Story of Appreciation

One young academically excellent person went to apply for a managerial position in a big company.

He passed the first interview; the director did the last interview, made the last decision.

The director discovered from the CV, that the youth’s academic result was excellent all the way, from the secondary school until the postgraduate research, never was there a year he did not score.

The director asked, “Did you obtain any scholarship in school?” and the youth answered “no”.

The director asked, “Did your father pay your school fees?” The youth answered, “my father passed away when I was one year old and it was my mother who paid my school fees”.

The director asked, “Where did your mother work?” the youth answered, “my mother worked as cloth cleaner.” The director requested the youth to show his hands and the youth showed a pair of hands that was smooth and perfect to the director.

The director asked, “Did you ever help your mother wash clothes before?” The youth answered,” never, my mother always wanted me to study and read more books, furthermore, my mother could wash clothes faster than I could”

The director said, I have a request, when you go back today, go and help to clean your mother’s hand, and then see me tomorrow morning .

The youth felt that the chance of landing the job was high and when he went back, he happily wanted to clean his mother’s hands. His mother felt strange. With happiness mixed with fear, she showed her hands to the kid.

The youth cleaned his mother’s hands slowly and his tears fell as he did that. It was the first time he noticed that his mother’s hands were so wrinkled, and that there were so many bruises in her hands. Some bruises were so painful that she shuddered when his mother’s hands were cleaned with water .

This is the first time that the youth realized and experienced that it is this pair of hands that washed the clothes everyday to earn him the school fees and that the bruises in the mother’s hand were the price that the mother paid for his graduation and academic excellence and probably his future.

After finishing the cleaning of his mother’s hands, the youth quietly washed all the remaining clothes for his mother.

That night, the mother and son talked for a very long time.

Next morning , the youth went to the director’s office

The director noticed the tear in the youth’s eye and asked: “Can you tell what you did and learnt yesterday in your house?”

The youth answered, ” I cleaned my mother’s hands and also finished washing all the remaining clothes’

The director asked , ” please tell me what you felt “

The youth said, “Number 1, I know what appreciation is now’. Without my mother, I would not be successful today. Number 2, Now I know how to work together with my mother. Only now do I realize how difficult and tough it is to get something done. Number 3, I know the importance and value of family relationship.

The director said, “This is what I am asking, I want to recruit a person that can appreciate the help of others, a person who knows the suffering of others to get things done, and a person that would not put money as his only goal in life to be my manager. You are hired.

Later on, this young person worked very hard, and received the respect of his subordinates, every employee worked diligently and as a team and the company improved tremendously.

A child, who has been protected and habitually given whatever he needs, develops “entitlement mentality” and always puts himself first. He is ignorant of his parent’s efforts. When he starts work, he assumes every person must listen to him, and when he becomes a manager, he would never know the suffering of his employees and always blame others. These kinds of people, can achieve good results and may be successful for a while, but eventually would not feel a sense of achievement or satisfaction. If we happen to be this kind of (protective) parent, this is the time to ask the question- whether we did/do love our kids or destroy them.

You can let your kid live in a big house, eat a good meal, learn to play the piano, watch a big screen TV but when you are cutting grass, please let them experience it. After a meal, let them wash their plate and bowl together with their brothers and sisters. It is not because you do not have money to hire a maid, but it is because you want to love and show them the correct way. You want them to understand that no matter how rich their parents are, one day they will grow old, become weak and that their hair too will grow gray,. The most important thing is for your kid to learn how to appreciate experience and learn the effort and ability needed to work with others to get things done. They should also value, appreciate what the parents have done and love them for who they are!

وقت ایک تحفہ

وقت ایک تحفہ
Ashfaq Ahmed

میں وقت کے بارے میں بہت گنجلک رہتا ہوں۔ میں کیا اور میری حیثیت کیا۔ میں کس باغ کی مولی ہوں۔ وقت کےبارے میں بڑے بڑے سائنسدان، بڑے فلسفی، بڑے
نکتہ دان، وہ سارے ہی اس کی پیچیدگی کا شکار ہیں کہ وقت اصل میں ہے کیا؟ اوریہ ہماری زندگیوں پر کس طرح سے اثر انداز ہوتا ہے؟ حضرت علامہ اقبال رح اور ان کےبہت ہی محبوب فرانسیسی فلسفی برگساں بھی وقت کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ مولانا روم اپنی چھوٹی چھوٹی کہانیوں میں وقت کا ہی ذکر کرتے ہیں۔آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ آئن سٹائن نے بھی اپنی Theory of Reality میں سارا زور وقت پر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ “شے“ کوئی چیز نہیں ہے “وقت“ شے کی ماہئیت کو تبدیل کرتا ہے۔ اس نے ہم لوگوں کی آسانی کے لئے ایک مثال دی ہے کہ اگر آپ ایک بہت گرم توے پر غلطی سے بیٹھ جاتے ہیں اور وہ بھی ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے تک اور آپ پریشانی کی حالت میں یا تکلیف میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، تو آپ کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ پوری صدی آپ کے ساتھ چمٹ گئی ہے۔

اگر آپ اپنے محبوب کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ میں دس بج کر پندرہ منٹ تک پہنچ جاؤں گا، یا پہنچ جاؤں گی، فلاں جگہ تو اس میں اگر ایک منٹ کی بھی دیری ہو جاتی ہے، تو آپ کو یوں لگتا ہے کہ ڈیڑھ ہزار برس گزر گیا ہے اور وہ ایک منٹ آپ کی زندگی سے جاتا ہی نہیں۔ یہ سارا وقت کا ہی شاخسانہ ہے کہ آنے جانے، ملنے ملانے اور گرم ٹھنڈے کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ ساری بات وقت کی ہے، پھر جو آئن سٹائن سے اختلاف رکھتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ Sub-atomic Particle Level پر جب ہم اس کو دیکھتے ہیں تو کبھی وہ ہم کو Wave نظر آتا ہے، تو کبھی وہ ہمیں Particleدکھائی دیتا ہے اور اگر اس میں سے وقت کو نکال دیا جائے، تو پھر شاید اصل بات پتا چل سکے کہ Sub-atomic Levelکے اوپر یہ کیا چیز ہے۔ بہر کیف یہ ایسی پیچیدگیاں ہیں، جن کے بارےمیں بات ہوتی رہتی ہے۔ میرے جو سمجھدار نوجوان اس نسل کے ہیں، یہ بھی وقت کے بارے میں بہت لمبی اور سوچ بچار کی بات کریں گے۔

وقت کا ایک پیچدہ سا خاکہ ہر انسان کے ساتھ گھومتا رہتا ہے۔ چاہے وہ اس پر غور کرے یا نہ کرے۔ میں جب اپنی ملازمت سے ریٹائر ہو رہا تھا، تو ریٹائرمنٹ کا بڑا خوف ہوتا ہے کہ اب کیا ہوگا؟ یعنی آدمی نے ایک نوکری کی ہوتی ہے اور اس میں پھنسا چلتا رہتا ہے، لیکن آخر میں کچھ لوگ تو Re-employmentکی تیار کر لیتے ہیں۔ ایک پھانسی سے نکلوں گا، دوسری پھانسی انشاءاللہ تیارہوگی۔ اس میں اپنا سر دے دوں گا اور پھر آخرت کا سفر کر جاؤں گا۔

جب میں ریٹائر ہونے کے قریب تھا، تو مجھ پر بھی یہ خوف سوار ہوا۔ میں نے قدرت اللہ شہاب سے، جو بڑے ہی نیک اور عبادت گزار تھے، ان سے پوچھا کہ “سر! میں ریٹائر ہونے والا ہوں، تو میں کیا کروں؟“انہوں نے کہا کہ ریٹائر ہونے کا جو خوف ہوتا ہے، اس کا سب سے بڑا دباؤ آپ پر یہ پـڑتا ہے کہ پھر لوگ آپ پر توجہ نہیں دیتے یعنی اپنا وقت آپ کو نہیں دیتے۔ آپ ان کے وقت کی آغوش سے نکل جاتے ہیں، پھر آپ کلب کی ممبر شپ اختیار کرتے ہیں۔ گالف کھیلنے لگتے ہیں، زور لگاتے ہیں کہ نئے دوست بنیں۔ اس کا آسان نسخہ یہ ہے کہ ہم متوسط درجے کے لوگوں کا، کہ آپ مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگ جائیں۔

میں نے کہا کہ اس کا کیا تعلق؟ یعنی ریٹائرمنٹ کا اور مسجد کا آپس میں کیا تعلق؟ میں نے کہا کہ خیر نماز پڑھ لوں گا۔ کہنے لگے، نہیں مسجد میں جاکر، جب میں ریٹائر ہوا تو میں نے سوچا کہ انہوں نے کہا ہے اور یہ بات مانی جانی چاہئے کہ مسجد میں جا کر نماز پڑھوں۔ اب میں مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگا، لیکن عصر اور مغرب کی۔ اس طرح کوئی دو مہینے گزر گئے۔ مجھے تو اس میں کوئی عجیب بات نظر نہیں آئی۔ لیکن چونکہ انہوں نے کہا تھااس لئے میں ان کی بات مانتا تھا۔ایک دن میری بیوی یہ بیان کرتی ہے کہ کچھ عجیب و غریب جسم کے چار پانچ آدمی، جن کی شکلیں میں نے پہلے نہیںدیکھی تھیں، ہاتھ میں چھڑیاں لے کر اور دوسرے ہاتھ میں تسبیحات لٹکا کر میرے گھر کے دروازے پر آئے اور انہوں نے گھنٹی بجائی اور جب میں باہر نکلی تو کہنے لگے:“اشفاق صاحب خیریت سے ہیں!“ میں(بانو قدسیہ) نے کہا، ہاں ٹھیک ہیں۔ وہ کہنے لگے، ان سے ملاقات نہیں ہوسکتی کیا؟ میں نے کہا کہ وہ پچھلے چھ دن سے اسلام آباد گئے ہوئے ہیں۔ کہنے لگے “الحمدللہ، الحمدللہ! ہمارے تسلی ہو گئی، اچھا بہن السلام علیکم!“ میری بیوی پوچھنے لگی وہ کون لوگ تھے؟ میں نے کہا کہ، وہ میرے دوست تھے، جو مسجد جانے کی وجہ سے میرے حلقۂ احباب میںشامل ہوئے ہیں۔ میرے پاس تو اتنے پیسے نہیں تھے کہ میں کلب میں ممبر ہو کر نئی دوستیاں استوار کر سکوں۔ وہ مجھے وقت عطا کرتے ہیں اور اس وقت کی تلاش میں کہ میں اس میں شامل نہیں ہوں، پوچھنے آئے تھے کہ میں کہاں ہوں؟ انسان دوسرے انسان کو جو سب سے بڑا تحفہ عطا کر سکتا ہے، وہ وقت ہے۔ اس سے قیمتی تحفہ انسان انسان کو نہیں دے سکتا۔ آپ کسی کو کتنا بھی قیمتی تحفہ دے دیں، اس کا تعلق گھوم پھر کر وقت کے ساتھ چلا جائے گا۔ مثلاً آپ مجھے یا میں آپ کو نہایت خوبصورت قیمتی پانچ ہزار روپے کا “اوڈی کلون“ دوں یا آپ مجھے قالین کا ایک خوبصورت ٹکڑا دیں، یا میرے آرٹسٹ بچے مجھے ایک بہت قیمتی پینٹنگ بطور تحفہ دیں، یا سونے کا کنگن ایک خاتون کو دیا جائےیا ہیرے کا ایک طوطا یا کوئی اور قیمتی چیز، تو آپ دیکھیں گے کہ یہ سارے تحفے جو بظاہر اور حقیقت میں قیمتی ہیں، ان کے پیچھے وقت ہی کار فرما ہے۔

پہلے میں نے وقت لیا، پھر میں نے کمائی کی۔ میں نے دس دیہاڑیاں لگائیں، جو مجھے ایک ہزار فی دیہاڑی ملتے تھے، پھر دس ہزار کا میں نے قالین خریدا اور تحفے کے طور پر آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ ٹائم پہلے لینا پڑتا ہے، پھر اس کو بیچنا پڑتا ہے، پھر اس کو تحفے کی شکل میںConvertکرنا پڑتا ہے، پھر وہ آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ انسان کے پاس تحفہ دینے اور لینے کے لئے سب سے قیمتی چیز بس وقت ہی ہے۔ اکثر یہ ہو جاتا ہے جیسے آج مجھ سے ہوگا اور میں مجبور ہوں ایسا کرنے پر کہ میں اپنا وقت اس شخص کو دینے کی بجائے جو میری آس میں ہسپتال کے ایک وارڈ میں موجود ہے، میں اسے پھولوں کا ایک گلدستہ بھیجوں گا، لیکن وہ شخص اس گلدستے کی آس میں نہیں ہوگا، بلکہ وہ میرے وجود، میرے لمس اور میرے ٹچ کے لئے بے چین ہوگا کہ میں اس کے پاس آؤں اور اس کے ساتھ کچھ باتیں کروں۔ ڈاکٹر اس کی بہت نگہداشت کر رہے ہیں۔ نرسیں اس پر پوری توجہ دے رہی ہیں اور اس کے گھر کے لوگ بھی ظاہر ہے اس کے ساتھ بہت اچھا برتاؤ کر رہے ہیں، کیونکہ وہ بیمار ہے۔ لیکن ایک خاص کرسی پر اسے میرا انتظار ہے، لیکن میں اس کے پاس اپنے وقت کا تحفہ لے کر نہیں جا سکتا۔

