زبان کی حفاظت


أما بعد! قال اللہ تعالی:

(وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا۔ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّـهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا) [الطلاق :2-3]

“اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔ اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرکے ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازه مقرر کر رکھا ہے۔”

وقال فی موضع آخر: (وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۗ ) [الأنعام:80]

” میرا پروردگار ہر چیز کو اپنے علم میں گھیرے ہوئے ہے۔”

وقال: (وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ) [یونس:61]

“اور آپ کے رب سے کوئی چیز ذره برابر بھی غائب نہیں، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اورنہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ کوئی چیز بڑی مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے۔”

 بندہ ہر وقت اللہ کی  نگرا نی میں  رہتا ہے اس کی کوئی بھی حرکت اس سے پوشیدہ نہیں۔ یہی نہیں بلکہ آسمان وزمین کی کوئی بھی چیز   اس سے چھپی  ہوئی نہیں ہے۔ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے چھوٹی بڑی ہر چیز سے وہ باخبر ہے۔اسی وجہ سے اس نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اس سے ڈریں اور ان تمام چیزوں سے اپنے آپ کو بچائیں جو اس کی ناراضگی کا باعث ہیں۔

اللہ کے بندو!زبان اللہ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ انسان کو اس لیے ملی ہے تاکہ وہ اس سے چیزوں کاذائقہ  معلوم کر سکے اور اپنے دل کی باتیں لوگوں  کوبتا سکے۔ زبان نہ ہوتی تو ہم اپنے مافی الضمیر  کا اظہار نہیں کرسکتے  تھے۔  اس لیے احسان  جتا تے ہوئے  اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے:

(أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ۔ وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ) [البلد:8-9]

“کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہیں بنائیں۔ اور زبان اور ہونٹ (نہیں بنائے)۔”

زبان ہی سے آدمی کےعقل وشعور  اور اس کی صلاحتیوں  کاپتہ چلتا ہے لیکن اس نعمت کا  استعمال اگر غلط طریقے سے ہو تو یہ نعمت اللہ کی ناراضگی  کا باعث بن جاتی ہے اور لوگوں کے دل بھی اس سے زخمی ہوتے ہیں۔ یاد رکھیے، زبان کا زخم  تیروسنان کے زخم سےزیادہ  کاری ہوتا ہے۔اسی لیے زبان  کےخوف سے بڑے بڑے بہادر لرزتے ہیں۔  ایک عربی شاعر کہتا ہے  ؎

جراحات السنان لھا التیام

ولا یلتام ما جرح  اللسان

“تیرکے زخم بھر جاتے ہیں  لیکن زبان  کے زخم کبھی نہیں بھر تے۔”

 اسی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جہنم میں لوگ اپنی زبانوں کے حصائد  یعنی  زبان کی کاٹی ہوئی کھیتیوں  سے ہی اور ندھے منہ گرائے جائیں گے۔ زبان  کی کا ٹی ہوئی  کھیتیوں  سے مراد  زبان  سے سرزد  ہونے والے  گناہ کی  باتیں ہیں۔اسی لیے مؤمن جو اس بات کایقین رکھتا  ہے کہ اللہ  اس کی ہر بات اور ہرحرکت کوسنتا   اور دیکھتا  ہے، کھبی بھی اپنی  زبان کو آزاد اور بےلگام نہیں چھوڑ  تا۔ ہمیشہ  اسے اپنے کنٹرول  میں رکھتا  ہے۔ زبان  کے حصائد  یعنی  اس سے سرزد ہونے والے گنا ہوں کی بہت ساری قسمیں ہیں۔  ان میں سے چند کا ذکر ہم آج  کے اس خطبے میں کریں گے۔ ان میں سے سب  سے اہم غیبت اور بہتان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ الحجرات میں اس سے بچنے  کی سخت  تاکید فر مائی ہے۔ ارشاد باری ہے:

(وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ) [الحجرات:12]

“اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی۔”

ابو بزرہ  اسلمی رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے وہ کہتے ہیں  کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(یا معشر من آمن بلسانہ ولم یدخل الإیمان فی قلبہ لا تغتابوا المسلمین ولا تتبعوا عوراتھم فإنہ من اتبع عوراتھم یتبع اللہ عز وجل عورتہ، ومن یتبع اللہ عورتہ یفضحہ فی بیتہ) [أبو داؤد]

