برزخ اور اس کا عذاب


بزرخ کے معنی: دو چیزوں کے درمیان حائل چیز کو برزخ کہتے ھیں [1]یہ موت اور قیامت کے درمیان کا واسطہ ھے ، او راسی عالم برزخ میں روز قیامت کے لئے انسان نعمتوں سے نوازا جائے گا یا اس پر عذاب ھوگا[2]خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
< مِنْ وَرَائِہِمْ بَرْزَخٌ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ >[3]
”اور ان کے مرنے کے بعد (عالم) برزخ ھے (جہاں )سے اس دن تک کہ دوبارہ قبروں سے اٹھائے جائےں گے “۔
یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ یہ عالم برزخ دنیاوی زندگی اور روز قیامت کے درمیان ایک زندگی کا نام ھے۔
عالم برزخ کے بارے میں حضرت امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ھیں:
”البرزخ:القبر ،وفیہ الثواب والعقاب بین الدنیا وآلاخرة“۔[4]
وحشت برزخ: جیسا کہ ھم بیان کر چکے ھیںکہ عالم آخرت کی زندگی موت سے شروع ھوتی ھے، انسان موت کے ذریعہ عالم آخرت میں پہنچ جاتا ھے، اور موت کے بعد درج ذیل قبر کے خوف و وحشت سے روبرو ھوتا ھے:
۱۔ وحشت قبر اور قبر کی تاریکی: قبر، معادکی وحشتناک منزلوں میں سے ایک منزل ھے، جب انسان کو ایک تاریک و تنگ کوٹھری میں رکھ دیا جاتا ھے جہاں پر اس کے مددگار صرف اس کے اعمال اور عذاب یا ثواب کے فرشتے ھوں گے۔
حضرت علی علیہ السلام اہل مصر کے نام ایک خط میں تحریر فرماتے ھیں:
”یا عباد الله،ما بعد الموت لمن لا یغفر لہ اشد من الموت؛القبر فاحذروا ضیقہ و ضنکہ وظلمتہ و غربتہ،ان القبریقول کل یوم :انابیت الغربة،انا بیت التراب،انا بیت الوحشة ،انا بیت الدود و الھوام۔۔۔ “۔[5]
”اے بندگان خدا! اگر انسان کی بخشش نہ ھو تو پھر موت کے سے سخت کوئی چیز نھیں ھے، (لہٰذا قبر کی تاریکی، تنگی اور تنہائی سے ڈرو!! بے شک قبر ہر روز یہ آواز دیتی ھے: میں تنہائی کا گھر ھوں، میں مٹی کا گھر ھوں، میں خوف و حشت کا گھر ھوں، میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ھوں۔۔۔“۔(اے کاش ھم اس آواز کو سن لیں)
قارئین کرام! یھی وہ جگہ ھے کہ جب انسان زمین کے اوپر سے اس کے اندر چلا جاتا ھے، اہل و عیال اور دوستوں کو چھوڑ کر تنھاھوجاتا ھے، روشنی کو چھوڑ کر تاریکی میں چلا جاتا ھے، دنیا کے عیش و آرام کو چھوڑ کر تنگی اور وحشت قبر میں گرفتار ھوجاتا ھے، اور اس کا سب نام و نشان ختم ھوجاتا ھے اور اس کا ذکر مٹ جائے گا اس کی صورت متغیر ھوجائے گی اور اس کا جسم ابدان بوسیدہ اور جوڑ جوڑ جدا ھوجائیں گے۔
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
”فکم اکلت الارض من عزیز جسد ،وانیق لون ،کان فی الدنیا غذی ترف ،وربیب شرف، یتعلل بالسرور فی ساعة حزنہ و یفزع الی السلوة ان مصیبة نزلت بہ ،ضنا بغضارة عیشہ وشحاحة بلھوہ و لعبہ۔۔۔“۔[6]
”اُف! یہ زمین کتنے عزیزترین بدن اور حسین ترین رنگ کھاگئی ھے جن کو دولت و راحت کی غذامل رھی تھی اور جنھیں شرف کی آغوش میں پالا گیا تھا جو حزن کے اوقات میں بھی مسرت کا سامان کیا کرتے تھے اور اگر کوئی مصیبت آن پڑتی تھی تو اپنے عیش کی تازگیوں پر للچائے رہنے واور اپنے لھو و لعب پر فریفتہ ھونے کی بنا پر تسلی کا سامان فراھم کرلیا کرتے تھے“۔
