میں اپنےجن”بابوں“ کا ذکر کیا کرتا ہوں ان سے نہیں ملنے لگا۔ میرے”بابا“ نے مومن کی مجھے یہ تعریف بتائی کہ مومن وہ ہے جو ماضی کی یاد میں مبتلا نہ ہو اور مستقبل سے خوفزدہ نہ ہو- ( کہ یا اللہ پتہ نہیں آگے چل کے کیا ہونا ہے ) وہ حال میں زندہ ہو

آپ نے ایک اصلاح اکثر سُنی ہو گی کہ فلاں بُزرگ بڑے صاحبِ حال تھے- مطلب یہ کہ اُن کا تعلق حال سے تھا وہ ماضی کی یاد اور مستقبل کی فکر کے خوف میں مبتلا نہیں تھے- مجھے اُس لینڈ لیڈی نے بتایا کہ دروازہ بند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اب تم ایک نئے عہد، ایک نئے دور ایک نئے Era اور ایک اور وقت اور زمانے میں داخل ہو چکے ہیں اور ماضی پیچھے رہ گیا ہے- اب آپ کو اس زمانے سے فائدہ اُٹھانا ہے اور اس زمانے کے ساتھ نبرد آزمائی کرنی ہے ۔جب میں نے یہ مطلب سُنا تو ہم چکاچوند گیا کہ میں کیا ہم سارے ہی دروازہ بند کرنے کا مطلب یہی لیتے ہیں جو عام طور پر ہو یا عام اصطلاح میں لیا جاتا ہے- بچّوں کو یہ بات شروع سے سکھانی چاہئے کہ جب تم آگے بڑھتے ہو، جب تم زندگی میں داخل ہوتے ہو، کسی نئے کمرے میں جاتے ہو تو تمہارے آگے اور دروازے ہیں جو کُھلنے چاہئیں- یہ نہیں کہ تم پیچھے کی طرف دھیان کر کے بیٹھے رہو-

جب اُس نے یہ بات کہی اور میں نے سُنی تو پھر میں اس پر غور کرتا رہا اور میرے ذہن میں اپنی زندگی کے واقعات، ارد گرد کے لوگوں کی زندگی کے واقعات بطور خاص اُجاگر ہونے لگے اور میں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ ہم لوگوں میں سے بہت سے لوگ آپ نے ایسے دیکھے ہوں گے جو ہر وقت ماضی کی فائل بلکہ ماضی کے البم بغل میں دبائے پھرتے ہیں- اکثر کے پاس تصویریں ہوتی ہیں- کہ بھائی جان میرے ساتھ یہ ہو گیا، میں چھوٹا ہوتا تھا تو میرے ابّا جی مجھے مارتے تھےسوتیلی ماں تھی، فلاں فلاں، وہ نکلتے ہی نہیں اس یادِ ماضی سے- میں نے اس طرح ماضی پر رونے دھونے والے ایک دوست سے پوچھا آپ اب کیا ہیں؟ کہنے لگے جی میں ڈپٹی کمشنر ہوں لیکن رونا یہ ہے کہ جی میرے ساتھ یہ زمانہ بڑا ظلم کرتا رہا ہے- وہ ہر وقت یہی کہانی سُناتے- ہمارے مشرق میں ایشیاء، فارس تقریباً سارے مُلکوں میں یہ رواج بہت عام ہے اور ہم جب ذکر کریں گے اس”دردناکی“ کا ذکر کرتے رہیں گے- ہماری ایک آپا سُکیاں ہیں- جو کہتی ہیں کہ میری زندگی بہت بربادی میں گزری بھائی جان، میں نے بڑی مشکل سے وقت کاٹا ہے- اب ایک بیٹا تو ورلڈ بینک میں ملازم ہے ایک یہاں چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ ہے- اہک بیٹا سرجن ہے ( ان کے خاوند کی بھی اچھی تنخواہ تھی، اچھی رشوت بھی لیتے رہے،اُنہوں نے بھی کافی کامیاب زندگی بسر کی ۔)

میں نے ایک بار اُن سے پوچھا تو کہنے لگے بس گُزارا ہو ہی جاتا ہے، وقت کے تقاضے ایسے ہوتے ہیں- میں نے کہا کہ آدھی رشوت تو آپ سرکاری افسر ہونے کے ناطے دے کر سرکاری سہولتوں کی مد میں وصول کرتے ہیں مثلاً آپ کی اٹھارہ ہزار روپے تنخواہ ہو گی تو ایک کار ایک دوسری کار، پانچ نوکر، گھر، یہ اللہ کے فضل سے بہت بڑی بات ہے کیا اس کے علاوہ بھی چاہیئے- وہ بولے ہاں اس کے علاوہ بھی ضرورت پڑتی ہے لیکن ہم نے بڑا دُکھی وقت گُزارا ہے، مشکل میں گُزارا، ہمارا ماضی بہت دردناک تھا- وہ ماضی کا دروازہ بند ہی نہیں کرتے- ہر وقت یہ دروازہ نہ صرف کُھلا رکھتے ہیں بلکہ اپنے ماضی کو ساتھ اُٹھائے پھرتے ہیں- میں نے بہت سے ایسے لوگ دیکھے، آج کے بعد آپ بھی غور فرمائیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ ان کے پاس اپنے ماضی کی رنگین البمیں ہوتی ہیں- ان میں فوٹو لگے ہوئے ہوتے ہیں اور دُکھ درد کی کہانیاں بھری ہوئی ہوتی ہیں- اگر وہ دُکھ درد کی کہانیاں بند کر دیں، کسی نہ کسی طور پر”تگڑے“ ہو جائیں اور یہ تہیہ کر لیں کہ اللہ نے اگر ایک دروازہ بند کیا تو وہ اور کھولے گا، تو یقیناً اور دروازے کُھلتے جائیں گے-

اگر آپ پلٹ کر پیچھے دیکھتے جائیں گے اور اُسی دروازے میں سے جھانک کے وہی گندی مندی، گری پڑی چیزوں کو اکٹھا کرتے رہیں گے تو آگے نہیں جا سکتے- اس طرح سے مجھے پتہ چلا کہ Shut behind the door کا مطلب یہ نہیں ہے جو میں سمجھتا رہا ہوں- وہ تو اچھا ہو گیا کہ میں اتفاق سے وہاں چلا گیا ورنہ ہمارے جو انگریز اُستاد آئے تھے اُنہوں نے اس تفصیل سے نہیں بتایا تھا- آپ کو ہم کو، سب کو یہ کوشش ضرور کرنی چاہئے کہ ماضی کا پیچھا چھوڑ دیں-

ہمارے بابے، جن کا میں اکثر ذکر کرتا ہوں، بار بار کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا، اُن کے ڈیروں پر آپ جا کر دیکھیں، وہ ماضی کی بات نہیں کریں گے- وہ کہتے ہیں کہ بسم اللہ آپ یہاں آگئے ہیں، یہ نئی زندگی شروع ہو گئی ہے، آپ بالکل روشن ہو جائیے، چمک جایئے- جب ہمارے جیسے نالائق بُری ہیئت رکھنے والے آدمی اُن کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، تو وہ نعرہ مار کے کہتے ہیں”واہ واہ! رونق ہو گئی، برکت ہوگئی، ہمارے ڈیرے کی کہ آپ جیسے لوگ آ گئے-“ اب آپ دیکھئے ہمارے اوپر مشکل وقت ہے، لیکن سارے ہی اپنے اپنے انداز میں مستقبل سے خوفزدہ رہتے ہیں کہ پتا نہیں جی کیا ہوگا اور کیسا ہوگا ؟ میں یہ کہتا ہوں کہ ہمیں سوچنا چاہئے- ہم کوئی ایسے گرے پڑے ہیں، ہم کوئی ایسے مرے ہوئے ہیں، ہمارا پچھلا دروازہ تو بند ہے، اب تو ہم آگے کی طرف چلیں گے اور ہم کبھی مایوس نہیں ہوں گے، اس لئے کہ اللہ نے بھی حکم دے دیا ہے کہ مایوس نہیں ہونا، اس لئے حالات مشکل ہوں گے، تکلیفیں آئیں گی، بہت چیخیں نکلیں گی- لیکن ہم مایوس نہیں ہوں گے، کیونکہ ہمارے اللہ کا حکم ہے اور ہمارے نبیﷺ کے ذریعے یہ فرمان دیا گیا ہے کہ لَا تَـقنُـطـومِـن رحـمـۃِ اللہ (“یعنی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں“)- بعض اوقات یہ پتا نہیں چلتا کہ اللہ کی رحمت کے کیا کیا رُوپ ہوتے ہیں- آدمی یہ سمجھتا ہے میرے ساتھ یہ زیادتی ہو رہی ہے، میں Demote ہو گیا ہوں، لیکن اس Demote ہونے میں کیا راز ہے؟ یہ ہم نہیں سمجھ سکتے- اس راز کو پکڑنے کے لئے ایک ڈائریکٹ کنکشن اللہ کے ساتھ ہونا چاہئے اور اُس سے پوچھنا چاہئے کہ جناب! اللہ تعالٰی میرے ساتھ یہ جو مشکل ہے، میرے ساتھ یہ تنزّلی کیوں ہے؟ لیکن ہمیں اتنا وقت نہیں ملتا اور ہم پریشانی میں اتنا گُم ہوجاتے ہیں کہ ہمیں وقت ہی نہیں ملتا، ہمارے ساتھ یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ ہمیں بازاروں میں جانے کا وقت مل جاتا ہے، تفریح کے لئے مل جاتا ہے،دوستوں سے ملنے، بات کرنے کا وقت مل جاتا ہے- لیکن اپنے ساتھ بیٹھنے کا، اپنے اندر جھانکنے کا کوئی وقت میسر نہیں آتا-

آپ ہی نہیں، میں بھی ایسے لوگوں میں شامل ہوں- اگر میں اپنی ذات سے پوچھوں کہ”اشفاق احمد صاحب! آپ کو اپنے ساتھ بیٹھنے کا کتنا وقت ملتا ہے؟ کبھی آپ نے اپنا احتساب کیا ہے؟“تو جواب ظاہر ہے کہ کیا ملے گا- دوسروں کا احتساب تو ہم بہت کر لیتے ہیں-اخباروں میں، کالموں میں، اداریوں میں لیکن میری بھی تو ایک شخصیت ہے، میں بھی تو چاہوں گا کہ میں اپنے آپ سے پوچھوں کہ ایسا کیوں ہے، اگر ایسا ممکن ہو گیا، تو پھر خفیہ طور پر، اس کا کوئی اعلان نہیں کرنا ہے، یہ بھی اللہ کی بڑی مہربانی ہے کہ اُس نے ایک راستہ رکھا ہوا ہے، توبہ کا! کئی آدمی تو کہتے ہیں کہ نفل پڑھیں، درود وظیفہ کریں، لیکن یہ اُس وقت تک نہیں چلے گا، جب تک آپ نے اُس کئے ہوئے برے کام سے توبہ نہیں کر لی، توبہ ضروری ہے- جیسا آپ کاغذ لے کے نہیں جاتے کہ”ٹھپہ“ لگوانے کے لئے- کوئی “ٹھپہ“ لگا کر دستخط کردے گا اور پھر آپ کا کام ہو جاتا ہے، اس طرح توبہ وہ”ٹھپہ“ ہے جو لگ جاتا ہے اور بڑی آسانی سے لگ جاتا ہے،اگر آپ تنہائی میں دروازہ بند کر کے بیٹھیں اور اللہ سے کہیں کہ !”اللہ میاں پتہ نہیں مجھے کیا ہو گیا تھا، مجھ سے یہ غلطی، گُناہ ہو گیا اور میں اس پر شرمندہ ہوں-“ ( میں یہ Reason نہیں دیتا کہ Human Being کمزور ہوتا ہے، یہ انسانی کمزوری ہے یہ بڑی فضول بات ہے ۔ایسی کرنی ہی نہیں چاہئے) بس یہ کہے کہ مجھ سے کوتاہی ہوئی ہے اور میں اے خداوند تعالٰی آپ سے معافی چاہتا ہوں اور میں کسی کو یہ بتا نہیں سکتا، اس لئے کہ میں کمزور انسان ہوں- بس آپ سے معافی مانگتا ہوں-

اس طرح سے پھر زندگی کا نیا، کامیاب اور شاندار راستہ چل نکلتا ہے- لیکن اگر آپ اپنے ماضی کو ہی اُٹھائے پھریں گے، اُس کی فائلیں ہی بغل میں لئے پھریں گے اور یہی رونا روتے رہیں گے کہ میرے ابا نے دوسری شادی کر لی تھی، یا میرے ساتھ سختی کرتے رہے، یا اُنہوں نے بڑے بھائی کو زیادہ دے دیا، مجھےکچھ کم دے دیا، چھوٹے نے زیادہ لے لیا، شادی میں کوئی گڑ بڑ ہوئی تھی- اس طرح تو یہ سلسلہ کبھی ختم ہی نہیں ہوگا، پھر تو آپ وہیں کھڑے رہ جائیں گے، دہلیز کے اوپر اور نہ دروازہ کھولنے دیں گے، نہ بند کرنے دیں گے، بس پھنسے ہوئے رہیں گے- لیکن آپ کو چاہئے کہ آپ Shut Behind The Door کر کے زندگی کو آگے لے کر چلیں- آپ زندگی میں یہ تجربہ کر کے دیکھیں- ایک مرتبہ تو ضرور کریں- آپ میری یہ بات سننے کے بعد جو میری نہیں میری لینڈ لیڈی ، اُس اطالوی درزن کی بات ہے، اس پہ عمل کر کے دیکھیں-

