’ہنزہ جھیل نے دریائے کابل کو اُلٹا بہا دیا تھا‘


ہنزہ کے لوگقدرتی آفات کے مارے پسماندہ ہنزائی

گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ کی حادثاتی جھیل سے سیلابی ریلا بہہ نکلنےکو ہی ہے۔ پانی کا اخراج شروع ہوا تو یقین سےکہنا مشکل ہے کہ ’ کس کےگھر جائےگا سیلابِ بلا میرے بعد۔۔۔‘

ڈیڑھ سو سال پہلے بھی تقریباً اسی مقام پرایک پہاڑ ٹوٹ کر دریا ئےہنزہ میں گرا تھا۔ جس سے بننے والی حادثاتی جھیل کا بند جب ٹوٹا تو پانی دریائےسندھ میں اٹک کے پار تک گیا۔ پانی کی اونچی اور تیز لہروں نےدریائے کابل کو اُلٹے رخ پر بہا دیا تھا۔

1858 ء کو گزر ے ایک سو باون برس بیت چکے ہیں۔ اُس وقت ہندوستان پر برطانوی حکومت قائم ہوچکی تھی لیکن ہنزہ آزاد ریاست تھی۔ جس پر والئ ہنزہ ’میر‘ کےلقب سےحکمرانی کیا کرتے تھے۔ ایک دن دریائے ہنزہ میں لگ بھگ اسی مقام پر پہاڑ کا ایک بہت بڑا حصہ ٹوٹ کر دریا میں آگرا، جہاں جنوری2010ء کا سانحہ رونما ہوا ہے۔ پہاڑ کے دریا میں گرنے سے پانی کا بہاؤ رک گیا اور ایک جھیل وجود میں آگئی۔ پہاڑ نےدریا کے زیریں بہاؤ کو تو روک دیا تھا لیکن اوپری رہ گزر سےمسلسل پانی آتا گیا اور جھیل پھیلتی چلی گئی۔ جوں جوں پانی کی مقدار بڑھتی گئی، نشیبی آبادیاں، چراگاہیں اور زمینی علاقے زیرِ آب آتےگئے۔ ہنزہ کے ستر سالہ بزرگ مرزا جان بیگ کہتے ہیں ‘ہمارے بڑے بتاتے تھے کہ ہنزہ نگر میں اس سے پہلے ایسا سیلاب نہیں آیا تھا۔ ہزاروں لوگ، مال مویشی ڈوب گئے تھے۔‘

ڈوبنے والے علاقوں میں گلمت کا تقریباً نصف حصہ بھی شامل تھا۔ گلمت قصبے کے نواح میں نیلگوں مائل پانی کی ایک بہت بڑی جھیل واقع ہے، جس کا رقبہ کئی کلومیٹر پر مشتمل بیان کیا جاتا ہے۔ گزشتہ برس اس جھیل کےقریب واقع چھوٹے سےگیسٹ ہاؤس کے باہر دھوپ تاپتے ہوئے مقامی باشندے ولی کریم نے کہا تھا کہ ’جناب یہ جھیل اس وقت بنی جب دریائے ہنزہ جھیل میں بدلا تھا۔ دریا کی جھیل تو غائب ہوگئی مگر اس وقت کے بدترین سیلاب کی یہ نشانی باقی ہے۔ جب ہم اس جھیل کو دیکھتےہیں تو سوچتے ہیں کہ اس کی تہہ میں ہمارے کتنے ہی بزرگوں کی ہڈیاں پڑی ہوئی ہوں گی۔ اسی لیے نہ تو میں نےاس جھیل سےکبھی مچھلی پکڑی اور نہ ہی کشتی میں بیٹھا۔ یہ جھیل تو جناب ہمارے بزرگوں کا قبرستان ہی۔۔۔آبی قبرستان۔‘

گلمت وادیِ گوجال کا صدر مقام ہے۔ آج یہ ضلع ہنزہ کی تحصیل ہے۔ اُس زمانےمیں یہ ریاستِ ہنزہ نگر کا سرمائی صدر مقام تھا۔

گُلمِت کےعلاوہ غل کُن، سسونی، جسے آج ہم حسینی کےنام سےجانتے ہیں، اور پھسو کےعلاقے بھی زیرِ آب آگئے تھے۔ البتہ وادی کےدوسرے علاقے ششکٹ اور آئین آباد، جو آج حادثاتی جھیل کی لپیٹ میں آئے ہیں، اس وقت تک آباد نہیں ہوئےتھے۔ ڈیڑھ صدی قبل ان آبادیوں کی سرزمین غلّہ بانوں کی قدرتی چراگاہیں تھیں۔ ڈیڑھ سو سال بعد ایک بار پھسو تک ہنزہ کی حادٰٰثاتی جھیل سے پانی کا رساؤ شروع ہو چکا ہے۔ کہتے ہیں گیا وقت لوٹ کر نہیں آتا۔ جنہیں اس کہاوت پر یقین ہے وہ ہنزہ میں جا کر دیکھ لیں۔ حادثاتی جھیل کی کوکھ سے گیا وقت لوٹ آیا ہے۔