(زمیں کھاگئی آسماں کیسے کیسے؟!! )
۲۔ فشار قبر: احادیث میں وارد ھوا ھے کہ میت کو اس قدر فشار قبر ھوگا کہ اس کاگوشت پارہ پارہ ھوجائے گا، اس کا دماغ باہر نکل آئے گااس کی چربی پگھل جائے گی، اس کی پسلیاں آپس میں مل جائیں گی، اس کی وجہ دنیا میں چغل خوری اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ بداخلاقی، بہت زیادہ (بے ھودہ) باتیں کرنا، طہارت ونجاست میں لاپرواھی کرنا ھے، اور کوئی انسان اس(فشار قبر) سے نھیں بچ سکتا مگر یہ کہ ایمان کے ساتھ دنیا سے جائے اور کمال کے درجات پر فائز ھو۔
ابو بصیر کہتے ھیں کہ میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا کوئی شخص فشار قبر سے نجات پاسکتا ھے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
”نعوذ باللہ منھا ۔ما اقل من یفلت من ضغطة القبر۔۔۔“۔[7]
”ھم اللہ کی پناہ مانگتے ھیں فشار قبر سے، بہت ھی کم لوگ فشار قبر سے محفوظ رھیں گے“۔
صحابی رسول سعد بن معاذ /کو بھی فشار قبر کے بارے میں روایت میں ملتا ھے کہ جب ان کا جنازہ اٹھایا گیا تو ملائکہ تشییع جنازہ کے لئے آئے اور خود رسول اکرم (ص)آپ کی تشییع جنازہ میں پابرہنہ اور بغیر عبا کے شریک ھوئے، یہاں تک کہ قبر تک لے آئے اور قبر میں رکھ دیا گیا تو امّ سعد نے کہا: اے سعد تمھیں جنت مبارک ھو ، تو اس وقت رسول اکرم نے فرمایا:
”یا ام سعد! مَہ لاتجزمي علی ربک ،فان سعدا قد اصابتہ ضمة“۔وحینما سُئل عن ذلک، قال(ص) ”انہ کان فی خلقہ مع اھلہ سوء“۔ [8]
”اے مادر سعد یہ نہ کھو ، تم اپنے رب کے بارے میں یہ یقینی نھیں کہہ سکتی، سعد پر اب فشار قبر ھورھاھے“۔
اور جب رسول اکرم (ص)سے اس کی وجہ معلوم کی گئی تو آنحضرت (ص)نے فرمایا کہ سعد اپنے اہل و عیال کے ساتھ بداخلاقی سے پیش آتے تھے“۔
رسول اکرم (ص)نے یہ بھی فرمایا:
”ضغطة القبر للموٴمن کفارة لما کان منہ من تضییع النعم“۔[9]
”فشار قبر مومن کے لئے کفارہ ھے تاکہ اس کی نعمتوں میں کمی نہ ھو۔“
۳۔ سوال منکر و نکیر: خداوندعالم، انسان کی قبر میں دو فرشتوں کو بھیجتا ھے جن کا نام منکر و نکیر ھے، یہ دوفرشتے اس کو بٹھاتے ھیں اور سوال کرتے ھیں کہ تیرا رب کون ھے ؟ تیرا دین کیا ھے؟ تیرا نبی کون ھے؟ تیری کتاب کیا ھے؟ تیرا امام کون ھے جس سے تو محبت کرتا تھا، تو نے اپنی عمر کو کس چیز میں صرف کیا، تونے مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیاھے؟ اگر اس نے صحیح اور حق جواب دیا تو ملائکہ اس کوراحت و سکون اور جنت الفردوس کی بشارت دیتے ھیں اور اس کی قبر کو تا حد نظر وسیع کردیتے ھیں، لیکن اگر اس نے جواب نہ دیا یا ناحق جواب دیا، یا اس کا جواب نامفھوم ھوا تو ملائکہ اس کی کھولتے ھوئے پانی سے میزبانی کرتے ھیں اور اس کو عذاب کی بشارت دیتے ھیں۔
بے شک اس سلسلے میں نبی اکرم (ص)اور اہل بیت علیھم السلام سے صحیح روایت منقول ھےں جن پر سبھی مسلمین اتفاق رکھتے ھیں [10]اور اس مسئلہ کو ضرورت دین میں سے مانتے ھیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”من انکر ثلاثة اشیاء ،فلیس من شیعتنا المعراج ،والمساء لة فی القبر ، والشفاعة “۔[11]
”جو شخص تین چیزوں کا انکار کرے وہ ھمارا شیعہ نھیں ھے، معراج، سوال منکر و نکیر، اور شفاعت“۔
