خطبہ


(البدايه والنهاية جلد 3، صفحه 214)

’’الحمدللہ! میں اس کی حمد کرتا ہوں اور اس سے امداد طلب کرتا ہوں، ہم اپنے نفس کے فتنوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں، اللہ جس کو گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں) سب سے بہتر کلام اللہ تعالیٰ کی کتاب (قرآن) ہے، اس نے فلاح پائی جس کے قلب کو اللہ تعالیٰ نے زینت بخشی اور اسے کفر کے بعد اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائی اور اسے اختیار بخشا کہ وہ ہدایات اسلام کے علاوہ دنیا کے تمام انسانوں کی باتوں کو رد کردے۔ کلام الہی سب سے زیادہ بہتر کلام ہے، اس کی تبلیغ کرو، جسے اللہ چاہے اسے تم بھی چاہو، اللہ کو اپنے دل کی تمام گہرائیوں سے چاہو، اللہ کے کلام اور اس کے ذکر کو نہ الٹ پلٹ کرو نہ اپنے قلوب میں اس کی کمی آنے دو، جسے اللہ تعالیٰ نے اختیار بخشا اور اس کے قلب کو مصفا بنایا اس نے (گویا) اس کے اعمال کو بھی نیک بنایا اور اپنے تمام بندوں میں اسے بھلائی کے لیے چن لیا، بہترین بات یہ ہے کہ کوئی دوسروں کو حرام و حلال میں فرق کرنا سکھائے۔ اللہ کی عبادت کرو، کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ، تقوی کو اتنا اختیار کرو جتنا اس کا حق ہے، جو کچھ منہ سے نکالویعنی جو بات کرو) اس میں اللہ کو حاضر وناظر جان کر صداقت کا سب سے زیادہ خیال رکھو، آپس میں جو معاہدہ کرو اسے خوشنودی خداوند کے لئے پورا کرو، کیونکہ جو معاہدات پورے نہیں کرتے ان سے اللہ ناراض ہوتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s