“اے وہ لوگو!جو ایمان لاۓ ہو،،  اپنی زبان سے (اور  حال یہ ہے کہ ایمان  اس کے دل میں داخل  نہیں ہواہے)  مسلمانوں  کی غیبت  نہ کرو۔ اور ان کے عیوب کے پیچھے نہ پڑو۔ اس لیے کہ  جو ان کے عیوب کے پیچھے  پڑےگا،  اللہ اس کے  عیب کےپیچھے  پڑےگا۔ اور اللہ جس  کے عیب کے پیچھے  پڑےگا،  اسے اس کے گھر میں ذلیل  ورسوا کر دےگا۔

ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

(أ تدرون ما الغیبۃ؟ قالوا اللہ ورسولہ أعلم، قال: ذکرک أخاک بما یکرہ، قیل أ فرأیت إن کان فی أخی ما أقول؟ قال؛ إن کان فیہ ما تقول فقد اغتبتہ وإن لم یکن فیہ ما تقول فقد بھتَّہ)

“کیا تم جانتے ہوکہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا  اللہ اور اس کے رسول  بہتر جانتے  ہیں۔ آپ نے فرمایا:  اپنے بھائی کا اس انداز  میں ذکر  کرنا، جسے وہ نہ پسند  کرے۔ آپ سے پوچھا گيا: اگر میرے بھائی میں وہ چیز  موجود ہو جس کا میں ذکر کروں؟ آپ نے فرمایا: اگر اس میں وہ چیز موجود ہو جس کا تونے ذکر کیا، تو یہ اس کی غیبت ہے اور اگر اس میں وہ بات  نہیں ہے جو تو اس کی بابت  بیان کر رہا ہے تو  پھر تونے اس پر بہتان باندھا۔

اسی طرح  زبان کے حصائد میں سے چغل خوری  بھی ہے۔  اس سے بھی اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ڈرایا ہے۔ جیسا کہ عبد اللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا دو قبروں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ  نے فرمایا:

(إنھما لیعذبان وما یعذبان فی کبیر، أما أحدھما فکان لا یستنزی من بولہ، وأما الآخر فکان یمشی بالنمیمۃ)

“یہ دونوں قبر  والے عذاب دیے جار ہے ہیں اور وہ بھی کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں، بلکہ  ان میں سے ایک شخص تو پیشاب سے پاکی حاصل نہیں کرتا تھا  اور دوسرا چغل خوری  میں لگا رہتا تھا۔”

زبان ہی کے حصائد میں سے عورتوں  کا کثرت  سے لعن طعن کرنا بھی ہے۔ جہنم میں عور توں کے زیادہ جانے کا سبب آپ  نے ان کی لعن طعن کی کثرت  کو بتا یا۔  جیسا کہ ابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ  کی ایک  روایت  میں ہے۔

(یا معشر النساء تصدقن فإنی رأیتکن أکثر أھل النار، فقلن لم ذلک یا رسول اللہ؟ قال تکثرن اللعن وتکفرن العشیر) [بخاری]

“اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، کیونکہ  میں نے تم عورتوں کو جہنم میں زیادہ دیکھا ہے۔ تو ان سب نے پوچھا:   اس کی کیا وجہ ہے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: تم لعن طعن  زیادہ کرتی ہو اور شوہروں  کی ناشکر ی کرتی ہے۔”

بخاری میں ابو ہریرہ  رضی اللہ  عنہ  سے مرفوعا  روایت ہے:

(و أن العبد لیتکلم بالکلمۃ من سخط اللہ یلقی لھا بالا یھوی بھا فی جھنم)

“بندہ اپنی زبان  سے اللہ کی ناراضگی  کی بات بولتا ہے  اور اسے  اس کی  کوئی  پرواہ نہیں  ہوتی۔ حالانکہ وہ اس کی وجہ سے جہنم میں ڈال دیا جاتا ہے۔”

اس کے برعکس  اچھی اور بھلی بات سے اللہ خوش ہوتا ہے اور اس  سے بندے کا درجہ اور  وقار بلند  ہوتا ہے۔ اسی لیے زبان  کی حفاظت  کی طرف اللہ  کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے خاص توجہ دی ہے ۔ مسند احمد  وغیرہ میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے نماز روزہ،زکوۃ جہاد  وغیرہ اچھی  باتوں کا ذکر کیا اور فرمایا:

