قیدی اذہان


انسان علم کی وسعت نظری سے محروم ہوا۔ خیالات کی کوٹھری سے نکل کر نظریات کے قید خانہ میں بند ہوا۔جب میںدُنیا کی نگاہوں سے ہٹ کر مشاہدہ کرتا ہوں۔ مجھے ہر ذہن قیدی سا دکھائی دیتا ہے۔ ایسا خود ساختہ قیدی؛ جو خود کو قید کے تصور سے آزاد سمجھتا ہے۔ہم سزا دوسروں کو دیتے ہیں۔ یہ نہیں جانتے، مشقت کے پتھر خود بھی ڈھانے ہیں۔
معاشرے میں نظر دوڑائیے، گنتی کے چند افراد کے سواءہر فرد پیدائشی ہائی جیک ہوتا ہے۔قید کے خیالات میں سوچ کے تصورات تنگ ہوئے۔ آزادی کے نام پہ قید تنہائی وصول پائی۔
دُنیا میں سب سے زیادہ ظلم مذہب پر ڈھایا گیا۔ نعرہ مذہب کا ٹھہرا، مفاد ذاتی پایا۔ ایک دورتھا، مذہب کے نام پہ اقتدار و وسائل پہ قابض ہوتے۔ آج وسائل و اقتدار کے نام پر مذہب پہ قابض۔
ہمیشہ اِک نعرہ سنتے ہیں۔ کفار اسلام کو مٹا دینے کے در پہ ہیں۔ ہم ہر شےءکو اسلام دشمنی سے منسوب کرتے ہیں۔ کبھی ا س نگاہ سے اپنے اعمال پر غور کیا؟ مسلماں خود کتنااسلام کُشی پہ ہیں! دُنیا کو دلچسپی خزانے کے صندوق سے نہیں۔ صندوق کا تالا توڑنے اور خزانہ چرا لیجانے سے ہوتی ہے۔ لٹیروں کی مذہب میں دلچسپی نہیں ہوتی۔ اُنکی توجہ لوٹ لینا ہے۔ ”اسلام کو خطرہ“ اور ”اسلام سے خطرہ“ کا فلسفہ یہی تو ہے۔ خزانے تک رسائی محفوظ ذرائع سے ہو۔پہلوان خود کو طاقتور دِکھانا چاہتا ہے۔ جب وُہ بوڑھا ہو جاتا ہے تو دماغ کے شر سے طاقتور کو کمزور سے لڑوا کر کمزور کرتا ہے اور خود کی دھاک علاقہ بھر میں بٹھواتا ہے۔
جب سے دُنیا کی تجارت ڈالر سے منسلک ہوئی تو سوچ بھی محبت سے پیسہ بن گئی۔رشتوں میں سوچ پیسہ ہتھیا لینا تک محدود ہے۔ خود کمانے تک نہیں۔آج کا انسان ہیمنگ برڈ[۱]ہے۔ اُسکے سواءکچھ نہیں۔ اُسکی پرواز اور رس چوسنے پر غور کرنا۔اُڑتے اُڑتے وُہ پرندہ پھول پر آتا ہے۔ پر پھڑپھڑاتے ہوئے ہی پھول کا رس چوستا ہے اور فوراً کہیں اور محو پرواز ہو جاتا ہے۔ تب انسان کو اپنی سماعت پر احساس ہوتا ہے کہ اُسکے کان باقی پرندوں کی آواز سن نہ سکتے تھے۔ اس قدر تیز آواز کے ساتھ آمد و رخصت ہوئی کہ انسان کچھ سوچ ہی نہیں پاتا۔وُہ پرندہ اطمینان سے کسی شاخ پر بیٹھنا تو درکنار ٹھہرتا بھی نہیں۔ دُنیا کا یہ سب سے چھوٹا پرندہ شمار ہوا ہے۔
آج کا انسان قلعہ کی زندگی میں بستا ہے۔ قلعوں میں بند انسان کی مشاہدہ گاہ قلعہ کی فصیل رہ گئی۔ حقیقت میں دُنیا کیا ہے؟ یا تو ہم جاننا ہی نہیں چاہتے یا ہم مکمل ناواقف ہو چلے۔ دفاتر کے اوقات نے ہمیں جسمانی قیدی بنادیا۔ انسان صرف گنتی میں مصروف مگر اُسکے تصرف میں کچھ نہیں۔ بیچارہ انسان اب آدمی بھی نہ رہا تو کیا رہا۔ اُساتذہ کس علم کے تحت طلبا کی سوچ بنا رہے ہیں۔ خون دے نہیں ، نچوڑ رہے ہیں۔ہمارا نوجوان اپنی آبائی مٹی میں زرخیزی پیدا کرنے کی بجائے اُسکو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ رہا ہے۔ اسلام جس قدر سادگی رکھتا تھا۔برہمنی سوچ نے اُس قدر اِسکو مشکل ترین بنا دیا۔ میں نہیں سمجھ پایا، انسان ننگے بدن کی پوجا کیوں کرتا ہے؟ ڈرائینگ روم کے فیصلے، ہجوم میں تصاویر بنوا کر مدد کرنا؛ لوگوں کے مسائل حل نہیں کرتے ۔

