فلسفیات کی تاریخ


انسان مشینوں کا بنانے والا تو ہے مگر اسکی جبلت اسے قدرتی ماحول میں رکھتی ہے ، جہاں اسے دوسرے انسان سے ملنا پڑتا ہے اس سے میل جول رکھنا پڑتا ہے اور اسی میل جول کی وجہ سے اسنے ادب و شاعری کو سنبھالے رکھا ہے ، شاید انسان کی پہلی سریلی آواز ہی شاعری ہو گی ، اور پہلا جذبہ ہی ادب کا پہلا فن پارہ ہو گا ، یا اسنے جب پہلی لکیر بنائی ہو گی وہیں سے مصوری کی ابتداء ہوئی ہو گی  ،  عام طور پر دنیا کی سب سے پہلی ادبی تحریر “گلگاش کی داستان“ کو مانا جاتا ہے جو ہزاروں برس پرانی ہے مگر دنیا کے پراننے دیش بھارت کی ویدوں کو بھی قدیم ادب میں شمار کیا جاتا ہے ، کیونکہ پرانے زمانے میں آٹو گراف کا رواج نہیں تھا اسلئے قدیم ادب کے خالق گمنام ہی رہے ہیں ، مگر کچھ لوگوں کو دنیا جانتی ہے جو مفکر بھی تھی اور فلاسفر بھی ، شاعر بھی اور ادیب بھی، چند مشہور لوگوں کا تعارف درج ذیل ہے
ارسطو ؛ یونان کی زمین دیوتاؤں کی زمین تھی ، جس پر زیادہ تر فلسفیوں نے جنم لیا ، ارسطو بھی ان میں سے ایک تھا ، اسے سکندر اعظم کا استاد بھی کہا جاتا ہے ، اور ارسطو خود پلاٹو کا شاگرد تھا اور پلاٹو سقراط  کا شاگرد تھا اور سقراط کے بارے میں آگے بتایا جائے گا ، ارسطو نے ہر طرح کے مضامین پر طبع آزمائی کی ، اسکے چند مشہور اقوال یہ ہیں
– نوکری میں مزے کرنے سے ہی کام اچھا ہوتا ہے  o
–  بے شک قانون لکھ دیا جائے مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ اس پر عمل بھی کیا جائے o
گھڑیوں کے بجائے وقت کو دل کی دھڑکن سے ناپنا چاہیے o
سقراط ؛ سقراط بھی بہت مشہور فلسفی گذرا ہے اسکی مشہوری کی بنیادی وجہ فلسفے سے زیادہ زہر کا وہ پیالہ ہے جسے اسنے پی کر اپنی زندگی ختم کر دی ، سقراط کو ہی جدید فلسفی کا بانی کا جاتا ہے قدیم فلسفیوں کا ریکارڈ میسر نہیں اسلئے سقراط سے ہی فلسفے کا آغاز سمجھا گیا ہے ۔ سقراط اور پلاٹو کی بات چیت سے ہی اسکی فلاسفی کا اندازہ ہو سکتا ہے  ۔ ۔ اسکے چند مشہور ڈائلاگ یہ ہیں
–  موت ہی ساری انسانیت کی نجات ہے o
– علم ہی اچھائی ہے اور لاپرواہی جہالت ہے o
– جتنا کم چاہو گے اتنے ہی خدا کے قریب ہو گے o
بقراط !  فلسفے کے علم کے پیمانے کو بقراطیت سے ناپا جاتا ہے ، جس میں جتنا فلسفہ ہو گا اتنی ہی بقراطیت اس میں پائی جائے گی ، عمومی علم کے لئے یہ معلوم رکھنا ضروری ہے کہ بقراط بھی ایک یونانی فلسفی تھا
یونان کے علاوہ ، ہندوستانی فلسفی بھی مشہور ہیں ، جن میں نمایاں نام ، چندر گپت موریہ کا ہے ، اورچانکیہ کے فلسفے سے دنیا آج تک مستفید ہو رہی ہے ، چین کے فلسفی کنفیوشش کو بھی بہت زیادہ چاہا جاتا ہے جبکہ مسلمان فلسفیوں میں ابن سینا سے لے کر ڈاکٹر محمد اقبال المعروف علامہ اقبالتک بہت سارے نام ہیں  ۔ ۔ جبکہ جدید دنیا میں فرائڈ ، لینن ، مارکس وغیرہ بھی قابل ذکر فلاسفر ہیں
فلسفے کے علاوہ ، لکھنے والوں میں ، تلسی داس اور شکسپیر کو تو ہر کوئی جانتا ہے ، دانتے ، موپاساں ، دستوفیسکی ، برنارڈشا جیسے لکھاری بھی اس دنیا میں رہے ہیں اور کیٹس اور خلیل جبراناور رومی جیسے شاعر اور نغمہ نگار بھی ابھی تک دلوں کو مسخر کئے ہی
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s