Writeups

  • Though it is not important to say formal words like ‘sorry’, ‘welcome’ or ‘thanks’ but you should say even if someone is not expecting it from you.
  • In a high intense shining light we even can not open our eyes to see anything or our own self.
  • These are not only wasp who let themselves burn in flame, A time comes when butterflies also made themselves to be burn in flame.
  • People whom we make sit on the sky when fall off face on earth we get wounded.
  • Sometimes you need to run away to see who will follow you.
  • Happy moments, praise ALLAH. Difficult moments, seek ALLAH. Quiet moments, pray ALLAH. Painful moments, trust ALLAH. Every moment, thank to ALLAH Always.
  • It’s not that some people have willpower and some don’t. It’s that some people are ready to change and others are not.
  • Philosophers and writers write because they love to write their thoughts, People read because they enjoy reading them.
  • Whatever you can do, or dream you can, begin it. Boldness has genius, power, and magic in it. 05142009
  • کبھی کبھی ان لفظوں کو سوچ کر ہی دل اندر سے خالی ہو جاثا ہے جن کا مطلب جدائ ہو۔
  • If you can’t be a good example, then you’ll just have to serve as a horrible warning.
  • بہادر بنو۔ ڈٹ کے مق‍‍‍ابلہ کرو۔ يہ جو دکھ سکھ ہوتے ہيں يہ تقدير سے ہميں ملتے ہيں۔ ان کا ہم کچھ نہيں بگاڑ سکتے۔ آنسوں سے بھی نہيں دھو سکتے، اور يہ جو دھنک کے رنگ ہوتے ہيں يہ ہميں خود سميٹنے ہوتے ہيں، کوئ اکھٹے کر کے نہيں ديتا۔
  • I’ve done things that I regret but mainly I have done things you regret. 06122009
  • The right way to live the life in todays World:
  • “Soar like an eagle even if you do not have wings otherwise other birds will drop their stuff on you. 06162009″
  • نہ ہی اتنے ميٹھےبنو کہ لوگ تمہيں کھا جائيں ، نہ ہی اتنے کڑوے بنو کہ تھوک ديں۔
  • Sharing of thoughts is the greatest pain I have ever experience…06212009
  • Sometimes life seems too long, no turn, no stop…straight … fully straight with many deep excavation (deep digs that others made for u to throw down in)…06212009
  • Green day could never come in today’s life. ALL are blue …. Life is blue …06212009
  • I will die someday(Everyone have to). How perfect day that would be for ME …06212009
  • ya ALLAH mughy mary dosto sy bacha. dushmano sy main khud nimat lon ga.
  • Rishty, Apnayat k hon ya khulos k itny he nazuk hoty hain jitny aabgeeny. phir inn par fakhar kaisa aaitmad kaisa…
  • There are many people in this world who feel very much happy to see others in pain. HOW AMAZING IS THIS!
  • Life is a journey…not a destination…destination is heaven…so do your best to reach your destination…do not just Enjoy it. Work hard and harder to follow the rules that our prophet has taught us and Quran explains. If you have difficulty somewhere try to get it solved with the help of Quran, that explains everything. 06242009
  • Trust in God but Lock your car.
  • Make yourself sincere with you & use most powerful rules of this sincerity when meet with others.
  • We are running to catch the life and life is running towards death. 12 Aug 2009
  • We can think positive but rest of world is not positive. So Its better to have a negative thought ( -ve expectations with others/life ). It makes life easy with less pain and sometimes no pain at all .
  • hamaray assumption ki wajha say bohat see ghalat fehmiyaam create ho jateen hain, tu bahter yay hay we ask.. 190809
  • dosti karo tu dushmano ki pal pal ki khaber rakho190809
  • Its better not to talk than to hurt someone.050909
  • A kind word will keep someone warm for years. 281009

my sisters’ Writeups…

دعا

سورة البَقَرَة

(خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔ اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے (۲۸۵) خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے ان کا نقصان پہنچے گا۔ اے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مؤاخذہ نہ کیجیو۔ اے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو۔ اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما (۲۸۶)

قرض

سورة البَقَرَة

اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا۔ اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا (۲۸۱) مومنو! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لئے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے۔ اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے۔ اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی۔ اور جب گواہ (گواہی کے لئے طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں۔ اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں کاہلی نہ کرنا۔ یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لئے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے۔ اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وہ شبہ بھی نہیں پڑے گا۔ ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھوتو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور جب خرید وفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو۔ اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں کا) کسی طرح نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے (۲۸۲) اور اگر تم سفر پر ہواور (دستاویز) لکھنے والا مل نہ سکے تو (کوئی چیز) رہن یا قبضہ رکھ کر (قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہیئے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کردے اور خدا سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے۔اور (دیکھنا) شہادت کو مت چھپانا۔ جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے (۲۸۳) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے (۲۸۴)

خدا حافظ!!!

عظیم ہیں وہ افراد جو انسانیت پر زندگی کو آشکار کرکے اپنا احسان مند بنا دیتے ہیں؛ جو خود پسندی کے فریب سے کہیں دور صدیوں کو سمیٹ کر عظمت کی بلندیوں پر پہنچ چکے ہوتے ہیں جبکہ دوسرے اسکی گرد بھی نہیں پا سکتے اور مدتوں بعد جب انکا قید کیا ہوا وقت آشکار ہونا شروع ہوتا ہے تو انکے قدموں کے نشان بھی مٹ رہے ہوتے ہیں ۔

صدیاں اپنے ساتھ وہ سب کچھ سمیٹ کر لے جاتی ہیں جنکا اکثر تصور بھی کرنا محال ہوتا ہے ؛ وقت بہت ظالم ہے جوکسی کا بھی انتظار نہیں کرتا ؛جبکہ انسان زندگی کے ماہ و سال اسکے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے گزارتا ہے اور اگر ذرا سی بھی چوک ہو جائے تو یہ انسان کو پچھاڑ دیتا ہے اور ا پنی چال چلتا ہو ا قدموں کے نشان چھوڑتا چلا جاتا ہے ۔افراد جب شعوری بالیدگی کے عمل سے گزر کر حالات سے پنجہ آزمائی پر اتر آئے تو پہلی بار انہیں وقت کی لاثانی قوت کا اندازہ ہوا۔احمق ہے وہ فرد جو وقت کی لامحدود طاقت کو نہیں سمجھتا اور اسکے ضیاع کا تدارک نہیں کرتا ؛ جو لمحہ گزر گیا اسکی واپسی نہیں مگر ان لمحات میں وقت کو اسی طرح محفوظ کیا جا سکتا ہے کہ اپنی ذہنی اور جسمانی قوتوں کا مصرف کسی مقصد کی نہج پر ڈالا جائے۔ زندگی کے اعلی مقاصد اور انکی تکمیل میں محویت ایسے محرکات ہیں جو نہ صرف صدیوں کے سفر ایام میں تبدیل کر دیتے ہیں بلکہ بعض اوقات وقت کو بھی پچھاڑ دیتے ہیں ۔
عظیم ہیں وہ افراد جو انسانیت پر زندگی کو آشکار کرکے اپنا احسان مند بنا دیتے ہیں؛ جو خود پسندی کے فریب سے کہیں دور صدیوں کو سمیٹ کر عظمت کی بلندیوں پر پہنچ چکے ہوتے ہیں جبکہ دوسرے اسکی گرد بھی نہیں پا سکتے اور مدتوں بعد جب انکا قید کیا ہوا وقت آشکار ہونا شروع ہوتا ہے تو انکے قدموں کے نشان بھی مٹ رہے ہوتے ہیں ۔
خیرو شر کے جنگ و جدل ؛ فنا اور بقا کی آنچ ؛کبھی علم و دانش کے ڈھیر اور کبھی آلات جدید کا انبار یہ سب انسانی ذہن کا کمال ہے کہ تسخیر انفس و آفاق پر گامزن ہے۔دنیا کو کبھی جسمانی قوت نے زیر کیا اور کبھی دولت کی ؛ اور کبھی انڈسٹری کی اور کبھی معلومات کی مگر آج علم دنیا کا مقدر بن گیا ہے۔ یہ بات تو واضع ہو چکی کہ اب انڈسٹری اور صنعت کسی نئی راہ پر گامزن نہیں کہ جسکا ایندھن زر تھا بلکہ آج کا دور معلومات کی بہتی رو کا ایک سیلاب ہے جسے آپ اطلاعاتی معاشرہ کہ سکتے ہیں جبکہ اسکا ایندھن علم ہے۔ آج کا دور تہذیبوں کے ادغام کا دور ہے معلومات کا ایک سیلاب امڈ آیا ہے جبکہ اس عہد کی طاقت صرف علم کے مرہون منت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہماری زندگیوں کو کنٹرول کرنے والی طاقت نے کئی روپ بدلے ، ابتدائی زمانے میں طاقت صرف جسمانی قو ت کا نام تھا ،اور زیادہ طاقت ور اور تیز رفتار شخص نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اردگرد موجود دوسرے لوگوں کی زندگیوں پہ بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اسی طرح تہذیبی ارتقا کے ساتھ ساتھ طاقت وراثت کے نتیجے میں حاصل ہونے لگی۔ اپنے جا ہ و جلال کے باعث بادشاہ واضح اختیارات کے ساتھ حکمرانی کرنے لگا جبکہ شاہی قرابت دار اپنی قربت کے باعث طاقت حاصل کر سکتے تھے۔ پھر اچانک زمانے نے جست بھری ، عہد نے پلٹا کھایا اور صنعتی دور کی ابتداء ہوئی اور سرمایہ طاقت بن گیا جبکہ سرمایہ جن کی پہنچ میں تھا وہ صنعتی عمل کے باعث دوسروں پر قابض ہونے لگے مگر کب تک؟
البتہ آج بھی ان عوامل سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ سرمائے کا ہونا نہ ہونے سے بہتر ہے ، جسمانی توانائی کا ہونا بہرحال یقیناً بہتر ہے ، تا ہم ، آج طاقت کا عظیم سرچشمہ صرف اور صرف علم ہے۔ ارتقاء کا دھارا اب کسی اور طرف گامزن ہے۔اس اطلاعاتی معاشرے کی ترجیحات اب کسی بھی طرح سے دقیانوسی نہیں رہیں۔آج اگر طاقت کا بہاو ملاحظہ کرنا ہو تو ذرہ آنکھوں سے تفریحات کی پٹی اتار کر دیکھئے کہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والی دنیا میں اب طاقت کا توازن کیا ہے اور اسکا تعین کیسے کریں؟ ان حقائق سے کنارہ کشی کسی بھی طرح سے مزید دیر کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ جہاں اقوام عالم کے نوجوان دنیا کی طاقت کے مرا کز ہیں وہاں ہم اپنی قوم کے نوجوان کو کیا دے رہے ہیں؛ اور ہمارے نوجوان کہاں کھڑے ہیں ؟
قابل ذکر بات یہ ہے کہ آج طاقت کی کنجی تک رسائی ہم سب کے بس میں ہے۔ اگر آپ وسطی زمانہ میں بادشاہ نہ ہوتے تو آپکو بادشاہ بننے کیلئے بے پناہ تگ و دو کرنا پڑتی ، صنعتی انقلاب کے آغاز میں ، اگر آپ کے پاس زبردست سرمایہ نہ ہوتا تو آپ کے راستے کی رکاوٹیں آپ کی کامیابی کا راستہ مسد ور کر دیتیں۔ لیکن چند نوجوان آج ایک ایسی کارپوریشن کو جنم دے سکتے ہیں جو پوری دینا کو ہی بدل ڈالے۔ جدید دنیا میں اطلاعات، انفارمیشن بادشاہوں کی چیز ہے۔ مختلف علوم تک رسائی کے باعث آج کا نوجوان نہ صرف اپنا آپ بلکہ پوری دنیا تک بدل کر رکھ سکتا ہے مگر یہ سب کچھ اسکی تربیت پہ منحصر ہے۔ زر صنعتی سماج کا ایندھن تھا مگر اب اطلاتی معاشرے میں یہ ایندھن یا طاقت صرف اور صرف علم ہے ؛اکیسویں صدی میں انفارمیشن کا طوفان امڈ آیا ہے ؛ اسکا ناقابل تصور بہاو دنیا کو علم کے گہوارے کیطرف دھکیل رہا ہے۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

علم سے بڑھ کر کوئی چیز ہے تو وہ عمل ہے ؛ کیونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ ایک حرکت و ارتعاش کے رو پر چل رہا ہے ؛ کائنات کی ہر شے کی زندگی سے آشنائی فقط متحرک رہنے میں ورنہ موت؛ دیدہ دل وا کیجیے اور جس طرف بھی نظر دوڑائیں زمین پر یا آفاق میں قدرت کی ہر شے ایک دعوت عمل دیتی نظر آئے گی ؛ عمل سے ہی نتائج پیدا ہوتے ہیں ۔ موثر عمل کی اہمیت پہچاننے والے فرد کے ہاتھ میں آنے سے پہلے ؛ علم محض ایک امکانی قوت رہتا ہے ؛ جبکہ قوت کی اصل تعریف عمل کرنے کی صلاحیت ہے۔

life

The longer I live, the more I realize the impact of attitude on life. Attitude, to me, is more important than facts. It is more important than the past, the education, the money, than circumstances, than failure, than successes, than what other people think or say or do. It is more important than appearance, giftedness or skill. It will make or break a company… a church… a home. The remarkable thing is we have a choice everyday regarding the attitude we will embrace for that day. We cannot change our past… we cannot change the fact that people will act in a certain way. We cannot change the inevitable. The only thing we can do is play on the one string we have, and that is our attitude. I am convinced that life is 10% what happens to me and 90% of how I react to it. And so it is with you… we are in charge of our Attitudes.

By sumerasblog Posted in Life

نفرت نہیں، محبت

نفرت نہیں، محبت

ہم اپنی زندگی میں نہ جانے کتنی نفرتیں پالتے ہیں۔ محبت بکھیرنے کی بجائے ، فاصلے بکھیڑتے ہیں۔ نفرت نے سوچ کو محدود کیا، رائے و تحقیق کو تعصب کی نگاہ بخشی۔ زندگی کی گوناگونی میں متناقص و متناقض بے چینی پیدا کی۔ ژرف نگاری کے نام پر ضرب کاری ہونے لگی۔ پیدائش کا نطفہ بخیلی سے جنم لینے لگا۔ اسلام کے نام پر کرخت مزاجی بھڑکنے لگی۔

ہم آئے روزمنفی و تخریبی موضوعات پر تحاریرلکھتے ہیں۔اِن منفی موضوعات کومثبت انداز میں تنقید کی نکتہ چینی کی بجائے ؛ اصلاحی رنگ دے سکتے ہیں۔ ہم نفرت پہ تو بات کرتے ہیں۔ اگر نفرت کی ضد محبت سے بات کرے تو ہمارے اذہان و قلوب میں خوب صورت کیفیات ہی مرتب ہو سکتی ہے۔

آج ہمارا ادیب بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اُس کو معاشرہ کی فحش گوئی بیان کرنے کے لیے اب طوائفہ سے معشوقہ کی تلاش ہونے لگی۔ سکینڈل بیان کرتے کرتے معاشرہ کو سکینڈل زدہ بنا دیا۔ کاش! کو ئی ادیب تعمیری سوچ کے ساتھ معاشرہ میں تعمیر بخشے۔ شاعر کی شاعری برہنہ گوئی رہ گئی۔ مقصد و خیال رخصت ہو چکے۔

ہمیں آج تعمیری سوچ کی ضرورت ہے۔ جاہلانہ اذہان دوسروں کی آپسی ملاقاتوں سے بھی بُرا تصور اخذکرتے ہیں۔ شاکی اذہان میں سازش ، بد نگاہوں سے برائی، متلون مزاجی سے وسواس قلوب میں جنم لیتے ہیں۔نہ جانے نفرتیں کہاں کہاں پنپ رہی ہیں۔

لاﺅتزے نے تاﺅ تے چنگ میں فرمایا تھا۔” جب دُنیا جانتی ہے؛ خوبصورتی جیسے خوبصورتی ہے، بدصورتی اُبھرتی ہے،جب جانتے ہیں، اچھائی اچھائی ہے، برائی بڑھتی ہے“

مینیشس نے کہا تھا،” برائی کی موجودگی اچھائی کی شان ہے۔ برائی کی ضد اچھائی ہے۔ یہ ایک دوسرے سے بندھی ہے۔برائی کی کایا اچھائی میں پلٹ سکتی ہے۔ برائی کیا ہے؟ ایک وقت میں تو وُہ ہے،مگر بعدکے کسی دور میں وُہ اچھائی ہوسکتی ہے کسی اور کے لیے۔“

مذاہب محبت کی بات کرتے ہیں۔ عبادت گاہیں محبت کی مرکز ہیں مگر آج فرقوں کے نام پر نفرتیں بٹ رہی ہیں۔ گیتا، جپ جی صاحب، سُکھ منی صاحب، ادی گرنتھ صاحب،تاﺅتے چنگ محبت ہی کی تعلیم دے رہی ہیں۔ یہ اخلاقی تعلیمات کے لازوال شاہکارہیں۔ہر مذہب میں جھوٹ، شراب، جوائ، زنا، جھوٹی گواہی کی پابندیاں عائد ہیں۔ ان سے انحراف معاشرہ میں نفرت کا جنم ہے۔