(ألا أخبرک بملاک ذلک کلہ؟ قلت بلی یا رسول اللہ! فأخذ بلسانہ وقال: کف علیک ھذا، قلت: یا رسول اللہ! وأنا لمؤخذون بما نتکلم بہ؟ فقال ثکلتک أمک وھل یکب الناس فی النار علی وجوھھم إلا حصائد ألسنتھم)

“کیا میں تمہیں  ایسی بات  نہ بتاؤ ں  جس پر ان سب کا دار ومدار ہے؟ میں نے کہا: کیوں  نہیں اے اللہ کے  رسول! آپ نے اپنی زبان  پکڑی  اور فرمایا:اس کو روک کے رکھ۔میں نے عرض کیا:  ہم زبان  کے ذریعہ  سے جو گفتگو کرتے ہیں، اس پر بھی  ہماری گرفت ہوگی؟  آپ نے فرمایا: تیری ماں تجھے گم پائے، (یہ بددعا  نہیں عربی محاور ہ ہے )جہنم میں لوگوں  کو ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی کھیتیاں  ہی اوندھے منہ گرائيں گی۔

اس سلسلے میں اللہ کے رسول اپنے اہل وعیال  کی  خاص طور سے نگرانی  کرتے تھے۔ حضر ت عائشہ  رضی اللہ عنھا سے روایت  ہے وہ کہتی ہیں  کہ ایک بار میں نے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے کہا: (حسبک من صفیہ کذا وکذا) “آپ کے لیے  کافی  ہے کہ صفیہ  ایسی اور ایسی ہیں۔”

بعض رواۃ  نے کہا ہے کہ ان کی مراد  اس سے یہ تھی کہ وہ پستہ قد ہیں،  تو آپ نے فرمایا:

(لقد قلت کلمۃ لو مزجت بماء البحر لمزجتہ قالت وحکیتُ لہ إنسانا، فقال: ما أحب إنی حکیت إنسانا وأن لی کذا وکذا)

“تو نے ایسی  کڑوی بات کہی ہے کہ اگر یہ دریا کے پانی میں ملا دی جائےتو اسے بھی کڑوا کر دے، حضرت عائشہ  فرماتی ہیں  کہ میں نے آپ  کے سامنے ایک آدمی  کی نقل اتاری  تو آپ نے فرمایا  میں  پسند نہیں کرتاکہ میں کسی انسان کی نقل اتاروں، چاہے    اس کے بدلے  مجھے اتنا اور مال ملے۔

 لایعنی  اور فضول  باتوں سے بھی زبان  کو بچا نا چاہئے  جس سے نہ کوئی نقصان پہنچتا ہو، نہ فائدہ۔ امام بخاری  نے  “الأدب المفرد” میں  حضرت انس سے صحیح  سند سے روایت  نقل کی ہے،  وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نےحضرت عمر  کی موجود گی میں خطبہ دیا  اور اس نے بہت سی بے فائدہ باتیں کہیں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے کہا :

(إن کثرۃ الکلام فی الخطب من شقاشق الشیطان)

” خطبوں  میں زیادہ  بولنا ایسا ہی  ہے جیسے شیطان  منہ  سے جھاگ  نکالے  ۔ “

 لایعنی  چیزوں میں نہ پڑ نا آدمی کے حسن اسلام کی دلیل  ہے۔ ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے، کہتے ہیں  کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

(من حسن إسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ)

” آدمی کے حسن اسلام میں سے اس کا لایعنی  چیزوں  کا چھوڑ دینا ہے  ۔ ” [ امام  ترمذی  نے اس حدیث کی  تخریج  بسند حسن کی ہے]

زبان کے حصائد  میں سے مسلمان کی عزت وآبرو کے درپے ہونا  بھی ہے۔  واثلہ  بن اسقع  رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے وہ کہتے  ہیں  کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے‍‍:

(المسلم علی المسلم حرام دمہ وعرضہ ومالہ المسلم أخو المسلم لا یظلمہ ولا یخذلہ، التقوی ھاھنا وأومأ بیدہ إلی القلب)

