فاتر العقل بڑے انسان


فاتر العقل بڑے انسان

آج کا انسان موسیٰ کے روپ میں فرعونیت کی بد ترین مثال بن چکا ہے۔ لوگ اللہ کو مانتے ہیں مگر اللہ پر یقین نہیں رکھتے۔دُنیا بھر کے متعلق اپنی اعلیٰ ترین فہم و فراست کی حاکمیت بیان کرتے ہوئے تبصرے فرماتے ہیںمگر اپنے طرز عمل سے قوم کی تربیت فرما نہیں رہے۔ دعو یٰ تو بڑی بلند بانگ سے کرتے ہیں، واہ ! خود تو دعوی دار کی اہلیت نہیں رکھتے۔

آج انسان کا المیہ یہ ہے کہ وُہ خود کو بڑا سمجھنے لگ گیا ہے۔ خود ساختگی ایسے بنے بنائے بڑے انسانوں کوخود ہی کھوکھلا کرتی جا رہی ہے،بے ساختگی نے عام سادہ افراد کو بڑا انسان بنا ڈالا۔ اَن پڑھ اَڑیل اور اپنے زعم میں مبتلاعلم یافتہ انسان میں کوئی فرق نہیں۔ بس ایک ظاہری فرق یہی ہے۔ اڑیل نہ تو کسی کی بات سنتا ہے اور نہ سمجھ سکتا ہے، زعم والا کسی کو بات کرنے ہی نہیں دیتا۔ اپنے دماغ کو برہمن کا دماغ سمجھتے ہیں۔ اَن پڑھ جاہل کو کم ازکم ایک فوقیت ضرور ہے ،وُہ کسی کو جاہل نہیںکہتا، زعم والے دوسروں کو تو جاہل کے الفاظ نوازتے ہیں۔ مگر وُہ خود بھی کسی جہلا کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔

تکبر میں مارا گیا طعنٰہ؛ وُہ انسان زندگی بھر بھگت بھی سکتا ہے، یہی حال زعماءکا ہے۔افسوس! وُہ اپنی جہالت آپ نہیں پہچانتے۔ آج انسان کا معیار اعمال نہیں، دولت ہے، مرتبہ ہے، عہدہ ہےواہ! پوری عمر جس پر اتراتے رہے ، آخر ریٹارڈ کا لفظ عہدہ کے دب دبا کو بے رنگ کر گیا۔یونہی وُہ دولت کیا جو آپ کو تنہا کر چھوڑے، وُہ تکبر ہی کیا جس سے آپ کے کان مرضی کے خلاف سننے سے محروم ہو جائیں۔دُنیا آج اپنے اُصول وضع کرتی ہیں۔حسنِ ظن تو ©’حسنِ © زن‘و’حسن زر‘ سے بدل گیا۔ حسن کے معیار طے کرنے والے خود حسن کے بنیادی اُصول سے محروم ہے۔مخبوط الحواس بڑا انسان معاملات کو balanceکرنے سے محروم ہے۔
شان اور شوکت کبھی نہیں رہے، جاہ و جلال کہیں باقی قائم نہیں رہی، علم اور عمل کسی کی میراث نہیں رہے اگر ایسا واقعتاً ہوتا تو سلطان نورالدّین زنگیؒ، سلطان محمود غزنویؒ اور سلطان شہاب الدّین غوریؒ نے تو حاصل کی گئی ؛ میراث اعمال صالح سے قائم رکھی مگر اُنکی آل اُولاد تک قائم نہ رہ سکی۔ عمل اپنانا پڑتا ،علم و
عمل وراثت نہیں۔

’تاﺅ تہہ چنگ‘ میں ایک مقولہ ہے: ” عزت اور ذلت خوف کی طرح دکھا ئی دیتے ہیں۔“

اِن بڑے لوگوں کو یہ سوچنا چاہیے، وُہ بڑے چھوٹے لوگوں کی وجہ سے ہے۔ جس روزاِن چھوٹے لوگوں نے اُنکو بڑا ماننے سے انکار کر دیا، اُس روز کوئی بڑا ؛بڑا نہ رہے گا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی گمنام نامور ہو جائے تو نامور گمنام ہو جاتے ہیں، حقیقی رہنما سامنے آجائے تو باقی ر ہنما راہنما نہیں رہتے۔
آج جو اپنے دماغ کو بہترین سمجھتے ہیں، کل ہوسکتا ہے یہ عقل کل نہ رہے۔ایک روزہم تمام کے تصورات نے بھی expireہونا ہے، اگر ایسا نہ ہوتو ارتقاءکا عمل مفقود ہوجائے، ایسے ہوجائے تو ترقی کا زینہ رُک جاتا ہے۔تبھی ہر دور میں مفکرین کی ضرور ت رہتی ہے۔