اس کے بعد میں نے رونا چھوڑ دیا اور ہر ایک کے پاس جا کر رحم کی اور ہمدردی کی بھیک مانگنا چھوڑ دی- آدمی اپنے دُکھ کی البم دکھا کر بھیک ہی مانگتا ہے نا! جسے سُن کر کہا جاتا ہے کہ بھئی! غلام محمّد، یا نور محمّد یا سلیم احمد تیرے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی- اس طرح دو لفظ آپ کیا حاصل کر لیں گے اور سمجھیں گے کہ میں نے بہت کچھ سر کر لیا، لیکن وہ قلعہ بدستور قائم رہے گا، جسے فتح کرنا ہے- اگر آپ تہیہ کر لیں گے کہ یہ ساری مشکلات، یہ سارے بل، یہ سارے یوٹیلیٹی کے خوفناک بل تو آتے ہی رہیں گے، یہ تکلیف ساتھ ہی رہے گی، بچّے بھی بیمار ہوں گے، بیوی بھی بیمار ہوگی، خاوند کو بھی تکیلف ہو گی، جسمانی عارضے بھی آئیں گے، روحانی بھی، نفسیاتی بھی- لیکن ان سب کے ہوتے ہوئے ہم تھوڑا سا وقت نکال کراور مغرب کا وقت اس کے لئے بڑا بہتر ہوتا ہے، کیونکہ یوں تو سارے ہی وقت اللہ کے ہیں، اس وقت الگ بیٹھ کر ضرور اپنی ذات کے ساتھ کچھ گُفتگو کریں اور جب اپنے آپ سے وہ گُفتگو کر چکیں، تو پھر خفیہ طور پر وہی گُفتگو اپنے اللہ سے کریں، چاہے کسی بھی زبان میں، کیونکہ اللہ ساری زبانیں سمجھتا ہے، انگریزی میں بات کریں، اردو، پنجابی، پشتو اور سندھی جس زبان میں چاہے اس زبان میں آپ کا یقیناً اُس سے رابطہ قائم ہو گا اور اس سے آدمی تقویت پکڑتا ہے، بجائے اس کے آپ مجھ سے آ کر کسی بابے کا پوچھیں، ایسا نہیں ہے- آپ خود بابے ہیں- آپ نے اپنی طاقت کو پہچانا ہی نہیں ہے- جس طرح ہمارے جوگی کیا کرتے ہیں کہ ہاتھی کی طاقت سارے جانوروں سے زیادہ ہے۔ لیکن چونکہ اس کی آنکھیں چھوٹی ہوتی ہیں، اس لئے وہ اپنی طاقت، وجودکو پہچانتا ہی نہیں- ہاتھی جانتا ہی نہیں کہ میں کتنا بڑا ہوں- اس طرح سے ہم سب کی آنکھیں بھی اپنے اعتبار سے چھوٹی ہیں اور ہم نے اپنی طاقت کو، اپنی صلاحیت کو جانا ہی نہیں- اللہ میاں نے تو انسان کو بہت اعلٰی و ارفع بنا کر سجود و ملائک بنا کر بھیجا ہے- یہ باتیں یاد رکھنے کی ہیں کہ اب تک جتنی بھی مخلوق نے انسان کو سجدہ کیا تھا، وہ انسان کے ساتھ ویسے ہی نباہ کر رہی ہے- یعنی شجر، حجر، نباتات، جمادات اور فرشتے وہ بدستور انسان کا احترام کر رہے ہیں- انسان سے کسی کا احترام کم ہی ہوتا ہے- اب جب ہم یہاں بیٹھے ہیں، تو اس وقت کروڑوں ٹن برف کے۔ ٹو (K2) پر پڑی آوازیں دے کر پکار پکار کر سورج کی منّتیں کر رہی ہے کہ “ذرا ادھر کرنیں زیادہ ڈالنا، سندھ میں پانی نہیں ہے- جہلم، چناب خشک ہیں اور مجھے وہاں پانی پہنچانا ہے اور نوعِ انسان کو پانی کی ضرورت ہے-“ برف اپنا آپ پگھلاتی ہے اور آپ کو پانی دے کر جاتی ہے- صبح کے وقت اگر غور سے سوئی گیس کی آواز سُنیں اور اگر آپ اس درجے یا جگہ پر پہنچ جائیں کہ اس کی آواز سن سکیں، تو وہ چیخ چیخ کر اپنے سے سے نیچے والے کو کہ رہی ہوتی ہے”نی کُڑیو! چھیتی کرو- باہر نکلو، جلدی کرو تم تو ابھی ہار سنگھار کر رہی ہو- بچوں نے سکول جانا ہے- ماؤں کو انہیں ناشتہ دینا ہے- لوگوں کو دفتر جانا ہے- چلو اپنا آپ قربان کرو-“ وہ اپنا آپ قربان کر کے جل بھن کر آپ کا ناشتہ، روٹیاں تیار کرواتی ہے-

یہ سب پھل، سبزیاں اپنے وعدے پر قائم ہیں- یہ آم دیکھ لیں، آج تک کسی انور راٹھور یا کسی ثمر بہشت درخت نے اپنا پھل خود کھا کر یا چوس کر نہیں دیکھا- بس وہ تو انسانوں سے کئے وعدے کی فکر میں رہتا ہے کہ میرا پھل توڑ کر بلوچستان ضرور بھیجو، وہاں لوگوں کو آم کم ملتا ہے- اس کا اپنے اللہ کے ساتھ رابطہ ہے اور وہ خوش ہے- آج تک کسی درخت نے افسوس کا اظہار نہیں کیا- شکوہ نہیں کیا کہ ہماری بھی کوئی زندگی ہے، جی جب سے گھڑے ہیں، وہیں گھڑے ہیں- نہ کبھی اوکاڑہ گئے نہ کبھی آگے گئے، ملتان سے نکلے ہی نہیں- میرا پوتا کہتا ہے”دادا! ہو سکتا ہے کہ درخت ہماری طرح ہی روتا ہو، کیونکہ اس کی باتیں اخبار نہیں چھاپتا-“ میں نے کہا وہ پریشان نہیں ہوتا، نہ روتا ہے، وہ خوش ہے اور ہوا میں جھومتا ہے- کہنے لگا، آپ کو کیسے پتا ہے کہ وہ خوش ہے؟ میں نے کہا کہ وہ خوش ایسے ہے کہ ہم کو باقاعدگی سے پھل دیتا ہے- جو ناراض ہو گا ، تو وہ پھل نہیں دے گا-

میں اگر اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھوں، میں جو اشفاق احمد ہوں، میں پھل نہیں دیتا- میرے سارے دوست میرے قریب سے گُزر جاتے ہیں- میں نہ تو انور راٹھور بن سکا، نہ ثمر بہشت بن سکا نہ میں سوئی گیس بن سکا-

زمانۂ جاہلیت میں رائج شادی کے مختلف طریقے

شادی جو خاندانی زندگی کے قیام و تسلسل کا ادارہ ہے، اہل عرب کے ہاں اصول و ضوابط سے آزاد تھا جس میں عورت کی عزت و عصمت اور عفت و تکریم کا کوئی تصور کارفرما نہ تھا۔ اہل عرب میں شادی کے درج ذیل طریقے رائج تھے :

(1) زواج البعولۃ

یہ نکاح عرب میں بہت عام تھا۔ اس میں یہ تھا کہ مرد ایک یا بہت سی عورتوں کا مالک ہوتا۔ بعولت (خاوند ہونا) سے مراد مرد کا ’’عورتیں جمع کرنا‘‘ ہوتا تھا۔ اس میں عورت کی حیثیت عام مال و متاع جیسی ہوتی۔

(2) زواج البدل

بدلے کی شادی، اس سے مراد دو بیویوں کا آپس میں تبادلہ تھا۔ یعنی دو مرد اپنی اپنی بیویوں کو ایک دوسرے سے بدل لیتے اور اس کا نہ عورت کو علم ہوتا، نہ اس کے قبول کرنے، مہر یا ایجاب کی ضرورت ہوتی۔ بس دوسرے کی بیوی پسند آنے پر ایک مختصر سی مجلس میں یہ سب کچھ طے پاجاتا۔

(3) نکاح متعہ

یہ نکاح بغیر خطبہ، تقریب اور گواہوں کے ہوتا۔ عورت اور مرد آپس میں کسی ایک مدت مقررہ تک ایک خاص مہر پر متفق ہو جاتے اور مدت مقررہ پوری ہوتے ہی نکاح خود بخود ختم ہو جاتا تھا طلاق کی ضرورت بھی نہیں پڑتی تھی اور اس نکاح کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد ماں کی طرف منسوب ہوتی اسے باپ کا نام نہیں دیا جاتا تھا۔

(4) نکاح الخدن

دوستی کی شادی، اس میں مرد کسی عورت کو اپنے گھر بغیر نکاح، خطبہ اور مہر کے رکھ لیتا اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کر لیتا اور بعد ازاں یہ تعلق باہمی رضا مندی سے ختم ہو جاتا کسی قسم کی طلاق کی ضرورت نہیں تھی۔ اگر اولاد پیدا ہو جاتی تو وہ ماں کی طرف منسوب ہوتی۔

یہ طریقہ آج کل مغربی معاشرے میں بھی رائج ہے۔

(5) نکاح الضغینہ

جنگ کے بعد مال اور قیدی ہاتھ لگتے اور جاہلیت میں فاتح کے لیے مفتوح کی عورتیں، مال وغیرہ سب مباح تھا یہ عورتیں فاتح کی ملکیت ہو جاتیں اور وہ چاہتا تو انہیں بیچ دیتا چاہتا تو یونہی چھوڑ دیتا اور چاہتا تو ان سے مباشرت کرتا یا کسی دوسرے شخص کو تحفہ میں دے دیتا۔ یوں ایک آزاد عورت غلام بن کربک جاتی۔ اس نکاح میں کسی خطبہ، مہر یا ایجاب و قبول کی ضرورت نہ تھی۔

(6) نکاح شغار

وٹے سٹے کی شادی۔ یہ وہ نکاح تھا کہ ایک شخص اپنی زیرسرپرستی رہنے والی لڑکی کا نکاح کسی شخص سے اس شرط پر کر دیتا کہ وہ اپنی کسی بیٹی، بہن وغیرہ کا نکاح اس سے کرائے گا۔ اس میں مہر بھی مقرر کرنا ضروری نہ تھا اسلام نے اس کی بھی ممانعت فرما دی۔

(7) نکاح الاستبضاع

فائدہ اٹھانے کے لیے عورت مہیا کرنے کا نکاح۔ مراد یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی کو کسی دوسرے خوبصورت مرد کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے کے لیے بھیج دیتا اور خود اس سے الگ رہتا تاکہ اس کی نسل خوبصورت پیدا ہو اور جب اس کو حمل ظاہر ہو جاتا تو وہ عورت پھر اپنے شوہر کے پاس آجاتی۔

(8) نکاح الرہط

اجتماعی نکاح۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً دس آدمی ایک ہی عورت کے لیے جمع ہوتے اور ہر ایک اس سے مباشرت کرتا اور جب اس کے ہاں اولاد ہوتی تو وہ ان سب کو بلواتی اور وہ بغیر کسی پس وپیش کے آجاتے پھر وہ جسے چاہتی (پسند کرتی یا اچھا سمجھتی) اسے کہتی کہ یہ بچہ تیرا ہے اور اس شخص کو اس سے انکار کرنے کی اجازت نہ ہوتی تھی۔

(9) نکاح البغایا

فاحشہ عورتوں سے تعلق، یہ بھی نکاح رہط سے ملتا جلتا ہے مگر اس میں دو فرق تھے، ایک تویہ کہ اس میں دس سے زیادہ افراد بھی ہو سکتے تھے جبکہ نکاح رہط میں دس سے زیادہ نہ ہوتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ان مردوں سے بچہ منسوب کرنا عورت کا نہیں بلکہ مرد کا کام ہوتا تھا۔

مذکورہ طریقہ ہائے زواج سے ثابت اور واضح ہوتا ہے کہ عورت کی زمانۂ جاہلیت میں حیثیت مال و متاع کی طرح تھی اسے خریدا اور بیچا جاتا تھا۔

1. ابن حجر عسقلاني، فتح الباري شرح صحيح البخاري، کتاب النکاح، 9 : 182. 185
2. بخاري، الصحيح، کتاب النکاح، باب من قال : لا نکاح إلا بولي 5 : 1970، رقم : 4834
3. ابوداؤد، السنن، کتاب الطلاق، باب في وجوه النکاح 2 : 281، رقم : 2272
4. دارقطني، السنن الکبريٰ، 7 : 110
5. بيهقي، السنن الکبريٰ، 7 : 110
6. قرطبي، الجامع لأحکام القرآن، 3 : 120
7. قرطبي، الجامع لأحکام القرآن، 3 : 120

مذکورہ محدثین کرام نے درج بالا اقسام نکاح میں سے بعض کو بیان کیا ہے۔

3۔ بدکاری کے اعلانیہ اظہار کا رواج

قبل از اسلام اخلاقی اقدار کے انحطاط کا یہ عالم تھا کہ لوگ زمانۂ جاہلیت میں زنا کا اقرار بھی کیا کرتے تھے اور زنا عربی معاشرے میں بڑے پیمانے پر عام تھا بلکہ بہت سے لوگ عورت کو زنا پر مجبور بھی کیا کرتے تھے۔ مگر اسلام نے اسکی ممانعت کر دی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا.