خواتین وحضرات! وقت ایک ایسی انوسٹمنٹ ہے، ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جو باہمی اشتراک رکھتی ہے۔ ہمارے بابے کہتے ہیں کہ جب میں آپ کو اپنا وقت دیتا ہوں تو سننے والا اور آپ سے ملاقات کرنے والا اور آپ کے قریب رہنے والا آپ کو اپنا وقت دیتا ہے اور باہمی التفات اور محبت کا یہ رشتہ اس طرح سے چلتا رہتا ہے۔ میرے بھتیجے فاروق کی بیوی کشور جب ساہیوال سے اپنے میکے اسلام آباد گئی، تو کشور نے جاتے ہوئے(اس کا خاوند فاروق انکم ٹیکس آفیسر ہے اور اس نے سی ایس ایس کیا ہوا ہے، کشور بھی بڑی پڑھی لکھی ذہین لڑکی ہے) ایک کاغذ پر لکھا، یہ تمھارے لئے ایک Instruction Paper ہے کہ دھوبی کو تین سو روپے دے دینا، دودھ والا ہر روز ایک کلو دودھ لاتا ہے، اس کو کم کرکے پونا سیر کر دینا اور بلی کے لئے جو قیمہ ہے ، یہ میں نے ڈیپ فریزر میں رکھ کر اس کی “پڑیاں“ بنا دی ہیں اور ان کے اوپر Datesبھی لکھی ہوئی ہیں، روز ایک پڑیا نکال کر اس کو صبح کے وقت دینی ہے(اس کی سیامی بلی ہے، وہ قیمہ ہی کھاتی ہے)۔ اس نے اور دو تین Instructionsلکھی تھیں کہ مالی جب آئے تو اسے کہنا ہے کہ فلاں پودے کاٹ دے، فلاں کو “وینگا“(ٹیڑھا) کر دے اور فلاں کی جان مار دے، جوجو بھی اس نے لکھنا تھا، ایک کاغذ پر لکھ دیا۔

اس نے اپنے خاوند سے کہا کہ ساری چیزیں ایمانداری کے ساتھ ٹٍک کرتے رہنا کہ یہ کام ہو گیا ہے۔ جب وہ ایک مہینے کے بعد لوٹ کر آئی اور اس نے وہ کاغذ دیکھا، تو اس کے Dutiful خاوند نے ساری چیزوں کو ٹٍک کیا ہوا تھا۔ اس نے آخر میں کاغذ پر یہ بھی لکھا تھا کہ “مجھ سے محبت کرنا نہیں بھولنا“ جب اس نے ساری چیزیں ٹٍک کی ہوئی دیکھیں اور آخری ٹٍک نہیں ہوئی تو اس نے رونا، پیٹنا شروع کر دیا کہ مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے باقی کام تو نہایت ذمہ داری سے کئے ہیں، یہ ٹٍک کیوں نہیں کی؟ تب اس(فاروق) نے کہا کہ پیاری بیوی جان یہ تو میں ٹٍک کر نہیں سکتا، کیونکہ یہ تو Continuous Process ہے۔محبت کا عمل تو جاری رہتا ہے۔ یہ کہیں رُکتا نہیں ہے۔ محبت گوالے کا دودھ نہیں ہے، یا اخبار کا بل نہیں ہے، اس کو میں کیسے ٹٍک کر سکتا تھا؟ یہ تو چلتی رہے گی۔ یہ کاغذ ایسا ہی رہے گا۔ تم سو بار مجھے لکھ کر دے جاؤ، ہزار بار میں ہر آئٹم کو ٹٍک کروں گا، لیکن یہ معاملہ تو ایسے ہی چلتا رہے گا۔ تو یہ ایک انوسٹمنٹ ہے، وقت کی۔ پلیز! خدا کے واسطے اس بات کو یاد رکھیئے۔ بظاہر یہ بڑی سیدھی سی اور خشک سے نظر آتی ہے، لیکن آپ کو اپنا وقت دینا ہوگا، چاہے تھوڑا ہی، بے حد تھوڑا ہو اور چاہے زندگی بڑی مصروف ہو گئی ہو۔

واقعی زندگی مصروف ہو گئی ہے، واقعی اس کے تقاضے بڑے ہو گئے ہیں، لیکن جب انسان انسان کے ساتھ رشتے میں داخل ہوتا ہے، تو سب سے بڑا تحفہ اس کا وقت ہی ہوتا ہے۔ وقت کے بارے میں ایک بات اور یاد رکھئے کہ جب آپ اپنا وقت کسی کو دیتے ہیں تو اس وقت ایک عجیب اعلان کرتےہیں اور بہت اونچی آواز میں اعلان کرتے ہیں، جو پوری کائنات میں سنا جاتا ہے۔ آپ اس وقت یہ کہتے ہیں کہ “اس وقت میں اپنا وقت اس اپنے دوست کو دے رہی ہوں، یا دے رہا ہوں۔ اے پیاری دنیا! اے کائنات!! اس بات کو غور سے سنو کہ اب میں تم ساری کائنات پر توجہ نہیں دے سکتا، یا دے سکتی، کیونکہ اس وقت میری ساری توجہ یہاں مرکوز ہے۔“آپ اعلان کریں یا نہ کریں، کہیں یا نہ کہیں جس وقت آپ ہم آہنگ ہوتے ہیں اور ایمانداری کے ساتھ وقت کسی کو دے رہے ہوتے ہیں، تو پھر یہ اعلان بار بار آپ کے وجود سے، آپ کی زبان سے،آپ کے مسام سے آپ کی حرکت سے نکلتا چلا جائے گا۔ توجہ ہی سب سے بڑا راز ہے۔

ایک دن ہمارا ڈرائیور نہیں تھا۔ میری بہو درس میں جاتی ہے، تو میں نے اس سے کہا کہ تم کیوں پریشان ہوتی ہو؟ میں تمھیں چھوڑ دیتا ہوں۔ دن کے وقت میں گاڑی چلا لیتا ہوں۔ میں نے کہا۔ اس پر اس نے کہا، ٹھیک ہے۔ ماموں آپ مجھے چھوڑ آئیں بڑی مہربانی۔ جب میں اسے اس جگہ لے گیا، جس مقام پر بیٹھ کر خواتین درس دیتی ہیں، تو ظاہر ہے میں تو آگے نہیں جا سکتا تھا، میں نے اسے اتارا۔اسی اثناء میں، میں نے درس دینے والی خاتون کا عجیب اعلان سنا۔ جو میں سمجھتا ہوں کہ مردوں کی قسمت میں تو نہیں۔ میں نے مردوں کے بڑے بڑے جلسے دیکھے ہیں۔ ان میں، میں نے اتنی خوبصورت بات نہیں سنی۔ وہ بی بی اندر کہ رہی تھیں کہ “اے پیاری بچیو اور بہنو! اگر تم اپنی بیٹی سے بات کر رہی ہو، یا اپنے خاوند سے مخاطب ہو، یا اپنی ماں کی بات سن رہی ہو اور ٹیلیفون کی گھنٹی بجے تو ٹیلیفون پر توجہ مت دو، کیونکہ وہ زیادہ اہم ہے، جس کو آپ اپنا وقت دے رہی ہو۔ چاہے کتنی ہی دیر وہ گھنٹی کیوں نہ بجتی رہے، کوئی آئے گا سن لے گا۔“ یہ بات میرے لئے نئی تھی اور میں نے اپنے حلقۂ احباب میں لوگوں یا دوستوں سے کبھی ایسی بات نہیں سنی تھی۔

میں اس خاتون کی وہ بات سن کر بہت خوش ہوا اور اب تک خوش ہوں اور اگر یہ بات ان بیبیوں نے سمجھی ہے تو یہ بے حد قیمتی بات ہے اور غالباً انہوں نے اس سے قیمتی بات اس روز کے درس میں اور نہیں دی ہوگی۔ اب آپ بڑے ہو گئے ہیں، آپ کو وقت کی پیچیدگی کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔ ایک آپ کو چھپے چھپائے مسائل ملتے ہیں اور ایک وہ ہیں، جن کو آپ جیسے بچے اپنے کالج کے برآمدوں میں ستونوں کے ساتھ ٹیک لگا کر سوچتے ہیں۔ آپ ان مسائل کو سوچیں، جو آپ کی زندگیوں کے ساتھ ٹچ کرتے ہیں۔ گزرتے، لمس کرتے اور جیسے پنجابی میں کہتے ہیں “کھیہ“ کے جاتے ہیں، پھر آپ کی سوچ شروع ہوگی، ورنہ پٹے ہوئے سوال جو چلے آ رہے ہیں، انگریز کے وقتوں سے انہی کو آپ اگر Repeat کرتے رہیں گے، تو پھر آپ آنے والے زمانے کو وہ کچھ عطا نہیں کر سکیں گے، جو آپ کو عطا کرنا ہے۔ اس وقت کا تعلق حال سے ہے۔ جب آپ کسی کو وقت دیتے ہیں، یا کوئی آپ کو وقت دیتا ہے، اپنا لمحہ عطا کرتا ہے تو آپ حال میں ہوتے ہیں، اس کا تعلق ماضی یا مستقبل سے نہیں ہوتا۔ لیکن کبھی کبھی (یہ بات میں تفریح کے طور پر کرتا ہوں، تاکہ اپنے استاد کو بہت داد دے سکوں اور ان کا مان بڑھانے کے لئے میں ان کے سامنے عاجزی سے کھڑے ہونے کے لئے کہتا ہوں) جس زمانے میں ہمارے استاد پطرس بخاری ہمیں گورنمنٹ کالج چھوڑ کر “یو این او“ میں چلے گئے تھے اور وہ نیویارک میںرہتے تھے، جس علاقے یا فلیٹ میں وہ رہتے تھے، وہاں پر استادٍ مکرم بتاتے ہیں کہ رات کے دو بجے مجھے فون آیا اور بڑے غصے کی آواز میں ایک خاتون بول رہی تھیں۔ وہ کہ رہی تھیں کہ آپ کا کتا مسلسل آدھ گھنٹے سے بھونک رہا ہے، اس نے ہماری زندگی عذاب میں ڈال دی ہے۔ میرے بچے اور میرا شوہر بے چین ہو کر چارپائی پر بیٹھ گئے ہیں اور اس کی آواز بند نہیں ہوتی۔اس پر بخاری صاحب نے کہا کہ میں بہت شرمندہ ہوں اور آپ سے معافی چاہتا ہوں کہ میرا کتا اس طرح سے Behaveکر رہا ہے۔لیکن میں کیا کروں، میں مجبور ہوں۔ اس پر اس خاتون نے غصے میں آکر اپنا فون بند کر دیا۔ اگلے ہی روز بخاری صاحب نے رات ہی کے دو بجے ٹیلیفون کر کے اس خاتون کو جگایا اور کہا کہ محترمہ! میرے پاس کوئی کتا نہیں ہے، مجھے کتوں سے شدید نفرت ہے۔ کل رات جو کتا بھونکا تھا، وہ میرا نہیں تھا۔اب دیکھئے کہ انہوں نے کس خوبصورتی سے حال کو مستقبل سے جوڑا، یا میں یہ کہوں گا کہ ماضی کو مستقبل کے ساتھ جوڑا۔ یہ بخاری صاحب کا ہی خاصہ تھا۔

میں اب آپ سے بڑی عجیب و غریب بات عرض کرنے لگا ہوں۔ مجھے اپنا وہ زمانہ یاد آگیا، جلدی میں وہ بات بھی بتا دوں۔ جب میں اٹلی میں رہتا تھا۔ روم میں ایک فوارہ ہے، جس میں لوگ پیسے پھینکتے ہیں۔ میں وہاں راستے میں کھڑا ہو گیا۔ وہاں بہت سارے امریکن ٹورسٹ آئے تھے۔ ایک بڈھا امریکی بھی اس میں پیسے پھینک رہا تھا۔اس کی بیوی ہنس کر اس سے کہنے لگی کہ “جارج! میرا نہیں خیال تھا کہ تم اس طرح کے دقیانوسی اور اتنے پرانی باتوں کو ماننے والے ہوگے۔ اور کیا تم تسلیم کرتے ہو کہ اس طرح سے باتیں پوری ہوتی ہیں؟“ اس نے کہا کہ دیکھئے یہ جو میری بات یا منت تھی، یہ تو کب کی پوری ہو چکی ہے۔ اب تو میں اس کی قسطیں ادا کر رہا ہوں۔“یہ ساری محبت اور Attachmentکی باتیں ہیں، جن کا ہمارے ہاں رواج کم ہی ہے۔

