اب تک وہی خواب ہیں وہی میں


اب تک وہی خواب ہیں وہی میں
وہی میرے گلاب ہیں وہی میں

آنکھوں میں وہی ستارہ آنکھیں
وہی دل میں گلاب ہیں وہی میں

یہ جسم کہ جاں کی تشنگی ہے
وہی تازہ سراب ہیں وہی میں

زندہ ہوں ابھی تو مات کیسی
وہی جاں کے عذاب ہیں وہی میں

کہتی ہے زباں خموشیوں کی
وہی درد کے باب ہیں وہی میں

پڑھتے ہوئے جن کو عمر گزری
وہی چہرے کتاب ہیں وہی میں

لکھتے ہوئے جن کو جان جائے
وہی حرف نصاب ہیں وہی میں

وہی رنجشیں اپنے دوستوں سے
وہی دل کے حساب ہیں وہی میں

آتے ہیں مگر نہیں برستے
وہی تشنہ سحاب ہیں وہی میں

دنیا کے سوال اور دنیا
وہی میرے جواب ہیں وہی میں

۔۔۔ عبید اللہ علیم ۔۔۔ ١٩٧٣ ۔۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s