۴۔ قبر میں عذاب و ثواب:یہ عذاب و ثواب عالم برزخ میں ایک مسلم حقیقت ھے ، اور لامحالہ واقع ھوگا، کیونکہ اس کا امکان پایا جاتا ھے، آیات ِقرآن مجید اور نبی اکرم اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے احادیث میں متواتر بیان ھوا ھے ، نیز اس سلسلے میں علماء کرام کا گزشتہ سے آج تک اجماع بھی ھے[12]
قرآنی دلائل: وہ آیات جن میں قبر میں ثواب و عذاب کے بارے میں بیان ھوا یا بعض آیات کی تفسیر عذاب و ثواب کی گئی ھے، جن میں سے بعض کو ھم نے ”روح کے مجرد ھونے“ کی بحث میں بیان کیا ھے، ھم یہاں پر دو آیتوں کو پیش کرتے ھیں:
< وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ اٴَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اٴَشَدَّ الْعَذَابِ> [13]
”اور فرعونیوں کو برے عذاب نے(ہر طرف سے )گھیر لیا (اور اب تو قبر میں دوزخ کی) آگ ھے کہ وہ لوگ (ہر)صبح و شام اس کے سامنے لا کرکھڑے کئے جاتے ھیں اور جس دن قیامت برپا ھوگی (حکم ھوگا کہ )فرعون کو لوگوں کے سخت سے سخت عذاب میں جھونک دو“۔
یہ آیہ شریفہ وضاحت کرتی ھے کہ قبر میں ثواب و عذاب ھوگا کیونکہ اس آیت میں ”واو“کے ذریعہ عطف کیا گیا ھے <وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ۔۔۔> جو اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ اس سے پہلے بیان شدہ ایک الگ چیز ھے اور اس کے بعد بیان ھونے والا مطلب الگ ھے، کیونکہ پہلے صبح و شام آگ نے گھیر رکھا ھے، اور اس کے بعد روز قیامت کے عذاب کے بارے میں بیان کیا گیا ھے، اسی وجہ سے پہلے جملے میں <عَرَضَ> (گھیرنے کے معنی) ھیں اور دوسرے جملہ میں <اٴَدْخِلُوا> (داخل ھوجاؤ)کا لفظ استعمال ھوا ھے۔[14]
اس آیت کی تفسیر میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے مروی ھے کہ آپ نے فرمایا:
”ان کانوا یعذبون فی النار غدوا و عشیا ففیما بین ذلک ھم من السعداء ۔لا ولکن ھذا فی البرزخ قبل یوم القیامة ،الم تسمع قولہ عزوجل:<وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ اٴَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اٴَشَدَّ الْعَذَابِ>؟“۔[15]
” اگر وہ صبح و شام عذاب میںھوں گے اگرچہ ان کے درمیان کچھ نیک افراد بھی ھوں لیکن یہ سب برزخ میں ھوگا قبل از قیامت، کیا تو نے خداوندعالم کے اس فرمان کو نھیں سنا: ”اور جب قیامت برپا ھوگی تو فرشتوں کو حکم ھوگا کہ فرعون والوں کو بدترین عذاب کی منزل میں داخل کردو“۔
۲۔ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
< وَمَنْ اٴَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِی فَإِنَّ لَہُ مَعِیشَةً ضَنکًا وَنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ اٴَعْمَی>[16]
”اور جس نے میری یاد سے منھ پھیرا تو اس کی زندگی بہت تنگی میں بسر ھوگی اور ھم اس کو قیامت کے دن اندھا( بنا کے) اٹھائیں گے“۔
بہت سے مفسرین کہتے ھیں کہ ”سخت اور تنگ زندگی“ سے مراد عذاب قبر اور عالم برزخ میں سختیاں اور بدبختی ھے، قرینہ یہ ھے کہ حرف عطف ”واو“ کے ذریعہ حشر کا ذکر کیا جو اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ یہ دونوں چیزیں الگ الگ ھوں۔ سخت زندگی سے دنیا کی پریشانیاں مراد نھیں لی جاسکتیں کیونکہ دنیا میں بہت سے کفار کی زندگی مومنین سے بہتر ھوتی ھے، اور ایسے چین و سکون کی زندگی بسر کرتے ھیں کہ اس میں کسی طرح کی کوئی پریشانی نھیں ھوتی ھے۔[17]
حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ھیں:
”واعلموا ان المعیشة الضنک التی قالھا تعالیٰ :<فَإِنَّ لَہُ مَعِیشَةً ضَنکًا >ھی عذاب القبر“۔[18]
جان لو کہ (مذکورہ بالا) آیت میں سخت اور تنگ زندگی سے مراد عذاب قبر ھے“۔
احادیث سے دلائل: قبر کے عذاب و ثواب پر دلالت کرنے والی متعدد احادیث شیعہ سنی دونوں طریقوں سے نقل ھوئی ھیں،[19] اور بڑی تفصیل کے ساتھ بیان ھوئی ھیں، بعض کو ھم نے ”روح کے مجرد ھونے“ کی بحث میں بیان کیا ھے، یہاں پر ان میں سے صرف تین احادیث کو بیان کرتے ھیں:
۱۔ حضرت رسول اکرم (ص)ارشاد فرماتے ھیں:
”القبر اما حفرة من حفرالنیران او روضة من ریاض الجنة“۔[20]
”قبر یا دوزخ کے گڈھوں میں سے ایک گڈھا ھے یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ھے“۔
۲۔ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ھیں:
”یسلط علی الکافر فی قبرہ تسعة و تسعین تنینا،فینھشن لحمہ ، و یکسرن عظمہ ،و یترددن علیہ کذلک الی یوم یبعث ،لوان تنینا منھا نفخ فی الارض لم تنبت زرعا ابدا۔۔۔“۔[21]
”خداوندعالم کافر کی قبر میں ۹۹ اژدھے مسلط کرتا ھے، جو اس کے گوشت کو ڈستے ھوں گے اور اس کی ہڈیوں کو کاٹ کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کردےں گے،اور روز قیامت تک وہ اژدھے اس پر عمل کرتے رھیں گے کہ اگر وہ ایک پھونک زمین پر ماردیں تو کبھی بھی کوئی درخت اور سبزہ نہ اُگے“۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے درج ذیل آیت کے بارے میں سوال کیا گیا:
< مِنْ وَرَائِہِمْ بَرْزَخٌ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ >[22]
”اور ان کے مرنے کے بعد (عالم) برزخ ھے (جہاں )سے اس دن تک کہ دوبارہ قبروں سے اٹھایے جائےں گے “۔
تو آپ نے فرمایا:
”ھوالقبر،وان لھم فیہ لمعیشة ضنکا ، واللہ ان القبر لروضة من ریاض الجنة،اوحفرة من حفر النیران“۔[23]
”اس آیت سے مراد قبر ھے،اور کفار کے لئے سخت اور تنگ زندگی ھے، قسم بخدا، یھی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ھے یا جہنم کے گڈھوں میں سے ایک گڈھا ھے ‘ ‘ ۔
اعتراضات: قبر کے ثواب و عذاب کے بارے میں بعض اشکالات و اعتراضات کئے گئے ھیں جن میں سے اکثر عذاب و ثواب کی کیفیت کے بارے میں ھیں، کہ اس میں ثواب و عذاب کی کیفیت کیا ھوگی، لیکن اس سلسلے میں تفصیل معلوم کرنا ھمارے اوپر واجب نھیں ھے، بلکہ اجمالی طور پر قبر کے ثواب و عذاب پر عقیدہ رکھنا واجب ھے، کیونکہ یہ ممکن امر ھے، اور معصومین علیھم السلام نے اس سلسلے میں بیان کیا ھے، اور تمام غیبی امور اسی طرح ھیں کیونکہ غیبی امور عالم ملکوت سے تعلق رکھتے ھیں جس کو ھماری عقل اور ھمارے حواس نھیں سمجھ سکتے۔
ھم یہاں پر عالم برزخ پر ھونے والے بعض اھم اعتراضات بیان کرکے قرآن و حدیث کے ذریعہ جوابات پیش کرتے ھیں:
۱۔ جب انسان کا بدن ھی روح تک عذاب پہنچنے کا وسیلہ ھے تو بدن سے روح نکلنے کے بعد انسان پر کس طرح عذاب یا ثواب ھوگا، جب کہ بدن بوسیدہ ھوچکا ھوگا۔
