صلیبی جنگیں


اسباب

ء1095ء سے 1291ء تک ارض فلسطین بالخصوص بیت المقدس پر عیسائی قبضہ بحال کرنے کے لیے یورپ کے عیسائیوں نے کئی جنگیں لڑیں جنہیں تاریخ میں “صلیبی جنگوں“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ جنگیں فلسطین اور شام کی حدود میں صلیب کے نام پر لڑی گئیں۔ صلیبی جنگوں کا یہ سلسلہ طویل عرصہ تک جاری رہا اور اس دوران نو بڑی جنگیں لڑی گئیں جس میں لاکھوں انسان قتل ہوئے۔ فلسطین اور بیت المقدس کا شہر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ھی فتح ہوچکا تھا۔ یہ سرزمین مسلمانوں کے قبضہ میں رھی اور عیسائیوں نے زمانہ دراز تک اس قبضہ کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ گیارھویں صدی کے آخر میں سلجوقیوں کے زوال کے بعد دفعتاً ان کے دلوں میں بیت المقدس کی فتح کا خیال پیدا ہوا۔ ان جنگوں میں تنگ نظری ،تعصب ، بدعہدی ، بداخلاقی اور سفاکی کا جو مظاہرہ اھل یورپ نے کیا وہ ان کی پیشانی پر شرمناک داغ ہے۔۔

صلیبی جنگوں کے اصل اسباب مذھبی تھے مگر اسے بعض سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔ یہ مذھبی اسباب کچھ معاشرتی پس منظر بھی رکھتے ہیں۔ پیٹر راھب جس نے اس جنگ کے لیے ابھارا، اس کے تعلقات کچھ مالدار یہودیوں سے بھی تھے۔ پیٹر راھب کے علاوہ بعض بادشاہوں کا خیال تھا کہ اسلامی علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد ان کے معاشی حالات سدھر سکتے ہیں۔ غرض ان جنگوں کا کوئی ایک سبب نہیں تھامگر مذھبی پس منظر سب سے اھم ہے۔۔

مذھبی اسباب

فلسطین حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش تھا۔ اس لیے عیسائیوں کے لیے مقدس اور متبرک مقام ہونے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اور ان کے لیے زیارت گاہ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے فلسطین اسلامی سلطنت کا حصہ بن چکا تھا۔ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول تھا اور بڑے بڑے انبیا کے مقبرے یہاں ھیں اس لیے بیت المقدس کا شہر اور زمین مسلمانوں کے لیے عیسائیوں سے کہیں زیادہ متبرک اور مقدس تھی۔ مسلمانوں نے متبرک مقامات کی ہمیشہ حفاظت کی ھے۔ چنانچہ غیر مسلم زائرین جب اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے یہاں آتے تو مسلم حکومتیں انہیں ھر طرح کی سہولتیں بہم پہنچاتیں۔ ان کے گرجے اور خانقاہیں ھر قسم کی پابندیوں سے آزاد تھے۔ حکومت نے انہیں اعلیٰ مناصب پر فائز کر رکھا تھا لیکن خلافت اسلامیہ کے زوال اور انتشار کے دور میں ان زائرین نے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں کیں ان کی تنگ نظری اور تعصب کی بدولت مسلمانوں اور عیسائیوں میں چھوٹی چھوٹی جھڑپیں ہونا شروع ہوگئیں۔ یہ جاھل اور متعصب زائر جب واپس جاتے تو مسلمانوں کی زیادتیوں کے فرضی افسانے گھڑ کر اھل یورپ کے جذبات کو بھڑکاتے ۔ یورپ کے عیسائی پہلے ھی مسلمانوں کے خلاف تھے اب ان حالات میں ان کے اندر نفرت و حقارت کے جذبات نے مزید تقویت پائی۔ چنانچہ دسویں صدی عیسوی کے دوران یورپ کی عیسائی سلطنتوں اٹلی، فرانس ، جرمنی اور انگلستان وغیرہ نے سر زمین فلسطین کی دوبارہ تسخیر کا منصوبہ بنایا تاکہ اسے ایک بار پھر عیسائی مملکت میں تبدیل کیا جاسکے۔۔

اس دوران سارے یورپ میں ایک افواہ خواص و عام میں بے حد مقبول ہو گئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ نزول فرما کر عیسائیوں کے تمام مصائب کا خاتمہ کریں گے لیکن ان کا نزول اسی وقت ہوگا جب یروشلم (بیت المقدس) کا مقدس شہر مسلمانوں کے قبضہ سے آزاد کرالیا جائے۔ اس افواہ نے عیسائیوں کے مذھبی جوش میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔

عیسائی مذھبی رہنماؤں نے یہ چیز عام کر دی تھی کہ اگر کوئی چور ، بدمعاش اور بدکردار بھی بیت المقدس کی زیارت کر آئے گا تو وہ جنت کا مستحق ہوگا۔ لہٰذا اس عقیدہ کی بنا پر بڑے بڑے بدکردار لوگ بھی زائروں کی صورت میں بیت المقدس آنا شروع ہوگئے۔ شہر میں داخل ہوتے وقت وہ ناچتے اور باجے بجاتے اور شوروغل کرتے ہوئے اپنے برتری کا اظہار کرتے اور کھلے بندوں شراب نوشی کے مرتکب ہوتے ۔ چنانچہ زائرین کی ان نازیبا حرکات اور ان کی سیاہ کاریوں ، بدنظمی اور امن سوز سرگرمیوں کی وجہ سے ان پر کچھ اخلاقی پابندیاں لگا دی گئیں۔ لیکن ان زائرین نے واپس جاکر مسلمانوں کی زیادتیوں کے من گھڑت افسانے لوگوں کو سنانے شروع کر دیے تاکہ ان کے مذھبی جذبات کو ابھارا جا سکے۔