ناکام معاشرے اپنی خامیوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں، دوسروں کی خوبیوں کی عیب جوئی فرماتے ہیں,۔تنگ نظر اذہان تنگ نظری کی بات کرتے ہیں۔ کچھ لوگ خو د کو راجپوت، سید اور اعوان کہلانے پر فخر کرتے ہیں۔دوسروں کو اپنی احساس کمتری کے باعث کمی کمین کہتے ہیں۔ بھئی فخر کرنے کے لیے ویسے اعمال بھی ہونے چاہیے۔ راجپوت اپنی خودداری، وطن پرستی اور غیرت کی روایات کی پاسداری کرتے تھے ۔کٹھن حالات میں’ جوہر ‘ کی رسم ادا کرتے تھے۔ جب راجپوت اپنا دفاع ناکام ہوتا دیکھتے تو عورتیں بچوں سمیت آگ میں کود پڑتیں تاکہ بے حرمتی کی ذلت سے بچ سکیں۔یوںمرد اپنے گھر بار کی فکر سے آزاد ہوکرآخر دم تک لڑتے ہوئے ؛ وطن کے تحفظ پر جان قربان کر تے تھے۔ دشمن کی فتح تب ہوتی، جب کوئی راجپوت باقی نہ رہتا۔ رانااودے سنگھ، رانا پرتاب سنگھ نے مغل عہد میںراجپوت خودداری کو قائم رکھا۔سید اور اعوان خود کوحضرت علی رضی اللہ عنہ کی اُولاد ہونے پر ناز کرتے ہیں۔ شان تویہ ہیں؛جب اعمال و کردار حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نقش قدم کے مطابق ہو۔ ورنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام سن کر سر شرمندگی سے جھک جائے۔لوگ خود کو سردار، نواب ، راجگان ،ملک،بیگ، خان، رانا، چوہدری اور قاضی وغیرہ کے ناموں سے متعارف کرواتے ہیں۔ ایسے تاریخی سرکاری عہدوں اور القابات کا قبیلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ کیا ہم میں کوئی ایسی خصوصیت ہے کہ ہمیں آج کی سرکار کوئی رتبہ عنائیت فرمائے۔ جب ہم میں ایسی کوئی خاصیت نہیں تو ہم ترقی پانے والے لوگوں کے کم ذات ہونے پر تبصرہ کیوں کرتے ہیں ؟ دراصل ہم اپنی احساس کمتری کو احساس برتری سے چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ غالب کا مصرع ہے:

دِل کو خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

محبت بانٹنے سے بڑھتی ہے اور نفرت سمیٹنے سے پھیلتی ہے۔ نفرتیں مت سمیٹوں۔تعصب کی عینک اُتار کر دیکھو تو سوچ کی وسعت خوب پھیلے گی ۔ ورنہ بند گلی کے بند راہی بنو گے۔

زندگی کا حسن محبت، نعمتِ خداوندی مسکراہٹ ہے۔ بندوں سے تعصب، دِل میں خدا کی محبت کو بھی دور کرتا ہے۔ اللہ سے محبت اللہ کے بندوں سے محبت ہے۔

میرے ذہن میں ایک سوال بچپن سے اُمڈتا ہے۔ اسلام خوش اخلاقی کی عملی تربیت دیتا ہے۔ ہمارے بیشتر مذہبی نمائندگان یا وُہ افراد جو مذہبی جھکاﺅ زیادہ رکھتے ہیں۔ دِن بدن اُنکے مزاج میں کرختگی اور برداشت کی کمی کیوں واقع ہوتی جا رہی ہے؟ اپنے گروہ کے سواءکسی اور کو سلام کرنا گوارہ کیوں نہیں کرتے۔ غیر مذہبی افراد کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا تو سکتے ہیں۔ مگر مسلمان بھائی کے ساتھ بیٹھنا کیوں گوارہ نہیں؟ یہ وُہ عملی مناظر ہے، جس نے آج کے نوجوان کوپریشان کیاہے۔

برصغیر میں مسلمانوں کی آمد اور شاہجہانی دور کی عظمت ایک دِن یا عرصہ کی بات نہیں،یہ صدیوں کے تاریخی تسلسل میں نکلنے والی کونپل تھی، جسکی خوشبو میں نفرت کی بدبو گھٹتی گئی اور محبت پھیلی۔ اردو میل ملاپوں میں آسودہ ہوئی۔ علاقائی تعصبات سے آلودہ ہوئی۔پاکستان میں معاشرتی زندگی کا جو تصور تحریک آزادی میں پیش کیا گیا تھا۔ مذہبی آزادی و رواداری تھا۔ آج مسلکی بنیادوں پر نفرتیں سرائیت کر چکی۔ اے اللہ! ہمیں ایسی تحقیق سے محروم فرما، جس میں ہم تاریخ ِ اسلام کی عالیٰ مرتبت بزرگان کے مسلک کی تلاش کریں۔ ہمیںمسلک کی بنیاد پر نفرت سے بچا۔

مجھے کبھی کبھی افسوس ہوتا ہے۔ غیر جانبدارانہ رویہ بھی موت کا سبب بنتا ہے۔ابن رشد نے یونانی تراجم یونانی رو سے کیے تو ملحد ہوکر خارج الاسلام قرار دیا گیا۔ شہزادہ دارالشّکوہ نے سکینة الاولیاءاور سفینة الاولیاءایام جوانی میں تحریر فرما کر بڑا نام پایا۔ مگر ہندی تراجم ہندوﺅانہ روح سے کرکے مرتد قرار دیکر واجب القتل ٹھہرا اور سولی پر چڑھایا گیا۔ شائید ہر دور کا ارسطو زہر کا پیالہ پینے کو ترجیح دیتا ہے۔ اُس زمانے میں افلاطون نے شہر چھوڑا تھا۔ آج لوگ خاموش ہوگئے ہیں۔

یہ نفرتیں ہی ہیں۔ جنھوں نے ہماری زندگی میں تنہائیاں ہی جنم دی ہیں۔ خوشی اور غمی کے جذبات سے عاری معاشرہ پنپ رہا ہے۔ ہمیں سوچنا ہے ہم اپنی نسل کو کیا منتقل کر رہے ہیں!

ہماری عیدین گزرتی ہیں۔ذرا سوچئے! آپ کتنی خوشیاں بکھیرتے ہیں؟ کتنے چہروں پر مسکراہٹ لاتے ہیں؟کسقدر رخنہ زدہ بندھنوں کو اِک لڑی میں پروتے ہیں؟ کیا عید کے روز ماتھا پہ شکن، گفتگو میں گالم گلوچ، دِل میں بغض، حسد، کینہ اور رویوں میں نفرت ہونی چاہیے؟ عید کے روز خلاف مزاج بات پر سخت الفاظ منہ سے نکالنا بھی میرے خیال میں عید کی توہین ہے۔

کیا ہم سال میں صرف عیدین کے دو ایاّم کو اپنے رویہ سے خوبصورت نہیں بنا سکتے ،جہاں صرف محبت ہی محبت آپ سے مِل رہی ہو؟ معاشرہ کا ردّعمل جو بھی ہو، عید کے روز خود کو محبت کو عملی نمونہ بنائے۔

عید کے روز میرے ایس -ایم-ایس پہ پریشان مت ہوا کریں۔ میں آپ سب سے بھی خوشی بانٹ رہا ہوتا ہوں۔ میں عیدین پر اپنے ہزاروں چاہنے اور جاننے والوں کو نیک تمناﺅں کا پیغام بھیجتا ہوں اور رہونگا۔ لہذا! آپ نہ تو تذبذب کا شکار ہو اور نہ شک میں پڑیں۔ کیونکہ محبت کو شک کھا جاتا ہے۔

(فرخ نور)

مشکل الفاظ کے معنی

گوناگونی : ورائٹی، مختلف اقسام

متناقص: نقص رکھنے والا، ناقص، نامکمل

متناقض: مخالف، برعکس، اُلٹا، خلاف

naseeb

naseeb ki nend bari gehri aur lambi hoti ha.

dhoka dyna sa dhoka khana acha ha. bura to dhoka dyna wala hi hota ha.
By sumerasblog Posted in Life

زندگی سے موت بہتر ہے

: دنیا کے مصائب و آلام سے بیزار ہو کر موت کی تمنا کرنا اوراپنے لئے موت کی دعا کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبتوں کے سبب موت کی آرزو کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے :
عن أنس بن مالك رضى الله عنه قال النبى صلى الله عليه وسلم « لا يتمنين أحدكم الموت من ضر أصابه ، فإن كان لا بد فاعلا فليقل اللهم أحينى ما كانت الحياة خيرا لى ، وتوفنى إذا كانت الوفاة خيرا لى »
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: تم میں کوئی کسی مصیبت کی وجہ سے ہرگز موت کی آرزو نہ کرے اگر وہ موت کی خواہش ہی رکھتا ہے تو یہ دعا کرے
’’ اللَّهُمَّ أَحْيِنِى مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِى ، وَتَوَفَّنِى إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِى
ترجمہ :‘‘ اے اللہ تو مجھ کو حیات عطا فرما جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو اور مجھکو موت عطاء فرما جب وفات میرے لئے بہتر ہو۔
﴿ صحیح بخاری شریف ،باب تمنی المریض الموت ،حدیث نمبر:5671﴾
اگر گناہوں کی کثرت ہو جائے ،فتنے امنڈنے لگیں اور مصیبت میں پڑنے کا خوف ہو تو اپنے دین کو بچانے اور فتنوں سے خلاصی پانے کیلئے موت کی تمنا کرسکتا ہے جیساکہ سنن ترمذی شریف میں حدیث شریف ہے :
عن أبى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ……فبطن الأرض خير لكم من ظهرها ۔
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ……( ایسے زمانہ میں ) زمین کا اندرونی حصہ تمہارے لئے زمین کے بیرونی حصہ سے بہتر ہے۔ ﴿ جامع ترمذی شریف ،حدیث نمبر:2435﴾
الغرض دنیا کے خوف سے موت کی تمنا نہیں کرنا چاہئے ۔

در مختار ج 5 ص 297 میں ہے:
( یکرہ تمنی الموت ) لغضب او ضیق عیش ( الا لخوف الوقوع فی معصیۃ ) ای فیکرہ لخوف الدنیا لا الدین لحدیث فبطن الارض خیرلکم من ظھرھا
اور رد المحتار ‘‘ میں ہے
’’ فی صحیح مسلم « لا يتمنين أحدكم الموت لضر نزل به فإن كان لا بد متمنيا فليقل اللهم أحينى ما كانت الحياة خيرا لى وتوفنى إذا كانت الوفاة خيرا لى ». ﴿ مسلم شریف ،باب كراهة تمنى الموت لضر نزل به،حدیث نمبر:6990﴾
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

مسلمان ہونا کوئی مشکل امر نہیں مگر مسلمان بن کر حدود شرع کی پاسداری کرتے ہوئے زندگی گزارنا دشوار ہے اور صحیح معنوں میں مسلمان وہی ہے جو شرعی احکام و مسائل پر سختی سے کاربند ہو کر کتاب زندگی کی اوراق گردانی کرے۔

پختون کی بیٹی – باب سوئم

پختون والی’

اماجان نے گفتگو شروع کی۔ آج ہم پختون والی کاجائزہ لیں گے۔

پختون یا پٹھان کا اجتماعی رہن سہن ایک رسم و رواج کے مجمو عہ پر منحصر ہے جو ‘پختون والی’ کہلایا ہے۔

پختون والی ، پختون کو ‘ عزت’ کے اصول بتاتے ہیں۔ پختون کے لے ‘ عزت’ بہت اہم ہے۔

ماں بولی ۔ ” پٹھان کے لے ‘ عزت’ زبردست ذمہ دا ری ہے اور وہ عزت یا بے عزتی کو دنیا کی دوسرے معاشروں کی طرح نہیں دیکھتا۔ یہ قوانین پختون کے عمل واعمال پر بہت اثر کرتے ہیں اور ایک پشت سے دوسری پشت پختونوالی کے رسم و رواج پاک سمجھے گے ہیں”۔

پختون کا ایک بہت مشہور شاعر خوش حال خان خٹک کہتا ہے۔”میں اس شخص کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہوں جو اپنی زندگی عزت سے نہ گزارے ۔لفظ عزت مجھکو غصہ دلاتا ہے”۔

“ماں وہ عزت کیا ذمہ داریاں ہیں؟”

” پختون والی کے رسم و رواج پختون پر چار ذمہ داریاں واجب کرتے ہیں “۔

“پہلی، پرانی دشمنیوں اور خون خرابہ کوختم کرنا ہے۔ اور دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنا ہے اور مجرم کو پناہ دینا۔ یہ ‘ ناناواتے ‘کہلاتاہے۔

دوسری، دو فرقوں کے درمیان خون خرابی کو روکنے کیلے جرگہ کا التواے جنگ فیصلہ۔ یہ ‘ تیگا ‘ کہلاتاہے۔

تیسری، انتقام لینے کا فرض ۔ یہ ‘ بدل ‘کہلاتاہے۔

چوتھی، مہمان داری ، عالی ظرفی، دلاوری، سچایئ، سیدھا پن، وطن پرستی، ملک سے محبت اوراسکی خدمت۔ یہ ‘ مل مستیا ‘ کہلاتاہے”۔

ناناواتے

” سعدیہ بیٹا، نانا واتے کے کیا چار مقاصد ہیں؟”

” ایک ، پرانی دشمنیوں اور خون خرابہ کوختم کرنا ہے۔ دو ، دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنا ہے تین، پناہ دینااورچار مہمان نوازی” ۔

ا ماں نے کہا۔”جب ایک لڑنے والا شخص نادم اور شرم گزار ہو کر قبیلہ کے بڑوں کے پاس آتا ہے اور وہ اس بات پر مکمل تیار ہو تا ہے کہ وہ اپنے دشمن کے ساتھ امن سے رہے گا۔ مہمان جو کے بدلہ لیناچاہتا تھا بزرگوں کو صلع و صفایئ کا موقع دےتا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کے مسلہ حل نہ ہو سکے۔ مسلہ حل ہونے کے بعد رحم طلب کرنے والا اپنی اوقات کے مطابق ایک بھینس ، گائے ، کچھ دُنبہ یا بکریاں ذبع کرے سب کی دعوت کرتا ہے”۔

ماں یہ تو ایک شریف النفسی ہے۔ ا س میں کیا خرابی ہے؟ میں نے پوچھا۔

ماں نے کہا۔ ” مجرم کو پناہ دنیا۔ دوسرے معاشرے جو وقت کے ساتھ انسانیت کے اصول میں اصلاح کی طرف کرتے ۔ انہوں نے جرم کرنے دالوں سے پناہ کا حق چھین لیا آپ اگر مجرم ہیں تو آپ کو قانون کے حوالے کیا جائے گا “۔

” کسی بھی پختون کے گھر میںکویئ بھی شخص ، اپنا پیچھا کرنے والے دُشمنوںسے پناہ لے سکتا ہے ۔پناہ لینے والاکسی بھی ذات، عقیدہ، رُتبہ کا ہو، دوست ہو اور یا دُشمن ہو۔”
” میں تم کو اس کی دو مثالیں دونگی”۔ ماں نے کہا۔

پہلی مثال یہ ہے:

” ایک دفعہ پختونستان میں قرضہ دہنے والے او ر قرضہ دارمیں جھگڑا ہوااور قرضہ دینے والا مارا گیا۔

قرضہ دار نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن لوگوں نے تمام راستے بند کردے۔
جب نکل نے کی کو یئ صورت نظر نہیں آیئ تو قاتل نے گاوں کے ٹاور کا رخ کیا اور ٹاور پر پہنچ کر چلایا۔

اللہ کے نام پر مجھ کو پناہ دو۔ ٹاور میں رہنے والے سردار نے قاتل سے معلومات کیں اور اس کو پتہ چلا کے جو شخص قتل ہوا وہ اسکا بھایئ تھا۔

سردار نے کہا ـ” تم نے میرے بھایئ کو قتل کیا ہے، مگر کیوں کے اللہ کے نام پر تم نے پناہ مانگی ہے اس لے اللہ کے نام پر میں تم کو پناہ دیتا ہوں ” ۔ سردار نے قاتل کو اندر آنے دیا۔

جب تعاقب کرنے والے وہاں پہنچے تو سردار نے ان کو سختی سے چلے جانے کو کہا۔جب تعاقب کرنے والے چلے گے اس نے قاتل سے کہا کہ میں تم کو ایک گھنٹہ کا وقفہ دیتا ہوں تم یہاں سے سلا متی سے چلے جاؤ ۔

قاتل اُس وقت تو بچ گیا ۔

کانررے ٹیگا

مقابلہ کرنے ولالے دو قبیلوں کے درمیان خون خرابہ کوختم کرنے کی ایک دوسری رسم ٹیگا کہلاتی ہے۔ ٹیگا کے لغوی معنی ‘پتھر گاڑدینا ‘ہے۔دوسرے الفاظ میں جرگہ ایک دفعہ جب وقعتی صلایئ کرتا ہے تو دونوں طرف لوگ اس کو توڑ نے سے اس لئے ڈرتے ہیں کہ سزا ملے گی۔
اگر ایک طرف کے لوگ ٹیگا کو توڑ تے ہیں تو جرگہ پھر قوت کے زور پر جرمانہ وصول کرتا ہے۔ وہ ٹیگا توڑ نے والے کا گھر جلا دےا جاتا ہے۔ان کو اپنے علاقہ سے نکال دے جاتا ہے۔ یہ کام لشکر کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ لشکر گاوں کی فوج ہوتی ہے۔

میل مستیا

میل مستیا ایک مہمان داری کی رسم ہے۔ یہ مہمان داری دشمن اور دوست اور اجنبی سب سے برابر کی ہوتی ہے۔