جواب: احادیث اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ خداوندعالم انسان کو منکر نکیر کے سوالات کے لئے دوبارہ زندہ کرے گا، اور اگر وہ مستحق نعمت ھے تو اس کو ھمیشہ کے لئے حیات دےدی جائے گی، اور اگر عذاب کا مستحق ھے تو بھی ھمیشہ کے لئے اس کو عذاب میں باقی رکھا جائے گا، عذاب ھونے والا بدن ،یھی دنیاوی بدن ھوگا یا اس بدن کے مثل ایک بدن ھوگا۔ احادیث میں ان دونوں کے سلسلے میں بیان کیا گیا ھے:
اول: یھی دنیاوی بدن زندہ کیا جائے گا: یعنی خداوندعالم انسان کی قبر میں اس کے بدن میں روح لوٹادے گا، اور متعدداحادیث اس بات پر دلالت کرتی ھیں، جیسا کہ حضرت رسول اکرم (ص)سے (ایک حدیث کے ضمن) مروی ھے کہ آنحضرت (ص)نے فرمایا:
”تعاد روحہ فی جسدہ ،ویاتیہ ملکان فیجلسانہ“۔[24]
”(انسان کی)روح اس کے بدن میں لوٹا دی جائے گی اور دو فرشتے اس کو بٹھاکر سوال و جواب کریں گے“۔
حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:
”فاذادخل حفرتہ ،ردت الروح فی جسدہ ،وجاء ہ ملکا القبر فامتحناہ“۔[25]
”جب انسان کو اس کی قبر میں اتاردیا جائے گا تو اس کی روح اس کے بدن میں واپس لوٹا دی جائے گی اور دو فرشتے اس کے امتحان کے لئے آئیں گے“۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”ثم یدخل ملکا القبر ،وھما قعیدا القبر منکر و نکیر ،فیقعد انہ و یلقیان فیہ الروح الی حقویہ“۔[26]
”۔۔۔ اس کے بعد قبر میںدومنکر و نکیر آئیں گے، اور قبر کے دونوں کناروں پر بیٹھیں گے اس کو بٹھائیں گے اور اس کے جسم میں ہنسلیوں تک روح داخل کردےں گے“۔
اسی وجہ سے کھاگیا ھے کہ قبر کی حیات ،حیات ِبرزخی اور ناقص ھے، اس میں زندگی کے تمام آثار نھیں ھوتے سوائے احساس درد و الم اور لذت کے، یعنی عالم برزخ میں روح کا بدن سے کمزور سا رابطہ ھوتا ھے، کیونکہ خداوندعالم قبر میں صرف اتنی زندگی عطا کرتا ھے جس سے درد و الم اور لذت کا احساس ھوسکے۔[27]
دوم: مثالی بدن کو عذاب یا ثواب دیا جائے گا: احادیث میں وارد ھوا ھے کہ
خداوندعالم انسان کے لئے عالم برزخ میں ایک لطیف جسم مثالی میں روح کو قرار دے گا، ایسا مثالی بدن جو دنیا کے بدن سے مشابہ ھوگا، تاکہ قبر میں اس سے سوالات کئے جاسکیں اور اس کو ثواب یا عذاب دیا جاسکے، پس اسی عالم میں روز قیامت تک کے لئے اس کو ثواب یا عذاب دیا جائے گا، اور روز قیامت اسی بدن میں انسان کی روح لوٹائی جائے گی۔[28]
ابو بصیر سے روایت ھے کہ میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے مومنین کی ارواح کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
”فی الجنة علی صورا بدانھم ،لورایتہ لقلت فلان“۔[29]
”جنت میں ان کی روح ان کے جسم میں لوٹائی جائے گی کہ اگر تم روح کو دیکھو گے تو کھوگے کہ یہ فلاں شخص ھے“۔
یونس بن ظبیان سے مروی ھے کہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا، تو آپ نے فرمایا: مومنین کی ارواح کے سلسلے میں لوگ کیا کہتے ھیں؟ تو میں نے کہا: کہتے ھیں : عرش کے نیچے پرندوں کے پوٹوں میں رہتی ھےں، اس وقت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”سبحان الله ! الموٴمن اکرم علی اللہ من ان یجعل روحہ فی حوصلة طیر۔یا یونس ،الموٴمن اذاقبضہ اللہ تعالیٰ صیر روحہ فی قالب کقالبہ فی الدنیا ،فیا کلون و یشربون ،فاذاقدم علیھم القادم عرفوہ بتلک الصورة التی کانت فی الدنیا“۔[30]
