جنت میں باغ


٭ ایک دفعہ آپ کے عہد خلافت میں سخت قحط پڑا ۔ لوگ فاقہ کشی سے مجبور ہو کر اپنی املاک و جائیداد نہایت ارزاں قیمتوں پر فروخت کرنے لگے ۔ آپ کے اہل خانہ نے کہا کہ فلاح باغ کا مالک اسے نہایت سستی قیمت پر فروخت کر رہا ہے، بہتر ہو کہ آپ ہی اسے خرید لیں ۔ آپ روپیہ لے کر باغ کی طرف چل دیئے، لیکن راستہ میں قحط زدہ لوگوں کی فاقہ کشی و مصیبت و پریشانی دیکھ کر آپ اشکبار ہو گئے اور وہ تمام روپیہ ان لوگوں میں تقیسم کر دیا اور گھر واپس آ گئے، اہل خانہ نے دریافت کیا کہ آپ باغ خرید آئے؟ آپ نے کہا
” ہاں ، میں تمہارے لئے جنت میں باغ خرید آیا ہوں ” .
Advertisements
By sumerasblog Posted in ISLAM

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s