’’اور اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو (خصوصاً) جب وہ پاک دامن رہنا چاہیں کہ تم دنیاوی زندگی کا سامان کماؤ۔‘‘

القرآن، النور، 24 : 33

اس آیت کا شان نزول یہ تھا کہ عبداللہ بن ابی بن سلول اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبور کیا کرتا تھا کہ مال کمائے اور ان کے ذریعے اپنی بڑائی حاصل کرے۔

اسی طرح زمانہ جاہلیت میں عربوں کی بیویوں کی کوئی تعداد متعین نہ تھی اور عرب ایک سے زائد شادیاں کرتے تھے اور اسکے ذریعے اپنی بڑائی کا اظہار کرتے۔ مگر اسلام نے چار بیویوں کی تعداد مقرر کر دی اسی طرح اسلام نے تعدد ازواج کے لیے بھی شرائط مقرر کیں۔ ارشاد ربانی ہے :

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُواْ فِي الْيَتَامَى فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلاَّ تَعُولُواْO

’’اگر تم کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو اور عورتوں سے جو تم کو پسند ہوں نکاح کر لو، دو دو عورتوں سے تین تین عورتوں سے اور چار چار عورتوں سے (مگر یہ اجازت عدل سے مشروط ہے) پس اگر تم کو احتمال ہو کہ عدل نہ رکھو گے تو پھر ایک ہی عورت سے نکاح کرو یا جو کنیزیں (شرعاً) تمہاری ملک میں ہوں، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہوo‘‘

القرآن، النساء، 4 : 3

ye mahaloN ye taKhtoN ye taajoN ki duniya

Going over the list of posted songs and nazms, I was surprised to see I hadn’t posted this song yet on this site.  This happens to be one of my favourite songs from one of my favourite movies ever, Pyaasa (Guru Dutt).  The song is simply amazing!  I think it fits in nicely with my recent posts regarding patriotic/nationalist songs by Sahir.

Enjoy the song, a video, courtesy the amazing posters at youtube, is posted below as well.

ye mahloN, ye taKhtoN, ye taajoN ki duniya
ye insaaN ke dushman, samaajoN ki duniya
ye daulat ke bhuukhe, rivaajoN ki duniyaa
ye duniyaa agar mil bhi jaaye to kyaa hai
ye duniyaa agar mil bhi jaaye to kyaa hai

har ik jism ghaayal, har ik ruuh pyaasii
nigaahoN me uljhan, diloN meiN udaasi
ye duniyaa hai yaa aalam-e-badhavaasii
ye duniyaa agar mil bhi jaaye to kyaa hai

jahaaN ik khilona hai insaaN ki hastii
ye bastii hai murda-parastoN ki bastii
yahaaN par to jeevan se hai maut sastii
ye duniyaa agar mil bhi jaaye to kyaa hai

javaani bhaTaktii hai bezaar bankar
javaaN jism sajate haiN baazaar bankar
jahaaN pyaar hota hai vyopaar bankar
ye duniyaa agar mil bhi jaaye to kyaa hai

ye duniyaa jahaaN aadmi kuchh nahiiN hai
vafaa kuchh nahiiN, dostii kuchh nahiiN hai
jahaaN pyaar ki qadr hi kuchh nahiiN hai
ye duniyaa agar mil bhi jaaye to kyaa hai

jalaa do ise  phuuNk DaaloN ye duniyaa
jalaa do jalaa do
jalaa do ise phuuNk DaaloN ye duniyaa
mere saamne se haTaa lo ye duniyaa
tumhaari hai tum hi sambhaalo ye duniyaa
ye duniyaa agar mil bhi jaaye to kyaa hai

2010 ka akhri din

This is my annual post, the last post of 2010. and here i will sum up, what happened in my life in that year and look ahead to what’s going to happen in 2011. I do this so I can have a handy record that I can get to in seconds.
First month of 2010 was not good, after the month of march that year starts bringing me alot of happiness, in my personal life as well as in my career. Thanks to ALLAH for each and everything.

Many days was very good, few days was bad. this year i got sick 4 times.
This Year, I read almost 52 great Informative books on Islam, Life, and Science.I learn alot from those books. and i have change my life too much, beacuse i have implemented 80% in my life, that i read from books. Books are the best friends of a person. I spend my free time with books.
This year i didnt watch Television. as compared to past years. Only 2% of my time of 2010 i sit infront of tv to watch it.
I spend alot of my time on internet, for reading articles and news all around the world.

This year was nice. and I pray ALLAH, the coming year 2011 bring alot of happiness for my loved one,family, and friends.and take away all our sorrows and problems from our life. Make us powerfull,happy and healthy,wealthy. and A good MUSLIMS as ALLAH says in QURAN. Ameen

کِھلتے دِل،کُھلتے خیال

محبت اِک حسین شے ہے مگر ہم اُسے نہیں جانتےحسن کی تلاش فہم سے ہے مگر ہم اُسے نہیں مانتے

            ہم اِس دُنیا میں آتے ہیں۔ زندگی میں سیکھتے ہیں اور پھر حاصل علم دوسروں کو سِکھا کر حقیقی راہ پر دُنیا سے کنار ہ کشی فرماتے ہیں۔ایسے ہی ہم ہر برس کچھ نیا جاننے کی کوشش میں بہت کچھ اپناتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ہم اپنا علم نئی نسل کو منتقل کرتے ہیں۔ زندگی میں ہم جو کچھ پاتے ہیں۔اُس کو بالآخر بانٹ کر جانا ہے، ورنہ ہمارے بعد ورثہ بٹ جاتا ہے۔ ہر وُہ شےءجس کی فطرت بانٹنا ہے، وُہ ہمیں زندگی کی حقیقت کی طرف لیجاتی ہے۔ علم بانٹو، محبت بانٹو، خوشی بانٹو، یہی حقیقی دولت ہے، بانٹو اور بڑھاﺅ۔

            انسان عمر بھر حسن کی تلاش میں رہتا ہے۔ حسن کیا ہے؟ ہر انسان کا اپنا اِک معیار ہے۔ اطمینانِ قلب اگر حسن ہے تو تسکینِ ذہن لطفِ افکار ہے۔ نگاہئِ حسن جس کو ملی، اُسکی دُنیا ہی بدلی۔ حسن ذات سے باہر ہے، کسی شےءکی مرکوزیت میں حسن تو ہو سکتا ہے، ممکن ہے وُہ آپ کا قلبی لگاﺅ ہو۔ قلبی واردات تو آپ کو ذات سے باہر لاتی ہے اور کسی اور ذات کی طرف لیجاتی ہے اور مخلوق خدا سے محبت کرنا سکھاتی ہے۔ خلقِ خداکی محبت آپ کو اللہ کی محبت کا رستہ دکھلاتی ہے۔ اللہ سے محبت کا رشتہ جب جڑ جائے تو خوف خوف نہیں رہتے بلکہ محبت بنتے ہیں۔

            حسن کا تصور ملنا خدا کی بہت بڑی دَین ہے۔ زندگی کی حقیقت میں خوبصورت رنگ انسان کے دِلکش رویے اور خیالات ہیں جو اَمن اور سکون قائم رکھتے ہیں۔

            انسان اپنی زندگی آئیڈئیل تھیوری یا ماڈل کے تحت گزارنا چاہتا ہے۔ ہمارے فلسفہ زندگی کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ ہم خامی کا خانہ اپنی تھیوری میں نہیں رکھتے۔ اپنے پیش کردہ ماڈل میں اگر حقیقی رنگ بھر دیں تو زندگی کو زندگی کے سبق سے سیکھا جاسکتا ہے۔

            ہم تنقیدی نگاہیں رکھتے ہیں، حالات کی بہتری حوصلہ اور رہنمائی سے ہوتی ہے۔ ہم زندگی کو بڑے ہی محدود کینوس سے دیکھتے ہیں۔ انسانی چہرہ پر موجود تاثرات کو نہیں سمجھتے۔ شک کی نگاہ سے دوسروں کو دیکھتے ہیں۔ مگر غیر جانبدار ہو کر شک دور نہیں کرتے ۔

            اکثر لوگ خود کو سیکولر کہتے ہیں۔ افسوس! میرا معاشرہ دو متضاد انتہاپرست گرہوں کی ضد کی شدت کے باعث بَٹ رہا ہے۔ کون جانے! سیکولر بننے کے لیے خود کو پہلے صوفی بنناہوتا ہے۔ لفظ صوف سے مراد کسی کے متعلق بغض ، حسد، کینہ اور نفرت دِل میں نہ رکھنا۔ اپنی مرضی مار دینا، اپنوں کی مرضی چھوڑ دینا اور حق بات کا بلا تعصب فیصلہ کرنا۔ اصل میں صوف ہے۔

            ہمارے رویے اس لیے بھی بگڑتے ہیں ہم چھوٹے دِل رکھتے ہیں اور بند نگاہوں کی طرح تنگ ذہنوں میں اُلجھے رہتے ہیں۔

            انسانی فطرت ہے کہ وُہ خواہشات رکھتا ہے، ایسے ہی خواہشات کی تکمیل غلطیوں کا مرتکب بناتی ہے۔ فطری خواہشات انسان کی معصوم خواہشات ہوتی ہے۔ ایسے ہی فطرتی غلطیاں معصوم انسانی غلطیاں ہوتی ہے۔ معصوم غلطیوں کو درگزر کریں بوقت ضرورت مصنوعی سرزنش سے غلطی کا احساس ضرور دلائیںمگر دِل کی میل صاف رکھیں۔ دِل بڑھنے لگے گا۔ برداشت آجائے گی۔

            زندگی کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھے مگر حالات کو دوسروں کی نگاہ سے دیکھے۔ ہم اختلافی مسائل کے بارے میں ایک رائے رکھتے ہیں۔ جن کے بارے میں آپ مخصوص سوچ (نفرت)رکھتے ہیں۔ اُن سے اُنکے خیالات بھی تو جانئے۔ تعصب سے پاک غیر جانبدارانہ سوچ ذہن کھولتی ہے۔ بڑھتے دِل، کُھلتے ذہن؛ بصیرت پاتے ہیں۔

گزشتہ برس میرے لفظوں نے اشعار کا روپ دھارانہیں جانتا ، کس کی دُعا سے میرا خیال خوب بڑھا

            قیادت کو بصیرت کو چاہیے۔ خیالات ذاتیات میں محو ہو جائیں تو خیالات کا محور بصیرت سے محروم ہوتا ہے۔ قیادت حالات کے بھنور میں دھنستی رہتی ہے۔

            حسن زندگی کو توازن دیتا ہے۔ زندگی گزارنا کوئی آئیڈئیل تھیوری نہیں۔ دوسروں کو سمجھ کر ردعمل یوں دینا کہ معاملات سلجھ جائیں۔ خوبی کو خامی کے ساتھ قبول کرنا، حسنِ سلوک ہے۔ دوست ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوتے۔ ہم اُن کو خامیوں سمیت قبول کرتے ہیں۔ اُنکی خامی ہمارے لیے خامی نہیں رہتی۔

            حسن الجبرا کی ایک ایسی مساوات ہے، جس کو ہم مساوی رکھتے ہیں۔ مصور تصویر میں متوازن رنگ بھرتا ہے، شاعر شعر کا وزن مدنظر رکھتاہے، مصنف جملوں میں تواز ن لاتا ہے، گلوگار آواز کے اُتار چڑھاﺅ میں توازن رکھتا ہے، متواز ن غذا صحت لاتی ہے، متوازن گفتگو سوچ کو نکھارتی ہے، متوازن عمل شخصیت بناتے ہیں۔ انسان کا حسن عمل اور سوچ کا توازن ہے تو انسانی شخصیت خوبیوں اور خامیوں کا مرقع ہے۔ ایسے ہی معاشرتی مساوات معاشرے کا حسن ہے۔

            اپنی زندگی کی نئی بہار کے موقع پر گزشتہ برس کی وُہ نئی نگاہ پیش کی۔ جو مجھ کو سلطان شہاب الدین غوریؒ سے عقیدت مندانہ ملاقات کے دوران ملی۔

لوگ اُنکے مرقد کو صرف ایک مقبرہ سمجھتے ہیں۔راہ ِ عقیدت میں جو نگاہ ملی، ہم اُس کومزار مانتے ہیں۔

            یا اللہ آج میری زندگی کا نیا برس شروع ہوچکا ہے، ہم سب پر اپنا کرم فرمانا۔ نئی راہوں کے نئے دروازے کھولنا۔ ہمارے خیالات میں حسن کی نگاہ اور محبت کا جذبہ برقرار رکھنا۔ ہماری راہ منزل میںاپنی رہنمائی جاری رکھنا۔ ہم سب کو اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بنانا۔ آپ سب کو کل سے شروع ہونے والا نیاعیسوی سال نیک تمناﺅں اور دُعا کے ساتھ مبارک ہو۔

 

 

بد نظری : زہر آلود تیر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مذہبِ اسلام نے کسی غیر محرم کو دیکھنے سے روکا ہے اور نگاہیں نیچی رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
’’ قل للمؤمنین یغضوا من ابصارهم و یحفظوا فروجهم‘‘
( سورۃ نور۔30)
مسلمان مردوں سے کہدیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔

آیت مبارکہ میں حفاظت فروج سے پہلے نظروں کی حفاظت کا حکم فرما یا ہے، کیونکہ نظروں کی بے احتیاطی ہی شرمگاہوں کی حفاظت میں غفلت کا سبب بنتی ہے۔

بد نظری کے معاملے میں جو حال مردوں کا ہے کم و بیش وہی حال عورتوں کا بھی ہے ،چونکہ مرد وعورت کا خمیرایک ہی ہے اور عورتیں عموماً جذباتی و نرم طبیعت ہوتی ہیں ،جلد متاثر ہوجاتی ہیں ان کی آنکھیں میلی ہو جائیں ،تو زیادہ فتنے جگاتی ہیں ۔اس لیے ان کو بھی واضح اور صاف الفاظ میں نگاہیں نیچی رکھنے کی نصیحت کی گئی ہے۔

’’وقل للمؤمنات یغضضن من ابصارهنّ و یحفظن فروجهن ‘‘
۔ (نور۔31)
مسلمان عورتوں سے کہدیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔

اوّل الذکر آیت میں مرد وعورت دونوں نگاہیں نیچی رکھنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کے حکم میں شامل تھے ،جس میں عام مومنین کو خطاب ہے،اور مومنین میں بالعموم عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔نگاہیں نیچی رکھنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کے حکم کی اہمیت کے پیش نظر ان کو بطور خاص دوبارہ نگاہیں نیچی رکھنے کو کہا گیا ہے، اسی سے مستدل یہ مسئلہ بھی ہے کہ جس طرح