ہرگاوں میں ایک سب کے ملنے کی جگہ ہوتی ہے جسے ‘ہجرہ ‘ کہتے ہیں۔مہمان عموماً ہجرہ میں ٹہرتے ہیں۔ میزبان ، مہمان کے لے دنبہ یا بکرا کا گوشت تیار کرتا ہے اور حلوہ تیار کرتا ہے۔ اگر میزبان اس قابل نہیں کے دنبہ یا بکرا کرے تو وہ مرغی بنا تا ہے۔
ہار کالا راشا، پا خیر راغلے ، ایستارے ماشے ، اور تاکررا یے ۔ انکا مطلب ہے کہ ہمشہ آو، خوش آمدید، امید ہے کہ تم تھکے نہ ہو۔ کیا تم اچھے ہو؟ مہمان خوشی سے کہتا ہے۔ پا خیر اوسے، خدایا دے مال شا، خوش حا اوسے، ما خوارے گے۔ جن کا مطلب ہے۔ خدا تم کو حفاظت سے رکھے، خدا تمہارے ساتھ ہو، تم خوش حال اور خوش رہو، تم بے حس نہ ہو۔ پہلے چائے پیش کی جاتی ہے اور پھر حلوہ، پلاؤ اور دوسرے لوازمات۔ جب مہمان رخصت ہوتاہے تو پا مخا دے خا۔تمہارا سفر بغیر خطرہ اور اچھا رہے۔
ہر مہمان سارے گاؤں کا مہمان سمجھا جاتاہے۔ اور ہجرہ میں سب اس کی دیکھ بال کرتے ہیں۔اور مہمان دسترخوان پر گاوں کے بڑوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتا ہے۔ پختون کا اصول ہے کہ مہمان اگرچے کے اسکا پیٹ بھرا ہو پھر بھی گاوں کے لوگوں کے ساتھ کم از کم کچھ لقمے کھائے۔ کھانے کے بعد نماز اور مہمان کی خوش حالی اور مہمان نوازی کیلے دعا ما نگی جاتی ہے۔

ڈاکٹر پینل بنوں اور اس کے اردگرد کرے علاقے میں ایک میشنری ڈاکٹر تھا۔ وہ لکھتا ہے۔ ـ” ایک موقع پر وہ اور اسکا ایک ساتھی ایک گاؤں میں رات کو دیر سے پہنچے۔ سردار گھر پر موجود نہیں تھا اسکا لڑکا بڑے خلوص سے ملا اور فوراً مرغ اور پلاؤ بنواکر پیش کیا۔ سردار رات کو گھر دیر سے پہنچا۔ جب اس کو پتہ چلا کہ بنوں کے پادر صاحب اسکے مہمان ہیںاور اس کے لڑکے نے صرف مرغ اور پلاؤ کھانے میں پیش کیےئ اس نے فوراً باورچی سے دنبہ ذبع کروا کر پکوایا۔

ماں نے مجھ سے پوچھا ۔پختون کی مہمان نوازی کی کیا خصوصیات ہیں؟

میں نے جواب دیا۔ ” ایک ۔ دوست ، دشمن یا اجنبی ہر شخص کے ساتھ مہمان نوازی ۔ دو۔ ہجرہ میں مہمان کو ٹھرانا۔ تین ۔ حیثیت کے بڑھ کر کھانابنانا۔ چار ۔ مہمان، پورے گاوں کا ہویا ہے۔ پانچ۔ مہمان گاوں کے بڑوں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ کم از کم کچھ لقمے کھائے۔ چھ۔ کھانے کے بعد نماز اور مہمان کی خوش حالی اور مہمان نوازی کیلے دعا ما نگی جاتی ہے۔

٭٭٭

” پاکستان کے شمال مغرب میں کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔ اس سرحدی علاقے میں ٧ مشہور درہ ہیں۔ درہ خیبر، درہ مالاکند ، درہ گنداب، درہ کوہاٹ، در ہ نیگاش، در ہ گومل ، در ہ ٹوچی اور درہ بولان۔ پانچ دریا ہیں۔ پختونیستان میں دریا سوات، دریاخرم ، دریاٹوچی اوردریا گومل بہتے ہیں۔ پختونیستان میں رہنے والے پشتون، پختون اور پھٹان کہلاتے ہیں۔

پختون کون ہیں اور کہاں سے اس علا قہ میں آے کسی کو اس کا صحیح پتہ نہیں۔ لیکن ان کے مطلق چار قیاس آرایئ ہیں۔

مشہور عالم البیرونی نے جو دسویں صدی میں غزنی میںرہا ‘ اس نے تاریخ الہند ‘ میں پختون کے مطلق لکھا ہے۔ ” ایک باغی اور جنگلی قوم ہندوستان کے مشرق میں بستی ہے۔”

میجر ارٹی ای ریج وے نے اٹھارویں صدی میںاپنی کتاب ‘پھٹان’ میں لکھا۔ پھٹان حضرت سلیمان کے سپہ سالارجےر ے مایہ کے بیٹے افغانہ کی اولاد ہیں” ۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ جوزف کی اولاد ہیں۔ جوزف کا قبیلہ اُن دس یہودی قبیلوں میںشمار ہوتا ہے جو کھوئے ہوے لوگ کہلاتے ہیں۔

بعض تاریخ دان کہتے ہیں کے پختون کے نقش و نگا ر اُن قومیں سے جو دریا سندھ کی دوسری طرف رہتی ہیں ملتے ہیں۔ان میں ترکی اور ایران بھی شامل ہیں۔

اور دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ پٹھان قوم عرب سے قریب ہیں۔جب ہم عرب اور پھٹان قوم کی قبیلہ بندی اور سماجی استعمال کا مطالحہ کتے ہیں تو دونوں میں حیرت انگیز مشاہبت ہے۔

اسلام سے پہلے عرب میں بھی آذادی سے عشق، شجاعت، برداشت، مہمان نوازی، اور انتقام لینا کے فرض موجود تھے۔

پختون مرد عموماً ڈھیلی قمیض اور شلوار پہنتا ہے اور ایک بڑی پھگڑی بانتا ہے۔اپنے کندھے پر ایک چادر اور ایک رائفل رکھتا ہے۔ پختون عورتیں عموماً چھاپے ہوے کپڑے پہنتی ہیں۔

تمام حملہ آور ایرانی، یونانی، ترکی، مغل، افغانی، سکھ اور انگریز جنہوں نے شمالی ایشا کو فتع کیا پختون کو نہ ہرا سکے۔

پہاڑی پختونً یوسف زایئ، محمند، آفریدی، شنواریز، آرکزایئ، توریس، بانگاش، خٹک، وزیر، اورمسحود ، مرد وں کی سوسائٹی ہے اور نئے قوانین کو بلکل نہیں مانتے پختون بڑے مغرور لوگ ہیں۔ پختون لیڈر خان ولی خان نے ایک دفعہ کہا۔ ” میںپانچ ہزار سال سے پختون ہوں اور مسلمان چودہ سو سال سے اور پاکستانی صرف چالیس سال سے” ۔

دو خیال ۔

‘مہمان نوازی’ اور مجرموں کو پناہ دینا دونوں مختلف ہیں وہ ایک چیز نہیں ہیں۔ پختون کے علا قہ اورپختون کی فلاح و بہبود کے لے ـ ان کو علیحدہ کرنا چائیے۔

اسلام

علم فقہ کی بنیاد تین چیزوں پر ہے۔

اقران کا قانون بنانے والا حصہ،
سنّت۔جس طرح رسول نے اپنی زندگی گزاری ،
حدیث ، روایت پر
ایک حدیث میں رسول نے کہا۔ “مذہب وہ نہیں ہے جو آپ رسموں کی طرح باقاعدہ مشق کرتے ہیں بلکہ وہ ہے جو آپ اپنا تے ہیںاورایک دوسرے سے حصہ کرتے ہیں۔

سماجی طریقہ اور اسلامی اخلاقیات

ایک دفعہ حضور صلم مسجد میں داخل ہوے اور دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص تسبیح پڑھ رہا ہے۔ حضور صلم کو بتایا گیا کہ یہ شخص سارا دن مسجد میں گزار تا ہے اور دوسروں کو بھی تبلیغ کرتا ہے۔تو حضور صلم نے پوچھا۔کہ یہ اپنی روزی کیسے کماتا ہے۔ حضور صلم کو بتایا گیا کہ ا یک خدا پرس تاجر اسکے اخراجات ادا کرتا ہے۔ حضور صلم نے کہا ان دونوں میں تاجر کا درجہ بڑا ہے۔

ایک حدیث میں یہ کہا گیا ہے۔ حضور صلم نے فرمایا۔ “اگرکویئ تمہارے درمیان کسی کو غلطی کرتا دیکھے تواسکا فرض ہے کہ ہاتھوں یعنی عمل، خوش اطوار، اصرار سے اسکو صحیح کرے۔ اگر نہیں تو پھر زبان سے یعنی اس کے خلاف بولے۔اگر تب بھی غلطی موجود رہے تو خاموشی سے ناپسندید گی کا اظہار کرے اور اگرسامنے نہیں تو دل میں کرے ۔ دل میں ناپسندید گی کا اظہار کا درجہ واثق کی نشانی ہے۔

]اسلام ، بالغیت، عورت اور شادی۔

١۔ اسلا م میںچار عورتوں تک شادی جایئز ہے۔ ” اگر یہ خوف ہے کہ تم یتیموں(جن کو تم نے رکھا) کے ساتھ انصاف نہ کرو گے تو جو تم کو اچھی لگیں ان دو یا تین یا چارعورتوں سے شادی کرلو۔اگر تم ان کو حق نا دے سکو تو ایک سے شادی کرو۔ “(سورۃ ا لنساء )

٢۔ اسلام میں عورت کو ڈاوری یا مہر یا والور دینا جایئز ہے۔ ” اور عورتوں کو ڈاوری کا تحفہ دو۔لیکن اگر اپنی مرضی سے اسکے کچھ حصہ تم کو دیںتو تم اس کو خوشی سے لے لو۔” (سورۃ ا لنسا ء )

٣۔اسلام میں لڑکی اپنی پہلی ماہواری کے بعد بالغ کہلاتی ہے۔ بعض علاقوں میں لڑکیوں کی ماہواری ٩ سال سے ١٢ سال کی عمر میں ہوتی ہے۔ ” کچھ اور تمہاری عورتیں جو کے ماہواری سے گزر چکی ہیں۔اگر تم کو شک ہو تو تین مہینہ کا انتظارکروـ” (سورۃ ا لنسا ئ)

٤۔” یتیموں کو جانچوں اگر وہ شادی کی عمر کے ہیں اور تم ان کو سمجھ دار سمجھتے ہو توان کو ان کی ملکیت واپس دے دو۔” (سورۃ ا لنسا ء )

٥ـ ” اور مرد بالغ جب ہوجاتا ہے جب وہ چالیس سال کا ہوجاتاہے۔”(سورۃ الاحقاف)

محراب و منبر – قرآن پاک کی نظر میں بےوقوف کون ہیں؟

اَلحَمدْ لِلہِ وَکَفٰی وَسَلاَ م عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِینَ اصطَفٰی اَمَّا بَعدْ

فَاَعْوذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیمِ

بِسمِ اللہ ِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ

وَ ذَرْوا ظَاھِرَ الاِثمِ وَ بَاطِنَہ وَ قَالَ تَعَالٰی اِن اَولِیَاء ْ ہ اِلَّا المْتَّقْونَ وَقَالَ رَسْولْ اللہِ صَلَّی اللہْ تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّمَ لَا بَاسَ بِالغِنَاء ِ لِمَنِ اتَّقَ اللہَ عَزَّوَجَلَّ وَقَالَ رَسْولُ اللہِ صَلَّی اللہْ تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّمَ

مَنِ اتَّقَ اللہَ صَارَ اٰمِنًا فِی بِلَادِہ

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان اور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ابھی آپ کو سنائے جائیں گے لیکن اس سے پہلے ایک سنت کی تعلیم دیتا ہوں۔ جب چراغ بجھ جاتا تھا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اِنَّا لِلہِ پڑھتے تھے، کانٹا چبھ جائے، جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے یا چراغ بجھ جائے ان سب مواقع پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اِنَّا لِلہِ پڑھنا ثابت ہے۔ علامہ آلوسی السید محمود بغدادی نے اپنی کتاب تفسیر روح المعانی میں اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعْونَ کی تفسیر میں یہ حدیث بیان فرمائی ہے:

کْلّْ مَا یُؤذِی المْومِنَ فَھْوَ مْصِیبَۃٌ لَہ وَ اَجر

ہروہ چیز جس سے مومن کو تکلیف پہنچے مصیبت ہے اور اس پر مومن کے لیے اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مومن کو جب کوئی مصیبت پہنچے تو وہ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعْونَ پڑھ لے۔ آج کل تو لوگ موت ہی پر اِنَّا لِلہِ پڑھتے ہیں، اگر کسی اور موقع پر کسی نے اِنَّا لِلہِ پڑھ لیا تو سب گھبرا جاتے ہیں کہ بھئی کس کا انتقال ہوگیا حالانکہ یہ بات نہیں ہے بلکہ جو بات مومن کو تکلیف دے وہ مصیبت ہے اور اس پر اِنَّا لِلہِ پڑھنا سنت ہے۔

سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ان مواقع پر اِنَّا لِلہِ پڑھا کرتے تھے، عِندَ انطِفَاء ِ السِّرَاجِ، انطفاء بجھنے کو کہتے ہیں یعنی چراغ کے بجھنے پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اِنَّا لِلہِ پڑھا کرتے تھے، وَ عِنْدَ لَسعِ البَعْوضَۃِ جب مچھر کاٹتا تھا تو اس وقت بھی اِنَّا لِلہِ پڑھتے تھے، عِندَ انقِطَاعِ الشَّسَعِ جوتے کا تسمہ ٹوٹنے پر اِنَّالِلہِ پڑھتے تھے، اسی طریقے سے عِندَ لَدغِ الشَّوکَۃِ کانٹا چبھ جانے پر بھی آپ اِنَّا لِلہِ پڑھتے تھے۔ غرض آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے چھوٹی چھوٹی تکلیف پر اِنَّا لِلہِ پڑھا ہے۔

چونکہ میں نے یہ حدیث سنی ہوئی تھی لہٰذا جب ہمارے یہاں بجلی فیل ہوتی ہے تو میں اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعْونَ کی سنت ادا کرتا ہوں، بجلی فیل ہونے سے گھر میں جو اندھیرا ہوتا ہے اس اندھیرے میں یہ سنت ادا کرنے سے اس سنت کا نور ہمارے دل میں غالب ہوجاتا ہے اور دل میں ایک ٹھنڈک سی محسوس ہوتی ہے اور جو اس سنت پر عمل نہیں کرتے جیسا میں نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ جب بجلی فیل ہوئی تو کے ای ایس سی والوں کو گندی گندی گالیاں دیتے ہیں۔ اب فرق دیکھئے! کچھ لوگ کے ای ایس سی والوں کو گالیاں دے رہے ہیں اور کوئی سنت ادا کررہا ہے۔ تو تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ انسان میں کتنا فرق ہوجاتا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازتے ہیں اس کا غم بھی اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بن جاتا ہے، بجلی فیل ہونے سے غم ہوتا ہے، تکلیف ہوتی ہے مگر سنت کی اتباع کی برکت سے وہ تکلیف بھی لذیذہوجاتی ہے

آلامِ روزگار کو آساں بنا دیا
جو غم ملا اْسے غمِ جاناں بنا دیا

آلام جمع ہے الم کی، اللہ تعالیٰ سے جب تعلق نصیب ہوتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اپنے بندے کے ہر غم کو لذیذ کردیتے ہیں۔ جیسے کڑوے خربوزے کو سکرین لگی چھری سے کاٹو تو سارا خربوزہ میٹھا ہوجاتا ہے، اور یہ سکرین کس نے پیدا کی؟ اللہ تعالیٰ نے۔ جب شکر میں یہ خاصیت ہے کہ وہ کڑوے خربوزے کو میٹھا کردیتی ہے تو اللہ تعالیٰ جو شکر کا خالق ہے ان کا نام لینے میںیہ خاصیت نہ ہوگی کہ ہمارے غم کو میٹھا کردے؟ افسوس کہ آج ہم اپنی مٹھاس کو اللہ کی نافرمانیوں میں تلاش کررہے ہیں، کم از کم یہ احساس تو ہو نا چاہیے کہ خدائے تعالیٰ کی نافرمانیوں میں سوائے عذاب کے، اللہ کے غضب اور بے چینی کے کچھ نہ ملے گا۔

اگر گناہوں کا مرض شدید ہو تو مجاہدہ کرو، جس کو کوڑھ ہوجاتا ہے تو کیا وہ خود کشی کرلیتا ہے؟ اگر مرض جلد اچھا نہیں ہوتا تو بھی صبر سے علاج کرتا ہے۔ اسی طرح اگر نظر بچانے میں شدید تکلیف ہو تو مجاہدہ کرو۔ مولانا اسعد اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ شیخ الحدیث مظاہر العلوم سہارنپور حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اور میرے شیخ ابرار الحق صاحب دامت برکاتہم کے استاذ جو شاعر بھی تھے اور بڑے ہی اللہ والے تھے، وہ فرماتے ہیں کہ لوگ مجبوریوں کا بہانہ کردیتے ہیں کہ صاحب آج کل بہت مشغولی ہے اس لیے ذکر چھوٹا ہوا ہے، ان سے کہہ دو کہ آج مشغولی کی وجہ سے روٹی بھی چھوڑ دو، اس نے مشغولی میں ناشتہ کیوں نہیں چھوڑا؟ جسمانی غذا کو تو نہیں چھوڑا مگر جس روح کے صدقے میں آج چائے انڈا کھا رہے ہیں اس روح کو ناشتہ نہ کرانا، اس کو اللہ کے ذکر کی غذا نہ دینا روح کو مردہ کرنا ہے۔ اسی کو مولانا اسعد اللہ صاحب فرماتے ہیں

