دنیا جھاں کی تمام چاشنی لفظ ماں میں سماگی ھے


اردو نیوز سعودی عرب کا وہ خبصورت فورم ھے جو پاکستانیوں اور تمام اردو جاننے والوں کے لیے بھترین خدمات انجام دے رھا ھے۔ یہ خبصورت تصویربھی اس کا منھہ بولتاثبوت ھے جو ماں کیعظمت کو سلام کررھی ھے۔ سلام ھے اس ماں کو اور دنیا کی تمام ماوں کو جو خود تو زمانے کے سرد و گرم موسم کا سامنا ھنس کرلیتی ھیں لیکن اپنے جگر گوشوں کے لیے ٹھنڈی چھاوں کا کردار ادا کرتی ھیں۔ماں ایک خبصورت احساس بچوں کے لیے ماں کے انچل سے زیادہ محفظوظ پناہ گاہ اس دنیا میں کوی نھیں جھاں چپھکر وہ اپنے اپ کو محفظوظ سمجتا ھے کہ اس کو دینا کی کوی تکلیف چھوکر بھی نھیں گزرسکتی۔ دنیا جھاں کی تمام چاشنی لفظ ماں میں سماگی ھے۔ اس رشتے کی سچای اور معنویت سے انکار ممکن نھیں ھے۔ ماں کی محبت اس کی بے لوث چاھت، پیار اور خلوص دینا کی انمول دولت ھیں۔ اولاد کی خوشی میں خوش ھونا، ان کی ھر تکلیف کا دکھ اپنے دل پر محسوس کرنا ماں کا فطری جذبہ ھے۔ یہ ھی اس انمول تصویر کا بھی خبصورت احساس ھے جو ایک ماں اپنی بے لوث چاھت کا اظھار ھے جو وہ اپنے معذور بچے سے کرکے دیھکا ررھی ھے۔ اس عمر میں جب خود اسکو پیار اور نگھاداشت کی ضرورت ھے پر وہ اپنی بے مثال ممتا سے مجبور جو قدرت کی طرف سے صرف اور صرف ماں کو ھی نصیب ھوتی ھے۔ یہ ھی وہ واحد رشتہ ھے جس سے ھم اپنی ھر بات بلاجھجک کھیہ سکتے ھیں۔ شاید اسی محبت اور انسیت کا ثبوت ھے کہ پروردگار عالم کی محبت اور ماں کی محبت کو اپس میں تشبہ دی گی ھے۔ حدیث مبارکہ ھے کہ
اللہ تعالی اپنے بندوں سے کسی ماں سے ستر گنا زیادہ محبت کرتا ھے۔
ماں کے رتبے اور مقام کا پتہ اس سے چلتا ھے کہ اللہ تعالی نے تخلیق کا رتبہ اور شرف اپنے بعد صرف ماں کو عطا کیا ھے اور اسکے قدموں کے تلے جنت رکھ دی ھے۔ تاریخ اسلام ایسے عظیم قصوں اور واقعات سے بھری پڑی ھے۔
نپولین کا قول ھے کہ ؛تم مجھے اچھی ماییں دو میں تم کو اچھی قوم دوں گا۔
کیونکہ کسی بھی انسان کا کردار اس بات کا ثبوت ھوتا ھے کہ اس کی پرورش اور تربییت کس نھج پر ھوتی ھے۔ دنیا میں جتنے لوگوں نے عظیم کارنامے انجام دیے ھیں ان کے پس پردہ ان کی ماوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کا انداز تھا۔
ماں ھی وہ ھستی ھے جس کو رب ذولجلال نے تخلیق کا اعجاز عطا کرکے اپنی صفات سے بھرہ مند فرمایا۔ اس کا وجود محبت کا وہ بیکراں سمندر ھے کہ جس کی وسعت کا اندازہ نھیں کیا جاسکتا۔ اسکا دل اتنا وسیع ھے کہ سارے زمانے کے دکھ الام بھی سمٹ اییں تو اس کی وسعت میں فرق اتا ایک ایسا صایبان عافیت جس کی چھاوں میں کوی دکھ پریشانی ھمیں چھو نھیں سکتی۔
اج تعلیم یافتہ مھذب معاشرے میں رھنیے والے طبقات نہ صرف اسلامی تعلیمات بھول چکے ھیں یعنی حکم خدا کی نفی کررھے ھیں بلکہ انکو نہ :ماں  : کی وہ مھربایناں بھی یاد نھیں جو وہ اس وقت کرتی ھے جب انسان اپنی ایک مکھی اڑانے کا بھی متحمل ھوسکتا۔
حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ کی وفات ھوگی اور جب اپ علیہ السلام اللہ تعالی سے کلام کرنے طور پر چڑھے تو اللہ تعالی نے کھا ؛اے موسی اب تم سنبھل کر انا تمھارہ ماں کا انتقال ھوگیا ھے جب تم ھمارے پاس اتے تھے تو تمھاری ماں سجدہ میں جاکر ھم سے دعا کرتی تھی ؛اے سب جھانھوں کے رب میرے بیٹے سے کوی چوک ھوجاے تو اسے معاف کردینا.