مردوں کے لیے عورتوں کا دیکھنا منع ہے، اسی طرح عورتوں کے لیے مردوں کا دیکھنا مطلقاً ممنوع ہے۔

نگاہیں نیچی رکھنے کے فوائد بے شمار ہیں ،نگاہیں نیچی رکھنے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی اطاعت ہے ،جس سے اس زہر آلود تیر کا اثر دل تک نہیں پہونچتا ۔اللہ تعالیٰ سے انسیت و محبت بڑھتی ہے، دل کو قوت و فرحت حاصل ہو تی ہے ،دل کو نور حاصل ہو تا ہے مومن کی عقل و فراست بڑھتی ہے۔ دل کو ثبات و شجاعت حاصل ہو تی ہے ۔دل تک شیطان کے پہونچنے کا راستہ بند ہو جا تا ہے۔ دل مطمئن ہو کربہتر اور کا رآمد باتیں سوچتاہے۔

نظر اور دل کا بڑا قریبی تعلق ہے ،اور دونوں کے درمیان کا راستہ بہت مختصر ہے ۔دل کی اچھائی یا برائی کا دارو مدار نظر کی اچھائی و برائی پر ہے ۔جب نظر خراب ہو جاتی ہے، تو دل خراب
ہو جاتا ہے اس میں نجاستیں اور گندگیاں جمع ہو جاتی ہیں،اور اللہ کی معرفت اور محبت کے لیے اس میں گنجائش باقی نہیں رہتی ۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنی نگاہیں نیچی رکھتے ہیں اور وہ بڑی بڑی مصیبتو ں اور آفتوں سے بچے رہتے ہیں۔مومنوں کو بد نظری سے بچنا چاہئے اور نگاہیں نیچی رکھنی چاہئے تاکہ مرد و عورت عزت کے ساتھ زندگی گزاریں اور کوئی مصیبت ان پر نہ آئے، جس سے زندگی داؤ پر لگ جائے، اور ان کی اشرفیت جاتی رہے۔

بد نظری کرنے سے بہت سی برائیاں سر اٹھا تی ہیں، ابتدا میں آدمی اس کو ہلکی چیز سمجھ کر لطف اندوز ہو تا ہے، اور آگے چل کر عظیم گناہ کا مرتکب و ذلیل و رسواہو جاتا ہے ۔جس طرح چنگاری سے آگ کے شعلے بھڑکتے ہیں، اسی طرح بد نظری سے بڑی بڑی برائیاں جنم لیتی ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ العینان تزنیان و زناهما النظر‘‘ آنکھوں کا دیکھنا زنا ہے۔
اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے، زنا کے لیے راہ ہموار ہو تی ہے، اس سے گھر کی برکت ختم ہو تی ہے۔ بد نظری کرنے والے کو حسن عمل کی توفیق نہیں ہو تی۔ قوت حافظہ کمزور ہو جاتی ہے ۔یہ ذلت و رسوائی کا سبب بنتی ہے ،اس سے بے حیائی پھیلتی ہے ۔بد نظری سے انسان کے اندر خیالی محبوب کا تصور پیدا ہو جاتا ہے ،وہ خام آرزؤں اور تمناؤں میں الجھا رہتا ہے، اس کا دماغ متفرق چیزوں میں بٹ جاتا ہے، جس سے وہ حق اور ناحق کی تمیز نہیں کر پاتا۔اس سے دو دلوں میں شہوتوں کی آگ بھڑکتی ہے اور خوابیدہ جنسی جذبات میں جنبش ہوتی ہے۔

دور سے ہر چیز بھلی لگتی ہے، اس لیے انسان کا دل دیکھنے کو چاہتا ہے، اس کو پیاس لگی رہتی ہے جو کبھی نہیں بجھتی۔یہ گناہ اصل جوانی میں غلبۂ شہوت کی وجہ سے کیا جاتا ہے، پھر ایسا روگ لگ جاتا ہے کہ لب گور تک نہیں جاتا۔اللہ تعالیٰ نے ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت بنایا ہے کسے کسے دیکھنے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ایک کو دیکھا دوسرے کو دیکھنے کی ہوس ہے، اسی دریا میں ساری عمر بہتا رہے گا، تب بھی کنارے پر نہیں پہونچے گا ،کیونکہ یہ دریا نا پید کنار ہے۔
بد نظری زنا کی سیڑھی ہے۔مثل مشہور ہے کہ دنیا کا سب سے لمبا سفر ایک قدم اٹھا نے سے شروع ہو جاتا ہے، اسی طرح بد نظری کر نے سے زنا کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ مومن کو چاہئے کہ پہلی سیڑھی ہی چڑھنے سے پرہیز کرے۔

بد نظری ایک تیر ہے، جو دلوں میں زہر ڈالتا ہے یہ تیر جب پیوست ہو جاتا ہے تو سوزش قلب بڑھنی شروع ہو جاتی ہے ۔جتنی بد نظری زیادہ کی جائے ،اتنا ہی زخم گہرا ہو تا ہے ۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نگاہ ڈالنے والا پہلے قتل ہو تا ہے، وجہ یہ ہے کہ نگاہ ڈالنے والا دوسری نگاہ کو اپنے زخم کا مداوا سمجھتا ہے، حالانکہ زخم اور گہرا ہو تا ہے۔ (بحوالہ:لکافی۔477)

لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں ہم نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
جب انکھیاں لڑتی ہیں اور نین سے نین ملتے ہیں تو چھپی آشنائی شروع ہو جاتی ہے اور سلام و پیام ،کلام و ملاقات کے دروازے وا ہو جاتے ہیں، اس کا سلسلہ جتنا دراز ہوتا جاتا ہے، اتنی ہی بیقراری بڑھتی جاتی ہے، اور اشاروں اشاروں میں زندگی بھر ایک ساتھ رہنے کے عہد و پیمان ہو جاتے ہیں، اور ایک طرح کا ہو کر ساتھ رہنے کی قسمیں کھائی جاتی ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ساری سوسائٹی سو گوار ہو جاتی ہے۔

بدنظری کر نے والے لوگ چو راہوں ،دوکانون میں بیٹھ کر آنے جانے والی عورتوں کو گھور گھور کردیکھتے ہیں اور چیتے کی طرح پھاڑ کھانے والی نظریں ان پر ڈالتے ہیں، اوربھوکے بھیڑیے کے مثل حلق میں اتار نے کی کوشش کر تے ہیں، اور نکلنے والی عورتیں ان فریب خوردہ لوگوں کی کٹیلی و نشیلی اور ھوس ناک نگاہوں کا شکار بنتی ہیں ۔

مغربی تہذیب کی لپیٹ میں آ کر بن ٹھن کر بے پردہ ہو کر نکلنے والی خواتین بھی بد نظری کے مواقع فراہم کر تی ہیں اور پازیب کے گھنگھر و بجاتے ہوئے اپنے گزرنے کا احساس دلاتی ہیں، اور بازار میں اپنے حسن کے جلوے بکھیرتی ہیں ۔خواتین جو گھروں کی زینت ہیں مارکیٹ کی زینت بنتی جارہی ہیں اور شیطان اپنی تمام تر فتنہ سامانیوں کے ساتھ عورت کے ناز و نکھرے اور چلنے کے انداز و ادا کوسنوار کرپیش کرتا ہے، اور عاشقانِ حسن کو گناہ بے لذت میں مبتلا کر دیتا ہے، اور منچلے لونڈے لفنگے لڑکے رال ٹیکائے اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور اس کو اپنے مطابق دیکھ کر اپنی ابھرتی خواہشات نفسانی اوردہکتی جذبات کی بھٹی کو سرد کر تے ہیں۔

بد نظری کر نے والے گھروں میں جھانک کر اور کھڑکیوں کے اندر رہنے والی عورتوں پر نظر کا جادو چلاتے ہیں اور وہ کسی ضرورت کے تحت کسی گھر میں چلے جاتے ہیں، تو ان کی نظر گھومتی رہتی ہے ،جب تک رہیں اپنے سامان کی تلاش جاری رکھتے ہیں اور کنکھیوں سے بار بار مخالف جنس کو دیکھتے ہیں، وہاں بھی غیرت نہیں آتی۔ کیونکہ یہ دھندا ہی ایسا ہے ،جس کا سابقہ پڑ گیا، پیچھا نہیں چھوڑتا۔ جوانی تو جوانی پیرانہ سالی میں بھی اسی سے منسلک رہتے ہیں اور آخر میں گھاٹا بھی گھاٹا ہاتھ آتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’یعلم خائنة الاعین ووماتخفی الصدور ‘‘
(المومن ۔ 17)
اللہ تعالیٰ جانتا ہے آنکھوں کی خیانت کو اور وہ کچھ جو سینوں میں پوشیدہ ہے ۔

خیانت نظر کی تشریح ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ کیا کہ :آدمی کسی کے گھر میں جائے وہاں کسی خوبصورت عورت ہو جسے نظر بچاکر دیکھنے کی کوشش کرے،اور جب لوگوں کو اپنی طرف
متوجہ پائے تو نظر نیچی کرلے،لیکن اللہ نے اس کے دل کا حال جان لیا ۔ ( الجواب الکافی)

پہلی اچانک نظر معاف ہے ۔نبی ﷺ سے عبد اللہ بن جریر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اگر اچانک نظر پڑ جائے تو ؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’صرف نظرک‘‘ (مسلم)۔ تو اپنی نظر پھیرلے۔ اگر پہلی نظر ارادۃ ڈالی جائے، تو وہ بھی حرام ہے اور پہلی نظر معاف ہو نے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ پہلی نظر ہی اتنی بھر پور ڈالی جائے کہ دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہی نہ رہے ۔صرف اتنی بات ہے کہ اگر اچانک نظر پڑجائے تو فوراً ہٹا لینا چاہئے ۔

انسانی آنکھیں جب بے لگام ہو تی ہیں، تو اکثر برائی و لڑائی کی بنیادبن جاتی ہیں اور انسان کے اندر گناہ کا تخم پڑجاتا ہے ۔ جو موقع ملنے پر بہار دکھاتا ہے ۔قابیل نے ہابیل کی بیوی کے جمال پر نظر ڈالی تو دل و دماغ پر ایسا بھوت سوار ہوا کہ اپنے بھائی کا قتل کر ڈالا۔اور دنیا میں پہلے قتل کا مرتکب ہوا۔عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن کو دیکھا تو جذبات کے ہاتھوں ایسی بے قابو ہوئی کہ گناہ کی دعوت دے ڈالی۔

بد نظری کی ایک قسم وہ برہنہ تصاویر ہیں جو اخباروں اور کتابوں کی زینت بنتی ہیں ۔حتی کہ مضامین پر مشتمل رسالوں کے سر ورق پر چھپتی ہیں اورفلموں، ڈراموں اور ماڈلنگ کر نے والی عورتوں کی تصاویر ہیں جو اکثر جگہ دیواروں پر چسپاں رہتی ہیں۔ اور آج کل آسانی یہ ہو گئی ہے کہ ملٹی میڈیا موبائل سیٹ کے فنکشن میں یہ تصویریں قید رہتی ہیں اور انہی سیکڑوں برہنہ و نیم برہنہ تصاویر کو بدل بدل کر موبائل اسکرین میں سیٹ کیا جاتا ہے اور خلوت میں تلذد کی نگاہ مکمل توجہ کے ساتھ انکے انگ انگ کا معائنہ کرتی ہے ۔ ٹی،وی اناء و نسر کو خبروں کے بہانے دیکھنا ،گرل فرینڈوبوائے فرینڈ کی تصویر تنہائی میں للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا ، انٹر نیٹ پر پیشہ ور لڑکیوں کی تصاویر دیکھنا یا فحش ویڈیو سی ڈیز دیکھنا، ان سب کا دیکھنا زندہ عورت کو دیکھنے سے زیادہ نقصان دہ ہے ۔راہ چلتے غیر محرم کے خدو خال کو اتنی باریک بینی سے نہیں دیکھا جا سکتا ہے، جتنا کہ تصاویر کے ذریعہ دیکھنا ممکن ہے ،ان سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نگاہیں نیچی رکھنے کی توفیق فرمائے ۔آمین۔