آج ہم ڈولہ شاہ کے چوہوں کی طرح ذہنی طور پر اپنے سر ایک خول میں رکھ کر ڈھال رہے ہیں۔ فوج میں حکم کی تعمیل ورنہ پٹھو لگوا کر اس کا عادی بنانا ہے۔ ملازمین کا افسر کو انکار انکوائری بھگتنا یا ملازمت سے ہاتھ صاف کروانا ہے۔دیہی علاقوں میں دوسروں کو سیکنڈلز میں ملوث کرنا اور خود کو پاک صاف سمجھنا۔مدارس کی تعلیم میں فرقہ واریت ،ا سکولوں میںگنتیوں کے چکر،خبروں کی بلا تصدیق بھرمار، کتابوں کی بلاتحقیق اشاعت کا فروغ، مجاورانہ نظام کا کاروباری انداز، مذہبی تنطیمات کی اشاعت دین مگر اُنکے معاملاتِ دُنیا کا بد تر ہونا، سیاسی جماعتیں او رسربراہان کا ایسا پاک شفاف ہونا، جیسے اُن کو کل ہی جنم دیا گیا ہو، اللہ سے بھڑ کر تعویذ و گنڈوں پر اعتبار،ایسے روپ اختیار کرنا کہ تسبیح ہزار دانوں والی داہنے ہاتھ میں، نمازیں لمبی سجدے طویل مگر دوسروں کے متعلق دل میں بغض رکھنا اور اپنے اندر حسد اور کینہ کوٹ کوٹ کر بھرنا۔ ایک سوچ ہے کہ مرد عورت کو ہراساں کرتا ہے مگر کیا عورت اپنے بیہودہ لباس سے مرد کو ہراساں نہیں کرتی؟ اس کی بھی تو کوئی سزا ہونی چاہیے۔آزادی عورت محدود نعرہ ہے۔ توہین عورت پر ہم آزادی ئِ عورت کے خلاف ہیں۔توہین رسالت پر ہم آزادی ئِ رائے کے خلاف ہے۔ کیا توہین کا نام آزادی ہے یا آزاری؟

میں کس کس زاویہ سے بیان کروں۔ آج انسان کی سوچ اُلجھی اور پریشان اس لیے ہیں کہ اُسکی ڈوری کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ لوگ اپنے دماغ، فہم، فراست اور مشاہدہ سے نہیں سمجھتے۔ کٹھ پتلیاں عمر بھر پتلی تماشا دکھاتی ہیں۔ چند ذہین مگر تخریبی ذہنوں نے پتلی تماشا خوب چلا رکھا ہے۔


مذہب کے قیدی، معاشرہ کے قیدی، خاندان کے قیدی،خیالات کے قیدی، نظام کے قیدی۔ بس! ہر سلسلہ میں قید در قید کو مقد ر سمجھتے ہیں۔جس کو ہم قید گردانتے ہیں۔ دراصل وُہی ہماری آزادی ہے۔ جس آزادی کی ہم تمنا رکھتے ہیں ہمارے ذہن اُس آزادی کے بد ترین قیدی ہیں۔


کُھلے دِل سے سوچوں تو ذہن کھلتا ہے۔ یوں دُنیا کی حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ انسان بند ذہنوں میں جھگڑے مول لیتا ہے۔ نئی دُنیا میں انسان مسکراتے ہوئے جھگڑے ٹال دیتا ہے۔ اختلاف سے بچو، احترام کو اپناﺅ۔ آپ کے اندر کی دُنیا سنور اُٹھے گی۔ آہستہ آہستہ نئے نئے خیالات کا سمندر اُمڈ پڑے گا۔ مگر زبان خود بخود خاموش رہنے لگے گی۔ جس نے حسن دیکھا ہے۔ وُہ حسن کے نظارے میں محو رہتا ہے۔ مگر بیان نہیں کرپاتا۔
(فرخ نور)


:حوالہ جات
[۱] ہیمنگ برڈ: یہ پرندہ سیاہ و گہرے نیلے رنگ کا ہے۔ جو پھولوں والے مقامات پر نظرآتا ہے ۔جوڑا بنائے بغیر ملتا ہے۔ صوبہ پنجاب میں یہ اکثر نظر آتا ہے۔اس کی شوخ و تیز آواز آمد کا پتہ دیتی ہے۔پہچان یہ ہے کہ اُڑتے اُڑتے کسی پھول کا رس چوس رہا ہوگا۔ شاخ پر بیٹھتا نہیں۔شاخ پر حد چند سیکنڈز کے لیے ٹھہرتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s