” مسلمان کا خون، اس کی عزت  آبرو اور اس کا مال،  مسلمان پر حرام  ہے۔مسلمان   مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ وہ اس پر زیادتی  کرے اور نہ اسے بےیار ومددگار چھوڑے کہ اسے دشمن کے سپرد کر دے۔ تقوی ٰ یہاں  ہے اور آپ  نے اپنے ہاتھ  سے دل کی طرف  اشارہ کیا  ۔”

 بےحیائی کی باتیں اور فحش کلامی  بھی زبان  کے حصائد  میں سے ہے۔  آج کل مسلمان  سوسائٹیوں  میں یہ وبا بڑ ی تیزی  کے ساتھ پھیل  رہی ہے۔ یہ نتیجہ ہے یہودیوں کی  ابلا غی  یورش، ریڈیو، ٹیلی ویژن  اور بےحیائی  اور فحاشی  پھیلانے   والے چینلوں کا۔  ان فحش چینلوں کے ذریعہ مسلما  نوں کے گھروں میں  یہ برائی بڑی  تیزی  سے پھیل رہی ہے اور انہیں  اس کا شعور واحساس  تک نہیں ۔ ابوداؤد کی روایت ہے  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(ما من شئ أثقل فی میزان العبد المؤمن یوم القیامۃ من حسن الخلق و إن اللہ یبغض الفاحش البذی)

” قیا مت  کے دن مؤمن بندے کی  میزان  میں حسن خلق سے زیادہ بھاری  کوئی چیز نہیں  ہوگی۔ اور یقینا ً اللہ تعالیٰ بدزبان  اور فحش گوئی  کرنے والے  کونہ پسند کرتا ہے۔”

جھوٹ بولنا  بھی زبان کے حصائد میں سے ہے۔ آج کل یہ وبا بھی  مسلمانوں میں عام  ہے۔ حالانکہ جھوٹ  بولنا کبیرہ گناہوں  میں سے ہے ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے نفاق کی علامت قرار دیا ہے۔ ابن  مسعود رضی اللہ  عنہ   سے  روایت  ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ  علیہ وسلم   کا ارشاد ہے :

(و إیاکم الکذب فإن الکذب یھدی إلی الفجور والفجور یھدی إلی النار و إن الرجل لیکذب حتی یکتب عند اللہ کذابا) [بخاری ومسلم]

“جھوٹ سے بچو، بلاشبہ جھوٹ  نافرمانی کی طرف رہنما ئی کرتا ہے۔ اور نافرمانی  جہنم کی طرف  رہنمائی کرتی ہے۔ اور آدمی جھوٹ  بولتا  رہتا  ہے، یہاں تک  کہ وہ اللہ کے یہاں کذاب لکھ دیا جاتا  ہے۔”

انہیں سے روایت ہے آپ نے فرمایا:

(لا یصلح الکذب فی جدو لا ھزل ولا أن یعد أحدکم ولدہ لا ینجز)

“جھوٹ  سنجیدگی  اور مذاق کسی حال میں درست نہیں، اور نہ یہ کہ تم میں سے کوئی اپنے بیٹے سےجھوٹا وعدہ کرے، پھر  اسے پورا نہ کرے۔”

 ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت  ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

(من تحلم بحلم لم یرہ کلف أن یعقد بین شعیرتین ولن یفعل)

” جو شخص  جھوٹا  خواب بیان کرے جسے اس نے نہیں دیکھا ہے تو اسے قیامت کے دن مجبور کیا جائےگا کہ وہ جَو کے دودانوں  کے درمیان گرہ لگائے اور وہ یہ گرہ نہیں لگاسکےگا۔”

 اسی طرح جھو ٹی گواہی دینا بھی زبان کے حصا ئد میں سے ہے۔ ابوبکر  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے، وہ کہتے  ہیں   اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

(ألا أنبئکم بأکبر الکبائر؟ قلنا: بلی یا رسول اللہ قال! الإشراک باللہ وعقوق الوالدین وکان متکئا فجلس فقال: ألا وقول الزور، فما زال یکررھا حتی قلنا: لیتہ سکت)

”  کیا  میں تمہیں سب سے بڑے گنا ہ کی  خبر نہ دوں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ  نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ اور آپ ٹیک  لگائے ہوئے تھے اُٹھ کر بیٹھ گئےاور فرمایا: سنو اور جھوٹی بات، جھوٹی بات، آپ  برابر یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا: کاش آپ خاموش ہوجاتے۔”