”سبحان اللہ! مومن خدا کے نزدیک اس سے کھیں زیادہ باعظمت ھے کہ اس کی روح کو پرندہ کے پوٹے میں رکھاجائے، اے یونس! جب خداوندعالم مومن کی روح قبض کرتا ھے تو اس کو دنیا کی طرح ایک قالب میں ڈال دیتا ھے، جس سے وہ کھاتا اور پیتا ھے، جب کوئی (دنیا سے جاتا ھے تو)اس کو پہچانتا ھے اور وہ اسی صورت میں رہتا ھے جس میں دنیا میں رہتا تھا“۔
اسی طرح امام صادق علیہ السلام سے ایک دوسری حدیث میں وارد ھوا ھے کہ آپ نے فرمایا:
”الموٴمن اکرم علی اللہ من ان یجعل روحہ فی حوصلة طیر،ولکن فی ابدان کابدانھم“۔۔[31]
”مومن خدا کے نزدیک اس سے کھیں زیادہ باعظمت ھے کہ اس کی روح کو پرندہ کے پوٹے میںرکھے، بلکہ انسان کی روح دنیا کی طرح ایک بدن میں ھوتی ھے“۔
اس کے علاوہ بھی بہت سی احادیث ھیں جو ھماری عرض کی ھوئی بات پر دلالت کرتی ھیں ۔[32]
قارئین کرام! مذکورہ باتوں کے پیش نظر احادیث میں بیان شدہ قبر کے ثواب و عذاب سے مراد عالم برزخ میں دوسری زندگی ھے جس میں انسان کی روح بدنِ مثالی میں قرار دی جائے گی ، لہٰذا آیات قرآن اور احادیث میں بیان شدہ روح کے مجرد ھونے اور عذاب و ثواب والا مسئلہ حل ھوجاتا ھے، کہ انسان کی روح مجرد بھی ھے لیکن اس پر عذاب و ثواب بھی ھوتا ھے اور اس کی روح پرواز بھی کرتی ھے اور اپنے اہل و عیال اور دوسروں کو دیکھتی بھی ھے۔
سائنس جسم مثالی کی تائید کرتا ھے :احضار روح کے ماہرین کے تجربوں سے اجسام مثالی کی حقیقت کا پتہ چلتا ھے جیسا کہ اس سلسلہ میں مشھور ماہرین کہتے ھیں: در حقیقت موت کچھ نھیں ھے مگر یہ کہ ایک مادی جسم سے دوسرے مادی جسم میں منتقل ھوجانا، لیکن وہ دوسرا (مادی جسم) اس دنیاوی جسم سے زیادہ واضح اور لطیف ھوتا ھے۔ ان کا یہ بھی عقیدہ ھے کہ روح کے لئے ایک بہت زیادہ شفاف اور لطیف مادہ ھوتا ھے ، لہٰذا اس پر مادہ کے قوانین جاری نھیں ھوسکتے۔[33]
کیا یہ باطل تناسخ نھیں ھے؟
بعض لوگوں نے گمان کیا ھے کہ انسان کی روح کا اس دنیاوی بدن سے جدا ھونے کے بعد اسی جیسے بدن میں چلاجانا یہ وھی باطل تناسخ ھے ، جو صحیح نھیں ھے، کیونکہ ضرورت دین اور اجماع مسلمین تناسخ کی نفی کرتے ھیں حالانکہ بہت سے متکلمین اور محدثین جسم مثالی کے قائل ھوئے ھیں، اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی احادیث میں بیان ھوا ھے، لیکن تناسخ کے قائل لوگوں نے اس کا انکار کیا ھے اور اسی وجہ سے معاد اور ثواب و عذاب کا انکار کرتے ھیں، کہتے ھیں کہ یہ روح دوبارہ اسی دنیا میں دوسرے بدن میں آجاتی ھے، لہٰذا قیامت کا کوئی وجود نھیں ھے، نیز یہ لوگ تناسخ کے ذریعہ خالق اور انبیاء علیھم السلام کا بھی انکار کرتے ھیں، نیز لازمہ تناسخ وظائف اور تکالیف کا بھی انکار کرتے ھیں، اور اسی طرح کی دوسری بے ھودہ باتیں ھیں[34]
۲۔ اس سلسلے میں دوسرا اعتراض یہ ھے کہ قبر میں کس طرح ثواب و عذاب ھوگا حالانکہ جنت یا دوزخ موجود نھیں ھے۔
