مت چاہو ايسے لوگوں کو


مت چاہو ايسے لوگوں کو
جنہيں رشتوں کا احساس نہ ہو
جنہيں جزبوں کا کوئ پاس نہ ہو
اس حرس و حوس کی دنيا ميں
جنہيں پيار مہبت راس نہ ہو
زنگار ہو جن کے زہنوں پر
جو بات بھی اپنی کہہ نہ سکيں
ہو جن کو فکر سود و زياں
جو سچ کی اذيت سہہ نہ سکيں
مت سوچو ايسے لوگوں کو
مت پوجو ايسے لوگوں کو
کيا حاصل پيار عقديت سے
جب ان کو ميرا اعتبار نہيں
اس شخص کی خواہش کيسے ہو
جس شخص کے کچھ اطوار نہيں
کيا اس سے مل کر راحت ہو
جس کا کہ کوئ کردار نہيں
کل جن کو ديکھ کر جيتا تھا ،
مجھے آج ان سے بھی پيار نہيں
اب ميری سلگتی آنکھوں ميں اک غم کا بھی اظہار نہيں
اک کھو کر سو مل جائيں گے ، ميں جينے سے بيزار نہيں
سچ بول کر افسوس ہوا ، ميں جھکنے پر تيار نہيں
گر اس کو تلخ حقاءق سے اخماز ہے اخماز رہے
ميں حرف انا سے واقف ہوں ، ناراض ہے وہ ناراض رہے
مت ديکھو ايسے لوگوں کو
مت چاہو ايسے لوگوں کو
مت سوچو ايسے لوگوں کو
مت پوجو ايسے لوگوں کو

Advertisements

One comment on “مت چاہو ايسے لوگوں کو

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s