گوہزاروں شغل ہیں دن رات میں
لیکن اسعد آپ سے غافل نہیں

یہی تو اﷲ والوں کا کمال ہے کہ دنیا کے ہزاروں شغل میں بھی اﷲ کو یاد رکھتے ہیں۔ دیکھو! ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ ایک لاکھ حدیث کے حافظ، چودہ جلدوں میں بخاری شریف کی شرح فتح الباری لکھی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کا ذکر فرشتوں کے ذکر سے افضل ہے، یہ بخاری شریف کی شرح فتح الباری کی عبارت نقل کررہا ہوں۔ وہ پیری مریدی یا وہ تصوف جو قرآن و حدیث کی تفسیروں سے اور شرحوں سے ثابت نہ ہو، اللہ کے کلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں جو تصوف نہ ہو وہ تصوف مقبول نہیں ہے۔ تصوف تو نام ہے اللہ کی عبادت میں محبت کی چاشنی ملادینے کا۔

جو عبادت خشک ہو جس میں محبت کی چاشنی نہ ہو اس کی مثال ایسی ہے جیسے چاول بغیر سالن کے۔ میرے شیخ شاہ عبد الغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ پورب کا ایک مجذوب اللہ تعالیٰ کے قرب اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی لذت سے کچھ دن کے لیے محروم کردیا گیا، اس حالت کا نام حالتِ قبض ہے۔ تو وہ مجذوب روتا تھا اور اپنی پوربی زبان میں کہتا تھا کہ’’ دلیا بنا بھتوا اداس موری سجنی‘‘ یعنی دال کے بغیرمیرا چاول بے مزہ ہے۔

سالک پر دو حالتیںپیش آتی ہیں حالتِ قبض اور حالتِ بسط۔ حالتِ بسط میں عبادت میں مزہ آتا ہے جبکہ حالتِ قبض میں دل گھبرایا گھبرایا سا رہتا ہے، عبادت میں مزہ نہیں آتا مگر حالتِ قبض کا درجہ حالتِ بسط سے زیادہ ہے کیونکہ حالتِ قبض میں ناز ٹوٹ جاتا ہے، عجب و تکبر ٹوٹ جاتا ہے، آدمی کہتا ہے کہ ہائے ہم تو کچھ بھی نہیں، اپنی عبادت کو بالکل ہی حقیر نظروں سے دیکھتا ہے کہ ہائے یہ میں کیا کرتا ہوں۔ تو مزہ نہ آنے سے ناز و عجب ٹوٹ جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ استقامت کے ساتھ رہتا ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان ہوتا ہے کہ یہ بندہ عبد اللطف ہے یا عبداللطیف ہے یعنی مزے کا غلام ہے یا ہمارا غلام ہے، جب اس کو مزہ ملتا ہے تب ہمارا نام لیتا ہے جب مزہ نہیں ملتا تو ہماری غلامی کو چھوڑ دیتا ہے، یہ امتحان ہوتا ہے۔ اسی لیے علامہ ابوالقاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کی دعا فوراً قبول ہوگئی ابھی مانگا اور شام تک قبول ہوگئی، اب وہ مارے شکریہ کے خوب عبادت کررہا ہے لیکن لَقَد قَامَ بِحَظِّ نَفسٍ یہ اللہ کے سامنے اپنے نفس کی خوشی کی وجہ سے کھڑا ہے اور جس کی دعا قبول نہیں ہوئی، غمزدہ آدمی ہے، شکستہ دل ہے، ٹوٹا ہوا دل ہے وہ اگرچہ نامراد اور ناشگفتہ ہے مگر

وہ نامراد کلی گرچہ ناشگفتہ ہے

ولے وہ محرمِ رازِ دل شکستہ ہے

یہ میرا شعر ہے۔ اب آپ کو ٹوٹے ہوئے دل کی قیمت معلوم ہوئی۔ حدیثِ قدسی ہے:

اَ نَا عِندَ المْنکَسِرَۃِ قْلْوبُھُم

(مرقاۃْ المفاتیح، کتابْ الجنائز، باب عیادۃ المریض)

اس حدیث کی تطبیق اور سند کی تائید محدثِ عظیم ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں کی ہے اور لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں ٹوٹے ہوئے دل میں رہتا ہوں۔ یہ جو لوگ پوچھتے ہیں کہ اللہ میاں نے خواہشات کیوں پیدا کیں جب ان کو توڑنا تھا؟ اس کا جواب اسی حدیث میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے دل میں تقاضے اور خواہشات اس لیے پیدا کیں کہ ان میں جو تقاضے اور خواہشات اللہ کی مرضی کے خلاف ہیں بندہ ان کو توڑ دے یعنی اپنے دل کو توڑدے اور اس ٹوٹے ہوئے دل میں اللہ کو حاصل کرتا رہے۔ خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

نہ گھبرا کوئی دل میں گھر کر رہا ہے

مبارک کسی کی دل آزاریاں ہیں

اور فرمایا کہ اﷲ کی یاد کے صدقے میں غموں کا کیا حال ہوتا ہے؟ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں ان کے غم بھی میٹھے کردئیے جاتے ہیں۔ فرماتے ہیں ؎

سوگ میں یہ کس کی شرکت ہوگئی

بزمِ ماتم بزمِ عشرت ہوگئی

اللہ کے نام کے صدقے میں اللہ کے راستے کے غم بھی لذیذ ہوجاتے ہیں لیکن اگر غم میں کسی اﷲ والے کے آنسو نکل آئیں تو یہ نہ سمجھو کہ یہ باباکے دعویٰ کے خلاف ہے کیونکہ یہ تو رو رہے ہیں۔ حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے مصیبت میں رونا بھی ثابت ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تو سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے تھے اور فرمارہے تھے اِنَّا بِفِرَاقِکَ یَااِبرَاھِیمُ لَمَحزْونْونَ اے ابراہیم! میں تمہاری جدائی سے غمزدہ ہوں اور آپ کے آنسو بہہ رہے تھے لیکن دل میں اللہ کی تسلیم سے چین ہوتا ہے، لطف ہوتا ہے، لذت ہوتی ہے۔

اس لیے میرے دوستو! تسلیم کی برکت سے جب اللہ کی مرضی پر بندہ راضی رہتا ہے تو جیسے کوئی مرچ والا کباب کھائے اور مرچوں کی وجہ سے سی سی کرے اور آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہوں اور جو پاس بیٹھا ہو وہ یہ کہے کہ آپ تو مصیبت زدہ معلوم ہورہے ہیں، آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں، یہ کباب آپ کیوں نوش کررہے ہیں؟ اس بلا کو چھوڑ دیجئے۔ تو وہ کہے گا کہ بیوقوف یہ بلا نہیں ہے، یہ آنسو مزے کے ہیں، لذت کے ہیں، یہ مصیبت کے آنسو نہیں ہیں ،اللہ والے اگر کبھی رو بھی پڑیں تو ان کی آنکھیں روتی ہیں دل تسلیم ورضا کی لذت سے مست ہوتا ہے ؎

حسرت سے میری آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں

دل ہے کہ ان کی خاطر تسلیمِ سر کیے ہوئے

آرزو کے شکست ہونے سے آنسو بہہ سکتے ہیں کہ مراد پوری نہیں ہوئی لیکن علامہ ابو القاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ جو بہت بڑے اولیاء اللہ میں سے ہیں اور حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ جو لاہورمیں مدفون ہیں ان کا اور علامہ ابو القاسم قشیری کا زمانہ ایک تھا۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ جس کی دعا قبول نہیں ہوئی، آرزو کی تھی مگر اللہ نے بظاہر وہ آرزو پوری نہیں کی یعنی جو دعا مانگی تھی اس کا ظہور نہیں ہوا، لیکن پھر بھی اللہ کی عبادت کیے جارہا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا بہت محبوب بندہ ہے، اللہ کے نزدیک اس کا بہت بڑا درجہ ہے۔

مومن کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی، محدثین لکھتے ہیں کہ دعاکی قبولیت کی چار قسمیں ہیں، چاہے تو جو مانگا اﷲ وہی دے دیں، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس سے بہتر چیز عطا کر دیتے ہیں، کبھی دنیا میں نہیں دیتے آخرت میں اس کا بدل دے دیتے ہیں اور کبھی اس کے بدلے میں کوئی بلا و مصیبت ٹال دیتے ہیں۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی قبولیت کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ دعا فوراً قبول ہوجاتی ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں اْدعْونِی اَستَجِب لَکْم ہم سے مانگو، ہم قبول کریںگے۔

لیکن قبولیت کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں جو ابھی بیان ہوئیں جو زبانِ نبوت سے اس آیت کی تفسیر ہے اس کی وضاحت کے لیے ایک مثال بھی سن لیجیے کہ جیسے بچہ ابا سے اسکوٹر مانگتا ہے اور ابا کار خرید دیتا ہے تو کیا اس کی درخواست قبول نہیں ہوئی؟ بیٹے نے سو روپیہ مانگا ابا نے پانچ سو روپیہ دے دیا تو کیا اس کی یہ بات قبول نہیں ہوئی؟ تو کبھی اللہ تعالیٰ وہ چیز نہیں دیتے جو بندہ مانگتا ہے بلکہ اس سے بہتر چیز دے دیتے ہیں اور کبھی اللہ تعالیٰ دیر سے دیتے ہیں تاکہ بہت دن تک ہم سے دعائیں مانگتا رہے، ہماری چوکھٹ پر گڑگڑاتا رہے، روتا رہے ورنہ جہاں دعا قبول ہوئی فوراً یہ جا، وہ جا۔ اور کبھی اللہ تعالیٰ اس دعا کا بدلہ قیامت کے دن دیںگے اور اتنا دیں گے کہ حکومتِ سعودیہ بھی اتنا بدلہ نہیں دے سکتی۔ جب حرم کی توسیع ہوتی ہے (اس میں دونوں حرم شامل ہیں خواہ مدینے کا حرم ہویا مکہ شریف کا ہو) تو اس توسیع میں اگر کسی کا مکان آجاتا ہے تو حکومتِ سعودیہ ایک لاکھ ریال کے مکان کے بدلے پچاس لاکھ ریال دیتی ہے، اتنا دیتی ہے کہ لوگ تمنائیں کرتے ہیں کہ کاش میرا مکان حکومت کی توسیع میں آجائے۔

شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ اے میرے بندے تیری کون کون سی دعائیں قبول نہیں ہوئیں جو تو نے دنیا میں مانگی تھیں پھر اللہ تعالیٰ اس کا اتنا بدلہ دیں گے کہ یہ شخص کہے گا کہ کاش دنیا میں میری کوئی دعا قبول ہی نہ ہوئی ہوتی۔ اس لیے اگر دعا کا ظہور نہیں ہورہا تو دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے، اﷲ سے مانگنا ہی کیا کم لطف ہے جو آپ دعا کے ظہور ہونے کا بھی انتظار کررہے ہیں۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎

از دعا نبود مرادِ عاشقاں

جز سخن گفتن بآں شیریں دہاں

دعا مانگنے سے بہت سے عاشقوں کی مراد سوائے اس کے کچھ نہیں ہوتی کہ اسی بہانے اس محبوبِ حقیقی سے لذت مناجات اور گفتگوکا موقع مل جاتا ہے، اللہ کے عاشق انتظار نہیں کرتے کہ دعا کب قبول ہوگی، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دعا مانگنے ہی میں مست ہوتے ہیں، اﷲ کے ساتھ مناجات کی لذت میں ان کو اتنا مزہ آتا ہے کہ خواجہ صاحب فرماتے ہیں ؎

امید نہ بر آنا امید بر آنا ہے

ایک عرضِ مسلسل کا کیا خوب بہانہ ہے

اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعاوں کے لیے ان کے حضور ہمارے ہاتھ اْٹھتے رہیں یہ کیا کم اعزاز ہے۔ ڈاکٹر عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جب مومن دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے، تو یہ ہاتھ خدا کے سامنے ہوتے ہیں اور ساری کائنات ان کے نیچے ہوتی ہے، کیا بات فرمائی سبحان اللہ! دعا مانگنے والے کا یہ مقام میں نے حضرت ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے خود سنا فرمایا کہ جب بندہ دعا کے لیے اﷲ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے تو ساری کائنات اس کے ہاتھوں کے نیچے ہوتی ہے اور وہ خداکے سامنے ہوتا ہے، کیا یہ کم نعمت ہے؟ ہاں! اللہ سے امید رکھے کہ شاید اب قبول ہوجائے، شاید اب قبول ہوجائے۔

تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اُدعْونِی اَستَجِب لَکْممجھ سے مانگو، میں قبول کروں گا۔ سرورِعالم صلی اللہ علیہ وسلم جن پر قرآن نازل ہوا، جن کی ذاتِ پاک اور ذاتِ گرامی پر یہ آیت نازل ہوئی اْن ہی نے اس کی تفسیر بیان فرمائی۔ اگر کوئی کہے کہ صاحب ہم نے تو بہت دعا مانگی لیکن ہماری دعا تو قبول نہیں ہوئی تو نعوذباللہ کیا قرآن غلط ہو جائے گالہٰذا یہ سب قبولیت کی قسمیں ہیں، ہوسکتا ہے جو مانگا ہے اﷲ تعالیٰ اس سے بہتر دے دیں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص کہتا ہے کہ اللہ میاں ہماری شادی بہت حسین عورت سے ہوجائے

نازْکی اْس کے لب کی کیا کہیے

پنکھڑی ایک گلاب کی سی ہے

وہ اللہ میاں کو دیوانِ غالب پیش کررہا ہے،کہ مجھے ایسی بیوی چاہیے، چہرہ کتابی چاہیے جیسے اخباروں میں رشتے کے طالبین لکھتے ہیں کہ چہر ہ کتابی ہونا چاہیے لیکن اللہ نے اس معیار کی حسین بیوی نہیں دی بلکہ اس کے بدلے دیندار بیوی دے دی۔ اسی لیے حدیث میں ہے کہ دین کو زیادہ اہمیت دو حسن کو زیادہ اہمیت مت دو کیونکہ حسن عارضی ہے جبکہ سیرت سے ساری زندگی سابقہ پڑے گا۔ اگر بیوی سیر ت کی کٹکھنی ہے، تو تو کرنے والی ہے تو بھی صبر سے کام لو، صورت کب تک رہے گی، چند بچے ہوجانے کے بعد صورت میں تبدیلی ہوجاتی ہے پھر آخر میں سیرت ہی سے پالا پڑے گا لہٰذا جس میں دین زیادہ ہو اس کو تر جیح دو اور اگر دونوں چیزیں ہیں تو پھر سبحان اللہ۔

لیکن میرے دوستو! بعض نالائق اور بددین لوگ حسن کو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ چاہے فلم ایکٹر ہو، چاہے بے پردہ اور مخلوط تعلیم سے اس کے بالکل ہی اخلاق نہ ہوں مگر ایک نظر دیکھا اور پاگل ہوگئے، یہ شخص واقعی پاگل ہے جو صورت کو دیکھتا ہے اللہ کے تعلق کو نہیں دیکھتا۔ اس کو یہ دیکھنا چاہیے کہ بیوی کو اللہ تعالیٰ سے کتنا تعلق ہے، وہ تلاوت کرتی ہو، نماز پڑھتی ہو، دیندار ہو ورنہ اگر شوہر بیمار پڑ گیا تو بھاگ گئی، شوہر پر فالج گر گیا تو ایک دو تین ہوگئیں، جب دیکھا کہ شوہر بے کار ہوگیا ہے تو طلاق لے کر دوسرے سے شادی کرلی۔ اس لیے اگر وفاداری چاہیے تو دین دیکھو۔

امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں آپ کو معلوم ہے کہ کتنے حسین تھے۔ علامہ شامی ابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ کتاب الحظر و الاباحۃ جلد نمبر پانچ میں لکھتے ہیں کہ امام محمد اتنے خوبصورت تھے کہ ان کی طالبِ علمی کے زمانے میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ان کو اپنے پیچھے بٹھاتے تھے تاکہ ان پر نظر نہ پڑے، نظر کی حفاظت کرتے تھے، اَنَّ اَبَاحَنِیفََۃَ رَحِمَہْ اللہُ تَعَالٰی کَانَ یُجلِسُ اِمَامَ مْحَمَّدٍ فِی دَرسِہ خَلفَ ظَہرِہ مَخَافۃ عَینِہ مَعَ کَمَالِ تَقوَاہ یعنی امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کمالِ تقویٰ کے با وجود امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ کو اپنے درس میں پیچھے بٹھاتے تھے، آ نکھوںکی چوریوں کے خوف سے کہ کہیں آنکھیں خیانت نہ کر جائیں۔ علامہ شامی امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے کمالِ تقویٰ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جس نے چالیس برس عشاء کے وضوء سے فجر کی نماز پڑھی ہو اس کے بارے میں کیا سو چ سکتے ہو؟ لیکن دیکھ لیں کہ یہ ان حضرات کا تقویٰ تھا، یہ چاہتے تھے کہ آنکھوں سے کسی قسم کی خیانت کا شائبہ بھی نہ ہو، یہ اْمت کوسبق دے گئے۔