عیسائی اس وقت دو حصوں میں منقسم ہو چکے تھے۔ ایک حصے کا تعلق یورپ کے مغربی کلیسا سے تھا جس کا مرکز روم تھا۔ دوسرا مشرقی یا یونانی کلیسا جس کا مرکز قسطنطنیہ تھا۔ دونوں چرچ کے ماننے والے ایک دوسرے کے مخالف تھے۔ روم کے پوپ کی ایک عرصہ یہ خواھش تھی کہ مشرقی بازنطینی کلیسا کی سربراھی بھی اگر اسے حاصل ھوجائے اور اس طرح وہ ساری عیسائی دنیا کا روحانی پیشوا بن جائے گا۔ اسلام دشمنی کے علاوہ اپنے عزائم کو پورا کرنے کے لیے اس نے اعلان کردیا کہ ساری دنیا کے عیسائی بیت المقدس کو مسلمانوں سے آزاد کرانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ جو اس جنگ میں مارا جائے گا وہ جنت کا حقدار ہوگا۔ اس کے سب گناہ دھل جائیں گے۔ اور فتح کے بعد جو مال و زر حاصل ہوگا وہ ان میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ نتیجہً عیسائی دنیا مسلمانوں کے خلاف دیوانہ وار اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔

پوپ اربن ثانی مغربی یورپ کے کلیسا کا سربراہ تھا۔ وہ بڑا جاہ پرست اور جنگ باز مذھبی رہنما تھا۔ یورپ کے حکمرانوں میں اس کا وقار کم ھو چکا تھا۔ اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے اس نے عیسائیوں میں مذہبی جنگی جنون پھیلانا شروع کر دیا۔ جنگ کے نام پر عیسائیوں کی بالادستی اور مسلمانوں کی شکست و ریخت کا قائل تھا۔ اس نے چرچ کی گرفت کو مضبوط کرنے کے لیے مناسب سمجھا کہ عیسائی دنیا کو مذھبی جنگوں کی آگ میں جھونک دیا جائے۔ اس طرح اس نے صلیبی جنگوں کی راہ ھموار کی۔۔

سیاسی اسباب

عساکر اسلام نے اپنے عروج کے زمانے میں بڑی بڑی سلطنتیں زیر و زبر کر دی تھیں۔ افریقہ ، ایشیا ، جزائر بحیرہ روم (صقلیہ و قبرص) وغیرہ اور اسپین و پرتگال سب ان کے زیر نگیں تھیں۔ اب گیارہویں صدی عیسوی میں اسلامی دنیا کی حالت بہت بدل چکی تھی مصر میں عبیدی سلطنت روبہ زوال تھی۔ سسلی میں مسلمانوں کا اقتدار کمزور ہوچکا تھا۔ جس کی وجہ سے بحیرہ روم کے عیسائی زور پکڑ چکے تھے سپین میں اگر یوسف بن تاشفین میدان عمل میں نہ آتے تو اسپین سے مسلمانوں کا اخراج بہت پہلے مکمل ہوچکا ہوتا۔ صلیبی جنگیں مسلمانوں کے اس سیاسی غلبے کے خلاف یورپ کے عیسائیوں کا اجتماعی ردعمل تھا۔۔

سلاجقہ کا دور مسلمانوں کے عروج کا آخری شاندار باب ھے ۔ انہوں نے ایشیائے کوچک کے تمام علاقے فتح کرکے قسطنطنیہ کی فتح کے لیے راھیں کھول دی تھیں۔ اور اگر ملک شاہ سلجوقی کے بعد کوئی نامور حکمران تخت نشین ہوتا تو شاید قسطنطنیہ کی تسخیر شرمندہ تعبیر ہوجاتی۔ قسطنطنیہ عیسائی یورپ پر اسلامی یلغار کو روکنے کے لیے آخری حصار کا کام دے رہا تھا۔ لہٰذا سلجوقیوں کی قوت سے خوفزدہ ھو کر بازنطینی حکمران مائیکل ڈوکس نے 1094عیسوی میں مغربی ملکوں کو ترکوں کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب کی طرف متوجہ کیا اور ان سے امداد طلب کی۔ چنانچہ ساری عیسائی دنیا نے اس کی استدعا کو فوراً قبول کر لیا اور میدان عمل میں نکل آئے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا ایک سیلاب سرزمین اسلام کی طرف امڈ آیا۔

اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر مشرق کے بازنطینی کلیسا اور مغربی کلیسا کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا اور دونوں نے متحد ہو کر مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگوں میں حصہ لیا۔

عالم اسلام میں باہمی اتحاد کا فقدان تھا ۔ بغداد کی عباسی اور مصر کی فاطمی خلافت ، سلجوقی اور اسپین کے حکمران انحطاط کا شکار تھے ان کے درمیان باھمی اشتراک کی کوئی صورت موجود نہ تھی۔ لہٰذا صلیبیوں کے لیے اس سے نادر موقع اور کون سا ھوسکتا تھا۔۔