جس طرح سے میں وقت کی بات آپ کی خدمت میں عرض کر رہا تھا اور اسے تحفے کے طور پر ادا کرنے کے لئے آپ کو رائے دے رہا تھا، اسی طرح وقت ہی سب سے بڑا دشمن بھی ہے، کیونکہ جب آپ کسی کو قتل کر دیتے ہیں تو اس سے کچھ نہیں لیتے، سوائے اس کے وقت کے۔ اس نے ابھی سوات دیکھنا تھا، ابھی ڈھاکہ جانا تھا۔ لیکن آپ نے اس سے اس کا وقت چھین لیا۔ جب آپ کسی انسان پر بہت ظلم کرتےہیں، بڑی شدت کا تو آپ اس سے اس کا وقت چھین لیتے ہیں۔ ابھی اس نے نیویارک دیکھنا تھا، ابھی اس نے کئی پینٹنگز بنانی تھیں، ابھی اس نے گانے گانے تھے، ابھی اس نے ناچنا تھا اور وہ سب آپ نے چھین لیا۔ وقت کا بھید پکڑا نہیں جا سکتا۔ اس کی پیچیدگی کو آسانی نے سلجھایا نہیں جا سکتا، لیکن یہ بات یاد رکھئے یہ آپ کے، میرے اور ہم سب کے اختیار میں ہے کہ ہم وقت دیتے ہیں تو ہمارا مدٍ مقابل زندہ ہے۔ اگر اس سے وقت لے لیتے ہیں، تو روح اور قالب ہونے کے باوصف وہ مر جاتاہے۔میں تو کسی کو بھی وقت نہیں دے سکا اور نہ ہی آج شام ایسا کر سکوں گا۔ اپنے دوست کو پھولوں کا گلدستہ ہی بھیج دوں گا، جو میری بدقسمتی اور کوتاہی ہے۔ آپ دوسروں کو وقت دینے کی کوشش ضرور کیجئے گا۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ اللہ نگہبا

 

Gates of Happiness are Open

“For you see, each day I love you moreToday more than yesterday and less than tomorrow.”~ Rosemonde Gerard

“You rose into my life like a promised sunrise, brightening my days with the light in your eyes. I’ve never been so strong. Now I’m where I belong.”~ Maya Angelou

“Love is the master key that opens the gates of happiness.”~ Oliver Wendell Holmes

“In the arithmetic of love, one plus one equals everything, and two minus one equals nothing.”~ Mignon McLaughlin

When you realize you want to spend the rest of your life with somebody, you want the rest of your life to start as soon as possible.  ~Nora Ephron, When Harry Met Sally

s

 

Divine accident

“The most wonderful of all things in life, I believe, is the discovery of another human being with whom one’s relationship has a glowing depth, beauty, and joy as the years increase. This inner progressiveness of love between two human beings is a most marvelous thing, it cannot be found by looking for it or by passionately wishing for it. It is a sort of Divine accident.” Sir Hugh Walpoe

“Today I begin to understand what love must be, if it exists. . . . When we are parted, we each feel the lack of the other half of ourselves. We are incomplete like a book in two volumes of which the first has been lost. That is what I imagine love to be: incompleteness in absence”. Edmond de Goncourt (1822-96) and Jules de Goncourt (1830-70), French writers.

 

My heart to you is given: Oh, do give yours to me; We’ll lock them up together, And throw away the key.

“Love is an act of endless forgiveness, a tender look which becomes a habit”.

خطبہ

(البدايه والنهاية جلد 3، صفحه 214)

’’الحمدللہ! میں اس کی حمد کرتا ہوں اور اس سے امداد طلب کرتا ہوں، ہم اپنے نفس کے فتنوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں، اللہ جس کو گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں) سب سے بہتر کلام اللہ تعالیٰ کی کتاب (قرآن) ہے، اس نے فلاح پائی جس کے قلب کو اللہ تعالیٰ نے زینت بخشی اور اسے کفر کے بعد اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائی اور اسے اختیار بخشا کہ وہ ہدایات اسلام کے علاوہ دنیا کے تمام انسانوں کی باتوں کو رد کردے۔ کلام الہی سب سے زیادہ بہتر کلام ہے، اس کی تبلیغ کرو، جسے اللہ چاہے اسے تم بھی چاہو، اللہ کو اپنے دل کی تمام گہرائیوں سے چاہو، اللہ کے کلام اور اس کے ذکر کو نہ الٹ پلٹ کرو نہ اپنے قلوب میں اس کی کمی آنے دو، جسے اللہ تعالیٰ نے اختیار بخشا اور اس کے قلب کو مصفا بنایا اس نے (گویا) اس کے اعمال کو بھی نیک بنایا اور اپنے تمام بندوں میں اسے بھلائی کے لیے چن لیا، بہترین بات یہ ہے کہ کوئی دوسروں کو حرام و حلال میں فرق کرنا سکھائے۔ اللہ کی عبادت کرو، کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ، تقوی کو اتنا اختیار کرو جتنا اس کا حق ہے، جو کچھ منہ سے نکالویعنی جو بات کرو) اس میں اللہ کو حاضر وناظر جان کر صداقت کا سب سے زیادہ خیال رکھو، آپس میں جو معاہدہ کرو اسے خوشنودی خداوند کے لئے پورا کرو، کیونکہ جو معاہدات پورے نہیں کرتے ان سے اللہ ناراض ہوتا ہے۔

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا ، عام دیدار یار ہو گا
سکوت تھا پردہ دار جس کا ، وہ راز اب آشکار ہوگا

گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہان مے خانہ ، ہر کوئی بادہ خوار ہو گا

کبھی جو آوارۂ جنوں تھے ، وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہو گا

سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا ، پھر استوار ہو گا

نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے ، وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا

کیا مرا تذکرہ جوساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میں
تو پیر میخانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے ، خوار ہو گا

دیار مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو ، وہ اب زر کم عیار ہو گا

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جوشاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپائدار ہو گا

سفینۂ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا

چمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو
یہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہو گا

جو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایا
یہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہو گا

کہا جوقمری سے میں نے اک دن ، یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
توغنچے کہنے لگے ، ہمارے چمن کا یہ رازدار ہو گا

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں ، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

یہ رسم بزم فنا ہے اے دل! گناہ ہے جنبش نظر بھی
رہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہو گا

میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شررفشاں ہوگی آہ میری ، نفس مرا شعلہ بار ہو گا

نہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدعا تیری زندگی کا
تو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہو گا

نہ پوچھ اقبال کا ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہو گا

2010 ka akhri din

This is my annual post, the last post of 2010. and here i will sum up, what happened in my life in that year and look ahead to what’s going to happen in 2011. I do this so I can have a handy record that I can get to in seconds.
First month of 2010 was not good, after the month of march that year starts bringing me alot of happiness, in my personal life as well as in my career. Thanks to ALLAH for each and everything.

Many days was very good, few days was bad. this year i got sick 4 times.
This Year, I read almost 52 great Informative books on Islam, Life, and Science.I learn alot from those books. and i have change my life too much, beacuse i have implemented 80% in my life, that i read from books. Books are the best friends of a person. I spend my free time with books.
This year i didnt watch Television. as compared to past years. Only 2% of my time of 2010 i sit infront of tv to watch it.
I spend alot of my time on internet, for reading articles and news all around the world.

This year was nice. and I pray ALLAH, the coming year 2011 bring alot of happiness for my loved one,family, and friends.and take away all our sorrows and problems from our life. Make us powerfull,happy and healthy,wealthy. and A good MUSLIMS as ALLAH says in QURAN. Ameen

کِھلتے دِل،کُھلتے خیال

محبت اِک حسین شے ہے مگر ہم اُسے نہیں جانتےحسن کی تلاش فہم سے ہے مگر ہم اُسے نہیں مانتے

            ہم اِس دُنیا میں آتے ہیں۔ زندگی میں سیکھتے ہیں اور پھر حاصل علم دوسروں کو سِکھا کر حقیقی راہ پر دُنیا سے کنار ہ کشی فرماتے ہیں۔ایسے ہی ہم ہر برس کچھ نیا جاننے کی کوشش میں بہت کچھ اپناتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ہم اپنا علم نئی نسل کو منتقل کرتے ہیں۔ زندگی میں ہم جو کچھ پاتے ہیں۔اُس کو بالآخر بانٹ کر جانا ہے، ورنہ ہمارے بعد ورثہ بٹ جاتا ہے۔ ہر وُہ شےءجس کی فطرت بانٹنا ہے، وُہ ہمیں زندگی کی حقیقت کی طرف لیجاتی ہے۔ علم بانٹو، محبت بانٹو، خوشی بانٹو، یہی حقیقی دولت ہے، بانٹو اور بڑھاﺅ۔

            انسان عمر بھر حسن کی تلاش میں رہتا ہے۔ حسن کیا ہے؟ ہر انسان کا اپنا اِک معیار ہے۔ اطمینانِ قلب اگر حسن ہے تو تسکینِ ذہن لطفِ افکار ہے۔ نگاہئِ حسن جس کو ملی، اُسکی دُنیا ہی بدلی۔ حسن ذات سے باہر ہے، کسی شےءکی مرکوزیت میں حسن تو ہو سکتا ہے، ممکن ہے وُہ آپ کا قلبی لگاﺅ ہو۔ قلبی واردات تو آپ کو ذات سے باہر لاتی ہے اور کسی اور ذات کی طرف لیجاتی ہے اور مخلوق خدا سے محبت کرنا سکھاتی ہے۔ خلقِ خداکی محبت آپ کو اللہ کی محبت کا رستہ دکھلاتی ہے۔ اللہ سے محبت کا رشتہ جب جڑ جائے تو خوف خوف نہیں رہتے بلکہ محبت بنتے ہیں۔

            حسن کا تصور ملنا خدا کی بہت بڑی دَین ہے۔ زندگی کی حقیقت میں خوبصورت رنگ انسان کے دِلکش رویے اور خیالات ہیں جو اَمن اور سکون قائم رکھتے ہیں۔

            انسان اپنی زندگی آئیڈئیل تھیوری یا ماڈل کے تحت گزارنا چاہتا ہے۔ ہمارے فلسفہ زندگی کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ ہم خامی کا خانہ اپنی تھیوری میں نہیں رکھتے۔ اپنے پیش کردہ ماڈل میں اگر حقیقی رنگ بھر دیں تو زندگی کو زندگی کے سبق سے سیکھا جاسکتا ہے۔

            ہم تنقیدی نگاہیں رکھتے ہیں، حالات کی بہتری حوصلہ اور رہنمائی سے ہوتی ہے۔ ہم زندگی کو بڑے ہی محدود کینوس سے دیکھتے ہیں۔ انسانی چہرہ پر موجود تاثرات کو نہیں سمجھتے۔ شک کی نگاہ سے دوسروں کو دیکھتے ہیں۔ مگر غیر جانبدار ہو کر شک دور نہیں کرتے ۔

            اکثر لوگ خود کو سیکولر کہتے ہیں۔ افسوس! میرا معاشرہ دو متضاد انتہاپرست گرہوں کی ضد کی شدت کے باعث بَٹ رہا ہے۔ کون جانے! سیکولر بننے کے لیے خود کو پہلے صوفی بنناہوتا ہے۔ لفظ صوف سے مراد کسی کے متعلق بغض ، حسد، کینہ اور نفرت دِل میں نہ رکھنا۔ اپنی مرضی مار دینا، اپنوں کی مرضی چھوڑ دینا اور حق بات کا بلا تعصب فیصلہ کرنا۔ اصل میں صوف ہے۔

            ہمارے رویے اس لیے بھی بگڑتے ہیں ہم چھوٹے دِل رکھتے ہیں اور بند نگاہوں کی طرح تنگ ذہنوں میں اُلجھے رہتے ہیں۔

            انسانی فطرت ہے کہ وُہ خواہشات رکھتا ہے، ایسے ہی خواہشات کی تکمیل غلطیوں کا مرتکب بناتی ہے۔ فطری خواہشات انسان کی معصوم خواہشات ہوتی ہے۔ ایسے ہی فطرتی غلطیاں معصوم انسانی غلطیاں ہوتی ہے۔ معصوم غلطیوں کو درگزر کریں بوقت ضرورت مصنوعی سرزنش سے غلطی کا احساس ضرور دلائیںمگر دِل کی میل صاف رکھیں۔ دِل بڑھنے لگے گا۔ برداشت آجائے گی۔