سورج بے نو ر ہو جائے گا

سورج جو زمین سے 15کروڑ کلو میٹر دور ہے بغیر کسی کی مداخلت کے ہمیں ضرورت کے مطابق توانائی فراہم کر تاہے۔ اس جرم فلکی (Celestial body)میں بے پناہ توانائی ہے۔ہائیڈروجن کے ایٹم مسلسل ہیلیم میںتبدیل ہو رہے ہیں۔ہر ایک سیکنڈ میں 70 کروڑ ٹن ہائیڈروجن69کروڑ50لاکھ ٹن ہیلیم میں تبدیل ہو رہی ہے،جبکہ باقی 50لاکھ ہائیڈروجن انرجی (پاور)میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
سورج کے اندر وہ حصہ یا وہ بھٹی کہ جس میں ہائیڈروجن ،ہیلیم میں تبدیل ہورہی ہے ، Coreکہلاتاہے جو سورج کا مرکز ہے۔  یہا ں کا درجہ حرارت اور سورج کی باہر والی سطح کے د رجہ حرارت میں نمایاں فرق پایا جاتاہے۔ مرکزی درجہ حرارت ایک کروڑ 50لاکھ سینٹی گریڈ ہے جبکہ بیرونی سطح جس کو فوٹوسفئیرکہتے ہیں، کا درجہ حرارت 5800سینٹی گریڈ ہے۔ اس کا پھیلاو تقریباً500کلومیٹر تک ہے اور اس سے ایسی روشنی خارج ہوتی ہے جو نظرا تی ہے۔ اس کے اوپر کروموسفئیر ہے جو ہزاروں کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ اس جگہ درجہ حرارت 6000 سینٹی گریڈ سے 50,000سینٹی گریڈ تک بڑھتا رہتاہے۔ اس حصے سے سرخی نمار وشنی خارج ہوتی رہتی ہے جسے صرف سورج گرہن کے وقت ہی دیکھا جا سکتاہے۔ اس کے اوپر Coronaیعنی سورج کی فضا ہے جو لاکھوںکلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا درجہ حرارت 10سے 22لاکھ سینٹی گریڈ تک ہوتاہے۔
سورج گرم گیسوںکا ایک فٹ بال ہے جس میں بلحاظ کمیت 71%ہائیڈروجن ‘28% ہیلیم’1.5% کاربن ،نائیٹروجن اورآکسیجن ہے جبکہ 0.5%دوسرے عناصر پائے جاتے ہیں۔ سورج کی عمر کا اندازہ ساڑھے چار ارب سال لگایا گیا ہے۔ یعنی اتنے سالوں سے سورج مسلسل اس بڑی مقدار میں توانائی خارج کررہا ہے۔ اور اس میں موجود ہائیڈروجن کی مقدار سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ مزید ساڑھے پانچ ارب سال تک اسی مقدارمیں توانائی خارج کرتارہے گا اورپھر اس کے بعد ہائیڈروجن کی مقدار ختم ہوجائے گی جس سے توانائی کے پید اہونے کا عمل رک جائے گا اور پھر سورج آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہوتاجائے گا جس سے اس سے خارج ہونے والی روشنی بھی بتدریج کم ہوتی جائے گی اور ایک وقت آئے گا کہ سورج بے نور ہو جائے گا۔ (1)
زمین پر زندگی کی موجودگی کو سورج کی توانائی نے ممکن بنایا ہے جو زمین پر توازن کو مستقل بناتی ہے اور 99%توانائی جو زندگی کے لیے ضروری ہو تی ہے سورج مہیا کر تاہے۔ اس توانائی میں سے نصف روشنی کی شکل میں ہو تی ہے جو ہمیں نظر تی ہے بقیہ توانائی بالائے بنفشی شعاعوں کی شکل میں ہوتی ہے جو نظر نہیں آتیں اور حرارت کی شکل میں ہوتی ہیں۔ سورج کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ یہ وقتاً فوقتاًگھنٹی کی مانند پھیلتا رہتا ہے۔ یہ عمل ہر پانچ منٹ بعددہر ایا جاتا ہے اور سورج کی سطح زمین سے 3کلو میٹر قریب آجاتی ہے اور پھر 1080کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتا ر سے دور چلی جاتی ہے۔(2)
سورج سے جو روشنی ہمیں حاصل ہوتی ہے و ہ اس کی سطح پر ہونے والے نیو کلیائی دھماکوں کا نتیجہ ہے جو گزشتہ ساڑھے چارارب سال سے جاری ہے۔ مستقبل میں ایک وقت آئے گاکہ سورج پر یہ  نیو کلیائی دھماکے ہونا بند ہو جائیں گے اور وہ مکمل طور پر بے نور ہو جائے گا جس سے اس کی کشش ثقل ختم ہو جائے گی اور پورا نظام شمسی جس میں ہماری زمین بھی شامل ہے اس کی گرفت سے آزاد ہو کر فضا میں بھٹک کر تباہ ہو جائے گا ۔ دراصل کسی ستارے کے بے نورہونے کی وجہ اس میں موجود ہائیڈروجن کا خودکار ایٹمی دھماکوں سے جل جل کر ہیلیم میں تبدیل ہوتے رہناہے ۔پھر ایک وقت آتاہے کہ ہیلیم بھی شدت حرارت کی وجہ سے جلنا شروع کردیتی ہے اورکاربن پیداکرنے لگتی ہے اور کاربن کی یہ تہہ ستارے کے مرکز میں جمع ہونا شروع ہوجاتی ہے ۔چناچہ ہائیڈروجن اور ہیلیم کے جلنے کے اس دہرے عمل کے نتیجے میں ستارے کی حرارت میں بے انتہاشدت آجاتی ہے اوراس کی سطح زورداردھماکوں سے پھول جاتی ہے ۔اس پھولے ہوئے ستارے کو سرخ ضخام (Red Giant) کہاجاتاہے ۔ سرخ ضخام بننے کے بعد ستارہ کا حجم تو بڑھ جاتاہے مگر اس کی حرارت اور چمک میں تیزی سے کمی واقع ہوجاتی ہے ۔ چناچہ اس مرتے ہوئے ستارے کی سرخ ضخام کے بعد بننے والی حالت کو سفید بونا (White Dwarf) کا نام دے دیاجاتاہے ۔اس دوران اس کی جسامت اصل ستارے کی نسبت 80 فیصد رہ جاتی ہے یہ مرتے ہوئے ستارے کی آخری حالتوں میں سے ایک ہے جس میں ستارہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا اور مدہم ہوتاچلا جاتاہے ۔ (
3)
قرآن مجید میں سورج کی روشنی کے ختم ہونے کااشارہ درج ذیل آیت کریمہ میں دیا گیاہے:
(وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّھَا ط ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ)
” اور سورج ‘وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جارہا ہے۔ یہ زبردست علیم ہستی کا باندھاہواحساب ہے ”  )یٰس۔  36:38(
مولانا مودوی  اس آیت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”ٹھکانے سے مراد وہ جگہ بھی ہوسکتی ہے جہاں جا کر سورج کو آخر کار ٹھہر جاناہے اوروہ وقت بھی ہو سکتاہے جب وہ ٹھہر جائے گا۔ (4)تفسیر ابن کثیرمیں ایک قول کے مطابق مستقر سے مراد اس کی چال کا خاتمہ ہے۔ قیامت کے دن اس کی حرکت باطل ہو جائے گی ‘یہ بے نور ہوجائے گا ‘اور یہ عالم کل ختم ہوجائے گا۔(5) مولانا عبدالرحمان کیلانی  اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ:
” ایک دفعہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو ذر سے پوچھا :” جانتے ہو کہ سورج غروب ہونے کے بعد کہا ں جاتاہے ؟” سیدنا ابو ذر  کہنے لگے :” اللہ اور اس کا رسول   ہی بہتر جانتے ہیں ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ”: سورج غروب ہونے پر اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے سجدہ ریز ہوتا ہے اور دوسرے دن طلوع ہونے کا اذن مانگتا ہے تو اسے اذن دے دیا جاتا ہے پھر ایک دن ایسا آئے گا کہ اس سے کہا جائے گا کہ جدھرسے آیا ہے ادھر ہی لوٹ جا۔پھر وہ مغرب سے طلوع ہو گا۔ پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی ”۔(6)
مولانا عبدالرحمان کیلانی لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ سورج اور اسی طرح دوسرے سیاروں کی گردش محض کشش ثقل اور مرکز گریز قوت کا نتیجہ نہیں بلکہ اجرام فلکی اور ان کے نظام پر اللہ حکیم وخبیرکا زبردست کنٹرول ہے کہ ان میں نہ تو تصاد م و تزاحم ہو تا ہے اورنہ ہی ان کی مقررہ گردش میں کمی بیشی ہوتی ہے اور یہ سب اجرام اللہ کے حکم کے تحت گردش کر رہے ہیں دوسرے یہ کہ قیامت سے پہلے ایک وقت آنے والا ہے جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا اس کے بعد نظام کائنات بگڑ جائے گا۔آج کا مغرب زدہ طالب علم سورج کے طلوع وغروب ہونے اور عرش کے نیچے جاکر دوبارہ طلوع ہونے کی اجازت مانگنے کا مذاق اڑاتا ہے اورکہتاہے کہ سورج تو اپنی جگہ پر قائم ہے اور ہمیں جو طلوع وغروب ہوتا نظر آتاہے تو یہ محض زمین کی محوری گردش کی وجہ سے ہے حالانکہ اللہ کا عرش اتنا بڑا ہے کہ ایک سورج کی کیا بات ہے کائنات کی ایک ایک چیز اس کے عرش کے تلے ہے اورجن وانس کے سوا ہر چیز اس کے ہا ں سجدہ ریز یا اللہ کی طرف سے سپرد کردہ خدمت سر انجام دینے میں لگی ہوئی ہے۔(7)
ڈاکٹر سید سعیدعابدی اسی حدیث کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”عصر جدید کے بعض مفسرین نے عرش الہی کے نیچے سورج کے سجدہ کرنے اور اللہ تعالیٰ سے اجازت لینے کی اس خبر نبوی کا انکار کیاہے ،ان کا دعویٰ ہے کہ علم فلک کے مطابق سورج کی رفتارمیں کوئی وقفہ نہیںہوتا جبکہ سجدہ کرنا توقف کا تقاضا کرتاہے ۔یہ حدیث حضرت ابو ذر  سے متعدد سندوں سے مروی ہے  اور ہر سند میں امام بخاری اورامام مسلم  اور حضرت ابوذر  کے درمیان جتنے راوی آئے ہیں وہ سب ثقات کی اعلی صفات سے موصوف ہیں توکیا صرف اس وجہ سے اس حدیث کا انکا رقرین عقل ہے کہ عرش الہی کے نیچے سورج کے سجدہ کرنے کی بات ہماری عقل کی رسائی سے باہر ہے اورکیا سورج کا سجدہ کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ہماری طرح باقاعدہ وضو کرتاہے ،پھر کھڑا ہوتاہے اور پھر ”اللہ اکبر ”کہہ کر سجدہ میں جاتاہے یا اس کے جس فعل کو سجدہ سے تعبیر کیا گیا ہے وہ لمحوں میں وقوع پذیر ہوجاتاہے ،کیا قرآن پاک کی متعد د آیتوں میں کائنات کی ہر شی ٔ کے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے کی خبر نہیں دی گئی ؟(الرعد:15،النحل :40، الحج : 18)تو کیاہماری عقل اس سجدے کی حقیقت کا ادراک رکھتی ہے جبکہ قرآن کے منزل من اللہ ہونے میں ادنیٰ سا شک بھی دائرہ ایمان سے خارج کردیتاہے اس لۓ کہ اس کی سند: رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم عن جبرئیل علیہ السلام،عن اللہ عزوجل کی صحت پر پوری کائنات گواہ ہے ۔ (8)
سورج کی روشنی کے ختم کردیئے جانے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة التکویر میں اس طرح ارشاد فرمایاہے:
(اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ)
” جب سورج لپیٹ دیاجائے گا”
کوربمعنی کسی چیز کو عمامہ یا پگڑی کی طرح لپیٹنا اور اوپر تلے گھمانا۔ اور اس میں گولائی اور تجمع کے دونوں تصور موجود ہوتے ہیں یعنی کسی چیز کو گولائی میں لپیٹنا اور جماتے جانا۔مطلب یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں اس کی روشنی اور اس کی حرارت سب کچھ سمیٹ لیا جائے گا اور وہ بس ایک بے نور جسم رہ جائے گا۔(9)
مولانا مودودی  اس آیت کریمہ کی تشریح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” سورج کے بے نور کر دیے جانے کے لیے یہ ایک بے نظیر استعارہ ہے۔ عربی زبان میں تکویر کے معنی لپیٹنے کے ہیں۔ سرپر عمامہ باندھنے کے لیے تکویر العمامہ کے الفاظ بولے جاتے ہیں کیونکہ عمامہ پھیلا ہوا ہوتاہے اور پھر اسے سر کے گرد لپیٹا جاتاہے۔ اسی مناسبت سے اس روشنی کوجو سورج سے نکل کر سارے نظام شمسی میں پھیلتی ہے عمامہ سے تشبیہہ دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کے روز یہ پھیلا ہوا عمامہ سورج پر لپیٹ دیا جائے گا یعنی اس کی روشنی کا پھیلنا بند ہو جائے گا۔( 10)
مولانا عبدالرحمان کیلانی لکھتے ہیں کہ” سورج کی اس رجعت قہقریٰ کے بعدستاروں کے درمیان باہمی کشش اور گردش کا سارا نظام مختل ہو جائے گا ۔زمین میں شدید زلزلے اورجھٹکے شروع ہوجائیں گے ۔ ستارے بے نور ہو کر اکیلے گرنے لگ جائیں گئے جیسے جھڑ پڑے ہیں ۔سورج کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح ہوکر فضا میں منتشر ہوجائیں گے ۔ سمندروں کا پانی شدّت حرارت سے کھولنے لگے گا۔تمام مخلوقات مر جائے گی اورکائنات فنا ہوجائے گی اوریہ سب کچھ کب ہوگا اس کا جاننا انسان کے بس کا روگ نہیں ۔ سائنس دان خواہ کتنے ہی اندازے لگائیں وہ سب کچھ ظنون او ر ڈھکوسلے ہی ہوں گے ۔ا س کا حقیقی علم اسی خالقِ کائنات کو ہے جس نے اسے پیدا کیا تھا۔
بلکہ وحی ہمیں اس سے بہت بعد کی بھی خبردیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر سے ایک نئی کائنات پیدافرمائے گا جس کی زمین،جس کے سورج ،جس کے چاند ستارے اورجس کے قوانین نظم وضبط سب کچھ اس دنیا سے الگ ہوں گے اور جس کے متعلق اندازے لگانا بھی کسی انسان کے بس کا روگ نہیں البتہ اس کی بہت سی تفصیلات قرآن وحدیث میںموجودہیں”۔(11)
قارئین کرام جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اس مسئلہ میں جدید سائنس اور قرآن پاک میں دی گئی معلومات میں زبردست یگانگت پائی جاتی ہے جس سے ایک معمولی غوروفکر رکھنے والا آدمی بھی اس حقیقت کو سمجھ سکتاہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے بغیر ان معلومات کوچھْی صدی عیسوی میں کسی کتاب میں ذکر کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں تھی اوریقینا یہ کام کسی مافوق الفطرت ہستی کا ہی ہے جسے ہم اللہ کے نام سے یاد کرتے ہیں اوراسی نے ہی ان معلومات وپیشنگوئیوں کو دوسری انسانی ہدایات کے ساتھ قرآن مجید کی شکل میں اپنے پیارے و آخری نبی حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  پر نازل کیا تھا۔اللہ تعالیٰ ہمیں حق و صداقت کو سمجھنے، اس پر ایمان رکھنے اورعمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔
موٴلف ۔ طارق اقبال سوہدروی ۔  جدہ ۔ سعودی عرب