معاشرتی اسباب

یورپ معاشرتی لحاظ سے مسلمانوں کے مقابلہ میں پسماندہ تھا۔ سماجی اور معاشرتی نقطہ نظر سے مساوات ، اخوت اور عدل و انصاف کے جن اصولوں کو مسلمانوں نے اپنے ہاں رواج دیا تھا یورپ کا عیسائی معاشرہ ابھی تک اس سے محروم تھا ۔ غریب اور نادار لوگ طرح طرح کی پابندیوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ یورپ کا نظام جاگیرداری پر مبنی تھا۔ جاگیر دار غریب عوام کا خون چوس رھے تھے اور ان کے حقوق انہیں میسر نہیں تھے۔ صاحب اقتدار اور مذھبی گروہ نے ان لوگوں کی منافرت کا رخ اپنی بجائے مسلمانوں کی طرف موڑ دیا۔۔۔

اخلاقی انحطاط سے بھی عوام کی حالت اچھی نہ تھی۔ یورپ کے مذھبی اور سیاسی رہنماؤں نے عوام کی توجہ اندرونی مسائل اور ان کی زبوں حالی سے ہٹانے کے لیے بیرونی مسائل کی طرف موڑ دی۔ ان لڑائیوں میں رضاکاروں کی معتدبہ تعداد ان لوگوں پر مشتمل تھی جو اپنے سفلی جذبات کی تسکین کے لیے یونانی حسن کی لطافتوں کے لمس کی خاطر اس سفر میں شامل ہوئے تھے۔ مشہور فرانسیسی مورخ لیبان کا بیان اس دور کے معاشرہ کی صحیح ترین عکاسی کرتا ہے۔

’’ جنت ملنے کے علاوہ ھر شخص کو اس میں حصول مال کا ذریعہ بھی نظر آتا تھا۔ کاشتکار جو زمیندار کے غلام تھے وہ افراد خاندان جو قانون کی رو سے وراثت سے محروم تھے وہ امرا جنہیں جائیداد کا کم حصہ ملا تھا اور جن کی خواھش تھی کہ دولت کمائیں وہ راھب جو خانقاھی زندگی کی سختیوں سے تنگ تھے۔ غرض کل مفلوک الحال اور محروم الوارث اشخاص جن کی بہت بڑی تعداد تھی اس مقدس گروہ میں شریک تھے۔ ‘‘
گویا ان مذھبی راہنماؤں نے اپنی عیاشیانہ زندگی کو چھپانے کی خاطر عوام کی توجہ ان معاشرتی برائیوں سے ہٹانے کی کوشش کی۔۔

معاشی اسباب

اسلامی دنیا کی خوشحالی اور دولت و ثروت کے چرچے یورپ میں عام تھے۔ یورپ ابھی تک خوشحالی کی ان منازل سے نہ گزرا تھا جن کا مشاھدہ مشرق کی اسلامی سلطنتیں کر چکی تھیں۔ لہٰذا یورپ کے وہ تمام عناصر جنہیں حصول زر کے ذرائع یورپ میں میسر نہ تھے اپنی قسمت آزمائی کے لیے اس مذھبی مہم میں شامل ہوگئے۔ ان کا مقصد لوٹ کھسوٹ اور مال و دولت کے جمع کرنے کے سوا کچھ نہ تھا اس کی تصدیق صلیبیوں کے اس طرز عمل سے ہوتی ہے جو انہوں نے ھنگری سے گزرتے ہوئے وھاں کے عیسائی باشندوں کے ساتھ روا رکھا۔۔

یورپ کے نظام حکومت میں جاگیرداری نظام کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ معاشی نظام میں اس کی خرابیاں ظاھر ھو چکی تھیں۔ دولت کے تمام ذرائع امرا اھل کلیسا اور جاگیرداروں کا قبضہ تھا عوام مفلوک الحال تھے۔ کاشتکاروں کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ چنانچہ مذھبی طبقہ نے مذھب کی آڑ میں عوامی ردعمل کو روکنے کی کوشش کی تاکہ ان لوگوں کی توجہ ملک کے معاشی مسائل سے ہٹی رھے۔ اس کے علاوہ قانون وراثت کے تحت محروم افراد نے بھی محض زیادہ دولت جمع کرنے کی خواھش کے تحت اس کو ہوا دی۔

فلسطین اور شام پر قبضہ کرنے کے بعد اٹلی کے باشندے اپنی سابقہ تجارتی ترقی کو بحال کرنا چاھتے تھے کیونکہ اسلامی غلبہ کی بدولت اطالوی تاجروں کی تجارتی اجارہ داری ختم ہوچکی تھی۔ لہٰذا ان کا خیال تھا کہ اگر صلیبی جنگوں کی بنا پر فلسطین اور شام کا علاقہ مسلمانوں سے مستقل چھین لیا جائے تو یورپ کی معاشی حالت سدھر سکتی ہے۔۔