            زندگی کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھے مگر حالات کو دوسروں کی نگاہ سے دیکھے۔ ہم اختلافی مسائل کے بارے میں ایک رائے رکھتے ہیں۔ جن کے بارے میں آپ مخصوص سوچ (نفرت)رکھتے ہیں۔ اُن سے اُنکے خیالات بھی تو جانئے۔ تعصب سے پاک غیر جانبدارانہ سوچ ذہن کھولتی ہے۔ بڑھتے دِل، کُھلتے ذہن؛ بصیرت پاتے ہیں۔

گزشتہ برس میرے لفظوں نے اشعار کا روپ دھارانہیں جانتا ، کس کی دُعا سے میرا خیال خوب بڑھا

            قیادت کو بصیرت کو چاہیے۔ خیالات ذاتیات میں محو ہو جائیں تو خیالات کا محور بصیرت سے محروم ہوتا ہے۔ قیادت حالات کے بھنور میں دھنستی رہتی ہے۔

            حسن زندگی کو توازن دیتا ہے۔ زندگی گزارنا کوئی آئیڈئیل تھیوری نہیں۔ دوسروں کو سمجھ کر ردعمل یوں دینا کہ معاملات سلجھ جائیں۔ خوبی کو خامی کے ساتھ قبول کرنا، حسنِ سلوک ہے۔ دوست ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوتے۔ ہم اُن کو خامیوں سمیت قبول کرتے ہیں۔ اُنکی خامی ہمارے لیے خامی نہیں رہتی۔

            حسن الجبرا کی ایک ایسی مساوات ہے، جس کو ہم مساوی رکھتے ہیں۔ مصور تصویر میں متوازن رنگ بھرتا ہے، شاعر شعر کا وزن مدنظر رکھتاہے، مصنف جملوں میں تواز ن لاتا ہے، گلوگار آواز کے اُتار چڑھاﺅ میں توازن رکھتا ہے، متواز ن غذا صحت لاتی ہے، متوازن گفتگو سوچ کو نکھارتی ہے، متوازن عمل شخصیت بناتے ہیں۔ انسان کا حسن عمل اور سوچ کا توازن ہے تو انسانی شخصیت خوبیوں اور خامیوں کا مرقع ہے۔ ایسے ہی معاشرتی مساوات معاشرے کا حسن ہے۔

            اپنی زندگی کی نئی بہار کے موقع پر گزشتہ برس کی وُہ نئی نگاہ پیش کی۔ جو مجھ کو سلطان شہاب الدین غوریؒ سے عقیدت مندانہ ملاقات کے دوران ملی۔

لوگ اُنکے مرقد کو صرف ایک مقبرہ سمجھتے ہیں۔راہ ِ عقیدت میں جو نگاہ ملی، ہم اُس کومزار مانتے ہیں۔

            یا اللہ آج میری زندگی کا نیا برس شروع ہوچکا ہے، ہم سب پر اپنا کرم فرمانا۔ نئی راہوں کے نئے دروازے کھولنا۔ ہمارے خیالات میں حسن کی نگاہ اور محبت کا جذبہ برقرار رکھنا۔ ہماری راہ منزل میںاپنی رہنمائی جاری رکھنا۔ ہم سب کو اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بنانا۔ آپ سب کو کل سے شروع ہونے والا نیاعیسوی سال نیک تمناﺅں اور دُعا کے ساتھ مبارک ہو۔

 

 

معاف کردینا ہی مکارمِ اخلاق میں سے ہے

سعدی کہتے ہیں کہ ہارون الرشید کا لڑکا ابا کے سامنے شکایات لایا اور کہا کہ مجھے فلاں سپاہی کے لڑکے نے ماں کی گالی دی ہے۔ ہارون  نے ارکان دولت سے پوچھا کہ کیوں بھئی کیا سزا ہونی چاہیئے! کسی نے کہا کہ اسکو قتل کردینا چاہیئے۔ خلیفہ کی بیوی کو اور سلطنت اسلام کی خاتون اول کو اس نے گالی دی ہے۔ کسی نے کہا زبان کاٹ دینی چاہیئے۔ کسی نے کہا اسکا مال وجائیداد ضبط کرلینا چاہیئے۔ کسی نے کہا اسکو جلا وطن کردینا چاہیے یا کم سے کم جیل کی سزا۔

نے بیٹے کو کہا بیٹا تم معاف کردو تو بڑا بہتر ہے۔ گالی دینے والے نے اپنا منہ گندا کیا اس میں تمہارا کیا نقصان؟ تمہاری ماں کو گالی لگی نہیں۔ اگر کسی کی ماں ایسی نہیں ہے جیسے اس نے کہا تو اسکا منہ گندا ہوا‘ اسکی ماں کا کیا بگڑا۔ تو بہتر یہی ہے‘ مکارمِ اخلاق یہی ہے کہ تم اسکو معاف کردو اور اگر تم سے برداشت نہیں ہوا تو وجزاء سیئة سیئة بمثلھا برائی کا بدلہ اتنی برائی ہے۔ تم بھی اکسی ماں کو گالی دے دو لیکن شرط یہ ہے کہ جتنی اس نے دی تھی اتنی دو اس سے زیادہ نہیں۔ کیونکہ اگر تم اس سے زیادہ دوگے تو تم ظالم بن جاؤ گے اور تمہارا مخالف مظلوم بن جائیگا۔

“کامیاب عورت” کا مغربی اور اسلامی نقطہ نظر

گزشتہ صدی سے یہ موضوع مسلسل زیرِ بحث ہے کہ معاشرے میں ” کامیاب عورت“ کون ہوتی ہے؟ مغربی معاشرے میں اُس خاتون کو ”کامیاب عورت“ قرار دیا جاتا ہے جو کامیاب معاش رکھتی ہو، جو مالی طور پر خود مختار ہو اور جو گھر اور کارکی مالک ہو۔ لہٰذا ایسی خواتین اس معاشرے میں رول ماڈل (Role model) کے طور پر جانی جاتی ہیں جو مذکورہ بالا معیار پر پوری اترتی ہوں۔ چنانچہ سابقہ  برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی بیوی اور بظاہر چار بچوں کی ماں چیری بلیئر جو ایک کامیاب وکالت کا کیرئیر(Career) رکھتی ہے، اس کا ذکر اکثر رول ماڈل کے طور پر کیا جاتا رہا ہے۔

اسی طرح اُس معاشرے میں یہ رائے بھی عام ہے کہ باپ یا شوہر پر انحصار کرنا عورت کو معاشرے میں کم تر درجے کا مالک بنا دیتا ہے۔

 

ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ عورت جو ماں یا بیوی ہونے کے ساتھ کوئی بھی ذریعہ معاش نہیں رکھتی اس کی کوئی اہمیت نہیں یا یہ کہ وہ ایک ناکام عورت ہوتی ہے۔ اسی لیے اُس معاشرے میں جب کسی عورت سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ”آپ کا پیشہ کیا ہے؟“ یا ”آپ کیا کرتی ہیں؟“ تو وہ یہ جواب دیتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتیں ہیں کہ” میں صرف ماں ہوں“ یا ”میں ایک گھریلو خاتون ہوں“۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی معاشرے میں ایک پیشہ ور خاتون کو مالِ جنس (Commodity) کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس کی اہمیت کا دارومدار اِس چیز پر ہے کہ وہ معیشت میں کتنا حصہ ڈال رہی ہے۔

 

اسی طرح مغربی معاشرے میں تذکیر و تانیث کا معاشرے میں کردار کے حوالے سے بہت بڑی تبدیلی آئی ہے کہ ایک خاندان میں عورت کو بھی کمانے کا اتنا ہی حق ہونا چاہیے جتنا کہ مرد کو ۔

چنانچہ 1996 میں کیمبرج یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق لوگوں کی اس بارے میں رائے کہ یہ صرف مرد کا کام ہے کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کرے، 1984میں 65فیصد تھی جو کہ 1994میں کم ہوکر 43 فیصد رہ گئی۔ اس وقت برطانیہ میں 45فیصد خواتین کام کرتی ہیں اور امریکہ میں 78.7فیصد خواتین کام کرتی ہیں۔

 

جبکہ مغربی حکومتیں کامیاب عورت کے اس معیار کی حوصلہ افزائی کرتی نظر آتی ہیں۔ لہٰذا ایسی عورتوں کی تعریف کی جاتی ہے جو کہ اپنی اس زندگی میں ایک کامیاب کیرئیر حاصل کرچکی ہوں۔ مزید برآں ایسی ماﺅں کے لیے معاشی فوائد کا اعلان بھی کرتیں ہیں جو کام کرنے والوں میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔ چنانچہ برطانوی حکومت نے ایک پالیسی بعنوان ”قومی سٹریٹیجی برائے بچوں کی دیکھ بھال“ متعارف کرائی ہے کہ جس کے مطابق بچوں کی دیکھ بھال کے لیے بہت سی جگہیں فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ عورتیں جو کام کرتی ہیں اپنے بچوں کو دیکھ بھال کے لیے ان جگہوں پر چھوڑ سکیں۔ اسی طرح انہیں مالی فوائد اور ٹیکس میں چھوٹ بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال پر اٹھنے والوں اخراجات کو برداشت کرسکیں۔ چنانچہ ”Full Time Mothers“ نامی تنظیم کا سربراہ جِل کِربی کہتا ہے کہ ” ایسی عورتوں کے لیے مالی فوائد ہیں جو کام کرتی ہیں لیکن گھر بیٹھی عورتوں کے لیے کوئی مالی فائدہ نہیں“

بدقسمتی سے وہ مسلم خواتین جو مغرب میں رہ رہی ہیں وہ اس سوچ سے بہت متاثر ہوئی ہیں کہ اپنی اس زندگی میں ایک کامیاب کیرئیر حاصل کرنا باقی تمام مقاصد سے بڑھ کر ہے۔

 

وہ بھی اب یہ یقین رکھتی ہیں کہ یہ کیرئیر ہی ہے جو کہ عورت کو معاشرے میں مقام اور عزت بخشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شادی دیر سے کرتی ہیں یا وہ شادی کرتی ہی نہیں کیونکہ وہ شادی کو اپنے کیرئیر کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہیں۔ وہ بچوں کی پیدائش بھی دیر سے کرتی ہیں اور تھوڑے بچے پیدا کرتی ہیں یا بچے پیدا ہی نہیں کرتیں۔ اور وہ خواتین جو کوئی کام نہیں کرتیں وہ اپنے معاشرے کی طرف سے مستقل دباﺅ کا شکار رہتی ہیں کہ انہیں بھی کوئی کام کرنا چاہیے۔ چنانچہ وہاں پر موجود مسلمانوں کی بڑی تعداد اس سوچ سے متاثر ہوچکی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سے والدین اپنی بیٹیوں کو کامیاب کیرئیر اختیار کرنے کی ترغیب دیتے ہیں، جبکہ ممکن ہے کہ وہ لڑکی جلدی شادی کرنے کے حق میں ہو اور ماں کا کردار نبھانے کو ترجیح دیتی ہو۔

 

باب : عورتوں کا کام کاج کے لئے باہر نکلنا درست ہے

حدیث نمبر : 5237
حدثنا فروة بن أبي المغراء، حدثنا علي بن مسهر، عن هشام، عن أبيه، عن عائشة، قالت خرجت سودة بنت زمعة ليلا فرآها عمر فعرفها فقال إنك والله يا سودة ما تخفين علينا، فرجعت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له، وهو في حجرتي يتعشى، وإن في يده لعرقا، فأنزل عليه فرفع عنه وهو يقول ‏”‏ قد أذن لكن أن تخرجن لحوائجكن ‏”‏‏.‏
ہم سے فروہ بن ابی المغراءنے بیان کیا ، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ رات کے وقت باہر نکلیں تو حضرت عمر نے انہیں دیکھ لیا اور پہچان گئے ۔ پھر کہا اے سودہ ! اللہ کی قسم ! تم ہم سے چھپ نہیں سکتیں ۔ جب حضرت سودہ واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کاذکر کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے حجرے میں شام کا کھانا کھارہے تھے ۔ آپ کے ہاتھ میں گوشت کی ایک ہڈی تھی ۔ اس وقت آپ پر وحی نازل ہونی شروع ہوئی اور جب نزول وحی کا سلسلہ ختم ہو اتو آپ نے فرمایا کہ تمہیں اجازت دی گئی ہے کہ تم اپنی ضروریات کے لئے باہر نکل سکتی ہو ۔
تشریح : آج کے دورِ نازک میں ضروریات زندگی اور معاشی جد وجہد اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اکثر مواقع پر عورتوں کو بھی گھر سے باہر نکلنا ضروری ہو جاتا ہے۔ اسی لئے اسلام نے اس بارے میں تنگی نہیں رکھی ہے، ہاں یہ ضروری ہے کہ شرعی حدود میں پردہ کرکے عورتیں باہر نکلیں

