مصنوعی آفات


قرب قیامت کی نشانیاں چونکہ ہورہی ہیں تو ہمیں اب یہ نہی دیکھنا چاہیے کہ کون کررہا ہے بلکہ دیکھنا پڑے گا کہ نشانیاں وقوع پذیر ہوگئ ہیں اور ہورہی ہیں

کہ جب بھی امریکی خلائی جہاز

 جب بھی امریکی خلائی جہاز X37B کو خلا میں بھیجا جاتا ہے دُنیا میں کہیں نہ کہیں قدرتی آفات آجاتی ہیں۔ پچھلے سال 22 اپریل 2010ء کو یہ جہاز 9 ماہ کے لئے خلیج فارس، افغانستان، پاکستان اور آبنائے کوریا کی جاسوسی اور ضرورت پڑنے پر کسی جگہ حملہ کرنے کے لئے خلاء میں لانچ کیا گیا، پھر بھی اس خلائی جہاز سے ہارپ کی تکنالوجی کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے قدرتی آفات مصنوعی طور پر لائی جاسکتی ہیں۔ خلاء میں بھیجا گیا تھا تو 26 جولائی 2010ء کو پاکستان غیرمعمولی مون سون مغرب اور مشرق سے اور اپنے ساتھ بے پناہ تباہی لے کر آئیں۔ پاکستان کا 43 بلین سے نقصان ہوا، اموات دو ہزار سے اوپر تھیں اور تقریباً پاکستان کا پانچ واں حصہ پانی میں ڈوب گیا تھا مگر خیر یہ ہوئی کہ پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام اس وقت بھی محفوظ رہا اور 2005ء کے زلزلہ بھی اللہ کی مہربانی سے محفوظ رہا۔ اگرچہ یہ زلزلہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں پیش آیا۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ مصنوعی تھا اور ہارپ کی تکنالوجی استعمال کرکے کیا گیا تھا، کچھ کا یہ خیال بھی ہے کہ وہ شاید کسی طاقت کو یہ خیال تھا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات ان پہاڑوں میں چھپے ہوئے ہیں پھر خوشاب کےایٹمی ری ایکٹرز ممکن ہے کہ سیلاب کا ہدف ہوں کیونکہ اب جاپان کے زلزلہ اور سونامی پر جو کہ 11 مارچ 2011ء کو درپیش ہوا کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ بھی مصنوعی ہے اور امریکہ خلائی جہاز X37B پانچ مارچ 2011ء کو خلاء میں چھوڑا گیا، اُس کے ٹھیک 6 روز بعد یہ حادثہ رونما ہوا، اس سے جاپان کے تین ایٹمی ری ایکٹرز متاثر ہوگئے ہیں اور اُن سے تابکاری اثرات خارج ہونا شروع ہوگیا ہے۔ اس پر انگلیاں امریکہ کی طرف ہی اٹھتی نظر آئی ہے کیونکہ یہ خبر ہے کہ جاپانی کئی دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر یہ کوشش کررہا تھا کہ ”ڈالرز“ کو لین دین کی کرنسی کے طور پر ختم کرکے ایک نئی کرنسی کو جنم دیا جائے اور جاپان کا شہنشاہ چین کے صدر سے تین مرتبہ مل چکا ہے۔ NibiraTV کی خبر کے مطابق جاپان کے سابق وزیر خزانہ ہیزل ٹاکاناکا کو یہ دھمکی دی گئی تھی کہ وہ اپنا مالی نظام امریکہ کے حوالے کردے ورنہ اس پر زلزلہ سے حملہ کردیا جائے گا۔ یہ خبر ”یو ٹیوب“ پر بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ اگر یہ خبر صحیح ہے تو پھر امریکہ کے عزائم تو یہی ہیں کہ دُنیا میں وہ اپنی بالادستی قائم رکھے گا اور کسی اور طاقت یا طاقتوں کے گروپ کو اُس کی بالادستی کو چیلنج کرنے نہیں دے گا۔ اس نے اس کے لئے دنیا بھر کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں مار دھاڑ کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ابھی اس کا ہدف صرف مسلمان ممالک رہے ہیں کیونکہ بہت کمزور ہیں اور دولت مند بھی اور جرم ضعیفی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ پھر اسلامی ممالک میں حکومت کی تبدیلی کی لہر کو جنم دیا ہے۔ صرف لیبیا نے اس کی مزاحمت کی ورنہ مصر میں حسنی مبارک تو چلے گئے مگر فوج اقتدار پر قابض ہوگئی جو امریکہ کے لئے زیادہ سودمند ہے۔ اس پر دنیا کے اکثر دانشور یہ کہتے ہیں کہ امریکہ کا یہ رویہ سیاسی عزائم کی وجہ سے ہے نہ کہ مذہبی رجحانات کی وجہ سے۔ دنیا کو بہرحال یہ طے کرنا پڑے گا کہ پاکستان کا 2005ء کا زلزلہ اور 2010ء کا سیلاب اور انڈونیشیا کا سونامی اور اب گیارہ مارچ 2011ء کا زلزلہ اور سونامی مصنوعی تھا یا قدرتی۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ قدرتی حادثات تھے تو امریکی یہ کیوں کہتے ہیں کہ موسم میں ایسے تغیرات لا ئے جا سکتے ہیں جو بارش برسا سکتے ہیں اور زلزلہ لاسکتے ہیں یا کسی جہاز کے انجن کو کسی خاص جگہ سے 250 کلومیٹر پہلے ہی ایک چھوٹی سی شعاع سے پگلا یا جاسکتاہے، کسی خاص ملک خطہ یا علاقے کے گرد شعاعوں کا دیوار چین جیسا حصار قائم کرسکتا ہے مگر معروف امریکی سائنسدانوں نے اس نظریہ کو یہ کہ کر مشہور نہیں ہونے دیا کہ اُن کے نظریہ کو قبول کرلیا جائے تو کرئہ ارض کو توڑ دے گامگر امریکی حکومت نے اُن کے نظریہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پینٹاگون کو ذمہ داری سونپی۔