آج کل لوگ کہتے ہیں کہ ہم اتنی نظر بچائیں گے تو لوگ کہیں گے کہ کوئی بیمار طبیعت کاآدمی معلوم ہوتا ہے، اس میں قوتِ ضبط نہیں ہے حالانکہ یہ سب حماقت کی باتیں ہیں۔ بتائیے! آج اس تقویٰ کی بدولت امام صاحب کی تعریف ہورہی ہے یابدنامی ہورہی ہے؟ تعریف ہورہی ہے کہ نہیں۔ اس لیے سمجھ لو کہ جو اساتذہ اپنے شاگردوں سے احتیاط کرتے ہیں وہی شاگرد بڑے ہوکر استاد کی تعریف کرتے ہیںکہ ہمارے استاذ نے بچپن میں ہم کو آنکھ اْٹھا کر نہیں دیکھا، احتیاط کی۔

امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ نے شادی کے بعد چھ کتابیں لکھیں سیر کبیر، سیر صغیر، جامع کبیر، جامع صغیر، مبسوط، زیادات۔ یہ چھ کتابیں حیدر آباد دکن کی لائبریری میں موجود ہیں، ممکن ہے یہاں بھی بڑے بڑے کتب خانوں میں ہوں۔ تو ایک دن امام محمد کے ایک شاگرد ان کا کھانا لینے ان کے گھر گئے تو کسی طرح ان کی نظر امام صاحب کی زوجہ پر پڑ گئی تو دیکھا کہ اپنے استاذکے چہرے کی بہ نسبت بیوی کا بالکل ہی عجیب حلیہ کا جغرافیہ ہے۔ بس روتا ہوا آیا اور کہا کہ استاذ اگر اجازت ہوتو ایک بات عرض کروں، آج استانی صاحبہ پر اچانک نظر پڑگئی، میں نے قصداً نہیں دیکھا، اچانک نظر پڑگئی لیکن اب میں رو رہا ہوں کہ آپ کی قسمت کیسی ہے ؟ آپ کیسے دن گذار رہے ہیں، کس طریقے سے آ پ کے دن کٹتے ہیں، آپ نے اس کا خیال کیوں نہیں کیا کہ جیسا اللہ نے آ پ کو حسن دیا ہے آپ نے ویسی شادی کیوں نہیں کی؟ تو امام صاحب ہنسے اور فرمایا کہ بھئی جوڑے تقدیر سے بنتے ہیں، قضاء اور قدر سے ہوتے ہیں لیکن یہ سوچوکہ میں جو یہ چھ کتابیں لکھ رہاہوں جن کا تم لوگ مجھ سے سبق پڑھ رہے ہو تو اگر میری بیوی بہت زیادہ حسین ہوتی تو اس وقت میں اپنی بیوی سے بات چیت کررہا ہوتا، تم دروازہ کھٹکھٹاتے تو میں کہتا کہ میں بہت بزی (busy)ہوں، بہت ضروری مشغلے میں مشغول ہوں اور جب اس کے سر میں درد ہوتا تب صبر نہ کرسکتا کیونکہ میں بھی مرنے لگتا۔ آج جو میں یہ بڑی بڑی کتابیں تصنیف کررہا ہوں تو ان کتابوں کو لکھنے کے لیے وقت اور فراغِ دل چاہیے۔ اس کے بعد امام صاحب نے ایک جملہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کو اپنے لیے قبول کرتے ہیں اس کو مٹی کے کھلونوں میں مشغول نہیں ہونے دیتے۔ یہ اس عظیم الشان فقیہ کے عظیم الشان الفاظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا دین اتنا قیمتی ہے کہ اس پر نبیوں کے سر کٹے ہیں، سید الانبیاء کا خون بہا ہے اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دندانِ مبارک دامنِ اْحد میں شہید ہوئے ہیں۔

میرے منتخب اقوال،پختون کی بیٹی – باب دوئم سے۔ . سید تفسیر احمد

پختون کی بیٹی
, سید تفسیر احمد, باب دوئم۔ اجتماع

1۔ خواب
2۔ تشخیص
3۔ تعمیل کا منصوبہ
4۔ سوچ ایک طریقہ ہے
5۔ خواہش
6۔ یقین و ایمان
7۔ آٹوسجیشن
8۔ تعلیمِ خصوصی
9۔ تصور
10۔ منظم منصوبہ بندی
11۔ ارادۂِ مصمم اور فیصلہ
12۔ ثابت قدم
13۔ ماسٹرمائنڈ
14۔ کامیابی کے اصول۔ ایک نظرِ ثانی

میرے منتخب اقوال،پختون کی بیٹی – باب دوئم سے۔

جوکھوں اور عزیمت کے ارادوں میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنی کشتی کوجلادیتے ہیں۔اس کشتی کو جلانے کے عمل سے دماغ کو روحانی کیفیت ملتی ہے یہ کیفیت جیتنے کی چاہت پیدا کرتی ہے جوکہ کامیابی کے لیے بہت ضروری ہے۔

یقین و ایمان

“ایمان تم کو جنت میں لے جاۓگا اور ایمانِ کامل جنت کو تمہارے پاس لاۓ گا”۔

یقینِ کامل دماغ کا کیمیاگر ہے۔ جب یقینِ کامل اورسوچ کی آمیزش ہوتی ہے۔ تو تحت الشعور ان کے مضطرب ہونے کو محسوس کر لیتا ہے اور اس کو روحانی برابری میں تبدیل کر دیتا ہے۔اور اس کو لا محدود حکمت میں منتقل کردیتا ہے۔ جس طرح کہ عملِ دعا ہے۔
تمام جذبات جو انسان کو فائدہ پہنچاتے ہیں ان میں یقین، لگن اور ہم آغوشئ جذبات سب سے ذیادہ طاقتور ہیں۔ جب یہ تین ملتے ہیں تو خیالات کو اس طرح رنگ دیتے ہیں کہ خیالات ایک دم سے تحت الشعور میں پہنچ کر لامحدود حکمت سے جواب لاتے ہیں۔ ایمان ایک ایسی دماغی کیفیت ہے جو کہ لامحدود حکمت کو جواب دینے کی ترغیب دیتی ہے”۔

ایمان ایک ایسا جذبہ ہے جس کو ایک ایسی دماغ اغرق ہو نے کی کیفیت کہہ سکتے ہیں جو ہم اظہار حلقی کے دہرانے سے پیدا کرسکتے ہیں”۔

سوچ کا جذباتی حصہ (ایمان و یقین) ، سوچ کو زندگی بخشتا ہے اور اس پرعمل کرنے پر اکساتا ہے۔یقین اور لگن کے جذبات یکجا ہوکرسوچ کو بہت بڑی قوت بنا دیتے ہیں۔

آٹوسجیشن
کسی چیز کو حاصل کرنے میں کامیابی کا پہلااصول اس چیز کی زبردست خواہش اور دوسرا اصول اپنی کامیابی کا یقین ہونا ہے۔

ک۔ اللہ تعالٰی نے ہر انسان کوایک دماغ دیا ہے“۔

۔ ” لیکن دماغ کو علمِ نفسیات میں کاموں کے لحاظ سے تین حصوں میں بانٹاگیا ہے۔

شعور، تحت الشعور اور لا شعور“۔

” تو ہم ان دماغ کے مختلف حصوں کو کس طرح اپنی کامیابی لیے استعمال کرتے ہیں؟“

اراد ہِ مصمم اور فیصلہ

کامیاب لوگوں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جب کسی کام کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو بلا تؤقف فیصلہ کرتے ہیں۔اور جب فیصلہ کرلیں تو اس فیصلہ کو تبدیل کرنے میں وقت لیتے ہیں۔

جب تم نے اپنی قابلیت کے مطابق فیصلہ کرلیا تو دوسروں کی راۓ سے متاثر ہو کر فیصلہ تبدیل مت کرو۔

دنیا کو پہلے دکھاؤ کہ تم کیا کرنا چاہتے ہو اور پھر بتاؤ۔

فیصلہ کی قیمت کا انحصار جرات پر ہے۔ دنیا کے وہ فیصلے جن سے تہذیب کی بنیادیں رکھی گئیں، ان فیصلوں کے نتائج کو حاصل کرنے میں جانیں تک خطرے میں تھیں۔

سقراط پر جب یہ دباؤ ڈالا گیا کہ اگر اس نے اپنے خیالات نہ بدلے اور جمہوریت کی باتیں کرتا رہا تو اس کو زہر پی کر مرنا پڑے گا۔ سقراط نے اپنے خیالات نہیں بدلے اور اس کو زہر کا پیالہ دیا گیا۔

ظلم سے آزادی کی خواہش آزادی لاۓ گی۔

” سوچ + مقرر مقصد + قائم مزاجی + شدیدخواہش = کامیابئ مکمل”سعدیہ نے جواب دیا۔

آٹوسجیشن کا استعمال ان خیالوں جن کو آپ شدت سے چاہتے ہیں، شعور سے تحت الشعور میں رضاکارانہ طور پر پہہنچا دیتا ہے“

خواہش ِ < — شدت < — شدیدخواہش
(شعور) < — (آٹوسجیشن) < — (تحت الشعور)

تعلیمِ خصوصی

” ایک تعلیم کا حصول ، دوسرے تعلیم کا سمجھنا ، اور تیسرے تعلیم کا استعمال۔ جب تک آپ تعلیم کو استعمال نہ کریں تعلیم پوری نہیں ہوتی

” تعلیم صرف ایک صورتِ امکانی ہے۔ یہ اُس وقت ایک قوت بنتی ہے جب اس کو مقصد کے حصول کے لیے منظم کیا جاتا ہے ا ور اس کا رُخ مقرر خاتمہ کی طرف کیا جاۓ۔سینکڑوں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئ شخص اسکول نہ جاۓ تو وہ تعلیم یا فتہ نہیں ہے۔ ایجوکیشن ایک اٹالین لفظ ’ ایڈوکو‘ سے بنی ہے۔ جس کے معنی ’ اندر سےابھرنا ، انکشاف کرنا ‘۔ ضروری نہیں کہ تعلیم یافتہ شخص وہ ہو جس کے پاس تعلیم عامہ یا تعلیم مخصوصہ کی بہتاب ہے، تعلیم یافتہ شخص وہ ہے جس نے اپنے ذہن کو تربیت دی ہے۔ تعلیم یافتہ شخص کسی کا حق مارے بغیر ہر اس چیز کو حاصل کرلیتا ہے جو اس کو پسند ہے“۔

تصور

” انسان ہر وہ چیز کرسکتا ہے جس کو وہ سوچ سکتا ہے“۔

منظم منصوبہ بندی

ہر چیز جو انسان بناتا ہے یا حاصل کرتا ہے وہ خواہش سے شروع ہوتی ہے“۔

خواہش کا پہلا قدم عدمِ وجود سے وجود میں تبدیل ہونا ، قوت متصورہ کے کارخانہ میں ہوتا ہے۔جہاں پر اس کی تبدلی کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔قائداورمعتقد۔ کچھ لوگ قائد بنتے ہیں کیوں کہ ان میں دلیری ، ضبط ، انصاف پسندی ، ا ستقلال، منصوبہ ، محنت پسندی ، خوش گوار شخصیت ، ہمدردی اور پکی سمجھ ، تفصیل کا مہارت ، ذمہ داری اور مل کر کام کرنے کی صفات ہو تی ہیں۔ معتقد لوگ ، قائد کا کہا مانتے ہیں۔ معتقد ہونا کوئ بری بات نہیں۔ بہت دفعہ ایک قائد، معتقد میں سے ہی بنتا ہے۔

وہ قائد ، اپنے مقصد میں کا میاب نہیں ہوتے ہیں جوکام کی تفصیل سے بھاگتے ہیں اور صرف وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو ان کی حیثیت کے برابر ہو، چھوٹا کام کرنا نہیں پسند کرتے۔ وہ اپنی تمام قابلیت، یعنی اپنی تعلیم کے مطابق صلہ مانگتے ہیں اپنے کام کے مطابق نہیں۔جومتقدوں سے مقابلہ کرتے ہوۓ گھبراتے ہیں۔ جن میں صورت متخیلہ نہیں ہوتی اور خود غرضی کا شکار ہوتے ہیں۔

منظم منصوبہ بندی کے اصول

1۔ جتنے ساتھیوں کی اپنے منصوبہ پر عمل کرنے کے لیے ضرورت ہے ان کو اپنے مہتممِ دماغ علم یا ماسٹر مائنڈ کا پارٹنر بنالیں۔

2۔ تمام شرکاء اور شریکِ کار کو پتہ ہو نا چاہیے کہ اس شرکت میں ان کی کیا ذمہ داری ہے۔

3۔ جب تک کہ منصوبہ مکمل نہ ہوجاۓ، تمام شرکاء اور شریکِ کارکو کم از کم ہفتہ میں دو دفعہ ملنا چاہیے۔

4۔ جب تک کہ منصوبہ مکمل نہ ہوجاۓ تمام شرکاء اور شریکِ کار کو میل اور اتفاق سے رہنا چاہیے۔

.ماسٹرمائنڈ

” علم ایک طاقت ہے“۔اباجان نے کہا۔ کامیابی کے لیے طاقتِ علم کا ہونا ضروری ہے“

” منصوبے بغیر معقول طاقتِ علم کے غیرمؤثراور بے کار ہیں اور ان کو عمل میں تبدیل نہیں کیاجاسکتا“۔

” دما غی قوت ، یہاں ایک منظم اوردانش مند علم کو مسئلۂ مرکوز پر توجہ کرنے کے معنی میں استمعال کی گئ ہے“۔

علم کے حاصل کرنے کے تین ذرائع ہیں۔

ایک ۔ لا محدود قابلیت۔

دو ۔ جمع کیا ہوا علم، پبلک لائبریری، پبلک سکول اور کالج۔

تین ۔ تجربات اور تحقیقات، سائنس اور تمام دنیاوی چیزوں میں انسان ہر وقت جمع کرتا ہے، باترتیب رکھتا ہے اور ہرروز مرتب کرتا ہے“۔

علم کوان ذرائع سے حاصل کر کے منصوبۂ مقرر میں مننظم کرنا اور پھر منصوبوں کو عمل میں تبدیل کرنا، دماغ کی طاقتِ علم ہے۔
اگر منصوبہ وسیع ہے تو آپ کو دوسرے لوگوں کے دماغ کی طاقتِ علم کی مدد کی ضرورت گی“۔

” جب دو یا دو سے ذیادہ لوگ ایک مقرر اور مخصوص مقصد کو حاصل کر نے کے لیے علم کی ہم آہنگی کرتے ہیں تو وہ ماسٹرمائنڈ کہلاتے ہیں“۔