بد نظری : زہر آلود تیر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مذہبِ اسلام نے کسی غیر محرم کو دیکھنے سے روکا ہے اور نگاہیں نیچی رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
’’ قل للمؤمنین یغضوا من ابصارهم و یحفظوا فروجهم‘‘
( سورۃ نور۔30)
مسلمان مردوں سے کہدیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔

آیت مبارکہ میں حفاظت فروج سے پہلے نظروں کی حفاظت کا حکم فرما یا ہے، کیونکہ نظروں کی بے احتیاطی ہی شرمگاہوں کی حفاظت میں غفلت کا سبب بنتی ہے۔

بد نظری کے معاملے میں جو حال مردوں کا ہے کم و بیش وہی حال عورتوں کا بھی ہے ،چونکہ مرد وعورت کا خمیرایک ہی ہے اور عورتیں عموماً جذباتی و نرم طبیعت ہوتی ہیں ،جلد متاثر ہوجاتی ہیں ان کی آنکھیں میلی ہو جائیں ،تو زیادہ فتنے جگاتی ہیں ۔اس لیے ان کو بھی واضح اور صاف الفاظ میں نگاہیں نیچی رکھنے کی نصیحت کی گئی ہے۔

’’وقل للمؤمنات یغضضن من ابصارهنّ و یحفظن فروجهن ‘‘
۔ (نور۔31)
مسلمان عورتوں سے کہدیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔

اوّل الذکر آیت میں مرد وعورت دونوں نگاہیں نیچی رکھنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کے حکم میں شامل تھے ،جس میں عام مومنین کو خطاب ہے،اور مومنین میں بالعموم عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔نگاہیں نیچی رکھنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کے حکم کی اہمیت کے پیش نظر ان کو بطور خاص دوبارہ نگاہیں نیچی رکھنے کو کہا گیا ہے، اسی سے مستدل یہ مسئلہ بھی ہے کہ جس طرح

مردوں کے لیے عورتوں کا دیکھنا منع ہے، اسی طرح عورتوں کے لیے مردوں کا دیکھنا مطلقاً ممنوع ہے۔

نگاہیں نیچی رکھنے کے فوائد بے شمار ہیں ،نگاہیں نیچی رکھنے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی اطاعت ہے ،جس سے اس زہر آلود تیر کا اثر دل تک نہیں پہونچتا ۔اللہ تعالیٰ سے انسیت و محبت بڑھتی ہے، دل کو قوت و فرحت حاصل ہو تی ہے ،دل کو نور حاصل ہو تا ہے مومن کی عقل و فراست بڑھتی ہے۔ دل کو ثبات و شجاعت حاصل ہو تی ہے ۔دل تک شیطان کے پہونچنے کا راستہ بند ہو جا تا ہے۔ دل مطمئن ہو کربہتر اور کا رآمد باتیں سوچتاہے۔

نظر اور دل کا بڑا قریبی تعلق ہے ،اور دونوں کے درمیان کا راستہ بہت مختصر ہے ۔دل کی اچھائی یا برائی کا دارو مدار نظر کی اچھائی و برائی پر ہے ۔جب نظر خراب ہو جاتی ہے، تو دل خراب
ہو جاتا ہے اس میں نجاستیں اور گندگیاں جمع ہو جاتی ہیں،اور اللہ کی معرفت اور محبت کے لیے اس میں گنجائش باقی نہیں رہتی ۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنی نگاہیں نیچی رکھتے ہیں اور وہ بڑی بڑی مصیبتو ں اور آفتوں سے بچے رہتے ہیں۔مومنوں کو بد نظری سے بچنا چاہئے اور نگاہیں نیچی رکھنی چاہئے تاکہ مرد و عورت عزت کے ساتھ زندگی گزاریں اور کوئی مصیبت ان پر نہ آئے، جس سے زندگی داؤ پر لگ جائے، اور ان کی اشرفیت جاتی رہے۔

بد نظری کرنے سے بہت سی برائیاں سر اٹھا تی ہیں، ابتدا میں آدمی اس کو ہلکی چیز سمجھ کر لطف اندوز ہو تا ہے، اور آگے چل کر عظیم گناہ کا مرتکب و ذلیل و رسواہو جاتا ہے ۔جس طرح چنگاری سے آگ کے شعلے بھڑکتے ہیں، اسی طرح بد نظری سے بڑی بڑی برائیاں جنم لیتی ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ العینان تزنیان و زناهما النظر‘‘ آنکھوں کا دیکھنا زنا ہے۔
اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے، زنا کے لیے راہ ہموار ہو تی ہے، اس سے گھر کی برکت ختم ہو تی ہے۔ بد نظری کرنے والے کو حسن عمل کی توفیق نہیں ہو تی۔ قوت حافظہ کمزور ہو جاتی ہے ۔یہ ذلت و رسوائی کا سبب بنتی ہے ،اس سے بے حیائی پھیلتی ہے ۔بد نظری سے انسان کے اندر خیالی محبوب کا تصور پیدا ہو جاتا ہے ،وہ خام آرزؤں اور تمناؤں میں الجھا رہتا ہے، اس کا دماغ متفرق چیزوں میں بٹ جاتا ہے، جس سے وہ حق اور ناحق کی تمیز نہیں کر پاتا۔اس سے دو دلوں میں شہوتوں کی آگ بھڑکتی ہے اور خوابیدہ جنسی جذبات میں جنبش ہوتی ہے۔

دور سے ہر چیز بھلی لگتی ہے، اس لیے انسان کا دل دیکھنے کو چاہتا ہے، اس کو پیاس لگی رہتی ہے جو کبھی نہیں بجھتی۔یہ گناہ اصل جوانی میں غلبۂ شہوت کی وجہ سے کیا جاتا ہے، پھر ایسا روگ لگ جاتا ہے کہ لب گور تک نہیں جاتا۔اللہ تعالیٰ نے ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت بنایا ہے کسے کسے دیکھنے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ایک کو دیکھا دوسرے کو دیکھنے کی ہوس ہے، اسی دریا میں ساری عمر بہتا رہے گا، تب بھی کنارے پر نہیں پہونچے گا ،کیونکہ یہ دریا نا پید کنار ہے۔
بد نظری زنا کی سیڑھی ہے۔مثل مشہور ہے کہ دنیا کا سب سے لمبا سفر ایک قدم اٹھا نے سے شروع ہو جاتا ہے، اسی طرح بد نظری کر نے سے زنا کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ مومن کو چاہئے کہ پہلی سیڑھی ہی چڑھنے سے پرہیز کرے۔

بد نظری ایک تیر ہے، جو دلوں میں زہر ڈالتا ہے یہ تیر جب پیوست ہو جاتا ہے تو سوزش قلب بڑھنی شروع ہو جاتی ہے ۔جتنی بد نظری زیادہ کی جائے ،اتنا ہی زخم گہرا ہو تا ہے ۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نگاہ ڈالنے والا پہلے قتل ہو تا ہے، وجہ یہ ہے کہ نگاہ ڈالنے والا دوسری نگاہ کو اپنے زخم کا مداوا سمجھتا ہے، حالانکہ زخم اور گہرا ہو تا ہے۔ (بحوالہ:لکافی۔477)

لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں ہم نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
جب انکھیاں لڑتی ہیں اور نین سے نین ملتے ہیں تو چھپی آشنائی شروع ہو جاتی ہے اور سلام و پیام ،کلام و ملاقات کے دروازے وا ہو جاتے ہیں، اس کا سلسلہ جتنا دراز ہوتا جاتا ہے، اتنی ہی بیقراری بڑھتی جاتی ہے، اور اشاروں اشاروں میں زندگی بھر ایک ساتھ رہنے کے عہد و پیمان ہو جاتے ہیں، اور ایک طرح کا ہو کر ساتھ رہنے کی قسمیں کھائی جاتی ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ساری سوسائٹی سو گوار ہو جاتی ہے۔

بدنظری کر نے والے لوگ چو راہوں ،دوکانون میں بیٹھ کر آنے جانے والی عورتوں کو گھور گھور کردیکھتے ہیں اور چیتے کی طرح پھاڑ کھانے والی نظریں ان پر ڈالتے ہیں، اوربھوکے بھیڑیے کے مثل حلق میں اتار نے کی کوشش کر تے ہیں، اور نکلنے والی عورتیں ان فریب خوردہ لوگوں کی کٹیلی و نشیلی اور ھوس ناک نگاہوں کا شکار بنتی ہیں ۔

مغربی تہذیب کی لپیٹ میں آ کر بن ٹھن کر بے پردہ ہو کر نکلنے والی خواتین بھی بد نظری کے مواقع فراہم کر تی ہیں اور پازیب کے گھنگھر و بجاتے ہوئے اپنے گزرنے کا احساس دلاتی ہیں، اور بازار میں اپنے حسن کے جلوے بکھیرتی ہیں ۔خواتین جو گھروں کی زینت ہیں مارکیٹ کی زینت بنتی جارہی ہیں اور شیطان اپنی تمام تر فتنہ سامانیوں کے ساتھ عورت کے ناز و نکھرے اور چلنے کے انداز و ادا کوسنوار کرپیش کرتا ہے، اور عاشقانِ حسن کو گناہ بے لذت میں مبتلا کر دیتا ہے، اور منچلے لونڈے لفنگے لڑکے رال ٹیکائے اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور اس کو اپنے مطابق دیکھ کر اپنی ابھرتی خواہشات نفسانی اوردہکتی جذبات کی بھٹی کو سرد کر تے ہیں۔

بد نظری کر نے والے گھروں میں جھانک کر اور کھڑکیوں کے اندر رہنے والی عورتوں پر نظر کا جادو چلاتے ہیں اور وہ کسی ضرورت کے تحت کسی گھر میں چلے جاتے ہیں، تو ان کی نظر گھومتی رہتی ہے ،جب تک رہیں اپنے سامان کی تلاش جاری رکھتے ہیں اور کنکھیوں سے بار بار مخالف جنس کو دیکھتے ہیں، وہاں بھی غیرت نہیں آتی۔ کیونکہ یہ دھندا ہی ایسا ہے ،جس کا سابقہ پڑ گیا، پیچھا نہیں چھوڑتا۔ جوانی تو جوانی پیرانہ سالی میں بھی اسی سے منسلک رہتے ہیں اور آخر میں گھاٹا بھی گھاٹا ہاتھ آتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’یعلم خائنة الاعین ووماتخفی الصدور ‘‘
(المومن ۔ 17)
اللہ تعالیٰ جانتا ہے آنکھوں کی خیانت کو اور وہ کچھ جو سینوں میں پوشیدہ ہے ۔

خیانت نظر کی تشریح ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ کیا کہ :آدمی کسی کے گھر میں جائے وہاں کسی خوبصورت عورت ہو جسے نظر بچاکر دیکھنے کی کوشش کرے،اور جب لوگوں کو اپنی طرف
متوجہ پائے تو نظر نیچی کرلے،لیکن اللہ نے اس کے دل کا حال جان لیا ۔ ( الجواب الکافی)

پہلی اچانک نظر معاف ہے ۔نبی ﷺ سے عبد اللہ بن جریر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اگر اچانک نظر پڑ جائے تو ؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’صرف نظرک‘‘ (مسلم)۔ تو اپنی نظر پھیرلے۔ اگر پہلی نظر ارادۃ ڈالی جائے، تو وہ بھی حرام ہے اور پہلی نظر معاف ہو نے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ پہلی نظر ہی اتنی بھر پور ڈالی جائے کہ دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہی نہ رہے ۔صرف اتنی بات ہے کہ اگر اچانک نظر پڑجائے تو فوراً ہٹا لینا چاہئے ۔

انسانی آنکھیں جب بے لگام ہو تی ہیں، تو اکثر برائی و لڑائی کی بنیادبن جاتی ہیں اور انسان کے اندر گناہ کا تخم پڑجاتا ہے ۔ جو موقع ملنے پر بہار دکھاتا ہے ۔قابیل نے ہابیل کی بیوی کے جمال پر نظر ڈالی تو دل و دماغ پر ایسا بھوت سوار ہوا کہ اپنے بھائی کا قتل کر ڈالا۔اور دنیا میں پہلے قتل کا مرتکب ہوا۔عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن کو دیکھا تو جذبات کے ہاتھوں ایسی بے قابو ہوئی کہ گناہ کی دعوت دے ڈالی۔