ایسے عارضی بڑے لوگوں کے دو روپ بھی ہیں،ظاہر تو وُہ خودکو آپکا ہمدردکرتے ہیں، مگر اُن جیسا سفاک کوئی نہیں، ایسے لوگ دُنیا کے نزدیک خود کو دُنیا کا ہمنوا بناتے ہیں، یہی افراد اپنے ماتحتوں کو دنیا کا دوش بنا دیتے ہیں۔ ایسے لوگ کوتلیہ چانکیہ کی سوچ سے مختلف نہیں۔ برسوں قبل بچپن میں ارتھ شاستر کا اِک دیباچہ پڑھا تھا۔کوتلیہ اک گھاس کے میدان سے گزر رہا تھا کہ اُس میدان کی گھاس(کُوسا ) نے اُسکے پاﺅں زخمی کرڈالے، اُس نے گھاس سے بدلہ کچھ یوں لیا، پانی کے ایک برتن میں شکر گھول کر گھاس کی زمین پر ڈال دی، کسی(چندر گپتا موریا، موریا خاندان کا بانی) نے اُس سے پوچھا یہ کیسا انتقام ہے؟ تو اُس کا کہنا تھا؛ میں نے مٹھاس گھاس کی جڑوں تک پہنچا ڈالی ہے ، جس کو چیونٹیاں خود ہی جڑوں سے ختم کر ڈالے گی۔اسی گفتگو کے دوران ہی چیونٹیوں کا لشکرآکر ایسا ہی کرتا ہے۔ چندر اِسکی انتقامی تدبیر دیکھ کر سر جھکالیتا ہے (۱)۔آج ایسے بڑے انسانوں کا کردار اس سے مختلف نہیں۔ آپکی سیاست، ملازمت، خدمت، محنت اور محبت میںآئے روز ایسے کوتلیہ چانکیہ بھی موجود ہے۔ جو خود کو بڑا انسان کہلاتے ہیں۔ جبکہ بڑا انسان اپنے عمل اور کردار سے ہوتا ہے۔

ایسے بڑے انسان کسی کو اپنے سے بڑا دیکھ نہیں سکتے۔ یہ کسی کو اپنے سایہ میں پروان چڑھنے نہیں دیتے۔ خود تو درخت بننے کے گھمنڈ میں مبتلا تو ہوتے ہیں مگر کسی کو اپنی چھاﺅں میں بڑھنے نہیں دیتے۔بلکہ آکاس بیل کی طرح صلاحیتوں کو کھا جاتے ہیں۔ ارتقاءکا عمل مفقود و مفجور کر چھوڑتے ہیں۔

کہتے ہیں، بڑے انسان کا ظرف بھی بڑا ہوتاہے، انداز مثبت ہوتا ہے۔مگر کیسے؟ دُعا دینا باطن کی خوبصورتی ہے، تو دُعا لینا باطن کی مشقت ۔اُولیاءکرام کی سوانح حیات کو زیر مطالعہ لائیے تو ایسے عظیم انسان دُعا دیا کرتے ہیں بددُعا نہیں،منصور حسین بن حلاجؒ جیسے بزرگ کے بارے میں یہ روایت ہے کہ اُن کے جو حامی تھے اُنکے حق میں بھی اُنھوں نے دُعا دی، جو اُنکے مخالفین تھے اُنکے حق میں دوہرے اجر کی دعافرمائی۔ آج بڑے لوگ بھول جاتے ہیں ، اللہ ہر فرعون کے لیئے ایک موسیٰ پیدا کرتا ہے، حیرت انگیز بات یہ ہے بیشمار فرعون خود کو موسیٰ گردانتے ہیں۔ یہ تو زمانے نے طے کرنا ہے موسیٰ کون تھا اور فرعون کون؟ یہ آنے والے مﺅرخ نے طے کرنا ہے ہم نے نہیں۔ ہماری رائے غیر جانبدار نہیں ہوگی بلکہ جانبدارانہ تصور ہوگی۔

(فرخ نور)
حوالہ جات:
(۱)۔وی ۔کے۔ سبرانیم کی کتاب ©"Maxim's of Chankia" کی روایت کے مطابق چندر گپتا موریا اور کوتلیہ چانکیہ کی یہ پہلی ملاقات تھی۔
کوتلیہ چانکیہ کی پیدائش ضلع چکوال کے اہم قصبہ بھون میں ہوئی۔ تقریباً ۶۲۲ قبل مسیح میں مذکورہ بالا پہلی ملاقات چندر گپتا موریا اورکوتلیہ کہ مابین ہوئی۔کوتلیہ چندر گپتا موریا، بندوسارا اوروردھا منا اَشوک کے دور تک وزیراعظم رہا۔ اَشوک اعظم کے عہد میں اس کی وفات ہوئی۔اس کی مشہور کتاب اَرتھ شاسترہندو مذہب کی سیاست کے رُخ متعین کرتی ہے۔ آج بھی ہندوستان کی سیاست اس کتاب سے متاثر نظر آتی ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s