پختون کی بیٹی – باب سوئم


پختون والی’

اماجان نے گفتگو شروع کی۔ آج ہم پختون والی کاجائزہ لیں گے۔

پختون یا پٹھان کا اجتماعی رہن سہن ایک رسم و رواج کے مجمو عہ پر منحصر ہے جو ‘پختون والی’ کہلایا ہے۔

پختون والی ، پختون کو ‘ عزت’ کے اصول بتاتے ہیں۔ پختون کے لے ‘ عزت’ بہت اہم ہے۔

ماں بولی ۔ ” پٹھان کے لے ‘ عزت’ زبردست ذمہ دا ری ہے اور وہ عزت یا بے عزتی کو دنیا کی دوسرے معاشروں کی طرح نہیں دیکھتا۔ یہ قوانین پختون کے عمل واعمال پر بہت اثر کرتے ہیں اور ایک پشت سے دوسری پشت پختونوالی کے رسم و رواج پاک سمجھے گے ہیں”۔

پختون کا ایک بہت مشہور شاعر خوش حال خان خٹک کہتا ہے۔”میں اس شخص کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہوں جو اپنی زندگی عزت سے نہ گزارے ۔لفظ عزت مجھکو غصہ دلاتا ہے”۔

“ماں وہ عزت کیا ذمہ داریاں ہیں؟”

” پختون والی کے رسم و رواج پختون پر چار ذمہ داریاں واجب کرتے ہیں “۔

“پہلی، پرانی دشمنیوں اور خون خرابہ کوختم کرنا ہے۔ اور دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنا ہے اور مجرم کو پناہ دینا۔ یہ ‘ ناناواتے ‘کہلاتاہے۔

دوسری، دو فرقوں کے درمیان خون خرابی کو روکنے کیلے جرگہ کا التواے جنگ فیصلہ۔ یہ ‘ تیگا ‘ کہلاتاہے۔

تیسری، انتقام لینے کا فرض ۔ یہ ‘ بدل ‘کہلاتاہے۔

چوتھی، مہمان داری ، عالی ظرفی، دلاوری، سچایئ، سیدھا پن، وطن پرستی، ملک سے محبت اوراسکی خدمت۔ یہ ‘ مل مستیا ‘ کہلاتاہے”۔

ناناواتے

” سعدیہ بیٹا، نانا واتے کے کیا چار مقاصد ہیں؟”

” ایک ، پرانی دشمنیوں اور خون خرابہ کوختم کرنا ہے۔ دو ، دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنا ہے تین، پناہ دینااورچار مہمان نوازی” ۔

ا ماں نے کہا۔”جب ایک لڑنے والا شخص نادم اور شرم گزار ہو کر قبیلہ کے بڑوں کے پاس آتا ہے اور وہ اس بات پر مکمل تیار ہو تا ہے کہ وہ اپنے دشمن کے ساتھ امن سے رہے گا۔ مہمان جو کے بدلہ لیناچاہتا تھا بزرگوں کو صلع و صفایئ کا موقع دےتا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کے مسلہ حل نہ ہو سکے۔ مسلہ حل ہونے کے بعد رحم طلب کرنے والا اپنی اوقات کے مطابق ایک بھینس ، گائے ، کچھ دُنبہ یا بکریاں ذبع کرے سب کی دعوت کرتا ہے”۔

ماں یہ تو ایک شریف النفسی ہے۔ ا س میں کیا خرابی ہے؟ میں نے پوچھا۔

ماں نے کہا۔ ” مجرم کو پناہ دنیا۔ دوسرے معاشرے جو وقت کے ساتھ انسانیت کے اصول میں اصلاح کی طرف کرتے ۔ انہوں نے جرم کرنے دالوں سے پناہ کا حق چھین لیا آپ اگر مجرم ہیں تو آپ کو قانون کے حوالے کیا جائے گا “۔

” کسی بھی پختون کے گھر میںکویئ بھی شخص ، اپنا پیچھا کرنے والے دُشمنوںسے پناہ لے سکتا ہے ۔پناہ لینے والاکسی بھی ذات، عقیدہ، رُتبہ کا ہو، دوست ہو اور یا دُشمن ہو۔”
” میں تم کو اس کی دو مثالیں دونگی”۔ ماں نے کہا۔

پہلی مثال یہ ہے:

” ایک دفعہ پختونستان میں قرضہ دہنے والے او ر قرضہ دارمیں جھگڑا ہوااور قرضہ دینے والا مارا گیا۔