بد نظری کی ایک قسم وہ برہنہ تصاویر ہیں جو اخباروں اور کتابوں کی زینت بنتی ہیں ۔حتی کہ مضامین پر مشتمل رسالوں کے سر ورق پر چھپتی ہیں اورفلموں، ڈراموں اور ماڈلنگ کر نے والی عورتوں کی تصاویر ہیں جو اکثر جگہ دیواروں پر چسپاں رہتی ہیں۔ اور آج کل آسانی یہ ہو گئی ہے کہ ملٹی میڈیا موبائل سیٹ کے فنکشن میں یہ تصویریں قید رہتی ہیں اور انہی سیکڑوں برہنہ و نیم برہنہ تصاویر کو بدل بدل کر موبائل اسکرین میں سیٹ کیا جاتا ہے اور خلوت میں تلذد کی نگاہ مکمل توجہ کے ساتھ انکے انگ انگ کا معائنہ کرتی ہے ۔ ٹی،وی اناء و نسر کو خبروں کے بہانے دیکھنا ،گرل فرینڈوبوائے فرینڈ کی تصویر تنہائی میں للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا ، انٹر نیٹ پر پیشہ ور لڑکیوں کی تصاویر دیکھنا یا فحش ویڈیو سی ڈیز دیکھنا، ان سب کا دیکھنا زندہ عورت کو دیکھنے سے زیادہ نقصان دہ ہے ۔راہ چلتے غیر محرم کے خدو خال کو اتنی باریک بینی سے نہیں دیکھا جا سکتا ہے، جتنا کہ تصاویر کے ذریعہ دیکھنا ممکن ہے ،ان سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نگاہیں نیچی رکھنے کی توفیق فرمائے ۔آمین۔

زندگی جینے میں اور گزارنے میں بہت فرق ہے۔

زندگی میں بہت سی باتیں سمجھ آنے کے باوجود سمجھ سے بالا تر ہوتی ہیں ۔ارد گرد کے ماحول اور حالات ہمیں مستقبل  کی پیش بندی کی تحریک پیدا کرتے ہیں ۔ ایسا مستقبل جو سنہرے خواب کی مانند ہوتا ہے ۔ مگر تعبیر ضروری نہیں کہ سنہری ہو ۔ہر دن کا آغاز  ایسی ہی سوچوں کی بنیاد سے ہوتا ہے ۔جو سورج ڈھلنے کے ساتھ  اپنے منطقی انجام تک پہنچ جاتا ہے ۔اور ہررات کا آغاز ویسا ہی پر سکون ہوتا ہے ۔ جیسا نیند کی آغوش میں جانے سے پہلے بستر پر دن بھر کا کسا بدن ڈھیلا ہوتے ہی سوچوں کے سمندر  سے غوطے کھانے کے بعد تکیے کے سہارے پر ختم ہوتا ہے ۔
ایک زندگی ایک ہی کام سے جس انجام کا سامنا کرتی ہے ۔دوسرے کو ویسے ہی کام کے آغاز کی ترغیب دیتی ہے ۔زندگی جینے اورزندگی گزارنے میں وہی فرق ہے جو جاگتے اور سوتے ہوئے انسان میں ہے ۔ سونے کو جاگنے سے کسی بھی  صورت  فوقیت اور اہمیت حاصل نہیں ۔جاگتے ہوئے سوچ میں تغیر و تبدل بس میں ہے مگر سوتے میں بس سے باہر ۔ بلکہ بعض اوقات ایسے حیرت انگیز اورناقابل یقین  خواب چلے آتے ہیں ۔جن کی یاد دن بھر کے جاگنے پر بھاری ہو جاتی ہے ۔اورحقیقی زندگی میں خوابی کیفیت ہیبت کا باعث ہوتی ہے ۔
کامیابی کا زینہ ہمیشہ اوپر کی طرف رخ رکھتا ہے ۔جہاں توانائی کا استعمال قدرے زیادہ اور خطرات  بھی کم نہیں ہوتے ۔ جنہیں منزل پر پہنچ کر سستاتے ہوئے پریشان ہوتے ہیں ۔وہ خطرات سے بچتے  رینگتے ہوئے یہاں تک پہنچے ہوتے ہیں ۔ کھلے بادبانوں اور بہتے پانیوں کے رخ پہ چلتے ہوئے ۔
جنہیں زندگی میں جینا ہوتا ہے ۔ وہ تھپیڑوں کی پرواہ نہیں کرتے ۔ ہواؤں کا رخ  کوئی بھی ہو ۔پانی کا بہاؤ اور ٹھہراؤ سے گھبراتے نہیں ۔طاقت کے زور پہ زندگی کی ناؤ چلاتے ہیں ۔
ارد گرد پھیلے کھلے حالات و واقعات انسانی سوچ میں طلاطم پیدا کرتے ہیں ۔اور جنگلی گھوڑے کی طرح سرکشی بھی ۔جسے لگام ڈال کر تابع کیا جاتا ہے ۔سرکش مزاج  وفاداری میں بدل جاتا ہے ۔انسانی تخیل سے نکلتے افکار اظہار رائے کا شاہکار تو ہو سکتے ہیں۔ مگر زندگی کی سچائی نہیں ۔جہاں تابعداری تو ہے مگر وفا شعاری نہیں ۔
بلندیاں چھونے کے لئے پستیوں سے  سفر  کا آغاز کرنا ہوتا ہے ۔جہاں صعوبتوں کا سامنا       بھی رہتا ہے  ۔ شاہ و گدا پر مبنی معاشرتی کہانیاں  صدیوں سے لکھی،پڑھی اور سنائی جا رہیں ہیں ۔مگرسوچ بن کر وہی زندہ رہتے ہیں ۔ جو ناکامی کو قسمت کا کھیل سمجھ کر  ہتھیار نہیں ڈالتے ۔بلکہ بار بار کی کوشش سے آگے بڑھنے پر یقین رکھتے ہیں ۔ ایمان کا تعلق فتح   اور  شکست  سے ہمکنار ہونے میں نہیں ۔بلکہ  بار بار کوشش سے آگے بڑھنے میں ہے ۔جو دل برداشتہ ہو  کر رک جائیں  تو رکنا تقدیر نہیں ۔بلکہ فیصلہ  حق میں یا مخالف ہوناہے ۔
رک جانے کو جو زندگی کا تسلسل جانتے ہیں ۔جہد مسلسل سے نظریں چراتے ہیں ۔ خوش نصیب ہیں وہ جن تک اللہ کی رضا کامیابی کی صورت میں پہنچی ۔ کم عقل ہیں وہ  جو بار بار کوشش سے بھی رزق میں ایک حد سے آگے نہ بڑھ سکے ۔ مگر خواہشوں کو لگام نہ دے سکے ۔ جنہیں دیکھایا جاتا ہے انہیں سمجھایا جاتا ہے ۔جنہیں دیکھایا نہیں جاتا انہیں بہکایا بھی نہیں جاتا ۔رزق کی تلاش میں سرگرداں رہنے کا وقت ہوتا ہے ۔اور اسے وہیں تلاش کیا جاتا ہے جہاں سے ملنے کی امید ہوتی ہے ۔غروب آفتاب کے بعدتو  سب چھپا دیا جاتا ہے ۔
منزلیں وہیں ٹھہرائی جاتی ہیں  جہاں لنگر گرائے جاتے ہیں ۔فیصلوں کے وہ محتاج ہوتے ہیں جو فکر و شعور سے عاری ہوتے ہیں

سبھی مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ رکھ نیچی نظر اپنی

کل کی بات ہے” جب آتش جوان تھا” کا مصرعہ ہماری بھی زبان پہ رہا کرتا تھا ۔ آتش کی جوانی محاورۃ استعمال کی ہے ۔ وگرنہ یہ تو آگ تھی جو حیوانی رنگ رکھتی ہے ۔اور کل سے مراد بھی چند روز پہلے کا ذکر نہیں کر رہا ہوں ۔ کیونکہ اگر پچیس تیس سال لکھ دیتا تو کہا جاتا پرانی بات ہے ۔ رات گئی بات گئی ۔اگر دن پچیس سال پرانا ہو تو بات پھر بھی رہ جائے گی ۔باتوں باتوں میں یہ بتانا تو بھول گئے کہ عنوان میں ایک مصرعہ کا کیا کام دوسرے مصرعہ کے بنا تو تحریر نا مکمل رہے گی ۔چلیں پہلے اسے مکمل کرتے ہیں ۔
سبھی مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ رکھ نیچی نظر اپنی
کوئی ان سے نہیں کہتا نہ نکلو یوں عیاں ہو کر