جواب: وہ قرآنی آیات اور احادیث جن کو ھم نے قبر کے ثواب و عذاب کے دلائل کے عنوان سے بیان کیا ھے وہ اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ جنت اور دوزخ مخلوق (اور موجود)ھیں،اسی طرح امام صادق علیہ السلام سے مروی روایت بھی اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ جب آپ سے مومنین کی روحوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
”فی حجرات فی الجنة ،یاکلون من طعامھا ،و یشربون من شرابھا“۔[35]
”(مومنین کی روحیں) جنت کے بالا خانوں میں رہتی ھیں جنت کا کھانا کھاتی ھیں اور جنت کا شربت پیتی ھیں“۔
اسی طرح امام صادق علیہ السلام کی دوسری حدیث:
”ان ارواح الکفار فی نارجھنم یعرضون علیھا“۔[36]
”کفار کی ارواح کوجہنم کی آگ کی سیر کرائی جاتی ھے“۔
شیخ صدوق علیہ الرحمہ فرماتے ھیں: جنت و جہنم کے سلسلے میں ھمارا یہ عقیدہ ھے کہ یہ دونوں مخلوق ھیں اور ھمارے نبی اکرم ﷺمعراج کی شب جنت کی سیر فرماچکے ھیں، اور جہنم کو بھی دیکھ چکے ھیں، اور اس وقت تک انسان اس دنیا سے نھیں جاتا جب تک جنت یا دوزخ میں اپناٹھکانا،نہ دیکھ لے“۔[37]
علامہ خواجہ نصیر الدین طوسی علیہ الرحمہ فرماتے ھیں:آیات و روایات جنت و دوزخ کے مخلوق ھونے پر دلالت کرتی ھیں، (یعنی جنت و نار اس وقت بھی موجود ھیں) لہٰذا جو روایات اس مفھوم کے مخالف اور متعارض ھیں ان کی تاویل کی جائے گی، علامہ حلی علیہ الرحمہ نے اپنی شرح میں اختلاف کو بیان کرتے ھوئے فرمایاھے:لوگوں کے درمیان یہ اختلاف ھے کہ جنت و نار اس وقت موجود اور مخلوق ھیں یا نھیں؟ بعض لوگوں کا عقیدہ ھے کہ جنت و نار مخلوق شدہ ھیں اور اس وقت موجود ھیں، اس قول کو ابوعلی اختیار کرتے ھیں، لیکن ابو ہاشم اور قاضی قائل ھیں کہ غیر مخلوق ھے (یعنی اس وقت موجود نھیں ھے۔
پہلانظریہ رکھنے والوں نے درج ذیل آیات سے استدلال کیا ھے:
< اٴُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِینَ>[38]
”اور ان پرھیزگاروں کے لئے مھیا کی گئی ھے“۔
< اٴُعِدَّتْ لِلْکَافِرِینَ>[39]
”اور کافروں کے لئے تیار کی گئی ھے“۔
< یَاآدَمُ اسْکُنْ اٴَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ>[40]
”اے آدم تم اپنی بیوی سمیت بہشت میں رھاسھاکرو اور جہاں تمہارا جی چاھے“۔
<عِنْدَہَا جَنَّةُ الْمَاٴْوَی >[41]
”اسی کے پاس تو رہنے کی بہشت ھے“۔
جنة الماوی یھی دار ثواب ھے جو اس بات پر دلالت کرتا ھے کہ یہ اس وقت آسمان میں موجود ھے۔
ابو ہاشم نے اپنے نظریہ کے اثبات کے لئے درج ذیل آیت سے استناد کیا ھے:
<کُلُّ شَیْءٍ ہَالِکٌ إِلاَّ وَجْہَہ>[42]
”اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ھونے والی ھے “۔
چنانچہ ابوہاشم نے کھاھے کہ اگر اس وقت جنت موجود ھوتی تو اس (روز قیامت) کا ہلاک اور نابود ھونا ضروری ھوتا، لیکن یہ نتیجہ باطل ھے، چونکہ خداوندعالم فرماتا ھے:
< اٴُکُلُہَا دَائِمٌ>[43]
”اور اس کے پھل دائمی ھوںگے“۔
چنانچہ علامہ حلّی علیہ الرحمہ نے جواب دیتے ھوئے فرمایا: اس کے پھل دائمی ھونے کا مطلب یہ ھے کہ اس قسم کے پھل ھمیشہ رھیں گے، کیونکہ اس طرح کے پھل ھمیشہ پیدا ھوتے رھیں گے، اور جنت کے پھل کھانے سے ختم ھوجاتے ھیں لیکن خداوندعالم دوبارہ ان جیسے پھل پیدا کردیتا ھے، یہاں پر ہلاک ھونے کے معنی ”فائدہ پہنچانے سے رک جانا“ ھیں، بے شک مکلفین کے ہلاک ھونے سے جنت بھی غیر قابل انتفاع ھوجائے گی، پس اس معنی کے لحاظ سے جنت بھی ہلاک ھوجائے گی۔[44]

