شہاب نامہ


از

قدرت اللہ شہاب

جموں میں پلیگ

گرمیوں کا موسم تھا اور جموں شہر میں طاؤن کی وبا بڑی شدت سے پُھوٹی ہوئی تھی۔ اکبر اسلامیہ ہائی سکول میں چوتھی جماعت کے کلاس روم کی صفائی کا کام میرے ذمہ تھا۔ ایک روز چُھٹی کے وقت جب میں اکیلا کمرے کی صفائی کر رہا تھا ، تو ایک ڈیسک کے نیچے ایک مرا ہوا چُوہا پڑا ملا۔ میں نے اُسے دُم سے پکڑ کر اُٹھایا ، باہر لا کر اُسے زور سے ہوا میں گُھمایا اور سڑک کے کنارے جھاڑیوں میں پھینک دیا۔ یہ دیکھ کر لال دین زور سے پُھنکارا ، اور اپنی لنگڑی ٹانگ گھسیٹتا ہوا دُور کھڑا ہو کر زور زور سے چلانے لگا۔ لال دین ہمارے سکول کا واحد چپڑاسی تھا۔ وہ گھنٹہ بھی بجاتا تھا ، لڑکوں کو پانی بھی پلاتا تھا اور چھابڑی لگا کر بسکٹ اور باسی پکوڑیاں بھی بیچا کرتا تھا۔

ارے بد بخت ! لال دین چلا رہا تھا ، “ یہ تو پلیگ کا چُوہا تھا۔ اِسے کیوں ہاتھ لگایا؟ اب خود بھی مرو گے ، ہمیں بھی مارو گے۔“

اپنی لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہی کھڑے لال دین نے پلیگ کے مرض پر ایک مفصل تقریر کر ڈالی۔ پہلے تیز بُخار چڑھے گا۔ پھر طاؤن کی گلٹی نمودار ہوگی ، رفتہ رفتہ وہ مکئی کے بُھٹے جتنی بڑی ہو جائے گی ۔ جسم سُوج کر کُپا ہو جائے گا۔ ناک ، کان اور مُنہ سے خُون ٹپکے گا ۔ گلٹی سے پیپ بہے گی اور چار پانچ دن مین اللہ اللہ خیر سلا ہو جائے گی۔

چند روز بعد میں ریذیڈنسی روڈ پر گھوم رہا تھا کہ اچانک ایک چُوہا تیز تیز بھاگتا ہوا سڑک پر آیا ۔ کچھ دیر رُک کر وہ شرابیوں کی طرح لڑکھڑایا۔ دو چار بار زمین پر لوٹ لگائی اور پھر دھپ سے اوندھے مُنہ لیٹ گیا۔ میں نے پاس جا کر اُسے پاؤں سے ہلایا تو وہ مر چُکا تھا۔ بے خیالی میں مَیں نے اُسے دُم سے پکڑا اور اُٹھا کر سڑک کے کنارے ڈال دیا۔ چند راہگیر جو دُور کھڑے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے، پُکار پُکار کر کہنے لگے، “پلیگ کا چُوہا ، پلیگ کا چُوہا۔ گھر جا کر جلدی نہاؤ ، ورنہ گلٹی نکل آئے گی۔“

ان لوگوں نے بھی پلیگ کی جملہ علامات پر حسبِ توفیق روشنی ڈالی اور میرے عِلم میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔

ان دِنوں جموں شہر میں ہر روز دس دس پندرہ پندرہ لوگ طاؤن سے مرتے تھے ۔ گلی کُوچوں میں چاروں طرف خوف ہی خوف چھایا ہوا نظر آتا تھا۔ گاہک دکانوں کا کن انکھیوں سے جائزہ لیتے تھے کہ کہیں بوریوں اور ڈبوں اور کنستروں کے آس پاس چُوہے تو نہیں گُھوم رہے۔ دُکاندار گاہکوں کو شک و شبہ سے گُھورتے تھے کہ ان کے ہاں پلیگ کا کیس تو نہیں ہوا۔ لوگوں نے ایک دُوسرے کے کے گھر آنا جانا اور ملنا جُلنا ترک کر دیا تھا۔ سڑک پر راہگیر ایک دُوسرے سے دامن بچا بچا کر چلتے تھے۔ شہر کا ہر مکان دُوسروں سے کٹ کٹا کر الگ تھلگ ایک قلعہ سا بنا ہوا تھا ، جس میں پھٹی پھٹی سہمی آنکھوں والے محصُور لوگ چُپ چاپ اپنی اپنی گِلٹی کا انتظار کر رہے تھے۔ میونسپل کمیٹی والے درو دیوار سُونگھ سُونگھ کر پلیگ کے مریضوں کا سُراغ لگاتے تھے۔ جہاں اُن کا چھاپہ کامیاب رہتا تھا ، وہاں وہ علی بابا چالیس چور کی مرجینا کی طرح دروازے پر سفید چُونے کا نشان بنا دیتے تھے۔ تھوڑی بہت رشوت دے کر یہ نشان اپنے مکان سے مٹوایا اور اغیار کے دروازوں پر بھی لگوایا جا سکتا تھا۔ پلیگ کے عذاب میں مبتلا ہو کر مریض تو اکثر موت کی سزا پاتا تھا۔ باقی گھر والے مفرور مجرموں کی طرح مُنہ چُھپائے پھرتے تھے۔ ایک دُوسرے سے ہاتھ ملانے کا رواج بھی بہت کم ہو گیا تھا۔ لوگ دُور ہی دُور سے سلام دُعا کر کے رسمِ مروت پُوری کر لیتے تھے۔

یکے بعد دیگرے دو طاؤن زدہ چُوہوں کو ہاتھ لگانے کے باوجود جب میرے تن بدن میں کوئی گِلٹی نمودار نہ ہوئی تو میرا دل شیر ہوگیا۔ اپنے اِردگرد سہمے ہوئے ہراساں چہرے دیکھ کر ہنسی آنے لگی۔ اور اُن کی بے بسی سے شہ پا کر رفتہ رفتہ میرے دل میں خوف کی جگہ نئے نئے منصوبے سر اُٹھانے لگے۔ رگھوناتھ بازار میں حکیم گورندتہ مل کی دکان تھی۔ ایک روز حکیم صاحب اپنی کُرسی پر اکیلے بیٹھے اپنی ناک پر بار بار بیٹھنے والی مکھیاں اُڑا رہے تھے۔ مَیں اُن کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا اور گھبراہٹ کے لہجے میں بولا، “حکیم صاحب! پلیگ کی دوا چاہئے، بہت جلد۔“

پلیگ کا نام سُن کر حکم صاحب چونکے اور ڈانٹ کر کہنے لگے، “چھاتی پر کیوں چڑھے آتے ہو؟ دُور کھڑے ہو کر بات کرو۔ کس کو پلیگ ہے؟“

مَیں نے رُوئی کا گولہ ٹنکچر آیوڈین میں تَر کر کے ایک میلی سی پٹی کے ساتھ اپنی بغل میں باندھا ہوا تھا۔ مَیں کھسک کر حکیم صاحب کے اور بھی قریب ہوگیا اور آستین میں سے بازُو نکال کر اپنی بغل معائنہ کے لئے ان کے مُنہ کے قریب لانے لگا تو اُن کی آنکھیں خوف سے اُبل کر باہر کی طرف لڑھک آئیں۔

حکیم صاحب بوکھلا کر اتنے زور سے اُٹھے کہ کُرسی کھٹاک سے اُلٹ کر پیچھے کی طرف گرگئی۔ دُکان کے اندر دُور کھڑے ہو کر وہ چیخنے لگے، “یہ دُکان ہے دُکان۔ چُھوت کی بیماریوں کا ہسپتال نہیں۔ فورا باہر نکلو اور ہسپتال جا کر حاضر ہو جاؤ ورنہ بُلاتا ہوں ابھی پولیس والوں کو۔“

حکیم صاحب کی میز پر گُلقند کا مرتبان پڑا تھا۔ مَیں نے جلدی جلدی ڈھکنا اُٹھایا اور شیرے میں لت پت گُلقند کی ایک مُٹھی بھر کر دکان سے باہر چلا آیا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s