روشن خیالی یا جہالت…..کس سے منصفی چاہیں … انصار عباسی


کوّا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا۔ نام نہاد روشن خیالی اور مغرب پسندی نے ہماری حالت کچھ ایسی ہی کر دی ہے۔ کہنے کو ہم مسلمان ہیں لیکن ہم روز بروز دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم ہمیشہ کہتے رہے اور اپنے بچوں کو پڑھاتے رہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا لیکن اب یہ کہتے ہوئے ہمیں ایک عجیب ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ ہمارا متفقہ آئین تو واضح انداز میں حکومت اور حکومتی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں بنائیں جس سے معاشرے میں ایک ایسا ماحول قائم ہو سکے جہاں مسلمانوں کو اسلامی طرزِ زندگی گزارنے کابہتر موقع مل سکے۔ مگر حقیقت میں اس طرف کوئی توجہ نہیں بلکہ الٹا ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جو اس منزل کے بالکل برعکس ہے جس کا تعین آئین پاکستان کرتا ہے۔ نتیجتاً ہم ایک Confused قوم کے طور پر ابھر رہے ہیں جس کی اپنی کوئی سمت نہیں۔ ہم قرآن سے دور ہو رہے ہیں اور سنت رسول کا کوئی علم نہیں رکھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث پڑھنے سے خدانخواستہ انتہاپسندی کو فروغ ملتا ہے اور عربی کی تعلیم کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ دراصل مغرب سے مرعوب ہم مسلمان جاہلیت کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں اور اس روشنی کو حاصل نہیں کرنا چاہئے جو کتاب اللہ اور سنت رسول سے ہمیں حاصل ہو سکتی ہے اور جس کے ذریعے ہی ہم دین اسلام کی اصل فلاسفی کو سمجھ سکتے ہیں۔ عالم آن لائن کے معروف میزبان اور جنگ کے کالم کار جناب ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اپنے گزشتہ کالم ”ہاں ہم رحمن کے ڈکیت ہیں!“ میں کس خوبصورتی سے میڈیا سے تعلق رکھنے والے ”پڑھے لکھے“ مسلمانوں کی ایسی جاہلیت کو اجاگر کیا جو یقینا ہم سب کے لیے باعثِ فکر ہے۔ حالیہ مبینہ پولیس مقابلہ میں مارے جانے والے عبدالرحمن ڈکیت کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے لکھا ”میرا سوال تو صرف یہ ہے کہ کیا اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کو سرخیاں چھاپتے اور بریکنگ نیوز کی سرخ پٹیوں پر اس دہشت گرد کا نام (معاذ اللہ) ”رحمن ڈکیت“ لکھتے ہوئے یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ وہ عمداً‘ دانستہ اور جان بوجھ کر ایک ایسی سنگین گستاخی کا ارتکاب کر رہے ہیں جو اعمال کو تباہ کر دینے کے لئے کافی ہے… ’رحمن‘… جسے سن کر اور پڑھ کر قلوب اطمینان پاتے ہیں اور یہی پکار اگر تسبیح بن جائے تو بگڑے مقدر تک سنور جاتے ہیں‘ ہم نے اس ”رحمن“ کو ایک عبدالرحمن نامی غنڈے کی شناخت کی خاطر بڑی بے رحمی سے لفظ ”ڈکیت“ کے ساتھ جوڑ دیا”۔
آگے چل کر ڈاکٹر صاحب نے لکھا کہ کیا یہ ” لکھے پڑھوں کا فرض نہ تھا کہ وہ اصلاح کے لیے آگے بڑھتے اور چھپنے سے پہلے اس توہین کو چھپا دیتے۔ لیکن یہاں میں ڈاکٹر صاحب کی گزارش میں عرض کروں گا کہ جن ”لکھے پڑھوں“ کا وہ حوالہ دے رہے ہیں ان میں سے بہت سوں کو تو اس بات کا علم ہی نہیں کہ ”رحمن“ صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے اور یہ نام صرف خالقِ حقیقی کے لیے ہی استعمال ہو سکتا ہے۔ ہم اپنانام تو عبدالرحمن یعنی رحمن (اللہ) کا بندہ رکھ لیتے ہیں مگر اپنے اردگرد دیکھیں تو کتنے عبدالرحمانوں کو ہم ان کے اصل نام سے پکارتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو ہم جاہل ہیں اور اس جاہلیت سے نکلنا ہی نہیں چاہتے۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ہمارے بچوں کو ان کے اسکولوں اور کالجوں میں دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآنی اور اسلامی تعلیم بھی اس انداز میں دی جائے کہ ہم پڑھے لکھے باشعور مسلمان پیدا کر سکیں جن کو اپنے دین پر فخر ہو اور اسلام کے فلسفہٴ حیات کو سمجھتے ہوں۔ مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ چل رہا ہے۔ 