استاد مرحوم, ابنِ انشا

استاد مرحوم

ابنِ انشا

استاد مرحوم نے اہلِ زبان ہونے کی وجہ سے طبیعت بھی موزون پائی تھی اور ہر طرح کا شعر کہنے پر قادر تھے۔ اردو، فارسی میں ان کے کلام کا بڑا ذخیرہ موجود ہے جو غیر مطبوعہ ہونے کی وجہ سے اگلی نسلوں کے کام آۓ گا۔ اس علم و فضل کے باوجود انکسار کا یہ عالم تھا کہ ایک بار سکول میگزین میں جس کے یہ نگران تھے، ایڈیٹر نے استاد مرحوم کے متعلق یہ لکھا کہ وہ سعدی کے ہم پلہ ہیں، انہوں نے فوراً اس کی تردید کی۔ سکول میگزین کا یہ پرچہ ہمیشہ ساتھ رکھتے اور ایک ایک کو دکھاتے کہ دیکھو لوگوں کی میرے متعلق یہ راۓ ہے حالانکہ من آنم کہ من دانم۔ ایڈیٹر کو بھی جو دسویں جماعت کا طالب علم تھا، بلا کر فہمائش کی کہ عزیزی یہ زمانہ اور طرح کا ہے۔ ایسی باتیں نہیں لکھا کرتے۔ لوگ مردہ پرست واقع ہوۓ ہیں۔ حسد کے مارے جانے کیا کیا کہتے پھریں گے۔ اہل علم خصوصاً شعرا کے متعلق اکثر یہ سنا ہے کہ ہم عصروں اور پیش روؤں کے کمال کا اعتراف کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں، استاد مرحوم میں یہ بات نہ تھی، بہت فراخ دل تھے۔ فرماتے، غالب اپنے زمانے کے لحاظ سے اچھا لکھتا تھا۔ میر کے بعض اشعار کی بھی تعریف کرتے۔ امیر خسرو کی ایک غزل استاد مرحوم کی زمین میں ہے۔ فرماتے، انصاف یہ ہے کہ پہلی نظر میں فیصلہ کرنا دشوار ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کون سی (غزل) بہتر ہے ۔ پھر بتاتے کہ امیر خسرو سے کہاں کہاں محاورے کی لغزش ہوئی ہے۔ اقبال کے متعلق کہتے تھے کہ سیالکوٹ میں ایسا شاعر اب تک پیدا نہ ہوا تھا۔ اس شہر کو ان کی ذات پر فخر کرنا چاہیے۔ ایک بار بتایا کہ اقبال سے میری خط و کتابت بھی رہی ہے۔ دو تین خط علامہ مرحوم کو انہوں نے لکھے تھے کہ کسی کو ثالث بنا کر مجھ سے شاعری کا مقابلہ کر لیجیۓ۔ راقم نے پوچھا نہیں کہ ان کا جواب آیا کہ نہیں۔ استاد مرحوم کو عموماً مشاعروں میں نہیں بلایا جاتا تھا کیوں کہ سب پر چھا جاتے تھے اور اچھے اچھے شاعروں کو خفیف ہونا پڑتا ۔ خود بھی نہ جاتے تھے کہ مجھ فقیر کو ان ہنگاموں سے کیا مطلب۔ البتہ جوبلی کا مشاعرہ ہوا تو ہمارے اصرار پر اس میں شریک ہوۓ اور ہر چند کہ مدعو نہ تھے منتظمین نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ دیوانہ کسمنڈوی، خیال گڑگانوی اور حسرت بانس بریلوی جیسے اساتذہ سٹیج پر موجود تھے ، اس کے باوجود استاد مرحوم کو سب سے پہلے پڑھنے کی دعوت دی گئی۔ وہ منظر اب تک راقم کے آنکھوں میں ہے کہ استاد نہایت تمکنت سے ہولے ہولے قدم اٹھاتے مائک پر پہنچے اور ترنم سے اپنی مشہور غزل پڑھنی شروع کی ہے۔ ہے رشتۂ غم اور دلِ مجبور کی گردن ہے اپنے لۓ اب یہ بڑی دور کی گردن ہال میں ایک ساناٹا سا چھا گیا۔ لوگوں نے سانس روک لۓ۔ استاد مرحوم نے داد کے لۓ صاحب صدر کی طرف دیکھا لیکن وہ ابھی تشریف نہ لاۓ تھے، کرسئِ صدارت ابھی خالی پڑی تھی۔ دوسرا شعر اس سے بھی زور دار تھا۔ صد حیف کہ مجنوں کا قدم اٹھ نہیں سکتا اور دار پہ ہے حضرتِ منصور کی گردن دوسرا مصرع تمام نہ ہوا تھا کہ داد کا طوفان پھٹ پڑا۔ مشاعرے کی چھت اڑنا سنا ضرور تھا، دیکھنے کا اتفاق آج ہوا۔ اب تک شعرا ایک شعر میں ایک مضمون باندھتے رہے ہیں اور وہ بھی بمشکل ۔ اس شعر میں استاد مرحوم نے ہر مصرع میں ایک مکمل مضمون باندھا ہے اور خوب باندھا ہے۔ لوگ سٹیج کی طرف دوڑے۔ غالباً استاد مرحوم کی پابوسی کے لۓ۔ لیکن رضا کاروں نے انہیں باز رکھا۔ سٹیج پر بیٹھے استادوں نے جو یہ رنگ دیکھا تو اپنی غزلیں پھاڑ دیں اور اٹھ گۓ۔ جان گۓ تھے کہ اب ہمارا رنگ کیا جمے گا۔ ادھر لوگوں کے اشتیاق کا یہ عالم تھا کہ تیسرے شعر پر ہی فرمائش ہونے لگی مقطع پڑھیے مقطع پڑھیے ۔۔۔۔ چوتھے شعر پر مجمع بے قابو ہو رہا تھا کہ صدرِ جلسہ کی سواری آگئی اور منتظمین نے بہت بہت شکریہ ادا کر کے استاد مرحوم کو بغلی دروازے کے باہر چھوڑ کر اجازت چاہی۔ اب ضمناً ایک لطیفہ سن لیجیۓ جس سے اخبار والوں کی ذہنیت عیاں ہوتی ہے۔ دوسری صبح روزنامہ “پتنگ” کے رپورٹر نے لکھا کہ جن استادوں نے غزلیں پھاڑ دی تھیں، وہ یہ کہتے بھی سنے گۓ کہ عجب نامعقول مشاعرے میں آ گۓ ہیں۔ لوگوں کی بے محابا داد کو اس بد باطن نے ہوٹنگ کا نام دیا اور استاد مرحوم کے اس مصرع کو ” صد حیف کہ مجنوں کا قدم اٹھ نہیں سکتا” بوجۂ لا علمی یا شرارت بجاۓ توارد کے سرقہ قرار دیا۔ بات فقط اتنی تھی کہ منتظمین نے ایڈیٹر پتنگ کے اہل خانہ کو مشاعرے کے پاس معقول تعداد میں نہ بھیجے تھے۔ اگر یہ بات تھی تو اسے منتظمین کے خلاف لکھنا چاہیے تھا نہ کہ استاد مرحوم کے خلاف اور پھر اس قسم کے فقروں کا کیا جواز ہے کہ “استاد چراغ شعر نہیں پڑھ رہے تھے روئی دھن رہے تھے۔” صحیح محاورہ روئی دھننا نہیں روئی دھنکنا ہے۔ اس دن کے بعد سے مشاعرے والے استاد مرحوم کا ایسا ادب کرنے لگے کہ اگر استاد اپنی کریم النفسی سے مجبور ہو کر پیغام بھجوا دیتے کہ میں شریک ہونے کے لۓ آ رہا ہوں تو وہ خود معذرت کرنے کے لۓ دوڑے آتے کہ آپ کی صحت اور مصروفیات اس کی اجازت نہیں دیتیں۔ ہمیں (ان کے نا چیز شاگردوں کو) بھی رقعہ آ جاتا کہ معمولی مشاعرہ ہے، آپ کے لائق نہیں۔ زحمت نہ فرمائیں۔

ظالم دنیا

کیا ذندگی میں مجھے کبھی  سچی خوشی ملے گی بھی ؟کبھی نہ ختم ہونے والی۔ یہ دنیا بڑی ظالم ہے۔ اور مذید ظالم ہوتی جاے گی۔ مجھے اور ظلم نہیں سہنے۔

تقدیر

صحیح بخاری -> کتاب القدر

تشریح :    تقدیر پر ایمان لانا جزو ایمان ہے۔ اکثر نسخوں میں یہاں صرف باب فی القدر ہے۔ فتح الباری میں اس طرح ہے جیسا کہ یہاں نقل کیاگیا۔ اللہ پاک نے فرمایا۔ انا کل شئی خلقناہ بقدر ( القمر: 49 ) ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے تحت پیدا کیا ہے۔قال ابوالمظفربن السمعانی فی سبیل معرفۃ ہذاالباب التوقیف من الکتاب والسنۃ دون محض القیاس والعقل فمن عدل عن التوقیف فیہ ضل وتاہ فی بحار الحیرۃ ولم یبلغ شفاءالعین والا مایطمئن بہ القلب لان القدر سرمن اسرار اللہ تعالیٰ اختص العلیم الخبیر بہ وضرب دونہ الستار وحجبہ عن عقول الخلق ومعارفہم لما علمہ من الحکمۃ فلم یعلمہ نبی مرسل ولاملک مقرب الخ ( فتح الباری )خلاصہ اس عبارت کا یہ ہے کہ ” تقدیر کا باب صرف کتاب و سنت کی روشنی میں سمجھنے پر موقوف ہے۔ اس میں قیاس اور عقل کا مطلق دخل نہیں ہے جو شخص کتاب و سنت کی روشنی سے ہٹ کر اسے سمجھنے کی کوشش میں لگا وہ گمراہ ہوگیا اور حیرت و استعجاب کے دریا میں ڈوب گیا اور اس نے چشمہ شفا کو نہیں پایا اور نہ اس چیز تک پہنچ سکا جس سے اس کا دل مطمئن ہوسکتا۔ اس لیے کہ تقدیر اللہ کے بھیدوں میں سے ایک خاص بھید ہے۔ اللہ نے اپنی ذات علیم و خبیر کے ساتھ اس سر کو خاص کیا ہے اور مخلوق کی عقلوں اور ان کے علوم کے اور تقدیر کے بیچ میں پردے ڈال دیئے ہیں۔ یہ ایسی حکمت ہے جس کا علم کسی مرسل نبی اور مقرب فرشتے کو بھی نہیں دیاگیا “ ۔

پس تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے اور جز و ایمان ہے یعنی جو کچھ برا بھلا چھوٹا بڑا دنیا میں قیامت تک ہونے والا تھا وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں ٹھہرچکا ہے۔ اسی کے مطابق ظاہر ہوگا اور بندے کو ایک ظاہری اختیار دیاگیا ہے جسے کسب کہتے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ بندہ نہ بالکل مجبور ہے نہ بالکل مختار ہے۔ اہل سنت والجماعت اور صحابہ کرام اور جماعت سلف صالحین کا یہی اعتقاد تھا۔ پھر قدریہ اور جبریہ پیدا ہوئے۔ قدریہ کہنے لگے کہ بندے کے افعال میں اللہ تعالیٰ کو کچھ دخل نہیں ہے، وہ اپنے افعال کا خود خالق ہے اور جو کرتا ہے اپنے اختیار سے کرتا ہے۔ جبریہ کہنے لگے کہ بندہ جمادات کی طرح بالکل مجبور ہے، اس کو اپنے کسی فعل کا کوئی اختیار نہیں۔ ایک نے افراط کی راہ دوسرے نے تفریط کی راہ اختیار کی۔ اہل سنت بیچ بیچ میں ہیں۔ جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ ( حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے ) نے فرمایالا جبرولا تفویض ولاکن امربین امرین۔ امام ابن سمعانی نے کہا کہ تقدیر اللہ پاک کاایک راز ہے جو دنیا میں کسی پر ظاہر نہیں ہوا یہاں تک کہ پیغمبروں پر بھی نہیں، بایں ہمہ تقدیر پر ایمان لانا فرص ہے۔ تقدیر میں لکھے ہوئے امور بلاکسی ظاہری سبب کے ظاہر ہوجاتا ہیں جن میں سے ایک یہ بخاری شریف مترجم کی اشاعت بھی ہے ورنہ میں کسی بھی صورت میں اس عظیم خدمت کا اہل نہ تھا۔ ولاکن کان امر اللہ مفعولا۔ وکان امر اللہ قدرا مقدورا۔ فللہ الحمد حمدا کثیرا۔ تقبلہ اللہ آمین

باب : کتاب تقدیر کے بیان میں

ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا مجھ کو سلیمان اعمش نے خبردی، کہا کہ میں نے زید بن وہب سے سنا، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم کو رسول اللہ نے بیان سنایا اور آپ سچوں کے سچے تھے اور آپ کی سچائی کی زبردست گواہی دی گئی۔ فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص پہلے اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ ہی رکھا جاتا ہے۔ پھر اتنی ہی مدت میں ” علقہ “ یعنی خون کی پھٹکی ( بستہ خون ) بنتا ہے پھر اتنے ہی عرصہ میں ” مضغہ “ ( یعنی گوشت کا لوتھڑا ) پھر چار ماہ بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اس کے بارے میں ( ماں کے پیٹ ہی میں ) چار باتوں کے لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کی روزی کا، اس کی موت کا، اس کا کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت۔ پس واللہ، تم میں سے ایک شخص دوزخ والوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور جب اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک بالشت کا فاصلہ یا ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ جنت والوں کے سے کام کرنے لگتا ہے اور جنت میں جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص جنت والوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور جب اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ دوزخ والوں کے کام کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں جاتا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ آدم بن ابی ایاس نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ جب ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہ

تشریح :    یعنی اس کے جنت یا دوزخ کا فاصلہ اتنا ہی رہ جاتا ہے۔ قسمت غالب آتی ہے اور وہ تقدیر کے مطابق جنت یا دوزخ میں داخل کیا جاتا ہے۔ اللہم ان کنت کتبتنی من اہل النار فامحہ فانک تمحوماتشاءو تثبت و عندک ام الکتاب آمین۔

دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ وہ اس میں روح پھونکتا ہے، تو روح چار مہینے کے بعد پھونکی جاتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں یوں ہے کہ چار مہینے دس دن کے بعد۔ قاضی عیاض نے کہا اس پر علماءکا اتفاق ہے کہ روح ایک سو بیس دن کے بعد پھونکی جاتی ہے اور مشاہدہ اور جنین کی حرکت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ میں ( وحید الزماں ) کہتا ہوںکہ اس زمانے کے حکیموں اور ڈاکٹروں نے مشاہدہ اور تجربہ سے ثابت کیا ہے کہ چار مہینے گزرنے سے پہلے ہی جنین میں جان پڑجاتی ہے۔ اب جن روایتوں میں روح پھونکنے کا ذکر نہیں ہے جیسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی اس روایت میں ہے ان میں تو کوئی اشکال ہی نہ ہوگا لیکن جن روایتوں میں اس کا ذکر ہے تو حدیث غلط نہیں ہوسکتی بلکہ حکیموں اور ڈاکٹروں کا دعویٰ غلط ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ روح حیوانی چار مہینے سے پہلے ہی جنین میں پڑجاتی ہے لیکن حدیث میں روح سے مراد روح انسانی یعنی نفس ناطقہ ہے۔ وہ چار مہینے دس دن کے بعد ہی بدن سے متعلق ہوتا ہے۔

باب : عملوں کا اعتبار خاتمہ پر موقوف ہے

صحیح بخاری -> کتاب القدر

حدیث نمبر : 6606
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبردی، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبردی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی لڑائی میں موجود تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے بارے میں جو آپ کے ساتھ شریک جہاد تھا اور اسلام کا دعویدار تھا فرمایا کہ یہ جہنمی ہے۔ جب جنگ ہونے لگی تو اس شخص نے بہت جم کر لڑائی میں حصہ لیا اور بہت زیادہ زخمی ہوگیا پھر بھی وہ ثابت قدم رہا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ! اس شخص کے بارے میں آپ کو معلوم ہے جس کے بارے میں ابھی آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے وہ تو اللہ کے راستے میں بہت جم کر لڑا ہے اور بہت زیادہ زخمی ہوگیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اب بھی یہی فرمایا کہ وہ جہنمی ہے۔ ممکن تھا کہ بعض مسلمان شبہ میں پڑجاتے لیکن اس عرصہ میں اس شخص نے زخموں کی تاب نہ لاکر اپنا ترکش کھولا اور اس میں سے ایک تیر نکال کر اپنے آپ کو ذکر کرلیا۔ پھر بہت سے مسلمان آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوڑتے ہوئے پہنچے اور عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی بات سچ کردکھائی۔ اس شخص نے اپنے آپ کو ہلاک کرکے اپنی جان خود ہی ختم کرڈالی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا کہ اے بلال! اٹھو اور لوگوں میں اعلان کردو کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوگا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس دین کی خدمت و مدد بے دین آدمی سے بھی کراتا ہے۔

تشریح :    بظاہر وہ شخص جہاد کررہا تھا، مگر بعد میں اس نے خودکشی کرکے اپنے سارے اعمال کو ضائع کردیا۔ باب اور حدیث میں یہی مطابقت ہے۔ فی الواقع عملوں کا اعتبار خاتمہ پر ہے۔ اللہ پاک ہر مسلمان کو توحید و سنت اور اپنی اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر خاتمہ نصیب کرے اور دم آخریں کلمہ طیبہ پر جان نکلے۔ آمین۔

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص جو مسلمانوں کی طرف سے بڑی بہادری سے لڑرہا تھا اور اس غزوہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور فرمایا کہ جو کسی جہنمی شخص کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اس شخص کو دیکھ لے چنانچہ وہ شخص جب اسی طرح لڑنے میں مصروف تھا اور مشرکین کو اپنی بہادری کی وجہ سے سخت تر تکالیف میں مبتلا کررہا تھا تو ایک مسلمان اس کے پیچھے پیچھے چلا، آخر وہ شخص زخمی ہوگیا اور جلدی سے مرجانا چاہا، اس لیے اس نے اپنی تلوار کی دھار اپنے سینے پر لگالی اور تلوار اس کے شانوں کو پار کرتی ہوئی نکل گئی۔ اس کے بعد پیچھا کرنے والا شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوڑتا ہوا حاضر ہوا اور عرض کیا، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باتکیاہے؟ ان صاحب نے کہا کہ آپ نے فلاں شخص کے بارے میں فرمایا تھا کہ جو کسی جہنمی کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اس شخص کو دیکھ لے حالانکہ وہ شخص مسلمانوں کی طرف سے بڑی بہادری سے لڑرہا تھا۔ میں سمجھا کہ وہ اس حالت میں نہیں مرے گا۔ لیکن جب وہ زخمی ہوگیا تو جلدی سے مرجانے کی خواہش میں اس نے خودکشی کرلی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ دوزخیوں کے سے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے ( اسی طرح دوسرا بندہ ) جنتیوں کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ دوزخی ہوتا ہے، بلاشبہ عملوں کا اعتبار خاتمہ پر ہے۔

courage

To see what is right and not to do it, is want of courage.