  اللہ تعالیٰ نے مؤمن کی صفات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّور) [الفرقان: 72]

“اور جو لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔”

اللہ تعالیٰ  نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ کسی، فاسق  سے کوئی بات سنے تو پہلے  اس کی پوری تحقیق کرلے، پھر اسے لوگوں  سے بیان کرے۔ ارشاد  باری ہے :

(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ) [الحجرات:6]

“اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ۔”

علامہ سعدی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں  کہ یہ ان آداب میں سے ہے جس سے ہر صاحب عقل وشعور بہرہ ور ہوتا ہے۔ جب اسے کوئی فاسق  کسی چیز کی خبر  دیتا ہے تو وہ اس کی اچھی طرح چھان بین  کرتاہے۔  اسے سنتے ہی مان  نہیں لیتا کیونکہ  اندیشہ ہے کہ اسے صحیح سمجھ کر آدمی کوئی ایسا اقدام کر بیٹھے جس میں جان واموال ناحق  تلف ہوں  اور بعد میں  اسے شرمندگی وندامت  اٹھانی  پڑ جائے۔  اس لیے فاسق کی خبر کی  چھان  بین ضروری  ہے۔ اگر دلائل وقرائن  سے اس کا جھوٹا ہونا  ثابت ہو جائے قوم  اس کی بات  پرعمل  نہ کرے اس میں اس بات  کی دلیل  بھی ہے کہ سچے آدمی  کی خبر مقبول ہوگی اور جھوٹے شخص  کی خبر  مردود اور فاسق  کی خبر  پہ توقف کیا جائےگا۔ اسی وجہ سے سلف نے ان خوارج کی بہت سی روایات قبول کی ہیں  جو اپنی سچائی اور صدق  بیا نی میں   معروف ومشہور تھے   اگر چہ  وہ فاسق تھے ۔

دوسرا خطبہ

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

قرآن وسنت میں ایسے بہت سے نصوص  وارد ہیں  جن سے معلوم  ہوتا ہے  کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسے فرشتے مقرر  کر رکھے  ہیں جو لوگوں  کی نگرانی  کرتےہیں ۔   ارشاد باری ہے :

(وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَة) [الأنعام:61]

“اور تم پر نگہداشت رکھنے والے بھیجتا ہے۔”

یہ فرشتے اس  کے اچھے  اور برے تمام اقوال  واعمال  کو نوٹ  کرتے رہتے ہیں ۔

 ارشاد باری ہے:

(وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ۔ كِرَامًا كَاتِبِينَ۔ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُون) [الانفطار :10-12]

” یقیناً تم پر نگہبان عزت والے۔ لکھنے والے مقرر ہیں۔ جوکچھ تم کرتے ہو وه جانتے ہیں۔”

 ایک جگہ ارشاد ہے: (إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ۔ مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ) [قٓ:16-17]

“جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے۔ (انسان) منھ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے۔”

 ایک جگہ  ارشادہے:

(أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُم ۚ بَلَىٰ وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ)  [الزخرف: 80)

“کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیده باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے، (یقیناً ہم برابر سن رہے ہیں) بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں۔”

صحیحین  میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

(یتعاقبون فیکم ملائکۃ باللیل وملائکۃ بالنھار یجتمعون فی صلاۃ الفجر وصلاۃ العصر ثم یعرج الذین باتوا  فیکم قال لھم ربھم وھو أعلم بھم کیف ترکتم عبادی؟ فیقولون ترکناھم وھم یصلون واتیناھم وھم یصلون) [بخاری ومسلم]

“تمہارے درمیان رات کو اور دن کو فرشتے  باری باری سے آتے اور جاتے ہیں اور صبح کی نماز  میں اور عصر کی نماز میں وہ اکٹھے ہوتے ہیں۔  پھر  وہ فرشتے  جو تمہارے درمیان رات  گزارتے  ہیں اوپر چڑ ھ جاتے ہیں۔تو اللہ تعا لیٰ ان سے پو چھتا  ہے:  تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ  ا؟ وہ کہتے ہیں: ہم انہیں نماز  پڑ ھتے ہوئے چھوڑ کر  آئے   ہیں۔  اور جب ہم  ان کے پاس  گئے تھے۔  تب  بھی وہ نماز  ہی  میں مصروف  تھے۔