فوری وجہ

فوری وجہ پوپ اربن دوم کا فتوی کروسیڈ (عیسائیوں کی مقدس جنگ) تھا۔ فرانسیسی پیٹر جب بیت المقدس کی زیارت کے لیے آیا تو اس نے بیت المقدس پر مسلمانوں کے قبضہ کو بری طرح محسوس کیا۔ یورپ واپس جا کر عیسائیوں کی حالت زار کے جھوٹے سچے قصے کہانیاں پیش کیں اور سلسلہ میں سارے یورپ کا دورہ کیا۔ پیٹر کے اس دورہ نے لوگوں کے اندر مذھبی دیوانگی کی سی کیفیت پیدا کر دی۔ اس راھب نے زائرین کی سیاہ کاریوں کے بارے میں مکمل خاموشی برتی ۔ پوپ چونکہ مغربی کلیسا کا روحانی پیشوا تھا اس لیے اس نے مختلف فرقوں کی ایک کونسل بلائی اور اس کے سامنے مسلمانوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ لوگوں کو اس بات کی بشارت دی کہ جو بھی اس مقدس جنگ میں مارا جائے گا اس کے ھر قسم کے گناہ معاف ھو جائیں گے اور وہ جنت کا حقدار ھوگا لوگ جوق در جوق سینٹ پیٹر کی قیادت میں فلسطین پر چڑھائی کی غرض سے روانہ ہوئے۔۔

پہلی صلیبی جنگ

ء1097ء تا 1145ءپوپ کے اعلان کروسیڈ (عیسائیوں کی مقدس جنگ) کے بعد یکے بعد دیگرے چار بڑے لشکر بیت المقدس کی فتح کا عزم لیے روانہ ہوئے۔ راھب پیٹر کی ماتحتی میں تیرہ لاکھ عیسائیوں کا ایک انبوہ کثیر قسطنطنیہ کے لیے روانہ ہوا۔ ان لوگوں نے راستہ میں اپنے ھم مذھب لوگوں کو قتل و غارت اور لوٹ مار کا نشانہ بنایا۔ بلغاریہ سے گزرنے کے بعد یہ لوگ قسطنطنیہ پہنچے تو رومی شہنشاہ نے ان کی اخلاق سوز حرکتوں کی وجہ سے ان کا رخ ایشیائے کوچک کی طرف موڑ دیا۔ جب یہ اسلامی علاقہ میں داخل ہوئے تو سلجوقی حکمران قلج ارسلان نے ان کے لشکر کو تہہ و بالا کردیا اور اور ان کی کثیر تعداد قتل ہوئی۔ صلیبیوں کی یہ مہم قطعاً ناکام رھی۔۔

صلیبیوں کا دوسرا بڑا گروہ ایک جرمن راھب گاؤس فل کی قیادت میں روانہ ہوا۔ جب یہ لوگ ھنگری سے گزرے تو ان کی بدکاریوں کی وجہ سے اھل ھنگری تنگ آگئے اور انہوں نے ان کو نکال دیا یہ جماعت بھی اسی طرح کیفرکردار کو پہنچی۔۔

صلیبیوں کا تیسرا گروہ جس میں انگلستان ، فرانس اور فلانڈرز کے رضاکار شامل تھے اس اپنی مقدس جنگ کے لیے روانہ ہوئے۔ ان رضاکاروں کے ھاتھوں دریائے رائن اور موزیل کے کئی ایک شہر کے یہودی نشانہ ستم بنے ۔ یہ لوگ ھنگری سے گزرے تو اھل ھنگری نے ان کا صفایا کرکے ھنگری کی سرزمین کو ان کا قبرستان بنا دیا۔

سب سے زیادہ منظم اور زبردست گروہ جو دس لاکھ فوجیوں پر مشتمل تھا 1097ء میں روانہ ھوا اس میں انگلستان ، فرانس، جرمنی ، اٹلی اور سسلی کے شہزادے شامل تھے۔ اس متحدہ فوج کی کمان ایک فرانسیسی گاڈ فرے کے سپرد تھی۔ ٹڈی دل کا یہ لشکر ایشیائے کوچک کی طرف روانہ ھوا اور مشہور شہر قونیہ کا محاصرہ کر لیا۔ قلج ارسلان نے شکست کھائی ۔ فتح مند عیسائی پیش قدمی کرتے ہوئے انطاکیہ پہنچ گئے نو ماہ کے بعد انطاکیہ پر بھی قبضہ ہوگیا۔ وھاں کی تمام مسلمان آبادی کو تہ تیغ کرتے ہوئے صلیبیوں نے مسلمانوں پر شرمناک مظالم ڈھائے۔ بچے بوڑھے جوان کوئی بھی ان سے بچ نہ سکا۔ تقریباً ایک لاکھ مسلمان مارے گئے۔ انطاکیہ کے بعد صلیبی لشکر شام کے متعدد شہروں پر قبضہ کرتے ہوئے حمص پہنچا۔۔