ماہرینِ ارضیاتی تاریخ و جغرافیہ ڈیڑھ صدی پہلے کی اس حادثاتی جھیل کی لمبائی چالیس کلومیٹر سے زائد بتاتے ہیں۔ ماہرین کےمطابق پانی کے دباؤ کے سبب جب جھیل کی چوڑائی بڑھنے لگی تو وہ دریائے شمشال اور بتورہ گلیشیر کو روندتے ہوئے خیبر کےعلاقےسر مشک تک جا پہنچی تھی۔ یہ جھیل پھیلتے پھیلتے دور دراز علاقےدلگرام تک بھی جا پہنچی۔ ہنزہ کےمقامی بزرگ داستان سناتے ہیں کہ دلگرام میں ایک قدیم روایتی طرز تعمیر کا شاہکار مکان اب بھی موجود اور آباد ہے۔ کہتے ہیں کہ جب اس گھر میں پانی داخل ہوا تو اس کا پھیلاؤ ٹھہرگیا اور پھر پانی واپس پلٹنے لگا۔ اس مکان کا نام ‘شوگیردی کُھن‘ ہے۔ مقامی طور پر بولی جانےوالی وخی زبان میں شوگیردی کا معنیٰ ’طالب علم‘ اور ’کُھن‘ گھر کو کہا جاتا ہے۔

گلگت بلتستان کے دیو مالائی خطے میں اس پانی کے پلٹنے سےمنسوب کئی ماورائی داستانیں سنائی جاتی ہیں لیکن حقیقت یہ تھی کہ بہت نیچےجھیل کا بند ٹوٹ چکا تھا اور پانی اپنی وادی کو تاراج کرنے کے بعد دوسری بستیوں پر یلغار کرنےکو پلٹا تھا۔ جھیل ٹوٹی تو ہنزہ سےآگے، اٹک کےمقام تک اس کی باز گشت سنی گئی۔

حادثاتی جھیل کو جنم دینے والا بند جب پانی کی قوت کے آگے کمزور ہوا تو ٹوٹ گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب دریائےسندھ اور اس کےتمام معاون دریا ڈیموں، بیراج اور بندوں کی نکیل سے آزاد بہا کرتےتھے۔

قدرتی آفات کے مارے پسماندہ ہنزائی

معروف ماہرِ تعمیرات عارف حسن کےمطابق ’انیسویں صدی کےدوسرے نصف کےاس دور میں، سیلابی موسم میں دریائےسندھ کےخود اپنے پانی میں اتنی شدت ہوتی تھی کہ جب وہ بحیرۂ عرب میں گرتا تھا تو میلوں دور دور تک سمندر کو پیچھےدھکیل کر نیلگوں پانی کو مٹیالا کردیا کرتا تھا۔‘

دریائے سندھ میں شامل ہونے کے بعد اٹک کےمقام پر پہنچ کرجب ہنزہ کا سیلاب نڈھال ہوا، تب بھی اس کےتھپیڑوں میں اتنی شدت باقی تھی جو لہروں کو دس سے بیس میٹر تک اونچا اُچھال رہی تھی۔ ارضیاتی تاریخ کے ماہرین بیان کرتے ہیں کہ لہروں میں کئی سو کلومیٹر کا سفر طےکرنے کے باوجود بھی اتنی توانائی تھی کہ اس نےمیلوں دور تک دریائے کابل کے پانی کو اُلٹا دیا۔ کہتےہیں اُس وقت دریائے کابل کا پانی نوشہرہ سے آگے تک اُلٹے رخ بہتا چلاگیا تھا۔

مدتوں بعد کینیڈا سےتعلق رکھنے والے جامعہ واٹر لو میں جغرافیہ کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر کینتھ ہیوٹ نےدریائے ہنزہ کے اس حادثےکو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا تھا۔اپنی تحقیق میں انہوں نےلکھا ہے:

’1858 ء میں جھیل سے یک دم خارج ہونے والے پانی کی مقدار اور بہاؤ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ دریائے سندھ میں شامل ہونے کے بعد، کئی سو کلومیٹر کا سفر طےکر کے جب یہ اٹک کےمیدانی علاقےمیں پہنچا تو اس نے یہاں پر دریائےسندھ میں گرنے والےدریائے کابل کے بہاؤ کو بھی اُلٹا دیا۔ دریائے کابل میں داخل ہونے والا سیلابی ریلا بالائی سمت میں پچاس کلومیٹر اوپر تک بہتا رہا، تب کہیں جا کر اس کازور ٹوٹا۔ 1858ء کےاس سانحے کے بعد جب ماہرین نےتجزیاتی رپورٹیں مرتب کیں تو انہوں نےلکھا کہ سیلابی ریلےکی لہریں دس سے بیس میٹر تک اونچی تھیں۔ جس سےمیدانی علاقےمیں دریائےسندھ کےکنارے کئی سو فٹ تک کٹاؤ کا شکار ہوئےاور دریا کا پاٹ مزید چوڑا ہوگیا۔‘

خاموشی سے بہنے والے پُرسکون دریائے ہنزہ نےاُس وقت کےسونامی کو جنم دیا تھا۔ اب یہ کیا رنگ دکھائےگا؟ ماہرین اور حکومتی اداروں کا دعویٰ ہے کہ نقصانات کو قابو میں رکھنےکی کوشش کی جائےگی۔ دعوے اپنی جگہ لیکن پرانی مثل ہے کہ بہتا پانی اپنا راستہ خود بناتا ہےاور منہ زور موجوں کے آگے بند نہیں باندھا جاسکتا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s