قرضہ دار نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن لوگوں نے تمام راستے بند کردے۔
جب نکل نے کی کو یئ صورت نظر نہیں آیئ تو قاتل نے گاوں کے ٹاور کا رخ کیا اور ٹاور پر پہنچ کر چلایا۔

اللہ کے نام پر مجھ کو پناہ دو۔ ٹاور میں رہنے والے سردار نے قاتل سے معلومات کیں اور اس کو پتہ چلا کے جو شخص قتل ہوا وہ اسکا بھایئ تھا۔

سردار نے کہا ـ” تم نے میرے بھایئ کو قتل کیا ہے، مگر کیوں کے اللہ کے نام پر تم نے پناہ مانگی ہے اس لے اللہ کے نام پر میں تم کو پناہ دیتا ہوں ” ۔ سردار نے قاتل کو اندر آنے دیا۔

جب تعاقب کرنے والے وہاں پہنچے تو سردار نے ان کو سختی سے چلے جانے کو کہا۔جب تعاقب کرنے والے چلے گے اس نے قاتل سے کہا کہ میں تم کو ایک گھنٹہ کا وقفہ دیتا ہوں تم یہاں سے سلا متی سے چلے جاؤ ۔

قاتل اُس وقت تو بچ گیا ۔

کانررے ٹیگا

مقابلہ کرنے ولالے دو قبیلوں کے درمیان خون خرابہ کوختم کرنے کی ایک دوسری رسم ٹیگا کہلاتی ہے۔ ٹیگا کے لغوی معنی ‘پتھر گاڑدینا ‘ہے۔دوسرے الفاظ میں جرگہ ایک دفعہ جب وقعتی صلایئ کرتا ہے تو دونوں طرف لوگ اس کو توڑ نے سے اس لئے ڈرتے ہیں کہ سزا ملے گی۔
اگر ایک طرف کے لوگ ٹیگا کو توڑ تے ہیں تو جرگہ پھر قوت کے زور پر جرمانہ وصول کرتا ہے۔ وہ ٹیگا توڑ نے والے کا گھر جلا دےا جاتا ہے۔ان کو اپنے علاقہ سے نکال دے جاتا ہے۔ یہ کام لشکر کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ لشکر گاوں کی فوج ہوتی ہے۔

میل مستیا

میل مستیا ایک مہمان داری کی رسم ہے۔ یہ مہمان داری دشمن اور دوست اور اجنبی سب سے برابر کی ہوتی ہے۔

ہرگاوں میں ایک سب کے ملنے کی جگہ ہوتی ہے جسے ‘ہجرہ ‘ کہتے ہیں۔مہمان عموماً ہجرہ میں ٹہرتے ہیں۔ میزبان ، مہمان کے لے دنبہ یا بکرا کا گوشت تیار کرتا ہے اور حلوہ تیار کرتا ہے۔ اگر میزبان اس قابل نہیں کے دنبہ یا بکرا کرے تو وہ مرغی بنا تا ہے۔
ہار کالا راشا، پا خیر راغلے ، ایستارے ماشے ، اور تاکررا یے ۔ انکا مطلب ہے کہ ہمشہ آو، خوش آمدید، امید ہے کہ تم تھکے نہ ہو۔ کیا تم اچھے ہو؟ مہمان خوشی سے کہتا ہے۔ پا خیر اوسے، خدایا دے مال شا، خوش حا اوسے، ما خوارے گے۔ جن کا مطلب ہے۔ خدا تم کو حفاظت سے رکھے، خدا تمہارے ساتھ ہو، تم خوش حال اور خوش رہو، تم بے حس نہ ہو۔ پہلے چائے پیش کی جاتی ہے اور پھر حلوہ، پلاؤ اور دوسرے لوازمات۔ جب مہمان رخصت ہوتاہے تو پا مخا دے خا۔تمہارا سفر بغیر خطرہ اور اچھا رہے۔
ہر مہمان سارے گاؤں کا مہمان سمجھا جاتاہے۔ اور ہجرہ میں سب اس کی دیکھ بال کرتے ہیں۔اور مہمان دسترخوان پر گاوں کے بڑوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتا ہے۔ پختون کا اصول ہے کہ مہمان اگرچے کے اسکا پیٹ بھرا ہو پھر بھی گاوں کے لوگوں کے ساتھ کم از کم کچھ لقمے کھائے۔ کھانے کے بعد نماز اور مہمان کی خوش حالی اور مہمان نوازی کیلے دعا ما نگی جاتی ہے۔

