ہم لوگ نہ تھے ایسے


ہم لوگ نہ تھے ایسے۔
جیسے ہیں نظر آتے۔
اے وقت گواہی دے
یہ شہر نہ تھا ایسا
یہ روگ نہ تھے ایسے۔

دیوار نہ تھے رستے۔ زنداں نہ تھی بستی۔
آزار نہ تھے رشتے، خلجان نہ تھی ہستی۔
یوں موت نہ تھی سستی!!

یہ آج جو صورت ہے،حالات نہ تھے ایسے۔
یوں غیر نہ تھے موسم، دن رات نہ تھے ایسے

تفریق نہ تھی ایسی۔سنجوگ نہ تھے ایسے۔
اے وقت گواہی دے۔
ہم لوگ نہ تھے ایسے۔

۔۔۔۔۔امجد اسلام امجد

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s