دِل کی نگاہ

دِل کی نگاہ

دلِ کی آنکھ کھل جائے اندازِزندگی بدل جائے
دِل کی آنکھ بند رہ جائے زندگی حسن سے محروم ہو جائ
ے

ہماری زندگی گرہوں میں بندھی ہے، دِل کی آنکھ کھل جائے تو ہر گرہ بتدریج کُھلنے لگتی ہے، چہار سو حسن کے ایسے پھول کِھلتے ہیں کہ زندگی کا گلشن حسین دکھائی دینے لگتا ہے۔ دُکھ کا آلاپ سُکھ کا مِلاپ بن پڑتا ہے۔

دُنیا میں وُہ لوگ خوش نصیب ہیں جن کو ایسی ہستیوں کا ساتھ مِلا جو دِل کی آنکھ رکھتی تھیں اور وُہ بانصیب رہے جن کو دِل کی آنکھ کا نظارہ ملا۔

دِل کی آنکھ کیا ہے؟ میں خود نہیں جانتا یہ نگاہ کیا ہے۔ حسن کی نگاہ میں حسن کی پہچان۔ جوہری کی نظر میں اصل جوہر کی شناخت۔ وارداتِ قلب لب پہ آ نہیں سکتی۔ یونہی کیفیت ِ شادابی بیاں نہیں ہوسکتی۔ بقول خواجہ میر درد

ارض و سماں کہاں تیری وسعت کو پاسکے۔
میرا ہی دِل وُہ ہے کہ جہاں تو سما سکے۔

خیال سے حسنِ لذت رُخصت کچھ یوں ہوئی، نہ وقتی چسکا رہا، نہ مزہ رہا۔ مزاج کی بد مزگی یوں بدلی، ہر شے حسن ترتیب میں آن پڑی۔ تمنا دِل کی چاہت میں بدلی۔ ہوس پہ ہوش نے کچھ یوں غلبہ پایا کہ حسن ترتیب ہی حسن خیال بن پڑی۔

زندگی کے معیار بدلے مگر حسن کے آثار قائم رہے۔ یہ دِل بھی عجب شےءہے ، جب اس پہ پردہ پڑے تو انساں کو لٹائے۔ سیاہی بدلے تو عجب رنگ دکھلائے۔ لوگوں کے حال کیفیت دِل ہی جانے۔

یہ شعور کی وُہ الہامی و وجدانی نگاہ ہے، جو چہروں کی شناخت، آواز کی پہچان دِل کی گواہی سے کرواتی ہے۔ ایمان کی حقیقت کیا ہے؟ ضمیر کی گواہی ضمیر مردہ ہوجائے تو معاشرے آتش زدہ ہوپڑتے ہیں۔

بھیڑ میں انجان چہرہ کی پہچان، لفظوں سے خاندانی تربیت کی پرکھ، آواز سے نیت کو جاننا، انداز تحریر سے ذہنی کیفیت و قرب محسوس کرنا، انتخاب رنگ سے مزاج سمجھنا، ذائقہ میں خلوص دیکھنا ایسے فرد کو نصیب ہوا ہوگا۔ جن کی مشقت عمر بھر باطن کی نفاست میں رہی۔بے شک کچھ کلیے موجود ہیں۔ جن سے ایسے راز کھلنے میں مدد ملی۔ مگر اِنکے تاثیری پھل عیاش اذہان کے لیے شیریں نہیں۔ خدا سے سچی توبہ اکثر بند در ایسے دریچوں میں کھولتی ہے۔ جہاں نئی راہیں کُھلتی ہیں۔ ایسے دروازے اللہ ہی کے فضل سے کُھلتے ہیں۔ فارمولوں سے نہیں۔

دھوکہ باز فرد دُنیا بھر سے فراڈ کرتا ہے مگر کچھ معصوم افراد سے دغا نہیں کرتا۔ ایسوں سے لوگ حالِ دل کیوں بیان کرتے ہیں، غم کا مداواہ کرتے ہیں۔ الجھنوں کے سلجھاﺅ، رکاوٹوں کے حل گفتگوﺅں سے پاتے ہیں۔ اپنوں پہ بے اعتباری اور اِک انجان پہ اتنا بھروسہ جتنا خود پہ اعتماد بھی کم ہو۔ یہ سب کیوں؟ خلوصِ دِل ہی دِل کے تار ہلائے۔ کشش ہی سب کو یاد دلائے۔ جب مشکل میں سب حل بھو ل گئے۔

’برکت کا سکّہ‘ ہی کچھ بتلائے۔ جب خیال بن آئے تب تم کو ہماری یاد تڑپائے۔ ایسوں کی یاد میں پھر دُعا خوانی ہوئی۔ ایسے تڑپے کہ مزار پہ حاضری ہوئی۔ بابرکت رہے ایسے سفر۔ جب دِل پر اُنکے کھلتا گیا اِک نیا دَر۔

جب دِل کی آنکھ یوں کُھل جائے تو حسن کا نظریہ بدل جائے۔ پہاڑ و سرسبز میدان کیا، صحرا و سمندر بھی اور حسین لگتے ہیں۔ حسنِ فطرت میں پتوں کی لہلہاہٹ، پرندوں کی چہچہاہٹ، ہواﺅں کی سرسراہٹ، پتھروں کی گڑگڑاہٹ، بادلوں کی غڑغڑاہٹ، خیال کی تڑپاہٹ کو حسن کی جلا بخشتے ہیں۔

رفتہ رفتہ زندگی سے بہار کا موسم ہر موسم میں چاشنی بکھیرتا ہے۔ خوشی کے علاوہ غمی بھی حسین لگنے لگتی ہے۔ یوں انسان وُہ حقیقی مقام پالیتا ہوگا۔ جہاں وُہ ہر حال راضی بھی ہے، خوش و مطمئن بھی۔

زندگی کے اصل حسن کا نظارہ، حسین منظر کی بجائے نظار کی نظر میں ہے۔

مثبت سوچ، خوبصورت نظر عطاءکرتی ہے، درسِ خطاءراہیں کھولتی ہے۔ بد خیال، بد ذہن ہمیشہ نگاہ سے محروم ہوئے۔

صوفی وُہ ہوا جس میں نہ تعصب رہا، نہ میل
دِل کی نگاہ اُس نے پائی، جس نے کھایا نہ میل

(فرخ نور)

مشکل الفاظ کے معنٰی:
آلاپ:اُونچی آواز میں گانا، شورمچانا
ایسوں: اس طرح کے، ایسے افراد
اذہان: ذہن کی جمع
بتدریج: آہستہ آہستہ
بکھیڑا:اُلجھاﺅ، فساد
جوانب: جانب کی جمع
چاشنی: کھٹ مٹھا، مزیدارذائقہ
چہار سو: ہر جوانب، چاروں طرف
در: دروازہ
دریچوں: واحد اسکی دریچہ مراد کھڑکی
ضمیر:دِل
کلیے: فارمولا کی جمع، کلیات
مداواہ:دوا، علاج
نظار: ناظر کی جمع
نظارگی: منظر ، نظارہ

قرض

سورة البَقَرَة

اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا۔ اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا (۲۸۱) مومنو! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لئے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے۔ اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے۔ اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی۔ اور جب گواہ (گواہی کے لئے طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں۔ اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں کاہلی نہ کرنا۔ یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لئے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے۔ اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وہ شبہ بھی نہیں پڑے گا۔ ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھوتو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور جب خرید وفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو۔ اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں کا) کسی طرح نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے (۲۸۲) اور اگر تم سفر پر ہواور (دستاویز) لکھنے والا مل نہ سکے تو (کوئی چیز) رہن یا قبضہ رکھ کر (قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہیئے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کردے اور خدا سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے۔اور (دیکھنا) شہادت کو مت چھپانا۔ جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے (۲۸۳) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے (۲۸۴)

نفرت نہیں، محبت

نفرت نہیں، محبت

ہم اپنی زندگی میں نہ جانے کتنی نفرتیں پالتے ہیں۔ محبت بکھیرنے کی بجائے ، فاصلے بکھیڑتے ہیں۔ نفرت نے سوچ کو محدود کیا، رائے و تحقیق کو تعصب کی نگاہ بخشی۔ زندگی کی گوناگونی میں متناقص و متناقض بے چینی پیدا کی۔ ژرف نگاری کے نام پر ضرب کاری ہونے لگی۔ پیدائش کا نطفہ بخیلی سے جنم لینے لگا۔ اسلام کے نام پر کرخت مزاجی بھڑکنے لگی۔

ہم آئے روزمنفی و تخریبی موضوعات پر تحاریرلکھتے ہیں۔اِن منفی موضوعات کومثبت انداز میں تنقید کی نکتہ چینی کی بجائے ؛ اصلاحی رنگ دے سکتے ہیں۔ ہم نفرت پہ تو بات کرتے ہیں۔ اگر نفرت کی ضد محبت سے بات کرے تو ہمارے اذہان و قلوب میں خوب صورت کیفیات ہی مرتب ہو سکتی ہے۔

آج ہمارا ادیب بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اُس کو معاشرہ کی فحش گوئی بیان کرنے کے لیے اب طوائفہ سے معشوقہ کی تلاش ہونے لگی۔ سکینڈل بیان کرتے کرتے معاشرہ کو سکینڈل زدہ بنا دیا۔ کاش! کو ئی ادیب تعمیری سوچ کے ساتھ معاشرہ میں تعمیر بخشے۔ شاعر کی شاعری برہنہ گوئی رہ گئی۔ مقصد و خیال رخصت ہو چکے۔

ہمیں آج تعمیری سوچ کی ضرورت ہے۔ جاہلانہ اذہان دوسروں کی آپسی ملاقاتوں سے بھی بُرا تصور اخذکرتے ہیں۔ شاکی اذہان میں سازش ، بد نگاہوں سے برائی، متلون مزاجی سے وسواس قلوب میں جنم لیتے ہیں۔نہ جانے نفرتیں کہاں کہاں پنپ رہی ہیں۔

لاﺅتزے نے تاﺅ تے چنگ میں فرمایا تھا۔” جب دُنیا جانتی ہے؛ خوبصورتی جیسے خوبصورتی ہے، بدصورتی اُبھرتی ہے،جب جانتے ہیں، اچھائی اچھائی ہے، برائی بڑھتی ہے“

مینیشس نے کہا تھا،” برائی کی موجودگی اچھائی کی شان ہے۔ برائی کی ضد اچھائی ہے۔ یہ ایک دوسرے سے بندھی ہے۔برائی کی کایا اچھائی میں پلٹ سکتی ہے۔ برائی کیا ہے؟ ایک وقت میں تو وُہ ہے،مگر بعدکے کسی دور میں وُہ اچھائی ہوسکتی ہے کسی اور کے لیے۔“

مذاہب محبت کی بات کرتے ہیں۔ عبادت گاہیں محبت کی مرکز ہیں مگر آج فرقوں کے نام پر نفرتیں بٹ رہی ہیں۔ گیتا، جپ جی صاحب، سُکھ منی صاحب، ادی گرنتھ صاحب،تاﺅتے چنگ محبت ہی کی تعلیم دے رہی ہیں۔ یہ اخلاقی تعلیمات کے لازوال شاہکارہیں۔ہر مذہب میں جھوٹ، شراب، جوائ، زنا، جھوٹی گواہی کی پابندیاں عائد ہیں۔ ان سے انحراف معاشرہ میں نفرت کا جنم ہے۔

ناکام معاشرے اپنی خامیوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں، دوسروں کی خوبیوں کی عیب جوئی فرماتے ہیں,۔تنگ نظر اذہان تنگ نظری کی بات کرتے ہیں۔ کچھ لوگ خو د کو راجپوت، سید اور اعوان کہلانے پر فخر کرتے ہیں۔دوسروں کو اپنی احساس کمتری کے باعث کمی کمین کہتے ہیں۔ بھئی فخر کرنے کے لیے ویسے اعمال بھی ہونے چاہیے۔ راجپوت اپنی خودداری، وطن پرستی اور غیرت کی روایات کی پاسداری کرتے تھے ۔کٹھن حالات میں’ جوہر ‘ کی رسم ادا کرتے تھے۔ جب راجپوت اپنا دفاع ناکام ہوتا دیکھتے تو عورتیں بچوں سمیت آگ میں کود پڑتیں تاکہ بے حرمتی کی ذلت سے بچ سکیں۔یوںمرد اپنے گھر بار کی فکر سے آزاد ہوکرآخر دم تک لڑتے ہوئے ؛ وطن کے تحفظ پر جان قربان کر تے تھے۔ دشمن کی فتح تب ہوتی، جب کوئی راجپوت باقی نہ رہتا۔ رانااودے سنگھ، رانا پرتاب سنگھ نے مغل عہد میںراجپوت خودداری کو قائم رکھا۔سید اور اعوان خود کوحضرت علی رضی اللہ عنہ کی اُولاد ہونے پر ناز کرتے ہیں۔ شان تویہ ہیں؛جب اعمال و کردار حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نقش قدم کے مطابق ہو۔ ورنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام سن کر سر شرمندگی سے جھک جائے۔لوگ خود کو سردار، نواب ، راجگان ،ملک،بیگ، خان، رانا، چوہدری اور قاضی وغیرہ کے ناموں سے متعارف کرواتے ہیں۔ ایسے تاریخی سرکاری عہدوں اور القابات کا قبیلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ کیا ہم میں کوئی ایسی خصوصیت ہے کہ ہمیں آج کی سرکار کوئی رتبہ عنائیت فرمائے۔ جب ہم میں ایسی کوئی خاصیت نہیں تو ہم ترقی پانے والے لوگوں کے کم ذات ہونے پر تبصرہ کیوں کرتے ہیں ؟ دراصل ہم اپنی احساس کمتری کو احساس برتری سے چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ غالب کا مصرع ہے:

دِل کو خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

محبت بانٹنے سے بڑھتی ہے اور نفرت سمیٹنے سے پھیلتی ہے۔ نفرتیں مت سمیٹوں۔تعصب کی عینک اُتار کر دیکھو تو سوچ کی وسعت خوب پھیلے گی ۔ ورنہ بند گلی کے بند راہی بنو گے۔

زندگی کا حسن محبت، نعمتِ خداوندی مسکراہٹ ہے۔ بندوں سے تعصب، دِل میں خدا کی محبت کو بھی دور کرتا ہے۔ اللہ سے محبت اللہ کے بندوں سے محبت ہے۔

میرے ذہن میں ایک سوال بچپن سے اُمڈتا ہے۔ اسلام خوش اخلاقی کی عملی تربیت دیتا ہے۔ ہمارے بیشتر مذہبی نمائندگان یا وُہ افراد جو مذہبی جھکاﺅ زیادہ رکھتے ہیں۔ دِن بدن اُنکے مزاج میں کرختگی اور برداشت کی کمی کیوں واقع ہوتی جا رہی ہے؟ اپنے گروہ کے سواءکسی اور کو سلام کرنا گوارہ کیوں نہیں کرتے۔ غیر مذہبی افراد کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا تو سکتے ہیں۔ مگر مسلمان بھائی کے ساتھ بیٹھنا کیوں گوارہ نہیں؟ یہ وُہ عملی مناظر ہے، جس نے آج کے نوجوان کوپریشان کیاہے۔

برصغیر میں مسلمانوں کی آمد اور شاہجہانی دور کی عظمت ایک دِن یا عرصہ کی بات نہیں،یہ صدیوں کے تاریخی تسلسل میں نکلنے والی کونپل تھی، جسکی خوشبو میں نفرت کی بدبو گھٹتی گئی اور محبت پھیلی۔ اردو میل ملاپوں میں آسودہ ہوئی۔ علاقائی تعصبات سے آلودہ ہوئی۔پاکستان میں معاشرتی زندگی کا جو تصور تحریک آزادی میں پیش کیا گیا تھا۔ مذہبی آزادی و رواداری تھا۔ آج مسلکی بنیادوں پر نفرتیں سرائیت کر چکی۔ اے اللہ! ہمیں ایسی تحقیق سے محروم فرما، جس میں ہم تاریخ ِ اسلام کی عالیٰ مرتبت بزرگان کے مسلک کی تلاش کریں۔ ہمیںمسلک کی بنیاد پر نفرت سے بچا۔

مجھے کبھی کبھی افسوس ہوتا ہے۔ غیر جانبدارانہ رویہ بھی موت کا سبب بنتا ہے۔ابن رشد نے یونانی تراجم یونانی رو سے کیے تو ملحد ہوکر خارج الاسلام قرار دیا گیا۔ شہزادہ دارالشّکوہ نے سکینة الاولیاءاور سفینة الاولیاءایام جوانی میں تحریر فرما کر بڑا نام پایا۔ مگر ہندی تراجم ہندوﺅانہ روح سے کرکے مرتد قرار دیکر واجب القتل ٹھہرا اور سولی پر چڑھایا گیا۔ شائید ہر دور کا ارسطو زہر کا پیالہ پینے کو ترجیح دیتا ہے۔ اُس زمانے میں افلاطون نے شہر چھوڑا تھا۔ آج لوگ خاموش ہوگئے ہیں۔

یہ نفرتیں ہی ہیں۔ جنھوں نے ہماری زندگی میں تنہائیاں ہی جنم دی ہیں۔ خوشی اور غمی کے جذبات سے عاری معاشرہ پنپ رہا ہے۔ ہمیں سوچنا ہے ہم اپنی نسل کو کیا منتقل کر رہے ہیں!

ہماری عیدین گزرتی ہیں۔ذرا سوچئے! آپ کتنی خوشیاں بکھیرتے ہیں؟ کتنے چہروں پر مسکراہٹ لاتے ہیں؟کسقدر رخنہ زدہ بندھنوں کو اِک لڑی میں پروتے ہیں؟ کیا عید کے روز ماتھا پہ شکن، گفتگو میں گالم گلوچ، دِل میں بغض، حسد، کینہ اور رویوں میں نفرت ہونی چاہیے؟ عید کے روز خلاف مزاج بات پر سخت الفاظ منہ سے نکالنا بھی میرے خیال میں عید کی توہین ہے۔

کیا ہم سال میں صرف عیدین کے دو ایاّم کو اپنے رویہ سے خوبصورت نہیں بنا سکتے ،جہاں صرف محبت ہی محبت آپ سے مِل رہی ہو؟ معاشرہ کا ردّعمل جو بھی ہو، عید کے روز خود کو محبت کو عملی نمونہ بنائے۔

عید کے روز میرے ایس -ایم-ایس پہ پریشان مت ہوا کریں۔ میں آپ سب سے بھی خوشی بانٹ رہا ہوتا ہوں۔ میں عیدین پر اپنے ہزاروں چاہنے اور جاننے والوں کو نیک تمناﺅں کا پیغام بھیجتا ہوں اور رہونگا۔ لہذا! آپ نہ تو تذبذب کا شکار ہو اور نہ شک میں پڑیں۔ کیونکہ محبت کو شک کھا جاتا ہے۔

(فرخ نور)

مشکل الفاظ کے معنی

گوناگونی : ورائٹی، مختلف اقسام

متناقص: نقص رکھنے والا، ناقص، نامکمل

متناقض: مخالف، برعکس، اُلٹا، خلاف

Responding to the floods in Pakistan

Pakistan has been struck by the worst flooding in its recorded history. The latest estimate of the number of people affected by the flood exceeds 14 million—more than the combined total of the 2004 Indian Ocean tsunami, the 2005 Kashmir earthquake and the 2010 Haiti earthquake. Critical infrastructure has been damaged over the last two weeks and clean water is in short supply. As monsoons approach, flooding is expected to worsen.

Our Crisis Response team has been working to use existing tools and build new ones to help the relief efforts. We just launched a page in Urdu and English where you can find information, resources and donation opportunities to help the victims of the floods. We’re also donating $250,000 to international and local NGOs to immediately aid in relief efforts. Although we’ve been able to provide satellite imagery for disasters in the past, cloud cover in Pakistan has prevented us from compiling useful imagery so far. We hope to share imagery as soon as possible.

We’ve already learned a lot about building useful tools from our previous efforts to help with disaster relief. Following the earthquake in Haiti, a small team of Googlers visited relief aid workers in Haiti to understand how we could further help. In observing and speaking with the relief aid workers, we learned that they needed up-to-date information about available resources (such as which field hospitals have X-ray machines or orthopedic surgeons), their location and contact information. Coordination between various health and relief facilities that spring up in a disaster zone can be challenging.

Based on what we learned in Haiti, we’ve been working to develop Resource Finder, a new tool to help disseminate updated information about which services various health facilities offer. It provides a map with editable records to help relief workers maintain up-to-date information on the services, doctors, equipment and beds available at neighboring health facilities so that they can efficiently arrange patient transfers. We normally wouldn’t release the tool so quickly, but decided to make an early release version of Resource Finder available for supporting relief efforts in Pakistan. This is the first time the tool is being launched during a disaster situation so we’ll be working closely with NGOs to understand its usefulness and will iterate accordingly.


We’ve also launched Person Finder in both Urdu and English for this disaster. This application allows individuals to check and post on the status of relatives or friends affected by a disaster. Fortunately, we’ve heard that missing persons has not been as concerning an issue as it was during the earthquakes in Haiti and Chile, but we’ll leave the application up regardless.

Responding to a disaster of this scale is a daunting task, but we can all do something to help. We will try to do our part and continue working with the many incredible NGOs to develop tools that help them work more effectively.

YA ALLAH PAKISTAN PAR REHEM KAR> AMEEN

زندگی سے موت بہتر ہے

: دنیا کے مصائب و آلام سے بیزار ہو کر موت کی تمنا کرنا اوراپنے لئے موت کی دعا کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبتوں کے سبب موت کی آرزو کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے :
عن أنس بن مالك رضى الله عنه قال النبى صلى الله عليه وسلم « لا يتمنين أحدكم الموت من ضر أصابه ، فإن كان لا بد فاعلا فليقل اللهم أحينى ما كانت الحياة خيرا لى ، وتوفنى إذا كانت الوفاة خيرا لى »
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: تم میں کوئی کسی مصیبت کی وجہ سے ہرگز موت کی آرزو نہ کرے اگر وہ موت کی خواہش ہی رکھتا ہے تو یہ دعا کرے
’’ اللَّهُمَّ أَحْيِنِى مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِى ، وَتَوَفَّنِى إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِى
ترجمہ :‘‘ اے اللہ تو مجھ کو حیات عطا فرما جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو اور مجھکو موت عطاء فرما جب وفات میرے لئے بہتر ہو۔
﴿ صحیح بخاری شریف ،باب تمنی المریض الموت ،حدیث نمبر:5671﴾
اگر گناہوں کی کثرت ہو جائے ،فتنے امنڈنے لگیں اور مصیبت میں پڑنے کا خوف ہو تو اپنے دین کو بچانے اور فتنوں سے خلاصی پانے کیلئے موت کی تمنا کرسکتا ہے جیساکہ سنن ترمذی شریف میں حدیث شریف ہے :
عن أبى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ……فبطن الأرض خير لكم من ظهرها ۔
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ……( ایسے زمانہ میں ) زمین کا اندرونی حصہ تمہارے لئے زمین کے بیرونی حصہ سے بہتر ہے۔ ﴿ جامع ترمذی شریف ،حدیث نمبر:2435﴾
الغرض دنیا کے خوف سے موت کی تمنا نہیں کرنا چاہئے ۔

در مختار ج 5 ص 297 میں ہے:
( یکرہ تمنی الموت ) لغضب او ضیق عیش ( الا لخوف الوقوع فی معصیۃ ) ای فیکرہ لخوف الدنیا لا الدین لحدیث فبطن الارض خیرلکم من ظھرھا
اور رد المحتار ‘‘ میں ہے
’’ فی صحیح مسلم « لا يتمنين أحدكم الموت لضر نزل به فإن كان لا بد متمنيا فليقل اللهم أحينى ما كانت الحياة خيرا لى وتوفنى إذا كانت الوفاة خيرا لى ». ﴿ مسلم شریف ،باب كراهة تمنى الموت لضر نزل به،حدیث نمبر:6990﴾
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

مسلمان ہونا کوئی مشکل امر نہیں مگر مسلمان بن کر حدود شرع کی پاسداری کرتے ہوئے زندگی گزارنا دشوار ہے اور صحیح معنوں میں مسلمان وہی ہے جو شرعی احکام و مسائل پر سختی سے کاربند ہو کر کتاب زندگی کی اوراق گردانی کرے۔

عورت

“بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

روح القدوس نے اپنے نور سے ایک روح کو جدا کیا اور اسکو خوبصورت کی صفات دی۔
اللہ تعالیٰ نے اس روح کو خوش اسلوب اور رحم دلی کی برکت دی۔

پھر اس روح کو خوشی کا پیالہ عطا کیااور فرمایا۔’اس پیالہ سے اسوقت تک مت پینا جب تک کہ تم ماضی اور مستقبل کو نہ بھول جاؤ۔

وقتِ حال کی خوشی کے سوا کویئ خوشی نہیں۔

‘ پھر اللہ تعالیٰ اس روح کوغم کا پیالہ دیا اور فرمایا ‘ ا گر اس پیالے سے پیو تو چند روزا خوشی اور مستقیل غم ہوگا۔

تب روح القدوس نے عورت کو ایسی محبت دی جس کو وہ دنیاوی دل جوئ کے خاطر ، وہ کھودئے گی۔ اور جھوٹی تعریفوں کی وجہ سے اپنی لطافت اور نرمی کو چھوڑ دے گی۔

اللہ نے عورت کو جنت سے عقل مندی عطا کی تاکہ وہ صحیح راستہ پر چلے۔ اس کے دل کی گہرائیوں میں ایک آنکھ رکھی جو کے نہ دیکھی ہوئ چیزوں کو دیکھ سکے اور اس کو ہر چیز سے الفت اور ا چھایئ کی خوبی دی۔

روح القدوس نے اس کو امید کا لباس پہنایاجس کو جنت کے فرشتوں نے قوس و قزح سے بنایا اور اسکو پریشانی دماغ کا جامہ پہنا یا جو کہ زندگی کی صبح اور روشنی ہے۔

اس کے بعداللہ تعالی نے غصہ کی آگ سے جہالت کے ریگستان کی خشک ہوا اور نفس پرستی کے سمندر کے کناروںکی چاقو کی طرح تیز ریت اورکُھردری ، مددتوں پرانی زمین کی مٹی کو ملا کر آدمی بنایا۔

اللہ تعالی نے مرد کوایسا اندھی قوت دیئی جواسکو دیوانا بنادتی ہے اور وہ اس خواہش تکمیل کیلئے وہ موت کے منہ میں بھی چلا جاتا ہے۔

خلیل جبران   “مرد کوبہت ریاعت حاصل ہے” ۔

” لیکن اللہ تعالی نے ہم عورتوں کو عقل مندی، گہری سمجھ ، الفت و اچھایئ اور امید بخشی ہے۔