ڈاکٹر پینل بنوں اور اس کے اردگرد کرے علاقے میں ایک میشنری ڈاکٹر تھا۔ وہ لکھتا ہے۔ ـ” ایک موقع پر وہ اور اسکا ایک ساتھی ایک گاؤں میں رات کو دیر سے پہنچے۔ سردار گھر پر موجود نہیں تھا اسکا لڑکا بڑے خلوص سے ملا اور فوراً مرغ اور پلاؤ بنواکر پیش کیا۔ سردار رات کو گھر دیر سے پہنچا۔ جب اس کو پتہ چلا کہ بنوں کے پادر صاحب اسکے مہمان ہیںاور اس کے لڑکے نے صرف مرغ اور پلاؤ کھانے میں پیش کیےئ اس نے فوراً باورچی سے دنبہ ذبع کروا کر پکوایا۔

ماں نے مجھ سے پوچھا ۔پختون کی مہمان نوازی کی کیا خصوصیات ہیں؟

میں نے جواب دیا۔ ” ایک ۔ دوست ، دشمن یا اجنبی ہر شخص کے ساتھ مہمان نوازی ۔ دو۔ ہجرہ میں مہمان کو ٹھرانا۔ تین ۔ حیثیت کے بڑھ کر کھانابنانا۔ چار ۔ مہمان، پورے گاوں کا ہویا ہے۔ پانچ۔ مہمان گاوں کے بڑوں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ کم از کم کچھ لقمے کھائے۔ چھ۔ کھانے کے بعد نماز اور مہمان کی خوش حالی اور مہمان نوازی کیلے دعا ما نگی جاتی ہے۔

٭٭٭

” پاکستان کے شمال مغرب میں کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔ اس سرحدی علاقے میں ٧ مشہور درہ ہیں۔ درہ خیبر، درہ مالاکند ، درہ گنداب، درہ کوہاٹ، در ہ نیگاش، در ہ گومل ، در ہ ٹوچی اور درہ بولان۔ پانچ دریا ہیں۔ پختونیستان میں دریا سوات، دریاخرم ، دریاٹوچی اوردریا گومل بہتے ہیں۔ پختونیستان میں رہنے والے پشتون، پختون اور پھٹان کہلاتے ہیں۔

پختون کون ہیں اور کہاں سے اس علا قہ میں آے کسی کو اس کا صحیح پتہ نہیں۔ لیکن ان کے مطلق چار قیاس آرایئ ہیں۔

مشہور عالم البیرونی نے جو دسویں صدی میں غزنی میںرہا ‘ اس نے تاریخ الہند ‘ میں پختون کے مطلق لکھا ہے۔ ” ایک باغی اور جنگلی قوم ہندوستان کے مشرق میں بستی ہے۔”

میجر ارٹی ای ریج وے نے اٹھارویں صدی میںاپنی کتاب ‘پھٹان’ میں لکھا۔ پھٹان حضرت سلیمان کے سپہ سالارجےر ے مایہ کے بیٹے افغانہ کی اولاد ہیں” ۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ جوزف کی اولاد ہیں۔ جوزف کا قبیلہ اُن دس یہودی قبیلوں میںشمار ہوتا ہے جو کھوئے ہوے لوگ کہلاتے ہیں۔

بعض تاریخ دان کہتے ہیں کے پختون کے نقش و نگا ر اُن قومیں سے جو دریا سندھ کی دوسری طرف رہتی ہیں ملتے ہیں۔ان میں ترکی اور ایران بھی شامل ہیں۔

اور دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ پٹھان قوم عرب سے قریب ہیں۔جب ہم عرب اور پھٹان قوم کی قبیلہ بندی اور سماجی استعمال کا مطالحہ کتے ہیں تو دونوں میں حیرت انگیز مشاہبت ہے۔

اسلام سے پہلے عرب میں بھی آذادی سے عشق، شجاعت، برداشت، مہمان نوازی، اور انتقام لینا کے فرض موجود تھے۔

پختون مرد عموماً ڈھیلی قمیض اور شلوار پہنتا ہے اور ایک بڑی پھگڑی بانتا ہے۔اپنے کندھے پر ایک چادر اور ایک رائفل رکھتا ہے۔ پختون عورتیں عموماً چھاپے ہوے کپڑے پہنتی ہیں۔

تمام حملہ آور ایرانی، یونانی، ترکی، مغل، افغانی، سکھ اور انگریز جنہوں نے شمالی ایشا کو فتع کیا پختون کو نہ ہرا سکے۔

