اردو زبان دنیا میں بولی جانے والی تیسری بڑی زبان ہے


ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کم وبیش اڑتالیس کتابوں کے مصنف ہیں ، ساری عمر درس و تدریس میں گذری اور پھر  1989امریکہ  آگئے۔ یہاں آکر انہوں نے مزید ایک مضمون میں ایم۔اے کیا اور پھر وسطی ایشیائی مطالعے  کے موضوع پر پی۔ایچ۔ڈی کیا۔ اس سے پیشتر پاکستان میں یہ اردو ،  انگریزی اور سیاست کے مضامین  میں ایم ۔اے کر چکے تھے۔

یہ پاکستان اور پوری دنیا میں اردو زبان کی ترویج  کے لئے ہمیشہ کوشاں اور پُر امید رہے ہیں۔ وائس آف امریکہ کی نمائندہ مہوین اعظم  کو ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں اردو زبان کے مستقبل کے بارے میں بے حد پُر امید ہیں۔ ان کے اس انٹرویو کے چند اقتباسات پیشِ خدمت ہیں۔

میرے خیال میں اردو زبان کا مستقبل بے حد درخشاں ہے۔ اس کے باوجود کہ اردو کو کبھی سرکاری سر پرستی حاصل نہیں رہی مگر اس کے باوجود اس نے ہمیشہ ترقی کی۔ اس نےاس وقت ترقی کی منزلیں طے کیں جب مغلیہ دورِ حکومت کا زوال شروع ہو چکا تھا۔در اصل یہ عوام کی زبان ہے، لشکر سے نکل کر گلیوں سے ہوتی ہوئی عوام تک پہنچی۔ پھر وہاں  سے شاعروں اور ادیبوں نے اٹھا لیا ، اور پھر یہ سب کی ضرورت بن گئی۔

پاکستان میں بھی یہ رابطے کی زبان ہے اور ہندوستان میں بھی۔ ہندوستان میں  اگرچہ اس کو  ہندی کہتے ہیں مگر میرے خیال میں یہ اردو ہی ہے ، جس کا رسم الخط ہندی ہے۔ دنیا کوئی خطّہ ہو ،  اس زبان کے بولنے اور سمجھنے والے آپ کو مل جایئں گے ۔

مجھے اس موقعے پر اپنا ایک چھوٹا سا واقعہ یاد آرہا ہے ۔ چند سال پہلے میں دہلی یونیورسٹی گیا۔ وہاں میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں کوئی اردو پڑھتا ہے ، تو انہوں نے کہا کہ شام کو ایک کلاس ہوتی ہے، اس میں ستّر اسّی طلباء ہوتے ہیں ۔ یہ نوجوان اردو اس لئے پڑھ رہے ہیں کہ اس کے ذریعے وہ اردو شاعری  اور خاص طور سے غزل کو پڑھنا اور سمجھنا چاہتے ہیں۔ اردو زبان کا اپنا ایک حسن اور دلکشی ہے ۔ یہی خوبی سب کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔

جہاں تک تدریس کا تعلق ہے تو میں عرض کروں کہ ستّر اسّی سال پہلے عثمانیہ یونیورسٹی میں سارے مضامین اردو میں پڑھائے جاتے تھے۔ پاکستان میں بھی وفاقی سطح  پر اسلام آباد میں اردو یونی ورسٹی قائم ہے، جس کی ایک شاخ کراچی میں ہے۔  اس کے علاوہ پاکستان میں مقتدہ قومی زبان بھی اس کے فروغ کے لئے کافی کام کر رہا ہے اور اسے جدید  کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے قالب میں ڈھال رہا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s