By sumerasblog Posted in Life

برزخ اور اس کا عذاب

بزرخ کے معنی: دو چیزوں کے درمیان حائل چیز کو برزخ کہتے ھیں [1]یہ موت اور قیامت کے درمیان کا واسطہ ھے ، او راسی عالم برزخ میں روز قیامت کے لئے انسان نعمتوں سے نوازا جائے گا یا اس پر عذاب ھوگا[2]خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
< مِنْ وَرَائِہِمْ بَرْزَخٌ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ >[3]
”اور ان کے مرنے کے بعد (عالم) برزخ ھے (جہاں )سے اس دن تک کہ دوبارہ قبروں سے اٹھائے جائےں گے “۔
یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ یہ عالم برزخ دنیاوی زندگی اور روز قیامت کے درمیان ایک زندگی کا نام ھے۔
عالم برزخ کے بارے میں حضرت امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ھیں:
”البرزخ:القبر ،وفیہ الثواب والعقاب بین الدنیا وآلاخرة“۔[4]
وحشت برزخ: جیسا کہ ھم بیان کر چکے ھیںکہ عالم آخرت کی زندگی موت سے شروع ھوتی ھے، انسان موت کے ذریعہ عالم آخرت میں پہنچ جاتا ھے، اور موت کے بعد درج ذیل قبر کے خوف و وحشت سے روبرو ھوتا ھے:
۱۔ وحشت قبر اور قبر کی تاریکی: قبر، معادکی وحشتناک منزلوں میں سے ایک منزل ھے، جب انسان کو ایک تاریک و تنگ کوٹھری میں رکھ دیا جاتا ھے جہاں پر اس کے مددگار صرف اس کے اعمال اور عذاب یا ثواب کے فرشتے ھوں گے۔
حضرت علی علیہ السلام اہل مصر کے نام ایک خط میں تحریر فرماتے ھیں:
”یا عباد الله،ما بعد الموت لمن لا یغفر لہ اشد من الموت؛القبر فاحذروا ضیقہ و ضنکہ وظلمتہ و غربتہ،ان القبریقول کل یوم :انابیت الغربة،انا بیت التراب،انا بیت الوحشة ،انا بیت الدود و الھوام۔۔۔ “۔[5]
”اے بندگان خدا! اگر انسان کی بخشش نہ ھو تو پھر موت کے سے سخت کوئی چیز نھیں ھے، (لہٰذا قبر کی تاریکی، تنگی اور تنہائی سے ڈرو!! بے شک قبر ہر روز یہ آواز دیتی ھے: میں تنہائی کا گھر ھوں، میں مٹی کا گھر ھوں، میں خوف و حشت کا گھر ھوں، میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ھوں۔۔۔“۔(اے کاش ھم اس آواز کو سن لیں)
قارئین کرام! یھی وہ جگہ ھے کہ جب انسان زمین کے اوپر سے اس کے اندر چلا جاتا ھے، اہل و عیال اور دوستوں کو چھوڑ کر تنھاھوجاتا ھے، روشنی کو چھوڑ کر تاریکی میں چلا جاتا ھے، دنیا کے عیش و آرام کو چھوڑ کر تنگی اور وحشت قبر میں گرفتار ھوجاتا ھے، اور اس کا سب نام و نشان ختم ھوجاتا ھے اور اس کا ذکر مٹ جائے گا اس کی صورت متغیر ھوجائے گی اور اس کا جسم ابدان بوسیدہ اور جوڑ جوڑ جدا ھوجائیں گے۔
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
”فکم اکلت الارض من عزیز جسد ،وانیق لون ،کان فی الدنیا غذی ترف ،وربیب شرف، یتعلل بالسرور فی ساعة حزنہ و یفزع الی السلوة ان مصیبة نزلت بہ ،ضنا بغضارة عیشہ وشحاحة بلھوہ و لعبہ۔۔۔“۔[6]
”اُف! یہ زمین کتنے عزیزترین بدن اور حسین ترین رنگ کھاگئی ھے جن کو دولت و راحت کی غذامل رھی تھی اور جنھیں شرف کی آغوش میں پالا گیا تھا جو حزن کے اوقات میں بھی مسرت کا سامان کیا کرتے تھے اور اگر کوئی مصیبت آن پڑتی تھی تو اپنے عیش کی تازگیوں پر للچائے رہنے واور اپنے لھو و لعب پر فریفتہ ھونے کی بنا پر تسلی کا سامان فراھم کرلیا کرتے تھے“۔
(زمیں کھاگئی آسماں کیسے کیسے؟!! )
۲۔ فشار قبر: احادیث میں وارد ھوا ھے کہ میت کو اس قدر فشار قبر ھوگا کہ اس کاگوشت پارہ پارہ ھوجائے گا، اس کا دماغ باہر نکل آئے گااس کی چربی پگھل جائے گی، اس کی پسلیاں آپس میں مل جائیں گی، اس کی وجہ دنیا میں چغل خوری اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ بداخلاقی، بہت زیادہ (بے ھودہ) باتیں کرنا، طہارت ونجاست میں لاپرواھی کرنا ھے، اور کوئی انسان اس(فشار قبر) سے نھیں بچ سکتا مگر یہ کہ ایمان کے ساتھ دنیا سے جائے اور کمال کے درجات پر فائز ھو۔
ابو بصیر کہتے ھیں کہ میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا کوئی شخص فشار قبر سے نجات پاسکتا ھے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
”نعوذ باللہ منھا ۔ما اقل من یفلت من ضغطة القبر۔۔۔“۔[7]
”ھم اللہ کی پناہ مانگتے ھیں فشار قبر سے، بہت ھی کم لوگ فشار قبر سے محفوظ رھیں گے“۔
صحابی رسول سعد بن معاذ /کو بھی فشار قبر کے بارے میں روایت میں ملتا ھے کہ جب ان کا جنازہ اٹھایا گیا تو ملائکہ تشییع جنازہ کے لئے آئے اور خود رسول اکرم (ص)آپ کی تشییع جنازہ میں پابرہنہ اور بغیر عبا کے شریک ھوئے، یہاں تک کہ قبر تک لے آئے اور قبر میں رکھ دیا گیا تو امّ سعد نے کہا: اے سعد تمھیں جنت مبارک ھو ، تو اس وقت رسول اکرم نے فرمایا:
”یا ام سعد! مَہ لاتجزمي علی ربک ،فان سعدا قد اصابتہ ضمة“۔وحینما سُئل عن ذلک، قال(ص) ”انہ کان فی خلقہ مع اھلہ سوء“۔ [8]
”اے مادر سعد یہ نہ کھو ، تم اپنے رب کے بارے میں یہ یقینی نھیں کہہ سکتی، سعد پر اب فشار قبر ھورھاھے“۔
اور جب رسول اکرم (ص)سے اس کی وجہ معلوم کی گئی تو آنحضرت (ص)نے فرمایا کہ سعد اپنے اہل و عیال کے ساتھ بداخلاقی سے پیش آتے تھے“۔
رسول اکرم (ص)نے یہ بھی فرمایا:
”ضغطة القبر للموٴمن کفارة لما کان منہ من تضییع النعم“۔[9]
”فشار قبر مومن کے لئے کفارہ ھے تاکہ اس کی نعمتوں میں کمی نہ ھو۔“
۳۔ سوال منکر و نکیر: خداوندعالم، انسان کی قبر میں دو فرشتوں کو بھیجتا ھے جن کا نام منکر و نکیر ھے، یہ دوفرشتے اس کو بٹھاتے ھیں اور سوال کرتے ھیں کہ تیرا رب کون ھے ؟ تیرا دین کیا ھے؟ تیرا نبی کون ھے؟ تیری کتاب کیا ھے؟ تیرا امام کون ھے جس سے تو محبت کرتا تھا، تو نے اپنی عمر کو کس چیز میں صرف کیا، تونے مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیاھے؟ اگر اس نے صحیح اور حق جواب دیا تو ملائکہ اس کوراحت و سکون اور جنت الفردوس کی بشارت دیتے ھیں اور اس کی قبر کو تا حد نظر وسیع کردیتے ھیں، لیکن اگر اس نے جواب نہ دیا یا ناحق جواب دیا، یا اس کا جواب نامفھوم ھوا تو ملائکہ اس کی کھولتے ھوئے پانی سے میزبانی کرتے ھیں اور اس کو عذاب کی بشارت دیتے ھیں۔
بے شک اس سلسلے میں نبی اکرم (ص)اور اہل بیت علیھم السلام سے صحیح روایت منقول ھےں جن پر سبھی مسلمین اتفاق رکھتے ھیں [10]اور اس مسئلہ کو ضرورت دین میں سے مانتے ھیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”من انکر ثلاثة اشیاء ،فلیس من شیعتنا المعراج ،والمساء لة فی القبر ، والشفاعة “۔[11]
”جو شخص تین چیزوں کا انکار کرے وہ ھمارا شیعہ نھیں ھے، معراج، سوال منکر و نکیر، اور شفاعت“۔
۴۔ قبر میں عذاب و ثواب:یہ عذاب و ثواب عالم برزخ میں ایک مسلم حقیقت ھے ، اور لامحالہ واقع ھوگا، کیونکہ اس کا امکان پایا جاتا ھے، آیات ِقرآن مجید اور نبی اکرم اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے احادیث میں متواتر بیان ھوا ھے ، نیز اس سلسلے میں علماء کرام کا گزشتہ سے آج تک اجماع بھی ھے[12]
قرآنی دلائل: وہ آیات جن میں قبر میں ثواب و عذاب کے بارے میں بیان ھوا یا بعض آیات کی تفسیر عذاب و ثواب کی گئی ھے، جن میں سے بعض کو ھم نے ”روح کے مجرد ھونے“ کی بحث میں بیان کیا ھے، ھم یہاں پر دو آیتوں کو پیش کرتے ھیں:
< وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ اٴَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اٴَشَدَّ الْعَذَابِ> [13]
”اور فرعونیوں کو برے عذاب نے(ہر طرف سے )گھیر لیا (اور اب تو قبر میں دوزخ کی) آگ ھے کہ وہ لوگ (ہر)صبح و شام اس کے سامنے لا کرکھڑے کئے جاتے ھیں اور جس دن قیامت برپا ھوگی (حکم ھوگا کہ )فرعون کو لوگوں کے سخت سے سخت عذاب میں جھونک دو“۔
یہ آیہ شریفہ وضاحت کرتی ھے کہ قبر میں ثواب و عذاب ھوگا کیونکہ اس آیت میں ”واو“کے ذریعہ عطف کیا گیا ھے <وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ۔۔۔> جو اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ اس سے پہلے بیان شدہ ایک الگ چیز ھے اور اس کے بعد بیان ھونے والا مطلب الگ ھے، کیونکہ پہلے صبح و شام آگ نے گھیر رکھا ھے، اور اس کے بعد روز قیامت کے عذاب کے بارے میں بیان کیا گیا ھے، اسی وجہ سے پہلے جملے میں <عَرَضَ> (گھیرنے کے معنی) ھیں اور دوسرے جملہ میں <اٴَدْخِلُوا> (داخل ھوجاؤ)کا لفظ استعمال ھوا ھے۔[14]
اس آیت کی تفسیر میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے مروی ھے کہ آپ نے فرمایا:
”ان کانوا یعذبون فی النار غدوا و عشیا ففیما بین ذلک ھم من السعداء ۔لا ولکن ھذا فی البرزخ قبل یوم القیامة ،الم تسمع قولہ عزوجل:<وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ اٴَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اٴَشَدَّ الْعَذَابِ>؟“۔[15]
” اگر وہ صبح و شام عذاب میںھوں گے اگرچہ ان کے درمیان کچھ نیک افراد بھی ھوں لیکن یہ سب برزخ میں ھوگا قبل از قیامت، کیا تو نے خداوندعالم کے اس فرمان کو نھیں سنا: ”اور جب قیامت برپا ھوگی تو فرشتوں کو حکم ھوگا کہ فرعون والوں کو بدترین عذاب کی منزل میں داخل کردو“۔
۲۔ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
< وَمَنْ اٴَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِی فَإِنَّ لَہُ مَعِیشَةً ضَنکًا وَنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ اٴَعْمَی>[16]
”اور جس نے میری یاد سے منھ پھیرا تو اس کی زندگی بہت تنگی میں بسر ھوگی اور ھم اس کو قیامت کے دن اندھا( بنا کے) اٹھائیں گے“۔
بہت سے مفسرین کہتے ھیں کہ ”سخت اور تنگ زندگی“ سے مراد عذاب قبر اور عالم برزخ میں سختیاں اور بدبختی ھے، قرینہ یہ ھے کہ حرف عطف ”واو“ کے ذریعہ حشر کا ذکر کیا جو اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ یہ دونوں چیزیں الگ الگ ھوں۔ سخت زندگی سے دنیا کی پریشانیاں مراد نھیں لی جاسکتیں کیونکہ دنیا میں بہت سے کفار کی زندگی مومنین سے بہتر ھوتی ھے، اور ایسے چین و سکون کی زندگی بسر کرتے ھیں کہ اس میں کسی طرح کی کوئی پریشانی نھیں ھوتی ھے۔[17]
حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ھیں:
”واعلموا ان المعیشة الضنک التی قالھا تعالیٰ :<فَإِنَّ لَہُ مَعِیشَةً ضَنکًا >ھی عذاب القبر“۔[18]
جان لو کہ (مذکورہ بالا) آیت میں سخت اور تنگ زندگی سے مراد عذاب قبر ھے“۔
احادیث سے دلائل: قبر کے عذاب و ثواب پر دلالت کرنے والی متعدد احادیث شیعہ سنی دونوں طریقوں سے نقل ھوئی ھیں،[19] اور بڑی تفصیل کے ساتھ بیان ھوئی ھیں، بعض کو ھم نے ”روح کے مجرد ھونے“ کی بحث میں بیان کیا ھے، یہاں پر ان میں سے صرف تین احادیث کو بیان کرتے ھیں:
۱۔ حضرت رسول اکرم (ص)ارشاد فرماتے ھیں:
”القبر اما حفرة من حفرالنیران او روضة من ریاض الجنة“۔[20]
”قبر یا دوزخ کے گڈھوں میں سے ایک گڈھا ھے یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ھے“۔
۲۔ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ھیں:
”یسلط علی الکافر فی قبرہ تسعة و تسعین تنینا،فینھشن لحمہ ، و یکسرن عظمہ ،و یترددن علیہ کذلک الی یوم یبعث ،لوان تنینا منھا نفخ فی الارض لم تنبت زرعا ابدا۔۔۔“۔[21]
”خداوندعالم کافر کی قبر میں ۹۹ اژدھے مسلط کرتا ھے، جو اس کے گوشت کو ڈستے ھوں گے اور اس کی ہڈیوں کو کاٹ کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کردےں گے،اور روز قیامت تک وہ اژدھے اس پر عمل کرتے رھیں گے کہ اگر وہ ایک پھونک زمین پر ماردیں تو کبھی بھی کوئی درخت اور سبزہ نہ اُگے“۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے درج ذیل آیت کے بارے میں سوال کیا گیا:
< مِنْ وَرَائِہِمْ بَرْزَخٌ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ >[22]
”اور ان کے مرنے کے بعد (عالم) برزخ ھے (جہاں )سے اس دن تک کہ دوبارہ قبروں سے اٹھایے جائےں گے “۔
تو آپ نے فرمایا:
”ھوالقبر،وان لھم فیہ لمعیشة ضنکا ، واللہ ان القبر لروضة من ریاض الجنة،اوحفرة من حفر النیران“۔[23]
”اس آیت سے مراد قبر ھے،اور کفار کے لئے سخت اور تنگ زندگی ھے، قسم بخدا، یھی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ھے یا جہنم کے گڈھوں میں سے ایک گڈھا ھے ‘ ‘ ۔
اعتراضات: قبر کے ثواب و عذاب کے بارے میں بعض اشکالات و اعتراضات کئے گئے ھیں جن میں سے اکثر عذاب و ثواب کی کیفیت کے بارے میں ھیں، کہ اس میں ثواب و عذاب کی کیفیت کیا ھوگی، لیکن اس سلسلے میں تفصیل معلوم کرنا ھمارے اوپر واجب نھیں ھے، بلکہ اجمالی طور پر قبر کے ثواب و عذاب پر عقیدہ رکھنا واجب ھے، کیونکہ یہ ممکن امر ھے، اور معصومین علیھم السلام نے اس سلسلے میں بیان کیا ھے، اور تمام غیبی امور اسی طرح ھیں کیونکہ غیبی امور عالم ملکوت سے تعلق رکھتے ھیں جس کو ھماری عقل اور ھمارے حواس نھیں سمجھ سکتے۔
ھم یہاں پر عالم برزخ پر ھونے والے بعض اھم اعتراضات بیان کرکے قرآن و حدیث کے ذریعہ جوابات پیش کرتے ھیں:
۱۔ جب انسان کا بدن ھی روح تک عذاب پہنچنے کا وسیلہ ھے تو بدن سے روح نکلنے کے بعد انسان پر کس طرح عذاب یا ثواب ھوگا، جب کہ بدن بوسیدہ ھوچکا ھوگا۔
جواب: احادیث اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ خداوندعالم انسان کو منکر نکیر کے سوالات کے لئے دوبارہ زندہ کرے گا، اور اگر وہ مستحق نعمت ھے تو اس کو ھمیشہ کے لئے حیات دےدی جائے گی، اور اگر عذاب کا مستحق ھے تو بھی ھمیشہ کے لئے اس کو عذاب میں باقی رکھا جائے گا، عذاب ھونے والا بدن ،یھی دنیاوی بدن ھوگا یا اس بدن کے مثل ایک بدن ھوگا۔ احادیث میں ان دونوں کے سلسلے میں بیان کیا گیا ھے:
اول: یھی دنیاوی بدن زندہ کیا جائے گا: یعنی خداوندعالم انسان کی قبر میں اس کے بدن میں روح لوٹادے گا، اور متعدداحادیث اس بات پر دلالت کرتی ھیں، جیسا کہ حضرت رسول اکرم (ص)سے (ایک حدیث کے ضمن) مروی ھے کہ آنحضرت (ص)نے فرمایا:
”تعاد روحہ فی جسدہ ،ویاتیہ ملکان فیجلسانہ“۔[24]
”(انسان کی)روح اس کے بدن میں لوٹا دی جائے گی اور دو فرشتے اس کو بٹھاکر سوال و جواب کریں گے“۔
حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:
”فاذادخل حفرتہ ،ردت الروح فی جسدہ ،وجاء ہ ملکا القبر فامتحناہ“۔[25]
”جب انسان کو اس کی قبر میں اتاردیا جائے گا تو اس کی روح اس کے بدن میں واپس لوٹا دی جائے گی اور دو فرشتے اس کے امتحان کے لئے آئیں گے“۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”ثم یدخل ملکا القبر ،وھما قعیدا القبر منکر و نکیر ،فیقعد انہ و یلقیان فیہ الروح الی حقویہ“۔[26]
”۔۔۔ اس کے بعد قبر میںدومنکر و نکیر آئیں گے، اور قبر کے دونوں کناروں پر بیٹھیں گے اس کو بٹھائیں گے اور اس کے جسم میں ہنسلیوں تک روح داخل کردےں گے“۔
اسی وجہ سے کھاگیا ھے کہ قبر کی حیات ،حیات ِبرزخی اور ناقص ھے، اس میں زندگی کے تمام آثار نھیں ھوتے سوائے احساس درد و الم اور لذت کے، یعنی عالم برزخ میں روح کا بدن سے کمزور سا رابطہ ھوتا ھے، کیونکہ خداوندعالم قبر میں صرف اتنی زندگی عطا کرتا ھے جس سے درد و الم اور لذت کا احساس ھوسکے۔[27]
دوم: مثالی بدن کو عذاب یا ثواب دیا جائے گا: احادیث میں وارد ھوا ھے کہ
خداوندعالم انسان کے لئے عالم برزخ میں ایک لطیف جسم مثالی میں روح کو قرار دے گا، ایسا مثالی بدن جو دنیا کے بدن سے مشابہ ھوگا، تاکہ قبر میں اس سے سوالات کئے جاسکیں اور اس کو ثواب یا عذاب دیا جاسکے، پس اسی عالم میں روز قیامت تک کے لئے اس کو ثواب یا عذاب دیا جائے گا، اور روز قیامت اسی بدن میں انسان کی روح لوٹائی جائے گی۔[28]
ابو بصیر سے روایت ھے کہ میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے مومنین کی ارواح کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
”فی الجنة علی صورا بدانھم ،لورایتہ لقلت فلان“۔[29]
”جنت میں ان کی روح ان کے جسم میں لوٹائی جائے گی کہ اگر تم روح کو دیکھو گے تو کھوگے کہ یہ فلاں شخص ھے“۔
یونس بن ظبیان سے مروی ھے کہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا، تو آپ نے فرمایا: مومنین کی ارواح کے سلسلے میں لوگ کیا کہتے ھیں؟ تو میں نے کہا: کہتے ھیں : عرش کے نیچے پرندوں کے پوٹوں میں رہتی ھےں، اس وقت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”سبحان الله ! الموٴمن اکرم علی اللہ من ان یجعل روحہ فی حوصلة طیر۔یا یونس ،الموٴمن اذاقبضہ اللہ تعالیٰ صیر روحہ فی قالب کقالبہ فی الدنیا ،فیا کلون و یشربون ،فاذاقدم علیھم القادم عرفوہ بتلک الصورة التی کانت فی الدنیا“۔[30]
”سبحان اللہ! مومن خدا کے نزدیک اس سے کھیں زیادہ باعظمت ھے کہ اس کی روح کو پرندہ کے پوٹے میں رکھاجائے، اے یونس! جب خداوندعالم مومن کی روح قبض کرتا ھے تو اس کو دنیا کی طرح ایک قالب میں ڈال دیتا ھے، جس سے وہ کھاتا اور پیتا ھے، جب کوئی (دنیا سے جاتا ھے تو)اس کو پہچانتا ھے اور وہ اسی صورت میں رہتا ھے جس میں دنیا میں رہتا تھا“۔
اسی طرح امام صادق علیہ السلام سے ایک دوسری حدیث میں وارد ھوا ھے کہ آپ نے فرمایا:
”الموٴمن اکرم علی اللہ من ان یجعل روحہ فی حوصلة طیر،ولکن فی ابدان کابدانھم“۔۔[31]
”مومن خدا کے نزدیک اس سے کھیں زیادہ باعظمت ھے کہ اس کی روح کو پرندہ کے پوٹے میںرکھے، بلکہ انسان کی روح دنیا کی طرح ایک بدن میں ھوتی ھے“۔
اس کے علاوہ بھی بہت سی احادیث ھیں جو ھماری عرض کی ھوئی بات پر دلالت کرتی ھیں ۔[32]
قارئین کرام! مذکورہ باتوں کے پیش نظر احادیث میں بیان شدہ قبر کے ثواب و عذاب سے مراد عالم برزخ میں دوسری زندگی ھے جس میں انسان کی روح بدنِ مثالی میں قرار دی جائے گی ، لہٰذا آیات قرآن اور احادیث میں بیان شدہ روح کے مجرد ھونے اور عذاب و ثواب والا مسئلہ حل ھوجاتا ھے، کہ انسان کی روح مجرد بھی ھے لیکن اس پر عذاب و ثواب بھی ھوتا ھے اور اس کی روح پرواز بھی کرتی ھے اور اپنے اہل و عیال اور دوسروں کو دیکھتی بھی ھے۔
سائنس جسم مثالی کی تائید کرتا ھے :احضار روح کے ماہرین کے تجربوں سے اجسام مثالی کی حقیقت کا پتہ چلتا ھے جیسا کہ اس سلسلہ میں مشھور ماہرین کہتے ھیں: در حقیقت موت کچھ نھیں ھے مگر یہ کہ ایک مادی جسم سے دوسرے مادی جسم میں منتقل ھوجانا، لیکن وہ دوسرا (مادی جسم) اس دنیاوی جسم سے زیادہ واضح اور لطیف ھوتا ھے۔ ان کا یہ بھی عقیدہ ھے کہ روح کے لئے ایک بہت زیادہ شفاف اور لطیف مادہ ھوتا ھے ، لہٰذا اس پر مادہ کے قوانین جاری نھیں ھوسکتے۔[33]
کیا یہ باطل تناسخ نھیں ھے؟
بعض لوگوں نے گمان کیا ھے کہ انسان کی روح کا اس دنیاوی بدن سے جدا ھونے کے بعد اسی جیسے بدن میں چلاجانا یہ وھی باطل تناسخ ھے ، جو صحیح نھیں ھے، کیونکہ ضرورت دین اور اجماع مسلمین تناسخ کی نفی کرتے ھیں حالانکہ بہت سے متکلمین اور محدثین جسم مثالی کے قائل ھوئے ھیں، اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی احادیث میں بیان ھوا ھے، لیکن تناسخ کے قائل لوگوں نے اس کا انکار کیا ھے اور اسی وجہ سے معاد اور ثواب و عذاب کا انکار کرتے ھیں، کہتے ھیں کہ یہ روح دوبارہ اسی دنیا میں دوسرے بدن میں آجاتی ھے، لہٰذا قیامت کا کوئی وجود نھیں ھے، نیز یہ لوگ تناسخ کے ذریعہ خالق اور انبیاء علیھم السلام کا بھی انکار کرتے ھیں، نیز لازمہ تناسخ وظائف اور تکالیف کا بھی انکار کرتے ھیں، اور اسی طرح کی دوسری بے ھودہ باتیں ھیں[34]
۲۔ اس سلسلے میں دوسرا اعتراض یہ ھے کہ قبر میں کس طرح ثواب و عذاب ھوگا حالانکہ جنت یا دوزخ موجود نھیں ھے۔
جواب: وہ قرآنی آیات اور احادیث جن کو ھم نے قبر کے ثواب و عذاب کے دلائل کے عنوان سے بیان کیا ھے وہ اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ جنت اور دوزخ مخلوق (اور موجود)ھیں،اسی طرح امام صادق علیہ السلام سے مروی روایت بھی اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ جب آپ سے مومنین کی روحوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
”فی حجرات فی الجنة ،یاکلون من طعامھا ،و یشربون من شرابھا“۔[35]
”(مومنین کی روحیں) جنت کے بالا خانوں میں رہتی ھیں جنت کا کھانا کھاتی ھیں اور جنت کا شربت پیتی ھیں“۔
اسی طرح امام صادق علیہ السلام کی دوسری حدیث:
”ان ارواح الکفار فی نارجھنم یعرضون علیھا“۔[36]
”کفار کی ارواح کوجہنم کی آگ کی سیر کرائی جاتی ھے“۔
شیخ صدوق علیہ الرحمہ فرماتے ھیں: جنت و جہنم کے سلسلے میں ھمارا یہ عقیدہ ھے کہ یہ دونوں مخلوق ھیں اور ھمارے نبی اکرم ﷺمعراج کی شب جنت کی سیر فرماچکے ھیں، اور جہنم کو بھی دیکھ چکے ھیں، اور اس وقت تک انسان اس دنیا سے نھیں جاتا جب تک جنت یا دوزخ میں اپناٹھکانا،نہ دیکھ لے“۔[37]
علامہ خواجہ نصیر الدین طوسی علیہ الرحمہ فرماتے ھیں:آیات و روایات جنت و دوزخ کے مخلوق ھونے پر دلالت کرتی ھیں، (یعنی جنت و نار اس وقت بھی موجود ھیں) لہٰذا جو روایات اس مفھوم کے مخالف اور متعارض ھیں ان کی تاویل کی جائے گی، علامہ حلی علیہ الرحمہ نے اپنی شرح میں اختلاف کو بیان کرتے ھوئے فرمایاھے:لوگوں کے درمیان یہ اختلاف ھے کہ جنت و نار اس وقت موجود اور مخلوق ھیں یا نھیں؟ بعض لوگوں کا عقیدہ ھے کہ جنت و نار مخلوق شدہ ھیں اور اس وقت موجود ھیں، اس قول کو ابوعلی اختیار کرتے ھیں، لیکن ابو ہاشم اور قاضی قائل ھیں کہ غیر مخلوق ھے (یعنی اس وقت موجود نھیں ھے۔
پہلانظریہ رکھنے والوں نے درج ذیل آیات سے استدلال کیا ھے:
< اٴُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِینَ>[38]
”اور ان پرھیزگاروں کے لئے مھیا کی گئی ھے“۔
< اٴُعِدَّتْ لِلْکَافِرِینَ>[39]
”اور کافروں کے لئے تیار کی گئی ھے“۔
< یَاآدَمُ اسْکُنْ اٴَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ>[40]
”اے آدم تم اپنی بیوی سمیت بہشت میں رھاسھاکرو اور جہاں تمہارا جی چاھے“۔
<عِنْدَہَا جَنَّةُ الْمَاٴْوَی >[41]
”اسی کے پاس تو رہنے کی بہشت ھے“۔
جنة الماوی یھی دار ثواب ھے جو اس بات پر دلالت کرتا ھے کہ یہ اس وقت آسمان میں موجود ھے۔
ابو ہاشم نے اپنے نظریہ کے اثبات کے لئے درج ذیل آیت سے استناد کیا ھے:
<کُلُّ شَیْءٍ ہَالِکٌ إِلاَّ وَجْہَہ>[42]
”اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ھونے والی ھے “۔
چنانچہ ابوہاشم نے کھاھے کہ اگر اس وقت جنت موجود ھوتی تو اس (روز قیامت) کا ہلاک اور نابود ھونا ضروری ھوتا، لیکن یہ نتیجہ باطل ھے، چونکہ خداوندعالم فرماتا ھے:
< اٴُکُلُہَا دَائِمٌ>[43]
”اور اس کے پھل دائمی ھوںگے“۔
چنانچہ علامہ حلّی علیہ الرحمہ نے جواب دیتے ھوئے فرمایا: اس کے پھل دائمی ھونے کا مطلب یہ ھے کہ اس قسم کے پھل ھمیشہ رھیں گے، کیونکہ اس طرح کے پھل ھمیشہ پیدا ھوتے رھیں گے، اور جنت کے پھل کھانے سے ختم ھوجاتے ھیں لیکن خداوندعالم دوبارہ ان جیسے پھل پیدا کردیتا ھے، یہاں پر ہلاک ھونے کے معنی ”فائدہ پہنچانے سے رک جانا“ ھیں، بے شک مکلفین کے ہلاک ھونے سے جنت بھی غیر قابل انتفاع ھوجائے گی، پس اس معنی کے لحاظ سے جنت بھی ہلاک ھوجائے گی۔[44]