 اگر آپ یہ اعتراض کریں کہ اللہ تعالیٰ تو سب کچھ جانتا ہے۔ اسے فرشتوں  کے لکھنے  کی کیا ضرورت پڑ گئی؟ توہم کہیں  گے  کہ یہ بندوں پر  اس کا لطف وکرم ہے۔ اس نے  ایسا اس لیے   کر رکھا ہے تا کہ بندے  اس بات کو یاد رکھیں کہ اللہ   ان کی نگرانی کر رہا ہے۔ اور اس نے ان کی ہرہر حرکت  کو نوٹ  کر نے کے لیے  فرشتوں  کو لگا رکھا  ہے جو اس  کی مخلوق  میں اشرف  ہیں۔ یہ فرشتے  اس کے تمام اعمال  رجسٹر میں نوٹ کر رہے  ہیں اور قیامت  کے دن میدان  محشر میں  اسے پیش  کریں گے۔ یہ چیز اسے غلط  کاریوں  سے زیادہ روکنے والی ہوگی۔

 جب ایسی بات ہے کہ  اللہ ہماری  ہر بات اور ہر حرکت فرشتوں  کے ذریعے نوٹ کروا رہا  ہے تو   ہمیں  درست اور سچی  بات  ہی زبان سے نکالنی چاہئے  اور زبان  کو غلط  اور دل آزار  باتو ں سے آلودہ نہیں  ہونے دینا چاہئے۔  اللہ تعالیٰ  کا ارشاد ہے:

(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا۔ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا) [الأحزاب:70-71]

“اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔”

 قول منہ  سے نکلی  ہوئی بات کو کہتے ہیں۔  اور سدید کے معنی  درست  اور حق ہونے کےہیں۔ اسی سے “تسد السھم” آتا ہے ، یعنی  تیر کو شکار کی طرف  درست  کرنا تاکہ  نشانہ   نہ چوکے۔

لہذا “قول سدید”  ان تمام  باتوں کو شامل ہوگاجو درست، صحیح اور مفید  ہوں۔ اس میں سلام  کرنا، اپنے  مسلمان بھائی سےیہ  کہنا  کہ میں تم  سے محبت  کرتا ہوں ، قرآن  مجید  کی تلاوت  کرنی  اچھی  باتوں کی طرف رہنمائی کرنا، اللہ کی تسبیح وتحمید کرنی، اذان  واقامت کہنی ، وغیرہ تمام  امور  “قول سدید” میں داخل  ہیں۔

 محترم بھائیو!یہ بات  یاد رکھئے کہ  زبان  نیکی اور بدی کے  دروازوں  میں سے ایک  اہم  دروازہ  ہے۔ لوگ  جہنم  میں اوندھے  منہ اپنی زبان  ہی سے کہی ہوئی باتوں کی وجہ سے ڈالے جائیں گے۔ اسی  وجہ  سے حدیث  میں آتا ہے:

(من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیقل خیرا أو لیصمت)

” جو اللہ اور یوم آخرت  پر  ایمان  رکھتا  ہو، اسے چا ہئے کہ وہ اچھی  اور بھلی  بات  کہے  یا خاموش  رہے ۔

” قول سدید ” ہی سے معاشرے میں اچھی  باتوں  کا فروغ  ہوتا ہے۔ لوگوں  میں حقیقت  پسندی عام ہوتي ہے۔  اس کے  برخلاف “قول شر” سے گمرا ہیاں پھیلتی  ہیں۔  “قول سدید ” کے نتیجے  میں لوگوں  کے اعمال  میں درستگی آتی ہے؛  کیونکہ  ایسے  شخص  کی لوگ  اقتدا کرتے ہیں اور اس کی باتوں  کوغور  سے سنتے ہیں  اور اپنی اصلاح کرتے ہیں۔

 اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے  کہ ہمیں  اپنی زبان  کو قابو  میں رکھنے  اور اس سے سچی  اور درست بات  کہنے کی توفیق  دے۔ اور ہمیں  ایسی  باتیں  زبان  پر لانے  سے محفوظ  رکھے  جو اللہ  کی ناراضگی کا باعث ہیں اور جن سے اللہ کے بندوں  کی بھی دل  آزاری  ہو رہی ہو۔

أقول قولی ھذا واستغفر اللہ لی ولکم ولسائر المسلمین فاستغفروہ إنہ ھو الغفور الرحیم۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s