!گفتند جہان ما آیا بہ تو می سازد؟ | گفتم کہ نمی سازد، گفتند کہ برہم زن


گفتند جہان ما آیا بہ تو می سازد؟
گفتم کہ نمی سازد، گفتند کہ برہم زن

اس شعر میں اقبال الله سے اپنا ایک مکالمہ بیان کر رہے ہیں – اللہ نے مجھ سے کہا اے اقبال! میں نے تمہیں اپنی جس دنیا میں بھیجا ہے آیا وہ تمہارے ساتھ سازگار ہے؟ کیا تمہیں پسند ہے؟ میں نے کہا نہیں، مجھے نہیں پسند! یہاں ظلم ہے، یہاں غریب پس رہا ہے – یہاں مزدور کے رگوں کی سرخی سے شراب کشید کر سرمایا دار پیتا ہے

خواجہ از خون رگ مزدور سازد لعل ناب
از جفاے دہ خدایا کشت دہکاناں خراب

انقلاب! انقلاب! اے انقلاب

سرمایا دار نے مزدور کی رگوں میں دوڑنے والے خون سے شراب کشید کی ہے ہے جاگیرداروں کے ظلم و ستم سے دہکاں کی کھیتی خراب ہے- اس کے بچے بھوکے ہیں اور اس کی کھیتی سے ان کی غذا کا اہتمام نہیں ہورہا- یہ اقبال کی بڑی عظیم نظام ہے جس میں انہوں نے انقلاب کا نعرہ لگایا ہے-

اقبال کہتے ہیں کہ مجھے تیرا یہ جہان پسند نہیں، یہ میرے لئے سازگار نہیں تو الله تعالیٰ نے فرمایا “برہم زن!” یعنی اسے توڑ پھوڑ دو، درہم برہم کر دو! یہاں انقلاب برپا کر دو

اب اس انقلاب کا طریقہ کیا ہو؟ اسے اقبال نے دو مصروں میں بیان کر دیا ہے

با نشہ درویشی در ساز و دمادم زن
چوں پختہ شوی خود را بر سلطنت جم زن

پہلے درویشی اختیار کرو اپنا کام کرتے رہو- لوگوں کو دعوت دو، تبلیغ میں لگے رہو- کوئی پاگل کہے یا کوئی گالی دے تو اسے جواب میں دعا دو – یہ درویشی ہے – گویا بدھ مت کہ بھکشو بنے ہوۓ ہیں- مارا جاتا ہے تو جواب نہیں دے رہے ہیں – اور جب تیار ہو جاؤ تو اب اپنے آپ کو سلطنت جم کے ساتھ ٹکرا دو- اس ٹکراؤ کے بغیر انقلاب نہیں آتا، وعظ سے انقلاب نہیں آتا، قربانی دینی پڑتی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s