____________

[1] لسان العرب / ابن منظور ۔برزخ ،۳:۸۔
[2] تفسیر المیزان ۳ طباطبائی ۱:۳۴۹۔
[3] سورہٴ مومنون آیت۱۰۰۔
[4] تفسیرقمی ،ج۱،ص۱۹،بحارالانوار ۳ علامہ مجلسیۺ،ج۶،ص۲۱۸/۱۲۔
”برزخ سے مراد قبر ھے جس میں انسان کو قیامت تک کے لئے ثواب یا عذاب دیا جائے گا“۔
[5] امالی شیخ طوسی ۺ :۲۸/۳۱،بحارالانوار ۶:۲۱۸/۱۳۔
[6] نہج البلاغہ / صبحی الصالح :۳۴۰ /خطبہ نمبر (۲۲۱)۔
[7] اصول کافی /اکلینی۳:۲۳۶/۶۔
[8] علل الشرائع :۳۰۹/۴امالی الصدوق :۴۶۸/۶۲۳،امالی شیخ طوسی ۺ :۴۲۷/۹۵۵۔
[9] ثواب الاعمال ،شیخ صدوق:۱۹۷۔منشورات الرضی ۔قم ،علل الشرائع ،شیخ صدوق:۳۰۹/۳،امالی الصدوق :۶۳۲/۸۴۵۔
[10] اصول کافی /الکلینی۳:۲۳۲/۱و۲۳۶/۷و ۲۳۸/۱۰و ۲۳۹/۱۲،الاعتقاد ات ،شیخ صدوق:۵۸ ،تصحیح الاعتقاد / المفید :۹۹۔۱۰۰،شرح الموقف / الجرجانی ۸:۳۱۷۔۳۲۰۔
[11] امالی شیخ صدوق:۳۷۰/۴۶۴۔
[12] کشف المراد / العلامہ الحلی :۴۵۲،المسائل السرویہ /المفید :۶۲۔مسالة (۵)،الاربعین ۳ ،البہائی: ۲۸۳ و۳۸۷،حق الیقین ۳ عبد اللہ شبر ۲:۶۸۔
[13] سورہٴ غافر آیت ۴۵۔۴۶۔
[14] تفسیر المیزان / علامہ طباطبائی ۱۷:۳۳۵۔
[15] مجمع البیان ۳ الطبرسی ۸:۸۱۸۔
[16] سورہٴ طہ آیت۱۲۴۔
[17] ا ربعین ، شیخ بہائی :۴۸۸۔
[18] شرح ابن ابی الحدید ۶:۶۹۔داراحیاء الکتب العربیہ ۔مصر ،امالی شیخ طوسی ۺ :۲۸/۳۱۔
[19] اصول کافی /الکلینی ۳:۲۳۱۔۲۳۹،۲۴۴۔۲۴۵و۲۵۳/۱۰،المحاسن / البرقی :۱۷۴۔۱۷۸۔ دارالکتب الاسلامیہ ۔قم ،بحارالانوار / مجلسی ۶:۲۰۲باب(۸)،سنن النسائی ۴:۹۷۔۱۰۸۔کتاب الجنائز ۔ دارالکتاب العربی ۔بیروت ،کنزل العمال/ المتقی الہندی ۱۵:۶۳۸و غیرھا۔
[20] سنن الترمذی ۴:۶۴۰/۴۶۰۔کتاب صفة القیامة ۔داراحیاء التراث العربی ۔بیروت ،حیاء علوم الدین/ الغزالی ۵:۳۱۶۔
[21] امالی شیخ طوسی ۺ :۲۸/۳۱۔
[22] سورہٴ مومنون آیت۱۰۰۔
[23] الخصال ،شیخ صدوق:۱۲۰/۱۰۸۔
[24] درالمنثور ۳ ا،سیوطی ،ج۵،ص۲۸۔
[25] ا صول کافی ،شیخ کلینی،ج ۳ص۲۳۴/۳۔
[26] ا صول کافی /الکلینی ۳:۲۳۹/۱۲۔
[27] اربعین ،شیخ بہائی :۴۹۲۔
[28] اوائل المقالات ،شیخ مفید :۷۷،تصحیح الاعتقاد ،شیخ مفید۸۸۔۸۹،المسائل السرویہ،شیخ مفید: ۶۳۔ ۶۴۔ المسالة (۵)،الاربعین ، شیخ بہائی :۵۰۴۔
[29] تہذیب ، شیخ طوسی ۺ،ج ۱،ص۴۶۶/۱۷۲۔
[30] تہذیب ، شیخ طوسی ۺ ۱:۴۶۶/۱۷۱،الکافی /الکلینی ۳:۳۴۵/۶۔
[31] اصول کافی /الکلینی ۳:۲۵۵/۱
[32] اصول کافی /الکلینی ۳:۲۴۴/۳و۳۴۵/۷۔
[33] دائرة معارف القرن العشرین /وجدی ۴:۳۷۵۔
[34] حق الیقین /عبد اللہ شبر ۲:۵۰،الاربعین / البہائی :۵۰۵،بحارالانوار ۶:۲۷۱و۲۷۸۔
[35] اصول کافی /الکلینی ۳:۲۴۴/۴۔
[36] ا صول کافی /الکلینی ۳:۲۴۵/۲۔
[37] الاعتقادات ،شیخ صدوق:۷۹۔
[38] سورہٴ آل عمران آیت۱۳۳۔
[39] سورہٴ بقرة آیت۲۴۔
[40] سورہٴ بقرة آیت۳۵۔
[41] سورہٴ نجم آیت۱۵۔
[42] سورہٴ قصص آیت۸۸۔
[43] سورہٴ رعد آیت۳۵۔
[44] کشف المراد / العلامہ الحلی :۴۵۳،رجوع کریں: شرح المواقف / الجرجانی ۸:۳۰۱۔۳۰۳۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s