سقوط بیت المقدس

حمص پر قبضہ کرنے کے بعد صلیبیوں نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا چونکہ فاطمیوں کی طرف سے شہر کا خاطر خواہ انتظام نہ کیا گیا تھا۔اس لیے 15 جون1099ء کو بیت المقدس پر ان مذھبی جنونیوں نے بڑی آسانی سے قبضہ کر لیا۔ بیت المقدس کی حرمت کا کوئی لحاظ نہ رکھا گیا۔ مسلمانوں کا خوب قتل عام کیا اور ان کا تمام مال و اسباب لوٹ لیا گیا۔ یورپی مورخین بھی ان شرمناک مظالم کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ عیسائیوں کا مسلمانوں کے ساتھ سلوک اس رویہ سے بالکل الٹ تھا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چند صدیاں پیشتر بیت المقدس کی فتح کے وقت عیسائیوں سے اختیار کیا تھا۔ بیت المقدس کے اردگرد کے علاقوں پر قبضہ کے بعد گاڈ فرے کو بیت المقدس کا بادشاہ بنایا گیا۔ اور مفتوحہ علاقوں کو عیسائی مملکتوں میں بانٹ دیا گیا۔ جس میں طرابلس، انطاکیہ اور شام کے علاقے شامل تھے۔ اس شکست کا سب سے بڑا سبب مسلمانوں کی باھمی نااتفاقی تھی، بدنظمی اور انتشار کا عمل تھا ۔۔

سلجوقیوں کے انتشار کے دوران عماد الدین زنگی کی زبردست شخصیت ابھری ۔ عماد الدین نے زنگی حکومت کی بنیاد ڈالی اور مسلمانوں کو پھر حیات نو بخشی ، موصل ، حران ، حلب وغیرہ کے علاقوں کو فتح کرکے زنگی نے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ عماد الدین نے جس جرات اور حوصلہ مندی سے صلیبیوں کا مقابلہ کیا اور ان کو زبردست شکستیں دیں وہ تاریخ اسلام کا قابل فخر باب ھے۔ عماد الدین نے قلعہ اثارب اور مصر کے سرحدی علاقوں سے عیسائیوں کو عبرتناک شکست دیکر نکال باھر کیا۔ محاذ شام پر صلیبیوں کو ھزیمت کا منہ دیکھنا پڑا۔ اور عماد الدین زنگی نے شام کے وسیع علاقہ پر قبضہ کر لیا۔ عماد الدین زنگی کا سب سے بڑا کارنامہ بعلبک پر دوبارہ اسلامی قبضہ ھے۔۔

دوسری صلیبی جنگ

ء1187ء تا 1144ء تا: عماد الدین کی وفات کے بعد 1144ء میں اس کا لائق بیٹا نور الدین زنگی اس کا جانشین ہوا۔ صلیبیوں کے مقابلہ میں وہ اپنے باپ سے کم مستعد نہ تھا۔ تخت نشین ھونے کے بعد اس نے مسلمانوں میں‌ جہاد کی ایک نئی روح پھونک دی اور عیسائیوں سے بیشتر علاقے چھین لیے اور انہیں ھر محاذ پر شکستیں دیتا ہوا ڈیسا ، (روحا) کے شہر کو دوبارہ فتح کر لیا۔ عیسائیوں کی شکستوں کی خبریں پورے یورپ میں پہنچیں تو ایک بار پھر پوپ یوجین سوم نے دوسری صلیبی جنگ کا اعلان کیا اور اس طرح دوسری صلیبی جنگ کا آغاز ہوا۔ 1148ء میں جرمنی کے بادشاہ کونراڈ سوم اور فرانس کے حکمران لوئی ھفتم کی قیادت میں 9 لاکھ افراد پر مشتمل فوج مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے یورپ سے روانہ ہوئی اس میں عورتیں بھی شامل تھیں۔ پہلے صلیبی معرکوں کی طرح ان فوجیوں نے بھی خوب اخلاق سوز حرکتیں دوبارہ کیں۔ لوئی ھفتم کی فوج کا ایک بڑا حصہ سلجوقیوں کے ہاتھوں ‌تباہ ہوا۔ چنانچہ جب وہ انطاکیہ پہنچا تو اس کی تین چوتھائی فوج برباد ہوچکی تھی۔اب اس باقی ماندہ فوج نے آگے بڑھ کر دمشق کا محاصرہ کر لیا لیکن سیف الدین زنگی اور نور الدین زنگی کی مشترکہ مساعی سے صلیبی اپنے عزائم میں ناکام رھے ور شکست کا کھائی ۔ لوئی ھفتم اور کونراڈ کو دوبارہ یورپ کی سرحدوں میں دھکیل دیا گیا۔ چنانچہ دوسری صلیبی جنگ میں بھی عیسائی مسلمانوں کے شکست سے دوچار ہوئے۔

مصر پر نورالدین کا قبضہ

اس دوران حالات نے پلٹا کھایا اور تاریخ اسلام میں ایک ایسی شخصیت نمودار ہوئی جس کے سرفروشانہ کارنامے آج بھی مسلمانوں کے لیے درس عمل ھیں۔ یہ عظیم شخصیت صلاح الدین ایوبی کی تھی۔ مصر کے فاطمی خلیفہ میں اتنی سکت نہ تھی کہ وہ عیسائیوں کے طوفان کو روک سکتا اس کے وزیر شاور سعدی نے صلیبیوں کے خطرہ کا اندازہ کرتے ہوئےنور الدین زنگی کو مصر پر حملہ کی دعوت دی۔ نورالدین نے اپنے بھائی اسد الدین شیر کوہ کو اس مہم پر مامور کیا۔ چنانچہ اسد الدین نے مصر میں داخل ہو کر عیسائیوں کا قلع قمع کیا۔ لیکن شاور نے غداری کی اور شیر کوہ کے خلاف فرنگیوں سے ساز باز کر لی۔ 1127ء کو شیر کوہ نے دوبارہ مصر پر فوج کشی کی اور اسکندریہ پر قبضہ کے بعد مصر کا بیشتر علاقہ اپنے قبضہ میں لے لیا۔ صلاح الدین ایوبی بھی ان تمام محاربات میں شیر کوہ کا ھمرکاب رھے۔ شاور سعدی اپنے جرائم کی وجہ سے قتل ھوا اور شیر کوہ خلیفہ عاضد کا وزیر بنا اس کے بعد صلاح الدین ایوبی نے اس کی جگہ لی ۔ خلیفہ نے الملک الناصر کا لقب دیا۔ خلیفہ عاضد کی وفات کے بعد صلاح الدین نے مصر میں عباسی خلیفہ کا خطبہ رائج کر دیا۔ مصر کا خود مختار حکمران بننے کے بعد سلطان نے صلیبیوں کے خلاف جہاد کو اپنی زندگی کا نصب العین قرار دیا۔