پینٹاگون نے الاسکا سے 200 میل دور ایک انتہائی طاقتور ٹرانسمیٹر نصب کیا۔ 23 ایکڑ پلاٹ پر 180 ٹاورز پر 72 میٹر لمبے انٹینا نصب کئے جس کے ذریعہ تین بلین واٹ کی طاقت کی (Electromagnetic Wave) 2.5-10 میگا ہرٹز کی فریکوئنسی سے چھوڑی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکن اسٹار وارز اور موسمی تغیرات پیدا کرنے کیلئے ایک کم مگر طے شدہ کرئہ ارض کے فضائی تہوں میں کہیں بھی جہاں موسمی تغیر لانا ہو سے وہ الاسکا کے اس اسٹیشن سے ڈالی جاسکتی ہے جو کئی سو میلوں کی قطر میں موسمی اصلاح کرسکتی ہے۔ امریکہ میں کسی بھی ایجاد کو رجسٹر کرانا ضروری ہے اور اس میں اُس کا مقصد اور اُس کی تشریح کرنا ضروری ہے چنانچہ HARRP کا پنٹنٹ نمبر 4,686,605 ہے۔ اس کے تنقید نگار نے اس کا نام جلتی ہوئی شعاعی بندوق رکھا ہے۔ اِس پنٹنٹ کے مطابق یہ ایسا طریقہ اور آلہ ہے جو کرئہ ارض کے کسی خطہ میں موسمیاتی تغیر پیدا کردے اور ایسے جدید میزائل اور جہازوں کو روک دے یا اُن کا راستہ بدل دے، کسی پارٹی کے مواصلاتی نظام میں مداخلت کرے یا اپنا نظام مسلط کردے۔ دوسروں کے انٹیلی جنس سگنل کو قابو میں کرے اور میزائل یا ایئر کرافٹ کو تباہ کردے۔ راستہ موڑ دے یا اس کو غیر موثر کردے یا کسی جہاز کو اونچائی پر لے جائے یہ نیچے لے آئے۔ اس کا طریقہ یہ پنٹنٹ میں یہ لکھا ہے کہ ایک یا زیادہ ذرات کا مرغولہ بنا کر بالائی کرہ ارض کے قرینہ یا سانچے (Pattern) میں ڈال دے تو اس میں موسم میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ اس کو موسمی اصلاح کا نام دیا گیا۔ پنٹنٹ کے مطابق موسم میں شدت لانا یا تیزی یا گھٹنا، مصنوعی حدت پیدا کرنا، اس طرح بالائی کرئہ ارض میں تبدیلی لا کر طوفانی سانچہ یا سورج کی شعاعوں کو جذب کرنے کے قرینے کو تبدیل کیا جاسکتا ہے اور اس طرح وہ زمین کے کسی خطہ پر انتہائی سورج کی روشنی، حدت کو ڈالا جاسکتا ہے۔
ایسا بھی کیوں ہے کہ 1970ء میں بززنسکی نے جہاں یہ کہا تھا کہ وہ دنیا کے طاقت کے محور کو امریکہ لے گئے ہیں اور اب کبھی یورو ایشیا میں نہیں آنے دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ زیادہ قابومیں رہنے والی اور ہدایت کے مطابق چلنے والی سوسائٹی ، امریکی ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے ابھرے گی اور معاشرہ یا اس کرہ ارض کے لوگ اُن لوگوں کے حکم پر چلیں گے جو زیادہ سائنسی علم رکھتے ہوں گے۔ آج ”امراء“ سامنے آرہے ہیں اور سائنس کو بروئے کار لا کر زلزلے، سونامی، موسم میں تغیر، جہازوں کے راستے، جہازوں کو گرایا جارہا ہے اور سیلاب لائے جارہے ہیں۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ نے جاپان پر دوسرا ایٹمی حملہ کردیا ہے nibiruTV کے اینکر نے کہا کہ الاسکا میں موجود زلزلہ اور سونامی لانے والے اسٹیشن کو امریکی فضائیہ تباہ کردے جس سے اب تک پانچ لاکھ سے اوپر افراد مارے جاچکے ہیں۔

قُربِ قیامت کی علامات میں سے میں نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام ، یأجوج ومأجوج کی آمد اور دجّال کی آمد ہے۔ پہلے دجّال کو بھیجا جائے گا اس کے بعدعیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر اسے قتل کریں گے پھر یأجوج ومأجوج کی آمد ہوگی۔ یہ تووہ طے شُدہ ہیں یعنی قیامت کب آئے گی معلوم نہیں لیکن اللہ سوہنے نے واضح نشانیاں بتا دی ہیں ہیں قتل وغارت وبے حیائی عام ہو گی، بیٹیاں خودسے برمانگین گی، مسجدیں ہوں گی لیکن نمازی نہیں و دیگراور سب سے بڑھ کر اب کہ اِن مصنوعی آفات کوقُدرتی آفات کے قریب تر لیجانا یعنی انسانی کاوش کو اللہ کا کام کہنا بھیدُرست فعل نہیں ہے۔ لیکن کہیں ایسا نہیں لکھا کہ مصنوعی آفات کے پیشِ نظرقیامت آئے گی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s