پہاڑی پختونً یوسف زایئ، محمند، آفریدی، شنواریز، آرکزایئ، توریس، بانگاش، خٹک، وزیر، اورمسحود ، مرد وں کی سوسائٹی ہے اور نئے قوانین کو بلکل نہیں مانتے پختون بڑے مغرور لوگ ہیں۔ پختون لیڈر خان ولی خان نے ایک دفعہ کہا۔ ” میںپانچ ہزار سال سے پختون ہوں اور مسلمان چودہ سو سال سے اور پاکستانی صرف چالیس سال سے” ۔

دو خیال ۔

‘مہمان نوازی’ اور مجرموں کو پناہ دینا دونوں مختلف ہیں وہ ایک چیز نہیں ہیں۔ پختون کے علا قہ اورپختون کی فلاح و بہبود کے لے ـ ان کو علیحدہ کرنا چائیے۔

اسلام

علم فقہ کی بنیاد تین چیزوں پر ہے۔

اقران کا قانون بنانے والا حصہ،
سنّت۔جس طرح رسول نے اپنی زندگی گزاری ،
حدیث ، روایت پر
ایک حدیث میں رسول نے کہا۔ “مذہب وہ نہیں ہے جو آپ رسموں کی طرح باقاعدہ مشق کرتے ہیں بلکہ وہ ہے جو آپ اپنا تے ہیںاورایک دوسرے سے حصہ کرتے ہیں۔

سماجی طریقہ اور اسلامی اخلاقیات

ایک دفعہ حضور صلم مسجد میں داخل ہوے اور دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص تسبیح پڑھ رہا ہے۔ حضور صلم کو بتایا گیا کہ یہ شخص سارا دن مسجد میں گزار تا ہے اور دوسروں کو بھی تبلیغ کرتا ہے۔تو حضور صلم نے پوچھا۔کہ یہ اپنی روزی کیسے کماتا ہے۔ حضور صلم کو بتایا گیا کہ ا یک خدا پرس تاجر اسکے اخراجات ادا کرتا ہے۔ حضور صلم نے کہا ان دونوں میں تاجر کا درجہ بڑا ہے۔

ایک حدیث میں یہ کہا گیا ہے۔ حضور صلم نے فرمایا۔ “اگرکویئ تمہارے درمیان کسی کو غلطی کرتا دیکھے تواسکا فرض ہے کہ ہاتھوں یعنی عمل، خوش اطوار، اصرار سے اسکو صحیح کرے۔ اگر نہیں تو پھر زبان سے یعنی اس کے خلاف بولے۔اگر تب بھی غلطی موجود رہے تو خاموشی سے ناپسندید گی کا اظہار کرے اور اگرسامنے نہیں تو دل میں کرے ۔ دل میں ناپسندید گی کا اظہار کا درجہ واثق کی نشانی ہے۔

]اسلام ، بالغیت، عورت اور شادی۔

١۔ اسلا م میںچار عورتوں تک شادی جایئز ہے۔ ” اگر یہ خوف ہے کہ تم یتیموں(جن کو تم نے رکھا) کے ساتھ انصاف نہ کرو گے تو جو تم کو اچھی لگیں ان دو یا تین یا چارعورتوں سے شادی کرلو۔اگر تم ان کو حق نا دے سکو تو ایک سے شادی کرو۔ “(سورۃ ا لنساء )

٢۔ اسلام میں عورت کو ڈاوری یا مہر یا والور دینا جایئز ہے۔ ” اور عورتوں کو ڈاوری کا تحفہ دو۔لیکن اگر اپنی مرضی سے اسکے کچھ حصہ تم کو دیںتو تم اس کو خوشی سے لے لو۔” (سورۃ ا لنسا ء )

٣۔اسلام میں لڑکی اپنی پہلی ماہواری کے بعد بالغ کہلاتی ہے۔ بعض علاقوں میں لڑکیوں کی ماہواری ٩ سال سے ١٢ سال کی عمر میں ہوتی ہے۔ ” کچھ اور تمہاری عورتیں جو کے ماہواری سے گزر چکی ہیں۔اگر تم کو شک ہو تو تین مہینہ کا انتظارکروـ” (سورۃ ا لنسا ئ)

٤۔” یتیموں کو جانچوں اگر وہ شادی کی عمر کے ہیں اور تم ان کو سمجھ دار سمجھتے ہو توان کو ان کی ملکیت واپس دے دو۔” (سورۃ ا لنسا ء )

٥ـ ” اور مرد بالغ جب ہوجاتا ہے جب وہ چالیس سال کا ہوجاتاہے۔”(سورۃ الاحقاف)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s