بات مختصر اور قصہ شروع کرتے ہیں ۔قصہ سنانے والے داستان گو تو ہیں نہیں ۔جو ایک دفعہ کا ذکر ہے سے ایک کہانی بیان کریں ۔بات تو شروع ہوئی تھی آتش سے جو بات بے بات بھڑک اٹھتا ۔جب یہ ارادہ ہی کر لیا کہ پانی سر سے بھی گزر جائے غصہ میں ڈوبے گے نہیں ۔سو غوطے کھا کھا کر تیرنا سیکھ ہی لیا ۔
ایک بار جو ٹرین کا فسٹ کلاس کا ٹکٹ ہاتھ میں اور بیٹھے سیکنڈ کلاس میں اور وہ بھی کسی کی مہربانی سے اس کی برتھ پہ تو پسینہ ماتھے سے بہنے نہیں دیا ۔ٹکٹ چیکر نے جب ہمیں غلط جگہہ بیٹھے پایا تو قبضہ ختم کرنے کا حکم صادر فرما دیا ۔ جلے بھنے تو پہلے ہی بیٹھے تھے ۔ اس سے پہلے کہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ۔کمپارٹمنٹ کے ہمدرد بھڑک اٹھے ۔کہ پہلے ہی جناب سیکنڈ کلاس میں چھت پر لٹکے ہیں ۔ اب یہاں سے کہاں پہنچاؤ گے ۔اس دوران ہم مونگ پھلی اور چلغوزے بے دھڑک چھیلتے رہے ۔
بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی جب روزانہ ہی ملازمت میں ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر پلے پڑ جائے اور وہ بھی ویگن کا جہاں داخلہ تو انسانوں کا ہوتا ہے ۔مگر بیٹھنا بھیڑ بکریوں جیسا ۔اتنے کم پیسوں میں تو ایسی ٹرانسپورٹ ہی نعمت ہوتی ہے ۔
خواہشیں تو ایسی ایسی تھیں کہ یار لوگ کہہ دیتے”نہ نو من تیل ہو اور نہ رادھا ناچے “اگر تیل پورا بھی ہو جاتا تو ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا والی ضرب المثل رہ جاتی ۔ مگر بچنے کی امید پھر بھی کم ہی رہتی ہے ۔انگلیوں پر نچانے والے فنکارانہ صلاحیتیں بروئے کار لے آتے ہیں ۔ایک ہماری انگلیاں ہیں جہاں شعلہ سلگتا تو انگلیاں ناچتی ہیں ۔بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی ۔ذکر تو ویگن کے سفر کا ہو رہا تھا ۔شدید سردی ، بند شیشے ہوں اور انگلیوں میں سگریٹ ناچے تو دھوئیں کے بادل ای این ٹی یعنی آنکھ ناک گلا کو دعوت تکلیف دیتے ہیں ۔آتش کو ہلکی آنچ پہ رکھا اور شعلہ بجھانے کی ترغیب دے ڈالی ۔مگر ہماری تجویز ذاتی عنادقرار دے دی گئی ۔کہ پوری وین میں اکیلے ہم ہی ای این ٹی کی تکلیف میں مبتلا ہونے کی شکائت کر رہے ہیں ۔دوسرے مسافر” سفر خاموشی سے کریں “کے کلیہ پر عمل پیرا تھے ۔صبر کا دامن ہم نے ہاتھ سے پھر بھی نہ جانے دیا ۔اس سے پہلے کہ کہیں آتش بھڑک اٹھے ۔ ماچس جلا کر اپنا سگریٹ سلگا لیا اور اپنے روزانہ کے ہمسفر دوست کو بھی اس نیکی کے کام میں شریک کر لیا ۔دھوئیں کی مقدار بڑھنے سے بند وین کے تمام مسافر ای این ٹی کی تکلیف میں مبتلا ہو گئے ۔اور لگے کوسنے ۔اگر پہلے ہی ساتھ میں بول اٹھتے کہ ” یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے ” تو کھانسنے سے پہلے ہی معاملہ دب جاتا ۔لیکن پھر بھی” دیر آید درست آید”۔ اگلا سفر جناب ای این ٹی مریضوں کے زیر عتاب رہے ۔اور ہم ضمیر جگا کر یا غصہ دلا کر تیزی سے پاس گزرتے درختوں کے نظارہ کے مزے لوٹتے رہے ۔
مزے تو ہم پتنگیں لوٹنے میں بھی لیتے رہے ہیں ۔لیکن یہ تب کی بات ہے جب آتش نادان تھا ۔کٹی پتنگ اور خالی ویگن کے پیچھے بھاگنا کبھی بھی اچھا تجربہ نہیں رہا ۔تجربے تو اور بھی بہت سے ہیں ۔ ایک شعبہ سے آج کے لئے ایک ہی کافی ہے ۔
ہر سفر کا اپنا مزاج ہوتا ہے ۔سفر کاٹنے کا اپنا انداز ہوتا ہے ۔جیسا کہ ہوائی جہاز کے سفر میں کھڑکی سے باہر جھانکنے سے سفر نہیں کٹتا ۔ اس لئے تو ایک نشست ایک سکرین اور ایک ہیڈ فون سے منسلک سفر کی صعوبت گھٹاتی ہے ۔اب اگر ہیڈ فون کی ایک پن ٹوٹ کر ایسی پھنسے کہ نئے ہیڈ فون کے داخلہ کا راستہ روک لے ۔ تو ائیر لائن کے بارے میں بتانے کی ضرورت ہے کیا ۔ جی ہاں وہی تو اپنی پی آئی اے کا ہم سفر ہونے کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے ۔جانے ائیر ہوسٹس کون کون سےکچن کے اوزاروں سے پن نکالنے کی ناکام کوشش کر چکی تھی ۔ سارا جہاز ای این ٹی کے مزے لے رہا تھا یعنی کھاناپینا ائیر کنڈیشنر کی ٹھنڈی ہوائیں اور کانوں میں رس گھولتے گانے ۔یہاں ای سے مراد آنکھ نہیں کان لیا جائے ۔ اس بار بھی ایک نیا تجربہ کیا ۔ کیونکہ ویگنوں کے سفر میں گھٹنے درد کی شکایت سے روشناس ہوئے ۔ اب درد کے روگی تھے ۔ اکانومی کلاس پرانے زخم تازہ کرنے کا سبب ہوئی تو پی کلاس میں جا گھسے ۔بزنس کلاس نے ہمیں پہلے کبھی قریب نہ بھٹکنے دیا ۔ اب ہم خود قریب جانے سے کتراتے ہیں ۔یہ وقوعہ پی کلاس کا ہے جو اکانومی کلاس سے صرف اتنی بہتر رہی کہ کھانے سے پہلےگیلا گرم تولیہ استعمال کرنے کو دیا جاتا ہے ۔
“پلٹ تیرا دھیان کدھر” اگر آپ نہ بھی کہتے تو میں واپس وہیں آنے والا تھا ۔ جب پن نکالنے کی ہر کوشش ناکام ہو گئی تو پونے دن کے سفر میں مزید کوفت سے بچنے کے لئے سیٹ کی تبدیلی کا عندیہ دیا گیا ۔ارد گرد نظر دوڑائی تو اگے والی چار سیٹوں پر ایک خاتون پاؤں پھیلائے خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھیں ۔اور ہم سکرین پر نمودار ہونے والی تصویروں کی آواز سننے سے لاچار ۔بائیں جانب انہی خاتون کے شوہر نامدار ایک نشست پر خود اور ساتھ والی دو پر غیر ضروری سامان رکھ کر قبضہ ظاہر کر رہے تھے۔ جیسے بسوں میں اکثر سفر کرنے والے دیہاتی کھڑکی سے اپنا پرنا یعنی سافہ خالی نشست پر باہر سے ہی پھینک کر دھکم پیل سے بس کے اندر بعد میں داخل ہوتے اور قبضہ پہلے حاصل کر لیتے ۔وہاں لڑ جھگڑ کر قبضہ ختم ہوتے تو کئی بار دیکھ چکے تھے ۔ مگر یہاں واسطہ ایک پڑھے لکھے ریٹائرڈ افسر کے ساتھ پڑا جو سفید بالوں کے نیچے ٹائی کوٹ میں ملبوس اپنے دفتر میں ناک کے نچلے حصے سے فائلوں پر نظریں جمائے دستخط کرنے کا منظر پیش کر رہا تھا ۔
اب یہ کسی سرکاری افسر کا دفتر تو تھا نہیں ۔ سرکاری ائیر لائن ضرور تھی ۔ تو ہم بھی ایک عدد عینک کے ساتھ تیسری نشست پر جا براجمان ہوئے ۔ مگر ہیڈ فون کانوں میں لگانے سے پہلے ہی بھاری رعب دار آواز نے چونکا دیا ۔ کہ جناب آپ یہاں کیسے تشریف لائے ۔ اپنی نشست پر تشریف رکھیں ۔ دیکھتے نہیں ہم یہاں بیٹھے ہیں ۔
بڑی مشکل سے آتش کو سنبھالا دیا اور عرض پردازی میں آنے کی غرض بیان کی ۔مگر جناب نے ہمیں کھری کھری سنا کر اپنا قبضہ بحال کرا ہی لیا ۔اگر وہیں غصہ کا اظہار کرتے تو دیکھنے والے کہتے کہ بزرگ سے بات کرنے کا سلیقہ نہیں ان پڑھ اجڈ کہیں کا ۔ ہونٹوں کو دانتوں کے نیچے دبائے ” بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے ” گاتے ہوئے وہیں آ بیٹھے ۔پھر اس کے بعد آتش جو بڑھکا تو دیکھنے والوں نے ضرور کہا ہو گا ۔ کہ ” گرا گدھے سے غصہ کمہار پر ” والی بات ہے یہ تو ۔
پی آئی اے کے عملہ کو لائن حاضر کیا کہ جناب پہلی مرتبہ اکانومی سے پی کلاس سفر کا آغاز کر رہے ہیں جہاں ہم ” ڈی گریڈ ” ہو رہے ہیں ۔ہمیں تو اپنی نشست پر ہی ہیڈ فون لگانا ہے ۔ تو ایک کے بعد ایک اپنی تمام توانائیاں ضائع کر کے بھی ہماری ایک ادنی خواہش پوری نہ کر سکے ۔پوری ہوتی بھی کیسے ۔ دوسروں سے خوش اخلاقی سے پیش آنے والے اور خدمت سر انجام دینے والے نازک ہاتھ تو ملازمت کے حصول میں مشکل سے کامیاب ہوئے تھے ۔ اب مستری تو تھے نہیں کہ ٹھوک ٹھاک کر پن نکال دیتے ۔حالانکہ اتنا تردد کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ ایک نہتی پن کے پیچھے سارا عملہ ہاتھ دھو کر پڑ گیا ۔ایک بزرگ ریٹائرڈ افسر کو ہی آنکھیں دکھا دیتے تو بات بن جاتی ۔
ہم نے بھی سیدھی انگلی سے گھی نکلتا نہ دیکھ کر اپنے تیور ٹیڑھے کر لئے ۔کہ پی آئی اے کے اعلی افسران تک اپنا مدعا پہنچائیں گے ۔ انصاف کے حصول تک پی آئی اے میں سفر کے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دے ڈالی ۔جو کارگر ثابت ہوئی ۔اور ہمیں اپنی پسند کی نشست حاصل کرنے کا حق مل ہو گیا ۔ تو پھر کیا۔ ہاتھ آیا موقع کھو دیتے ۔ جہاں بزرگ کی بیگم لیٹ کر سہانے سپنے دیکھ رہی تھیں ۔ درمیان والی نشست پر انگلی رکھ دی ۔چار و نا چار بیگم خاوند کے پہلو میں بٹھا دی گئیں اور ہم چاروں نشستوں پر براجمان ہوئے ۔اس کے بعد میرے آتش کو ٹھنڈی پیپسی سے مسلسل ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ۔
اگر بات یہیں پر ختم ہوتی تو ہیپی اینڈ ہوتا ۔مگر کہانی چند گھنٹوں کے بعدنئے رنگ میں ڈھل گئی ۔ وہی خاتون اٹھ کر میرے پاس آئیں اور اپنی کمر درد کا واسطہ دے کر اپنے خاوند کے ناروا رویے پر ندامت کا اظہار کیا تاکہ میں ان کی آرام دہ بستر نما نشستوں سے دستبردار ہو جاؤں ۔
ہم نے تعلیم سے دولت نہیں کمائی صرف شعور پایا ہے ۔ اگر دولت کما لیتے تو ریٹائرڈ افسر کی طرح شعور سے ہاتھ دھو بیٹھتے ۔ آخر کار ہم ان کی تکلیف کا اندازہ کرتے ہوئے اپنے حق سے دستبردار ہو گئے ۔ اور اسی جگہہ جا بیٹھے جہاں سے کبھی اٹھائے گئے تھے ۔لیکن فرق صرف اتنا تھا کہ ساتھ بیٹھنے والا پہلے سانپ کی طرح پھنکار رہا تھا ۔
اب بھیگی بلی بنا بیٹھا تھا ۔تعلقات میں کشیدگی کم ہونے پر دوران گفتگو معلوم ہوا ۔کہ وہ اپنے ڈاکٹر بیٹے سے ملنے ودیش یاترا جا رہے تھے ۔جو کسی بڑے ہسپتال میں بڑا ڈاکٹر تھا ۔
اس سفر کا تجربہ بہت اچھا رہا ۔ اس لئے نہیں کہ دوران سفر کیا ہوا ۔ بلکہ جو وی آی پی پروٹوکول عملہ کی طرف سے حاصل ہوا ۔اتنی پزیرائی تو کبھی دیکھنے کو نہیں ملی ۔
کہانی کو یہیں ختم نہ سمجھیں یہ زندگی ہے جو چلتی رہتی ہے ۔دن اور رات کے درمیان میں اپنا سفر طے کرتی ہے ۔ یہاں بے شمار واقعات ایسے پیش آتے ہیں کہ انسان یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔
سبھی مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ رکھ نیچی نظر اپنی
کوئی ان سے نہیں کہتا نہ نکلو یوں عیاں ہو کر

 

 

sorce:http://www.urdublogz.com

اٹلی and UAE (تہذیب کا دائرہ)

اٹلی:منی سکرٹ پر پابندی کی تجویز

ٹلی کے ساحلی شہر کیسٹلامارے ڈی سٹیبیا کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر منی سکرٹ اور اس جیسے دیگر نیم عریاں ملبوسات پہننے پر پابندی عائد کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

اگر یہ پابندی عائد ہو جاتی ہے تو یہ شہر ان شہروں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جنہوں نے عوامی مقامات کو تہذیب کے دائرے میں رکھنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

کیسٹلامارے ڈی سٹیبیا کے میئر کا کہنا ہے کہ منی سکرٹ اور چھوٹے چھوٹے کپڑے پہننے کی ممانعت کی خلاف ورزی کرنے والے پر پینتیس ڈالر سے لے کر چھ سو چھیانوے ڈالر تک کا جرمانہ عائد ہوگا۔

شہر کے میئر کی نئی پالیسی ہے ’غیر مناسب کپڑوں کی اجازت نہیں‘۔ میئر کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون سے ان لوگوں کو ہدف بنانا چاہتے ہیں جو ’ہنگامہ پرور ہوں یا جن کو معاشی طور طریقے میں رہنا نہیں آتا‘۔

پیر کے روز اس پابندی پر ووٹنگ ہوگی۔ نئے قانون کے تحت غسلِ آفتابی، عوامی مقامات پر فٹ بال کھیلنے اور مذہب کی توہین کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔

مقامی پادری کا کہنا ہے ’میرے خیال میں یہ اچھا فیصلہ ہے۔ اس فیصلے سے بڑھتی ہوئی جنسی زیادتیوں پر بھی قابو پایا جا سکے گا‘۔

اس شہر سے قبل کئی شہروں میں ریت سے بنائے جانے والے گھروندوں اور گاڑی میں بوس و کنار جیسے عمل کو ممنوع قرار دیا ہے

 

italy Gov is 1000 times better then UAE regarding this…atleast they think to implement this law in there country……..

