تقدیر


صحیح بخاری -> کتاب القدر

تشریح :    تقدیر پر ایمان لانا جزو ایمان ہے۔ اکثر نسخوں میں یہاں صرف باب فی القدر ہے۔ فتح الباری میں اس طرح ہے جیسا کہ یہاں نقل کیاگیا۔ اللہ پاک نے فرمایا۔ انا کل شئی خلقناہ بقدر ( القمر: 49 ) ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے تحت پیدا کیا ہے۔قال ابوالمظفربن السمعانی فی سبیل معرفۃ ہذاالباب التوقیف من الکتاب والسنۃ دون محض القیاس والعقل فمن عدل عن التوقیف فیہ ضل وتاہ فی بحار الحیرۃ ولم یبلغ شفاءالعین والا مایطمئن بہ القلب لان القدر سرمن اسرار اللہ تعالیٰ اختص العلیم الخبیر بہ وضرب دونہ الستار وحجبہ عن عقول الخلق ومعارفہم لما علمہ من الحکمۃ فلم یعلمہ نبی مرسل ولاملک مقرب الخ ( فتح الباری )خلاصہ اس عبارت کا یہ ہے کہ ” تقدیر کا باب صرف کتاب و سنت کی روشنی میں سمجھنے پر موقوف ہے۔ اس میں قیاس اور عقل کا مطلق دخل نہیں ہے جو شخص کتاب و سنت کی روشنی سے ہٹ کر اسے سمجھنے کی کوشش میں لگا وہ گمراہ ہوگیا اور حیرت و استعجاب کے دریا میں ڈوب گیا اور اس نے چشمہ شفا کو نہیں پایا اور نہ اس چیز تک پہنچ سکا جس سے اس کا دل مطمئن ہوسکتا۔ اس لیے کہ تقدیر اللہ کے بھیدوں میں سے ایک خاص بھید ہے۔ اللہ نے اپنی ذات علیم و خبیر کے ساتھ اس سر کو خاص کیا ہے اور مخلوق کی عقلوں اور ان کے علوم کے اور تقدیر کے بیچ میں پردے ڈال دیئے ہیں۔ یہ ایسی حکمت ہے جس کا علم کسی مرسل نبی اور مقرب فرشتے کو بھی نہیں دیاگیا “ ۔

پس تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے اور جز و ایمان ہے یعنی جو کچھ برا بھلا چھوٹا بڑا دنیا میں قیامت تک ہونے والا تھا وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں ٹھہرچکا ہے۔ اسی کے مطابق ظاہر ہوگا اور بندے کو ایک ظاہری اختیار دیاگیا ہے جسے کسب کہتے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ بندہ نہ بالکل مجبور ہے نہ بالکل مختار ہے۔ اہل سنت والجماعت اور صحابہ کرام اور جماعت سلف صالحین کا یہی اعتقاد تھا۔ پھر قدریہ اور جبریہ پیدا ہوئے۔ قدریہ کہنے لگے کہ بندے کے افعال میں اللہ تعالیٰ کو کچھ دخل نہیں ہے، وہ اپنے افعال کا خود خالق ہے اور جو کرتا ہے اپنے اختیار سے کرتا ہے۔ جبریہ کہنے لگے کہ بندہ جمادات کی طرح بالکل مجبور ہے، اس کو اپنے کسی فعل کا کوئی اختیار نہیں۔ ایک نے افراط کی راہ دوسرے نے تفریط کی راہ اختیار کی۔ اہل سنت بیچ بیچ میں ہیں۔ جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ ( حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے ) نے فرمایالا جبرولا تفویض ولاکن امربین امرین۔ امام ابن سمعانی نے کہا کہ تقدیر اللہ پاک کاایک راز ہے جو دنیا میں کسی پر ظاہر نہیں ہوا یہاں تک کہ پیغمبروں پر بھی نہیں، بایں ہمہ تقدیر پر ایمان لانا فرص ہے۔ تقدیر میں لکھے ہوئے امور بلاکسی ظاہری سبب کے ظاہر ہوجاتا ہیں جن میں سے ایک یہ بخاری شریف مترجم کی اشاعت بھی ہے ورنہ میں کسی بھی صورت میں اس عظیم خدمت کا اہل نہ تھا۔ ولاکن کان امر اللہ مفعولا۔ وکان امر اللہ قدرا مقدورا۔ فللہ الحمد حمدا کثیرا۔ تقبلہ اللہ آمین