موت زندگی کا آغاض ہے۔

جو موت ہو زندگی کی خاطر
وہ زندگی کا کمالِ فن ہے

از احمد ندیم قاسمی

کل نفس ذائقہ الموت
ہر شخص نے موت کا زائقہ چھکناہے
موت زندگی کی شام کا نام ہے ۔موت اس عارضی زندگی سے اخروی زندگی میں‌ داخل ہونے کا نام ہے ۔اس بارے میں شاعر نے کیا ہے
موت کو سمجھے ہیں‌غافل اختتام زندگی
ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موت آئی اور زندگی ختم ہو گئی ایسا نہیں‌ہے موت سے زندگی ختم نہیں‌ہوتی بلکہ زندگی کو دوام ملتاہے ۔
میں نے بار ہا اس موضوع پر غور کیا کہ
“موت“ کیا ہے؟
اس سے زندگی کا کیا رشتہ ہے؟
ایک دفعہ میں‌نے ایک سمندری جہاز دیکھا، جب وہ ساحل سے دور ہوا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا تو لوگوں نے کہا کہ “چلا گیا“۔ میں نے سوچا دور ایک بندر گاہ ہو گی، وہاں یہی جہاز دیکھ کر لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ “آ گیا“
شاید اسی کا نام موت ہے، ایک پرانی زندگی کا خاتمہ اور نئی زندگی کی ابتداء۔۔۔(خلیل جبران)


زندگی اور موت کے فلسفے میں یہ دو اشعار لاجواب ہیں:-
زندگی کیا ہے، عناصر کا ظہورِ ترکیب
موت کیا ہے، انہی اجزاء کا پریشاں ہونا
(خلیل جبران)

انسان کی زندگی کی تین اقسام ہیں :

1- دنیاوی زندگی جو کہ موت سے ختم ہو جاتی ہے ۔

2- برزخی زندگی جو کہ موت کے بعد قیامت تک ہے ۔

3- آخروی زندگی جو کہ لوگوں کے قبروں سے نکلنے کے بعد جنت کی طرف جانا اللہ تعالی سے ہم اس کا فضل مانگتے ہیں اور پا پھر آگ کی طرف جانا اس سے اللہ تعالی اپنی پناہ میں رکھے ۔

برزخی زندگی جو کہ انسان کی موت کے بعد سے لے کر دوبارہ اٹھنے تک ہے اگرچہ وہ قبر میں جائے یا اسے وحشی جانور کھا جائیں یا پھر وہ جل جائے اس زندگی کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو اپنے گھر والوں کے پاؤں کی آہٹ سنتی ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ۔

تو یہ زندگی یا تو نعمتوں والی ہو گی اور یا پھر آگ سے بھر پور اور قبر بھی یا تو جنت کے باغات میں سے ایک باغ اور یا پھر آگ کے گڑہوں میں سے ایک گڑھا ہو گی ۔

اور اس زندگی میں عذاب اور نعمتوں کی دلیل فرعون کے متعلق اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے :

( آگ کے سامنے یہ ہر صبح اور شام لآئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گی ( فرمان ہو گا ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو ) غافر / 46

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : آل فرعون اور کفار میں سے جو بھی اس جیسا ہو ان کی روحیں صبح اور شام آگ کی طرف لے جائی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ تمہارا گھر ہے ۔

ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اہل سنت کے استدلال کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ برزخی زندگی میں قبر کے اندر عذاب ہوتا ہے ۔ تفسیر ابن کثیر ( 4/ 82)

امام قرطبی کا فرمان ہے کہ : بعض اہل علم نے اس آیت سے عذاب قبر پر استلال کیا ہے :

( آگ کے سامنے یہ ہر صبح اور شام لآئے جاتے ہیں )

اور اسی طرح مجاہد اور عکرمہ اور مقاتل اور محمد بن کعب رحمہم اللہ سب نے یہی کہا کہ یہ آیت عذاب قبر پر دلالت کرتی ہے کیا آپ یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالی نے آخرت کے عذاب کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ:

( اور جس دن قیامت قائم ہو گی (فرمان ہو گا ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو ) تفسیر قرطبی (15/ 319)

اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

( تم میں جب کوئی فوت ہوتا ہے تو اس پر صبح اور شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے تو جو شخص جنتی ہو اسے جنت کا اور جو جہنمی ہو اسے جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے )

صحیح بخاری (بدء الخلق حدیث نمبر 3001) صحیح مسلم (الجنۃ وصفۃ نعیمہا حدیث نمبر 2866)

عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے پاس ایک یہودی عورت آئی تو اس نے عذاب قبر کا ذکر کیا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہنے لگی کہ اللہ تعالی آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عذاب قبر کے متعلق سوال کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں عذاب قبر ہے عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے دیکھا ۔

صحیح البخاری ( الجنائز حدیث نمبر 1283) صحیح مسلم ( الکسوف حدیث نمبر 903)

مندرجہ بالا آیات اور احادیث سے عذاب قبر کا ثبوت ملتا ہے اور ان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کو عذاب مسلسل مل رہا ہے ۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی عذاب قبر کے متعلق فرماتے ہیں کہ :

اگر انسان کافر ہے اللہ تعالی اس سے بچا کے رکھے تو وہ کبھی بھی نعمتوں کو نہیں پا سکتا اور اسے مسلسل عذاب ہو گا لیکن اگر وہ مومن اور گنہگار ہے تو اسے قبر میں عذاب اس کے گناہ کے حساب سے ہو گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسے اس برزخ سے جو کہ اس کی موت اور قیامت تک ہے گناہوں کا عذاب کم ہو تو اس وقت منقطع ہو گا ۔


شراب ,جوا, زن و شوہر ,نکاح,اور مشرک

سورة البَقَرَة

(اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (۲۱۹) (یعنی) دنیا اور آخرت (کی باتوں) میں (غور کرو)۔ اور تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے۔ اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکھٹا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون۔ اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا۔بےشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے (۲۲۰)اور (مومنو) مشرک عورتوں سے جب تک کہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا۔ کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے اس سے مومن لونڈی بہتر ہے۔ اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو ان کو زوجیت میں نہ دینا کیونکہ مشرک (مرد) سے خواہ وہ تم کو کیسا ہی بھلا لگے مومن غلام بہتر ہے۔ یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں (۲۲۱) اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ تو نجاست ہے۔ سو ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو۔ اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو۔ ہاں جب پاک ہوجائیں تو جس طریق سے خدا نے ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ۔ کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے (۲۲۲) تمہاری عورتیں تمہارای کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ۔ اور اپنے لئے (نیک عمل) آگے بھیجو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (ایک دن) تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے اور (اے پیغمبر) ایمان والوں کو بشارت سنا دو (۲۲۳) اور خدا (کے نام کو) اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اس کی) قسمیں کھا کھا کر سلوک کرنے اورپرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے (۲۲۴) خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہ کرے گا۔ لیکن جو قسمیں تم قصد دلی سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا۔ اور خدا بخشنے والا بردبار ہے (۲۲۵) جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے سے قسم کھالیں ان کو چار مہینے تک انتظار کرنا چاہیئے۔ اگر (اس عرصے میں قسم سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے (۲۲۶) اور اگر طلاق کا ارادہ کرلیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے (۲۲۷) اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے رہیں۔ اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کا جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے (۲۲۸) طلاق (صرف) دوبار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دے دی جائے تو) پھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائستہ (نکاح میں) رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا۔ اور یہ جائز نہیں کہ جو مہر تم ان کو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ خدا کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا۔ اور جو لوگ خدا کی حدوں سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے (۲۲۹) پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی۔ ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے اورعورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں (۲۳۰) اور جب تم عورتوں کو (دو دفعہ) طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھوکہ خدا ہر چیز سے واقف ہے (۲۳۱) اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (۲۳۲) اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔ اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا۔ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی (تو یاد رکھو کہ) نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور اسی طرح (نان نفقہ) بچے کے وارث کے ذمے ہے۔ اور اگر دونوں (یعنی ماں باپ) آپس کی رضامندی اور صلاح سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا کیا تھا دے دو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے (۲۳۳) اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے (۲۳۴) اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے۔ مگر (ایام عدت میں) اس کے سوا کہ دستور کے مطابق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پر ان سے قول واقرار نہ کرنا۔ اور جب تک عدت پوری نہ ہولے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا۔ اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا بخشنے والا اور حلم والا ہے (۲۳۵)اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگدست اپنی حیثیت کے مطابق۔ نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے (۲۳۶) اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا۔ ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں۔ (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ ہ اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے۔ اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے (۲۳۷) (مسلمانو) سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز (یعنی نماز عصر) پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اور خدا کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو (۲۳۸) اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو پیادے یا سوار (جس حال میں ہو نماز پڑھ لو) پھر جب امن (واطمینان) ہوجائے تو جس طریق سے خدا نے تم کو سکھایا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے خدا کو یاد کرو (۲۳۹) اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کرجائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں۔ ہاں اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا زبردست حکمت والا ہے (۲۴۰) اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان و نفقہ دینا چاہیئے پرہیزگاروں پر (یہ بھی) حق ہے (۲۴۱) اسی طرح خدا اپنے احکام تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو (۲۴۲) بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے۔ تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ۔ پھر ان کو زندہ بھی کردیا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے (۲۴۳) اور (مسلمانو) خدا کی راہ میں جہاد کرو اور جان رکھو کہ خدا (سب کچھ) جانتا ہے (۲۴۴) کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کے بدلے اس کو کئی حصے زیادہ دے گا۔ اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے (۲۴۵) بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو۔ وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے (خارج) اور بال بچوں سے جدا کردیئے گئے۔ لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھر گئے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے (۲۴۶) اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہےبادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نےاس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے (۲۴۷) اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے (۲۴۸) غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ) وہ میرا نہیں۔ اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے (تو خیر۔ جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے۔ تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے (۲۴۹) اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتحیاب کر (۲۵۰) تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا۔ اور خدا نے اس کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا۔ اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے ہٹاتا نہ رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے (۲۵۱) یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمدﷺ) تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو (۲۵۲) یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتاً بھیجتے رہیں ہیں) ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ بعض ایسے ہیں جن سے خدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے امور میں) مرتبے بلند کئے۔ اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس سے ان کو مدد دی۔ اور اگر خداچاہتا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاس کھلی نشانیاں آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض تو ایمان لے آئے اور بعض کافر ہی رہے۔ اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے۔ لیکن خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے (۲۵۳) اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہو سکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں (۲۵۴) خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہیں سب اسی کا ہے کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اس کی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے (۲۵۵) دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے (۲۵۶) جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (۲۵۷) بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا نے اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجیئے (یہ سن کر) کافر حیران رہ گیا اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا (۲۵۸)یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے)رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے (۲۵۹) اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔ خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ لیکن (میں دیکھنا) اس لئے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان کامل حاصل کرلے۔ خدا نے فرمایا کہ چار جانور پکڑوا کر اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھوا دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے۔ اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے۔ (۲۶۰) جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے (۲۶۱) جو لوگ اپنا مال خدا کے رستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس (تیار) ہے۔ اور (قیامت کے روز) نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے (۲۶۲) جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بے ادبی سے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپروا اور بردبار ہے (۲۶۳)مومنو! اپنے صدقات (وخیرات)احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا (۲۶۴) اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو(جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے۔ اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے (۲۶۵) بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو) (۲۶۶) مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہوں اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سےنکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو۔ اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت) آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو۔ اور جان رکھو کہ خدا بےپروا (اور) قابل ستائش ہے (۲۶۷) (اور دیکھنا) شیطان (کا کہنا نہ ماننا وہ) تمہیں تنگ دستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کر نے کو کہتا ہے۔ اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے۔ اور خدا بڑی کشائش والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے (۲۶۸) وہ جس کو چاہتا ہے دانائی بخشتا ہے۔ اور جس کو دانائی ملی بےشک اس کو بڑی نعمت ملی۔ اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں (۲۶۹) اور تم (خدا کی راہ میں) جس طرح کا خرچ کرو یا کوئی نذر مانو خدا اس کو جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں (۲۷۰) اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اس طرح کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا۔ اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے (۲۷۱) (اے محمدﷺ) تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور (مومنو) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لئے کرو گے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا، (۲۷۲) (اور ہاں تم جو خرچ کرو گے تو) ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے (۲۷۳) جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم (۲۷۴) جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سودا بیچنا بھی تو (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ تو جس شخص کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا۔ اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں (جلتے) رہیں گے (۲۷۵) خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا (۲۷۶) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہے ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کچھ خوف ہوا اور نہ وہ غمناک ہوں گے (۲۷۷) مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو (۲۷۸) اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور تمہارا نقصان (۲۷۹) اور اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو توتمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو (۲۸۰) اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا۔ اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا (۲۸۱)مومنو! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لئے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے۔ اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے۔ اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی۔ اور جب گواہ (گواہی کے لئے طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں۔ اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں کاہلی نہ کرنا۔ یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لئے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے۔ اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وہ شبہ بھی نہیں پڑے گا۔ ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھوتو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور جب خرید وفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو۔ اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں کا) کسی طرح نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے (۲۸۲) اور اگر تم سفر پر ہواور (دستاویز) لکھنے والا مل نہ سکے تو (کوئی چیز) رہن یا قبضہ رکھ کر (قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہیئے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کردے اور خدا سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے۔اور (دیکھنا) شہادت کو مت چھپانا۔ جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے (۲۸۳) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے (۲۸۴) رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی۔ سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اورکہتے ہیں کہ) ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔ اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے (۲۸۵) خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے ان کا نقصان پہنچے گا۔ اے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مؤاخذہ نہ کیجیو۔ اے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو۔ اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما (۲۸۶)