ثابت ھوا کہ ماں وہ عظیم ھستی ھے جس کی دعاوں کی ھم جیسے گنھگاروں کو ھی نھیں پیغبروں، انبیا اکرام، اولیا علہہ رحمہ کو بھی ضرورت ھوتی ھے۔ جس کے لبوں سے نکلی دعا بارگاہ الھی میں شرف قبولیت حاصل کرتی ھے۔
اللہ تعالی قران میں ماں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرماتا ھے، قران میں اللہ تعالی نے بارھا والدین کی اطاعت کی تلقین فرمای ھے بلاشبہ والدین انسان کے لیے تحفہ خداوندی ھیں نعمت عظیم ھیں۔
اگر اج کے دور کا جایزہ لیں تو دیکھ کر دکھ ھوتا ھے کہ ھم نے جنت کو اپنے ھاتھوں سے گھروں سے نکال دیا ھے۔ اگر ماں باپ بوڑھے ھوجایں تو ھم ان کو محفلوں میں لے جانے سے کترانے لگتے ھیں۔ اخر ھمارے معاشرے میں ایدھی ھوم اور اولڈ سینڑ جیسے ادارے کیوں جنم لے رھے ھیں۔ اگر ھم غور کریں تو ھماری تباھی کا اصل سبب ماں کی دعاوں سے دوری ھے۔ ماں تو وہ ھے جو ھم کو معاشرے کی پتھریلی راھوں پر چلنا سکھاتی ھے، محبت سے لبریز زشتہ ، ماں کا احترام کریں، ماں کے دست بارگاہ الھی میں جب بھی اٹھتے ھیں وہ اپنی اولاد کے لیے دعاگو ھوتی ھے اور اسکی کامیابی پر ھمشہ شاداں ھوتی ھے اور اسکی ناکامی اور تکلیف پر خود بھی اتنی ھی تکلیف محسوس کرتی ھے جسیسے اس کا بچہ محسوس کرھا ھوتا۔ یہ ھی اس تصویر کا ھم سب کو پیغام ھے جو یہ معذور انسان بھی اپنے دل میں بے شک یہ دعا کرھا ھوگا۔
میری ماں کو سدا شاد رکھنا
خوشیوں سے دامن انکا اباد رکھنا
مفکریں و اھل علم ایسے گھروں کو ویرانے سے تشبہ دیتے ھیں جھاں ماں نہ ھو۔ قلبی سکون اور راحت ماں کی دعا سے حاصل ھوتا جو لوگ ان دعاوں کی دل سے قدر کرتے ھیں وھی دینا اور اخرت میں بھتیرین زندگی بسر کرتے ھیں۔اخر میں اللہ سے دعا ھے کہ ھماری ماوں کو سلامت رکھے کیونکہ ان کا سایہ عافیت ھی ھماری بھتر زندگی کے لیے مشعل راہ ھے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s