جھگڑا


 

تخلیق انسان پر فرشتوں نے رب سے کہا یہ تو زمین پر فساد برپا کرے گا۔ اللہ نے کہا جو میرے بندے ہو گے وُہ میرے ہی فرمانبردار ہو گے۔

جہاں دیکھتا ہو ں جھگڑا ہی جھگڑا سننے کو ملتے ہیں، اختلاف ہونا اور بات ہے اور بغیر اختلاف کے جھگڑ پڑنا بلاوجہ عمل ہے۔انسان مسلسل جھگڑوں سے نبٹ رہا ہے۔

دُنیا میں اصلاح کارجھگڑوں کے نتائج میں پیدا ہوتے ہیں۔ کوئی بھی مصلح بغیر کسی مسئلہ کے پیدا نہیں ہوا۔ آج دُنیا کا ہر عقیدہ کسی نہ کسی مسیحا کے انتظا ر میں ہے۔ مسیحا خدا کا کوئی اُوتا ر نہیں ہوتا۔ وُہ عام انسانوں میں سے ہی منتخب ہوتا ہے۔ انسان جب اپنے مسائل کی زندگی سے بیزار ہو جاتا ہے تو وُہ پھر اُنکے حل کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے یو نہی ریفارمراُس عوامی بے چینی کو امن اور سکون میں لانے کا ایک راستہ بتا تا ہے۔ بدھا ذات پات سے بیزار ہوا، لاﺅتزے سرکار سے متنفر ہوا، ہٹلر یہود کی بالا دستی سے نالاں تھا، کارل مارکس معاشی بدحالی کا ستایا ہوا، بابا گرو نانک ہندو مسلم اختلاف،قائد اعظم برصغیر کے مسلمانوں کے مسائل کے حل کی تلاش میں محو سفر تھے۔دُنیا کے سب سے بڑے مصلح رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم تھے۔ جنھوں نے تمام دُنیا کے نظام کو ایک درست سمت عطاءفرمائی۔ اصلاح کار نظام تبدیل نہیں کیا کرتے، وُہ اُسی نظام کے مسائل کو ایک اور انداز سے بہتری عطاءکرتے ہیں۔ مذہب تمام نظام کو ایک وحدت، عقیدہ کی صورت عطاءکرتا ہے۔

نیکی اور بدی کی طرح صلح جو اور منتقم ریفارمر ہوتے ہیں۔ مصلح امن اور سکون کا پیغام دُنیا میں پھیلاتے ہیں،مگر دُنیا میں بسنے والے انسان اپنے اقتدار کے کھو جانے کے خوف کی بناءپر امن پسند تحریک کو ایک تشدد کا رنگ اپنا لینے پر مجبور کر ڈالتے ہیں۔ اور ایک متشدد گروہ اپنی بالادستی کے بعد اپنے اختیار سے شانتی کا ایک طویل پروگرام رکھتا ہے۔ حیران کن بات ہے اصلاح کار مسائل کے حل کی تلاش میں آتا ہے مگر وُہ خود جھگڑا جیسے مسئلہ میں اُلجھ پڑتا ہے۔ اور یہ ٹکراﺅ ایسی خوبصورت سوچ کو برباد کر ڈالتا ہے۔ کہیں اُسکے پیروکار اُس کی تحریک کا رنگ بدلتے ہیں تو کہیں اُسکو خود ایک تبدیل رنگ سے آگے آنا پڑتا ہے۔

کہتے ہیں جس گھر میں جھگڑا ہو اُس گھر کا گھڑا بھی سوکھ جاتا ہے۔ دیکھئے جھگڑا، سنیے جھگڑا، آج وطن عزیز میں ہر کوئی ہر کسی سے جھگڑے میں مصروف ہے۔ اِن جھگڑوں میں دشمن کے بہانے ہمارے گھر کے کنویں( دریا) بھی خشک ہو چلے۔ آپسی جھگڑوں نے بربادی کے سواءکبھی کچھ دیا؟بس جھگڑے محنت اور اثاثہ سے چل پڑے ۔ میں محنت زیادہ کرتاہو، وُہ موج کرتا ہے۔میں کماتا زیادہ ہو، وُہ کھاتا زیادہ ہے۔ہاں! بے شک گدھا بہت محنت کرتا ہے مگر گدھا گدھا ہی ہوتا ہے۔

محنت، محبت، دولت،رفاقت، عبادت کا خیال رکھنا چاہیے مگر کبھی شمارنہیں کرنی چاہیے۔ ان کی گنتی ہمیشہ پریشان اور بے چین رکھتی ہے۔ آہستہ آہستہ یہاں سے ہی بے دلی اور اُکتاہٹ کا آغاز ہوتے ہوئے جھگڑے کی حد چھو دیتا ہے۔ برسوں کی ریاضت کے پتے یکدم پیڑ سے جھڑ جاتے ہیں۔آخر انسان حقیقت میں سب کچھ گنوا بیٹھتا ہے۔عرفان کی راہ پہ چلتے چلتے ، فرعون کی راہ پا جاتا ہے۔

جگ میں جو تماشے ہوئے۔ ٹھگ کی راہ میں وُہ جھگڑے نکلے۔ سنگ کسی اور کے رہے سنگت کہیں اور نبھائی۔ رنگ میں رنگ کچھ یوں رنگے کہ تاثیر ہی گنوائی۔ نگاہوں کے فرق سے اختلاف بڑھے۔ نطق و منطق کی کج فہمی سے نظریات اُکھڑے۔ دُنیا میں کوئی جھگڑا باقی نہ رہا۔ اگر فہم یکساں ہوا تو سنسار بے رنگا ہوا۔حسنِ کائنات تفاوت میں ہے۔ دانشمند کی نگاہ حکمت میں ہے۔ دُنیا جھگڑوں سے بھری پڑی ہے۔ خالی نہیں، مثالی لوگوں سے بھری پڑی ہے۔

ہمارا ہر جھگڑا پیٹ سے شروع ہوتا ہے اوربربادی کے بھنور کی لپیٹ پر ختم ہوتا ہے۔پینسٹھ برس قبل لاہور کے ایک نامور ادیب خواجہ دل محمد دِل نے ایک ایسا شعر لکھا ، جس کی اپنی ہی تاثیر تھی۔

ہیرے موتی چاب کر نہ بھرے تیرا پیٹ
دو روٹی کی خاطر کیوں اتنی اَلسیٹ

 

(فرخ نور)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s