حطین کا معرکہ
مصر کے علاوہ صلاح الدین نے 1182ء تک شام ، موصل ، حلب وغیرہ کے علاقے فتح کر کے اپنی سلطنت میں شامل کر لیے۔ اس دوران صلیبی سردار ریجنالڈ کے ساتھ چار سالہ معاھدہ صلح ھو چکا تھا جس کی رو سے دونوں کے دوسرے کی مدد کرنے کے پابند تھے لیکن یہ معاھدہ محض کاغذی اور رسمی تھا۔ صلیبی بدستور اپنی اشتعال انگیزیوں میں مصروف تھے اور مسلمانوں کے قافلوں کو برابر لوٹ رھے تھے۔ 1186ء میں عیسائیوں‌کے ایک ایسے ھی حملہ میں ریجنالڈ نے یہ جسارت کی کہ بہت سے دیگر عیسائی امرا کے ساتھ وہ مدینہ منورہ پر حملہ کی غرض سے حجاز مقدس پر حملہ آور ہوا۔ صلاح الدین ایوبی نے ان کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے اور فوراً ریجنالڈ کا تعاقب کرتے ہوئے اسے حطین میں جالیا۔ سلطان نے یہیں دشمن کے لشکر پر ایک ایسا آتش گیر مادہ ڈلوایا جس سے زمین پر آگ بھڑک اٹھی۔ چنانچہ اس آتشیں ماحول میں 1187ء کو حطین کے مقام پر تاریخ کی خوف ناک ترین جنگ کا آغاز ہوا ۔ اس جنگ کے نتیجہ میں تیس ہزار عیسائی ھلاک ہوئے اور اتنے ہی قیدی بنا لیے گئے۔ ریجنالڈ گرفتار ہوا۔ اور سلطان نے اپنے ہاتھ سے اس کا سر قلم کیا۔ اس جنگ کے بعد اسلامی افواج عیسائی علاقوں پر چھا گئیں۔۔

بیت المقدس کی فتح

حطین کی فتح کے بعد صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کی طرف رخ کیا ایک ھفتہ تک خونریز جنگ کے بعد عیسائیوں نے ھتھیار ڈال دیئے اور رحم کی درخواست کی۔ بیت المقدس پورے 91 سال بعد دوبارہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا۔ بیت المقدس کی فتح صلاح الدین ایوبی کا عظیم الشان کارنامہ تھا۔ صلیبیوں کے برعکس سلطان نے عیسائیوں پر کسی قسم کی زیادتی نہ ہونے دی اور انہیں چالیس دن کے اندر شہر سے نکل جانے کی اجازت عطا کی۔ رحمدل سلطان نے فدیہ کی نہایت ھی معمولی رقم مقرر کی اور جو لوگ وہ ادا نہ کر سکے انہیں بغیر ادائیگی فدیہ شہر چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ بعض اشخاص کا زر فدیہ سلطان نے خود ادا کیا اور انہیں آزادی دی۔ بیت المقدس پر تقریباً 761 سال مسلسل مسلمانوں کا قبضہ رہا۔ تاآنکہ 1948ء میں امریکہ ، برطانیہ ، فرانس کی سازش سے فلسطین کے علاقہ میں یہودی سلطنت قائم کی گئی اور بیت المقدس کا نصف حصہ یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں بیت المقدس پر اسرائیلیوں نے قبضہ کر لیا ۔

تیسری صلیبی جنگ

بیت المقدس کی فتح صلیبیوں کے لیے پیغام اجل سے کم نہ تھا ۔ اس فتح کی خبر پر سارے یورپ میں‌ پھر تہلکہ مچ گیا۔ اس طرح تیسری صلیبی جنگ کا آغاز ہوا اس جنگ میں سارا یورپ شریک تھا۔ شاہ جرمنی فریڈرک باربروسا ، شاہ فرانس فلپ آگسٹس اور شاہ انگلستان رچرڈ شیر دل نے بہ نفس نفیس ان جنگوں میں شرکت کی۔ پادریوں اور راھبوں نے قریہ قریہ گھوم کر عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف ابھارا۔