____________

[1] لسان العرب / ابن منظور ۔برزخ ،۳:۸۔
[2] تفسیر المیزان ۳ طباطبائی ۱:۳۴۹۔
[3] سورہٴ مومنون آیت۱۰۰۔
[4] تفسیرقمی ،ج۱،ص۱۹،بحارالانوار ۳ علامہ مجلسیۺ،ج۶،ص۲۱۸/۱۲۔
”برزخ سے مراد قبر ھے جس میں انسان کو قیامت تک کے لئے ثواب یا عذاب دیا جائے گا“۔
[5] امالی شیخ طوسی ۺ :۲۸/۳۱،بحارالانوار ۶:۲۱۸/۱۳۔
[6] نہج البلاغہ / صبحی الصالح :۳۴۰ /خطبہ نمبر (۲۲۱)۔
[7] اصول کافی /اکلینی۳:۲۳۶/۶۔
[8] علل الشرائع :۳۰۹/۴امالی الصدوق :۴۶۸/۶۲۳،امالی شیخ طوسی ۺ :۴۲۷/۹۵۵۔
[9] ثواب الاعمال ،شیخ صدوق:۱۹۷۔منشورات الرضی ۔قم ،علل الشرائع ،شیخ صدوق:۳۰۹/۳،امالی الصدوق :۶۳۲/۸۴۵۔
[10] اصول کافی /الکلینی۳:۲۳۲/۱و۲۳۶/۷و ۲۳۸/۱۰و ۲۳۹/۱۲،الاعتقاد ات ،شیخ صدوق:۵۸ ،تصحیح الاعتقاد / المفید :۹۹۔۱۰۰،شرح الموقف / الجرجانی ۸:۳۱۷۔۳۲۰۔
[11] امالی شیخ صدوق:۳۷۰/۴۶۴۔
[12] کشف المراد / العلامہ الحلی :۴۵۲،المسائل السرویہ /المفید :۶۲۔مسالة (۵)،الاربعین ۳ ،البہائی: ۲۸۳ و۳۸۷،حق الیقین ۳ عبد اللہ شبر ۲:۶۸۔
[13] سورہٴ غافر آیت ۴۵۔۴۶۔
[14] تفسیر المیزان / علامہ طباطبائی ۱۷:۳۳۵۔
[15] مجمع البیان ۳ الطبرسی ۸:۸۱۸۔
[16] سورہٴ طہ آیت۱۲۴۔
[17] ا ربعین ، شیخ بہائی :۴۸۸۔
[18] شرح ابن ابی الحدید ۶:۶۹۔داراحیاء الکتب العربیہ ۔مصر ،امالی شیخ طوسی ۺ :۲۸/۳۱۔
[19] اصول کافی /الکلینی ۳:۲۳۱۔۲۳۹،۲۴۴۔۲۴۵و۲۵۳/۱۰،المحاسن / البرقی :۱۷۴۔۱۷۸۔ دارالکتب الاسلامیہ ۔قم ،بحارالانوار / مجلسی ۶:۲۰۲باب(۸)،سنن النسائی ۴:۹۷۔۱۰۸۔کتاب الجنائز ۔ دارالکتاب العربی ۔بیروت ،کنزل العمال/ المتقی الہندی ۱۵:۶۳۸و غیرھا۔
[20] سنن الترمذی ۴:۶۴۰/۴۶۰۔کتاب صفة القیامة ۔داراحیاء التراث العربی ۔بیروت ،حیاء علوم الدین/ الغزالی ۵:۳۱۶۔
[21] امالی شیخ طوسی ۺ :۲۸/۳۱۔
[22] سورہٴ مومنون آیت۱۰۰۔
[23] الخصال ،شیخ صدوق:۱۲۰/۱۰۸۔
[24] درالمنثور ۳ ا،سیوطی ،ج۵،ص۲۸۔
[25] ا صول کافی ،شیخ کلینی،ج ۳ص۲۳۴/۳۔
[26] ا صول کافی /الکلینی ۳:۲۳۹/۱۲۔
[27] اربعین ،شیخ بہائی :۴۹۲۔
[28] اوائل المقالات ،شیخ مفید :۷۷،تصحیح الاعتقاد ،شیخ مفید۸۸۔۸۹،المسائل السرویہ،شیخ مفید: ۶۳۔ ۶۴۔ المسالة (۵)،الاربعین ، شیخ بہائی :۵۰۴۔
[29] تہذیب ، شیخ طوسی ۺ،ج ۱،ص۴۶۶/۱۷۲۔
[30] تہذیب ، شیخ طوسی ۺ ۱:۴۶۶/۱۷۱،الکافی /الکلینی ۳:۳۴۵/۶۔
[31] اصول کافی /الکلینی ۳:۲۵۵/۱
[32] اصول کافی /الکلینی ۳:۲۴۴/۳و۳۴۵/۷۔
[33] دائرة معارف القرن العشرین /وجدی ۴:۳۷۵۔
[34] حق الیقین /عبد اللہ شبر ۲:۵۰،الاربعین / البہائی :۵۰۵،بحارالانوار ۶:۲۷۱و۲۷۸۔
[35] اصول کافی /الکلینی ۳:۲۴۴/۴۔
[36] ا صول کافی /الکلینی ۳:۲۴۵/۲۔
[37] الاعتقادات ،شیخ صدوق:۷۹۔
[38] سورہٴ آل عمران آیت۱۳۳۔
[39] سورہٴ بقرة آیت۲۴۔
[40] سورہٴ بقرة آیت۳۵۔
[41] سورہٴ نجم آیت۱۵۔
[42] سورہٴ قصص آیت۸۸۔
[43] سورہٴ رعد آیت۳۵۔
[44] کشف المراد / العلامہ الحلی :۴۵۳،رجوع کریں: شرح المواقف / الجرجانی ۸:۳۰۱۔۳۰۳۔