باب : کتاب تقدیر کے بیان میں

ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا مجھ کو سلیمان اعمش نے خبردی، کہا کہ میں نے زید بن وہب سے سنا، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم کو رسول اللہ نے بیان سنایا اور آپ سچوں کے سچے تھے اور آپ کی سچائی کی زبردست گواہی دی گئی۔ فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص پہلے اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ ہی رکھا جاتا ہے۔ پھر اتنی ہی مدت میں ” علقہ “ یعنی خون کی پھٹکی ( بستہ خون ) بنتا ہے پھر اتنے ہی عرصہ میں ” مضغہ “ ( یعنی گوشت کا لوتھڑا ) پھر چار ماہ بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اس کے بارے میں ( ماں کے پیٹ ہی میں ) چار باتوں کے لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کی روزی کا، اس کی موت کا، اس کا کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت۔ پس واللہ، تم میں سے ایک شخص دوزخ والوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور جب اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک بالشت کا فاصلہ یا ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ جنت والوں کے سے کام کرنے لگتا ہے اور جنت میں جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص جنت والوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور جب اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ دوزخ والوں کے کام کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں جاتا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ آدم بن ابی ایاس نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ جب ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہ

تشریح :    یعنی اس کے جنت یا دوزخ کا فاصلہ اتنا ہی رہ جاتا ہے۔ قسمت غالب آتی ہے اور وہ تقدیر کے مطابق جنت یا دوزخ میں داخل کیا جاتا ہے۔ اللہم ان کنت کتبتنی من اہل النار فامحہ فانک تمحوماتشاءو تثبت و عندک ام الکتاب آمین۔

دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ وہ اس میں روح پھونکتا ہے، تو روح چار مہینے کے بعد پھونکی جاتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں یوں ہے کہ چار مہینے دس دن کے بعد۔ قاضی عیاض نے کہا اس پر علماءکا اتفاق ہے کہ روح ایک سو بیس دن کے بعد پھونکی جاتی ہے اور مشاہدہ اور جنین کی حرکت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ میں ( وحید الزماں ) کہتا ہوںکہ اس زمانے کے حکیموں اور ڈاکٹروں نے مشاہدہ اور تجربہ سے ثابت کیا ہے کہ چار مہینے گزرنے سے پہلے ہی جنین میں جان پڑجاتی ہے۔ اب جن روایتوں میں روح پھونکنے کا ذکر نہیں ہے جیسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی اس روایت میں ہے ان میں تو کوئی اشکال ہی نہ ہوگا لیکن جن روایتوں میں اس کا ذکر ہے تو حدیث غلط نہیں ہوسکتی بلکہ حکیموں اور ڈاکٹروں کا دعویٰ غلط ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ روح حیوانی چار مہینے سے پہلے ہی جنین میں پڑجاتی ہے لیکن حدیث میں روح سے مراد روح انسانی یعنی نفس ناطقہ ہے۔ وہ چار مہینے دس دن کے بعد ہی بدن سے متعلق ہوتا ہے۔

Advertisements

2 comments on “تقدیر

  1. Thats Wonderful things . the اور بندے کو ایک ظاہری اختیار دیاگیا ہے جسے کسب کہتے ہیں۔

    it is a zahiri ikhteyar only.

    • Allah humen apni hifz-o-amaan me rakhy.aur me mazeed is bary me jany unjany me ghoro-fikar kar k, koi gunah ya koi bura na kar bathu. ameen-sum-ameen

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s