1999ء کی قومی تعلیمی پالیسی جو ظاہری طور پر آج بھی نافذ العمل ہے اس کے مطابق اسکولوں میں بچوں کو دنیاوی علوم کے علاوہ نہ صرف قرآنی تعلیم دی جائے گی بلکہ ان کو اسلامی تاریخ اس انداز میں پڑھائی جائے گی تاکہ ہم ایک ایسی نسل پیدا کر سکیں جس کو اپنے دین کی بھی سمجھ ہو، اپنی نظریاتی اساس کا بھی پتہ ہو اور دنیاوی علوم میں بھی سب سے آگے ہوں۔ پرویز مشرف نے اپنے دور میں بیرونی دباؤ کے نتیجے میں اور اپنی نام نہاد روشن خیالی کی وجہ سے نہ صرف اس پالیسی پر عملدرآمد نہ کیا بلکہ نصاب میں ایسی تبدیلیاں کیں جو ہمارے بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے لئے مقصود تھیں۔ موجودہ حکومت بھی پرویز مشرف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک ایسی قومی تعلیمی پالیسی کو مرتب کر رہی ہے جس میں 1999ء کی پالیسی میں دیئے گئے اسلامی نکات کو سرے سے ہی نکالا جا رہا ہے۔ 2009ء کی ڈرافٹ قومی تعلیمی پالیسی جو اگلے دس سال کے لیے مرتب کی جا رہی ہے، میں 1999ء کی پالیسی میں دیا گیا باب 3 ”اسلامی تعلیم“ کو مکمل طور پر حذف کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 1999ء کی پالیسی کے باب 2 ”نصب العین اور مقاصد“ میں دیئے گئے بیشتر اسلامی نکات کو نئی ڈرافٹ پالیسی میں سے نکال دیا گیا ہے۔ 1999ء کی پالیسی میں یہ صاف طور پر دیا گیا ہے کہ قرآنی اور اسلامی تعلیمات لازمی ہوں گی اور عربی زبان کو فروغ دیا جائے گا۔ زیرغور 2009ء ڈرافٹ پالیسی میں ایسی کوئی شق شامل نہیں۔ اب تو ویسے بھی عربی زبان کو Optional Subject کے طور پر پڑھانے کی بھی مخالفت کی جا رہی ہے جو آئین پاکستان کے سراسرمتصادم ہے۔ آئین کے آرٹیکل 31 جس کو ہم مکمل طور پر بھول چکے ہیں کے مطابق نہ صرف ایسے اقدامات اٹھائے جائیں گے جس سے پاکستان کے مسلمان اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق گزار سکیں اور قرآن اور سنت رسول کی روشنی میں نظریہ حیات مطلب سمجھ سکیں بلکہ اسی آئینی شق میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ قرآن کی تعلیم اور اسلامیات لازمی طور پر پڑھائی جائے گی اور عربی زبان کی بھی ترویج کی جائے گی۔ اس کے علاوہ اسلامی اقدار کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ آئین میں دی گئی دوسری اسلامی شقوں کی طرف شق 31 کا شمار بھی آئین کے اس بنیادی ڈھانچے میں ہوتا ہے جس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ مگر افسوس کہ ان شقوں پر عملدرآمد کرانے میں ہماری حکومتیں کوئی دلچسپی نہیں لیتیں۔ اگر ہم اپنے لوگوں کو اسلامی تعلیمات اور دین کا درس دینگے اور ان کے لیے ایسا ماحول پیدا کریں گے کہ وہ اسلامی اقدار کے مطابق زندگیاں گزاریں تو نہ تو یہاں گلے کاٹنے والے طالبان پیدا ہوں گے اور نہ ہی خودکش بمبار۔ نہ تو اقلیتوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا سکے گا اور نہ ہی گوجرہ جیسے شرمناک واقعات رونما ہوں گے۔ گوجرہ واقعہ کے حوالے سے یہاں میں کہتا چلوں کہ جس جاہلیت کا مظاہرہ ان درندوں نے کیا جنہوں نے بغیر سوچے سمجھے اقلیت سے تعلق رکھنے والے کئی پاکستانیوں کو زندہ آگ لگا کرزندہ جلا دیاکچھ اسی قسم کی جاہلیت کا مظاہرہ سول سوسائٹی اور نام نہاد انسانی حقوق کے وہ علمبردار کر رہے ہیں جو اس واقعہ کے تناظر میں توہین رسالت کے قانون کے خاتمہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کوئی ان انسانی حقوق کے علمبرداروں سے پوچھے کیا توہین رسالت کاقانون گوجرہ جیسے واقعات کی اجازت دیتا ہے۔ بیرونی قوتوں کے اشارے پر پاکستان میں موجود ایک طبقہ کافی عرصہ سے سرگرم عمل ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کے نام پر اس قانون کو ختم کرایا جا سکے۔ توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کی ہر گنجائش کو روکا جانا چاہئے مگر اس قانون کا خاتمہ ایک ایسے فتنے کی بنیاد ہو گی جو پورے معاشرے کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔

Advertisements

One comment on “روشن خیالی یا جہالت…..کس سے منصفی چاہیں … انصار عباسی

  1. غـم سـے بہـل رہـے ہيـں آپ، آپ بـہت عجـيب ہـيں
    غـم سـے بہـل رہـے ہيـں آپ، آپ بـہت عجـيب ہـيں

    غـم سـے بہـل رہـے ہيـں آپ، آپ بـہت عجـيب ہـيں
    درد ميں ڈھـل رہے ہيں آپ، آپ بـہت عجيب ہيں
    سـايہ وصل کـب سے ہـے آپ کا منـتظر مـگر
    ہجـر مـيں جـل رہے ہيں آپ، آپ بـہت عجيب ہيں

    اپـنے خـلاف فيـصلہ خود ہي لکھا ہے آپ نے
    ہاتھ بھي مل رہے ہيں آپ، آپ بہت عجيب ہيں
    ::وقت نے آرزو کي لو دير ہوئي بجھا بھي دي
    اب بھي پگھل رہے ہيں آپ، آپ بہت عجيب ہيں

    زحمتِ ضربتِ ديگر دوست کو ديجيے نہيں
    گر کے سنبھل رہے ہيں آپ، آپ بہت عجيب ہيں
    دائرہ وار ہي تو ہيں عشق کے راستے تمام
    راہ بدل رہے ہيں آپ، آپ بہت عجيب ہيں

    دشت کي ساري رونقيں خير سے گھر ميں ہيں تو کيوں
    گھر سے نکل رہے ہيں آپ، آپ بہت عجيب ہيں
    اپني تلاش کا سفر ختم بھي کيجيے کبھي
    خواب ميں چل رہے ہيں آپ، آپ بہت عجيب ہيں
    يــــه مـحبـت ہے قـــنـاعت یــا اطـــاعــت یـارو!!

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s