عیسائی دنیا نے اس قدر لاتعداد فوج ابھی تک فراھم نہ کی تھی۔ ایک بہت بڑا لشکر یورپ سے روانہ ھوا اور عکہ کی بندرگاہ کا محاصرہ کر لیا اگرچہ سلطان صلاح الدین نے تن تنہا عکہ کی حفاظت کے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہوتے تھے لیکن صلیبیوں کو یورپ سے مسلسل کمک پہنچ رھی تھی۔ ایک معرکے میں دس ہزار عیسائی قتل ہوئے مگر صلیبیوں نے محاصرہ جاری رکھا لیکن چونکہ کسی اور اسلامی ملک نے سلطان کی طرف دست تعاون نہ بڑھایا اس لیے صلیبی ناکہ بندی کی وجہ سے اھل شہر اور سلطان کا تعلق ٹوٹ گیا اور سلطان باوجود پوری کوشش کے مسلمانوں کو کمک نہ پہنچا سکا۔ تنگ آکر اھل شہر نے امان کے وعدہ پر شہر کو عیسائیوں کے حوالہ کر دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ فریقین کے درمیان معاھدہ طے ہوا کہ جس کے مطابق مسلمانوں نے دو لاکھ اشرفیاں بطور تاوان جنگ ادا کرنے کا وعدہ کیا اور صلیب اعظم اور پانچ سو عیسائی قیدیوں کی واپسی کی شرائط کرتے ہوئے مسلمانوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ مسلمانوں کو اجازت دے دی گئی ۔ وہ تمام مال اسباب لے کے شہر سے نکل جائیں لیکن رچرڈ نے بدعہدی کی اور محصورین کو قتل کر دیا۔۔

عکہ کے بعد صلیبیوں نے فلسطین کی بندرگاہ عسقلان کا رخ کیا۔ عسقلان پہنچنے تک عیسائیوں کا سلطان کے ساتھ گیارہ بارہ بار مقابلہ ھوا سب سے اھم معرکہ ارسوف کا تھا۔ سلطان نے جوانمردی اور بہادری کی درخشندہ مثالیں پیش کیں لیکن چونکہ کسی بھی مسلمان حکومت بالخصوص خلیفہ بغداد کی طرف سے کوئی مدد نہ پہنچی۔ لہذا سلطان کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ واپسی پر سلطان نے عسقلان کا شہر خود ھی تباہ کر دیا۔ اور جب صلیبی وھاں پہنچے تو انہیں اینٹوں کے ڈھیر کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔ اس دوران سلطان نے بیت المقدس کی حفاظت کی تیاریاں مکمل کیں کیونکہ اب صلیبیوں کا نشانہ بیت المقدس تھا۔ سلطان نے اپنی مختصر سی فوج کے ساتھ اس قدر عظیم لاؤ لشکر کا بڑی جرات اور حوصلہ سے مقابلہ کیا۔ جب عیسائیوں کو فتح کی کوئی امید باقی نہ رھی تو صلیبیوں نے صلح کی درخواست کی۔ فریقین میں معاھدہ صلح ہوا۔ جس کی رو سے تیسری صلیبی جنگ کا خاتمہ ہوا۔۔۔

اس صلیبی جنگ میں سوائے عکہ شہر کے عیسائیوں کو کچھ بھی حاصل نہ ہوا اور وہ ناکام واپس ہوئے۔ رچرڈ شیر دل ، سلطان کی فیاضی اور بہادری سے بہت متاثر ہوا جرمنی کا بادشاہ بھاگتے ہوئے
دریا میں ڈوب کر مرگیا اور تقریباً چھ لاکھ عیسائی ان جنگوں میں کام آئے۔

معاہدہ کی شرائط مندرجہ ذیل تھیں:

1۔ بیت المقدس بدستور مسلمانوں کے پاس رہے گا۔

2۔ ارسوف، حیفا، یافہ اور عکہ کے شہر صلیبیوں کے قبضہ میں چلے گئے

3۔ عسقلان آزاد علاقہ تسلیم کیا گیا۔

4۔ زائرین کو آمدورفت کی اجازت دی گئی۔

5۔ صلیب اعظم بدستور مسلمانوں کے قبضہ میں رہی ۔

چوتھی صلیبی جنگ

ایوبی سلطان ملک العادل کے ہاتھوں عیسائیوں نے عبرتناک شکستیں کھائیں اور یافہ کا شہرمسلمانوں کے قبضہ میں آگیا۔

پانچویں صلیبی جنگ

ء1203ءاس جنگ کے دوران صلیبیوں نے بیت المقدس کے بعد قسطنطنیہ پر حملہ کیا اور اسے تباہ کردیا

چھٹی صلیبی جنگ

ء1227پوپ انوسینٹ کے تحت اڑھائی لاکھ جرمنوں کی فوج شام کے ساحل پر حملہ آور ہوئی۔ عادل ایوبی نے دریائے نیل کا بند کاٹ کر ان کی راہ روکی۔ عیسائی مایوس ہو کر 1227ء میں واپس لوٹ گئے۔

ساتویں صلیبی جنگ

ملک کامل اور اس کے بھائیوں کے درمیان اختلاف کی بنا پر بیت المقدس کا شہر کامل نے صلیبیوں کے حوالے کر دیا۔ کامل کے جانشین صالح نے دوبارہ صلیبیوں سے چھین لیا اور اس پر بدستور مسلمانوں کا قبضہ رھا۔۔

آٹھویں صلیبی جنگ

ء1248فرانس کے شہنشاہ لوئی نہم نے مصر پر حملہ کیا مگر صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں شکست کھائی اور فرار کی راہ اختیار کی۔۔