Shame on UAE Gov (muslims k naam par kaala dhabba)

موت اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے پہلے ہے,

مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 80 مکررات 0
حضرت عبادہ بن صامت راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند نہیں کرتا ہے” (یہ سن کر) ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی اور زوجہ مطہرہ نے عرض کیا کہ ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (یہ مراد) نہیں بلکہ (مراد یہ ہے کہ) جب مؤمن کی موت آتی ہے تو اس بات کی خوشخبری دی جاتی ہے کہ خدا اس سے راضی ہے اور اسے بزرگ رکھتا ہے چنانچہ وہ اس چیز سے جو اس کے آگے آنے والی ہے (یعنی اللہ کے ہاں اپنے اس فضیلت و مرتبہ سے) زیادہ کسی چیز(یعنی دنیا اور دنیا کی چمک دمک) کو محبوب نہیں رکھتا، اس لیے بندہ مؤمن اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جب کافر کو موت آتی ہے تو اسے (قبر میں) خدا کے عذاب اور (دوزخ کی سخت ترین) سزا کی خبر دی جاتی ہے۔ چنانچہ وہ اس چیز سے جو اس کے آگے آنے والی ہے (یعنی عذاب و سزا ) سے زیادہ کسی اور چیز کو ناپسند نہیں کرتا اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے (یعنی اسے اپنی رحمت اور مزید نعمت سے دور رکھتا ہے) اس روایت کو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں منقول ہے کہ ” موت اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے پہلے ہے” ۔

تشریح
مشہور تو یہی ہے کہ لقاء مولیٰ (یعنی خدا کی ملاقات) سے مراد موت ہے، لیکن اس بارہ میں تحقیقی بات یہ ہے کہ لقاء مولیٰ سے ” موت” مراد نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ آخرت کی طرف متوجہ ہونا، حق تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اور اس کی رضا و خوشنودی کا طالب ہونا، دنیا کی طرف مائل نہ ہونا اور دنیا و آخرت کی محبت میں گرفتار نہ ہونا۔ لہٰذا جس شخص نے دنیا ترک کی اور دنیا اور اس کی چیزوں کو ناپسند کیا اس نے گویا لقاء مولیٰ کو پسند کیا! اور جس شخص نے دنیا کو اختیار کیا، دنیا کی چیزوں کی محبت میں گرفتار ہوا اور دنیا کی طرف اپنا میلان رکھا اس نے گویا لقاء مولیٰ کو ناپسند رکھا! یہی وجہ ہے کہ لقاء مولیٰ کا اشتیاق موت کی محبت اور اس کے اشتیاق کو لازم ہے یعنی جو شخص لقاء مولیٰ کو پسند کرے گا وہ موت کو بھی پسند کرے گا کیونکہ لقاء مولیٰ کے لیے موت وسیلہ ہے۔
ام المؤمنین چونکہ یہی سمجھیں تھیں کہ لقاء مولیٰ سے مراد موت ہے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ارشاد ” لیس الامر کذالک” کے ذریعہ وضاحت فرمائی کہ لقاء مولیٰ سے مراد موت نہیں ہے اور نہ یہ مراد ہے کہ بتقاضائے جبلت طبعی موت سے محبت ہو اور بالفعل موت کی آرزو کرنی چاہئے بلکہ مراد یہ ہے کہ جو شخص رضاء حق کا طالب ہو اور لقاء مولیٰ کا شائق ہوتا ہے وہ لقاء مولیٰ کے لیے وسیلہ ہونے کی وجہ سے موت کو ہمیشہ عقلی طور پر محبوب رکھتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جب زندگی کا وقت پورا ہونے لگتا ہے اور موت کا وقت قریب آتا ہے اور اسے حق تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی خوشخبری دیدی جاتی ہے تو پھر اس وقت وہ موت کو طبعی طور پر پسند کرتا ہے اور لقاء مولیٰ کا اشتیاق اس کی طبعی خواہش کی آواز بن جاتا ہے چنانچہ حدیث کے الفاظ ولکن المؤمن الخ (یعنی جب مؤمن کو موت آتی ہے تو اس بات کی خوشخبری دی جاتی ہے کہ خدا اس سے راضی ہے الخ) اس بات کی وضاحت کر رہے ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے الفاظ ” موت اللہ کی ملاقات سے پہلے ہے” کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار موت سے پہلے ممکن نہیں ہے بلکہ موت کے بعد ہی یہ شرف حاصل ہوتا ہے یا پھر یہ مراد ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے وہ موت کو بھی پسند کرتا ہے کیونکہ اس عظیم شرف و سعادت کا حصول موت کے ذریعہ سے ممکن ہے اور یہ کہ لقاء الٰہی کا وجود موت کے وجود سے پہلے متصور نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ لقاء الٰہی اور موت دنوں ایک چیز نہیں ہیں بلکہ دونوں الگ الگ مفہوم کے حامل ہیں۔

انجانہ خوف

آج ہم زندگی فطری طرز کی بجائے غیر فطری انداز میں گزار رہے ہیں۔کہیں احساس محرومی کے بدلے معاشرہ کو احساس محرومی کا شکار کر رہے ہیں تو کبھی انجانے خوف اعصاب پہ مسلط ہیں۔اپنی بربادی یا بدنامی کے خوف سے دوسروں کی زندگیوں میں رواں دریا کے آگے بند باندھ رہے ہیں۔ آخر کب تک پانی کا بہاﺅ روک پائیں گے؟ہماری زندگیاں کچھ ایسے ہی بیت رہی ہے، ہر لمحے ہمیں آتش فشاں پھٹنے کا خطرہ لاحق ہے۔ میں نہیں سمجھ سکا، لوگوں نے خوفِ خدا میں سے خدا کو نکال دیا اور پھر اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟عجب بات ہے ہم سب مانتے ہیں کہ خدا کی لاٹھی بے نیاز ہے۔
انسان جب اپنے ربّ سے سچی توبہ کرتا ہے تو وُہ گناہ دوبارہ سرزد نہیں ہوسکتا۔ گناہ کی فوری سزا خوف میں جکڑے جانا ہے۔ ہم روزانہ توبہ کرتے ہیں، روٹین کی توبہ! ہم اِس دُنیا کو مکافاتِ عمل مانتے ہیں مگر انجام کے متعلق انجان بنتے ہیں۔ شائید ہم زندگی کو زندگی کی طرز کی بجائے اپنے اندازِ اصول سے گزارنا چاہتے ہیں۔
ہم نہ جانے روزانہ کتنوں سے زیادتی کرتے ہیں۔ لوگوں کی ہائے لیتے ہیں۔ ہمیں ہمیشہ دوسروں کی بیشمار زیادتیاں تو نظرآتی ہے۔ کبھی یہ سوچا، ہم لوگوں سے کتنی زیادتیاں کرتے ہیں؟ کیا کبھی اپنی انجان زیادتیوں کا بھی کفارہ ادا کیا؟
حق تلفی کا علاج نہ دوا میں ہے ، نہ ہی دُعا میں۔ شائید تو بہ بھی کام نہ آئے، اگر کچھ ہے تو معافی میں، حقوق العباد میں۔ اگر مظلوم راہی عدم کا شکار ہوا۔ پھر کفارہ ہی کچھ کام آوے۔ یہ کیوں ہے، آج ہماری دولتیں (مال و اولاد) لُٹتی ہیں، عزت کی عمارات گر پڑتی ہے۔ کہیں یہ اللہ کی جانب سے آزمائش ہے تو کہیں ہمارے انجان خوف کا ٹوٹتا بند۔ ہم اپنے رزق اور عمل میں حلال و حرام کی  فلسفیانہ بحث الجھاتے ہیں۔افسوس! ان میں اصل تمیز اور پہچان بھول رہے ہیں۔ حرام نوالہ اور حرام خیال بھی نامعلوم خوف لاحق کرتا ہے۔ انجان بیماری!!۔
کبھی کبھی یہ انجانے خوف ہم خود پر زبردستی طاری کرتے ہیں۔ اللہ کے جلال پر تحریر و تقریر کرنے والے اللہ کا جمال نہیں بتاتے۔ سامعین و قارئین زبردست خوف میں مبتلا ، کوئی دُعا پڑھنا بھول گئے تو گنا ہ کا خوف، تلفظ میں معمولی سی غلطی انجانے میں ہوئی مگر گناہ کا خوف، زندگی کے اوراد ِ وظائف میں مصروف انسان اپنے اُوپر خوف اس قدرطاری کر لیتا ہے کہ ایسا معصوم انسان گھر سے باہر قدم نکالنے پر انجانے خوف و گھبراہٹ میںمبتلا ۔
میں جس معاشرہ کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ بے لچک لوگوں کا بے لچک معاشرہ ہے، جہاں قدامت پرست اور باغی بستے ہیں۔ سیکولر کے نام پہ صرف صوفی نہیں، عیاش بھی بستے ہیں۔ صوفیا کی قدر ہم بڑی کرتے ہیں مگر اُنکی تعلیم پراب عمل کرتے نہیں۔ خود کو سیکولر، لبرل کہتے ہیں۔ وُہ بھول جاتے ہیں ، یہ کیاہوتے ہیں؟ دوسروں کی مرضی چھوڑنا، اپنی مرضی مار دینا اور حق فیصلہ کرنا لفظ سیکولر اور لبرل کی بنیادی اینٹوں میں سے ایک ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ اِس پابند زندگی کا ہے۔
معاشرہ اور مذہب دونوں بدلتے حالات کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک آٹو میٹک ایڈجسٹ مینٹ سسٹم! مگر کیا ہوا؟ ہم نے مذہب کی ساری سختیاں اپنی زندگی میں داخل کی۔ اُن پابندیوں کا بیلنس کرنے کے لیے مذہب کچھ نرمیاں بھی دیتا ہے ، وہاں ثقافت کی روایات عائد کر دی۔ ثقافت کی لچک مذہب میں گناہ کے تصور سے ہٹا دی گئی۔ مذہب کی نرمی صدیوں کی روایات کے نام پر قیدی بنا لی گئی۔ باقی کیا بچا؟ نرمیاں کٹ گئیں، سختیاں بچ گئیں۔مذہب و ثقافت کی لچک تصورمیں رہ گئی۔اپنے ہی نظام سے بے چینی اُبھرنے لگی۔لوگ پابندیوں میں بے راہی زندگی کے مسافر بن رہے ہیں۔
ہم لفظ ”محبت“ سے واقف ہی نہیں۔ رشتوں پرا سٹیٹس کی پابندی لگا رکھی ہے تو کہیں گھٹیا سوچ والی سیاست نے ہمیں اُچاٹ کر رکھا ہے۔ خدا نے عیب جوئی سے منع فرمایا ہے۔ ہمیں چسکا دار برائیاں و گپیں لگانے کا شوق ملا ہے۔ہمارے یہ تربیتی رویے اُولاد کے انجانے خوف میں مبتلا رکھتے ہیں۔
ہم تبصرہ کرنے والی قوم بن چکے ہیں۔ تبصرہ کرنا، اَن پڑھ رویہ تھا۔ اب یہ تعلیم یافتہ طبقہ میں رواج پڑ چکا ہے۔ صبر کرنا تو دور کی بات، ہم تو بات سننا بھی مشکل سمجھتے ہیں۔ جیسے بولنا ایک خوراک ہے ایسے ہی سننا بھی ایک خوراک ہے۔ سن کر اعصاب قائم رہتے ہیں اور بول کر ذہن کو تسکین ملتی ہے۔ جب آپکی بات پہ توجہ دینے والا کوئی نہ رہے گا۔ انجانہ خوف کو آپ خود اپنا ساتھی بنائے گے۔
کچھ لوگوں کو اپنی اُولاد کا انجانہ خوف ہے۔تربیت، تعلیم، رزق کے خلل کا خوف نہیں۔ والدین کو سنبھالنے کا انجانہ خوف۔شائید اپنے کسی انجان عمل کا خوف!
یہ زندگی سڑک کے ایک حادثہ کی مانند ہے۔ جہاں آپ حادثہ سے تو بچ رہے ہیں مگر اَن ٹرینڈ ڈرائیور نے آپکو حادثہ سے دوچار کیا۔ زندگی میں رشتے اعتبار سے جنم لیتے ہیں اور اعتبار کو شک کھا جاتا ہے۔ آج گھریلو زندگی شک سے انجانے خوف پیدا کر رہی ہے۔ کہیں ہمارا مستقبل بھی بہادر شاہ ظفر جیسے مظلوم و بے اختیار شہنشاہ ِہند والا نہ ہو۔ جو خفیہ طور پر جنگ آزادی کی تیاریوں میں تو مصروف تھا مگراُس کے اپنے دِل کے سواءکسی نے اُس سے وفا نہ کی۔ملکہ زینت محل نے ولی عہد شہزادہ فخرو کو زہر سے مارڈالا، حکیم احسن اللہ خان نے شاہِ دلی کو مقبرہِ ہمایوں سے گرفتار کروایا۔ خوش نصیب تھا بادشاہ ابوظفر انجانے خوف کا طوق جس نے اُتار پھینکا۔ وفا سب سے نبھائی، دھرتی کو لیلٰی جان کر اپنا مقام خود لکھا۔
میں برسوں سے انجانے خوف کی جڑ کی تلاش کر رہا ہوں۔ ہم نے زندگی کو جب زندگی کی روش سے چھینا تو انجانہ خوف ہم میں وارد ہوا۔ کبھی ہم شکار ہوئے تو کبھی کوئی ہمارا شکار بنا۔
تاﺅ تے چنگ میں پانی سے متعلق کچھ یو ں درج ہے: پانی دُنیا کی نرم ترین شے ہے جو ہاتھ میں بھی قابونہ آئے اور جب اِسکو روکا جائے تو یہ دُنیا کی سخت ترین شے ہے کہ یہ ہر رکاوٹ کو توڑ کر بہاءلیجا تا ہے۔ ایسے ہی انسانی خواہشات آپ کے اندر جنم لیتی ہے مگر یہ ختم کبھی نہیں ہوتی۔ اِنکی تکمیل میں آپ کی ذات ختم ہوجاتی ہے۔ مگر یہ کبھی ختم نہیںہوتی۔

ہمارے بیشتر خوف خواہشات کے حصول میں جنم لیتے ہیں۔ ہمارا اکثر ذہنی امراض انجانہ خوف میں جانے گئے، جو بے عمل رویہ میں ہوتا ہے۔

اگر انجانہ خوف آپکے گھٹیا رویوں سے جنم لیتا ہے تو کہیں لوگوں کے گھٹیا رویے آپکو اس میں مبتلا رکھے گے۔
(فرخ نور)