نویں صلیبی جنگ

ایڈروڈ اول شاہ انگلستان اور شاہ فرانس نے مل کر شام پر حملہ کیا اس جنگ کے نتیجہ کے طور پر شام و فلسطین سے صلیبیوں کا وجود ختم کر دیا گیا۔ صلیبیوں کے اندر مزید جنگ کا حوصلہ نہ رھا دوسری جانب مسلمان بدستور اپنے علاقوں کی حفاظت میں مستعد تھے۔ جب اس قدر طویل جنگوں کے خاتمہ کے بعد عیسائیوں کا سوائے تباھی اور شکست کے کچھ حاصل نہ ہوا تو ان کا جنگی جنون سرد پڑ گیا۔ اس طرح صلیبی جنگوں کا خاتمہ ہوگیا۔۔

دیگر صلیبی جنگیں

بچوں کی صلیبی جنگ

ان کے علاوہ 1212ء میں ایک معروف صلیبی جنگ کی تیاری بھی کی گئی جسے “بچوں کی صلیبی جنگ” کہا جاتا ھے۔ عیسائی راھبوں کے مطابق کیونکہ بڑے گناھگار ھوتے ھیں اس لئے انہیں مسلمانوں کے خلاف فتح حاصل نہیں ہورھی جبکہ بچے معصوم ھوتے ھیں اس لئے وہ صلیبیوں کو فتح دلائیں گے۔ اس مقصد کے لئے 37 ہزار بچوں کا ایک لشکر ترتیب دیا گیا جو فرانس سے روانہ ہوا۔ 30 ہزار بچوں پر مشتمل فرانسیسی لشکر کی قیادت افواج کے سپہ سالار اسٹیفن نے کی۔ 7 ھزار جرمن بچے نکولس کی زیر قیادت تھے۔ ان بچوں میں سے کوئی بھی بیت المقدس تک نہ پہنچ سکا بلکہ فرانس کے ساحلی علاقوں اور اٹلی میں ھی یا تو تمام بچے غلام بنا لئے گئے یا جنسی زیادتی کا نشانہ بنے یا آپس میں لڑکر ھی مرگئے۔ بچوں کی صلیبی جنگ پانچویں صلیبی جنگ سے قبل ہوئی تھی۔۔

ترکوں کے خلاف صلیبی جنگیں

سلطنت عثمانیہ کے یورپ میں بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کے لئے بھی یورپیوں سے صلیبی جنگوں کے ناموں کا استعمال کیا اور 14 ویں اور 15 ویں صدی میں تین جنگیں لڑی گئیں۔

جنگ نکوپولس 1396ء : شاہ ھنگری سجسمنڈ آف لکسمبرگ کی جانب سے بلائی گئی صلیبی جنگ جسے عام طور پر جنگ نکوپولس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ موجودہ بلغاریہ کی حدود میں نکوپولس کے مقام پر ہونے والی اس جنگ میں بایزید یلدرم نے فرانس اور ھنگری کے مشترکہ لشکر کو عظیم الشان شکست دی۔

جنگ وارنا 1444ء: پولینڈ اور ھنگری کی مشترکہ فوج مراد ثانی کے ھاتھوں شکست کھاگئی۔ یہ سلطنت عثمانیہ کی عظیم فتوحات میں سے ایک ہے۔

ء1456 کی صلیبی جنگ : عثمانیوں کی جانب سے بلغراد کا کیا گیا محاصرہ ختم کرنے کے لئے لڑی گئی۔ اس وقت عثمانی فرمانروا سلطان محمد فاتح تھا جو بلغراد کو فتح کرنے میں ناکام رھا اور صلیبی لشکر نے کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں 29 اگست 1521ء کو عثمانی سلطان سلیمان اول نے بلغراد کو فتح کرکے سلطنت عثمانیہ کا حصہ بنادیا۔

نتائج

یہ جنگیں فلسطین پر قبضہ کرنے کی کوشش تھی لیکن مسلمانوں کا قبضہ بیت المقدس پر بدستور قائم رھا۔۔

عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان اجنبیت کی ایک مستقل دیوار جو آج تک مسلمنوں اور عیسائیوں کے درمیان حائل ھے وہ ان صلیبی جنگوں کا ایک بنیادی نتیجہ ھے۔ اور آج فلسطین میں یہودی ریاست اسرائیل کا قیام اور نیو ورلڈ آڈر اسی کی ایک کڑی ھیں۔

یورپ کے غیر متمدن لوگوں کا واسطہ مسلمانوں سے پڑا تو ان کی علمی و تہذیبی ترقیاں دیکھ کر ان کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں اسلامی تمدن سے آشنا ہو کر ان کی ذہنی کیفیت میں انقلاب پیدا ہوا اور احیائے علوم کے لیے یورپ میں‌فضا سازگار ہو گئی۔

یورپ میں جاگیرداری نظام کا خاتمہ ہوگیا اور اس کی جگہ مستقل معاشی نظام رائج ہوا۔

اشیاء کے بدلے اشیا کی فروخت کی بجائے سکہ رائج کیا گیا۔ اس کے علاوہ صنعت و حرفت نے بھی یورپ میں ترقی کی۔ اور یورپ کا فن تعمیر بھی اسلامی فنی تعمیرات سے متاثر ہوا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s